Explained with ayahs 83–89
حکم سے کیا مراد ہے ؟
حکم سے مراد علم عقل الوہیت کتاب اور نبوت ہے۔ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ مجھے یہ چیزیں عطا فرما کر دنیا اور آخرت میں نیک لوگوں میں شامل رکھ۔ چناچہ صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ نے بھی آخری وقت میں دعا مانگی تھی کہ اے اللہ اعلیٰ رفیقوں میں ملادے تین بار یہی دعا کی۔ ایک حدیث میں حضور ﷺ کی یہ دعا بھی مروی ہے۔ (اللہم احینا مسلمین وامتنا مسلمین والحقنا بالصالحین غیر خزایا ولامبدلین)۔ یعنی اے اللہ ! ہمیں اسلام پر زندہ رکھ اور مسلمانی کی حالت میں ہی موت دے اور نیکوں میں ملادے۔ در آنحالیکہ نہ رسوائی ہو نہ تبدیلی۔ پھر اور دعا کرتے ہیں کہ میرے بعد بھی میرا ذکر خیر لوگوں میں…
Read the full tafseer →سورة الشُّعَرَآء 64
یعنی قیامت کے روز یہ رسوائی مجھے نہ دکھا کہ میدان حشر میں تمام اوّلین و آخرین کے سامنے ابراہیم ؑ کا باپ سزا پا رہا ہو اور ابراہیم ؑ کھڑا دیکھ رہا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–87
مشرکین کے لئے دعائے مغفرت جائز نہیں
وَاغْفِرْ لِاَبِيْٓ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّاۗلِّيْنَ ، قرآن مجید کے اس فرمان کے بعد مَا كَان للنَّبِيِّ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ يَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِيْنَ وَلَوْ كَانُوْٓا اُولِيْ قُرْبٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَھُمْ اَنَّھُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ) اب کسی ایسے شخص کے لئے جس کا کفر پر مرنا یقینی ہو استغفار اور دعائے مغفرت طلب کرنا ناجائز اور حرام ہے کیونکہ آیت مبارکہ کا ترجمہ یہ ہے کہ کسی نبی اور ایمانداروں کے لئے یہ قطعاً جائز نہیں کہ وہ مشرکوں کے لئے مغفرت طلب کریں خواہ وہ اس کے رشتہ دار اور قریبی ہی کیوں نہ ہوں جبکہ ان کا جہنمی ہونا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–87
آیت 87-86
آخر میں حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے لئے جنت کی اور اپنے باپ کے لئے مغفرت کی دعا فرمانی۔
ولا تخزنی الآیۃ باپ کے حق میں ایک نہایت مئوثر سفارش ہے۔ آدمی کے اعزہ و اقربا بالخصوص ماں باپ لی رسوائی خود اس کی رسوائی کے ہم معنی ہوتی ہے اس وجہ سے حضرت ابراہیم ؑ نے فرمایا کہ میرے باپ کی بھی مغفرت فرما کر اس کا جہنم میں پڑتا آخرت میں میرے لئے رسوائی کا سبب نہ بنے۔ حضرت ابراہیم ؑ نے اس دعا سے اپنے باپ کا حق انتہائی دلسوزی کے ساتھ ادا کردیا لیکن اللہ تعالیٰ کا قانون عدل بالکل بےلاگ ہے۔ باپ کے حق میں ان کی دعا قبول نہیں ہوئی بلکہ بعد میں آپ کو اس کے لئے کرنے سے بالکل روک دیا گیا۔
Read the full tafseer →87-1یعنی تمام مخلوق کے سامنے میرا مؤاخذہ کرکے یا عذاب سے دوچار کرکے حدیث میں آتا ہے کہ قیامت والے دن، جب حضرت ابراہیم ؑ اپنے والد کو برے حال میں دیکھیں گے، تو ایک مرتبہ پھر اللہ کی بارگاہ میں ان کے لئے مغفرت کی درخواست کریں گے اور فرمائیں گے یا اللہ ! اس سے زیادہ میرے لئے رسوائی اور کیا ہوگی ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے جنت کافروں پر حرام کردی ہے۔ پھر ان کے باپ کو نجاست میں لتھڑے ہوئے بجو کی شکل میں جہنم میں ڈال دیا جائے گا (صحیح بخاری)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–93
