Ash-Shu'araa 26:84

Ash-Shu'araa · from ayah 84

26:84

وَاجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَ ۟ۙوَاجۡعَلْ لِّىۡ لِسَانَ صِدۡقٍ فِى الۡاٰخِرِيۡنَۙ

اور پچھلے لوگوں میں میرا ذکر نیک (جاری) کر

— Fateh Muhammad Jalandhari

And grant me a reputation of honor among later generations.

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 5 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:84

اور بعد کے آنے والوں میں مجھ کو سچی ناموری عطا کر

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور پچھلے لوگوں میں میرا ذکر نیک (جاری) کر

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور میرا ذکر خیر پچھلے لوگوں میں بھی باقی رکھ

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور آنے والی نسلوں میں میرے لیے وہ زبانیں پیدا فرمادے جو میری سچائی کی گواہی دیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور میری سچی ناموری رکھ پچھلوں میں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور میرے لئے بعد میں آنے والوں میں (بھی) ذکرِ خیر اور قبولیت جاری فرما،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور پیچھے آنے والوں میں میرے لیے سچی ناموری رکھ۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور پچھلے لوگوں میں مجھے سچی ناموری عطا کر۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور بعد والوں میں میرا نیک ذکر قائم رکھ

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور نواز دے مجھے سچی ناموری سے پچھلوں میں،

— مولانا اسحاق مدنی

اور میرا ذکر آئندہ آنے والوں میں جاری رکھ۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور میرے لیے بنا دے سچی ناموری پچھلے لوگوں میں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور پچھلے لوگوں میں میرا ذکر نیک جاری رکھ۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and grant me an honourable reputation among posterity,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and destine for me a truthful description among the next generations,

— Muhammad Taqi Usmani

and destine for me a truthful description among the next generations,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And grant me an honorable mention in later generations.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And give unto me a good report in later generations.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And grant me a reputation of honor among later generations.

— Saheeh International

Make my words come true in the future.

— Muhammad Sarwar

And ordain for me a goodly mention among posterity

— Muhammad Habib Shakir

And appoint for me an honourable mention among the posterity

— Abdul Majid Daryabadi

"Grant me honourable mention on the tongue of truth among the latest (generations);

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 26:84

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 83–89

حکم سے کیا مراد ہے ؟ حکم سے مراد علم عقل الوہیت کتاب اور نبوت ہے۔ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ مجھے یہ چیزیں عطا فرما کر دنیا اور آخرت میں نیک لوگوں میں شامل رکھ۔ چناچہ صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ نے بھی آخری وقت میں دعا مانگی تھی کہ اے اللہ اعلیٰ رفیقوں میں ملادے تین بار یہی دعا کی۔ ایک حدیث میں حضور ﷺ کی یہ دعا بھی مروی ہے۔ (اللہم احینا مسلمین وامتنا مسلمین والحقنا بالصالحین غیر خزایا ولامبدلین)۔ یعنی اے اللہ ! ہمیں اسلام پر زندہ رکھ اور مسلمانی کی حالت میں ہی موت دے اور نیکوں میں ملادے۔ در آنحالیکہ نہ رسوائی ہو نہ تبدیلی۔ پھر اور دعا کرتے ہیں کہ میرے بعد بھی میرا ذکر خیر لوگوں میں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الشُّعَرَآء 62 یعنی بعد کی نسلیں مجھے خیر کے ساتھ یاد کریں۔ میں دنیا سے وہ کام کر کے نہ جاؤں کہ نسل انسانی میرے بعد میرا شمار ان ظالموں میں کرے جو خود بگڑے ہوئے تھے اور دنیا کو بگاڑ کر چلے گئے، بلکہ مجھ سے وہ کارنامے انجام پائیں جن کی بدولت رہتی دنیا تک میری زندگی خلق خدا کے لیے روشنی کا مینار بنی رہے اور مجھے انسانیت کے محسنوں میں شمار کیا جائے۔ یہ محض شہرت و ناموری کی دعا نہیں ہے بلکہ سچی شہرت اور حقیقی ناموری کی دعا ہے جو لازماً ٹھوس خدمات اور بیش قیمت کارناموں ہی کے نتیجے میں حاصل ہوتی ہے۔ کسی شخص کو اس چیز کا حاصل ہونا اپنے اندر دو فائدے رکھتا ہے۔ دنیا میں اس کا فائدہ یہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 84–85

