Ash-Shu'araa 26:86

Ash-Shu'araa · from ayah 86

26:86

وَاغْفِرْ لِاَبِیْۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّیْنَ ۟ۙوَاغۡفِرۡ لِاَبِىۡۤ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّآلِّيۡنَۙ

اور میرے باپ کو بخش دے کہ وہ گمراہوں میں سے ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And forgive my father. Indeed, he has been of those astray.

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 5 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:86

اور میرے باپ کو معاف کر دے کہ بے شک وہ گمراہ لوگوں میں سے ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور میرے باپ کو بخش دے کہ وہ گمراہوں میں سے ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور میرے باپ کو بخش دے یقیناً وه گمراہوں میں سے تھا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور میرے باپ کی مغفرت فرما، یقینا وہ گمراہ لوگوں میں سے ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور میرے باپ کو بخش دے بیشک وہ گمراہ،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور میرے باپ کو بخش دے بیشک وہ گمراہوں میں سے تھا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور میرے باپ کو بخش دے، یقینا وہ گمراہوں میں سے تھا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور میرے باپ کو معاف کردے بلاشبہ وہ گمراہوں میں سے ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور میرے باپ کی مغفرت فرما، بیشک وہ گمراہوں میں سے تھا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور بخشش فرما دے میرے باپ کی، کہ بیشک وہ بڑے بھٹکے ہوئے اور گمراہ لوگوں میں سے تھا

— مولانا اسحاق مدنی

اور میرے باپ کی مغفرت کر کہ وہ گمراہوں میں سے ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور میرے والد کو بخش دے یقیناً وہ گمراہ لوگوں میں سے ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور میرے باپ کو بخش دے کہ وہ گمراہوں میں سے ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and forgive my father for he is among those who strayed,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and forgive my father. Indeed he was one of those who went astray,

— Muhammad Taqi Usmani

and forgive my father. Indeed he was one of those who went astray,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And forgive my father, verily, he is of the erring.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And forgive my father. Lo! he is of those who err.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And forgive my father. Indeed, he has been of those astray.

— Saheeh International

Forgive my father. He has gone astray.

— Muhammad Sarwar

And forgive my father, for surely he is of those who have gone astray;

— Muhammad Habib Shakir

And forgive my father; verily he is of the erring.

— Abdul Majid Daryabadi

"Forgive my father, for that he is among those astray;

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 26:86

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 83–89

حکم سے کیا مراد ہے ؟ حکم سے مراد علم عقل الوہیت کتاب اور نبوت ہے۔ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ مجھے یہ چیزیں عطا فرما کر دنیا اور آخرت میں نیک لوگوں میں شامل رکھ۔ چناچہ صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ نے بھی آخری وقت میں دعا مانگی تھی کہ اے اللہ اعلیٰ رفیقوں میں ملادے تین بار یہی دعا کی۔ ایک حدیث میں حضور ﷺ کی یہ دعا بھی مروی ہے۔ (اللہم احینا مسلمین وامتنا مسلمین والحقنا بالصالحین غیر خزایا ولامبدلین)۔ یعنی اے اللہ ! ہمیں اسلام پر زندہ رکھ اور مسلمانی کی حالت میں ہی موت دے اور نیکوں میں ملادے۔ در آنحالیکہ نہ رسوائی ہو نہ تبدیلی۔ پھر اور دعا کرتے ہیں کہ میرے بعد بھی میرا ذکر خیر لوگوں میں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 85–86

سورة الشُّعَرَآء 63 بعض مفسرین نے حضرت ابراہیم ؑ کی اس دعائے مغفرت کی یہ توجیہ بیان کی ہے کہ مغفرت بہرحال اسلام کے ساتھ مشروط ہے اس لیے آنجناب کا اپنے والد کی مغفرت کے لیے دعا کرنا گویا اس بات کی دعا کرنا تھا کہ اللہ تعالیٰ اسے اسلام لانے کی توفیق عطا فرمائے۔ لیکن قرآن مجید میں اس کے متعلق مختلف مقامات پر جو تصریحات ملتی ہیں وہ اس توجیہ سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ قرآن کا ارشاد ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ اپنے والد کے ظلم سے تنگ آ کر جب گھر سے نکلنے لگے تو انہوں نے رخصت ہوتے وقت فرمایا سَلٰمٌ عَلَیْکَ سَاَسْتَغْفِرُ لَکَ رَبِّیٓ اِنَّہ کَانَ بِیْ حَفِیًّا (مریم، آیت 47) " آپ کو سلام ہے، میں آپ کے لیے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 86–87

