Explained with ayahs 83–89
حکم سے کیا مراد ہے ؟
حکم سے مراد علم عقل الوہیت کتاب اور نبوت ہے۔ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ مجھے یہ چیزیں عطا فرما کر دنیا اور آخرت میں نیک لوگوں میں شامل رکھ۔ چناچہ صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ نے بھی آخری وقت میں دعا مانگی تھی کہ اے اللہ اعلیٰ رفیقوں میں ملادے تین بار یہی دعا کی۔ ایک حدیث میں حضور ﷺ کی یہ دعا بھی مروی ہے۔ (اللہم احینا مسلمین وامتنا مسلمین والحقنا بالصالحین غیر خزایا ولامبدلین)۔ یعنی اے اللہ ! ہمیں اسلام پر زندہ رکھ اور مسلمانی کی حالت میں ہی موت دے اور نیکوں میں ملادے۔ در آنحالیکہ نہ رسوائی ہو نہ تبدیلی۔ پھر اور دعا کرتے ہیں کہ میرے بعد بھی میرا ذکر خیر لوگوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
سورة الشُّعَرَآء 65
ان دو فقروں کے متعلق یہ بات یقین کے ساتھ نہیں کہی جاسکتی کہ یہ حضرت ابراہیم ؑ کی دعا کا حصہ ہیں یا انہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے قول پر اضافہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے۔ اگر پہلی بات مانی جائے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ حضرت ابراہیم ؑ اپنے باپ کے لیے یہ دعا کرتے وقت خود بھی ان حقائق کا احساس رکھتے تھے۔ اور دوسری بات تسلیم کی جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ان کی دعا پر تبصرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ یہ فرما رہا ہے کہ قیامت کے دن آدمی کے کام اگر کوئی چیز آسکتی ہے تو وہ مال اور اولاد نہیں بلکہ صرف قلب سلیم ہے، ایسا دل جو کفر و شرک و نافرمانی اور فسق و فجور سے پاک ہو۔ مال اور اولاد بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–104
يَوْمَ لَا يَنْفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوْنَ ، اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِيْمٍ ، یعنی قیامت کے اس دن میں جس میں نہ کوئی مال کسی کو فائدہ دے گا نہ اس کی نرینہ اولاد بجز اس شخص کے جو اللہ کے پاس قلب سلیم لے کر پہنچے۔ اس آیت کی تفسیر بعض حضرات نے استثناء کو استثنائے منقطع قرار دے کر یہ کی ہے کہ اس روز کسی کو نہ اس کا مال کام آوے گا نہ اولاد، ہاں کام آئے گا تو صرف اپنا قلب سلیم جس میں شرک و کفر نہ ہو اور اس جملے کی مثال ایسی ہوگی جیسے کوئی شخص زید کے متعلق کسی سے پوچھے کہ کیا زید کے پاس مال اور اولاد بھی ہے وہ اس کے جواب میں کہے اس کا مال و اولاد تو اس کا قلب سلیم ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
آیت 89-88
اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت ابراہیم کی بات کی تکمیل
یہ بات حضرت ابراہیم ؑ کی دعا کا جزو نہیں ہے بلکہ براہ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت ابراہیم ؑ کی بات کی تکمیل و توضیح ہے۔ فرمایا کہ اس دن کسی کے مال و اولاد اس کے کھچ کام نہیں آئیں گے۔ صرف وہی لوگ اللہ تعالیٰ کے ہاں باریاب ہوں گے جو قلب سلیم کے ساتھ حاضر ہوں گے۔ کسی کی اولاد اگر کچھ کام آنے والی بن سکتی تو اس اعتبار سے آزر سے زیادہ خوش قسمت کون تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑ جیسا فرزند عطا فرمایا لیکن جب وہ بھی اپنے باپ کے کچھ کام نہ آسکے تو تابہ دیگراں چہ رسد !
