Explained with ayahs 83–89
حکم سے کیا مراد ہے ؟
حکم سے مراد علم عقل الوہیت کتاب اور نبوت ہے۔ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ مجھے یہ چیزیں عطا فرما کر دنیا اور آخرت میں نیک لوگوں میں شامل رکھ۔ چناچہ صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ نے بھی آخری وقت میں دعا مانگی تھی کہ اے اللہ اعلیٰ رفیقوں میں ملادے تین بار یہی دعا کی۔ ایک حدیث میں حضور ﷺ کی یہ دعا بھی مروی ہے۔ (اللہم احینا مسلمین وامتنا مسلمین والحقنا بالصالحین غیر خزایا ولامبدلین)۔ یعنی اے اللہ ! ہمیں اسلام پر زندہ رکھ اور مسلمانی کی حالت میں ہی موت دے اور نیکوں میں ملادے۔ در آنحالیکہ نہ رسوائی ہو نہ تبدیلی۔ پھر اور دعا کرتے ہیں کہ میرے بعد بھی میرا ذکر خیر لوگوں میں…
Read the full tafseer →سورة الشُّعَرَآء 60
" حکم " سے مراد " نبوت " یہاں درست نہیں ہے، کیونکہ جس وقت کی یہ دعا ہے اس وقت حضرت ابراہیم ؑ کو نبوت عطا ہوچکی تھی۔ اور اگر بالفرض یہ دعا اس سے پہلے کی بھی ہو تو نبوت کسی کی طلب پر اسے عطا نہیں کی جاتی بلکہ وہ ایک وہبی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ خود ہی جسے چاہتا ہے دیتا ہے۔ اس لیے یہاں حکم سے مراد علم، حکمت، فہم صحیح اور قوت فیصلہ ہی لینا درست ہے، اور حضرت ابراہیم ؑ کی یہ دعا قریب قریب اسی معنی میں ہے جس میں نبی ﷺ سے یہ دعا منقول ہے کہ اَرِنَا الْاَ شْیَآءَ کَمَاھِیَ یعنی ہم کو اس قابل بنا کہ ہم ہر چیز کو اسی نظر سے دیکھیں جیسی کہ وہ فی الواقع ہے اور ہر معاملہ میں وہی رائے قائم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–83
خلاصہ تفسیر
اور آپ ان لوگوں کے سامنے ابراہیم ؑ کا قصہ بیان کیجئے (تاکہ ان کو شرک کی مذمت کے دلائل معلوم ہوں، خصوص ابراہیم ؑ سے منقول ہو کر، کیونکہ یہ مشرکین عرب اپنے کو ملت ابراہیمیہ پر بتلاتے ہیں اور وہ قصہ اس وقت ہوا تھا، جبکہ انہوں نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے (جو کہ بت پرست تھی) فرمایا کہ تم کس (واہیات) چیز کی عبادت کیا کرتے ہو، انہوں نے کہا ہم بتوں کی عبادت کیا کرتے ہیں اور ہم انہی (کی عبادت) پر جمے بیٹھے رہتے ہیں، ابراہیم ؑ نے فرمایا کہ یہ تمہاری سنتے ہیں جب تم ان کو (اپنی عرض حاجت کے وقت) پکارا کرتے ہو یا (تم جو ان کی عبادت کرتے ہو تو کیا) یہ تم کو کچھ نفع پہنچاتے ہیں یا (اگر تم ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–85
83-85 ہجرت کے وقت حضرت ابراہیم کی دعا
یہ سیدنا ابراہیم ؑ کی وہ دعا ہے جو اعلان برأت و ہجرت کے اس نازک موقع پر انہوں نے کی ہے۔
رب ھب لی حکماً حکم سے مراد، جیسا کہ آیت 21 کے تحت گزر چکا ہے۔ وہ صحیح قوت فیصلہ ہے جو حضرات انبیاء (علیہم السلام) کو خاص طور پر عطا ہوتی ہے۔ اس وقت حضرت ابراہیم ؑ چونکہ ایک نہایت اہم قدم اٹھا رہے تھے اور اس بات کے محتاج تھے کہ آگے کے تمام مراحل میں ان کو صحیح فیصلہ کی توفیق اور خدا کی رہنمائی حاصل ہو اس وجہ سے انہوں نے سب سے پہلے اسی کے لئے دعا فرمائی۔
والحقنی بالصلحین حق کی خاطر اپنے خاندان اور اپنی قوم سے بھی انہوں نے اعلان برأت فرما دیا تھا اس وجہ سے یہ دعا بھی…
Read the full tafseer →83-1حکم یا حکمت سے مراد علم و فہم، قوت فیصلہ، یا نبوت و رسالت یا اللہ کے حدود و احکام کی معرفت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–85
