Explained with ayahs 1–9
تعارف قرآن کریم
پھر فرمان ہے کہ یہ آیتیں قرآن مبین کی ہیں جو بہت واضح بالکل صاف اور حق وباطل بھلائی برائی کے درمیان فیصلہ اور فرق کرنے والا ہے۔ ان لوگوں کے ایمان نہ لانے سے آپ ﷺ رنجیدہ خاطر اور غمگین نہ ہوں۔ جیسے اور جگہ ارشاد ہے آیت (فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرٰتٍ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِـيْمٌۢ بِمَا يَصْنَعُوْنَ) 35۔ فاطر :8) تو ان کے ایمان نہ لانے پر حسرت و افسوس نہ کر۔ اور آیت میں ہے آیت (فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِيْثِ اَسَفًا) 18۔ الكهف :6) کہیں ایسا نہ ہو کہ تو ان کے پیچے اپنی جان گنوادے۔ چونکہ ہماری یہ چاہت ہی نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
سورة الشُّعَرَآء 5
یعنی جستجوئے حق کے لیے کسی کو نشانی کی ضرورت ہو تو کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں، آنکھیں کھول کر ذرا اس زمین ہی کی روئیدگی کو دیکھ لے، اسے معلوم ہوجائے گا کہ نظام کائنات کی جو حقیقت (توحید الہٰ) انبیاء (علیہم السلام) پیش کرتے ہیں وہ صحیح ہے، یا وہ نظریات صحیح ہیں جو مشرکین یا منکرین خدا بیان کرتے ہیں۔ زمین سے اگنے والی بیشمار انواع و اقسام کی چیزیں جس کثرت سے اگ رہی ہیں، جن مادوں اور قوتوں کی بدولت اگ رہی ہیں، جن قوانین کے تحت اگ رہی ہیں، پھر ان کی خواص اور صفات میں اور بیشمار مخلوقات کی ان گنت ضرورتوں میں جو صریح مناسبت پائی جاتی ہے، ان ساری چیزوں کو دیکھ کر صرف ایک احمق ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
زَوْجٍ كَرِيْمٍ ، زوج کے لفظی معنے جوڑے کے ہیں اسی لئے مرد و عورت، نر و مادہ کو زوج کہا جاتا ہے بہت سے درختوں میں بھی نر و مادہ ہوتے ہیں ان کو اس مناسبت سے بھی زوج کہا جاسکتا ہے اور کبھی لفظ زوج ایک خاص نوع اور صنف کے معنی میں بھی آتا ہے اس معنے کے لحاظ سے درختوں کی ہر نوع کو زوج کہا جاسکتا ہے اور کریم کے معنی ہیں عمدہ اور پسندیدہ چیز۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
آیت 9-8
یعنی اگر یہ کسی نشانی ہی کے طالب ہیں تو اس سے بڑی نشانی اور کیا چاہئے ! یہاں ان تمام دلائل توحید و قیامت و جزا کو ذہن میں مستحضر کر لیجیے جو قرآن میں تفصیل سے مذکور ہوئے ہیں اور جن کی شہادت میں قرآن نے زمین کو انہی نعمتوں اور برکتوں کا حوالہ دیا ہے۔ آگے سورة لقمان کی آیت 10 اور سورة سجدہ کی آیت 27 کے تحت اس مضمون کی پوری وضاحت ہوجائے گی۔
وما کان اکثر ھم مئومنین یعنی یہ بات نہیں ہے کہ نشانیوں کی کمی ہے۔ نشانیوں سے تو اس زمین کا چپہ چپہ معمور ہے لیکن جو لوگ ایمان نہیں لانا چاہتے ان کا کیا علاج !
