Explained with ayahs 10–22
موسیٰ ؑ اور اللہ جل شانہ کے مکالمات
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور اپنے رسول اور اپنے کلیم حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کو جو حکم دیا تھا اسے بیان فرما رہے ہیں کہ طور کے دائیں طرف سے آپ کو آواز دی آپ سے سرگوشیاں کیں آپ کو اپنا رسول ﷺ اور برگزیدہ بنایا اور آپ کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا جو ظلم پر کمر بستہ تھے۔ اور اللہ کا ڈر اور پرہیزگاری نام کو بھی ان میں نہیں رہی تھی۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی چند کمزوریاں جناب باری تعالیٰ کے سامنے بیان کی جو عنایت الٰہی سے دور کردی گئیں جیسے سورة طہ میں آپ کے سوالات پور کردئیے گئے۔ یہاں آپ کے عذر یہ بیان ہوئے کہ مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلادیں گے۔ میرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
سورة الشُّعَرَآء 10
سورة طٰہٰ رکوع 2، اور سورة قصص رکوع 4 میں اس کی جو تفصیل آئی ہے اسے ان آیات کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ اول تو اتنے بڑے مشن پر تنہا جاتے ہوئے گھبراتے تھے (میرا سینہ گھٹتا ہے کے الفاظ اسی کی نشان دہی کرتے ہیں) ، دوسرے ان کو یہ بھی احساس تھا کہ وہ روانی کے ساتھ تقریر نہیں کرسکتے۔ اس لیے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی کہ حضرت ہارون کو ان کے ساتھ مددگار کی حیثیت سے نبی بنا کر بھیجا جائے کیونکہ وہ زیادہ زبان آور ہیں، جب ضرورت پیش آئے گی تو وہ ان کی تائید و تصدیق کر کے ان کی پشت مضبوط کریں گے۔ ممکن ہے کہ ابتداءً حضرت موسیٰ کی درخواست یہ رہی ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
معارف و مسائل
اطاعت کے لئے معاون اسباب کی طلب بہانہ جوئی نہیں
قَالَ رَبِّ اِنِّىْٓ اَخَافُ اَنْ يُّكَذِّبُوْنِ ، وَيَضِيْقُ صَدْرِيْ وَلَا يَنْطَلِقُ لِسَانِيْ فَاَرْسِلْ اِلٰى هٰرُوْنَ ، وَلَهُمْ عَلَيَّ ذَنْۢبٌ فَاَخَافُ اَنْ يَّقْتُلُوْنِ ، ان آیات مبارکہ سے ثابت ہوا کہ کسی حکم کے بجا لانے میں کچھ ایسی چیزوں کی درخواست کرنا جو تعمیل حکم میں مددگار ثابت ہوں کوئی بہانہ جوئی نہیں بلکہ جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰ ؑ نے حکم خداوندی پاکر اس کی بجا آوری کو سہل اور مفید کرنے کے لئے خدائے ذوالجلال سے درخواست کی۔ لہٰذا اس سے یہ نتیجہ نکالنا غلط ہوگا کہ حضرت موسیٰ ؑ نے حکم خداوندی کو بلا توقف بسر و چشم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
آگے کا مضمون …آیات 68-10
حضرت موسیٰ اور فرعون کی سرگزشت کا بیان
آگے حضرت موسیٰ ؑ اور فرعون کی وہ سرگزشت جس کی طرف پچھلی سورة میں اجمالی اشارہ فرمایا گیا تھا، تفصیل کے ساتھ آرہی ہے۔ یہ سرگزشت اس وقت سے شروع ہوتی ہے جب حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کو فرعون کے پاس جانے کا حکم ہوا ہے اور پھر فرعون اور اس کی فوج کی غرقابی پر ختم ہوتی ہے۔ اس دور کے تمام اہم واقعات کی طرف اس میں اشارے ہیں۔ یوں تو اس سرگزشت کا یہ حصہ نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کے لئے بھی سرمایہ تسکین و تسلی اور آپ کے مخالفین کے لئے سبق آموز ہے لیکن سورة کے عمود کے پہلو سے خاص چیز جو اس میں قابل توجہ ہے وہ یہ ہے کہ جو لوگ اغراض و شہوات کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
13-1اس خوف سے کہ وہ نہایت سرکش ہے، میری تکذیب کرے گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ طبع خوف انبیاء کو بھی لا حق ہوسکتا ہے۔