17: حضرت ابراہیم ؑ کا ادب ملاحظہ فرمائیے کہ انہوں نے بیمار ہونے کی نسبت تو اپنی طرف فرمائی، اور شفا دینے کو اللہ تعالیٰ کا عمل قرار دیا، اس میں یہ اشارہ بھی ہوسکتا ہے کہ بیماری انسان کی کسی اپنی غلطی کے سبب آتی ہے اور شفا براہ راست اللہ تعالیٰ کی عطا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–89
رب ھب ……سلیم (89)
حضرت ابراہیم (علیہ الصلوۃ والسلام) کی اس دعا پر ذرا غور فرمائیں کہ اس میں اس دنیا کے اغراض میں سے کو یء غرض نہیں ہے۔ یہاں تک کہ یہ بھی نہیں کہا کہ اے اللہ ، مجھے صحت عطا کیجیے۔ یہ پوری دعا بلند مقاصد اور اعلیٰ اور پاکیزہ شعور کی تحریک ہے۔ یہ اس خدا رسیدہ دل کی دعا ہے جس کے پیش نظر اللہ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اس کے ہاں اللہ کے سوا ہر چیز کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور معرفت کے جس مقام تک یہ دل پہنچا ہے اس کے آگے مزید کا طلبگار ہے اور ایک ایسے قلب سے نکلی ہوئی دعا بیم و رجا کی حالت میں ہے کیونکہ اس نے اللہ کے کرم دیکھے ہوئے ہیں اور مزید کا امیدوار ہے۔
رب ھب لی حکما (26 :…
Read the full tafseer →4 یعنی مزید علم و حکمت اور درجات قرب و قبول مرحمت فرما، اور اعلیٰ درجہ کے نیکوں کے زمرہ میں (جو انبیاء (علیہم السلام) ہیں) شامل رکھ۔ کما قال نبینا ﷺ " اَللّٰہُمَّ فِی الرَّفِیق الْاَعْلٰی " اس دعا سے اپنی کامل احتیاج اور حق تعالیٰ کی غناء کا اظہار مقصود ہے یعنی نبی ہو یا ولی، اللہ تعالیٰ کسی کے معاملہ میں مجبور و مضطر نہیں، ہمہ وقت اس کے فضل و رحمت سے کام چلتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
آیت 84 وَاجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَ ”
یعنی بعد میں آنے والی نسلیں میرا ذکر اچھے انداز میں کریں اور میرا نام عزت سے لیں۔
Read the full tafseer →59 اللہ تعالیٰ کی مندرجہ بالا صفات بیان کرنے کے بعد حضرت ابراہیم اللہ تعالیٰ کے حضور دست بدعا ہوجاتے ہیں۔ پہلی دعا یہ ہے کہ یا اللہ مجھے صحیح قوت فیصلہ اور دینی بصیرت عطا فرما اور میرے علم میں اضافہ کر اور مجھے نیک لوگوں کی سوسائٹی عطا فرما۔ اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ دنیا میں ایک نیک بخت اور نیک سیرت انسان اگر کسی بری سوسائٹی میں پھنس جائے تو اسے جتنی تکلیف اور ذہنی کوفت ہے، اسے سب جانتے ہیں۔ لہذا ہر شخص کو کوشش کرنی چاہئے اور اس کے لئے دعا بھی کرتے رہنا چاہئے کہ اسے نیک لوگوں کی صحبت حاصل ہو۔ اور آخرت میں اللہ تعالیٰ یقیناً نیک لوگوں کو نیک لوگوں سے ہی ملا دے گا۔ تاہم اس نعمت کے لئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
62۔ (تاکہ وہ لوگ میرے طریق پر چلیں اور میرے لیے اضافہ ثواب وحسنات کا باعث ہوں) (آیت) ” بالصلحین “۔ صالحین سے یہاں مراد ان کی اعلی فرد یعنی انبیاء عالی شان ہیں۔ (آیت) ” ھب لی حکما “۔ نفس حکمت تو حضرت کو دعا کے وقت بھی حاصل تھی، دعا سے مقصود جامعیت علم وعقل میں مزید حصول کمال معلوم ہوتا ہے۔ (آیت) ” رب ھب لی “۔ ابراہیم (علیہ السلام) خلیل ابھی تک برابر صیغہ غائب استعمال کررہے تھے، (آیت) ” ھو یھدین، ھو یطعمنی “۔ وغیرہ، صفات کمال بیان کرتے کرتے غلبہ، حضور سے براہ راست مناجات شروع کردیتے ہیں۔ (آیت) ” واجعل لی لسان صدق فی الاخرین “۔ فقہاء محققین نے یہیں سے یہ نکالا ہے کہ انسان کا اپنے ذکر خیر کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
آیت نمبر 69 تا 104
