Ash-Shu'araa 26:11

Ash-Shu'araa · from ayah 11

26:11

قَوْمَ فِرْعَوْنَ ؕ— اَلَا یَتَّقُوْنَ ۟قَوۡمَ فِرۡعَوۡنَ‌ؕ اَلَا يَتَّقُوۡنَ‌‏

(یعنی) قوم فرعون کے پاس، کیا یہ ڈرتے نہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

The people of Pharaoh. Will they not fear Allah?"

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 2 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:11

فرعون کی قوم کے پاس، کیا وہ ڈرتے نہیں؟"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(یعنی) قوم فرعون کے پاس، کیا یہ ڈرتے نہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

قوم فرعون کے پاس، کیا وه پرہیزگاری نہ کریں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یعنی فرعون کی قوم کے پاس۔ کیا ان کے دل میں خدا کا خوف نہیں ہے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جو فرعون کی قوم ہے کیا وہ نہ ڈریں گے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(یعنی) قومِ فرعون کے پاس، کیا وہ (اللہ سے) نہیں ڈرتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

فرعون کی قوم کے پاس، کیا وہ ڈرتے نہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یعنی فرعون کی قوم کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

قوم فرعون، کیا وہ ڈریں گے نہیں !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یعنی فرعون کی قوم کے پاس کیا یہ لوگ ڈرتے نہیں ؟

— مولانا اسحاق مدنی

یعنی قوم فرعون کے پاس جاؤ۔ کیا یہ لوگ نہیں ڈرتے ؟

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(یعنی) قوم فرعون کے پاس۔ کیا وہ ڈرتے نہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

قوم فرعون کے پاس کیا وہ ڈرتے نہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

the people of Pharaoh: do they have no fear?"

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

the people of Pharaoh. Do they not fear Allah?

— Muhammad Taqi Usmani

the people of Pharaoh. Do they not fear Allah?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"The people of Fira`wn. Will they not have Taqwa"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

The folk of Pharaoh. Will they not ward off (evil)?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

The people of Pharaoh. Will they not fear Allah?"

— Saheeh International

and ask them, "Why do you not fear God?"

— Muhammad Sarwar

The people of Firon: Will they not guard (against evil)?

— Muhammad Habib Shakir

The people of Fir'awn; fear they Me not?

— Abdul Majid Daryabadi

"The people of the Pharaoh: will they not fear Allah?"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 26:11

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 10–22

موسیٰ ؑ اور اللہ جل شانہ کے مکالمات اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور اپنے رسول اور اپنے کلیم حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کو جو حکم دیا تھا اسے بیان فرما رہے ہیں کہ طور کے دائیں طرف سے آپ کو آواز دی آپ سے سرگوشیاں کیں آپ کو اپنا رسول ﷺ اور برگزیدہ بنایا اور آپ کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا جو ظلم پر کمر بستہ تھے۔ اور اللہ کا ڈر اور پرہیزگاری نام کو بھی ان میں نہیں رہی تھی۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی چند کمزوریاں جناب باری تعالیٰ کے سامنے بیان کی جو عنایت الٰہی سے دور کردی گئیں جیسے سورة طہ میں آپ کے سوالات پور کردئیے گئے۔ یہاں آپ کے عذر یہ بیان ہوئے کہ مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلادیں گے۔ میرا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الشُّعَرَآء 8 یہ انداز بیان قوم فرعون کے انتہائی ظلم کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کا تعارف ہی " ظالم قوم " کے لقب سے کرایا گیا ہے۔ گویا اس کا اصل نام ظالم قوم ہے اور قوم فرعون اس کا ترجمہ و تفسیر۔ سورة الشُّعَرَآء 9 یعنی اے موسیٰ ، دیکھو کیسی عجیب بات ہے کہ یہ لوگ اپنے آپ کو مختار مطلق سمجھتے ہوئے دنیا میں ظلم و ستم ڈھائے جا رہے ہیں اور اس بات سے بےخوف ہیں کہ اوپر کوئی خدا بھی ہے جو ان سے باز پرس کرنے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–11

خلاصہ تفسیر اور (ان لوگوں سے اس وقت کا قصہ ذکر کیجئے) جب آپ کے رب نے موسیٰ ؑ کو پکارا (اور حکم دیا) کہ تم ان ظالم لوگوں کے یعنی قوم فرعون کے پاس جاؤ (اور اے موسیٰ دیکھو) کیا یہ لوگ (ہمارے غضب سے) نہیں ڈرتے (یعنی ان کی حالت عجیب اور شنیع ہے اس لئے ان کی طرف تم کو بھیجا جاتا ہے) انہوں نے عرض کیا کہ اے میرے پروردگار، (میں اس خدمت کے لئے حاضر ہوں لیکن اس خدمت کی تکمیل کے لئے ایک مددگار چاہتا ہوں کیونکہ) مجھ کو یہ اندیشہ ہے کہ وہ مجھ کو (اپنی پوری بات کہنے سے پہلے ہی) جھٹلانے لگیں اور (طبعی طور پر ایسے وقت میں) میرا دل تنگ ہونے لگتا ہے اور میری زبان (اچھی طرح) نہیں چلتی اس لئے ہارون کے پاس (بھی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 10–12