مشرکین کے لئے دعائے مغفرت جائز نہیں وَاغْفِرْ لِاَبِيْٓ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّاۗلِّيْنَ ، قرآن مجید کے اس فرمان کے بعد مَا كَان للنَّبِيِّ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ يَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِيْنَ وَلَوْ كَانُوْٓا اُولِيْ قُرْبٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَھُمْ اَنَّھُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ) اب کسی ایسے شخص کے لئے جس کا کفر پر مرنا یقینی ہو استغفار اور دعائے مغفرت طلب کرنا ناجائز اور حرام ہے کیونکہ آیت مبارکہ کا ترجمہ یہ ہے کہ کسی نبی اور ایمانداروں کے لئے یہ قطعاً جائز نہیں کہ وہ مشرکوں کے لئے مغفرت طلب کریں خواہ وہ اس کے رشتہ دار اور قریبی ہی کیوں نہ ہوں جبکہ ان کا جہنمی ہونا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 86–87

آیت 87-86 آخر میں حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے لئے جنت کی اور اپنے باپ کے لئے مغفرت کی دعا فرمانی۔ ولا تخزنی الآیۃ باپ کے حق میں ایک نہایت مئوثر سفارش ہے۔ آدمی کے اعزہ و اقربا بالخصوص ماں باپ لی رسوائی خود اس کی رسوائی کے ہم معنی ہوتی ہے اس وجہ سے حضرت ابراہیم ؑ نے فرمایا کہ میرے باپ کی بھی مغفرت فرما کر اس کا جہنم میں پڑتا آخرت میں میرے لئے رسوائی کا سبب نہ بنے۔ حضرت ابراہیم ؑ نے اس دعا سے اپنے باپ کا حق انتہائی دلسوزی کے ساتھ ادا کردیا لیکن اللہ تعالیٰ کا قانون عدل بالکل بےلاگ ہے۔ باپ کے حق میں ان کی دعا قبول نہیں ہوئی بلکہ بعد میں آپ کو اس کے لئے کرنے سے بالکل روک دیا گیا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 85–86

86-1یہ دعا اس وقت کی تھی، جب ان پر واضح نہیں تھا کہ مشرک (اللہ کے دشمن) کے لئے دعائے مغفرت جائز نہیں، جب اللہ نے واضح کردیا، تو انہوں نے اپنے باپ سے بیزاری کا اظہار کردیا (وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِيْمَ لِاَبِيْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَھَآ اِيَّاهُ ۚ فَلَمَّا تَـبَيَّنَ لَهٗٓ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُ ۭ اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيْمٌ) 9۔ التوبہ :114)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 86–93

18: سورة مریم (19: 47) میں گزرچکا ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے باپ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اس کی مغفرت کی دعا کریں گے، لیکن جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ممانعت آگئی اور معلوم ہوگیا کہ وہ کبھی ایمان نہیں لائے گا تو انہوں نے بھی اس سے براءت کا اظہار فرمادیا، جیسا کہ سورة توبہ (9: 114) میں گزرچکا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 83–89

رب ھب ……سلیم (89) حضرت ابراہیم (علیہ الصلوۃ والسلام) کی اس دعا پر ذرا غور فرمائیں کہ اس میں اس دنیا کے اغراض میں سے کو یء غرض نہیں ہے۔ یہاں تک کہ یہ بھی نہیں کہا کہ اے اللہ ، مجھے صحت عطا کیجیے۔ یہ پوری دعا بلند مقاصد اور اعلیٰ اور پاکیزہ شعور کی تحریک ہے۔ یہ اس خدا رسیدہ دل کی دعا ہے جس کے پیش نظر اللہ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اس کے ہاں اللہ کے سوا ہر چیز کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور معرفت کے جس مقام تک یہ دل پہنچا ہے اس کے آگے مزید کا طلبگار ہے اور ایک ایسے قلب سے نکلی ہوئی دعا بیم و رجا کی حالت میں ہے کیونکہ اس نے اللہ کے کرم دیکھے ہوئے ہیں اور مزید کا امیدوار ہے۔ رب ھب لی حکما (26 :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 ترجمہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دعا باپ کی موت کے بعد کی۔ مگر دوسری جگہ تصریح آگئی کہ جب اس کا دشمن خدا ہونا ظاہر ہوگیا تو برأت اور بیزاری کا اظہار فرمایا۔ کما قال تعالیٰ ۔ (وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِيْمَ لِاَبِيْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَھَآ اِيَّاهُ ۚ فَلَمَّا تَـبَيَّنَ لَهٗٓ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُ ۭ اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيْمٌ) 9 ۔ التوبہ :114) اور اگر " انہ کان من الضآلین " میں " کان " کا ترجمہ " تھا " کے بجائے " ہے " سے کیا جائے، پھر کوئی اشکال نہیں۔ کیونکہ زندگی میں ایمان لے آنے کا امکان تھا۔ تو دعاء کا حاصل یہ ہے کہ الٰہی اس کو ایمان سے مشرف…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 85–88