معارف و مسائل قیامت تک انسانوں میں ذکر خیر رکھنے کی دعا وَاجْعَلْ لِّيْ لِسَانَ صِدْقٍ فِي الْاٰخِرِيْنَ اس آیتہ مبارکہ میں " لسان " سے مراد ذکر ہے اور " لی " کا لام نفع کے لئے ہے آیتہ کے معنی یہ ہوئے کہ اے خدایا مجھے ایسے پسندیدہ طریقے اور عمدہ نشانیاں عطا فرما جس کی دوسرے لوگ قیامت تک پیروی کریں، اور مجھے ذکر خیر اور عمدہ صفت سے یاد کیا کریں (ابن کثیر و روح المعانی) اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کی دعا قبول فرمائی۔ یہود و نصاری اور مشرکین مکہ تک ملتہ ابراہیمی سے محبت و الفت رکھتے ہیں اور اپنے آپ کو اس کی طرف منسوب کرتے ہیں، اگرچہ ان کا طریقہ ملت ابراہیمی کے خلاف کفر و شرک ہے مگر وہ دعویٰ یہی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 83–85

83-85 ہجرت کے وقت حضرت ابراہیم کی دعا یہ سیدنا ابراہیم ؑ کی وہ دعا ہے جو اعلان برأت و ہجرت کے اس نازک موقع پر انہوں نے کی ہے۔ رب ھب لی حکماً حکم سے مراد، جیسا کہ آیت 21 کے تحت گزر چکا ہے۔ وہ صحیح قوت فیصلہ ہے جو حضرات انبیاء (علیہم السلام) کو خاص طور پر عطا ہوتی ہے۔ اس وقت حضرت ابراہیم ؑ چونکہ ایک نہایت اہم قدم اٹھا رہے تھے اور اس بات کے محتاج تھے کہ آگے کے تمام مراحل میں ان کو صحیح فیصلہ کی توفیق اور خدا کی رہنمائی حاصل ہو اس وجہ سے انہوں نے سب سے پہلے اسی کے لئے دعا فرمائی۔ والحقنی بالصلحین حق کی خاطر اپنے خاندان اور اپنی قوم سے بھی انہوں نے اعلان برأت فرما دیا تھا اس وجہ سے یہ دعا بھی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

84-1یعنی جو لوگ میرے بعد قیامت تک آئیں گے، وہ میرا ذکر اچھے لفظوں میں کرتے رہیں، اس سے معلوم ہوا کہ نیکیوں کی جزا اللہ تعالیٰ دنیا میں ذکر جمیل اور ثنائے حسن کی صورت میں بھی عطا فرماتا ہے۔ جیسے حضرت ابراہیم ؑ کا ذکر خیر ہر مذہب کے لوگ کرتے ہیں، کسی کو بھی ان کی عظمت و تکریم سے انکار نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 80–85

17: حضرت ابراہیم ؑ کا ادب ملاحظہ فرمائیے کہ انہوں نے بیمار ہونے کی نسبت تو اپنی طرف فرمائی، اور شفا دینے کو اللہ تعالیٰ کا عمل قرار دیا، اس میں یہ اشارہ بھی ہوسکتا ہے کہ بیماری انسان کی کسی اپنی غلطی کے سبب آتی ہے اور شفا براہ راست اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 83–89

رب ھب ……سلیم (89) حضرت ابراہیم (علیہ الصلوۃ والسلام) کی اس دعا پر ذرا غور فرمائیں کہ اس میں اس دنیا کے اغراض میں سے کو یء غرض نہیں ہے۔ یہاں تک کہ یہ بھی نہیں کہا کہ اے اللہ ، مجھے صحت عطا کیجیے۔ یہ پوری دعا بلند مقاصد اور اعلیٰ اور پاکیزہ شعور کی تحریک ہے۔ یہ اس خدا رسیدہ دل کی دعا ہے جس کے پیش نظر اللہ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اس کے ہاں اللہ کے سوا ہر چیز کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور معرفت کے جس مقام تک یہ دل پہنچا ہے اس کے آگے مزید کا طلبگار ہے اور ایک ایسے قلب سے نکلی ہوئی دعا بیم و رجا کی حالت میں ہے کیونکہ اس نے اللہ کے کرم دیکھے ہوئے ہیں اور مزید کا امیدوار ہے۔ رب ھب لی حکما (26 :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی ایسے اعمال مرضیہ اور آثار حسنہ کی توفیق دے کر پیچھے آنے والی نسلیں ہمیشہ میرا ذکر خیر کریں اور میرے راستہ پر چلنے کی طرف راغب ہوں۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آخر زمانے میں میرے گھرانے سے نبی ہو اور امت ہو، اور میرا دین تازہ کریں۔ چناچہ یہ ہی ہوا کہ حق تعالیٰ نے ابراہیم کو دنیا میں قبول عام عطا فرمایا۔ ان کی نسل سے خاتم الانبیاء ﷺ کو مبعوث کیا جنہوں نے ملت ابراہیمی کی تجدید کی اور فرمایا کہ میں ابراہیم کی دعا ہوں، آج بھی ابراہیم کا ذکر خیر اہل ملل کی زبانوں پر جاری ہے اور امت محمدیہ تو ہر نماز میں " کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی اِبْرَاہِیْمَ " اور " کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی اِبْرَاہِیْمَ " پڑھتی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 83–84