آگے کا مضمون …آیات 68-10 حضرت موسیٰ اور فرعون کی سرگزشت کا بیان آگے حضرت موسیٰ ؑ اور فرعون کی وہ سرگزشت جس کی طرف پچھلی سورة میں اجمالی اشارہ فرمایا گیا تھا، تفصیل کے ساتھ آرہی ہے۔ یہ سرگزشت اس وقت سے شروع ہوتی ہے جب حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کو فرعون کے پاس جانے کا حکم ہوا ہے اور پھر فرعون اور اس کی فوج کی غرقابی پر ختم ہوتی ہے۔ اس دور کے تمام اہم واقعات کی طرف اس میں اشارے ہیں۔ یوں تو اس سرگزشت کا یہ حصہ نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کے لئے بھی سرمایہ تسکین و تسلی اور آپ کے مخالفین کے لئے سبق آموز ہے لیکن سورة کے عمود کے پہلو سے خاص چیز جو اس میں قابل توجہ ہے وہ یہ ہے کہ جو لوگ اغراض و شہوات کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 11–13

13-1اس خوف سے کہ وہ نہایت سرکش ہے، میری تکذیب کرے گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ طبع خوف انبیاء کو بھی لا حق ہوسکتا ہے۔ 13-2یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ حضرت موسیٰ ؑ زیادہ بول نہیں سکتے تھے۔ یا اس طرف کہ زبان پر انگارہ رکھنے کی وجہ سے لکنت پیدا ہوگئی تھی، جسے اہل تفسیر بیان کرتے ہیں۔ 13-1یعنی ان کی طرف جبرائیل ؑ کو وحی دے کر بھیج اور انھیں بھی نبوت سے سرفراز فرما کر میرا معاون بنا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 4–13

2: مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے یہ کچھ مشکل نہیں تھا کہ ان کو ایمان لانے پر مجبور کردیتا، لیکن اس دنیا میں انسان کو بھیجنے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ اسے زبردستی مسلمان بنایا جائے۔ بلکہ انسان سے مطالبہ یہ ہے کہ وہ کسی زور زبردستی کے بغیر اپنی عقل کو استعمال کر کے اور دلائل پر غور کر کے ایمان کا راستہ اختیار کرے۔ یہی وہ آزمائش ہے جس کے لیے اسے دنیا میں بھیجا گیا ہے۔ اس لیے اگر یہ لوگ ایمان نہیں لا رہے ہیں تو آپ کو اتنا صدمہ نہیں کرنا چاہیے کہ اپنی جان کو ہلکان کرلیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 10–17

درس نمبر 162 ایک نظر میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کا یہ حصہ ، اس سورت کے موضوع اور محور کے ساتھ بہت ہی ہم آہنگ ہے۔ اس سورت میں مدار کلام زیادہ تر اس پر ہے کہ مکذبین کا انجام کیسا ہوا کرتا ہے۔ پھر اس سورت میں بھی حضور اکرم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے اور مشرکین کی جانب سے روگردانی اور تکذیب کے نتیجے میں آپ کو جو مشکلات درپیش تھیں۔ ان پر آپ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار بھی اس سورت کا موضوع سخن ہے۔ پھر اس سورت میں اس بات کی یقین دہانی بھی ہے کہ اس دعوت اور اس کی حامل تحریک کا حامی و مددگار اور محافظ اللہ ہے۔ اگرچہ یہ لوگ کمزور ہیں اور ان کے مخالفین زاد و عتاد یعنی ساز و سامان سے لیس ہیں۔ اہل قوت اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 11–13

1 یعنی پوری بات سننے سے پہلے یہ جھٹلانا شروع کردیں گے اور مجلس میں کوئی تائید کرنے والا نہ ہوگا۔ ممکن ہے اس وقت ملول اور حزین ہو کر طبیعت رک جائے، دل نہ کھلے، اور زبان میں کچھ لکنت پہلے ہی سے ہے۔ تنگدل ہو کر بولنے میں زیادہ رکاوٹ پیدا نہ ہوجائے اس لیے میری تقویت و تائید کے لیے اگر ہارون کو جو مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہیں، میرا شریک حال کردیا جائے تو بڑی مہربانی ہو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 10–13