18: سورة مریم (19: 47) میں گزرچکا ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے باپ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اس کی مغفرت کی دعا کریں گے، لیکن جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ممانعت آگئی اور معلوم ہوگیا کہ وہ کبھی ایمان نہیں لائے گا تو انہوں نے بھی اس سے براءت کا اظہار فرمادیا، جیسا کہ سورة توبہ (9: 114) میں گزرچکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–89
رب ھب ……سلیم (89)
حضرت ابراہیم (علیہ الصلوۃ والسلام) کی اس دعا پر ذرا غور فرمائیں کہ اس میں اس دنیا کے اغراض میں سے کو یء غرض نہیں ہے۔ یہاں تک کہ یہ بھی نہیں کہا کہ اے اللہ ، مجھے صحت عطا کیجیے۔ یہ پوری دعا بلند مقاصد اور اعلیٰ اور پاکیزہ شعور کی تحریک ہے۔ یہ اس خدا رسیدہ دل کی دعا ہے جس کے پیش نظر اللہ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اس کے ہاں اللہ کے سوا ہر چیز کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور معرفت کے جس مقام تک یہ دل پہنچا ہے اس کے آگے مزید کا طلبگار ہے اور ایک ایسے قلب سے نکلی ہوئی دعا بیم و رجا کی حالت میں ہے کیونکہ اس نے اللہ کے کرم دیکھے ہوئے ہیں اور مزید کا امیدوار ہے۔
رب ھب لی حکما (26 :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–89
8 یعنی بھلا چنگا بےروگ دل جو کفر و نفاق اور فاسد عقیدوں سے پاک ہوگا وہ ہی وہاں کام دے گا۔ نرے مال و اولاد کچھ کام نہ آئیں گے۔ اگر کافر چاہے کہ قیامت میں مال و اولاد فدیہ دے کر جان چھڑا لے، تو ممکن نہیں۔ یہاں کے صدقات و خیرات اور نیک اولاد سے بھی کچھ نفع کی توقع اسی وقت ہے جب اپنا دل کفر کی پلیدی سے پاک ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–88
آیت 88 یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوْنَ ”
جس دن اللہ کی پکڑ سے نہ دولت بچا سکے گی اور نہ اولاد۔
Read the full tafseer →63 یعنی قیامت کے دن مجھے تمام اولین و آخرین کے سامنے یوں رسوا نہ کرنا کہ باپ سزا پا رہا ہو اور ابراہیم کھڑا دیکھ رہا ہو۔ چناچہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ ~ نے فرمایا : کہ حضرت ابراہم قیامت کے دن اپنے والد کو اس حال میں دیکھیں گے کہ منہ پر سیاہی اور گردو غبار چڑھ رہا ہوگا۔ آپ والد سے کہیں گے۔ میں نے تمہیں کہا نہ تھا میری نافرمانی نہ کرو۔ باپ کہے گا : آج میں تمہاری نافرمانی نہیں کروں۔ پھر حضرت ابراہیم اپنے پروردگار سے کہیں گے کہ آپ نے مجھ سے وعدہ فرمایا تھا کہ قیامت کے دن تجھے ذلیل نہیں کروں گا اس سے بڑھ کر میری کیا ذلت ہوگی کہ میرا باپ ذلیل ہو رہا ہے اور تیری رحمت سے محروم ہے۔ اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–89
64۔ (تو اسے البتہ کوئی کھٹکانہ ہوگا) (آیت) ” بقلب سلیم “۔ یعنی ایسا دل جو کفر وشرک کی آلائش سے پاک ہو، یعنی من الشرک (ابن کثیر) اے خالص من الشرک والشک (معالم) اے القلب السلیم عن مرض الکفر والنفاق ھو الماثور عن ابن عباس و مجاھد وقتادۃ وابن سیرین وغیرھم (روح) یہ مراد نہیں کہ قلب گناہوں سے خالی ہو، کہ ایسا قلب کون سا ہوسکتا ہے، فاما الذنوب فلیس یسلم منھا احد ھذا قول اکثر المفسرین (معالم) قالہ قتادۃ وابن زید و اکثر المفسرین (قرطبی) ایک قول یہ بھی نقل ہوا ہے کہ وہ ایسا قلب ہو جو بدعت سے خالی اور سنت پر مطمئن ہو۔ قال ابو اسحاق النیشا بوری ھو القلب الخالی من البدعۃ والمطمئن علی السنۃ (معالم) (آیت) ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
آیت نمبر 69 تا 104