ترجمہ : وَاتْلُ عَلَیھِمْ اور کفار کو ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ (بھی) سنائے اِذْ قَالَ لِاَبِیْہٖ ، نَبَا اِبراہیم سے بدل الاشتمال ہے جبکہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد صاحب اور اپنی قوم سے کہا تم کس چیز کی بندگی کرتے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا بتوں کی بندگی کرتے ہیں فعل کی صراحت کی، تاکہ اس پر فَنَطَلُّ لَھَا عَاکِفِیْنَ کا عطف کرسکیں ہم تو دن بھر ان کی عبادت میں مشغول رہتے ہیں یعنی ہم پابندی سے دن بھر ان کی عبادت کرتے ہیں، اور انہوں نے جواب میں (فَنَظَلُّ ) کا اضافہ (بتوں کی) عبادت پر فخر کے طور پر کیا تو ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کیا یہ تمہاری سنتے بھی ہیں جب…
Read the full tafseer →رب ہب لی حکما والحقنی بالصلحین۔ اے میرے رب مجھے حکم عطا فرما دے اور مجھے نیکیوں کے ساتھ ملا دے۔ حکم سے مراد علم و عمل کا کمال ہے اور صالحین سے مراد ہیں انبیاء معصومین جن کے اندر کسی کدورت علمی و عملی کا شائبہ نہیں ہوتا۔ مطلب یہ ہے کہ مجھے علمی و عملی کمال عطا فرما دے تاکہ میں انبیاء کے مسلک میں منسلک ہو سکوں اور اللہ کی صحیح خلافت اور خلق خدا کی قیادت کی میرے اندر استعداد پیدا ہوجائے۔
Read the full tafseer →(83) اے میرے پروردگار مجھے جامعیت بین العلم والعمل میں زیادہ کمال عطا فرما اور مجھے جنت میں میرے بڑوں میں سے جو رسول گزرے ہیں ان کے ساتھ شامل فرما۔
Read the full tafseer →رَبِّ هَبْ لِيْ حُكْمًا : اللہ تعالیٰ کی تعریف اور اس کی صفات بیان کرنے کے بعد ابراہیم ؑ نے اللہ کی بارگاہ میں چند دعائیں کی ہیں۔ اس میں دعا کا ادب ملحوظ رکھا گیا ہے اور اس کا سلیقہ سکھایا گیا ہے کہ دعا سے پہلے اللہ تعالیٰ کی تعریف جس قدر ہو سکے کرو، پھر اپنی عرض داشت پیش کرو۔ سورة فاتحہ میں بھی یہی سبق سکھایا گیا ہے۔
3 حُکْم کا معنی فیصلہ ہے، یعنی پروردگار ! فیصلے کے لیے جو چیزیں درکار ہیں وہ سب مجھے عطا کر، یعنی اپنے دین کا پورا علم جس سے صحیح فیصلہ ہوتا ہے، پھر ہر معاملے کا صحیح فہم، پھر وہ اقتدار جس کے ساتھ فیصلہ نافذ ہوتا ہے۔
وَّاَلْـحِقْنِيْ بالصّٰلِحِيْنَ : یعنی دنیا میں بھی صالح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–89
(رب ھب لی۔۔۔۔ )
رب ھب لی حکما والحقنی بالصلحین حکم سے مراد تیری، تیری حدود اور تیرے احکام کی معرفت ہے۔ یہ حضرت ابنی عباس ؓ نے کہا۔ مقاتل نے کہا : مراد فہم اور علم ہے : یہ بھی تعبیر کی طرف راجع ہے۔ کلبی نے کہا : مراد نبوت اور مخلوق کی طرف رسالت ہے۔ والحقنی بالصلحین مجھ سے قبل سے جو انبیاء ہو گزرے ہیں درجہ میں ان کے ساتھ لاحق کر دے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : بالصلحین سے مراد اہل جنت ہیں یہ ھب لی حکما ً کی تاکید ہے۔
واجعل لی لسان صدق فل اخرین حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس سے مراد تمام امتوں کا اس پر مجتمع ہونا ہے۔ مجاہد نے کہا : اس سے مراد اچھی تعریف ہے۔ ابن عطیہ نے کہا : مفسرین کا اس پر اجماع ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–85
1۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا یہ کہا جاتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی پہلی نعمت اپنے بندے پر اس وقت ہوتی ہے جب اس کو پیدا فرماتا ہے۔
سارہ (علیہا السلام) اپنی بہن تھی
2۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” والذی اطمع ان یغفر لی خطیئتی یوم الدین “ یعنی میں طمع رکھتا ہوں اس بات کی کہ اللہ تعالیٰ میری خطاؤں کو قیامت کے دن بخش دے اس میں ” خطیئتی “ سے مراد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی یہ باتیں ہیں جن کا ان آیات میں ذکر کیا ہے فرمایا آیت ” انی سقیم، الصفت “ یعنی میں بیمار ہوں۔ پھر فرمایا آیت ” قال بل فعلہ، کبیرہم ہذا، (الانبیاء آیت…
Read the full tafseer →رَبِّ [ اے میرے رب ] هَبْ [ تو عطا کر ] لِيْ [ مجھ کو ] حُكْمًا [ فیصلہ کرنے کی طاقت ] وَّاَلْـحِقْنِيْ [ اور تو ملا دے مجھ کو ] بِالصّٰلِحِيْنَ [ نیک لوگوں کے ساتھ ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–83
اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی چند دعاؤں کا تذکرہ فرمایا (رَبِّ ھَبْ لِیْ حُکْمًا) (اے میرے رب مجھے حکم عطا فرما) لفظ حکم کی تفصیل میں کئی قول ہیں بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے حکمت مراد ہے یعنی قوت علمیہ کا کمال مراد ہے اور مقصود یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر طرح کی خیر کا علم عطا فرمائے اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ حکم سے اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا اور اس کے تمام احکام کا علم مراد ہے تاکہ ان پر عمل کیا جائے اور ایک قول یہ بھی ہے کہ حکم سے نبوت مراد ہے لیکن یہ بات اس صورت میں تسلیم کی جاسکتی ہے جبکہ دعائے مذکور کے بعد نبوت سے سرفراز ہوئے ہوں (راجع روح المعانی ج 19 ص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
قصہ دوم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) باقوم او
قال اللہ تعالیٰ واتل علیہم نبا ابراہیم .... الیٰ .... وان ربک لھو العزیز الرحیم۔
(ربط) گزشتہ آیت میں حضرت موسیٰ کلیم اللہ (علیہ السلام) کے قصہ کا ذکر تھا اب اس کے بعد آپ ﷺ کے جد امجد حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کرتے ہیں کہ ان کو اپنی قوم کے مقابلہ میں کیا ابتلا پیش آیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے باپ کی گواہی کا شدید رنج تھا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم بابل کے اطراف میں آباد تھی مذھبا صابی یعنی ستارہ پرست تھے اور بت پرست بھی تھے کواکب اور نجوم کی تاثیر کے قائل تھے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے دلائل سے حق واضح کردیا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–83
37:۔ ” حکما “ سے کمال علمی ” والحقنی بالصلحین “ سے کمال عملی کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی مجھے حکمت اور کمال علم عطا فرما اور کمال عمل کی توفیق عطا فرما کر اپنے برگزیدہ بندوں کی معیت سے سرفراز فرما۔ ” واجعل لی لسان صدق الخ “ ” لسان صدق “ یعنی ذکر خیر، آئندہ نسلوں میں میرا ذکر خیر باقی رکھنا تاکہ وہ نیک کاموں میں میری اقتداء کرتی رہیں اور مجھے اجر ملتا رہے۔ حضرت شیخ (رح) فرماتے ہیں ” لسان صدق “ سے کلمہ صادقہ یعنی دعوی توحید مراد ہے جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد ہے ” وجعلھا کلمۃ باقیۃ فی عقبہ لعلھم یرجعون “ (زخرف رکوع 3) ۔ ممکن ہے آخرین سے امت محمدیہ مراد ہو اور مطلب یہ ہو کہ آخر زمانہ میں ایک پیغمبر معبوث…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–89
ربط آیات