آیت 84 وَاجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَ ” یعنی بعد میں آنے والی نسلیں میرا ذکر اچھے انداز میں کریں اور میرا نام عزت سے لیں۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

60 یعنی اس دنیا میں، میں ایسے اچھے کام کرسکوں کہ بعد میں آنے والے لوگ میرا ذکر اچھے الفاظ میں کیا کریں۔ حضرت ابراہیم کی یہ دعا حرف بحرف قبول ہوگئی۔ دنیا کے اکثر اہل مذاہب آپ کو اپنا دینی پیشوا ضرور تسلیم کرتے ہیں۔ اگرچہ حضرت ابراہیم کی تعلیم سے بہت سی باتوں میں منحرف ہوچکے ہیں۔ اسلام نے از سر نو دین ابراہیمی کو زندہ کیا۔ اور ہر نماز میں دورد کو واجب قرار دے کر آپ کا ذکر خیر بھی جاری کیا۔ مگر افسوس ہے کہ دوسرے مذاہب کی طرح مسلمان بھی خالص دین ابراہیمی سے ہٹ چکے ہیں۔ اور اپنے دین میں شرکت کی آمیزش کرلی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 83–84

62۔ (تاکہ وہ لوگ میرے طریق پر چلیں اور میرے لیے اضافہ ثواب وحسنات کا باعث ہوں) (آیت) ” بالصلحین “۔ صالحین سے یہاں مراد ان کی اعلی فرد یعنی انبیاء عالی شان ہیں۔ (آیت) ” ھب لی حکما “۔ نفس حکمت تو حضرت کو دعا کے وقت بھی حاصل تھی، دعا سے مقصود جامعیت علم وعقل میں مزید حصول کمال معلوم ہوتا ہے۔ (آیت) ” رب ھب لی “۔ ابراہیم (علیہ السلام) خلیل ابھی تک برابر صیغہ غائب استعمال کررہے تھے، (آیت) ” ھو یھدین، ھو یطعمنی “۔ وغیرہ، صفات کمال بیان کرتے کرتے غلبہ، حضور سے براہ راست مناجات شروع کردیتے ہیں۔ (آیت) ” واجعل لی لسان صدق فی الاخرین “۔ فقہاء محققین نے یہیں سے یہ نکالا ہے کہ انسان کا اپنے ذکر خیر کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 69–104

آیت نمبر 69 تا 104 ترجمہ : وَاتْلُ عَلَیھِمْ اور کفار کو ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ (بھی) سنائے اِذْ قَالَ لِاَبِیْہٖ ، نَبَا اِبراہیم سے بدل الاشتمال ہے جبکہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد صاحب اور اپنی قوم سے کہا تم کس چیز کی بندگی کرتے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا بتوں کی بندگی کرتے ہیں فعل کی صراحت کی، تاکہ اس پر فَنَطَلُّ لَھَا عَاکِفِیْنَ کا عطف کرسکیں ہم تو دن بھر ان کی عبادت میں مشغول رہتے ہیں یعنی ہم پابندی سے دن بھر ان کی عبادت کرتے ہیں، اور انہوں نے جواب میں (فَنَظَلُّ ) کا اضافہ (بتوں کی) عبادت پر فخر کے طور پر کیا تو ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کیا یہ تمہاری سنتے بھی ہیں جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واجعل لی لسان صدق فی الاخرین۔ اور میرا تذکرۂ خیر آنے والے لوگوں میں کر دے۔ یعنی میری اچھی تعریف اور بھلائی کا ذکر اور قبول عام آئندہ لوگوں کی زبانوں پر کر دے (کہ سب مجھے اچھا کہیں کوئی برائی کے ساتھ میرا ذکر نہ کرے) یا یہ مطلب ہے کہ آنے والی امتیں اگر میری ثنا کریں تو وہ سچی ہو (میری غیر واقعی اور غلط تعریف نہ کریں) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 84–86

(84 تا 86) اور میرا ذکر حسن میرے بعد آنے والوں میں جاری رکھ اور مجھے جنت کے مستحقین میں سے کر اور میرے باپ کو ہدایت عطا فرما وہ گمراہ کافر لوگوں میں سے ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاجْعَلْ لِّيْ لِسَانَ صِدْقٍ فِي الْاٰخِرِيْنَ۔۔ : ”لِسَانَ“ سے مراد تعریف ہے، کیونکہ وہ زبان سے ہوتی ہے۔ ”لِسَانَ صِدْقٍ“ سے مراد اچھی تعریف اور نیک شہرت ہے، یعنی قیامت تک آنے والی نسلوں میں مجھے سچی ناموری عطا فرما کہ وہ اچھے الفاظ میں میرا ذکر کرتی رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی، یہودی، عیسائی اور مسلمان سب انھیں اپنا پیشوا مانتے ہیں اور ان کا ذکر خیر کرتے ہیں۔ مسلمان تو نماز میں ”کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ“ اور ”کَمَا بَارَکْتَ عَلٰی إِبْرَاھِیْمَ“ بھی کہتے ہیں۔ [ دیکھیے بخاري : 3370 ] امام مالک ؓ نے اس آیت سے استدلال فرمایا کہ آدمی کی اس خواہش میں کوئی حرج نہیں کہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 83–89