آیت 13 وَیَضِیْقُ صَدْرِیْ وَلَا یَنْطَلِقُ لِسَانِیْ فَاَرْسِلْ اِلٰی ہٰرُوْنَ ” تاکہ اس عظیم مشن میں وہ میرے دست وبازو بنیں اور اس کام میں میرا ہاتھ بٹائیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

9 بنی اسرائیل پر فرعون اور اس کی حکومت نے جو مظالم ڈھا رکھے تھے ان کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے اس قوم کا تعارف ہی ظالم قوم سے کرایا اور جب وہ ایسے مظالم ڈھاتے تھے تو انھیں کسی بھولے سے بھی یہ خیال نہیں آتا تھا کہ ان کے اوپر بھی کوئی ایسی ہستی موجود ہے جو ان سے ان کے مظالم کا بدلہ لینے کی قدرت رکھتی ہے۔ وہ اپنی طاقت اور حکومت کے نشہ میں اللہ کی گرفت سے بالکل بےخوف ہوچکے تھے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 10–11

8۔ (عبرت وموعظت کے لیے) (آیت) ” اذ نادی “۔ اکابر اہل سنت کے درمیان اس پر بحث ہوئی ہے کہ یہ ندا جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے کان میں آئی کون سی تھی، آیا حق تعالیٰ کا کلام قدیم غیر مخلوق، جیسا کہ امام ابومنصور ماتریدی کا مسلک ہے۔ تفسیر کبیر میں دونوں قول نقل ہوئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 10–33

آیت نمبر 10 تا 33 ترجمہ : اور اے محمد ﷺ اپنی قوم کو اس وقت کا واقعہ یاد دلائیے کہ جب تیرے رب نے موسیٰ کو حکم دیا اس رات میں جبکہ موسیٰ نے آگ اور درخت کو دیکھا کہ تو ظالم قوم کے پاس رسول بن کر جا قوم فرعون کے پاس مع فرعون کے انہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کرکے اور بنی اسرائیل کو غلام بنا کر اپنے اوپر ظلم کیا ہے اَلاَ یتقون میں ہمزہ استفہام انکاری کے لئے ہے کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو کہ اس کی طاعت اختیار کرکے اس کی توحید کے قائل ہوجاؤ تو موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے پروردگار مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے اور ان کے میری تکذیب کی وجہ سے میرا دل تنگ ہوجائے، اور اداء رسالت کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قو فرعون الا یتقون۔ یعنی فرعون کی قوم والوں کے پاس جاؤ (اور دیکھو کہ) کیا وہ ہمارے غضب سے نہیں ڈرتے۔ یعنی اس واقعہ کو یاد کرو جب آپ کے رب نے موسیٰ کو پکارا تھا موسیٰ نے درخت کو اور (درخت سے اٹھتی ہوئی) آگ کو دیکھا اس وقت اللہ نے ان کو ندا دی تھی۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کے لئے پیام تسکین ہے کہ آپ کافروں کے ایمان نہ لانے کی وجہ سے اپنی جان کا نقصان نہ کریں اور اس وقت کو یاد کریں جب اللہ نے موسیٰ کو ندا دی تھی اور قوم فرعون کے پاس جا کر ہدایت کرنے کا حکم دیا تھا۔ اَلظَّالِمِیْنَظلم کرنے والے یعنی کفر کرنے والے یعنی اسرائیل کو غلام بنانے والے اور ان کو طرح طرح کی اذیتیں دینے والے ‘ یہاں تک کہ ان کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 10–11

(10۔ 11) اور ان لوگوں سے وہ واقعہ بیان کیجیے جب کہ آپ کے رب نے موسیٰ ؑ کو پکارا یا یہ کہ ان کو حکم دیا کہ ان کافر لوگوں کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ غیر اللہ کی عبادت سے کیوں نہیں ڈرتے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 10–11

وَاِذْ نَادٰي رَبُّكَ مُوْسٰٓي : یہاں سے عبرت کے لیے پہلی قوموں کے چند واقعات بیان فرمائے ہیں، جن سے مقصود یہ ہے کہ آیات الٰہی کو جھٹلانے اور ان کا مذاق اڑانے کا انجام ہلاکت ہے۔ گویا ان واقعات سے پچھلی آیت : (فَسَيَاْتِيْهِمْ اَنْۢبٰۗـؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ يَسْتَهْزِءُوْنَ) کی تائید اور وضاحت مقصود ہے۔ (شوکانی) اس کے علاوہ رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان کو تسلی دلانا بھی مقصود ہے۔ اس کے لیے ابتدا موسیٰ ؑ اور پھر ابراہیم ؑ کے واقعات سے فرمائی ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ان کی بہت سی چیزوں میں مشارکت ہے، مثلاً ہجرت، جہاد اور ارض مقدس کو حاصل کرنے کی آرزو وغیرہ۔ موسیٰ ؑ کو وہ کتاب ملی جو قرآن کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 10–15