گزشتہ آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ تھا کہ انہوں نے اپنے باپ اور قوم کو توحید کا درس دیا ۔ آپ نے یہ انداز اختیار کیا کہ خود ان مشرکین سے ہی پوچھا کہ تم رکن چیزوں کی پوجا کرتے ہو انہوں نے کہا کہ ہم تو ان بتوں پر جھکے پڑتے ہیں ۔ فرمایا ، کیا یہ بت تمہاری بات کو سنتے ہیں یا تمہارے لیے کسی نفع نقصان کے مالک ہیں ۔ کہنے لگے ، ہم یہ باتیں تو نہیں جانتے ، البتہ ہم نے اپنے آبائو اجداد کو ان کی پرستش کرتے دیکھا ہے ، لہٰذا ہم بھی انہی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ان کی پوجا کر رہے ہیں ۔ فرمایا تم تو ان کو اپنا معبود اور کار ساز سمجھتے ہو ۔ مگر یہ سب میرے دشمن ہیں سوائے رب العالمین کے…
Read the full tafseer →رَبِّ ہَبْ لِيْ حُكْمًا وَّاَلْـحِقْنِيْ بِالصّٰلِحِيْنَ 83ۙ
وهب
الهِبَةُ : أن تجعل ملكك لغیرک بغیر عوض . يقال : وَهَبْتُهُ هِبَةً ومَوْهِبَةً ومَوْهِباً. قال تعالی:
وَوَهَبْنا لَهُ إِسْحاقَ [ الأنعام/ 84] ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَهَبَ لِي عَلَى الْكِبَرِ إِسْماعِيلَ وَإِسْحاقَ
[إبراهيم/ 39] ، إِنَّما أَنَا رَسُولُ رَبِّكِ لِأَهَبَ لَكِ غُلاماً زَكِيًّا[ مریم/ 19]
( و ہ ب ) وھبتہ
ھبۃ وموھبۃ ومو ھبا بلا عوض کوئی چیز دے دینا یا کچھ دینا قرآن میں ہے : ۔ وَوَهَبْنا لَهُ إِسْحاقَ [ الأنعام/ 84] اور ہم نے ان کو اسحاق اور یعقوب ) بخشے ۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَهَبَ لِي عَلَى الْكِبَرِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–94
1 ؎۔ یعنی معبود اور ان کے پوجنے والے گمراہ لوگ اور ان کو بہکانے والے شیاطین سب کے سب جہنم میں اوندھے منہ ڈال دیے جائیں گے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →رَبِّ ھَبْ لِیْ حُکْمًا وَّاَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ ۔ وَاجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَ ۔ (الشعرآء : 83، 84)
(اے میرے رب ! مجھے قوت فیصلہ عطا فرما اور مجھ کو صالحین کے ساتھ ملا۔ اور بعد کے آنے والوں میں مجھے سچی ناموری عطا فرما۔ )
ہجرت کے وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا
معلوم ہوتا ہے کہ آپ ( علیہ السلام) نے یہ دعا اعلانِ براءت اور ہجرت کے وقت فرمائی ہے۔ یہاں حکم سے مراد نبوت نہیں جبکہ قرآن کریم میں کئی مواقع پر اس معنی میں یہ لفظ استعمال ہوچکا ہے۔ کیونکہ جب آپ ( علیہ السلام) نے یہ دعا فرمائی ہے اس وقت آپ ( علیہ السلام) کو نبوت عطا ہوچکی تھی۔ اگر بالفرض یہ سمجھ لیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–83
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اپنے رب کے حضور فریادیں۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی زندگی میں بہت سی دعائیں کی ہیں۔ جن میں انسان کی بڑی بڑی حاجات کا ذکر ہے انہیں درج ذیل آیات میں ملاحظہ فرمائیں (البقرۃ : 126، 127، 128، 129) (سورۃ ابراہیم : 37 تا 41) (الصافات : 101) ۔
یہاں ان کی چھ دعاؤں کا تذکرہ ہے جن میں ایک دعا کے سوا باقی تمام دعائیں شرف قبولیت سے ہمکنار ہوئیں۔
1۔ میرے رب مجھے حکمت اور قوت فیصلہ عنایت فرما۔ 2۔ میرے رب مجھے آخرت میں نیک لوگوں کی رفاقت نصیب فرما۔
3۔ میرے رب میرے بعد میرا ذکر خیر جاری رکھنا۔ 4۔ میرے رب مجھے نعمتوں والی جنت کا وارث بنانا۔
5۔ میرے رب…
Read the full tafseer →دعائے ابراہیم۔ :