خدائے عزیز ورحیم کی سنت امہال
وان ربک لھو العزیز الرحیم یہ وہی اوپر والی بات اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →8-1یعنی جب اللہ تعالیٰ مردہ زمین سے یہ چیزیں پیدا کرسکتا ہے، تو کیا انسانوں کو دوبارہ پیدا نہیں کرسکتا۔
8-2یعنی اس کی یہ عظیم قدرت دیکھنے کے باوجود اکثر لوگ اللہ اور رسول کی تکذیب ہی کرتے ہیں، ایمان نہیں لاتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–13
2: مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے یہ کچھ مشکل نہیں تھا کہ ان کو ایمان لانے پر مجبور کردیتا، لیکن اس دنیا میں انسان کو بھیجنے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ اسے زبردستی مسلمان بنایا جائے۔ بلکہ انسان سے مطالبہ یہ ہے کہ وہ کسی زور زبردستی کے بغیر اپنی عقل کو استعمال کر کے اور دلائل پر غور کر کے ایمان کا راستہ اختیار کرے۔ یہی وہ آزمائش ہے جس کے لیے اسے دنیا میں بھیجا گیا ہے۔ اس لیے اگر یہ لوگ ایمان نہیں لا رہے ہیں تو آپ کو اتنا صدمہ نہیں کرنا چاہیے کہ اپنی جان کو ہلکان کرلیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
اولم ……مئومنین (8)
1033
اس مردہ زمین سے ایک گونہ زندہ نباتات کا نکالنا کیا کم معجزہ ہے۔ پھر ان نباتات سے نر اور مادہ بنانا۔ بعض انواع میں نر اور مادہ علیحدہ علیحدہ پودوں میں ہوتے ہیں اور یا پھر ایک ہی پودے میں نر اور مادہ پھول ہوتے ہیں جیسا کہ اکثر نباتات میں ہوتا ہے یعنی ایک ہی شاخ میں نر اور مادہ اجزا ہوتے ہیں اور یہ معجزہ ان کے ماحول میں رات دن رونما ہوتا رہتا ہے۔
اولم یروا (26 : 8) ” کیا انہوں نے نہیں دیکھا ہے۔ یہ ایسے معجزات ہیں کہ جن کے صرف ایک ہی مشاہدے کی ضرورت ہے۔ قرآن کے نظام تربیت کا یہ خاص انداز ہے کہ قرآن انسانی دل و دماغ کو اس کائنات کے مشاہد پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
6 یعنی یہ مکذبین اگر ایک پیش پا افتادہ زمین ہی کے احوال میں غور کرتے تو مبداء و معاد کی معرفت حاصل کرنے کے لیے کافی ہوسکتی تھی۔ کیا دیکھتے نہیں کہ اسی کر کری اور حقیر مٹی سے کیسے عجیب و غریب رنگ برنگ پھول پھل اور قسم قسم کے غلے اور میوے ایک مضبوط نظام تکوین کے ماتحت پیدا ہوتے ہیں۔ کیا یہ اس کی دلیل نہیں کہ کسی لامحدود قوت و حکمت رکھنے والے مانع نے اس پر رونق چمن کی گلکاریاں کی ہیں جس کے قبضہ میں وجود کی باگ ہے اور وہ ہی جب چاہے اسے ویران کرسکتا اور ویرانی کے بعد دوبارہ آباد کرسکتا ہے۔ پھر ان آیات تکوینیہ کو سمجھ لینے کے بعد آیات تنزیلیہ کی تصدیق میں کیا اشکال رہ جاتا ہے۔ ہاں ماننا ہی منظور نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
آیت 8 اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃًط وَمَا کَانَ اَکْثَرُہُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ”
اگر یہ لوگ معجزہ دیکھنا چاہتے ہیں تو دیکھ لیں ‘ اللہ تعالیٰ کی تخلیق کردہ پوری کائنات ہی معجزہ ہے۔ کائنات میں ہر جگہ ان کے لیے نشانیاں ہی نشانیاں ہیں :
اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلاَفِ الَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَالْفُلْکِ الَّتِیْ تَجْرِیْ فِی الْْبَحْرِ بِمَا یَنْفَعُ النَّاسَ وَمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ مَّآءٍ فَاَحْیَا بِہِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَا وَبَثَّ فِیْہَا مِنْ کُلِّ دَآبَّۃٍص وَّتَصْرِیْفِ الرِّیٰحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَیْنَ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