آیت 88 یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوْنَ ” جس دن اللہ کی پکڑ سے نہ دولت بچا سکے گی اور نہ اولاد۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

62 جب باپ نے حضرت ابراہیم کو مشرک کے خلاف جہاد کی سزا کے طور پر گھر سے نکلا تھا۔ اس وقت حضرت ابراہیم نے اپنے باپ سے دعائے مغفرت کا وعدہ کیا تھا۔ (19: 47 ( اس کے بعد آپ نے دعائے مغفرت بھی فرمائی جیسا کہ یہاں مذکور ہے۔ اور ایک دفعہ اپنے والد اور والدہ دونوں کے حق میں دعائے مغفرت فرمائی تھی۔ (14: 41) پھر جب آپ پر یہ بات واضح ہوگئی کہ مشرک کی کسی حال میں مغفرت نہیں ہوگی تو آپ نے ایسی دعا کرنا چھوڑ دی تھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 85–86

63۔ (سو تو اس کے لیے مغفوریت کے اسباب، یعنی ایمان اور اس کے برکات میسر کردے) دعا آزر کی زندگی ہی کے آخر زمانہ کی معلوم ہوتی ہے۔ (آیت) ” واجعلنی ........ النعیم “۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس سے ان لوگوں کا رد نکل آیا جو جنت سے مستغنی ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 69–104

آیت نمبر 69 تا 104 ترجمہ : وَاتْلُ عَلَیھِمْ اور کفار کو ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ (بھی) سنائے اِذْ قَالَ لِاَبِیْہٖ ، نَبَا اِبراہیم سے بدل الاشتمال ہے جبکہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد صاحب اور اپنی قوم سے کہا تم کس چیز کی بندگی کرتے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا بتوں کی بندگی کرتے ہیں فعل کی صراحت کی، تاکہ اس پر فَنَطَلُّ لَھَا عَاکِفِیْنَ کا عطف کرسکیں ہم تو دن بھر ان کی عبادت میں مشغول رہتے ہیں یعنی ہم پابندی سے دن بھر ان کی عبادت کرتے ہیں، اور انہوں نے جواب میں (فَنَظَلُّ ) کا اضافہ (بتوں کی) عبادت پر فخر کے طور پر کیا تو ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کیا یہ تمہاری سنتے بھی ہیں جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واغفرلابی انہ کان من الضآلین۔ اور میرے باپ کو معاف کر دے وہ بلاشبہ (حق کے راستہ سے) بھٹکا ہوا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے باپ کے لئے یہ دعاء مغفرت اس وقت کی تھی جب آپ کو معلوم نہ تھا کہ یہ اللہ کا قطعی دشمن ہے اس کے مقدر میں ایمان و ہدایت نہیں ہے لیکن جب آپ کو یقینی طور پر معلوم ہوگیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو پھر اس سے اظہار بیزاری کیا۔ اللہ نے فرمایا ہے (وَمَا کَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرَاہِیْمَ لِاَبِیْہِ الاَّ مَنْ مَوْعِدَۃٍ وَعَدَہَا اِیَّاہُ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہُ اِنَّہٗ عَدُوٌّا لِلّٰہِ تَبَرَّأَ مِنْہُ ) ابراہیم نے اپنے باپ کے لئے دعاء مغفرت صرف اس وعدہ کی وجہ سے کی تھی جو اس نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 84–86

(84 تا 86) اور میرا ذکر حسن میرے بعد آنے والوں میں جاری رکھ اور مجھے جنت کے مستحقین میں سے کر اور میرے باپ کو ہدایت عطا فرما وہ گمراہ کافر لوگوں میں سے ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاغْفِرْ لِاَبِيْٓ اِنَّهٗ كَانَ مِنَ الضَّاۗلِّيْنَ : ابراہیم ؑ نے اپنے باپ سے رخصت ہوتے وقت استغفار کی دعا کا وعدہ کیا تھا (مریم : 47) چناچہ انھوں نے یہ دعا فرمائی۔ زندگی میں دعا کا حاصل یہ ہے کہ اسے توبہ کی توفیق بخش، تاکہ اس کے گناہ معاف ہوجائیں اور وفات کے بعد ہو تو اس کے شرک اور دوسرے گناہ معاف کرنے کی دعا ہے، لیکن بعد میں جب انھیں معلوم ہوا کہ ایک مشرک اور دشمن حق کے لیے دعائے مغفرت کرنا صحیح نہیں ہے تو انھوں نے اس دعا سے رجوع کرلیا، جیسا کہ سورة توبہ میں ہے : (ۚ فَلَمَّا تَـبَيَّنَ لَهٗٓ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُ) [ التوبۃ : 114 ] ”پھر جب اس کے لیے واضح ہوگیا کہ بیشک…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 83–89