83: رَبِّ ھَبْ لِیْ حُکْمًا (اے میرے رب مجھے حکم عطاء فرما) حکمؔ سے حکمت مراد ہے یا نمبر 2۔ لوگوں کے درمیان انصاف سے فیصلہ کرنا۔ نمبر 3 نبوت کیونکہ نبی (علیہ السلام) حکمت والے اور لوگوں کے درمیان انصاف سے فیصلہ کرنے والے ہوتے ہیں۔ وَّاَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ (اور تو مجھے نیکوں کے ساتھ ملا دے) صالحین سے انبیاء (علیہم السلام) مراد ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس دعا کو قبول فرما کر اعلان کردیا : وانہٗ فی الآخرۃ لمن الصالحین ] البقرۃ : 130[
Read the full tafseer →83۔ رب ھب لی حکما، ابن عباس کا قول ہے کہ اس سے مراد حدود اللہ کی معرفت اور اس کے احکام کی معرفت ہے۔ مقاتل کا بیان ہے کہ اس سے مراد فہم اور علم ہے کلبی کا قول ہے کہ اس سے مراد نبوت ہے۔
” والحقنی بالصالحین۔ ماقبل میں جو انبیاء کرام گزرچکے ہیں، ان کے درجہ اور منزتل تک پہنچا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–85
69 تا 85:۔ ابراہیم (علیہ السلام) کو بچپن میں ہی نیک راہ کی ہدایت دی اور بڑے ہونے تک وہ اپنی قوم کو بتوں کی عبادت سے منع کرتے رہے یہی ذکر ان آیتوں میں ہے کہ انہوں نے اپنے باپ اور قوم سے کہا کہ تم ان بتوں کی پوجا کیوں کرتے ہو کیا سنتے ہیں جب پکارتے ہو تم ان کو یا بھلا کرتے ہیں تمہارا یا کچھ برا کرتے ہیں ان بت پرستوں نے جواب دیا کہ یہ بت نہ تو ہماری التجا کو سنتے ہیں نہ ہمارے بھلے برے کے کچھ مختار ہیں لیکن ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا کہ ان کو ایسا ہی کرتے دیکھا اس واسطے ہم ان کے ہی قدموں پر چل رہے ہیں لفظ ھل عربی زبان میں ایسے ہی موقع پر آتا ہے کہ جس سے اس لفظ سے پہلی بات کا انکار اور بعد کی بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
آیت 69 سے 104
فرمایا : اے محمد ! ﷺ آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس خاص حالت کی جلیل القدر ! خبر سنا دیجئے اگرچہ ان کی زندگی کے تمام پہلو عظیم واقعات سے پر ہیں۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لئے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا : (اذ قال لابیہ وقومہ ما تعبدون۔ قالو) ” جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انہوں نے کہا “ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے : (نعبد…
Read the full tafseer →47 رب سے قوت فیصلہ سے سرفرازی کی دعا و درخواست : سو حضرت ابراہیم نے اپنے رب کے حضور عرض کیا کہ " اے میرے رب مجھے حکم یعنی قوت فیصلہ سے سرفراز فرما دے "۔ یعنی علم و حکمت میں زیادتی اور ترقی و اضافہ اور قوت فیصلہ۔ تاکہ حق و باطل اور صحیح و غلط کی تمیز میں کبھی کوئی گنجلک پیش نہ آئے۔ اور تاکہ اس طرح میں معرفت و بندگی میں کمال کو پہنچ سکوں۔ (المراغی، الصفوۃ وغیرہ) ۔ اور اس کے نتیجے میں مجھے ہر فیصلہ کن موڑ پر صحیح فیصلہ کرنے اور صحیح سمت میں قدم اٹھانے کی توفیق نصیب ہوجائے۔ اور میں نے چونکہ تیری رضا و خوشنودی کی خاطر اپنی قوم اور قبیلے وغیرہ سب کو چھوڑ دیا ہے اور ان سے علیحدگی اختیار کرلی ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی قوم
تشریح : سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) بڑے جلیل القدر پیغمبر گزرے ہیں۔ ان کی خاص بات یہ ہے کہ ان کی عزت و احترام اہل قریش یہود و نصاریٰ سب ہی کرتے ہیں مگر ان کی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے آپ کے بارے میں سورة بقرہ ‘ الانعام ‘ مریم ‘ الانبیاء میں بیان ہوچکا اور آئندہ سورة اَلصّٰفّٰتِ اور اَلْمُمْتَحِنَہ میں ہوگا۔