6 اگر کسی معجزہ کی بات ہے تو یہ کیا کم معجزہ ہے کہ ایک ہی زمین میں، ایک ہی جیسا آسمان سے پانی برستا ہے۔ ایک ہی سورج سے نباتات کی نشوونما ہوتی ہے۔ لیکن نباتات ساری ایک جیسی نہیں ہوتی۔ ہزارہا قسم کی نباتات ہوتی ہے۔ کہیں رنگ برنگ کے پھول کھل رہے ہیں، کہیں لہلہاتی کھیتیاں ہیں۔ ان کی خوشبوؤں سے زمین مہک اٹھتی ہے۔ پھر اس نباتات اور وہاں کے باشندوں کی ضروریات میں ایک خاص مناسبت ہے۔ نباتات کی بیشمار انواع و اقسام کے باوجود یہ بھی اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ قوانین کے تحت ہی اگتی، بڑھتی اور پھلتی پھولتی ہے اور اس میں ایک خاص نظم و ضبط پایا جاتا ہے۔ غرضیکہ نباتات میں غور و فکر کا اتنا وسیع میدان موجود ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
6۔ (ہمارے کمال قدرت اور توحید کی) فن نباتات میں اگر گہری نظر ہو اور نباتاتی حکمتیں اور صناعیاں پیش نظر ہوں، تو ممکن نہیں کہ دل صناع مطلق کی یکتائی پر گواہی نہ دے اٹھے، (آیت) ” لایۃ “۔ ایۃ (پر تنوین) سے مراد عظیم الشان نشان ہے، جس کے بعد ایمان واجب ہوجاتا ہے۔ ایۃ عظیمۃ دالۃ علی ما یجب علیھم الایمان بہ (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت نمبر 1 تا 9
ترجمہ : شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے۔ طٰسٓمٓ اس کی مراد اللہ ہی بہتر جانتا ہے یہ یعنی یہ آیات کتاب مبین (یعنی) قرآن کی آیتیں ہیں جو حق کو باطل سے ممتاز کرنے والی ہیں، اور اٰیٰتُ الکِتابِ میں اضافت بمعنی مِنْ ہے شاید اے محمد آپ تو اس غم کے سبب سے کہ اہل مکہ ایمان نہیں لاتے اپنی جان کھو دیں گے، اور لَعَلَّ کے یہاں اشفاق کے معنی ہے یعنی اس غم میں تخفیف کرکے اپنے اوپر رحم کیجئے، اگر ہم چاہتے تو ان پر آسمان سے کوئی ایسی نشانی اتارتے کہ جس کے سامنے ان کی گردنیں جھک جائیں ظَلَّتْ بمعنی مضارع ہے ای تَدُوْمُ پھر وہ ایمان لے آئیں، جبکہ…
Read the full tafseer →ان فی ذلک لایۃ اس میں بلاشبہ (بڑی) نشانی ہے۔ یعنی طرح طرح کا سبزہ پیدا کرنے میں یا ان میں سے ہر ایک کے اندر ایسی عظیم الشان نشانی موجود ہے جو واجب بالذات کامل القدرت تام الحکمۃ وسیع النعمت بسیط الرحمۃ اللہ کی ہستی پر دلالت کر رہی ہے۔
وما کان اکثرہم مؤمنین۔ اور ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے۔ یعنی اللہ کے علم اور
قضائے خداوندی میں (پہلے سے ہی) یہ بات موجود تھی کہ ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ اسی لئے عظیم الشان آیات قدرت نے بھی ان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچایا۔ سیبویہ نے کہا اس جگہ کان زائد ہے یعنی آیات عظیمہ کو دیکھنے کے بعد بھی ان میں سے اکثر مؤمن نہیں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
(8۔ 9) ان کے رنگوں کے اختلاف میں بھی ایک بڑی نشانی اور عبرت ہے اور ان میں اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے، بدر کے دن جتنے مارے گئے سب کے سب کافر تھے اور آپ کا رب سزا دینے میں غالب اور مومنین پر رحم کرنے والا ہے۔
Read the full tafseer →اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً ۭ وَمَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِيْنَ : یعنی آسمان و زمین اور اس میں پائی جانے والی بیشمار نفیس ترین چیزوں میں اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی توحید کی بہت بڑی نشانی ہے، مگر ان کے اکثر شروع ہی سے ایمان لانے والے نہ تھے۔ دوسری جگہ فرمایا : (وَفِي الْاَرْضِ اٰيٰتٌ لِّلْمُوْقِنِيْنَ وَفِيْٓ اَنْفُسِكُمْ ۭ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ) [ الذاریات : 20، 21 ] ”اور زمین میں یقین کرنے والوں کے لیے کئی نشانیاں ہیں اور تمہارے نفسوں میں بھی، تو کیا تم نہیں دیکھتے ؟“ مزید دیکھیے سورة یوسف (105) ، حٰم السجدہ (9، 10) اور لقمان (10، 11)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
(طسم۔ تلک ایت الکتب۔۔۔۔ )
طسم۔ اعمش، یحییٰ ، ابو بکر، مفصل، حمزہ، کسائی اور خلف نے اس سورت اور اس جیسی سورتوں میں طاء کو امالہ اور اشباع کے ساتھ پڑھا ہے۔ نافع، ابو جعفر، شیبہ اور زہری نے دو لفظوں کے درمیان پڑھا ہے : ابو عبیدہ اور حاتم نے اسے پسند کیا ہے۔ باقی قراء نے فتحہ کے ساتھ اشباع کی صورت میں پڑھا ہے۔ ثعلبی نے کہا : یہ تمام فصیح لغتیں ہیں۔ سورة طہٰ میں نحاس کا قول اس بارے میں گزر چکی ہے، نحاس نے کہا : مدینہ طیبہ کے قاریوں، ابو عمرو، عاصم اور کسائی نے طسم نون کو میم میں ادغام کرتے ہوئے پڑھا ہے۔ فراء نے نون کے اخفاء کے ساتھ کہا اعمش اور حمزہ نے طسین میم، نون کے اظہار کے ساتھ قرأت کی۔ نحاس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–9
1۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ’ ’ لعلک باخع نفسک “ سے مراد ہے شاید کہ تو قتل کرنے والا ہے اپنے آپ کو آیت ” الا یکونو مومنین “ (یعنی وہ ایمان کیوں نہیں لائے) آیت ” ان نشاء ننزل علیہم من السماء اٰیۃ فظلت ا 4 عناقہم لہا خضعین “ یعنی اگر اللہ چاہے تو ان پر ایسی نشانی نازل فرماتا ہے کہ جس کے سامنے وہ اطاعت والے بن جاتے اور ان میں سے کوئی بھی اپنی گردن کو نہ موڑتا اللہ کی نافرمانی کی طرف آیت ”’ وما یاتیہم من ذکر من الرحمن محدث یعنی ان کے پاس کوئی چیز اللہ کی کتاب میں سے نہیں آئی مگر وہ اس سے اعراض کرتے ہیں آیت ” فسیاتیہم “ یعنی قیامت…
Read the full tafseer →اِنَّ [ بیشک ] فِيْ ذٰلِكَ [ اس میں ] لَاٰيَةً ۭ [ یقینا ایک نشانی ہے ] وَمَا كَانَ [ اور نہیں ہیں ] اَكْثَرُهُمْ [ ان کے اکثر ] مُّؤْمِنِيْنَ [ ایمان لانے والے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی شان ربوبیت کا تذکرہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے زمین سے ہر قسم کی عمدہ عمدہ چیزیں نکالی اور اگائی ہیں جنہیں بنی آدم اور حیوانات کھاتے ہیں اور استعمال کرتے ہیں آخر میں فرمایا (اِِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لاآیَۃً ) کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی توحید پر اور کمال پر بڑی نشانی ہے اور اکثر لوگ مانتے نہیں ہیں اور انکار پر تلے ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
ذکر حقانیت کتاب مبین و تہدید معاندین و مستہزئین
قال اللہ تعالیٰ طسم تلک ایت الکتب المبین .... الیٰ .... وان ربک لھو العزیز الرحیم۔
(ربط) گزشتہ سورت کا آغاز حقانیت قرآن سے ہوا اور اختتام مکذبین کی وعید پر ہوا اسی طرح اس سورت کا آغاز حقانیت قرآن اور مکذبین کی وعید اور تہدید سے فرماتے ہیں طسم واللہ اعلم بمرادہ۔ یہ آیتیں ہیں روشن کتاب کی جس کا اعجزا اور سرچشمہ ہدایت ہونا روز روشن کی طرح واضح ہے۔
اے نبی اگر یہ بدنصیب ایمان نہیں لاتے تو آپ ﷺ ان کے غم میں کیوں گھٹے جاتے ہیں بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شاید آپ اپنی جان کو اس گھٹن میں ہلاک کردیں کہ یہ لوگ ایمان لانے والے کیوں نہیں بنتے جو شخص اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
6:۔ تیرا پروردگار بڑا زبردست ہے وہ جب چاہے منکرین کو پکڑ لے، لیکن وہ رحیم و مہربان ہے اس لیے مجرموں کو مہلت دیتا ہے تاکہ انہیں سوچنے سمجھنے کا مزید موقع مل جائے اور وہ راہ راست پر آجائیں۔ یا مطلب یہ ہے کہ وہ کافروں سے انتقام لینے میں زبردست اور توبہ کرنے والوں کے لیے مہربان ہے۔ (مظہری) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
ربط آیات
اس سورة کا نام سورة الشعراء ہے اس کے آخری حصے میں اللہ تعالیٰ نے شعر و شاعری اور شاعروں کے متعلق ارشاد فرمایا ہے ۔ اسی مناسبت سے سورة کا یہ نام لکھا گیا ہے۔ البتہ امام مالک (رح) کے قول کے مطابق اس سورة کا ایک نام سورة الجاثیۃ بھی ہے کیونکہ یہ نصیحت کی جہت سی باتوں کو جمع کرنے والی سورة ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی بعض کے مطابق اس سورة کا نزول سورة واقعہ کے بعد ہوا یعنی ہجرت سے دو یا تین سال قبل ۔ اس کی چھوٹی چھوٹی 722 آیات اور گیارہ رکوع ہیں ۔ یہ سورة 7221 الفاظ اور 2455 حروف پر مشتمل ہے۔
مضامین سورة
اس سورة میں مختلف مضامین بیان ہوئے ہیں ۔ ابتداء میں قرآن کریم کی حقانیت و…
Read the full tafseer →اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَۃً 0ۭ وَمَا كَانَ اَكْثَرُہُمْ مُّؤْمِنِيْنَ 8
الآية
والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع .
الایۃ ۔
اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–10
واذا نادی ربک موسیٰ الخ اب یہاں سے انبیاء (علیہم السلام) کے تذکرہ عبرت انگیز شروع ہوتے ہیں (1) یہ قصہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ہے جس میں ان کا فرعون کے پاس جانا اور خدا کا پیغام پہنچانا اور طرح طرح کے معجزات دکھانا اور اس کا نہ ماننا اور انجام کار دریائِ قلزم میں مع لشکر غرق ہونا مذکور ہے۔
ولانیطق لسانی فرعون کے گھر جب موسیٰ ( علیہ السلام) تھے اور ان کے فرزندوں کی طرح پرورش پاتے تھے ایک بار فرعون کی ڈاڑھی پکڑ لی۔ جس پر خفا ہو کر اس نے قتل کا حکم دیا اس کی بیوی نے سفارش کی کہ نادان بچہ ہے اس کے نزدیک آگ اور جواہرات برابر ہیں دونوں لا کر سامنے رکھے گئے تو آگ مونہہ میں ڈال لی تھی جب سے لکنت…
Read the full tafseer →اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَـۃً ط وَمَا کَانَ اَکْثَرُھُمْ مُّوْمِنِیْنَ ۔ (الشعرآء : 8)
(اس میں بیشک بہت بڑی نشانی ہے لیکن ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ )
ہر طرف نشانیاں ہیں مگر اندھے پن کا کیا علاج ؟
یہ لوگ بار بار نشانی کا مطالبہ کرتے ہیں تو ہم نے زمین کی جس نشانی کا ذکر کیا ہے جس میں بیشمار انواع و اقسام کی چیزیں جس فراوانی سے اگ رہی ہیں اور جن مادوں اور قوتوں سے کام لیا جارہا ہے اور جو قوانین یہاں کارفرما ہیں اور پھر زمین سے پیدا ہونے والی ہر نبات کے جو خواص اور صفات رکھی گئی ہیں اور پھر جس طرح سے زمین سے اگنے والی ہر چیز مخلوقات کی طبیعتوں کے ساتھ ہم آہنگ پیدا کی گئی ہیں حتیٰ کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–10
فہم القرآن
ربط کلام : چھٹی آیت میں بتایا گیا ہے کہ عنقریب ان کے پاس وہ خبریں یعنی واقعات بیان کیے جائیں گے، کہ جن قوموں نے توحید کے دلائل اور اپنے رسول کو جھٹلایا ان کا انجام کیا ہوا۔ لہٰذا سنیں ان میں سر فہرست فرعون اور اس کے ساتھی تھے جنہیں موسیٰ نے ان الفاظ میں سمجھایا اور ڈرایا تھا۔
اے پیغمبر ﷺ ! وہ وقت یاد کرو جب موسیٰ (علیہ السلام) کو آپ کے رب نے یہ حکم دیا کہ ظالم قوم کے پاس جاؤ۔ جو فرعون کی قوم ہے انھیں سمجھاؤ کہ وہ اپنے رب سے ڈر جائیں۔ اس موقعہ پر موسیٰ نے یہ عذر پیش کیا الٰہی مجھ سے ان کا بندہ قتل ہوگیا اس لیے مجھے ڈر لگتا ہے کہ وہ مجھے قتل کردیں گے واقعہ یوں ہے کہ حضرت موسیٰ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
8، 9: اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً وَمَاکَانَ اَکْثَرُھُمْ مُّؤْمِنِیْنَ (بلاشبہ اس میں نشانی ہے اور ان میں اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے) یعنی ان اوصاف کے ثابت کرنے میں قدرت الہی کی نشانی ہے کہ ان کا اگانے والا مردوں کو زندہ کرنے کی قدرت رکھتا ہے اور اللہ تعالیٰ جانتے ہیں کہ ان میں سے اکثریت کے دلوں پر مہریں لگ چکی ہیں۔ ان سے ایمان کی کوئی امید نہیں ہے۔۔ وَاِنَّ رَبَّکَ لَھُوَ الْعَزِیْزُ (اور حقیقت یہ ہے کہ آپ کا رب غالب ہے۔ ) کفار سے اپنے انتقام میں الرَّحِیْمُ (مہربان ہے) ان کے لئے جو ان میں سے ایمان لائیں۔ ایۃؔ کا لفظ واحدلایا گیا حالانکہ ان کی کثرت کی خبر دی۔ کیونکہ ذلک سے انبتناؔ مصدر…