ترجمہ : وَاتْلُ عَلَیھِمْ اور کفار کو ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ (بھی) سنائے اِذْ قَالَ لِاَبِیْہٖ ، نَبَا اِبراہیم سے بدل الاشتمال ہے جبکہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد صاحب اور اپنی قوم سے کہا تم کس چیز کی بندگی کرتے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا بتوں کی بندگی کرتے ہیں فعل کی صراحت کی، تاکہ اس پر فَنَطَلُّ لَھَا عَاکِفِیْنَ کا عطف کرسکیں ہم تو دن بھر ان کی عبادت میں مشغول رہتے ہیں یعنی ہم پابندی سے دن بھر ان کی عبادت کرتے ہیں، اور انہوں نے جواب میں (فَنَظَلُّ ) کا اضافہ (بتوں کی) عبادت پر فخر کے طور پر کیا تو ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کیا یہ تمہاری سنتے بھی ہیں جب…
Read the full tafseer →ولا تخزنی یوم یبعثون۔ اور جس روز لوگ (قبروں سے) اٹھائے جائیں گے اس روز مجھے رسوا کرنا
یا ذلیل نہ کرنا۔ اوّل ترجمہ پر لاَ تُخْزِنِیْکا مصدر خزایتہ ہوگا اور دوسرے ترجمہ پر خزی۔
شیخین نے صحیحین میں خود حضرت ابن عمر ؓ : کا بیان نقل کیا ہے۔ آپ نے فرمایا مجھ سے دریافت کیا گیا کہ (قیامت کے دن اللہ جو بعض بندوں سے کچھ چپکے چپکے فرمائے گا جس کی دوسروں کو اطلاع نہ ہوگی اس) سرگوشی کے متعلق آپ نے رسول اللہ ﷺ سے کیا سنا ہے۔ میں نے کہا رسول اللہ ﷺ : فرماتے تھے کہ تم میں سے بعض لوگ اپنے رب کے قریب ہوجائیں گے۔ یہاں تک کہ وہ ان پر اپنا پردہ ڈال دے گا اور فرمائے گا کیا تو نے ایسا ایسا کیا تھا۔ بندہ عرض کرے گا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–89
(87 تا 89) اور جس روز سب قبروں سے زندہ ہو کر اٹھیں گے اس روز مجھے رسوا نہ کرنا جس دن کہ نہ کثرت مال کام آئے گا اور نہ اولاد کی زیادتی مگر ہاں جو اللہ کے پاس گناہوں سے یا یہ کہ دنیا کی محبت سے یا یہ کہ اصحاب نبی اکرم ﷺ کی دشمنی سے پاک وصاف دل لے کر آئے گا۔
Read the full tafseer →وَلَا تُخْزِنِيْ يَوْمَ يُبْعَثُوْنَ : یعنی قیامت کے دن تمام مخلوق کے سامنے میرا مؤاخذہ کرکے، یا میرے والد کو عذاب دے کر مجھے رسوا نہ کر کہ لوگ اسے جہنم میں جلتا ہوا دیکھ کر کہیں یہ ابراہیم کا باپ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم ؑ کی یہ دعا بھی قبول فرمائی، چناچہ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (یَلْقٰی إِبْرَاھِیْمُ أَبَاہُ آزَرَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَ عَلٰی وَجْہِ آزَرَ قَتَرَۃٌ وَغَبَرَۃٌ فَیَقُوْلُ لَہُ إِبْرَاھِیْمُ أَلَمْ أَقُلْ لَّکَ لَا تَعْصِنِيْ ؟ فَیَقُوْلُ أَبُوْہُ فَالْیَوْمَ لَا أَعْصِیْکَ ، فَیَقُوْلُ إِبْرَاھِیْمُ یَا رَبِّ ! إِنَّکَ وَعَدْتَنِيْ أَنْ لَّا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–89
(رب ھب لی۔۔۔۔ )
رب ھب لی حکما والحقنی بالصلحین حکم سے مراد تیری، تیری حدود اور تیرے احکام کی معرفت ہے۔ یہ حضرت ابنی عباس ؓ نے کہا۔ مقاتل نے کہا : مراد فہم اور علم ہے : یہ بھی تعبیر کی طرف راجع ہے۔ کلبی نے کہا : مراد نبوت اور مخلوق کی طرف رسالت ہے۔ والحقنی بالصلحین مجھ سے قبل سے جو انبیاء ہو گزرے ہیں درجہ میں ان کے ساتھ لاحق کر دے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : بالصلحین سے مراد اہل جنت ہیں یہ ھب لی حکما ً کی تاکید ہے۔
واجعل لی لسان صدق فل اخرین حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مراد تمام امتوں کا اس پر مجتمع ہونا ہے۔ مجاہد نے کہا : اس سے مراد اچھی تعریف ہے۔ ابن عطیہ نے کہا : مفسرین کا اس پر اجماع ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–88
1۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” واغفرلابی “ سے مراد ہے کہ اس پر احسان کیجیے تاکہ وہ اس کے ذریعہ آپ کی مغفرت کا مستحق ہوجائے۔
2۔ عبد بن حمیدوابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ” ولا تخزنی یوم یبعثون “ کے بارے میں روایت کیا کہ ہم کو ذکر کیا گیا کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ایک آدمی ایمان والوں میں سے قیامت کے دن اپنے مشرک باپ کا ہاتھ پکڑے ہوئے آئے گا یہاں تک کہ آگ اس کے ٹکڑے کرچکی ہوگی اور وہ امید رکھے گا کہ اس کو جنت میں داخل کردیا جائے گا تو ایک آواز دینے والا آواز دے گا کہ جنت میں مشرک داخل نہیں ہوگا وہ کہے گا اے میرے رب میرا باپ اور آپ نے وعدہ کیا تھا کہ تجھ کو…
Read the full tafseer →وَلَا تُخْزِنِيْ [ اور تو رسوانہ کرنا مجھ کو ] يَوْمَ [ جس دن ] يُبْعَثُوْنَ [ لوگ اٹھائے جائیں گے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–87
(وَلاَ تُخْزِنِیْ یَوْمَ یُبْعَثُوْنَ یَوْمَ لاَ یَنْفَعُ مَالٌ وَّلاَ بَنُوْنَ اِِلَّا مَنْ اَتَی اللّٰہَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ ) (اور مجھے اس دن رسوا نہ کیجیے جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے جس دن نہ کوئی مال نفع دے گا اور نہ بیٹے سوائے اس شخص کے جو قلب سلیم کے ساتھ اللہ کے پاس آئے) اس سے معلوم ہوا کہ جنت النعیم حاصل ہونے کی دعا کے ساتھ ساتھ یہ دعا بھی کرنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ شانہٗ قیامت کے دن رسوا نہ فرمائیے جنت میں تو کوئی رسوائی نہیں ہے اس سے پہلے رسوائی ہوسکتی ہے جیسا کہ بہت سے گناہ گاروں کے ساتھ ایسا ہوگا کہ قیامت کے دن رسوائی اور ذلت اور عذاب میں مبتلا ہوں گے حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
قصہ دوم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) باقوم او
قال اللہ تعالیٰ واتل علیہم نبا ابراہیم .... الیٰ .... وان ربک لھو العزیز الرحیم۔
(ربط) گزشتہ آیت میں حضرت موسیٰ کلیم اللہ (علیہ السلام) کے قصہ کا ذکر تھا اب اس کے بعد آپ ﷺ کے جد امجد حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کرتے ہیں کہ ان کو اپنی قوم کے مقابلہ میں کیا ابتلا پیش آیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے باپ کی گواہی کا شدید رنج تھا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم بابل کے اطراف میں آباد تھی مذھبا صابی یعنی ستارہ پرست تھے اور بت پرست بھی تھے کواکب اور نجوم کی تاثیر کے قائل تھے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے دلائل سے حق واضح کردیا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–88
39:۔ یہ ادخال الٰہی ہے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا کلام نہیں۔ یہاں یوم حشر کے شدت ہول کا بیان ہے۔ ” بقلب سلیم “ ایسا دل جو شرک و شک سے محفوظ اور اخلاص سے لبریز ہو۔ ای خالص من الشرک والشک (خازن و معالم ج 5 ص 100) ۔ ” وازلفت الجنۃ الخ “ جنت پرہیز گاروں کے نزدیک کردی جائے گی اور دوزخ کافروں کے لیے ظاہر کردی جائے گی۔ ” وقیل لھم “ اور مشرکین سے کہا جائے گا آج وہ تمہارے معبود کہاں ہیں جن کو تم دنیا میں کارساز اور برکات دہندہ سمجھ کر پکارا کرتے تھے اور انہیں خدا کے یہاں سفارشی سمجھتے تھے ای این الھتکم الذین کنتم تزعمون انھم شفعاء کم فی ھذا الموقف (روح ج 19 ص 301) ۔ کیا آج وہ تمہارے کام آئیں گے یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–89
ربط آیات