13-2یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ حضرت موسیٰ ؑ زیادہ بول نہیں سکتے تھے۔ یا اس طرف کہ زبان پر انگارہ رکھنے کی وجہ سے لکنت پیدا ہوگئی تھی، جسے اہل تفسیر بیان کرتے ہیں۔
13-1یعنی ان کی طرف جبرائیل ؑ کو وحی دے کر بھیج اور انھیں بھی نبوت سے سرفراز فرما کر میرا معاون بنا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–13
2: مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے یہ کچھ مشکل نہیں تھا کہ ان کو ایمان لانے پر مجبور کردیتا، لیکن اس دنیا میں انسان کو بھیجنے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ اسے زبردستی مسلمان بنایا جائے۔ بلکہ انسان سے مطالبہ یہ ہے کہ وہ کسی زور زبردستی کے بغیر اپنی عقل کو استعمال کر کے اور دلائل پر غور کر کے ایمان کا راستہ اختیار کرے۔ یہی وہ آزمائش ہے جس کے لیے اسے دنیا میں بھیجا گیا ہے۔ اس لیے اگر یہ لوگ ایمان نہیں لا رہے ہیں تو آپ کو اتنا صدمہ نہیں کرنا چاہیے کہ اپنی جان کو ہلکان کرلیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–17
درس نمبر 162 ایک نظر میں
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کا یہ حصہ ، اس سورت کے موضوع اور محور کے ساتھ بہت ہی ہم آہنگ ہے۔ اس سورت میں مدار کلام زیادہ تر اس پر ہے کہ مکذبین کا انجام کیسا ہوا کرتا ہے۔ پھر اس سورت میں بھی حضور اکرم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے اور مشرکین کی جانب سے روگردانی اور تکذیب کے نتیجے میں آپ کو جو مشکلات درپیش تھیں۔ ان پر آپ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار بھی اس سورت کا موضوع سخن ہے۔ پھر اس سورت میں اس بات کی یقین دہانی بھی ہے کہ اس دعوت اور اس کی حامل تحریک کا حامی و مددگار اور محافظ اللہ ہے۔ اگرچہ یہ لوگ کمزور ہیں اور ان کے مخالفین زاد و عتاد یعنی ساز و سامان سے لیس ہیں۔ اہل قوت اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
1 یعنی پوری بات سننے سے پہلے یہ جھٹلانا شروع کردیں گے اور مجلس میں کوئی تائید کرنے والا نہ ہوگا۔ ممکن ہے اس وقت ملول اور حزین ہو کر طبیعت رک جائے، دل نہ کھلے، اور زبان میں کچھ لکنت پہلے ہی سے ہے۔ تنگدل ہو کر بولنے میں زیادہ رکاوٹ پیدا نہ ہوجائے اس لیے میری تقویت و تائید کے لیے اگر ہارون کو جو مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہیں، میرا شریک حال کردیا جائے تو بڑی مہربانی ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
آیت 13 وَیَضِیْقُ صَدْرِیْ وَلَا یَنْطَلِقُ لِسَانِیْ فَاَرْسِلْ اِلٰی ہٰرُوْنَ ”
تاکہ اس عظیم مشن میں وہ میرے دست وبازو بنیں اور اس کام میں میرا ہاتھ بٹائیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
10 اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو مدین سے واپسی پر نبوت عطا فرمائی تو ساتھ ہی حکم دیا کہ تمہیں فرعون اور قوم فرعون کے پاس جو اپنے ظلم کی وجہ سے مشہور ہوچکی ہے۔ جاکر دعوت کا فریضہ سرانجام دینا ہے۔ تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی سابقہ زندگی کے کئی واقعات آپ کی آنکھوں کے سامنے پھرگئے۔ اور کئی قسم کے خطرات سامنے آنے لگے۔ جن میں سرفہرست یہ تھا کہ وہ میری دعوت الی الحق کو کیا اہمیت دے گا۔ جبکہ میں اس قوم کا ایک فرد ہوں۔ جسے اس نے اپنا غلام بنا رکھا ہے۔ اور خوب دبا کر رکھتا ہے۔ پھر میں اس کا پروردہ بھی ہوں۔ علاوہ ازیں میں ان کا مجرم بھی ہوں۔ ان سب باتوں کو ذہن میں رکھ کر جب اسے اللہ کا پیغام…