(رب ھب لی۔۔۔۔ ) رب ھب لی حکما والحقنی بالصلحین حکم سے مراد تیری، تیری حدود اور تیرے احکام کی معرفت ہے۔ یہ حضرت ابنی عباس ؓ نے کہا۔ مقاتل نے کہا : مراد فہم اور علم ہے : یہ بھی تعبیر کی طرف راجع ہے۔ کلبی نے کہا : مراد نبوت اور مخلوق کی طرف رسالت ہے۔ والحقنی بالصلحین مجھ سے قبل سے جو انبیاء ہو گزرے ہیں درجہ میں ان کے ساتھ لاحق کر دے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : بالصلحین سے مراد اہل جنت ہیں یہ ھب لی حکما ً کی تاکید ہے۔ واجعل لی لسان صدق فل اخرین حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مراد تمام امتوں کا اس پر مجتمع ہونا ہے۔ مجاہد نے کہا : اس سے مراد اچھی تعریف ہے۔ ابن عطیہ نے کہا : مفسرین کا اس پر اجماع ہے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 86–88

1۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” واغفرلابی “ سے مراد ہے کہ اس پر احسان کیجیے تاکہ وہ اس کے ذریعہ آپ کی مغفرت کا مستحق ہوجائے۔ 2۔ عبد بن حمیدوابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت ” ولا تخزنی یوم یبعثون “ کے بارے میں روایت کیا کہ ہم کو ذکر کیا گیا کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ایک آدمی ایمان والوں میں سے قیامت کے دن اپنے مشرک باپ کا ہاتھ پکڑے ہوئے آئے گا یہاں تک کہ آگ اس کے ٹکڑے کرچکی ہوگی اور وہ امید رکھے گا کہ اس کو جنت میں داخل کردیا جائے گا تو ایک آواز دینے والا آواز دے گا کہ جنت میں مشرک داخل نہیں ہوگا وہ کہے گا اے میرے رب میرا باپ اور آپ نے وعدہ کیا تھا کہ تجھ کو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاغْفِرْ [ اور تو بخش دے ] لِاَبِيْٓ [ میرے والد کو ] اِنَّهٗ [ بیشک وہ ] كَانَ [ تھا ] مِنَ الضَّاۗلِّيْنَ [ بھٹک جانے والوں میں سے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 84–87

(وَلاَ تُخْزِنِیْ یَوْمَ یُبْعَثُوْنَ یَوْمَ لاَ یَنْفَعُ مَالٌ وَّلاَ بَنُوْنَ اِِلَّا مَنْ اَتَی اللّٰہَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ ) (اور مجھے اس دن رسوا نہ کیجیے جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے جس دن نہ کوئی مال نفع دے گا اور نہ بیٹے سوائے اس شخص کے جو قلب سلیم کے ساتھ اللہ کے پاس آئے) اس سے معلوم ہوا کہ جنت النعیم حاصل ہونے کی دعا کے ساتھ ساتھ یہ دعا بھی کرنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ شانہٗ قیامت کے دن رسوا نہ فرمائیے جنت میں تو کوئی رسوائی نہیں ہے اس سے پہلے رسوائی ہوسکتی ہے جیسا کہ بہت سے گناہ گاروں کے ساتھ ایسا ہوگا کہ قیامت کے دن رسوائی اور ذلت اور عذاب میں مبتلا ہوں گے حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 69–104

قصہ دوم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) باقوم او قال اللہ تعالیٰ واتل علیہم نبا ابراہیم .... الیٰ .... وان ربک لھو العزیز الرحیم۔ (ربط) گزشتہ آیت میں حضرت موسیٰ کلیم اللہ (علیہ السلام) کے قصہ کا ذکر تھا اب اس کے بعد آپ ﷺ کے جد امجد حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کرتے ہیں کہ ان کو اپنی قوم کے مقابلہ میں کیا ابتلا پیش آیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے باپ کی گواہی کا شدید رنج تھا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم بابل کے اطراف میں آباد تھی مذھبا صابی یعنی ستارہ پرست تھے اور بت پرست بھی تھے کواکب اور نجوم کی تاثیر کے قائل تھے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے دلائل سے حق واضح کردیا اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 86–88