گزشتہ آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ تھا کہ انہوں نے اپنے باپ اور قوم کو توحید کا درس دیا ۔ آپ نے یہ انداز اختیار کیا کہ خود ان مشرکین سے ہی پوچھا کہ تم رکن چیزوں کی پوجا کرتے ہو انہوں نے کہا کہ ہم تو ان بتوں پر جھکے پڑتے ہیں ۔ فرمایا ، کیا یہ بت تمہاری بات کو سنتے ہیں یا تمہارے لیے کسی نفع نقصان کے مالک ہیں ۔ کہنے لگے ، ہم یہ باتیں تو نہیں جانتے ، البتہ ہم نے اپنے آبائو اجداد کو ان کی پرستش کرتے دیکھا ہے ، لہٰذا ہم بھی انہی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ان کی پوجا کر رہے ہیں ۔ فرمایا تم تو ان کو اپنا معبود اور کار ساز سمجھتے ہو ۔ مگر یہ سب میرے دشمن ہیں سوائے رب العالمین کے…
Read the full tafseer →وَلَا تُخْزِنِيْ يَوْمَ يُبْعَثُوْنَ 87ۙ
خزن
الخَزْنُ : حفظ الشیء في الخِزَانَة، ثمّ يعبّر به عن کلّ حفظ کحفظ السّرّ ونحوه، وقوله تعالی: وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا عِنْدَنا خَزائِنُهُ [ الحجر/ 21]
( خ زن ) الخزن
کے معنی کسی چیز کو خزانے میں محفوظ کردینے کے ہیں ۔ پھر ہر چیز کی حفاظت کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے جیسے بھیدہ وغیرہ کی حفاظت کرنا اور آیت :۔ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا عِنْدَنا خَزائِنُهُ [ الحجر/ 21] اور ہمارے ہاں ہر چیز کے خزانے ہیں ۔
بعث
أصل البَعْث : إثارة الشیء وتوجيهه، يقال : بَعَثْتُهُ فَانْبَعَثَ ، ويختلف البعث بحسب اختلاف ما علّق به، فَبَعَثْتُ البعیر : أثرته وسيّرته،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–94
1 ؎۔ یعنی معبود اور ان کے پوجنے والے گمراہ لوگ اور ان کو بہکانے والے شیاطین سب کے سب جہنم میں اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–87
وَاجْعَلْنِیْ مِنْ وَّرَثَۃِ جَنَّۃِ النَّعِیْمِ ۔ وَاغْفِرْ لِاَبِیْٓ اِنَّـہٗ کَانَ مِنَ الضَّآلِّـیْنَ ۔ وَلاَ تُخْزِنِیْ یَوْمَ یُبْعَثُوْنَ ۔ (الشعرآء : 85 تا 87)
(اور مجھے نعمتوں والی جنت کے وارثوں میں شامل فرما۔ اور میرے باپ کو معاف فرما دے، بیشک وہ گمراہوں میں سے ہے۔ اور مجھے اس دن رسوا نہ کر جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے۔ )
رب العالمین ! مجھے نعمتوں والی جنت کے وارثوں میں سے بنا۔ تیرا انتہائی کرم ہے کہ تو نے مجھے نبوت سے نوازا اور لوگوں کی رہنمائی کے منصب پر فائز کیا، لیکن تیری دی ہوئی ہدایت سے میں یہ بات جانتا ہوں کہ تیری ذات انتہائی بےنیاز اور بےپرواہ ہے۔ اس لیے تیری بارگاہ کے مقربین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–88
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی دعا کے آخر میں اپنے رب کے حضور یہ عرض کی کہ قیامت کے دن مجھے رسوائی سے محفوظ فرمانا۔ اب قیامت کے بارے میں ذکر شروع ہوتا ہے۔
مفسرین کی ان الفاظ کے بارے میں دو قسم کی سوچ ہے ایک طبقہ کا خیال ہے کہ یہ بھی ابراہیم (علیہ السلام) کے الفاظ ہیں۔ جنھیں اللہ تعالیٰ نے اپنے مقدس الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔ دوسری جماعت کا نقطہ نظر ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کے بعد یہ اللہ تعالیٰ کا خطاب ہے کہ قیامت کے دن مالدار کو اس کے مال کا کچھ فائدہ نہیں ہوگا اور نہ ہی اولاد اپنے باپ کی مدد کرسکے گی۔ وہی انسان ذلّت سے محفوظ رہے گا جو قلب سلیم کے ساتھ اپنے…
