Explained with ayahs 83–89
حکم سے کیا مراد ہے ؟
حکم سے مراد علم عقل الوہیت کتاب اور نبوت ہے۔ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ مجھے یہ چیزیں عطا فرما کر دنیا اور آخرت میں نیک لوگوں میں شامل رکھ۔ چناچہ صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ نے بھی آخری وقت میں دعا مانگی تھی کہ اے اللہ اعلیٰ رفیقوں میں ملادے تین بار یہی دعا کی۔ ایک حدیث میں حضور ﷺ کی یہ دعا بھی مروی ہے۔ (اللہم احینا مسلمین وامتنا مسلمین والحقنا بالصالحین غیر خزایا ولامبدلین)۔ یعنی اے اللہ ! ہمیں اسلام پر زندہ رکھ اور مسلمانی کی حالت میں ہی موت دے اور نیکوں میں ملادے۔ در آنحالیکہ نہ رسوائی ہو نہ تبدیلی۔ پھر اور دعا کرتے ہیں کہ میرے بعد بھی میرا ذکر خیر لوگوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
سورة الشُّعَرَآء 63
بعض مفسرین نے حضرت ابراہیم ؑ کی اس دعائے مغفرت کی یہ توجیہ بیان کی ہے کہ مغفرت بہرحال اسلام کے ساتھ مشروط ہے اس لیے آنجناب کا اپنے والد کی مغفرت کے لیے دعا کرنا گویا اس بات کی دعا کرنا تھا کہ اللہ تعالیٰ اسے اسلام لانے کی توفیق عطا فرمائے۔ لیکن قرآن مجید میں اس کے متعلق مختلف مقامات پر جو تصریحات ملتی ہیں وہ اس توجیہ سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ قرآن کا ارشاد ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ اپنے والد کے ظلم سے تنگ آ کر جب گھر سے نکلنے لگے تو انہوں نے رخصت ہوتے وقت فرمایا سَلٰمٌ عَلَیْکَ سَاَسْتَغْفِرُ لَکَ رَبِّیٓ اِنَّہ کَانَ بِیْ حَفِیًّا (مریم، آیت 47) " آپ کو سلام ہے، میں آپ کے لیے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
معارف و مسائل
قیامت تک انسانوں میں ذکر خیر رکھنے کی دعا
وَاجْعَلْ لِّيْ لِسَانَ صِدْقٍ فِي الْاٰخِرِيْنَ اس آیتہ مبارکہ میں " لسان " سے مراد ذکر ہے اور " لی " کا لام نفع کے لئے ہے آیتہ کے معنی یہ ہوئے کہ اے خدایا مجھے ایسے پسندیدہ طریقے اور عمدہ نشانیاں عطا فرما جس کی دوسرے لوگ قیامت تک پیروی کریں، اور مجھے ذکر خیر اور عمدہ صفت سے یاد کیا کریں (ابن کثیر و روح المعانی) اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کی دعا قبول فرمائی۔ یہود و نصاری اور مشرکین مکہ تک ملتہ ابراہیمی سے محبت و الفت رکھتے ہیں اور اپنے آپ کو اس کی طرف منسوب کرتے ہیں، اگرچہ ان کا طریقہ ملت ابراہیمی کے خلاف کفر و شرک ہے مگر وہ دعویٰ یہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–85
83-85 ہجرت کے وقت حضرت ابراہیم کی دعا
یہ سیدنا ابراہیم ؑ کی وہ دعا ہے جو اعلان برأت و ہجرت کے اس نازک موقع پر انہوں نے کی ہے۔
رب ھب لی حکماً حکم سے مراد، جیسا کہ آیت 21 کے تحت گزر چکا ہے۔ وہ صحیح قوت فیصلہ ہے جو حضرات انبیاء (علیہم السلام) کو خاص طور پر عطا ہوتی ہے۔ اس وقت حضرت ابراہیم ؑ چونکہ ایک نہایت اہم قدم اٹھا رہے تھے اور اس بات کے محتاج تھے کہ آگے کے تمام مراحل میں ان کو صحیح فیصلہ کی توفیق اور خدا کی رہنمائی حاصل ہو اس وجہ سے انہوں نے سب سے پہلے اسی کے لئے دعا فرمائی۔
والحقنی بالصلحین حق کی خاطر اپنے خاندان اور اپنی قوم سے بھی انہوں نے اعلان برأت فرما دیا تھا اس وجہ سے یہ دعا بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