(رب ھب لی۔۔۔۔ ) رب ھب لی حکما والحقنی بالصلحین حکم سے مراد تیری، تیری حدود اور تیرے احکام کی معرفت ہے۔ یہ حضرت ابنی عباس ؓ نے کہا۔ مقاتل نے کہا : مراد فہم اور علم ہے : یہ بھی تعبیر کی طرف راجع ہے۔ کلبی نے کہا : مراد نبوت اور مخلوق کی طرف رسالت ہے۔ والحقنی بالصلحین مجھ سے قبل سے جو انبیاء ہو گزرے ہیں درجہ میں ان کے ساتھ لاحق کر دے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : بالصلحین سے مراد اہل جنت ہیں یہ ھب لی حکما ً کی تاکید ہے۔ واجعل لی لسان صدق فل اخرین حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مراد تمام امتوں کا اس پر مجتمع ہونا ہے۔ مجاہد نے کہا : اس سے مراد اچھی تعریف ہے۔ ابن عطیہ نے کہا : مفسرین کا اس پر اجماع ہے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 78–85

1۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا یہ کہا جاتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی پہلی نعمت اپنے بندے پر اس وقت ہوتی ہے جب اس کو پیدا فرماتا ہے۔ سارہ (علیہا السلام) اپنی بہن تھی 2۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” والذی اطمع ان یغفر لی خطیئتی یوم الدین “ یعنی میں طمع رکھتا ہوں اس بات کی کہ اللہ تعالیٰ میری خطاؤں کو قیامت کے دن بخش دے اس میں ” خطیئتی “ سے مراد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ باتیں ہیں جن کا ان آیات میں ذکر کیا ہے فرمایا آیت ” انی سقیم، الصفت “ یعنی میں بیمار ہوں۔ پھر فرمایا آیت ” قال بل فعلہ، کبیرہم ہذا، (الانبیاء آیت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاجْعَلْ [ اور تو بنا دے ] لِّيْ [ میرے لئے ] لِسَانَ صِدْقٍ [ سچائی کی زبان ] فِي الْاٰخِرِيْنَ [ آخری لوگوں میں ] نوٹ۔ 1: آیت۔ 84 میں لسان سے مراد ذکر ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ اے خدا یا مجھے ایسے پسندیدہ طریقے اور عمدہ نشانیاں عطا فرما جس کی دوسرے لوگ قیامت تک پیروی کریں اور مجھے ذکر خیر سے یاد کریں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا قبول فرمائی۔ آیت۔ 89 میں قلب سلیم سے مراد ایسا دل ہے جس میں شرک و کفر نہ ہو۔ (معارف القرآن)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 84–87

(وَلاَ تُخْزِنِیْ یَوْمَ یُبْعَثُوْنَ یَوْمَ لاَ یَنْفَعُ مَالٌ وَّلاَ بَنُوْنَ اِِلَّا مَنْ اَتَی اللّٰہَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ ) (اور مجھے اس دن رسوا نہ کیجیے جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے جس دن نہ کوئی مال نفع دے گا اور نہ بیٹے سوائے اس شخص کے جو قلب سلیم کے ساتھ اللہ کے پاس آئے) اس سے معلوم ہوا کہ جنت النعیم حاصل ہونے کی دعا کے ساتھ ساتھ یہ دعا بھی کرنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ شانہٗ قیامت کے دن رسوا نہ فرمائیے جنت میں تو کوئی رسوائی نہیں ہے اس سے پہلے رسوائی ہوسکتی ہے جیسا کہ بہت سے گناہ گاروں کے ساتھ ایسا ہوگا کہ قیامت کے دن رسوائی اور ذلت اور عذاب میں مبتلا ہوں گے حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 69–104

قصہ دوم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) باقوم او قال اللہ تعالیٰ واتل علیہم نبا ابراہیم .... الیٰ .... وان ربک لھو العزیز الرحیم۔ (ربط) گزشتہ آیت میں حضرت موسیٰ کلیم اللہ (علیہ السلام) کے قصہ کا ذکر تھا اب اس کے بعد آپ ﷺ کے جد امجد حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کرتے ہیں کہ ان کو اپنی قوم کے مقابلہ میں کیا ابتلا پیش آیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے باپ کی گواہی کا شدید رنج تھا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم بابل کے اطراف میں آباد تھی مذھبا صابی یعنی ستارہ پرست تھے اور بت پرست بھی تھے کواکب اور نجوم کی تاثیر کے قائل تھے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے دلائل سے حق واضح کردیا اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 84–85