قلب لیم سے مراد
قلب سلیم، سے مراد شرک و نفاق کی ہر آلائش سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
89-1قلب سلیم یا بےعیب دل سے مراد وہ دل ہے جو شرک سے پاک ہو۔ یعنی کلب مومن۔ اس لئے کافر اور منافق کا دل مریض ہوتا ہے۔ بعض کہتے ہیں، بدعت سے خالی اور سنت پر مطمئن دل، بعض کے نزدیک دنیا کے مال متاع کی محبت سے پاک دل اور بعض کے نزدیک، جہالت کی تاریکیوں اور اخلاقی ذلالتوں سے پاک دل۔ یہ سارے مفہوم بھی صحیح ہوسکتے ہیں۔ اس لئے کہ قلب مومن مذکورہ تمام برائیوں سے پاک ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–93
18: سورة مریم (19: 47) میں گزرچکا ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے باپ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اس کی مغفرت کی دعا کریں گے، لیکن جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ممانعت آگئی اور معلوم ہوگیا کہ وہ کبھی ایمان نہیں لائے گا تو انہوں نے بھی اس سے براءت کا اظہار فرمادیا، جیسا کہ سورة توبہ (9: 114) میں گزرچکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–89
رب ھب ……سلیم (89)
حضرت ابراہیم (علیہ الصلوۃ والسلام) کی اس دعا پر ذرا غور فرمائیں کہ اس میں اس دنیا کے اغراض میں سے کو یء غرض نہیں ہے۔ یہاں تک کہ یہ بھی نہیں کہا کہ اے اللہ ، مجھے صحت عطا کیجیے۔ یہ پوری دعا بلند مقاصد اور اعلیٰ اور پاکیزہ شعور کی تحریک ہے۔ یہ اس خدا رسیدہ دل کی دعا ہے جس کے پیش نظر اللہ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اس کے ہاں اللہ کے سوا ہر چیز کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور معرفت کے جس مقام تک یہ دل پہنچا ہے اس کے آگے مزید کا طلبگار ہے اور ایک ایسے قلب سے نکلی ہوئی دعا بیم و رجا کی حالت میں ہے کیونکہ اس نے اللہ کے کرم دیکھے ہوئے ہیں اور مزید کا امیدوار ہے۔
رب ھب لی حکما (26 :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–89
8 یعنی بھلا چنگا بےروگ دل جو کفر و نفاق اور فاسد عقیدوں سے پاک ہوگا وہ ہی وہاں کام دے گا۔ نرے مال و اولاد کچھ کام نہ آئیں گے۔ اگر کافر چاہے کہ قیامت میں مال و اولاد فدیہ دے کر جان چھڑا لے، تو ممکن نہیں۔ یہاں کے صدقات و خیرات اور نیک اولاد سے بھی کچھ نفع کی توقع اسی وقت ہے جب اپنا دل کفر کی پلیدی سے پاک ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–88
آیت 88 یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوْنَ ”
جس دن اللہ کی پکڑ سے نہ دولت بچا سکے گی اور نہ اولاد۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
64 آیت نمبر 88، 89 حضرت ابراہیم کی دعا کا حصہ بھی ہوسکتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد بھی۔ پہلی صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ اس دن مجھے رسوا نہ کرنا جس دن نہ مال کام آئے گا اور نہ اولاد۔ یعنی میرے باپ کی دولت اس دن اس کے کسی کام نہ آئے گی اور نہ ہی میں کام آسکوں گا۔ کام آنے والی چیز تو صرف اللہ کی اطاعت ہوگی۔ جو شخص فرمانبردار دل لے کر حاضر ہوا وہی کامیاب ہوگا اور دوسری صورت میں قیامت کی یہ صفات اللہ تعالیٰ سے ارشاد ہوئی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–89