86-1یہ دعا اس وقت کی تھی، جب ان پر واضح نہیں تھا کہ مشرک (اللہ کے دشمن) کے لئے دعائے مغفرت جائز نہیں، جب اللہ نے واضح کردیا، تو انہوں نے اپنے باپ سے بیزاری کا اظہار کردیا (وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِيْمَ لِاَبِيْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَھَآ اِيَّاهُ ۚ فَلَمَّا تَـبَيَّنَ لَهٗٓ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُ ۭ اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيْمٌ) 9۔ التوبہ :114)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–85
17: حضرت ابراہیم ؑ کا ادب ملاحظہ فرمائیے کہ انہوں نے بیمار ہونے کی نسبت تو اپنی طرف فرمائی، اور شفا دینے کو اللہ تعالیٰ کا عمل قرار دیا، اس میں یہ اشارہ بھی ہوسکتا ہے کہ بیماری انسان کی کسی اپنی غلطی کے سبب آتی ہے اور شفا براہ راست اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–89
رب ھب ……سلیم (89)
حضرت ابراہیم (علیہ الصلوۃ والسلام) کی اس دعا پر ذرا غور فرمائیں کہ اس میں اس دنیا کے اغراض میں سے کو یء غرض نہیں ہے۔ یہاں تک کہ یہ بھی نہیں کہا کہ اے اللہ ، مجھے صحت عطا کیجیے۔ یہ پوری دعا بلند مقاصد اور اعلیٰ اور پاکیزہ شعور کی تحریک ہے۔ یہ اس خدا رسیدہ دل کی دعا ہے جس کے پیش نظر اللہ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اس کے ہاں اللہ کے سوا ہر چیز کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور معرفت کے جس مقام تک یہ دل پہنچا ہے اس کے آگے مزید کا طلبگار ہے اور ایک ایسے قلب سے نکلی ہوئی دعا بیم و رجا کی حالت میں ہے کیونکہ اس نے اللہ کے کرم دیکھے ہوئے ہیں اور مزید کا امیدوار ہے۔
رب ھب لی حکما (26 :…
Read the full tafseer →6 یعنی جنت کا جو آدم کی میراث ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–88
آیت 88 یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوْنَ ”
جس دن اللہ کی پکڑ سے نہ دولت بچا سکے گی اور نہ اولاد۔
Read the full tafseer →61 وارث تو وہ اس لحاظ سے ہوں گے کہ ان کے جد امجد کا اصل مسکن جنت ہی تھا۔ اور جنت کے وارث صالحین ہی ہوں گے۔ جن کے ساتھ ملانے کے لئے حضرت ابراہیم دعا فرما رہے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
63۔ (سو تو اس کے لیے مغفوریت کے اسباب، یعنی ایمان اور اس کے برکات میسر کردے) دعا آزر کی زندگی ہی کے آخر زمانہ کی معلوم ہوتی ہے۔ (آیت) ” واجعلنی ........ النعیم “۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس سے ان لوگوں کا رد نکل آیا جو جنت سے مستغنی ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
آیت نمبر 69 تا 104
ترجمہ : وَاتْلُ عَلَیھِمْ اور کفار کو ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ (بھی) سنائے اِذْ قَالَ لِاَبِیْہٖ ، نَبَا اِبراہیم سے بدل الاشتمال ہے جبکہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد صاحب اور اپنی قوم سے کہا تم کس چیز کی بندگی کرتے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا بتوں کی بندگی کرتے ہیں فعل کی صراحت کی، تاکہ اس پر فَنَطَلُّ لَھَا عَاکِفِیْنَ کا عطف کرسکیں ہم تو دن بھر ان کی عبادت میں مشغول رہتے ہیں یعنی ہم پابندی سے دن بھر ان کی عبادت کرتے ہیں، اور انہوں نے جواب میں (فَنَظَلُّ ) کا اضافہ (بتوں کی) عبادت پر فخر کے طور پر کیا تو ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کیا یہ تمہاری سنتے بھی ہیں جب…
Read the full tafseer →واجعلنی من ورثۃ جنۃ النعیم۔ اور مجھے جنت النعیم کے مستحقین میں سے کر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–86
(84 تا 86) اور میرا ذکر حسن میرے بعد آنے والوں میں جاری رکھ اور مجھے جنت کے مستحقین میں سے کر اور میرے باپ کو ہدایت عطا فرما وہ گمراہ کافر لوگوں میں سے ہے۔