39:۔ یہ ادخال الٰہی ہے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا کلام نہیں۔ یہاں یوم حشر کے شدت ہول کا بیان ہے۔ ” بقلب سلیم “ ایسا دل جو شرک و شک سے محفوظ اور اخلاص سے لبریز ہو۔ ای خالص من الشرک والشک (خازن و معالم ج 5 ص 100) ۔ ” وازلفت الجنۃ الخ “ جنت پرہیز گاروں کے نزدیک کردی جائے گی اور دوزخ کافروں کے لیے ظاہر کردی جائے گی۔ ” وقیل لھم “ اور مشرکین سے کہا جائے گا آج وہ تمہارے معبود کہاں ہیں جن کو تم دنیا میں کارساز اور برکات دہندہ سمجھ کر پکارا کرتے تھے اور انہیں خدا کے یہاں سفارشی سمجھتے تھے ای این الھتکم الذین کنتم تزعمون انھم شفعاء کم فی ھذا الموقف (روح ج 19 ص 301) ۔ کیا آج وہ تمہارے کام آئیں گے یا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 78–89

ربط آیات گزشتہ آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ تھا کہ انہوں نے اپنے باپ اور قوم کو توحید کا درس دیا ۔ آپ نے یہ انداز اختیار کیا کہ خود ان مشرکین سے ہی پوچھا کہ تم رکن چیزوں کی پوجا کرتے ہو انہوں نے کہا کہ ہم تو ان بتوں پر جھکے پڑتے ہیں ۔ فرمایا ، کیا یہ بت تمہاری بات کو سنتے ہیں یا تمہارے لیے کسی نفع نقصان کے مالک ہیں ۔ کہنے لگے ، ہم یہ باتیں تو نہیں جانتے ، البتہ ہم نے اپنے آبائو اجداد کو ان کی پرستش کرتے دیکھا ہے ، لہٰذا ہم بھی انہی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ان کی پوجا کر رہے ہیں ۔ فرمایا تم تو ان کو اپنا معبود اور کار ساز سمجھتے ہو ۔ مگر یہ سب میرے دشمن ہیں سوائے رب العالمین کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاغْفِرْ لِاَبِيْٓ اِنَّہٗ كَانَ مِنَ الضَّاۗلِّيْنَ۝ 86ۙ غفر الغَفْرُ : إلباس ما يصونه عن الدّنس، ومنه قيل : اغْفِرْ ثوبک في الوعاء، واصبغ ثوبک فإنّه أَغْفَرُ للوسخ «1» ، والغُفْرَانُ والْمَغْفِرَةُ من اللہ هو أن يصون العبد من أن يمسّه العذاب . قال تعالی: غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] ( غر ) الغفر ( ض ) کے معنی کسی کو ایسی چیز پہنا دینے کے ہیں جو اسے میل کچیل سے محفوظ رکھ سکے اسی سے محاورہ ہے اغفر ثوبک فی ولوعاء اپنے کپڑوں کو صندوق وغیرہ میں ڈال کر چھپادو ۔ اصبغ ثوبک فانہ اغفر لو سخ کپڑے کو رنگ لو کیونکہ وہ میل کچیل کو زیادہ چھپانے والا ہے اللہ کی طرف سے مغفرۃ یا غفران کے معنی ہوتے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 70–94

1 ؎۔ یعنی معبود اور ان کے پوجنے والے گمراہ لوگ اور ان کو بہکانے والے شیاطین سب کے سب جہنم میں اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 84–87

وَاجْعَلْنِیْ مِنْ وَّرَثَۃِ جَنَّۃِ النَّعِیْمِ ۔ وَاغْفِرْ لِاَبِیْٓ اِنَّـہٗ کَانَ مِنَ الضَّآلِّـیْنَ ۔ وَلاَ تُخْزِنِیْ یَوْمَ یُبْعَثُوْنَ ۔ (الشعرآء : 85 تا 87) (اور مجھے نعمتوں والی جنت کے وارثوں میں شامل فرما۔ اور میرے باپ کو معاف فرما دے، بیشک وہ گمراہوں میں سے ہے۔ اور مجھے اس دن رسوا نہ کر جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے۔ ) رب العالمین ! مجھے نعمتوں والی جنت کے وارثوں میں سے بنا۔ تیرا انتہائی کرم ہے کہ تو نے مجھے نبوت سے نوازا اور لوگوں کی رہنمائی کے منصب پر فائز کیا، لیکن تیری دی ہوئی ہدایت سے میں یہ بات جانتا ہوں کہ تیری ذات انتہائی بےنیاز اور بےپرواہ ہے۔ اس لیے تیری بارگاہ کے مقربین…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 84–88