64۔ (تو اسے البتہ کوئی کھٹکانہ ہوگا) (آیت) ” بقلب سلیم “۔ یعنی ایسا دل جو کفر وشرک کی آلائش سے پاک ہو، یعنی من الشرک (ابن کثیر) اے خالص من الشرک والشک (معالم) اے القلب السلیم عن مرض الکفر والنفاق ھو الماثور عن ابن عباس و مجاھد وقتادۃ وابن سیرین وغیرھم (روح) یہ مراد نہیں کہ قلب گناہوں سے خالی ہو، کہ ایسا قلب کون سا ہوسکتا ہے، فاما الذنوب فلیس یسلم منھا احد ھذا قول اکثر المفسرین (معالم) قالہ قتادۃ وابن زید و اکثر المفسرین (قرطبی) ایک قول یہ بھی نقل ہوا ہے کہ وہ ایسا قلب ہو جو بدعت سے خالی اور سنت پر مطمئن ہو۔ قال ابو اسحاق النیشا بوری ھو القلب الخالی من البدعۃ والمطمئن علی السنۃ (معالم) (آیت) ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
آیت نمبر 69 تا 104
ترجمہ : وَاتْلُ عَلَیھِمْ اور کفار کو ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ (بھی) سنائے اِذْ قَالَ لِاَبِیْہٖ ، نَبَا اِبراہیم سے بدل الاشتمال ہے جبکہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد صاحب اور اپنی قوم سے کہا تم کس چیز کی بندگی کرتے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا بتوں کی بندگی کرتے ہیں فعل کی صراحت کی، تاکہ اس پر فَنَطَلُّ لَھَا عَاکِفِیْنَ کا عطف کرسکیں ہم تو دن بھر ان کی عبادت میں مشغول رہتے ہیں یعنی ہم پابندی سے دن بھر ان کی عبادت کرتے ہیں، اور انہوں نے جواب میں (فَنَظَلُّ ) کا اضافہ (بتوں کی) عبادت پر فخر کے طور پر کیا تو ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کیا یہ تمہاری سنتے بھی ہیں جب…
Read the full tafseer →یوم لا ینفع مال ولا بنون۔ اس دن جب کہ (نجات کے لئے) نہ مال کام آئے گا اور نہ اولاد
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–89
(87 تا 89) اور جس روز سب قبروں سے زندہ ہو کر اٹھیں گے اس روز مجھے رسوا نہ کرنا جس دن کہ نہ کثرت مال کام آئے گا اور نہ اولاد کی زیادتی مگر ہاں جو اللہ کے پاس گناہوں سے یا یہ کہ دنیا کی محبت سے یا یہ کہ اصحاب نبی اکرم ﷺ کی دشمنی سے پاک وصاف دل لے کر آئے گا۔
Read the full tafseer →يَوْمَ لَا يَنْفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوْنَ : جس دن آدمی کو اللہ کے عذاب سے کوئی مال نہیں بچا سکے گا، خواہ زمین بھرنے کے برابر سونا ہو (آل عمران : 91) اور صرف بیٹے ہی نہیں، زمین کے تمام لوگ بطور فدیہ پیش کیے جائیں تو وہ بھی کام نہ آئیں گے۔ (معارج : 11 تا 14)۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–89
(رب ھب لی۔۔۔۔ )
رب ھب لی حکما والحقنی بالصلحین حکم سے مراد تیری، تیری حدود اور تیرے احکام کی معرفت ہے۔ یہ حضرت ابنی عباس ؓ نے کہا۔ مقاتل نے کہا : مراد فہم اور علم ہے : یہ بھی تعبیر کی طرف راجع ہے۔ کلبی نے کہا : مراد نبوت اور مخلوق کی طرف رسالت ہے۔ والحقنی بالصلحین مجھ سے قبل سے جو انبیاء ہو گزرے ہیں درجہ میں ان کے ساتھ لاحق کر دے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : بالصلحین سے مراد اہل جنت ہیں یہ ھب لی حکما ً کی تاکید ہے۔
واجعل لی لسان صدق فل اخرین حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مراد تمام امتوں کا اس پر مجتمع ہونا ہے۔ مجاہد نے کہا : اس سے مراد اچھی تعریف ہے۔ ابن عطیہ نے کہا : مفسرین کا اس پر اجماع ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–88
1۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” واغفرلابی “ سے مراد ہے کہ اس پر احسان کیجیے تاکہ وہ اس کے ذریعہ آپ کی مغفرت کا مستحق ہوجائے۔