Read the full tafseer →9۔ (قبل اس کے کہ میں پوری تبلیغ کرسکوں) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ مجھے تعمیل ارشاد میں عذر ہی کیا ہوسکتا ہے۔ البتہ یہ خیال ضرور ہوتا ہے کہ وہ لوگ میری تبلیغ کے تمام ہونے سے قبل ہی میری تکذیب شروع کردیں گے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا قصہ اس کے قبل بھی کئی بار آچکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–33
آیت نمبر 10 تا 33
ترجمہ : اور اے محمد ﷺ اپنی قوم کو اس وقت کا واقعہ یاد دلائیے کہ جب تیرے رب نے موسیٰ کو حکم دیا اس رات میں جبکہ موسیٰ نے آگ اور درخت کو دیکھا کہ تو ظالم قوم کے پاس رسول بن کر جا قوم فرعون کے پاس مع فرعون کے انہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کرکے اور بنی اسرائیل کو غلام بنا کر اپنے اوپر ظلم کیا ہے اَلاَ یتقون میں ہمزہ استفہام انکاری کے لئے ہے کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو کہ اس کی طاعت اختیار کرکے اس کی توحید کے قائل ہوجاؤ تو موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے پروردگار مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے اور ان کے میری تکذیب کی وجہ سے میرا دل تنگ ہوجائے، اور اداء رسالت کے…
Read the full tafseer →قال رب انی اخاف ان یکذبون۔ موسیٰ نے کہا اے میرے رب مجھے اندیشہ ہے کہ وہ میری تکذیب
کریں گے۔
Read the full tafseer →(12) حضرت موسیٰ ؑ نے عرض کیا کہ اے میرے پروردگار مجھے اندیشہ ہے کہ وہ میری رسالت کو جھٹلا دیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
وَيَضِيْقُ صَدْرِيْ : یعنی اتنے بڑے کام کے لیے جاتے ہوئے مجھے گھبراہٹ محسوس ہوتی ہے۔
وَلَا يَنْطَلِقُ لِسَانِيْ : یعنی میں پوری روانی سے تقریر نہیں کرسکتا۔
فَاَرْسِلْ اِلٰى هٰرُوْنَ : تاکہ ان سے مجھے تقویت اور پشت پناہی حاصل ہو اور یوں بھی وہ مجھ سے زیادہ فصیح اللسان ہیں۔ (دیکھیے طٰہٰ : 31۔ قصص : 34) موسیٰ ؑ نے ہارون ؑ کا تعاون حاصل کرنے کے لیے درخواست کی نہ کہ رسالت سے سبکدوشی کے لیے۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–15
(واذ نادی ربک۔۔۔۔۔۔ )
واذ نادی رب موسیٰ ، اذمحل نصب میں ہے تقدیر کلام یہ ہے : واتل علیھم اذ نادی ربک موسیٰ اس پر یہ کلام واتل علیھم نبا ابراہیم۔ دلالت کرتی ہے جو اس کے بعد ہے۔ نحاس نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہاں اذکر فعل محذوف ہے جس طرح اس ارشاد میں ہی تصریح ہے واذاکر اخادعا ( احقاف : 21) واذکر عبدنا ابراہیم (ص : 45) واذکر فی الکتب مریم (مریم : 19) ایک قول یہ کیا گیا ہے : واذ نادی ربک موسیٰ ، کذا وکذ۔ نداء سے مراد یا فلان کے ساتھ بلانا، یعنی تیرے رب نے فرمایا : یا موسیٰ ان ائت القوم الظلمین پھر خبر دی کہ ظالم کون ہے ؟ فرمایا : قوم فرعون الا یتقون قوم فرعون، یا القوم الظلمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–51
1۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” یعنی طور کے داہنی جانب سے ان کو آواز دی گئی۔
2۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جرری وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ ایک جان کے قتل کرنے کا الزام جو ان کے درمیان قتل ہوا آیت ” وفعلت فعلتک التی فعلت “ سے مراد بھی انسان کا قتل ہے۔ آیت ” فعلتہا اذا وانا من الضالین “ یعنی جب میں چوک جانے والوں میں سے تھا۔
3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ یعنی ایک جان کا قتل کرنا آیت ” الم لربک فینا ولیدا “ یعنی ان کو فرعون والوں سے اٹھا لیا سو اس بچے کو…