Read the full tafseer →وَاجْعَلْنِيْ مِنْ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيْمِ : ”وَّرَثَةِ“ کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة مومنون کی آیت (11) پچھلی آیت میں دنیا کی سعادت مانگی اور اس آیت میں آخرت کی سعادت طلب کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–89
(رب ھب لی۔۔۔۔ )
رب ھب لی حکما والحقنی بالصلحین حکم سے مراد تیری، تیری حدود اور تیرے احکام کی معرفت ہے۔ یہ حضرت ابنی عباس ؓ نے کہا۔ مقاتل نے کہا : مراد فہم اور علم ہے : یہ بھی تعبیر کی طرف راجع ہے۔ کلبی نے کہا : مراد نبوت اور مخلوق کی طرف رسالت ہے۔ والحقنی بالصلحین مجھ سے قبل سے جو انبیاء ہو گزرے ہیں درجہ میں ان کے ساتھ لاحق کر دے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : بالصلحین سے مراد اہل جنت ہیں یہ ھب لی حکما ً کی تاکید ہے۔
واجعل لی لسان صدق فل اخرین حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مراد تمام امتوں کا اس پر مجتمع ہونا ہے۔ مجاہد نے کہا : اس سے مراد اچھی تعریف ہے۔ ابن عطیہ نے کہا : مفسرین کا اس پر اجماع ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–85
1۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا یہ کہا جاتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی پہلی نعمت اپنے بندے پر اس وقت ہوتی ہے جب اس کو پیدا فرماتا ہے۔
سارہ (علیہا السلام) اپنی بہن تھی
2۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” والذی اطمع ان یغفر لی خطیئتی یوم الدین “ یعنی میں طمع رکھتا ہوں اس بات کی کہ اللہ تعالیٰ میری خطاؤں کو قیامت کے دن بخش دے اس میں ” خطیئتی “ سے مراد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ باتیں ہیں جن کا ان آیات میں ذکر کیا ہے فرمایا آیت ” انی سقیم، الصفت “ یعنی میں بیمار ہوں۔ پھر فرمایا آیت ” قال بل فعلہ، کبیرہم ہذا، (الانبیاء آیت…
Read the full tafseer →وَاجْعَلْنِيْ [ اور تو بنا دے مجھ کو ] مِنْ وَّرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيْمِ [ سدا بہار باغ کے وارثوں میں سے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–87
(وَلاَ تُخْزِنِیْ یَوْمَ یُبْعَثُوْنَ یَوْمَ لاَ یَنْفَعُ مَالٌ وَّلاَ بَنُوْنَ اِِلَّا مَنْ اَتَی اللّٰہَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ ) (اور مجھے اس دن رسوا نہ کیجیے جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے جس دن نہ کوئی مال نفع دے گا اور نہ بیٹے سوائے اس شخص کے جو قلب سلیم کے ساتھ اللہ کے پاس آئے) اس سے معلوم ہوا کہ جنت النعیم حاصل ہونے کی دعا کے ساتھ ساتھ یہ دعا بھی کرنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ شانہٗ قیامت کے دن رسوا نہ فرمائیے جنت میں تو کوئی رسوائی نہیں ہے اس سے پہلے رسوائی ہوسکتی ہے جیسا کہ بہت سے گناہ گاروں کے ساتھ ایسا ہوگا کہ قیامت کے دن رسوائی اور ذلت اور عذاب میں مبتلا ہوں گے حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
قصہ دوم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) باقوم او
قال اللہ تعالیٰ واتل علیہم نبا ابراہیم .... الیٰ .... وان ربک لھو العزیز الرحیم۔