Read the full tafseer →87: وَلَا تُخْزِنِیْ (اور مجھے رسوا نہ کرنا) الاخزاء یہ یخزی سے لیا گیا ہے جس کا معنی ذلت ہے نمبر 2۔ الخزایۃ سے ہے اور وہ حیاءؔ کو کہتے ہیں۔ یہ استغفار کی طرح ہے جیسا کہ ہم نے بیان کیا۔ یَوْمَ یُبْعَثُوْنَ (جس دن ان کو اٹھایا جائے گا) یبعثون کی ضمیر عبادؔ کی طرف ہے کیونکہ وہ خود سمجھ آرہے ہیں۔ نمبر 2۔ ضالین کی طرف راجع ہے اور یہ سارا استغفار والد کیلئے قرار دیا جائے مطلب اس طرح ہوگا ولا تخزنی یوم یبعث الضالون وابی فیھم اور تو مجھے رسوا نہ کرنا جس دن گمراہوں کو اٹھایا جائے گا اس حال میں کہ میرا والد ان میں ہوگا۔
Read the full tafseer →87۔ ولاتحزنی ، اور مجھے اس دن رسوا نہ کرنا۔ یوم یبعثون۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–89
86 تا 89:۔ سورة توبہ اور سورة مریم میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس دعا کی تفسیر گزر چکی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جب اپنے باپ آزر کی بت پرستی سے بےزار ہو کر باپ سے جدا ہونے لگے تو باپ کے حق میں دعائے خیر کرنے کا وعدہ انہوں نے باپ سے کیا تھا اس وعدہ کو پورا کرنے کے لیے اس وقت تک باپ کے لیے مغفرت کی دعا مانگا کرتے تھے جب تک باپ کے کفر کی حالت پر مرنے کا یقین ان کو نہیں ہوا تھا جب یہ معلوم ہوگیا کہ باپ کا خاتمہ کفر پر ہوا تو پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے باپ کے لیے دعا مانگنی چھوڑ دی تھی اب یہی حکم شریعت محمدی میں سورة توبہ اور سورة ممتحنہ کے نازل ہونے کے بعد سے قائم ہے کیونکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
آیت 69 سے 104
فرمایا : اے محمد ! ﷺ آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس خاص حالت کی جلیل القدر ! خبر سنا دیجئے اگرچہ ان کی زندگی کے تمام پہلو عظیم واقعات سے پر ہیں۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لئے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا : (اذ قال لابیہ وقومہ ما تعبدون۔ قالو) ” جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انہوں نے کہا “ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے : (نعبد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–88
سچی ناموری کی دعا
قول باری ہے : (فاجعل لی لسان صدق فی الاخرین۔ اور بعد کے آنے والوں میں مجھے سچی ناموری عطا فرما) یعنی عمدہ تعریف۔ چناچہ یہود بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نبوت کا اقرار کرتے ہیں اور اسی طرح نصاریٰ اور دنیا کی اکثر قومیں بھی۔ ایک قول کے مطابق آیت کا مفہوم ہے۔” میری اولاد میں سے ایسے افراد پیدا کر جو حق کے علمبردار بن کر تمام دنیا کو اس کی دعوت دیں۔ “ اس میں واضح اشارہ حضور ﷺ کی ذات اقدس اور آپ پر ایمان لانے والوں کی طرف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–89
51 قلب سلیم سے مراد ؟ اور اس کی عظمت و اہمیت : یعنی جو سلامتی والا ہو کفر و شرک سے، زیغ و ضلال سے، الحادو انحراف سے اور شک و ارتیاب سے۔ اور بدعت و معصیت کی ظلمت سے ۔ والعیاذ باللہ ۔ (ابن کثیر، مدارک، معالم، خازن اور صفوۃ وغیرہ) ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ قیامت کے روز کسی کو نہ اس کا مال و دولت کچھ کام آسکے گا اور نہ ہی اس کی اولاد۔ صرف وہی لوگ اللہ تعالیٰ کے یہاں باریاب ہوسکیں گے جو قلب سلیم کے ساتھ حاضر ہوں گے۔ اس کے بغیر اگر کسی کو اس کی اولاد کچھ نفع پہنچا سکتی تو ابراہیم کا باپ آزر دوزخ میں نہ جاتا۔ اور جب ابراہیم جیسا بےمثال بیٹا بھی اپنے باپ کے کچھ کام نہ آسکا تو پھر اور کون کام آسکتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی قوم