Read the full tafseer →قَالَ [ (موسیٰ (علیہ السلام) ) کہا ] رَبِّ [ اے میرے رب ] اِنِّىْٓ [ بیشک میں ] اَخَافُ [ ڈرتا ہوں ] اَنْ [ کہ ] يُّكَذِّبُوْنِ [ وہ لوگ جھٹلائیں گے مجھ کو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–34
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ کے لیے فرعون کا جادو گروں کو بلانا، مقابلہ ہونا اور جادو گروں کا شکست کھا کر ایمان قبول کرنا
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے جواب وسوال سے عاجز ہو کر اور دو بڑے معجزے دیکھ کر فرعون کی شکست تو اسی وقت ہوگئی لیکن اس نے اپنی خفت مٹانے اور درباریوں کو مطمئن رکھنے اور ان کے ذریعہ ساری قوم کو اپنی فرمانبرداری پر جمائے رکھنے کے لیے سرداروں سے کہا جو اس وقت وہاں موجود تھے کہ سمجھ میں آگیا یہ تو ایک بڑا ماہر جادوگر ہے یہ چاہتا ہے کہ تمہیں مصر کی سر زمین سے نکال دے اور اپنی قوم کا بڑا بن کر ان کو ساتھ لے کر حکومت کرنے لگے۔ تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو ؟ سورة اعراف میں ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–22
قصہ اول حضرت موسیٰ (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ واذ نادی ربک موسیٰ ان ائت القوم الظلمین .... الیٰ .... ان عبدت بنی اسرائیل۔
یہاں سے حضرات انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کے قصے ذکر کرتے ہیں سب سے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور قوم فرعون موسوی اور پھر اہل ایمان کی عجیب طریقے سے نجات اور کفار کی عبرتناک ہلاکت کے بیان پر مشتمل ہے۔
ذکر عطائے منصب نبوت و رسالت و حکم تبلیغ و دعوت
یہ قصہ اگرچہ سورة اعراف اور سورة طہ میں بالتفصیل گزرچکا ہے لیکن یہاں پر ایک نئی شان سے اس قصہ کو ذکر فرماتے۔ چناچہ فرامتے ہیں اور اے نبی ان مستہزئین کی تہدید اور عبرت کے لیے اس وقت کا قصہ ذکر کیجئے جبکہ تیرے پروردگار نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
8:۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تبلیغ رسالت کے سلسلے میں جو مشکلات نظر آئیں اور فرعون سے جو انہیں خدشہ تھا اس کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ سے معاون حاصل کرنا اور فرعون کے شر سے تحفظ طلب کرنا مقصود تھا۔ امر الٰہی کے امتثال میں توقف مقصود نہیں تھا۔ ولم یکن ھذا الالتماس من موسیٰ (علیہ السلام) توقفا فی الامتثال بل التماس عون فی تبلیغ الرسالۃ (مدارک ج 3 ص 137) ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا میرے پروردگار ! مجھے اندیشہ ہے کہ وہ مجھے جھٹلائیں گے اور اس سے مجھے سخت ذہنی اذیت پہنچے گی طبیعت ملول و حزین ہوجائے گی اور دل میں انقباض پیدا ہوگا اور پھر میری تائید کرنے والا بھی کوئی نہ ہوگا اور میری زبان صاف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–22
فرعون کو دعوت توحید
سورۃ کی ابتدائی آیات میں قرآن کریم کی حقانیت اور تسلی کے مضمون کو اجمالی طور پر بیان کیا گیا تھا۔ اب یہاں سے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کیا ہے جس سے اصل مقصود اصول دین توحید اور ایمان کی دعوت دنیا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے ابتدائی واقعات تو سورة قصص اور بعض دیگر سورتوں میں بھی بیان ہوئے ہیں تا ہم یہاں پر مضمون کی ابتداء وتبلیغ حق سے ہو رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا اور پھر ان کو تبلیغ کے لیے فرعون اور اس کی ظالم قوم کے پاس بھیجا ۔ ارشاد ہوتا ہے ، وہ بات قابل ذکر ہے واذ نادی ربک موسیٰ جب کہ…
Read the full tafseer →قَالَ رَبِّ اِنِّىْٓ اَخَافُ اَنْ يُّكَذِّبُوْنِ 12ۭ