(ربط) گزشتہ آیت میں حضرت موسیٰ کلیم اللہ (علیہ السلام) کے قصہ کا ذکر تھا اب اس کے بعد آپ ﷺ کے جد امجد حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کرتے ہیں کہ ان کو اپنی قوم کے مقابلہ میں کیا ابتلا پیش آیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے باپ کی گواہی کا شدید رنج تھا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم بابل کے اطراف میں آباد تھی مذھبا صابی یعنی ستارہ پرست تھے اور بت پرست بھی تھے کواکب اور نجوم کی تاثیر کے قائل تھے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے دلائل سے حق واضح کردیا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
38:۔ اور مجھے جنتِ نعیم کے وارثوں میں شامل فرما۔ ” واغفر لابی الخ “ اور میرا باپ مشرکین میں سے ہے اسے ایمان واسلام کی توفیق عطا فرما کر اس کے گناہ معاف فرما دے۔ واغفر لابی بالھدایۃ والتوفیق للایمان (ابو السعود ج 6 ص 539) ۔ ” و لا تخزنی یوم یبعثون “ اور قیامت کے دن سر محشر مجھے رسوا نہ کیجیو۔ انبیاء (علیہم السلام) کو تو قیامت کے دن سب سے زیادہ اعزازو اکرام سے نوازا جائے گا، ان کی رسوائی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے شدت خوف سے بطور تواضع یا بغرض تعلیم غیر یہ دعا مانگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–89
ربط آیات
گزشتہ آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ تھا کہ انہوں نے اپنے باپ اور قوم کو توحید کا درس دیا ۔ آپ نے یہ انداز اختیار کیا کہ خود ان مشرکین سے ہی پوچھا کہ تم رکن چیزوں کی پوجا کرتے ہو انہوں نے کہا کہ ہم تو ان بتوں پر جھکے پڑتے ہیں ۔ فرمایا ، کیا یہ بت تمہاری بات کو سنتے ہیں یا تمہارے لیے کسی نفع نقصان کے مالک ہیں ۔ کہنے لگے ، ہم یہ باتیں تو نہیں جانتے ، البتہ ہم نے اپنے آبائو اجداد کو ان کی پرستش کرتے دیکھا ہے ، لہٰذا ہم بھی انہی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ان کی پوجا کر رہے ہیں ۔ فرمایا تم تو ان کو اپنا معبود اور کار ساز سمجھتے ہو ۔ مگر یہ سب میرے دشمن ہیں سوائے رب العالمین کے…
Read the full tafseer →وَاجْعَلْنِيْ مِنْ وَّرَثَۃِ جَنَّۃِ النَّعِيْمِ 85ۙ
ورث
الوِرَاثَةُ والإِرْثُ : انتقال قنية إليك عن غيرک من غير عقد، ولا ما يجري مجری العقد، وسمّي بذلک المنتقل عن الميّت فيقال للقنيةِ المَوْرُوثَةِ : مِيرَاثٌ وإِرْثٌ. وتُرَاثٌ أصله وُرَاثٌ ، فقلبت الواو ألفا وتاء، قال تعالی: وَتَأْكُلُونَ التُّراثَ [ الفجر/ 19] وقال عليه الصلاة والسلام : «اثبتوا علی مشاعرکم فإنّكم علی إِرْثِ أبيكم» «2» أي :
أصله وبقيّته، قال الشاعر :
461-
فينظر في صحف کالرّيا ... ط فيهنّ إِرْثٌ کتاب محيّ
«3» ويقال : وَرِثْتُ مالًا عن زيد، ووَرِثْتُ زيداً :
قال تعالی: وَوَرِثَ سُلَيْمانُ داوُدَ [ النمل/ 16] ، وَوَرِثَهُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–94
1 ؎۔ یعنی معبود اور ان کے پوجنے والے گمراہ لوگ اور ان کو بہکانے والے شیاطین سب کے سب جہنم میں اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–87
وَاجْعَلْنِیْ مِنْ وَّرَثَۃِ جَنَّۃِ النَّعِیْمِ ۔ وَاغْفِرْ لِاَبِیْٓ اِنَّـہٗ کَانَ مِنَ الضَّآلِّـیْنَ ۔ وَلاَ تُخْزِنِیْ یَوْمَ یُبْعَثُوْنَ ۔ (الشعرآء : 85 تا 87)
(اور مجھے نعمتوں والی جنت کے وارثوں میں شامل فرما۔ اور میرے باپ کو معاف فرما دے، بیشک وہ گمراہوں میں سے ہے۔ اور مجھے اس دن رسوا نہ کر جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے۔ )
رب العالمین ! مجھے نعمتوں والی جنت کے وارثوں میں سے بنا۔ تیرا انتہائی کرم ہے کہ تو نے مجھے نبوت سے نوازا اور لوگوں کی رہنمائی کے منصب پر فائز کیا، لیکن تیری دی ہوئی ہدایت سے میں یہ بات جانتا ہوں کہ تیری ذات انتہائی بےنیاز اور بےپرواہ ہے۔ اس لیے تیری بارگاہ کے مقربین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–88