تشریح : سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) بڑے جلیل القدر پیغمبر گزرے ہیں۔ ان کی خاص بات یہ ہے کہ ان کی عزت و احترام اہل قریش یہود و نصاریٰ سب ہی کرتے ہیں مگر ان کی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے آپ کے بارے میں سورة بقرہ ‘ الانعام ‘ مریم ‘ الانبیاء میں بیان ہوچکا اور آئندہ سورة اَلصّٰفّٰتِ اور اَلْمُمْتَحِنَہ میں ہوگا۔
انہوں نے بت پرستی اور شرک کو مسترد کیا اور صرف اللہ کی عبادت کی ترغیب دی۔ صاف ظاہر ہے اللہ خالق اور مالک اور ہدایت دینے والا بھی ہے جبکہ بت اور دوسری چیزیں خود اس کی پیدا کی ہوئی ہیں۔ آپ اتنے بڑے پیغمبر تھے کہ آپ کو اللہ نے خلیل اللہ ‘ یعنی اللہ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
آیات 69 تا 104
اسرارومعارف
اہل مکہ اور اہل عرب مشرکین خود کو دین ابراہیمی کا پیروکار جانتے تھے تو ارشاد ہوا کہ انہیں ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بھی سنا دیجیے کہ وہ کیا تھے ان کی تعلیمات کیا تھیں اور یہ لوگ کیا کر رہے ہیں انہیں وہ واقعہ بتائیے جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد سے سوال کیا تھا اور قوم سے بھی کہ آپ لوگ کس کی عبادت کرتے ہیں انہیں بت پرستی میں گرفتار دیکھ کر جاننا چاہا کہ آخر یہ بتوں میں کیا عقیدہ رکھتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ہم بتوں کی پوجا کرتے ہیں اور اسی میں عمریں تمام کردیتے ہیں تو انہوں نے پوچھا کہ کیا یہ تمہارے حال سے واقف ہیں اور تمہاری پکار کو سنتے ہیں اور تمہاری…
Read the full tafseer →4 ۔ کہ سب کے سامنے مجھ پر کوئی عتاب ہو یا میرے باپ کو عذاب دے اور میں کھڑا دیکھ رہا ہوں۔ صحیح بخاری میں ہے کہ قیامت کے دن حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) اپنے ولد کو پریشان حال دیکھ کر اپنی یہی دعا اللہ تعالیٰ کو یاد دلائیں گے تو حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کو رسوائی سے بچانے کے لئے ان کے باپ کو نجاست آلود بجو کی شکل میں تبدل کر کے دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →(26:87) لاتخزنی۔ فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ ی ضمیر مفعول واحد متکلم۔ تو مجھے رسوا نہ کر۔ ای بتعذیب ابی یوم القیامۃ او یبعثہ فی اعداد الضالین یعنی قیامت کے روز میرے باپ کو عذاب دے کر یا اسے گمراہوں میں اٹھا کر مجھے شرمندہ نہ کرنا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
لغات القرآن : آیت نمبر 69 تا 104 :
اتل (تلاوت کر۔ سنادے) اصنام (صنم) بت ‘ نظل (ہم رہتے ہیں) ‘ عکفین (عاکف) جم کر بیٹھنے والے ‘ یسمعون ( وہ سنتے ہیں) ‘ وجدنا ( ہم نے پایا) ‘ الا قدمون (پہلے) ‘ یطعمنی (وہ مجھے کھلاتا ہے) ‘ یسقین (یسقینی) وہ مجھے پلاتا ہے ‘ یشفین (یشفینی) وہ مجھے شفا (صحت) دیتا ہے ‘ یمیتنی (وہ مجھے موت دے گا) ‘ یحیین (یحیینی) وہ مجھے زندگی دے گا ‘ اطمع (مید امید کرتا ہوں۔ میں توقع رکھتا ہوں) ‘ حکما (علم و حکمت (فیصلہ) ‘ الحقنی (مجھے ملادے) ‘ لسان صدق (ذکر خیر۔ اچھا ذکر۔ سچی زبان) ‘ لاتخزنی (مجھے رسوانہ کیجئے گا) ‘ یبعثون (وہ اٹھائے جائیں گے) ‘ من اتی ( جو آیا۔ (جو لایا) ‘ قلب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–89
قیامت کے دن کے واقعات۔