خوف
الخَوْف : توقّع مکروه عن أمارة مظنونة، أو معلومة، كما أنّ الرّجاء والطمع توقّع محبوب عن أمارة مظنونة، أو معلومة، ويضادّ الخوف الأمن، ويستعمل ذلک في الأمور الدنیوية والأخروية . قال تعالی: وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ عَذابَهُ [ الإسراء/ 57]
( خ و) الخوف ( س )
کے معنی ہیں قرآن دشواہد سے کسی آنے والے کا خطرہ کا اندیشہ کرنا ۔ جیسا کہ کا لفظ قرائن دشواہد کی بنا پر کسی فائدہ کی توقع پر بولا جاتا ہے ۔ خوف کی ضد امن آتی ہے ۔ اور یہ امور دنیوی اور آخروی دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے : قرآن میں ہے : ۔ وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخافُونَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–34
بدنصیب یہ معجزے دیکھ کر ایمان تو نہ لایا کہہ دیا کہ یہ بڑا جادوگر ہے اس کے زور سے تمہارا ملک لینا چاہتا ہے۔ فرعونیوں کے عہد میں جادو اور طلسم کا بڑا زور تھا چناچہ اس عہد کے یادگار مسلمانوں کے ابتدائِ عہد تک موجود تھے جن کو اہل اسلام کے مؤرخین نے نقل کیا ہے دیکھو تاریخ مصر، درباریوں نے صلاح دی کہ آپ بھی اپنے ملک میں سے نامور جادوگر ایک روز معین میں جمع کر کے اس کو عاجز کر دیجئے اور عید یا کوئی فرعونیوں کا میلہ ہوتا تھا جس میں سب لوگ شریک ہوتے تھے وہ روز قرار پایا تاکہ سب لوگ موسیٰ ( علیہ السلام) کا عجز ملاحظہ کریں۔ چناچہ اس روز وہ سب جادوگر اور طلسم کار آئے اور ایک میدان میں فرعون اور اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
قَالَ رَبِّ اِنِّیْٓ اَخَافُ اَنْ یُّکَذِّبُوْنِ ۔ وَیَضِیْقُ صَدْرِیْ وَلاَ یَنْطَلِقُ لِسَانِیْ فَاَرْسِلْ اِلٰی ھٰـرُوْنَ ۔ وَلَھُمْ عَلَیَّ ذَنْبٌ فَاَخَافُ اَنْ یَّـقْـتُـلُوْنَ ۔ (الشعرآء : 12، 13، 14)
(حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا، اے رب ! مجھے اندیشہ ہے کہ وہ مجھ کو جھٹلا دیں گے۔ اور میرا سینہ گھٹتا ہے اور روانی سے میری زبان نہیں چلتی، آپ ہارون کی طرف وحی بھیجیں۔ اور ان کا میرے ذمے ایک جرم بھی ہے، اس لیے میں ڈرتا ہوں وہ مجھے قتل کردیں گے۔ )
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے چند اندیشے
نبوت اور رسالت ایک بہت نازک اور کٹھن ذمہ داری ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس کا شدید احساس تھا۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
فہم القرآن
ربط کلام : موسیٰ (علیہ السلام) کو ہر قسم کی تسلّی دینے کے بعد فرعون کی طرف جانے کا حکم ہوا۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) فرعون کے پاس پہنچے اور اسے یہ کہہ کر اپنی رسالت اور اللہ تعالیٰ کی توحید کی دعوت دی کہ ہم رب العالمین کے بھیجے ہوئے رسول ہیں۔ فرعون اپنے آپ کو ” رَبُّکُمُ الْأَعْلٰی “ کہتا تھا۔ اس لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے توحید کا یہ پہلو پیش فرمایا کہ رب العالمین ایک ہے اس کے سوا کوئی اور رب نہیں۔ اس کے ساتھ ہی اپنی قوم کی آزادی کا مطالبہ کیا۔ کیونکہ آزاد قوم ہی اپنے نفع و نقصان کا ٹھیک طور پر فیصلہ کرسکتی ہے۔ فرعون نے موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
خطرئہ تکذیب :
12، 13: قَالَ رَبِّ اِنِّیْ اَخَافُ (موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اے میرے رب مجھے اندیشہ ہے) خوف ؔ مستقبل میں پیش آنے والے معاملے پر غم۔ اَنْ یُّکَذِّبُوْنِ (کہ وہ مجھے جھٹلائیں گے) وَیَضِیْقُ صَدْرِی (اور میرا سینہ تنگ ہوگا) ان کے مجھے جھٹلانے کی وجہ سے۔ یہ جملہ مستانفہ ہے نمبر 2۔ یا اخاف پر عطف ہے۔ وَلَا یَنْطَلِقُ لِسَانِیْ (اور میری زبان نہیں چلے گی) اس پر کہ ان کے غلط کام دیکھ کر غیرت مجھ پر غالب آئے گی۔ اور میں ان کا جھگڑا سنوں گا تو میری زبان نہ چلے گی۔ نمبر 2۔ ان دونوں کو یعقوب نے نصب سے پڑھا اور اس کا عطف یکذبون پر ڈالا اس صورت میں خوف ان تینوں سے متعلق ہے۔ نمبر 3۔ اور…