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی دعا کے آخر میں اپنے رب کے حضور یہ عرض کی کہ قیامت کے دن مجھے رسوائی سے محفوظ فرمانا۔ اب قیامت کے بارے میں ذکر شروع ہوتا ہے۔
مفسرین کی ان الفاظ کے بارے میں دو قسم کی سوچ ہے ایک طبقہ کا خیال ہے کہ یہ بھی ابراہیم (علیہ السلام) کے الفاظ ہیں۔ جنھیں اللہ تعالیٰ نے اپنے مقدس الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔ دوسری جماعت کا نقطہ نظر ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کے بعد یہ اللہ تعالیٰ کا خطاب ہے کہ قیامت کے دن مالدار کو اس کے مال کا کچھ فائدہ نہیں ہوگا اور نہ ہی اولاد اپنے باپ کی مدد کرسکے گی۔ وہی انسان ذلّت سے محفوظ رہے گا جو قلب سلیم کے ساتھ اپنے…
Read the full tafseer →85: وَاجْعَلْنِیْ مِنْ (تو مجھے بنا دے)
نحو : یہ وارثًا محذوف کے متعلق ہے ای وارثامن ورثۃ جنۃ النعیم۔
وَّرَثَۃِ جَنَّۃِ النَّعِیْمِ (نعمتوں والی جنت) یعنی اس میں باقی رہنے والے لوگوں میں سے ہے۔
Read the full tafseer →85۔ واجعلنی من ورثہ جنۃ النعیم۔ ان لوگوں میں سے جن کو تونے جنت کی نعمتوں سے نوازا ہے انہی میں سے مجھے بھی بنا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–85
69 تا 85:۔ ابراہیم (علیہ السلام) کو بچپن میں ہی نیک راہ کی ہدایت دی اور بڑے ہونے تک وہ اپنی قوم کو بتوں کی عبادت سے منع کرتے رہے یہی ذکر ان آیتوں میں ہے کہ انہوں نے اپنے باپ اور قوم سے کہا کہ تم ان بتوں کی پوجا کیوں کرتے ہو کیا سنتے ہیں جب پکارتے ہو تم ان کو یا بھلا کرتے ہیں تمہارا یا کچھ برا کرتے ہیں ان بت پرستوں نے جواب دیا کہ یہ بت نہ تو ہماری التجا کو سنتے ہیں نہ ہمارے بھلے برے کے کچھ مختار ہیں لیکن ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا کہ ان کو ایسا ہی کرتے دیکھا اس واسطے ہم ان کے ہی قدموں پر چل رہے ہیں لفظ ھل عربی زبان میں ایسے ہی موقع پر آتا ہے کہ جس سے اس لفظ سے پہلی بات کا انکار اور بعد کی بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
آیت 69 سے 104
فرمایا : اے محمد ! ﷺ آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس خاص حالت کی جلیل القدر ! خبر سنا دیجئے اگرچہ ان کی زندگی کے تمام پہلو عظیم واقعات سے پر ہیں۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لئے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا : (اذ قال لابیہ وقومہ ما تعبدون۔ قالو) ” جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انہوں نے کہا “ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے : (نعبد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–88
سچی ناموری کی دعا
قول باری ہے : (فاجعل لی لسان صدق فی الاخرین۔ اور بعد کے آنے والوں میں مجھے سچی ناموری عطا فرما) یعنی عمدہ تعریف۔ چناچہ یہود بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نبوت کا اقرار کرتے ہیں اور اسی طرح نصاریٰ اور دنیا کی اکثر قومیں بھی۔ ایک قول کے مطابق آیت کا مفہوم ہے۔” میری اولاد میں سے ایسے افراد پیدا کر جو حق کے علمبردار بن کر تمام دنیا کو اس کی دعوت دیں۔ “ اس میں واضح اشارہ حضور ﷺ کی ذات اقدس اور آپ پر ایمان لانے والوں کی طرف ہے۔