(واذ نادی ربک۔۔۔۔۔۔ ) واذ نادی رب موسیٰ ، اذمحل نصب میں ہے تقدیر کلام یہ ہے : واتل علیھم اذ نادی ربک موسیٰ اس پر یہ کلام واتل علیھم نبا ابراہیم۔ دلالت کرتی ہے جو اس کے بعد ہے۔ نحاس نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہاں اذکر فعل محذوف ہے جس طرح اس ارشاد میں ہی تصریح ہے واذاکر اخادعا ( احقاف : 21) واذکر عبدنا ابراہیم (ص : 45) واذکر فی الکتب مریم (مریم : 19) ایک قول یہ کیا گیا ہے : واذ نادی ربک موسیٰ ، کذا وکذ۔ نداء سے مراد یا فلان کے ساتھ بلانا، یعنی تیرے رب نے فرمایا : یا موسیٰ ان ائت القوم الظلمین پھر خبر دی کہ ظالم کون ہے ؟ فرمایا : قوم فرعون الا یتقون قوم فرعون، یا القوم الظلمین…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 10–51

1۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” یعنی طور کے داہنی جانب سے ان کو آواز دی گئی۔ 2۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جرری وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ ایک جان کے قتل کرنے کا الزام جو ان کے درمیان قتل ہوا آیت ” وفعلت فعلتک التی فعلت “ سے مراد بھی انسان کا قتل ہے۔ آیت ” فعلتہا اذا وانا من الضالین “ یعنی جب میں چوک جانے والوں میں سے تھا۔ 3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ یعنی ایک جان کا قتل کرنا آیت ” الم لربک فینا ولیدا “ یعنی ان کو فرعون والوں سے اٹھا لیا سو اس بچے کو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قَوْمَ فِرْعَوْنَ ۭ [ جو فرعون کی قوم ہے ] اَ [ کیا ] لَا يَتَّقُوْنَ [ وہ لوگ تقوی نہیں کریں گے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 11–34

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ کے لیے فرعون کا جادو گروں کو بلانا، مقابلہ ہونا اور جادو گروں کا شکست کھا کر ایمان قبول کرنا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے جواب وسوال سے عاجز ہو کر اور دو بڑے معجزے دیکھ کر فرعون کی شکست تو اسی وقت ہوگئی لیکن اس نے اپنی خفت مٹانے اور درباریوں کو مطمئن رکھنے اور ان کے ذریعہ ساری قوم کو اپنی فرمانبرداری پر جمائے رکھنے کے لیے سرداروں سے کہا جو اس وقت وہاں موجود تھے کہ سمجھ میں آگیا یہ تو ایک بڑا ماہر جادوگر ہے یہ چاہتا ہے کہ تمہیں مصر کی سر زمین سے نکال دے اور اپنی قوم کا بڑا بن کر ان کو ساتھ لے کر حکومت کرنے لگے۔ تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو ؟ سورة اعراف میں ہے کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–22

قصہ اول حضرت موسیٰ (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ واذ نادی ربک موسیٰ ان ائت القوم الظلمین .... الیٰ .... ان عبدت بنی اسرائیل۔ یہاں سے حضرات انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کے قصے ذکر کرتے ہیں سب سے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور قوم فرعون موسوی اور پھر اہل ایمان کی عجیب طریقے سے نجات اور کفار کی عبرتناک ہلاکت کے بیان پر مشتمل ہے۔ ذکر عطائے منصب نبوت و رسالت و حکم تبلیغ و دعوت یہ قصہ اگرچہ سورة اعراف اور سورة طہ میں بالتفصیل گزرچکا ہے لیکن یہاں پر ایک نئی شان سے اس قصہ کو ذکر فرماتے۔ چناچہ فرامتے ہیں اور اے نبی ان مستہزئین کی تہدید اور عبرت کے لیے اس وقت کا قصہ ذکر کیجئے جبکہ تیرے پروردگار نے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 11–12

8:۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تبلیغ رسالت کے سلسلے میں جو مشکلات نظر آئیں اور فرعون سے جو انہیں خدشہ تھا اس کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ سے معاون حاصل کرنا اور فرعون کے شر سے تحفظ طلب کرنا مقصود تھا۔ امر الٰہی کے امتثال میں توقف مقصود نہیں تھا۔ ولم یکن ھذا الالتماس من موسیٰ (علیہ السلام) توقفا فی الامتثال بل التماس عون فی تبلیغ الرسالۃ (مدارک ج 3 ص 137) ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا میرے پروردگار ! مجھے اندیشہ ہے کہ وہ مجھے جھٹلائیں گے اور اس سے مجھے سخت ذہنی اذیت پہنچے گی طبیعت ملول و حزین ہوجائے گی اور دل میں انقباض پیدا ہوگا اور پھر میری تائید کرنے والا بھی کوئی نہ ہوگا اور میری زبان صاف…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 10–22

فرعون کو دعوت توحید سورۃ کی ابتدائی آیات میں قرآن کریم کی حقانیت اور تسلی کے مضمون کو اجمالی طور پر بیان کیا گیا تھا۔ اب یہاں سے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کیا ہے جس سے اصل مقصود اصول دین توحید اور ایمان کی دعوت دنیا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے ابتدائی واقعات تو سورة قصص اور بعض دیگر سورتوں میں بھی بیان ہوئے ہیں تا ہم یہاں پر مضمون کی ابتداء وتبلیغ حق سے ہو رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا اور پھر ان کو تبلیغ کے لیے فرعون اور اس کی ظالم قوم کے پاس بھیجا ۔ ارشاد ہوتا ہے ، وہ بات قابل ذکر ہے واذ نادی ربک موسیٰ جب کہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَوْمَ فِرْعَوْنَ۝ 0ۭ اَلَا يَتَّقُوْنَ۝ 11 فِرْعَوْنُ : اسم أعجميّ ، وقد اعتبر عرامته، فقیل : تَفَرْعَنَ فلان : إذا تعاطی فعل فرعون، كما يقال : أبلس وتبلّس، ومنه قيل للطّغاة : الفَرَاعِنَةُ والأبالسة . فرعون یہ علم عجمی ہے اور اس سے سرکش کے معنی لے کر کہا جاتا ہے تفرعن فلان کہ فلاں فرعون بنا ہوا ہے جس طرح کہ ابلیس سے ابلس وتبلس وغیرہ مشتقات استعمال ہوتے ہیں اور ایس سے سرکشوں کو فراعنۃ ( جمع فرعون کی اور ابا لسۃ ( جمع ابلیس کی ) کہا جاتا ہے ۔ وقی الوِقَايَةُ : حفظُ الشیءِ ممّا يؤذيه ويضرّه . يقال : وَقَيْتُ الشیءَ أَقِيهِ وِقَايَةً ووِقَاءً. قال تعالی: فَوَقاهُمُ اللَّهُ [ الإنسان/ 11] ،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 11–34

بدنصیب یہ معجزے دیکھ کر ایمان تو نہ لایا کہہ دیا کہ یہ بڑا جادوگر ہے اس کے زور سے تمہارا ملک لینا چاہتا ہے۔ فرعونیوں کے عہد میں جادو اور طلسم کا بڑا زور تھا چناچہ اس عہد کے یادگار مسلمانوں کے ابتدائِ عہد تک موجود تھے جن کو اہل اسلام کے مؤرخین نے نقل کیا ہے دیکھو تاریخ مصر، درباریوں نے صلاح دی کہ آپ بھی اپنے ملک میں سے نامور جادوگر ایک روز معین میں جمع کر کے اس کو عاجز کر دیجئے اور عید یا کوئی فرعونیوں کا میلہ ہوتا تھا جس میں سب لوگ شریک ہوتے تھے وہ روز قرار پایا تاکہ سب لوگ موسیٰ ( علیہ السلام) کا عجز ملاحظہ کریں۔ چناچہ اس روز وہ سب جادوگر اور طلسم کار آئے اور ایک میدان میں فرعون اور اس کے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 10–11

وَاِذْ نَادٰی رَبُّکَ مُوْسٰٓی اَنِ ائْتِ الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ ۔ قَوْمَ فِرْعَوْنَ ط اَلاَ یَتَّـقُوْنَ ۔ (الشعرآء : 10، 11) (یاد کرو جب آپ کے رب نے موسیٰ (علیہ السلام) کو پکارا کہ جاؤ ظالم لوگوں کے پاس۔ یعنی قوم فرعون کے پاس، کیا وہ ڈریں گے نہیں۔ ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کی سرگزشت قریش اور دیگر اہل مکہ کو ان کے عبرتناک انجام سے متنبہ کرنے اور نبی کریم ﷺ اور مسلمانوں کو حق و باطل کی اس کشمکش میں کامیابی و کامرانی کی نوید سنانے کے لیے آگے چند انبیائے کرام اور ان کی امتوں کی سرگزشتیں بیان کی جارہی ہیں جن میں سب سے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون اور آل فرعون کی سرگزشت…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 11–15