انہوں نے بت پرستی اور شرک کو مسترد کیا اور صرف اللہ کی عبادت کی ترغیب دی۔ صاف ظاہر ہے اللہ خالق اور مالک اور ہدایت دینے والا بھی ہے جبکہ بت اور دوسری چیزیں خود اس کی پیدا کی ہوئی ہیں۔ آپ اتنے بڑے پیغمبر تھے کہ آپ کو اللہ نے خلیل اللہ ‘ یعنی اللہ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
آیات 69 تا 104
اسرارومعارف
اہل مکہ اور اہل عرب مشرکین خود کو دین ابراہیمی کا پیروکار جانتے تھے تو ارشاد ہوا کہ انہیں ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بھی سنا دیجیے کہ وہ کیا تھے ان کی تعلیمات کیا تھیں اور یہ لوگ کیا کر رہے ہیں انہیں وہ واقعہ بتائیے جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد سے سوال کیا تھا اور قوم سے بھی کہ آپ لوگ کس کی عبادت کرتے ہیں انہیں بت پرستی میں گرفتار دیکھ کر جاننا چاہا کہ آخر یہ بتوں میں کیا عقیدہ رکھتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ہم بتوں کی پوجا کرتے ہیں اور اسی میں عمریں تمام کردیتے ہیں تو انہوں نے پوچھا کہ کیا یہ تمہارے حال سے واقف ہیں اور تمہاری پکار کو سنتے ہیں اور تمہاری…
Read the full tafseer →11 ۔ اللہ تعالیٰ کی تعریف اور اس کی نعمتوں کا اعتراف کرنے کے بعد اب دعا شروع کی تاکہ دوسرے بھی اقتدا کریں۔ ” حکما سے مراد یہ ہے کہ اپنے دین کا علم اس کے احکام کا صحیح فہم اور قوت فیصلہ عنایت فرما۔ (شوکانی) 12 ۔ جیسا کہ نبی ﷺ نے وفات کے وقت دعا فرمائی تھی : اللھم فی الرفیق الاطی۔ اے اللہ مجھے بلند مرتبہ ساتھیوں میں پہنچا دے۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →(26:83) رب یا ربی کا مخفف ہے اے میرے رب۔
ھب۔ فعل امر واحد مذکر حاضر۔ وھب وھبۃ مصدر (باب فتح) تو بخشش کر۔ تو عطا کر۔
حکما۔ حکم ۔ حکم کرنا حکم یحکم کا مصدر ہے کسی چیز کے متعلق فیصلہ کرنے کا نام حکم ہے لیکن یہاں مراد علم و عمل کا کمال ہے ای کمالا فی العلم والعمل (مظہری)
الحقنی۔ الحق الحاق (افعال) سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر ہے نون وقایہ ی ضمیر مفعول واحد متکلم ۔ تو مجھے ملا دے ۔ تو مجھے شامل کر دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
لغات القرآن : آیت نمبر 69 تا 104 :
اتل (تلاوت کر۔ سنادے) اصنام (صنم) بت ‘ نظل (ہم رہتے ہیں) ‘ عکفین (عاکف) جم کر بیٹھنے والے ‘ یسمعون ( وہ سنتے ہیں) ‘ وجدنا ( ہم نے پایا) ‘ الا قدمون (پہلے) ‘ یطعمنی (وہ مجھے کھلاتا ہے) ‘ یسقین (یسقینی) وہ مجھے پلاتا ہے ‘ یشفین (یشفینی) وہ مجھے شفا (صحت) دیتا ہے ‘ یمیتنی (وہ مجھے موت دے گا) ‘ یحیین (یحیینی) وہ مجھے زندگی دے گا ‘ اطمع (مید امید کرتا ہوں۔ میں توقع رکھتا ہوں) ‘ حکما (علم و حکمت (فیصلہ) ‘ الحقنی (مجھے ملادے) ‘ لسان صدق (ذکر خیر۔ اچھا ذکر۔ سچی زبان) ‘ لاتخزنی (مجھے رسوانہ کیجئے گا) ‘ یبعثون (وہ اٹھائے جائیں گے) ‘ من اتی ( جو آیا۔ (جو لایا) ‘ قلب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–86
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ۔
(ف 1) اے پیغمبر تم ان مشرکوں پر حضرت ابراہیم کا قصہ بیان کرو یہ اپنے آپ کو ان کی ہی طرف نسبت کرتے ہیں اور ان کو حضرت ابراہیم کی فرزندی کا بڑا دعوی ہے اور اس پر فخر کرتے ہیں ذراحضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ تو پڑھ کر سنادو ہمارے ساتھ حضرت ابراہیم کا کیا معاملہ تھا اور یہ جو اپنے آپ کو ان کی اولاد بتاتے ہیں یہ ہمارے ساتھ کس طرح معاملہ رکھتے ہیں جب حضرت ابراہیم نے اپنے باپ دادا اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کس کو پوجتے ہو، اگرچہ وہ بھی جانتے تھے کہ بتوں کو پوجتے ہیں مگر انکو الزام دینے کے لیے ان سے سوال کیا، اس کے جواب میں بولے کہ ہم بتوں کو پوجتے ہیں اور ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–87