Read the full tafseer →8۔ ان فی ذالک، جو ہم نے تمہیں یاد دلایا ، الایہ، یہ نشانی ہے اس کے وجود پر اور اس کی توحید پر اور اس کے کمال قدرت پر دلالت کرتا ہے ، وماکان اکثرھم مومنین، تصدیق کرنے والے۔ ان پر ہمارا علم سبقت کرچکا۔ اکثر لوگ اس پر ایمان نہیں لاتے ، سیبویہ کا قول ہے کہ اس جگہ کان زائد ہے یعنی آیات عظیمہ کو دیکھنے کے بعد بھی ان میں سے اکثر مومن نہیں ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–22
(6 تا 22) یہ مسخراپن کا نتیجہ بدر کی لڑائی میں معلوم ہوا جس کا ذکر انس بن مالک ؓ کی صحیح روایتوں سے ایک جگہ گزر چکا ہے آگے فرمایا کہ کیا نہیں دیکھا انہوں نے غور سے زمین کی طرف کہ کس طرح اگائے ہم نے اس میں طرح طرح کے جوڑے میووں کے اور ہر قسم کی کھیتی یہ منکرین حشر کو قائل کیا ہے مطلب یہ ہے کہ جس طرح سوکھی زمین سوکھا اناج کا دانہ اور سوکھی ہر ایک پھل کی گٹھلی سب مردہ کے مانند ہوتے ہیں خدا کی قدرت سے مینہ برستا ہے جس سے زمین زندہ چیزوں کی طرح تروتازہ ہوجاتی ہے اور ہر اناج کے دانہ اور میوہ کی گٹھلیوں میں وہ جان پڑجاتی ہے کہ ایک دانہ سے ہزاروں دانے اور ایک گٹھلی سے ہزاروں پھل پیدا ہوجاتے ہیں اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
تفسیر سورة الشعراء
آیت 1 سے 9
اللہ تعالیٰ ایسا اشارہ فرماتا ہے جو کھول کھول کر بیان کرنے والی اس کی کتاب کی تعظیم پر دلالت کرتا ہے کہ یہ کتاب عظیم تمام مطالب الٰہیہ اور مقاصد شرعیہ پر دلالت کرتی ہے۔ غور و فکر کرنے والے کے لئے، اس کی خبر اور حکم میں کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہتا کیونکہ یہ نہایت واضح کتاب ہے، بلند ترین معانی ہر دلالت کرتی ہے، اس کے احکام مربوط اور اس کی تعلیق مناسب ہے۔ رسول اللہ ﷺ اس کتاب عظیم کے ذریعے سے لوگوں کو ان کی بد اعمالیوں کے انجام سے ڈراتے تھے اور اس کے ذریعے سے راہ راست کی طرف راہنمائی کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے متقی بندے اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور صرف وہی لوگ اسے…
Read the full tafseer →7 اکثریت ہمیشہ بےایمانوں ہی کی رہی : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ نشانیوں اور دلائل کی کوئی کمی نہیں۔ زمین کا چپہ چپہ ان سے مملو و معمور ہے۔ مگر جو ماننا چاہتے ہی نہ ہوں ان کا کیا علاج ہوسکتا ہے۔ سو آیات اور نشانیاں تو ہر طرف پھیلی بکھری ہیں لیکن ان میں سے اکثر لوگ ماننے والے ہی نہیں حق اور صداقت کو۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ اکثریت بےایمانوں ہی کی ہوتی ہے۔ لہذا عوام کی اکثریت کو حقانیت کی دلیل قرار دینا جس طرح کہ آج مغربی جمہوریت کے پجاریوں اور آج کے اہل بدعت وغیرہ باطل پرستوں کا کہنا اور ماننا ہے وہ سراسر مردود ہے۔ پس حق و باطل کا مدار عوام کالانعام کی کثرت و قلت پر نہیں بلکہ دلائل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
دعوت توحید کی صداقت کی نشانیاں
تشریح : اس کی تشریح ہم روس کے مشہور ادیب و فلسفی ٹالسٹائی کی زبانی کرتے ہیں جو مذہب سے پھرجانے کے بعد دوبارہ ایمان لایا تو اس کی مدد قدرت کے ان نظاروں نے ہی کی جو ہمارے چاروں طرف بیشمار پھیلے ہوئے ہیں۔ اپنی کتاب ” اے کنفیشن “ "A. Confession" میں ایک جگہ وہ لکھتا ہے۔” نوع انسانی کسی نہ کسی ایمان کے سہارے جی رہی ہے اور اسی سے منزل کا تعین ہوتا ہے انسانی نفس کی گہرائیوں میں ایک لامحدود فیاض اور بےمثال اللہ کا تصور موجود ہے ‘ جس سے رابطہ ہونے کے بعد دل کو سکون ملتا ہے۔ اللہ سے منحرف ہونے کے بعد میں ایک شام ایک حسین جنگل میں پھر رہا تھا۔ ہر طرف سے پر اسرار آوازیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