فہم القرآن ربط کلام : موسیٰ (علیہ السلام) کو ہر قسم کی تسلّی دینے کے بعد فرعون کی طرف جانے کا حکم ہوا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) فرعون کے پاس پہنچے اور اسے یہ کہہ کر اپنی رسالت اور اللہ تعالیٰ کی توحید کی دعوت دی کہ ہم رب العالمین کے بھیجے ہوئے رسول ہیں۔ فرعون اپنے آپ کو ” رَبُّکُمُ الْأَعْلٰی “ کہتا تھا۔ اس لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے توحید کا یہ پہلو پیش فرمایا کہ رب العالمین ایک ہے اس کے سوا کوئی اور رب نہیں۔ اس کے ساتھ ہی اپنی قوم کی آزادی کا مطالبہ کیا۔ کیونکہ آزاد قوم ہی اپنے نفع و نقصان کا ٹھیک طور پر فیصلہ کرسکتی ہے۔ فرعون نے موسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 10–11

10، 11: وَاِذْ نَادٰی (اور اس وقت کو یاد کرو جب پکارا) نحو : اذؔ یہ اذکر فعل محذوف کا مفعول ہے ای واذکر اذ نادیؔ (پکارنا ‘ بتلانا) ۔ رَبُّکَ مُوْسٰٓی اَنِ ائْتِ (تیرے رب نے موسیٰ ( علیہ السلام) کو کہ تم جائو) ۔ نحو : یہاں انؔ ای کے معنی میں ہے۔ الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ (ظالم قوم کے پاس) اپنے نفوس پر کفر کے سبب ظلم کرنے والے اور بنی اسرائیل پر غلام بنانے کی وجہ سے ظلم کرنے والے اور اسی طرح ان کے بچوں کو ظلم کے طور پر قتل کر کے ان پر ظلم کی دستاویز لکھ دی۔ قَوْمَ فِرْعَوْنَ القوم الظالمین کا عطف بیان ہے گویا قوم ظالمین کا معنی اور ترجمہ ہی قوم فرعون ہے اور گویا دو عبارتیں یکے بعد دیگرے ایک ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

11۔ قوم فرعون الایتقون، کیا وہ اپنے نفسوں سے عذاب کو نہیں پھیرسکتے، اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری کے ساتھ ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 6–22

(6 تا 22) یہ مسخراپن کا نتیجہ بدر کی لڑائی میں معلوم ہوا جس کا ذکر انس بن مالک ؓ کی صحیح روایتوں سے ایک جگہ گزر چکا ہے آگے فرمایا کہ کیا نہیں دیکھا انہوں نے غور سے زمین کی طرف کہ کس طرح اگائے ہم نے اس میں طرح طرح کے جوڑے میووں کے اور ہر قسم کی کھیتی یہ منکرین حشر کو قائل کیا ہے مطلب یہ ہے کہ جس طرح سوکھی زمین سوکھا اناج کا دانہ اور سوکھی ہر ایک پھل کی گٹھلی سب مردہ کے مانند ہوتے ہیں خدا کی قدرت سے مینہ برستا ہے جس سے زمین زندہ چیزوں کی طرح تروتازہ ہوجاتی ہے اور ہر اناج کے دانہ اور میوہ کی گٹھلیوں میں وہ جان پڑجاتی ہے کہ ایک دانہ سے ہزاروں دانے اور ایک گٹھلی سے ہزاروں پھل پیدا ہوجاتے ہیں اسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 10–68

آیت نمبر 10 سے 68 اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں موسیٰ (علیہ السلام) کی مدح وثنا اور ان کے واقعات کا بار بار جتنا اعادہ کیا ہے اتنا کسی اور واقعے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ عظیم حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس قصے میں اہل ایمان اور اہل کفر کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے طرز عمل کی تفصیل ہے نیز موسیٰ (علیہ السلام) صاحب شریعت کبری اور صاحب تورات تھے جو قرآن عظیم کے بعد سب سے افضل کتاب ہے۔ فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجئے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندادی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، ان کو رسول بنا کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