Read the full tafseer →12۔ قال، حضرت موسیٰ نے ارشادفرمایا، رب انی خاف ان یکذبون۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–22
(6 تا 22) یہ مسخراپن کا نتیجہ بدر کی لڑائی میں معلوم ہوا جس کا ذکر انس بن مالک ؓ کی صحیح روایتوں سے ایک جگہ گزر چکا ہے آگے فرمایا کہ کیا نہیں دیکھا انہوں نے غور سے زمین کی طرف کہ کس طرح اگائے ہم نے اس میں طرح طرح کے جوڑے میووں کے اور ہر قسم کی کھیتی یہ منکرین حشر کو قائل کیا ہے مطلب یہ ہے کہ جس طرح سوکھی زمین سوکھا اناج کا دانہ اور سوکھی ہر ایک پھل کی گٹھلی سب مردہ کے مانند ہوتے ہیں خدا کی قدرت سے مینہ برستا ہے جس سے زمین زندہ چیزوں کی طرح تروتازہ ہوجاتی ہے اور ہر اناج کے دانہ اور میوہ کی گٹھلیوں میں وہ جان پڑجاتی ہے کہ ایک دانہ سے ہزاروں دانے اور ایک گٹھلی سے ہزاروں پھل پیدا ہوجاتے ہیں اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–68
آیت نمبر 10 سے 68
اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں موسیٰ (علیہ السلام) کی مدح وثنا اور ان کے واقعات کا بار بار جتنا اعادہ کیا ہے اتنا کسی اور واقعے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ عظیم حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس قصے میں اہل ایمان اور اہل کفر کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے طرز عمل کی تفصیل ہے نیز موسیٰ (علیہ السلام) صاحب شریعت کبری اور صاحب تورات تھے جو قرآن عظیم کے بعد سب سے افضل کتاب ہے۔
فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجئے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندادی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، ان کو رسول بنا کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
11 حضرت موسیٰ کی حضرت ہارون کے لیے ایک خاص دعا اور اہل بدعت کے ایک مغالطے کا جواب : کہ میرے بھائی ہارون کو بھی کار رسالت کی ادائیگی کے لیے میرے ساتھ شریک کیا جائے۔ سو یہ حضرت موسیٰ کی طرف سے حضرت ہارون کو بھی پیغمبر بنائے جانے کی درخواست ہے۔ حضرت موسیٰ ۔ علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام ۔ نے اپنے اعذار پیش کرنے کے بعد اپنے بھائی حضرت ہارون کی رسالت کے لئے بھی بارگاہ خداوندی میں درخواست پیش کی تاکہ وہ ان کے معاون اور مددگار ہو سکیں۔ اور آپ کی اس دعا کو قبول بھی فرما لیا گیا۔ اہل بدعت کے بعض بڑوں نے اس سے غیر اللہ کی امداد کے ثبوت و جواز کی دلیل کشید کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔ چناچہ موصوف اس سلسلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–68
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ
تشریح : اس واقعہ میں بیشمار نصیحتیں ‘ اللہ کے کمالات ‘ عجزو انکساری اور سب سے بڑھ کر توکل علی اللہ کا بہت زبردست سبق ملتا ہے۔ ایمان کامل انسان کے اندر اس قدر ہمت ‘ جرأت ‘ بہادری اور معرفت پیدا کردیتا ہے کہ انسان مادی اصولوں سے بےنیاز ہو کر روحانی دنیا میں گم ہوجاتا ہے اور اس کو اللہ ‘ اس کی مدد ‘ اس کا سایہ دنیا کے ہر خطرے سے محفوظ بےنیاز کردیتا ہے۔ جیسا کہ سید حسین نصر صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں : ” سچے مومن کی فراست تکمیل کو پہنچ جاتی ہے جیسا کہ اللہ نے فرمایا ” اللہ کی یاد میں دلوں کا سکون ہے۔ “ ( سورة رعد آیت : 28)