2۔ عبد بن حمیدوابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ” ولا تخزنی یوم یبعثون “ کے بارے میں روایت کیا کہ ہم کو ذکر کیا گیا کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ایک آدمی ایمان والوں میں سے قیامت کے دن اپنے مشرک باپ کا ہاتھ پکڑے ہوئے آئے گا یہاں تک کہ آگ اس کے ٹکڑے کرچکی ہوگی اور وہ امید رکھے گا کہ اس کو جنت میں داخل کردیا جائے گا تو ایک آواز دینے والا آواز دے گا کہ جنت میں مشرک داخل نہیں ہوگا وہ کہے گا اے میرے رب میرا باپ اور آپ نے وعدہ کیا تھا کہ تجھ کو…
Read the full tafseer →يَوْمَ [ جس دن ] لَا يَنْفَعُ [ نفع نہیں دے گا ] مَالٌ [ کوئی مال ] وَّلَا بَنُوْنَ [ اور نہ ہی بیٹے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–92
دوزخ میں گمراہوں کا پچھتانا اور آپس میں جھگڑنا نیز دنیا میں واپس آنے کی آرزو کرنا
ان آیات میں اولاً تو قیامت کے دن کا ایک منظر بیان فرمایا ہے اور وہ یہ کہ اس دن متقیوں کے لیے جنت قریب کردی جائے گی اور گمراہ لوگوں کے لیے دوزخ ظاہر کردی جائے گی جس کی وجہ سے اہل ایمان خوش ہوجائیں گے اور اہل کفر ڈر جائیں گے ثانیاً یوں فرمایا کہ کافروں سے سوال کیا جائے گا کہ اللہ کے سوا جو تم نے معبود بنا رکھے ہیں وہ کہاں ہیں ؟ تمہیں تو ان سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں، وہ یہاں تمہاری مدد نہیں کرسکتے تمہاری تو کیا مدد کرتے عذاب میں خودمبتلا ہونے والے ہیں اس سے اپنے کو بچا نہیں سکتے اس گفتگو کے بعد ان مشرکوں کو اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
قصہ دوم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) باقوم او
قال اللہ تعالیٰ واتل علیہم نبا ابراہیم .... الیٰ .... وان ربک لھو العزیز الرحیم۔
(ربط) گزشتہ آیت میں حضرت موسیٰ کلیم اللہ (علیہ السلام) کے قصہ کا ذکر تھا اب اس کے بعد آپ ﷺ کے جد امجد حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کرتے ہیں کہ ان کو اپنی قوم کے مقابلہ میں کیا ابتلا پیش آیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے باپ کی گواہی کا شدید رنج تھا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم بابل کے اطراف میں آباد تھی مذھبا صابی یعنی ستارہ پرست تھے اور بت پرست بھی تھے کواکب اور نجوم کی تاثیر کے قائل تھے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے دلائل سے حق واضح کردیا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–88
39:۔ یہ ادخال الٰہی ہے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا کلام نہیں۔ یہاں یوم حشر کے شدت ہول کا بیان ہے۔ ” بقلب سلیم “ ایسا دل جو شرک و شک سے محفوظ اور اخلاص سے لبریز ہو۔ ای خالص من الشرک والشک (خازن و معالم ج 5 ص 100) ۔ ” وازلفت الجنۃ الخ “ جنت پرہیز گاروں کے نزدیک کردی جائے گی اور دوزخ کافروں کے لیے ظاہر کردی جائے گی۔ ” وقیل لھم “ اور مشرکین سے کہا جائے گا آج وہ تمہارے معبود کہاں ہیں جن کو تم دنیا میں کارساز اور برکات دہندہ سمجھ کر پکارا کرتے تھے اور انہیں خدا کے یہاں سفارشی سمجھتے تھے ای این الھتکم الذین کنتم تزعمون انھم شفعاء کم فی ھذا الموقف (روح ج 19 ص 301) ۔ کیا آج وہ تمہارے کام آئیں گے یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–89
ربط آیات