38:۔ اور مجھے جنتِ نعیم کے وارثوں میں شامل فرما۔ ” واغفر لابی الخ “ اور میرا باپ مشرکین میں سے ہے اسے ایمان واسلام کی توفیق عطا فرما کر اس کے گناہ معاف فرما دے۔ واغفر لابی بالھدایۃ والتوفیق للایمان (ابو السعود ج 6 ص 539) ۔ ” و لا تخزنی یوم یبعثون “ اور قیامت کے دن سر محشر مجھے رسوا نہ کیجیو۔ انبیاء (علیہم السلام) کو تو قیامت کے دن سب سے زیادہ اعزازو اکرام سے نوازا جائے گا، ان کی رسوائی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے شدت خوف سے بطور تواضع یا بغرض تعلیم غیر یہ دعا مانگی۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 78–89

ربط آیات گزشتہ آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ تھا کہ انہوں نے اپنے باپ اور قوم کو توحید کا درس دیا ۔ آپ نے یہ انداز اختیار کیا کہ خود ان مشرکین سے ہی پوچھا کہ تم رکن چیزوں کی پوجا کرتے ہو انہوں نے کہا کہ ہم تو ان بتوں پر جھکے پڑتے ہیں ۔ فرمایا ، کیا یہ بت تمہاری بات کو سنتے ہیں یا تمہارے لیے کسی نفع نقصان کے مالک ہیں ۔ کہنے لگے ، ہم یہ باتیں تو نہیں جانتے ، البتہ ہم نے اپنے آبائو اجداد کو ان کی پرستش کرتے دیکھا ہے ، لہٰذا ہم بھی انہی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ان کی پوجا کر رہے ہیں ۔ فرمایا تم تو ان کو اپنا معبود اور کار ساز سمجھتے ہو ۔ مگر یہ سب میرے دشمن ہیں سوائے رب العالمین کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاجْعَلْ لِّيْ لِسَانَ صِدْقٍ فِي الْاٰخِرِيْنَ۝ 84ۙ جعل جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها، ( ج ع ل ) جعل یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔ لسن اللِّسَانُ : الجارحة وقوّتها، وقوله : وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِنْ لِسانِي [ طه/ 27] يعني به من قوّة لسانه، فإنّ العقدة لم تکن في الجارحة، وإنما کانت في قوّته التي هي النّطق به، ويقال : لكلّ قوم لِسَانٌ ولِسِنٌ بکسر اللام، أي : لغة . قال تعالی: فَإِنَّما يَسَّرْناهُ بِلِسانِكَ [ الدخان/ 58] ، وقال : بِلِسانٍ عَرَبِيٍّ مُبِينٍ [ الشعراء/ 195] ، وَاخْتِلافُ أَلْسِنَتِكُمْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 70–94

1 ؎۔ یعنی معبود اور ان کے پوجنے والے گمراہ لوگ اور ان کو بہکانے والے شیاطین سب کے سب جہنم میں اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 84–87

وَاجْعَلْنِیْ مِنْ وَّرَثَۃِ جَنَّۃِ النَّعِیْمِ ۔ وَاغْفِرْ لِاَبِیْٓ اِنَّـہٗ کَانَ مِنَ الضَّآلِّـیْنَ ۔ وَلاَ تُخْزِنِیْ یَوْمَ یُبْعَثُوْنَ ۔ (الشعرآء : 85 تا 87) (اور مجھے نعمتوں والی جنت کے وارثوں میں شامل فرما۔ اور میرے باپ کو معاف فرما دے، بیشک وہ گمراہوں میں سے ہے۔ اور مجھے اس دن رسوا نہ کر جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے۔ ) رب العالمین ! مجھے نعمتوں والی جنت کے وارثوں میں سے بنا۔ تیرا انتہائی کرم ہے کہ تو نے مجھے نبوت سے نوازا اور لوگوں کی رہنمائی کے منصب پر فائز کیا، لیکن تیری دی ہوئی ہدایت سے میں یہ بات جانتا ہوں کہ تیری ذات انتہائی بےنیاز اور بےپرواہ ہے۔ اس لیے تیری بارگاہ کے مقربین…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 84–88