بسم اللہ الرحمن الرحیم
تفسیر اسرار التنزیل جلد 05
سورۃ شعراء
اسرار و معارف
سورۃ شعراء بھی مکی سورتوں میں شمار کی گئی ہے اور گزشتہ مضمون یعنی کفار کے انکار پر بات کو آگے بڑھاتے ہوئے اس کیفیت کو بیان کرتی ہے جو رحمت للعالمین ﷺ پر وارد ہوتی تھی رسول اللہ ﷺ بھی تو یہ بات خوب جانتے تھے کہ ان کا نہ ماننا ان کی ان برائیوں کا نتیجہ ہے جس سے ان کی فطری صلاحیت تباہ ہوگئی اور آپ کا یہ ایمان بھی تھا کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے اگر وہ منوانا چاہے تو کوئی انکار نہیں کرسکتا نیز آپ ﷺ کو یہ علم بھی تھا کہ آپ کا کام اللہ کا پیغام پہنچانا ہے منوانا نہیں مگر اس کے باوجود جب کفار انکار کی راہ اختیار کرتے تو آپ ﷺ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
11 ۔ یعنی وہ زبردست قوت والا ہے۔ وہ انہیں جو چاہے اور جب چاہے سزا دے سکتا ہے۔ مگر وہ رحم والا بھی ہے۔ لہٰذا انہیں سنبھلنے کے لئے موقع پر موقع دیئے جا رہا ہے اور ان کی سرکشی پر گرفت نہیں کر رہا۔ اس کے بعد عبرت کے لئے چند واقعات بیان فرمائے جن سے مقصود یہ ہے کہ آیات الٰہی کی تکذیب و استہزا کا انجام ہلاکت ہے۔ گویا ان واقعات سے آیت سابقہ ” فسوف یاتیھم انبا ما کانو بہ یستھزٔون “ کی تقریر و تائید مقصود ہے۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(26:8) ذلک۔ کا اشارہ اگانے کے فعل کی طرف ہے یا اگائی ہوئی عمدہ بوٹیوں کی طرف ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–9
لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 9 :
الکتاب المبین (کھلی اور واضح کتاب) باخع (گھلا ڈالنے والا) ظلت ( ہوگئی (ہوجائیں) ‘ اعناق (عنق) (گردنیں) ‘ خضعین (جھکنے والے) ‘ محدث (نئی بات۔ نئی نصیحت) ‘ انبئوا (خبریں) ‘ انبتنا (ہم نے اگایا) ‘ زوج کریم (عمدہ پاکیزہ جوڑے) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 1 تا 9 :
سورۃ الشعراء کی ابتداء حروف مقطعات سے کی گئی ہے۔ اس سے پہلے وضاحت کردی گئی ہے کہ قرآن کریم کی انتیس (29) سورتوں کی ابتداء میں ان حروف کو لایا گیا ہے۔ ان حروف کے کیا معنی ہیں ؟ علماء کرام نے فرمایا ہے کہ ان حروف کے معنی کا علم اللہ رب العزت کو ہے۔ ممکن ہے اللہ تعالیٰ نے ان حروف کے معنی نبی کریم ﷺ کو بتا دیئے ہوں مگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
(ف 3) ان آیتوں میں فرمایا کہ مشرکوں نے قرآن کی آیتوں کو جھٹلانے کے طور پر مسخراپن سے یہ کہا تھا کہ اگر یہ دین اور قرآن حق ہے تو ہم لوگوں پر آسمان سے پتھروں کامینہ برسے۔ آخر اس شرارت کے سبب سے بدر کی لڑائی میں زیادہ ذلیل ہوناپڑا۔ اس بات کی حقیقت معلوم ہوگئی جس کو وہ ٹھٹھوں میں اڑایا کرتے تھے پھر فرمایا کیا منکروں نے زمین کی نشانی کو نہیں دیکھا ہے کہ اس پروردگار کی قدرت جس نے زمین میں قسم قسم کی چیزیں عمدہ سے عمدہ اگائی ہیں یہ منکرین اگر خدا کی نشانیاں دیکھنا چاہیں تو ہر وقت دیکھ سکتے ہیں زمین کی جڑی بوٹیوں کو دیکھیں کہ کس حکمت سے کس کاریگر نے پیدا کی ہیں باوجود ایسی نشانیوں کے دیکھنے کے بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–9