Read the full tafseer →49 جنت کے وارثوں میں شمولیت کی دعا و درخواست : سو حضرت ابراہیم نے اپنے رب کے حضور اپنی دعا میں مزید عرضا کیا اور شامل فرما دے مجھے نعمتوں بھری جنت کے وارثوں میں۔ " وراثت " کے لفظ سے تعبیر بھی اپنے اندر بڑے وسیع مفاہیم رکھتی ہے۔ مثلًا یہ کہ وہاں سدا رہنا نصیب ہوگا کہ وراثت کی ملکیت قطعی اور دائمی ہوتی ہے۔ لہذا وہاں سے نکالے جانے کا کوئی خوف و خطرہ نہ ہوگا۔ نیز وراثت اپنے کسی عمل کے بدلے میں نہیں ملا کرتی اسی طرح جنت بھی اپنے عمل کے بل بوتے پر نہیں بلکہ محض اللہ پاک کے فضل و کرم سے ملے گی۔ جیسا کہ حدیث پاک میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ کیونکہ ہم اگر ساری زندگی بھی نیک عمل کریں اور مسلسل نیکیاں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی قوم
تشریح : سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) بڑے جلیل القدر پیغمبر گزرے ہیں۔ ان کی خاص بات یہ ہے کہ ان کی عزت و احترام اہل قریش یہود و نصاریٰ سب ہی کرتے ہیں مگر ان کی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے آپ کے بارے میں سورة بقرہ ‘ الانعام ‘ مریم ‘ الانبیاء میں بیان ہوچکا اور آئندہ سورة اَلصّٰفّٰتِ اور اَلْمُمْتَحِنَہ میں ہوگا۔
انہوں نے بت پرستی اور شرک کو مسترد کیا اور صرف اللہ کی عبادت کی ترغیب دی۔ صاف ظاہر ہے اللہ خالق اور مالک اور ہدایت دینے والا بھی ہے جبکہ بت اور دوسری چیزیں خود اس کی پیدا کی ہوئی ہیں۔ آپ اتنے بڑے پیغمبر تھے کہ آپ کو اللہ نے خلیل اللہ ‘ یعنی اللہ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
آیات 69 تا 104
اسرارومعارف
اہل مکہ اور اہل عرب مشرکین خود کو دین ابراہیمی کا پیروکار جانتے تھے تو ارشاد ہوا کہ انہیں ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بھی سنا دیجیے کہ وہ کیا تھے ان کی تعلیمات کیا تھیں اور یہ لوگ کیا کر رہے ہیں انہیں وہ واقعہ بتائیے جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد سے سوال کیا تھا اور قوم سے بھی کہ آپ لوگ کس کی عبادت کرتے ہیں انہیں بت پرستی میں گرفتار دیکھ کر جاننا چاہا کہ آخر یہ بتوں میں کیا عقیدہ رکھتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ہم بتوں کی پوجا کرتے ہیں اور اسی میں عمریں تمام کردیتے ہیں تو انہوں نے پوچھا کہ کیا یہ تمہارے حال سے واقف ہیں اور تمہاری پکار کو سنتے ہیں اور تمہاری…
Read the full tafseer →2 ۔ پچھلی آیت میں دنیا کی سعادت مانگی اور اس آیت میں آخرت کی سعادت طلب کی۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
(26:85) ورثۃ : اسم فاعل جمع مذکر مجرور مضاف وارث کی جمع ۔ مالک۔ حصہ دار۔ ورث یرث (حسب) ورث، ارث، ارثۃ، وراثۃ سے۔
جنۃ۔ مضاف ، مضاف و مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ ورثۃ کا جو مضاف ہے جنۃ النعیم کا۔
النعیم۔ نعمت ۔ راحت۔ عیش۔ اسم معرفہ۔ مضاف الیہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
لغات القرآن : آیت نمبر 69 تا 104 :
اتل (تلاوت کر۔ سنادے) اصنام (صنم) بت ‘ نظل (ہم رہتے ہیں) ‘ عکفین (عاکف) جم کر بیٹھنے والے ‘ یسمعون ( وہ سنتے ہیں) ‘ وجدنا ( ہم نے پایا) ‘ الا قدمون (پہلے) ‘ یطعمنی (وہ مجھے کھلاتا ہے) ‘ یسقین (یسقینی) وہ مجھے پلاتا ہے ‘ یشفین (یشفینی) وہ مجھے شفا (صحت) دیتا ہے ‘ یمیتنی (وہ مجھے موت دے گا) ‘ یحیین (یحیینی) وہ مجھے زندگی دے گا ‘ اطمع (مید امید کرتا ہوں۔ میں توقع رکھتا ہوں) ‘ حکما (علم و حکمت (فیصلہ) ‘ الحقنی (مجھے ملادے) ‘ لسان صدق (ذکر خیر۔ اچھا ذکر۔ سچی زبان) ‘ لاتخزنی (مجھے رسوانہ کیجئے گا) ‘ یبعثون (وہ اٹھائے جائیں گے) ‘ من اتی ( جو آیا۔ (جو لایا) ‘ قلب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–86
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ۔