10 کیا لوگ ڈرتے نہیں ؟ : استفہام تحضیض و ترغیب کے لیے ہے۔ یعنی ان لوگوں کو اپنی اس روش کے انجام سے ڈرنا چاہیے۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ اصلاح احوال کی اصل بنیاد تقویٰ اور خوف خداوندی ہے۔ جب تک کسی شخص کے دل میں اپنے انجام کے بارے میں فکر اور خوف پیدا نہ ہو وہ سنجیدہ نہیں ہوتا۔ اور وہ سنجیدگی سے کسی بات کو سننے ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ ایسے میں اس پر کوئی وعظ و ارشاد اثر انداز نہیں ہوسکتا اور وہ ہر سنی کو ان سنی کردیتا ہے۔ اور اس طرح وہ راہ حق و ہدایت سے دور و نفور اور محروم تر ہوتا جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اس لیے یہاں پر اس ارشاد سے ان کے دلوں کو دستک دی گئی کہ کیا یہ لوگ ڈرتے نہیں ؟…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 10–68

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ تشریح : اس واقعہ میں بیشمار نصیحتیں ‘ اللہ کے کمالات ‘ عجزو انکساری اور سب سے بڑھ کر توکل علی اللہ کا بہت زبردست سبق ملتا ہے۔ ایمان کامل انسان کے اندر اس قدر ہمت ‘ جرأت ‘ بہادری اور معرفت پیدا کردیتا ہے کہ انسان مادی اصولوں سے بےنیاز ہو کر روحانی دنیا میں گم ہوجاتا ہے اور اس کو اللہ ‘ اس کی مدد ‘ اس کا سایہ دنیا کے ہر خطرے سے محفوظ بےنیاز کردیتا ہے۔ جیسا کہ سید حسین نصر صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں : ” سچے مومن کی فراست تکمیل کو پہنچ جاتی ہے جیسا کہ اللہ نے فرمایا ” اللہ کی یاد میں دلوں کا سکون ہے۔ “ ( سورة رعد آیت : 28) ایسا شخص جو اس حالت میں ہو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 10–33

آیات 10 تا 33 اسرار و معارف نبی اکرم ﷺ کی شفقت کس قدر ہے اس کا اندازہ کیجیے کہ کفار کا دکھ بھی کس شدت سے محسوس فرماتے ہیں دوستاں راکجا کنی محروم۔ تو کہ بادشمناں نظر داری یعنی جس کا لطف و کرم دشمن پہ بھی عام ہے بھلا دوستوں کو کب محروم کرسکتا ہے تو آپ ﷺ کی تشفی فرماتے ہوئے اللہ کریم نے انسانوں پہ اپنے کرم کی ایک ادا کا تذکرہ فرمایا کہ فرعون کس قدر ظالم اور گستاخ کافر تھا اور اپنے خدا ہونے کا دعویدار بھی مگر اللہ کریم نے اسے بھی محروم نہ رکھا اور اپنے اولوالعزم رسول کو اس کے پاس بھیجا معجزات اور دلائل دیئے اور ہدایت کی طرف بلایا اگر وہ اپنی پسند سے دوسرے راستے پر ہی جانا چاہتا ہو تو پھر ایسے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 11–13

13 ۔ یعنی اتنے بڑے مشن پر تنہا جاتے ہوئے مجھے گھبراہٹ محسوس ہوتی ہے۔۔ 1 ۔ یعنی میں پوری روانی سے تقریر نہیں کرسکتا۔ 2 ۔ تاکہ ان سے مجھے تقویت اور پشت پناہی حاصل ہو اور یوں بھی وہ میری نسبت زیادہ فصیح اللسان ہیں۔ (دیکھئے طٰہٰ ۔ 31، قصص :34) موسیٰ (علیہ السلام) حضرت ہارون ( علیہ السلام) کا تعاون حاصل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے یہ درخواست کر رہے ہیں نہ کہ رسالت سے سبکدوش کردینے کی۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(26:11) قوم فرعون۔ مضاف مضاف الیہ ، فرعون کی قوم۔ یہ القوم کا بدل ہے یا اس کا عطف بیان۔ ظالم لوگ یعنی قوم فرعون۔ الا یتقون۔ ہمزہ استفہامیہ ہے لا یتقون مضارع منفی جمع مذکر غائب یہ ائت سے حال ہے تقدیر کلام ہے ائتھم قائلالہم الا یتقون تو ان کے پاس جاء یہ کہتے ہوئے کیا یہ لوگ نہیں ڈرتے (قہر الٰہی سے)