[3] زبردست ہے کہ چاہے تو مجرموں کو فوراً سزا دے دے لیکن ساتھ ہی وہ رحیم بھی ہے کہ باوجود قدرت انتقام کے وہ سوچنے اور سنبھلنے کی مہلت دئیے جاتا ہے اور عمربھر کی نافرمانیوں کو ایک توبہ پر معاف کرنے کے لئے تیار رہتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–9
ف 1: مقصد یہ ہے ۔ کہ مکہ والوں کی گھٹی میں انکار و اتحاد کے جراثیم ہیں ۔ ان کے لئے قرآن حکیم کی کوئی آیت بھی موجب ہدایت و برکت نہیں ۔ جب قرآن نازل ہوتا ہے ۔ ان کا اغراض اور پہلو تہی بڑھتی جاتی ہے ۔ اور یہ مضحکہ اڑاتے ہیں ۔ اور ہنسی دل لگی میں حقائق کو ٹال دیتے ہیں ۔
ارشاد ہے کہ عنقریب ان کو معلوم ہوجائے گا ۔ کہ اللہ کے کلام سے استہزاء کرنے کی سزا کس درجہ کڑی اور سخت ہے ۔
اولم یروا الی الارض ۔ سے مقصود یہ ہے کہ یہ لوگ بہت کوتاہ نظر ہیں ۔ اگر یہ زمین کی گونا گوں انگڑرایوں پر غور کرتے اور نباتات کے انواع و اقسام اور نفاست کو دیکھتے ۔ تو انہیں معلوم ہوجاتا ۔ کہ فطرت ہمہ افادہ ہے ۔ اور اس کی پیدا…
Read the full tafseer →(8) بیشک اس نباتات اور زمین کی روئیدگی میں قدرت خداوندی کی بڑی نشانی ہے اور باوجود اس کے ان میں کے اکثر ایمان لانے والے نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
ف 3۔ معلوم ہوا کہ ان کے عناد نے ان کی فطرت کو بالکل مختل کردیا، پھر ایسوں کے پیچھے کیوں جان کھوئی جائے۔
Read the full tafseer →ان کو ایمان لانا ہے تو ان کے پاس یہی نشانی کافی ہے :
8۔ یقینا اس میں قدرت الہی کی نشانی ہے کہ وہ قادر مطلق ہے جو زمین سے مختلف انواع و اقسام کے پھل پھول غلہ جات اور سبزیاں پیدا کرسکتا ہے اس طرح مرنے کے بعد دوبارہ زندگی بھی بخش سکتا ہے ایسے واضح ‘ معقول دل نشیں دلائل کی موجودگی میں بھی جو لوگ ماننے والے نہیں وہ کسی بڑی سے بڑی نشانی کو بھی دیکھ کر ایمان نہیں لائیں گے بلکہ کوئی نئی حجت اور نئی شرارت پیش کردیں گے بھلا نہ ماننے والوں کے لئے بھی کوئی نشانی ‘ نشانی ہوتی ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–11
زَوْجٍ كَرِيمٍ (noble pair - 26:7). The word زَوْجٍ (zawj) literally means a pair. That is why man and woman, and male and female are called Zawj. Many species of trees have male and female among them. On this basis they can also be called Zawj (زَوْجٍ ). Sometimes the word Zawj is also used for a special kind. On the basis of this meaning all species of trees can be called Zawj. The meaning of Karim is a nice and favourite thing.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–8
5 That is, the seeker after truth does not have to look far for a Sign. If only he sees with open eyes the phenomena of vegetation around him, he will be able to judge for himself whether the reality about the system of the world (i.e., Tauhid) which was being presented by the Prophets is true, or the speculations of the polytheists and atheists. From the variety and abundance of creation found on the earth, the various elements and factors supporting it, the laws of nature causing it to grow and flourish, and the accord and harmony existing between its characteristics and the countless needs…
Read the full tafseer →