فہم القرآن ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی دعا کے آخر میں اپنے رب کے حضور یہ عرض کی کہ قیامت کے دن مجھے رسوائی سے محفوظ فرمانا۔ اب قیامت کے بارے میں ذکر شروع ہوتا ہے۔ مفسرین کی ان الفاظ کے بارے میں دو قسم کی سوچ ہے ایک طبقہ کا خیال ہے کہ یہ بھی ابراہیم (علیہ السلام) کے الفاظ ہیں۔ جنھیں اللہ تعالیٰ نے اپنے مقدس الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔ دوسری جماعت کا نقطہ نظر ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کے بعد یہ اللہ تعالیٰ کا خطاب ہے کہ قیامت کے دن مالدار کو اس کے مال کا کچھ فائدہ نہیں ہوگا اور نہ ہی اولاد اپنے باپ کی مدد کرسکے گی۔ وہی انسان ذلّت سے محفوظ رہے گا جو قلب سلیم کے ساتھ اپنے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

86: وَاغْفِرْ لِاَبِیْ (اور میرے والد کو بخش دے) اس کو اسلام نصیب کر کے اہل جنت میں سے بنا دے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے ہجرت کے وقت اس سے جدائی اختیار کی تو اس وقت یہ وعدہ فرمایا ساستغفرلک ربی اِنَّہٗ کَانَ مِنَ الضَّآلِّیْنَ (بیشک وہ گمراہوں میں سے ہے) ضالؔ سے مراد کافر ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

86۔ واغفرلی لابی انہ کان من الضالین۔ یہ اس وقت دعا کی تھی جب ان کو معلوم نہیں تھا کہ میرے باپ اللہ کا دشمن ہے۔ جیسا کہ سورة توبہ میں گذرچکا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 86–89

86 تا 89:۔ سورة توبہ اور سورة مریم میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس دعا کی تفسیر گزر چکی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جب اپنے باپ آزر کی بت پرستی سے بےزار ہو کر باپ سے جدا ہونے لگے تو باپ کے حق میں دعائے خیر کرنے کا وعدہ انہوں نے باپ سے کیا تھا اس وعدہ کو پورا کرنے کے لیے اس وقت تک باپ کے لیے مغفرت کی دعا مانگا کرتے تھے جب تک باپ کے کفر کی حالت پر مرنے کا یقین ان کو نہیں ہوا تھا جب یہ معلوم ہوگیا کہ باپ کا خاتمہ کفر پر ہوا تو پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے باپ کے لیے دعا مانگنی چھوڑ دی تھی اب یہی حکم شریعت محمدی میں سورة توبہ اور سورة ممتحنہ کے نازل ہونے کے بعد سے قائم ہے کیونکہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 69–104

آیت 69 سے 104 فرمایا : اے محمد ! ﷺ آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس خاص حالت کی جلیل القدر ! خبر سنا دیجئے اگرچہ ان کی زندگی کے تمام پہلو عظیم واقعات سے پر ہیں۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لئے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا : (اذ قال لابیہ وقومہ ما تعبدون۔ قالو) ” جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انہوں نے کہا “ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے : (نعبد…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 84–88

سچی ناموری کی دعا قول باری ہے : (فاجعل لی لسان صدق فی الاخرین۔ اور بعد کے آنے والوں میں مجھے سچی ناموری عطا فرما) یعنی عمدہ تعریف۔ چناچہ یہود بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نبوت کا اقرار کرتے ہیں اور اسی طرح نصاریٰ اور دنیا کی اکثر قومیں بھی۔ ایک قول کے مطابق آیت کا مفہوم ہے۔” میری اولاد میں سے ایسے افراد پیدا کر جو حق کے علمبردار بن کر تمام دنیا کو اس کی دعوت دیں۔ “ اس میں واضح اشارہ حضور ﷺ کی ذات اقدس اور آپ پر ایمان لانے والوں کی طرف ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