(ف 1) اے پیغمبر تم ان مشرکوں پر حضرت ابراہیم کا قصہ بیان کرو یہ اپنے آپ کو ان کی ہی طرف نسبت کرتے ہیں اور ان کو حضرت ابراہیم کی فرزندی کا بڑا دعوی ہے اور اس پر فخر کرتے ہیں ذراحضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ تو پڑھ کر سنادو ہمارے ساتھ حضرت ابراہیم کا کیا معاملہ تھا اور یہ جو اپنے آپ کو ان کی اولاد بتاتے ہیں یہ ہمارے ساتھ کس طرح معاملہ رکھتے ہیں جب حضرت ابراہیم نے اپنے باپ دادا اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کس کو پوجتے ہو، اگرچہ وہ بھی جانتے تھے کہ بتوں کو پوجتے ہیں مگر انکو الزام دینے کے لیے ان سے سوال کیا، اس کے جواب میں بولے کہ ہم بتوں کو پوجتے ہیں اور ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–87
[16] یعنی قیامت کے دن۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
حکما سمجھ بوجھ ۔ پیغمبرانہ سلسلہ ۔
Read the full tafseer →85۔ اور مجھ کو جنت نعیم کے ورثا میں سے کردے اور جنت کی میراث کے مستحقین میں سے کردے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–90
ف 4۔ تاکہ اس کو دیکھیں اور یہ معلوم کر کے کہ ہم اس میں جاویں گے خوش ہوں۔
Read the full tafseer →فرمایا اے میرے رب مجھے جنت نعیم کا مستحق ٹھہرادے :
85۔ اللہ کا جلیل القدر رسول ونبی اور بہت سے انبیاء کرام (علیہ السلام) کا جد اعلی اپنے پروردگار سے جنت نعیم کی درخواست کر رہا ہے اور اس طرح اپنی امت اور بعد میں آنے والی سوری امتوں پر ثابت کردیا ہے کہ انبیاء کرام (علیہ السلام) اور رسول عظام بھی لوگوں کی حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لئے نہیں بھیجے جاتے تھے بلکہ راہنمائی کے لئے مبعوث ہوتے تھے اور لوگوں کو ہر بات جو کرنے کی ہوتی کرکے دکھاتے تھے تاکہ وہ بھی ان کی پیروی میں وہی کریں جو وہ کر رہے ہیں اس لئے آپ کی دعا کا مخصوص انداز واضح کیا جا رہا ہے کہ تاکہ ہمارے باعث اسوہ اور نمونہ ہو کہ باوجود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 84–85
Commentary
وَاجْعَل لِّي لِسَانَ صِدْقٍ فِي الْآخِرِينَ
And destine for me a truthful description among the next generations. (26:84)
The word لِسَانَ (lisan, which literally means tongue) is used in this verse in the sense of description and 'for me' means 'for my benefit. Thus meaning of the prayer is ` 0 Allah, grant me such delectable ways and nice signs that others may follow until the Dooms Day, and they remember me with good words and nice attributes'. (Ibn Kathir and Ruh al-Mani) Allah Ta’ ala has accepted the supplication of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) ، including Jews,…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 85–86
63 Some commentators have interpreted this prayer of Prophet Abraham for his father's forgiveness to imply that he had prayed to God to grant his father the favour to accept Islam because forgiveness in any case is inter-linked with and dependent upon Faith. But this interpretation is not borne out by the other verses of the Qur'an. The Qur'an says that when Prophet Abraham left his home at the tyrannical treatment of his father, he said, "I bid farewell to you; I shall pray to my Lord to forgive you for He is very kind to me." (Maryam: 47) To fulfill this promise, he not only prayed for the…
Read the full tafseer →