(ف 1) حضرت ابراہیم جب اپنے باپ آذر کی بت پرستی سے بےزار ہوکر باپ سے جدا ہوئے تو باپ کے حق میں دعائے خیر کرنے کا وعدہ انہوں نے اپنے باپ سے کیا تھا، اور اپنے باپ کے لیے دعا مغفرت کی دعا مانگا کرتے تھے کہ اے رب میرے باپ کو توفیق ایمان کی دے کر ان کی مغفرت فرماکیون کہ وہ گمراہوں میں سے ہے اور مجھے قیامت کے دن رسوانہ کرنا، قیامت کا وہ دن کہ مال اور اولاد اس دن نفع نہ دے گی مگر اس شخص کو جو اپنے اللہ کے پاس شرک اور کفر سے پاک دل لے کرگیا اور جنہوں نے دنیا میں خیرات اور صدقات کیے ہوں گے اور اس کا بدلہ وہاں پائیں گے اور اولاد بھی کام آئے گی اور جوان کی چھوٹی اولاد مرگئی ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–87
[16] یعنی قیامت کے دن۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاء
1: حضرت ابراہیم جب اللہ تعالیٰ کا صحیح تخلیل پیش کرچکے ۔ اور حمدوثنا کے فرائض ادا کرچکے ۔ تو اپنے باپ کے لئے دعا کی ۔ فرمایا : اے مولا ! میرا باپ راہ راست پر گامزن نہیں ہے اس کی لغزشوں سے درگزر فرمائیے ۔ اور اس دن کی رسوائی وذلت سے بچائیے ۔ جس دن نہ مال و دولت کے انبار کام آسکیں گے ۔ اور نہ بیٹے ہی سود مند ثابت ہوں گے ۔
الا من اتی اللہ بقلب سلیم سے مقصود یہ ہے کہ وہاں عالم حشر میں بجز سلامی قلب کے اور کوئی چیز مخلصی اور نجات کا باعث ہیں ہوسکتی ۔ اور سل امتی قلب تعبیر ہے ۔ تذکیر باطن سے اخلاق کی بلندی اور رفعت سے عقائد کی صحت اور پاکیزگی سے ۔
Read the full tafseer →87۔ اور جس دن سب زندہ کرکے اٹھائے جائیں گے اس دن مجھے رسوا نہ کیجئو یہ لوگوں کے سنانے کو فرمایا تاکہ اس دن سے ڈریں اور یہ سمجھیں کہ وہ دن بہت خطرناک ہے اور قیامت کے دن کی ہیبت ان کے دل میں بیٹھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–90
ف 4۔ تاکہ اس کو دیکھیں اور یہ معلوم کر کے کہ ہم اس میں جاویں گے خوش ہوں۔
Read the full tafseer →آپ نے دعا جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ مجھے قیامت کے دن رسوا نہ کیجئے :
87۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد کے حق میں دعا کرنے کی انتہاکردی اور اپنے رب کریم کے حضور اس طرح اپیل اور سفارش کے لئے ہاتھ جوڑے کہ اس سے بہتر اور اس سے بڑی سفارش کسی دوسرے انسان سے ممکن نہیں ہے ، اس دنیوی زندگی میں جس میں ہم رہ رہے ہیں بلاشبہ اس سے بڑی اور کوئی رسوائی نہیں ہوسکتی کہ کسی انسان کے سامنے اس کے والد کو کوئی رسوا کردے ۔ اگر والد پر ایسی کوئی بات آرہی ہو تو انسان کوشش کرکے اس کو اپنے سر لینے کے لئے تیار ہوجاتا ہے اور والد کے حق میں اس کو برداشت نہیں کرسکتا یہاں تک کہ اس کا بس چلے تو وہ زندہ رہنا ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–87
Supplication for the absolution of disbelievers is not allowed
وَاغْفِرْ لِأَبِي إِنَّهُ كَانَ مِنَ الضَّالِّينَ ﴿86﴾
And forgive my father. Indeed he was among those who went astray. (26:86)
This prayer of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) ill seems to be against the following verse:
مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَن يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَىٰ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ
"It is not for the Prophet and the believers to seek forgiveness for the Mushriks, even if they are kinsmen, after it became clear to them…
Read the full tafseer →64 That is, "Do not put me to disgrace on the Day of Judgement by inflicting punishment on my father in front of all mankind, when I myself shall be witnessing his punishment helplessly."
Read the full tafseer →