فہم القرآن ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی دعا کے آخر میں اپنے رب کے حضور یہ عرض کی کہ قیامت کے دن مجھے رسوائی سے محفوظ فرمانا۔ اب قیامت کے بارے میں ذکر شروع ہوتا ہے۔ مفسرین کی ان الفاظ کے بارے میں دو قسم کی سوچ ہے ایک طبقہ کا خیال ہے کہ یہ بھی ابراہیم (علیہ السلام) کے الفاظ ہیں۔ جنھیں اللہ تعالیٰ نے اپنے مقدس الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔ دوسری جماعت کا نقطہ نظر ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کے بعد یہ اللہ تعالیٰ کا خطاب ہے کہ قیامت کے دن مالدار کو اس کے مال کا کچھ فائدہ نہیں ہوگا اور نہ ہی اولاد اپنے باپ کی مدد کرسکے گی۔ وہی انسان ذلّت سے محفوظ رہے گا جو قلب سلیم کے ساتھ اپنے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

84: وَاجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَ (اور میرا تذکرہ اخیر آنے والے لوگوں میں کر دے) یعنی اچھی تعریف اور آنے والی امتوں میں اچھا تذکرہ۔ پس یہ دعا قبول کرلی گئی تمام ادیان والے ان سے دوستی رکھتے اور ان کی تعریف کرتے ہیں۔ نکتہ : یہاں قولؔ کی بجائے لسانؔ کو لایا گیا کیونکہ قول زبان ہی سے ادا ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

84۔ واجعل لی لسان صدق فی الاخرین۔ اچھی تعریف اور اچھاذکر اور قبولیت عامہ جو آئندہ لوگوں کی زبانوں پر کردے جو میرے بعد آئیں گے تمام اہل ادیان میں ہماری تعریف قائم فرمائیں۔ قتیبی کا قول ہے کہ یہاں زبان کو قول کے قائم مقام کردیا گیا ہے چونکہ یہ بات بھی اسی سے صادر ہوتی ہے اس لیے اس کو ذکر کیا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 69–85

69 تا 85:۔ ابراہیم (علیہ السلام) کو بچپن میں ہی نیک راہ کی ہدایت دی اور بڑے ہونے تک وہ اپنی قوم کو بتوں کی عبادت سے منع کرتے رہے یہی ذکر ان آیتوں میں ہے کہ انہوں نے اپنے باپ اور قوم سے کہا کہ تم ان بتوں کی پوجا کیوں کرتے ہو کیا سنتے ہیں جب پکارتے ہو تم ان کو یا بھلا کرتے ہیں تمہارا یا کچھ برا کرتے ہیں ان بت پرستوں نے جواب دیا کہ یہ بت نہ تو ہماری التجا کو سنتے ہیں نہ ہمارے بھلے برے کے کچھ مختار ہیں لیکن ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا کہ ان کو ایسا ہی کرتے دیکھا اس واسطے ہم ان کے ہی قدموں پر چل رہے ہیں لفظ ھل عربی زبان میں ایسے ہی موقع پر آتا ہے کہ جس سے اس لفظ سے پہلی بات کا انکار اور بعد کی بات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 69–104

آیت 69 سے 104 فرمایا : اے محمد ! ﷺ آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس خاص حالت کی جلیل القدر ! خبر سنا دیجئے اگرچہ ان کی زندگی کے تمام پہلو عظیم واقعات سے پر ہیں۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لئے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا : (اذ قال لابیہ وقومہ ما تعبدون۔ قالو) ” جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انہوں نے کہا “ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے : (نعبد…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 84–88

سچی ناموری کی دعا قول باری ہے : (فاجعل لی لسان صدق فی الاخرین۔ اور بعد کے آنے والوں میں مجھے سچی ناموری عطا فرما) یعنی عمدہ تعریف۔ چناچہ یہود بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نبوت کا اقرار کرتے ہیں اور اسی طرح نصاریٰ اور دنیا کی اکثر قومیں بھی۔ ایک قول کے مطابق آیت کا مفہوم ہے۔” میری اولاد میں سے ایسے افراد پیدا کر جو حق کے علمبردار بن کر تمام دنیا کو اس کی دعوت دیں۔ “ اس میں واضح اشارہ حضور ﷺ کی ذات اقدس اور آپ پر ایمان لانے والوں کی طرف ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

48 سچی ناموری سے سرفرازی کی دعا و درخواست اور اس کی بےمثال قبولیت : سو حضرت ابراہیم نے اپنے رب سے اپنی دعا و درخواست کے ضمن میں مزید عرض کیا اور مجھے سچی ناموری عطا فرما پچھلوں میں۔ یعنی ایسے کمال علم و عمل سے سرفراز فرما جس کی بنا پر پچھلے میری اتباع و پیروی کریں۔ اور اس طرح میرے درجات و مراتب میں ترقی اور اضافہ ہوتا جائے۔ سو اللہ پاک نے اپنے خلیل کی اس دعا کو ایسے امتیازی طور پر شرف قبولیت عطا فرمایا جسکی پوری تاریخ انسانیت میں دوسری کوئی مثال نہیں ملتی۔ اور آپ کو اس لسان صدق ۔ سچی ناموری ۔ سے نوازا گیا جس سے نہ کسی کو اس سے پہلے نوازا گیا نہ اس کے بعد۔ یہود و نصاریٰ اور مشرکین عرب تک سب ہی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 69–104

سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی قوم تشریح : سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) بڑے جلیل القدر پیغمبر گزرے ہیں۔ ان کی خاص بات یہ ہے کہ ان کی عزت و احترام اہل قریش یہود و نصاریٰ سب ہی کرتے ہیں مگر ان کی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے آپ کے بارے میں سورة بقرہ ‘ الانعام ‘ مریم ‘ الانبیاء میں بیان ہوچکا اور آئندہ سورة اَلصّٰفّٰتِ اور اَلْمُمْتَحِنَہ میں ہوگا۔ انہوں نے بت پرستی اور شرک کو مسترد کیا اور صرف اللہ کی عبادت کی ترغیب دی۔ صاف ظاہر ہے اللہ خالق اور مالک اور ہدایت دینے والا بھی ہے جبکہ بت اور دوسری چیزیں خود اس کی پیدا کی ہوئی ہیں۔ آپ اتنے بڑے پیغمبر تھے کہ آپ کو اللہ نے خلیل اللہ ‘ یعنی اللہ کا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 69–104

آیات 69 تا 104 اسرارومعارف اہل مکہ اور اہل عرب مشرکین خود کو دین ابراہیمی کا پیروکار جانتے تھے تو ارشاد ہوا کہ انہیں ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بھی سنا دیجیے کہ وہ کیا تھے ان کی تعلیمات کیا تھیں اور یہ لوگ کیا کر رہے ہیں انہیں وہ واقعہ بتائیے جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد سے سوال کیا تھا اور قوم سے بھی کہ آپ لوگ کس کی عبادت کرتے ہیں انہیں بت پرستی میں گرفتار دیکھ کر جاننا چاہا کہ آخر یہ بتوں میں کیا عقیدہ رکھتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ہم بتوں کی پوجا کرتے ہیں اور اسی میں عمریں تمام کردیتے ہیں تو انہوں نے پوچھا کہ کیا یہ تمہارے حال سے واقف ہیں اور تمہاری پکار کو سنتے ہیں اور تمہاری…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

1 ۔ یعنی ایسے نیک اعمال کی توفیق دے کہ قیامت تک آنے والی نسلیں میرا ذکر خیر کرتی رہیں یا آخر زمانہ میں میری نسل سے نبی ( علیہ السلام) ہو۔ چناچہ حضرت ابراہیم ( علیہ السلام) کی یہ دعا قبول ہوئی، ان کی نسل سے خاتم الانبیا ﷺ کو مبعوث فرمایا اور ان کی ملت کو عالمگیر قبولیت بخشی کہ یہودی عیسائی مسلمان سب انہیں اپنا پیشوا مانتے ہیں اور ان کا ذکر خیر کرتے ہیں۔ (شوکانی۔ ابن کثیر) مسلمان تو اپنی ہر نماز میں ” کما صلیت علی ابراہیم “ اور ’ کما بارکت علی ابراہیم “ پڑھتے ہیں۔ (دیکھئے صافات آیت :108)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(26:84) لسان صدق : لسان اسم مفرد منصوب ۔ مضاف۔ صدق۔ راستی سچائی۔ نیک نامی۔ (صدق یصدق کا مصدر ۔ مضاف الیہ۔ بمعنی ذکر جمیل ۔ اچھا تذکرہ ۔ تعریف۔ سچی ناموری۔ ہر وہ فعل جو ظاہر و باطن کے اعتبار سے فضیلت کے ساتھ متصف ہو اسے صدق سے تعبیر کیا جاتا ہے اس بناء پر ایسے فعل کو صدق کی طرف مضاف کیا جاتا ہے۔ جیسے فی مقعد صدق عند ملیک مقتدر (54:55) یعنی سچے مقام میں ہر طرح کی قدرت رکھنے والے بادشاہ کی بارگاہ میں ان لہم قدم صدق عند ربھم (1:2) کہ ان کے پروردگار کے ہاں ان کا سچا درجہ ہے۔ (راغب) اور ولقد بوا بنی اسرائیل مبوا صدق (10:93) اور ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھا ٹھکانہ دیا۔ آیت ہذا : واجعل لی لسان صدق…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 69–104