ایسا شخص جو اس حالت میں ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–33
آیات 10 تا 33
اسرار و معارف
نبی اکرم ﷺ کی شفقت کس قدر ہے اس کا اندازہ کیجیے کہ کفار کا دکھ بھی کس شدت سے محسوس فرماتے ہیں دوستاں راکجا کنی محروم۔ تو کہ بادشمناں نظر داری یعنی جس کا لطف و کرم دشمن پہ بھی عام ہے بھلا دوستوں کو کب محروم کرسکتا ہے تو آپ ﷺ کی تشفی فرماتے ہوئے اللہ کریم نے انسانوں پہ اپنے کرم کی ایک ادا کا تذکرہ فرمایا کہ فرعون کس قدر ظالم اور گستاخ کافر تھا اور اپنے خدا ہونے کا دعویدار بھی مگر اللہ کریم نے اسے بھی محروم نہ رکھا اور اپنے اولوالعزم رسول کو اس کے پاس بھیجا معجزات اور دلائل دیئے اور ہدایت کی طرف بلایا اگر وہ اپنی پسند سے دوسرے راستے پر ہی جانا چاہتا ہو تو پھر ایسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
13 ۔ یعنی اتنے بڑے مشن پر تنہا جاتے ہوئے مجھے گھبراہٹ محسوس ہوتی ہے۔۔
1 ۔ یعنی میں پوری روانی سے تقریر نہیں کرسکتا۔ 2 ۔ تاکہ ان سے مجھے تقویت اور پشت پناہی حاصل ہو اور یوں بھی وہ میری نسبت زیادہ فصیح اللسان ہیں۔ (دیکھئے طٰہٰ ۔ 31، قصص :34) موسیٰ (علیہ السلام) حضرت ہارون ( علیہ السلام) کا تعاون حاصل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے یہ درخواست کر رہے ہیں نہ کہ رسالت سے سبکدوش کردینے کی۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(26:12) رب : ای یا ربی۔
ان یکذبون : ان مصدریہ ہے یکذبون اصل میں یکذبونی ہے کہ وہ مجھے جھٹلائینگے۔ (میری تبلیغ کے تمام ہونے سے قبل ہی میری تکذیب شروع کردیں گے۔ (الماجدی، روح المعانی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–22
لغات القرآن : آیت نمبر 10 تا 22 :
نادی (آوازدی) ٍیضیق (تنگ ہوتا ہے۔ گھٹتا ہے) صدری (میرا سینہ) ‘ لسانی (میری زبان) کلا (ہرگز نہیں) مستمعون (سننے والے) نربک ( ہم نے تجھے پالا۔ پرورش کیا) ولید (بچپن) ‘ لبثت (تورہا) ‘ سنین (سن) (سال) ‘ فعلت (تونے کیا) ‘ الضآ لین ( بھٹکنے والے) فررت (میں بھاگ گیا) ‘ وھب (دیا۔ عطا کیا) ‘ تمن (تو احسان جتاتا ہے) ‘ عبدت (تونے غلام بنایا۔ ذلیل کیا) ‘۔
تشریح آیت نمبر 10 تا 22 :
اللہ تعالیٰ نے گذشتہ آیات میں ارشاد فرمایا ہے کہ جو لوگ نبی اور سو ل کی بات مکمل یقین رکھنے والے ہیں ان کو ایمان لانے کے لئے کسی نشانی اور بہانے کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن جن کو عمل اور ایمان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–30
فرعون کا قصہ۔
(ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ فرعون کی قوم کے پاس جاؤ جنہوں نے اپنی جانوں پر کفر کرکے اور بنی اسرائیل کو غلام بنا کر ظلم کررکھا ہے وہ اللہ سے نہیں ڈرتے کہ اس کی اطاعت کریں اور اکیلا جانیں کسی کو اس کا شریک نہ بنائیں تو حضرت موسیٰ نے کہا، اے میرے پروردگار میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ وہ مجھ کو جھٹلادیں اور ان کے جھٹلانے سے میرا دل تنگ ہوجائے اور میں طاقت لسانی بھی نہیں رکھتا، کیونکہ بوجہ لکنت کے صاف بول نہیں سکتا۔ اس لیے میرے بھائی ہارون کو بھی میرے ساتھ پیغمبر کر، اس کے علاوہ فرعون والوں کا مجھ پر الزام ہے میں نے ایک آدمی کو مارڈالا ہے اس واسطے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
[4] یعنی ایک قبطی کے قتل کا جرم جس کی تفصیل سورة قصص میں آئے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