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 10–22

لغات القرآن : آیت نمبر 10 تا 22 : نادی (آوازدی) ٍیضیق (تنگ ہوتا ہے۔ گھٹتا ہے) صدری (میرا سینہ) ‘ لسانی (میری زبان) کلا (ہرگز نہیں) مستمعون (سننے والے) نربک ( ہم نے تجھے پالا۔ پرورش کیا) ولید (بچپن) ‘ لبثت (تورہا) ‘ سنین (سن) (سال) ‘ فعلت (تونے کیا) ‘ الضآ لین ( بھٹکنے والے) فررت (میں بھاگ گیا) ‘ وھب (دیا۔ عطا کیا) ‘ تمن (تو احسان جتاتا ہے) ‘ عبدت (تونے غلام بنایا۔ ذلیل کیا) ‘۔ تشریح آیت نمبر 10 تا 22 : اللہ تعالیٰ نے گذشتہ آیات میں ارشاد فرمایا ہے کہ جو لوگ نبی اور سو ل کی بات مکمل یقین رکھنے والے ہیں ان کو ایمان لانے کے لئے کسی نشانی اور بہانے کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن جن کو عمل اور ایمان سے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 10–30

فرعون کا قصہ۔ (ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ فرعون کی قوم کے پاس جاؤ جنہوں نے اپنی جانوں پر کفر کرکے اور بنی اسرائیل کو غلام بنا کر ظلم کررکھا ہے وہ اللہ سے نہیں ڈرتے کہ اس کی اطاعت کریں اور اکیلا جانیں کسی کو اس کا شریک نہ بنائیں تو حضرت موسیٰ نے کہا، اے میرے پروردگار میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ وہ مجھ کو جھٹلادیں اور ان کے جھٹلانے سے میرا دل تنگ ہوجائے اور میں طاقت لسانی بھی نہیں رکھتا، کیونکہ بوجہ لکنت کے صاف بول نہیں سکتا۔ اس لیے میرے بھائی ہارون کو بھی میرے ساتھ پیغمبر کر، اس کے علاوہ فرعون والوں کا مجھ پر الزام ہے میں نے ایک آدمی کو مارڈالا ہے اس واسطے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 10–12

حضرت موسیٰ کا مطالبہ آزادی 2: حضرت یوسف سے تقریباً چار سو سال بعد بنی اسرائیل کی حالت مصر میں بہت خراب ہوگئی ۔ اور ان پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے جانے لگے ۔ اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہوا ۔ کہ ان کی بہتری اور بہبودی کے لئے ایک پیغمبر کو بھیجا جائے ۔ جو ان کی غلامی اور بندگی کی زنجیروں کو توڑا دے ۔ اور جو اپنے الفا میں قدسیہ سے ان لوگوں کے دل میں ایمان کی شمع کو روشن کردے ۔ چناچہ اس خدمت کے لئے حضرت موسیٰ منتخب کیا گیا ۔ اور آپ سے کہا گیا ۔ کہ فرعون کی قوم بہت ظالم ہوچکی ہے ۔ اور اس کی سرکشیاں حد سے زیادہ بڑھ گئی ہیں ۔ تم جاؤ۔ اور اس کی رشدوہدایت کی طرف دعوت دو ۔ آخر کیوں ان لوگوں کے دلوں میں نعشیت…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(11) جو فرعون کی قوم ہے کیا وہ لوگ ڈرتے نہیں یعنی اللہ تعالیٰ کے غضب اور اس کی گرفت سے

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے پاس جائیں کہ وہ سرکش ہوچکا ہے : 11۔ ہاں ! فرعون کے پاس کہ وہ لوگ اپنے آپ کو مختار مطلق سمجھے بیٹھے ہیں اور ظلم وستم ڈھاتے جا رہے ہیں کیا انہیں عذاب الہی کا خوف نہیں ہے اچھا جاؤ انہیں خبردار کر دو کہ اس نے اور اس کی قوم نے ظلم کی انتہا کردی ہے کہ ان کے مظالم کو گننے لگیں تو گنے ہی نہیں جاسکتے اور پھر ہر ظلم ایک دوسرے سے بڑھ کر ہے غو رکرو کہ انہوں نے اللہ رب ذوالجلال والاکرام کو چھوڑ کر خود فرعون کی اور کو اکب کی پرستش شروع کردی ہے اور بنی اسرائیل کو انہوں نے غلامی کی زنجیروں میں جکڑدیا ہے اور کتنی بےرحمی سے انکی نرینہ اولاد کو وہ قتل کر رہے ہیں اور جو زندہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 7–11

زَوْجٍ كَرِ‌يمٍ (noble pair - 26:7). The word زَوْجٍ (zawj) literally means a pair. That is why man and woman, and male and female are called Zawj. Many species of trees have male and female among them. On this basis they can also be called Zawj (زَوْجٍ ). Sometimes the word Zawj is also used for a special kind. On the basis of this meaning all species of trees can be called Zawj. The meaning of Karim is a nice and favourite thing.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

9 That is, "O Moses! Just see how these people are perpetrating crime and injustice presuming that they are all-powerful in the land having no fear of God, Who will call them to account in the Hereafter".

Read the full tafseer →