[16] یعنی قیامت کے دن۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
حکما سمجھ بوجھ ۔ پیغمبرانہ سلسلہ ۔
Read the full tafseer →83۔ اے میرے پروردگار مجھ کو صحیح فہم عطا فرما اور مجھ کو نیک لوگوں کیساتھ شامل کردے حکم کا ترجمہ ہم نے صحیح فہم سے کیا ہے ہوسکتا ہے کہ کمال علم و عمل مراد ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مراتب علیا کی طلب مراد ہو شائستہ اور نیک لوگوں کے ساتھ اور اعلیٰ درجے کے لوگوں کے ساتھ مجھے محلق کردے۔
Read the full tafseer →ف 2۔ یعنی جامعیت بین العلم والعمل میں زیادہ کمال عطا فرما، کیونکہ نفسی حکمت تو وقت دعا کے بھی حاصل ہے۔
Read the full tafseer →عرض کی اے میرے رب ! مجھے اس ناپاک معاشرہ سے الگ کرکے نیکوں کے ساتھ ملا دے :
83۔ انسان کتنا ہی صابر اور کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو آخر بھی انسان ہے اس کا جی تو بہرحال چاہتا ہے کہ اس کو معاشرت کے لئے اچھے ساتھی ملیں اور اس طرح دنیوی خوشیاں بھی اس کو حاصل ہوں اس طرح گویا ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے رب سے ہجرت کی دعا فرمائی کہ اے میرے رب اس معاشرہ کے لوگوں نے تو میری ہر بات کا مذاق ہی بنایا ہے اور میری ہر بات کا جواب نہ دے سکنے کے باوجود اپنی ضد پر ہی قائم رہے ہیں مجھے ایسے ساتھی بھی عطا فرما جو نیک اور صالح ہوں ۔ گویا اب وہ وقت آگیا ہے کہ جب ایک انسان اس قدر تھک جاتا ہے کہ وہ اپنے خاندان اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–83
The reasoning for this he gave إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ (62) "Indeed with me is my Lord. He will guide me." Such are the moments for the test of faith, when Sayyidna Musa (علیہ السلام) was not terror stricken at all, as if he was seeing for himself the way out. Almost the same thing happened with Holy Prophet ﷺ at the time of migration while hiding in the cave of Thaur. The enemy had reached right at the opening of the cave in his pursuit. In fact they were so close that they could have seen him if they had looked down towards their toes. Sayyidna Abu Bakr ؓ got alarmed a little, but…
Read the full tafseer →60 Hukm here dces not mean "Prophethood", because at the time this prayer was made, Prophet Abraham had already been appointed a Prophet. Even if this prayer was made before that, Prophethood is not bestowed on request, but it is something which Allah Himself bestows on those He wills. That is why, hukm has been translated wisdom, knowledge, right understanding and power of judgment. The Holy Prophet is also reported to have made a similar prayer : Arinal-ashyaa' Kama hiya: "O Allah, give us the power to see and understand a thing as it really is and to form an opinion about it according to…
Read the full tafseer →