50 حضرت ابراہیم کی اپنے باپ کی بخشش کے لیے دعا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " حضرت ابراہیم نے اپنی دعا کے دوران اپنے رب سے مزید عرض کیا " اور بخشش فرما دے میرے باپ کی کہ بیشک وہ گمراہوں میں سے تھا "۔ یہ دعا حضرت ابراہیم نے اس وقت کی تھی جب کہ آپ کو اپنے والد کے ہدایت پانے کی امید تھی۔ ورنہ بعد میں جب آپ (علیہ السلام) کو یقین ہوگیا کہ وہ ایمان لانے والا نہیں تو آپ نے اس سے اعلان بیزاری فرما دیا تھا۔ جیسا کہ دوسری جگہ اس کی تصریح موجود ہے ۔ { فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہٗ اَنَّہٗ عَدُوٌّ لِّلّٰہِ تَبَرَّأَ مِنْہُ } ۔ (التوبۃ :114) سو حضرت ابراہیم نے نہایت دلسوزی کے ساتھ اپنے باپ کیلئے دعا کرکے اس کا حقِّ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 69–104

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی قوم تشریح : سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) بڑے جلیل القدر پیغمبر گزرے ہیں۔ ان کی خاص بات یہ ہے کہ ان کی عزت و احترام اہل قریش یہود و نصاریٰ سب ہی کرتے ہیں مگر ان کی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے آپ کے بارے میں سورة بقرہ ‘ الانعام ‘ مریم ‘ الانبیاء میں بیان ہوچکا اور آئندہ سورة اَلصّٰفّٰتِ اور اَلْمُمْتَحِنَہ میں ہوگا۔ انہوں نے بت پرستی اور شرک کو مسترد کیا اور صرف اللہ کی عبادت کی ترغیب دی۔ صاف ظاہر ہے اللہ خالق اور مالک اور ہدایت دینے والا بھی ہے جبکہ بت اور دوسری چیزیں خود اس کی پیدا کی ہوئی ہیں۔ آپ اتنے بڑے پیغمبر تھے کہ آپ کو اللہ نے خلیل اللہ ‘ یعنی اللہ کا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 69–104

آیات 69 تا 104 اسرارومعارف اہل مکہ اور اہل عرب مشرکین خود کو دین ابراہیمی کا پیروکار جانتے تھے تو ارشاد ہوا کہ انہیں ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بھی سنا دیجیے کہ وہ کیا تھے ان کی تعلیمات کیا تھیں اور یہ لوگ کیا کر رہے ہیں انہیں وہ واقعہ بتائیے جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد سے سوال کیا تھا اور قوم سے بھی کہ آپ لوگ کس کی عبادت کرتے ہیں انہیں بت پرستی میں گرفتار دیکھ کر جاننا چاہا کہ آخر یہ بتوں میں کیا عقیدہ رکھتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ہم بتوں کی پوجا کرتے ہیں اور اسی میں عمریں تمام کردیتے ہیں تو انہوں نے پوچھا کہ کیا یہ تمہارے حال سے واقف ہیں اور تمہاری پکار کو سنتے ہیں اور تمہاری…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

3 ۔ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) نے اپنے باپ سے رخصت ہوتے وقت دعائے استغفار کا وعدہ کیا تھا۔ (دیکھئے سورة مریم :74) چناچہ انہوں نے یہ دعا فرمائی لیکن بعد میں جب انہیں یہ معلوم ہوا کہ ایک مشرک اور دشمن حق کے لئے دعائے مغفرت کرنا صحیح نہیں ہے تو انہوں نے اس دعا سے رجوع فرما لیا۔ جیسا کہ سورة توبہ میں ہے : فلما تبین لہٗ انہ عدو للہ تبرء منہ (آیت :4…) پھر جب اسے معلوم ہوگیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو وہ اس سے بیزار ہوگیا۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 85–86

(26:85) ورثۃ : اسم فاعل جمع مذکر مجرور مضاف وارث کی جمع ۔ مالک۔ حصہ دار۔ ورث یرث (حسب) ورث، ارث، ارثۃ، وراثۃ سے۔ جنۃ۔ مضاف ، مضاف و مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ ورثۃ کا جو مضاف ہے جنۃ النعیم کا۔ النعیم۔ نعمت ۔ راحت۔ عیش۔ اسم معرفہ۔ مضاف الیہ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 69–104