لغات القرآن : آیت نمبر 69 تا 104 : اتل (تلاوت کر۔ سنادے) اصنام (صنم) بت ‘ نظل (ہم رہتے ہیں) ‘ عکفین (عاکف) جم کر بیٹھنے والے ‘ یسمعون ( وہ سنتے ہیں) ‘ وجدنا ( ہم نے پایا) ‘ الا قدمون (پہلے) ‘ یطعمنی (وہ مجھے کھلاتا ہے) ‘ یسقین (یسقینی) وہ مجھے پلاتا ہے ‘ یشفین (یشفینی) وہ مجھے شفا (صحت) دیتا ہے ‘ یمیتنی (وہ مجھے موت دے گا) ‘ یحیین (یحیینی) وہ مجھے زندگی دے گا ‘ اطمع (مید امید کرتا ہوں۔ میں توقع رکھتا ہوں) ‘ حکما (علم و حکمت (فیصلہ) ‘ الحقنی (مجھے ملادے) ‘ لسان صدق (ذکر خیر۔ اچھا ذکر۔ سچی زبان) ‘ لاتخزنی (مجھے رسوانہ کیجئے گا) ‘ یبعثون (وہ اٹھائے جائیں گے) ‘ من اتی ( جو آیا۔ (جو لایا) ‘ قلب…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 69–86

حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ۔ (ف 1) اے پیغمبر تم ان مشرکوں پر حضرت ابراہیم کا قصہ بیان کرو یہ اپنے آپ کو ان کی ہی طرف نسبت کرتے ہیں اور ان کو حضرت ابراہیم کی فرزندی کا بڑا دعوی ہے اور اس پر فخر کرتے ہیں ذراحضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ تو پڑھ کر سنادو ہمارے ساتھ حضرت ابراہیم کا کیا معاملہ تھا اور یہ جو اپنے آپ کو ان کی اولاد بتاتے ہیں یہ ہمارے ساتھ کس طرح معاملہ رکھتے ہیں جب حضرت ابراہیم نے اپنے باپ دادا اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کس کو پوجتے ہو، اگرچہ وہ بھی جانتے تھے کہ بتوں کو پوجتے ہیں مگر انکو الزام دینے کے لیے ان سے سوال کیا، اس کے جواب میں بولے کہ ہم بتوں کو پوجتے ہیں اور ہم…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

84۔ اور آنے والی نسلوں میں میرا ذکرخیر جاری رکھ یعنی پیچھے آنے والوں میں میری تعلیم کا سلسلہ جاری رہے اور میرے راستے پرچلیں جیسا کہ آج بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر نیک لوگوں کی زبان پر جاری ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آخر زمانے میں میرے گھرانے سے نبی ہو اور امت ہو اور میرا دین تازہ کریں 12 حدیث شریف میں ہے جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اس کی محبت اپنی مخلوق کے دل میں ڈال دیتا ہے اور اس سے تمام زمین و آسمان کے رہنے والے محبت کرتے ہیں یہاں تک کہ دریا کی مچھلیاں اور ہوا میں اڑنے والے پرندے بھی اس بندے سے محبت کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے میرے رب میرے بعد آنے والی امتوں میں میرا نام سچائی کے ساتھ باقی رکھ : 84۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے دیکھا تھا کہ مرنے والے بزرگوں اور نیک لوگوں کے بت بنا کر ان کی پرستش کی جا رہی ہے جو بلاشبہ ان کی تعلیم کے سراسر خلاف ہے گویا لوگوں مرنے والوں کے بعد ان کے ذمہ وہی الزامات لگانے کی کوشش کرتے ہیں جن کے مٹانے کے لئے ساری زندگی وہ کوشش کرتے رہے ، اس علاقہ سے آپ ہجرت کر آئے لیکن اس کے باوجود آپ کے وہم میں یہ بات پوشیدہ تھی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میرے مرنے کے بعد لوگ میری طرف ایسی باتوں کی نسبت کرنے لگیں جن کی میں ساری زندگی مخالفت کرتا رہا اس پوشیدہ قوت وہمہ کے باعث ہجرت کرتے وقت یا ہجرت کر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 84–85

Commentary وَاجْعَل لِّي لِسَانَ صِدْقٍ فِي الْآخِرِ‌ينَ And destine for me a truthful description among the next generations. (26:84) The word لِسَانَ (lisan, which literally means tongue) is used in this verse in the sense of description and 'for me' means 'for my benefit. Thus meaning of the prayer is ` 0 Allah, grant me such delectable ways and nice signs that others may follow until the Dooms Day, and they remember me with good words and nice attributes'. (Ibn Kathir and Ruh al-Mani) Allah Ta’ ala has accepted the supplication of Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) ، including Jews,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

62 "Grant me true renown among posterity": "Grant me the grace that posterity should remember me as a good and pious man after my death and not as one of the unjust people, who were not only wicked themselves, but who left nothing but wickedness behind them in the world. Enable me to perform such high deeds that my life should become a source of light for others for all times to come, and I should be counted among the benefactors of humanity." This is not a prayer for worldly greatness and renown, but for true greatness and renown, which can be achieved only as a result of solid and valuable…

Read the full tafseer →