حضرت موسیٰ کا مطالبہ آزادی
2: حضرت یوسف سے تقریباً چار سو سال بعد بنی اسرائیل کی حالت مصر میں بہت خراب ہوگئی ۔ اور ان پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے جانے لگے ۔ اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہوا ۔ کہ ان کی بہتری اور بہبودی کے لئے ایک پیغمبر کو بھیجا جائے ۔ جو ان کی غلامی اور بندگی کی زنجیروں کو توڑا دے ۔ اور جو اپنے الفا میں قدسیہ سے ان لوگوں کے دل میں ایمان کی شمع کو روشن کردے ۔ چناچہ اس خدمت کے لئے حضرت موسیٰ منتخب کیا گیا ۔ اور آپ سے کہا گیا ۔ کہ فرعون کی قوم بہت ظالم ہوچکی ہے ۔ اور اس کی سرکشیاں حد سے زیادہ بڑھ گئی ہیں ۔ تم جاؤ۔ اور اس کی رشدوہدایت کی طرف دعوت دو ۔ آخر کیوں ان لوگوں کے دلوں میں نعشیت…
Read the full tafseer →(12) موسیٰ (علیہ السلام) نے عر ض کیا اے میرے پروردگار میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ وہ مجھ کو جھٹلا دیں اور میری تکذیب کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
ف 5۔ جرم ایک قبطی کے قتل کا جس کا قصہ سورة قصص میں آوے گا۔
Read the full tafseer →موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کی کہ اے میرے رب ! مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلادیں گے :
12۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے ارشاد الہی سنا تو عرض کی کہ اے میرے پروردگار مجھے خوف ہے کہ وہ مجھے جھٹلا دیں گے ؟ اور میری دعوت کو قبول نہیں کریں گے ، موسیٰ (علیہ السلام) کے قصہ کی تفصیلات پیچھے بہت سے مقامات پر گزر چکی ہیں مثال کے طور پر ملاحظہ کریں سورة الاعراف کی آیات 102 سے 156 تک ‘ سورة یونس کی آیات 75 تا 92 تک سورة بنی اسرائیل کی آیات 101 تک ‘ سورة طہ 9 سے 79 تک تفصیلی واقعات بیان کئے گئے ہیں اور قوم بنی اسرائیل کے ضمنی واقعات سورة بقرہ میں بھی کثرت سے بیان کئے ہیں اور آل عمران اور المائدہ میں بھی اسی طرح کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
Commentary
Request for favourable conditions for obedience is not tantamount to making excuses
قَالَ رَبِّ إِنِّي أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونِ ﴿12﴾ وَيَضِيقُ صَدْرِي وَلَا يَنطَلِقُ لِسَانِي فَأَرْسِلْ إِلَىٰ هَارُونَ ﴿13﴾ وَلَهُمْ عَلَيَّ ذَنبٌ فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ ﴿14﴾
He (Musa) said, "My Lord, I fear they will belie me. [ 12] And my heart gets straitened and my tongue is not fluent; so send for Harun. [ 13] And they have a charge of offence against me and I fear they will kill me;" [ 14]
This verse indicates that Sayyidna Musa (علیہ السلام) requested Allah to provide him with some…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
10 The sentence, "My breast straitens", shows that Prophet Moses was somewhat hesitant of going alone on such a difficult mission, and also had the feeling that he was not eloquent in speech. That is why he begged Allah to appoint Aaron too, as messenger to assist him who, being more vigorous in speech, could support and strengthen him as and when the need arose. It is just possible :hat in the beginning, the Prophet Moses might have begged that Aaron be appointed to Prophet hood instead of him, but later when he felt that Allah willed him to be appointed to that position, he might have…
Read the full tafseer →