لغات القرآن : آیت نمبر 69 تا 104 : اتل (تلاوت کر۔ سنادے) اصنام (صنم) بت ‘ نظل (ہم رہتے ہیں) ‘ عکفین (عاکف) جم کر بیٹھنے والے ‘ یسمعون ( وہ سنتے ہیں) ‘ وجدنا ( ہم نے پایا) ‘ الا قدمون (پہلے) ‘ یطعمنی (وہ مجھے کھلاتا ہے) ‘ یسقین (یسقینی) وہ مجھے پلاتا ہے ‘ یشفین (یشفینی) وہ مجھے شفا (صحت) دیتا ہے ‘ یمیتنی (وہ مجھے موت دے گا) ‘ یحیین (یحیینی) وہ مجھے زندگی دے گا ‘ اطمع (مید امید کرتا ہوں۔ میں توقع رکھتا ہوں) ‘ حکما (علم و حکمت (فیصلہ) ‘ الحقنی (مجھے ملادے) ‘ لسان صدق (ذکر خیر۔ اچھا ذکر۔ سچی زبان) ‘ لاتخزنی (مجھے رسوانہ کیجئے گا) ‘ یبعثون (وہ اٹھائے جائیں گے) ‘ من اتی ( جو آیا۔ (جو لایا) ‘ قلب…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 69–86

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ۔ (ف 1) اے پیغمبر تم ان مشرکوں پر حضرت ابراہیم کا قصہ بیان کرو یہ اپنے آپ کو ان کی ہی طرف نسبت کرتے ہیں اور ان کو حضرت ابراہیم کی فرزندی کا بڑا دعوی ہے اور اس پر فخر کرتے ہیں ذراحضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ تو پڑھ کر سنادو ہمارے ساتھ حضرت ابراہیم کا کیا معاملہ تھا اور یہ جو اپنے آپ کو ان کی اولاد بتاتے ہیں یہ ہمارے ساتھ کس طرح معاملہ رکھتے ہیں جب حضرت ابراہیم نے اپنے باپ دادا اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کس کو پوجتے ہو، اگرچہ وہ بھی جانتے تھے کہ بتوں کو پوجتے ہیں مگر انکو الزام دینے کے لیے ان سے سوال کیا، اس کے جواب میں بولے کہ ہم بتوں کو پوجتے ہیں اور ہم…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

86۔ اور میرے باپ کو ایمان و ہدایت کی توفیق دے کر اس کی مغفرت کردے کیونکہ وہ گمراہوں میں سے ہے چونکہ وہ گمر کردہ راہ اور مشرک ہے اس لئے اس کو ایمان کی توفیق عنایت کر کہ وہ ایمان لے آئے تو پھر اس کے تمام قصور اور گناہ بخشدے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 85–90

ف 4۔ تاکہ اس کو دیکھیں اور یہ معلوم کر کے کہ ہم اس میں جاویں گے خوش ہوں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے اللہ ! میرے والد کو بخش دے کہ وہ بھولے ہوؤں سے ہے : 86۔ واضح ہوگیا کہ والدین اور عزیز و اقارب زندہ موجود ہوں تو بھی ان کی بھلائی کی دعا اپنے رب کریم سے کرتے رہنا چاہئے بلکہ اگر وہ ہدایت پر نہ ہوں تو ضرور کرنی چاہئے اور الحاح وزاری کے ساتھ کرنی چاہئے اللہ سے رو رو کر گڑ گڑا کر نہایت عاجزی سے ان کے لئے مغفرت طلب کرنا چاہئے اور ان کے دکھ سکھ میں ہر حال میں شریک ہونا چاہئے جب تک وہ زندہ ہوں وہ مسلم ہوں یا غیر مسلم ان کے ساتھ اچھا سلوک اور ان کا ادب واحترام ‘ انکے لئے دعائے مغفرت جاری رکھنی چاہئے اور مشرک نہ ہوں تو کتنے ہی گناہگار ہوں انکے لئے دعا کا سلسلہ ان کے لئے دعائے مغفرت جاری رکھنی چاہئے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 86–87

Supplication for the absolution of disbelievers is not allowed وَاغْفِرْ‌ لِأَبِي إِنَّهُ كَانَ مِنَ الضَّالِّينَ ﴿86﴾ And forgive my father. Indeed he was among those who went astray. (26:86) This prayer of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) ill seems to be against the following verse: مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَن يَسْتَغْفِرُ‌وا لِلْمُشْرِ‌كِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْ‌بَىٰ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ "It is not for the Prophet and the believers to seek forgiveness for the Mushriks, even if they are kinsmen, after it became clear to them…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 85–86

63 Some commentators have interpreted this prayer of Prophet Abraham for his father's forgiveness to imply that he had prayed to God to grant his father the favour to accept Islam because forgiveness in any case is inter-linked with and dependent upon Faith. But this interpretation is not borne out by the other verses of the Qur'an. The Qur'an says that when Prophet Abraham left his home at the tyrannical treatment of his father, he said, "I bid farewell to you; I shall pray to my Lord to forgive you for He is very kind to me." (Maryam: 47) To fulfill this promise, he not only prayed for the…

Read the full tafseer →