گزشتہ آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ تھا کہ انہوں نے اپنے باپ اور قوم کو توحید کا درس دیا ۔ آپ نے یہ انداز اختیار کیا کہ خود ان مشرکین سے ہی پوچھا کہ تم رکن چیزوں کی پوجا کرتے ہو انہوں نے کہا کہ ہم تو ان بتوں پر جھکے پڑتے ہیں ۔ فرمایا ، کیا یہ بت تمہاری بات کو سنتے ہیں یا تمہارے لیے کسی نفع نقصان کے مالک ہیں ۔ کہنے لگے ، ہم یہ باتیں تو نہیں جانتے ، البتہ ہم نے اپنے آبائو اجداد کو ان کی پرستش کرتے دیکھا ہے ، لہٰذا ہم بھی انہی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ان کی پوجا کر رہے ہیں ۔ فرمایا تم تو ان کو اپنا معبود اور کار ساز سمجھتے ہو ۔ مگر یہ سب میرے دشمن ہیں سوائے رب العالمین کے…
Read the full tafseer →يَوْمَ لَا يَنْفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوْنَ 88ۙ
ميل
المَيْلُ : العدول عن الوسط إلى أَحَد الجانبین،
والمَالُ سُمِّي بذلک لکونه مائِلًا أبدا وزَائلا،
( م ی ل ) المیل
اس کے معنی وسط سے ایک جانب مائل ہوجانے کے ہیں
اور المال کو مال اس لئے کہا جاتا ہے ۔ کہ وہ ہمیشہ مائل اور زائل ہوتا رہتا ہے ۔
( ابْنُ )
أصله : بنو، لقولهم في الجمع :
أَبْنَاء، وفي التصغیر : بُنَيّ ، قال تعالی: يا بُنَيَّ لا تَقْصُصْ رُؤْياكَ عَلى إِخْوَتِكَ [يوسف/ 5] ، يا بُنَيَّ إِنِّي أَرى فِي الْمَنامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ [ الصافات/ 102] ، يا بُنَيَّ لا تُشْرِكْ بِاللَّهِ [ لقمان/ 13] ، يا بنيّ لا تعبد الشیطان، وسماه بذلک لکونه…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–94
1 ؎۔ یعنی معبود اور ان کے پوجنے والے گمراہ لوگ اور ان کو بہکانے والے شیاطین سب کے سب جہنم میں اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
یَوْمَ لاَ یَنْفَعُ مَالٌ وَّلاَ بَنُوْنَ ۔ اِلاَّ مَنْ اَتَی اللّٰہَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ ۔ (الشعرآء : 88، 89)
(جس دن نہ مال کام آئے گا اور نہ اولاد۔ بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لیے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ )
دعا کی تکمیل پروردگار کی طرف سے ہے
پیشِ نظر دونوں آیات میں اس بات کا بھی امکان ہے کہ انھیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کا جز قرار دیا جائے۔ اور اس بات کا بھی کہ یہ دونوں آیات حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے تکمیل و توضیح ہوں۔ زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا پر اضافہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان آیات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–88
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی دعا کے آخر میں اپنے رب کے حضور یہ عرض کی کہ قیامت کے دن مجھے رسوائی سے محفوظ فرمانا۔ اب قیامت کے بارے میں ذکر شروع ہوتا ہے۔
مفسرین کی ان الفاظ کے بارے میں دو قسم کی سوچ ہے ایک طبقہ کا خیال ہے کہ یہ بھی ابراہیم (علیہ السلام) کے الفاظ ہیں۔ جنھیں اللہ تعالیٰ نے اپنے مقدس الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔ دوسری جماعت کا نقطہ نظر ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کے بعد یہ اللہ تعالیٰ کا خطاب ہے کہ قیامت کے دن مالدار کو اس کے مال کا کچھ فائدہ نہیں ہوگا اور نہ ہی اولاد اپنے باپ کی مدد کرسکے گی۔ وہی انسان ذلّت سے محفوظ رہے گا جو قلب سلیم کے ساتھ اپنے…
Read the full tafseer →88: یَوْمَ لَا یَنفَعُ مَالٌ (جس دن مال کام نہ آئے گا)
نحو : یہ یوم اولؔ سے بدل ہے۔
وَ لَا بَنُوْنَ (اور نہ بیٹے) کسی ایک کو بھی۔
Read the full tafseer →88۔ یوم لاینفع مال وولابنون الامن اتی اللہ بقلب سلیم۔ جو خالص شرک سے پاک ہے۔ گناہوں سے پاک ہونامراد نہیں کیونکہ کوئی شخص بھی گناہ سے پاک نہیں ہے۔ سعید بن المسیب کا قول ہے کہ قلب سلیم سے مراد صحیح دل ہے اور مومن کا دل ہے کیونکہ کافر اور منافق کا دل مریض ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–89
86 تا 89:۔ سورة توبہ اور سورة مریم میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس دعا کی تفسیر گزر چکی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جب اپنے باپ آزر کی بت پرستی سے بےزار ہو کر باپ سے جدا ہونے لگے تو باپ کے حق میں دعائے خیر کرنے کا وعدہ انہوں نے باپ سے کیا تھا اس وعدہ کو پورا کرنے کے لیے اس وقت تک باپ کے لیے مغفرت کی دعا مانگا کرتے تھے جب تک باپ کے کفر کی حالت پر مرنے کا یقین ان کو نہیں ہوا تھا جب یہ معلوم ہوگیا کہ باپ کا خاتمہ کفر پر ہوا تو پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے باپ کے لیے دعا مانگنی چھوڑ دی تھی اب یہی حکم شریعت محمدی میں سورة توبہ اور سورة ممتحنہ کے نازل ہونے کے بعد سے قائم ہے کیونکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
آیت 69 سے 104
فرمایا : اے محمد ! ﷺ آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس خاص حالت کی جلیل القدر ! خبر سنا دیجئے اگرچہ ان کی زندگی کے تمام پہلو عظیم واقعات سے پر ہیں۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لئے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا : (اذ قال لابیہ وقومہ ما تعبدون۔ قالو) ” جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انہوں نے کہا “ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے : (نعبد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–88
سچی ناموری کی دعا
قول باری ہے : (فاجعل لی لسان صدق فی الاخرین۔ اور بعد کے آنے والوں میں مجھے سچی ناموری عطا فرما) یعنی عمدہ تعریف۔ چناچہ یہود بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نبوت کا اقرار کرتے ہیں اور اسی طرح نصاریٰ اور دنیا کی اکثر قومیں بھی۔ ایک قول کے مطابق آیت کا مفہوم ہے۔” میری اولاد میں سے ایسے افراد پیدا کر جو حق کے علمبردار بن کر تمام دنیا کو اس کی دعوت دیں۔ “ اس میں واضح اشارہ حضور ﷺ کی ذات اقدس اور آپ پر ایمان لانے والوں کی طرف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–89
51 قلب سلیم سے مراد ؟ اور اس کی عظمت و اہمیت : یعنی جو سلامتی والا ہو کفر و شرک سے، زیغ و ضلال سے، الحادو انحراف سے اور شک و ارتیاب سے۔ اور بدعت و معصیت کی ظلمت سے ۔ والعیاذ باللہ ۔ (ابن کثیر، مدارک، معالم، خازن اور صفوۃ وغیرہ) ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ قیامت کے روز کسی کو نہ اس کا مال و دولت کچھ کام آسکے گا اور نہ ہی اس کی اولاد۔ صرف وہی لوگ اللہ تعالیٰ کے یہاں باریاب ہوسکیں گے جو قلب سلیم کے ساتھ حاضر ہوں گے۔ اس کے بغیر اگر کسی کو اس کی اولاد کچھ نفع پہنچا سکتی تو ابراہیم کا باپ آزر دوزخ میں نہ جاتا۔ اور جب ابراہیم جیسا بےمثال بیٹا بھی اپنے باپ کے کچھ کام نہ آسکا تو پھر اور کون کام آسکتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی قوم
تشریح : سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) بڑے جلیل القدر پیغمبر گزرے ہیں۔ ان کی خاص بات یہ ہے کہ ان کی عزت و احترام اہل قریش یہود و نصاریٰ سب ہی کرتے ہیں مگر ان کی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے آپ کے بارے میں سورة بقرہ ‘ الانعام ‘ مریم ‘ الانبیاء میں بیان ہوچکا اور آئندہ سورة اَلصّٰفّٰتِ اور اَلْمُمْتَحِنَہ میں ہوگا۔
انہوں نے بت پرستی اور شرک کو مسترد کیا اور صرف اللہ کی عبادت کی ترغیب دی۔ صاف ظاہر ہے اللہ خالق اور مالک اور ہدایت دینے والا بھی ہے جبکہ بت اور دوسری چیزیں خود اس کی پیدا کی ہوئی ہیں۔ آپ اتنے بڑے پیغمبر تھے کہ آپ کو اللہ نے خلیل اللہ ‘ یعنی اللہ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
آیات 69 تا 104
اسرارومعارف
اہل مکہ اور اہل عرب مشرکین خود کو دین ابراہیمی کا پیروکار جانتے تھے تو ارشاد ہوا کہ انہیں ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بھی سنا دیجیے کہ وہ کیا تھے ان کی تعلیمات کیا تھیں اور یہ لوگ کیا کر رہے ہیں انہیں وہ واقعہ بتائیے جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد سے سوال کیا تھا اور قوم سے بھی کہ آپ لوگ کس کی عبادت کرتے ہیں انہیں بت پرستی میں گرفتار دیکھ کر جاننا چاہا کہ آخر یہ بتوں میں کیا عقیدہ رکھتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ہم بتوں کی پوجا کرتے ہیں اور اسی میں عمریں تمام کردیتے ہیں تو انہوں نے پوچھا کہ کیا یہ تمہارے حال سے واقف ہیں اور تمہاری پکار کو سنتے ہیں اور تمہاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
5 ۔ پاک دل سے مراد ایسا دل ہے جو کفر و شرک سے پاک ہو۔ اکثر مفسرین نے یہی لکھا ہے اور بعض نے بدعت و جہالت اور اخلاق رذینہ سے پاک ہونا بھی مراد لیا ہے۔ مال اور اولاد بھی گر کام آسکتے ہیں تو پاک دل کے ساتھ ہی کام آسکتے ہیں۔ (کذا فی شوکانی و الکبیر)
Read the full tafseer →(26:88) یوم لاینفع مال ولا بنون یہ جملہ یوم یبعثون کا بدل ہے اور اس دن کی سختی کی تاکید کے لئے آیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
لغات القرآن : آیت نمبر 69 تا 104 :
اتل (تلاوت کر۔ سنادے) اصنام (صنم) بت ‘ نظل (ہم رہتے ہیں) ‘ عکفین (عاکف) جم کر بیٹھنے والے ‘ یسمعون ( وہ سنتے ہیں) ‘ وجدنا ( ہم نے پایا) ‘ الا قدمون (پہلے) ‘ یطعمنی (وہ مجھے کھلاتا ہے) ‘ یسقین (یسقینی) وہ مجھے پلاتا ہے ‘ یشفین (یشفینی) وہ مجھے شفا (صحت) دیتا ہے ‘ یمیتنی (وہ مجھے موت دے گا) ‘ یحیین (یحیینی) وہ مجھے زندگی دے گا ‘ اطمع (مید امید کرتا ہوں۔ میں توقع رکھتا ہوں) ‘ حکما (علم و حکمت (فیصلہ) ‘ الحقنی (مجھے ملادے) ‘ لسان صدق (ذکر خیر۔ اچھا ذکر۔ سچی زبان) ‘ لاتخزنی (مجھے رسوانہ کیجئے گا) ‘ یبعثون (وہ اٹھائے جائیں گے) ‘ من اتی ( جو آیا۔ (جو لایا) ‘ قلب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–89
قیامت کے دن کے واقعات۔
(ف 1) حضرت ابراہیم جب اپنے باپ آذر کی بت پرستی سے بےزار ہوکر باپ سے جدا ہوئے تو باپ کے حق میں دعائے خیر کرنے کا وعدہ انہوں نے اپنے باپ سے کیا تھا، اور اپنے باپ کے لیے دعا مغفرت کی دعا مانگا کرتے تھے کہ اے رب میرے باپ کو توفیق ایمان کی دے کر ان کی مغفرت فرماکیون کہ وہ گمراہوں میں سے ہے اور مجھے قیامت کے دن رسوانہ کرنا، قیامت کا وہ دن کہ مال اور اولاد اس دن نفع نہ دے گی مگر اس شخص کو جو اپنے اللہ کے پاس شرک اور کفر سے پاک دل لے کرگیا اور جنہوں نے دنیا میں خیرات اور صدقات کیے ہوں گے اور اس کا بدلہ وہاں پائیں گے اور اولاد بھی کام آئے گی اور جوان کی چھوٹی اولاد مرگئی ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
[17] قلب سلیم یعنی کفر و شرک سے پاک دل۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 87–88
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاء
1: حضرت ابراہیم جب اللہ تعالیٰ کا صحیح تخلیل پیش کرچکے ۔ اور حمدوثنا کے فرائض ادا کرچکے ۔ تو اپنے باپ کے لئے دعا کی ۔ فرمایا : اے مولا ! میرا باپ راہ راست پر گامزن نہیں ہے اس کی لغزشوں سے درگزر فرمائیے ۔ اور اس دن کی رسوائی وذلت سے بچائیے ۔ جس دن نہ مال و دولت کے انبار کام آسکیں گے ۔ اور نہ بیٹے ہی سود مند ثابت ہوں گے ۔
الا من اتی اللہ بقلب سلیم سے مقصود یہ ہے کہ وہاں عالم حشر میں بجز سلامی قلب کے اور کوئی چیز مخلصی اور نجات کا باعث ہیں ہوسکتی ۔ اور سل امتی قلب تعبیر ہے ۔ تذکیر باطن سے اخلاق کی بلندی اور رفعت سے عقائد کی صحت اور پاکیزگی سے ۔
Read the full tafseer →88۔ اس دن نہ کسی کو مال نفع دے گا اور نہ کسی کے بیٹے کام آئیں گے یعنی وہ دن ایسا ہے کہ اس دن نجات کے لئے نہ مال نفع دے گا اور نہ اولاد کام آئے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–90
ف 4۔ تاکہ اس کو دیکھیں اور یہ معلوم کر کے کہ ہم اس میں جاویں گے خوش ہوں۔
Read the full tafseer →ہمارا قانون یہ ہے کہ قیامت کے روز کوئی بیٹا کسی باپ کے کام نہیں آئے گا :
88۔ ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کی تکمیل کرتے ہوئے اللہ رب ذوالجلال والاکرام نے ارشاف فرمایا اے میرے خلیل ! وہ دن تو ایک ایسا دن ہے کہ ہمارا قانون کے مطابق ہر فرد اپنے کئے کے ساتھ بندھا ہوا ہے اس زوز نہ کوئی باپ اپنے کسی بیٹے کے کام آئے گا اور نہ ہی کوئی بیٹا اپنے باپ کے کام آسکے گا ، تیرے باپ کی بخشش کے لئے لازم تھا کہ وہ شرک سے باز آتا اور تیری بات کو وہ مان جاتا اور ہمارا یہ بھی قانون ہے کہ کسی شخص کو ہم ایمان لانے پر مجبور نہیں کرتے اس لئے ہم اس کو بھی آخر مجبور کیوں کرتے جب کہ قانون کی خلاف ورزی کا ہمارے ہاں کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–108
يَوْمَ لَا يَنفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ ﴿88﴾ إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّـهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ ﴿89﴾
The Day when neither wealth will be of any use (to any one) nor sons, [ 88] except to one who will come to Allah with a sound heart, [ 26:89]
This verse has declared that wealth and children will not be of any help to a person on the Day of Judgment. This declaration is subjected to exception in the words, "except to one who will come to Allah with sound heart". (coming with sound heart means to come to Him with true faith). Now, this exception has been interpreted in two different ways. According to…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–89
65 It cannot be said with certainty whether vv. 88, 89 are a part of Prophet Abraham's prayer, or they are an addition by AIlah. In the first case, they will mean that Prophet Abraham while praying for his father had a full realization of these facts. In the second case, they will be a comment by Allah on Abraham's prayer, as if to say, "On the Day of Judgement, only a sound heart, sound in faith and free from disobedience and sin, will be of any avail to man and not wealth and children, for wealth and children can be useful only if one possesses a sound heart. Wealth will be useful if one…
Read the full tafseer →