Explained with ayahs 60–68
فرعون اور اس کا لشکر غرق دریا ہوگیا
فرعون اپنے تمام لاؤ لشکر اور تمام رعایا کو مصر اور بیرون کے لوگوں کو اپنے والوں کو اور اپنی قوم کے لوگوں کو لے کر بڑ طمطراق اور ٹھاٹھ سے بنی اسرائیل کو تہس نہس کرنے کے ارادے سے چلا بعض کہتے ہیں ان کی تعداد لاکھوں سے تجاوز کرگئی تھی۔ ان میں سے ایک لاکھ تو صرف سیاہ رنگ کے گھوڑوں پر سوار تھے لیکن یہ خبر اہل کتاب کی ہے جو تامل طلب ہے۔ کعب سے تو مروی ہے کہ آٹھ لاکھ تو ایسے گھوڑوں پر سوار تھے۔ ہمارا تو خیال ہے کہ یہ سب بنی اسرائیل کی مبالغہ آمیز روایتیں ہیں۔ اتنا تو قرآن سے ثابت ہے کہ فرعون اپنی کل جماعت کو لے کر چلا مگر قرآن نے ان کی تعداد بیان نہیں فرمائی نہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
سورة الشُّعَرَآء 50
یہاں حضرت ابراہیم ؑ کی حیات طیبہ کے اس دور کا قصہ بیان ہوا ہے جبکہ نبوت سے سرفراز ہونے کے بعد شرک و توحید کے مسئلے پر آپ کی اپنے خاندان اور اپنی قوم سے کشمکش شروع ہوئی تھی۔ اس دور کی تاریخ کے مختلف گوشے قرآن مجید میں حسب ذیل مقامات پر بیان ہوئے ہیں البقرہ رکوع 35۔ الانعام رکوع 9۔ مریم رکوع 3۔ الانبیاء رکوع 5۔ الصّٰفّٰت رکوع 3۔ الممتحنہ رکوع 1)۔
سیرت ابراہیمی کے اس دور کی تاریخ خاص طور پر جس وجہ سے قرآن مجید بار بار سامنے لاتا ہے وہ یہ ہے کہ عرب کے لوگ بالعموم اور قریش بالخصوص اپنے آپ کو سیدنا ابراہیم ؑ کا پیرو سمجھتے اور کہتے تھے اور یہ دعویٰ رکھتے تھے کہ ملت ابراہیمی ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–68
اور وجہ یہ بتلاتے ہیں کہ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيْ سَيَهْدِيْنِ میرے ساتھ میرا پروردگار ہے جو مجھے راستہ دے گا۔ ایمان کا امتحان ایسے ہی مواقع میں ہوتا ہے کہ موسیٰ ؑ پر ذرا ہراس نہیں تھا، وہ گویا راستہ بچنے کا آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ اسی طرح کا بعینہ واقعہ ہجرت کے وقت غار ثور میں چھپنے کے وقت رسول کریم ﷺ کو پیش آیا تھا کہ دشمن جو آپ کے تعاقب میں تھے اس غار کے دہانے پر آکھڑے ہوئے ذرا نیچے نظر کریں تو آپ ان کے سامنے آجائیں اس وقت صدیق اکبر کو گھبراہٹ ہوئی تو آپ نے بعینہ یہی جواب دیا لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا کہ غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ ان دونوں واقعات میں ایک بات یہ بھی قابل نظر ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–68
آیت 68-67
ترجیح
یہ سرگزشت کے آخر میں وہی ترجیح ہے جس کا حالہ اوپر گزر چکا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر ان لوگوں کو نشانی ہی مطلوب ہے تو اس سرگزشت کے اندر بڑا سامان عبرت موجود ہے لیکن جو لوگ عقل سے کام نہیں لیتے وہ نشانیوں ہی کے مطالبے کرتے رہ جاتے ہیں۔ بڑی سے بڑی نشانیاں دیکھنے کے بعد بھی فرعونیوں کی طرح ان کی اکثریت کو ایمان لانے کی توفیق نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ اس قسم کے رکشوں کو جب چاہے پکڑ سکتا ہے۔ وہ عزیز ہے لیکن وہ ان کو توبہ و اصلاح کے لئے مہلت دیتا ہے اس لئے کہ وہ رحیم بھی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–71
71-1یعنی رات دن ان کی عبادت کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–79
16: یعنی فرعون کے لشکر نے جب دیکھا کہ سمندر کے درمیان راستے بنے ہوئے ہیں، تو اس نے بھی اس راستے سے گذرنے کی کوشش کی، لیکن جب وہ لوگ وہاں پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کو اپنی اصل حالت پر لوٹا دیا، اور فرعون اور اس کے ساتھی اسی سمندر میں غرق ہوگئے۔ یہ تفصیل سورة یونس :91، 92 میں گذر چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–68
ان فی ذلک ……مئومنین (67)
اس لئے اگر خارق عادت معجزات کا صدور بھی ہوجائے تو نہ ماننے والے پھر بھی نہیں مانتے۔ اگرچہ بظاہر لوگ لاجواب ہوجائیں ، کیونکہ تو ایک ہدایت ہے اور ہدیات وہ ہوتی ہے جسے دل قبول کرے۔
وان ربک لھو العزیز الرحیم (68)
’ ۔ “ یہ پوری سورت کا سبق اور محور ہے کہ معجزات اور آیات پیش کرنے کے بعد ، اگر لوگ تکذیب پر اصرار کریں گے تو اللہ بھی عزیز ہے۔ “
Read the full tafseer →7 یہ سنا دیا ہمارے حضرت ﷺ کو کہ مکہ کے فرعون بھی مسلمانوں کے پیچھے نکلیں گے لڑائی کو۔ پھر وطن سے باہر تباہ ہوں گے " بدر " کے دن، جیسے فرعون تباہ ہوا۔ (موضح القرآن)
Read the full tafseer →آیت 68 وَاِنَّ رَبَّکَ لَہُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ ”
اللہ تعالیٰ بہت طاقتور اور سب پر غالب ہے۔ وہ جو چاہے حکم کرے ‘ مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ رحیم بھی ہے اور اس کی رحمت کا تقاضا یہ ہے کہ مشرکین کو ایسا کوئی حسی معجزہ نہ دکھایا جائے جس سے ان کی مہلت ختم ہوجائے۔
Read the full tafseer →47 یعنی ایسی واضح نشان دیکھ کر بھی منکرین حق کم ہی ایمان لاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو سزا دینے کی اللہ پوری قدرت رکھتا ہے لیکن فوراً سزا اس لئے نہیں دیتا کہ وہ رحیم بھی ہے۔
Read the full tafseer →55۔ چناچہ صفت عزیز کے تقاضہ سے وہ جب اور جسے چاہے سزا دے دے۔ لیکن صفت رحیم کے تقاضہ سے فورا گرفت نہیں کرتا بلکہ بہت موقع دیتا رہتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–68
آیت نمبر 52 تا 68
ترجمہ : اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا بعد اس کے کہ موسیٰ (علیہ السلام) ان کے درمیان سالہا سال مقیم رہے (اور) اللہ کی آیات کے ذریعہ دعوت حق دیتے رہے مگر ان کی سرکشی ہی میں اضافہ ہوتا رہا، کہ میرے بندوں بنی اسرائیل کو راتوں رات نکال لیجا، اور ایک قرأت میں نون کے کسرہ اور اَسْرِ کے ہمزہ وصل کے ساتھ ہے اَسْرٰی میں ایک لغت مَسرَیٰ بھی ہے، یعنی راتوں رات ان کو بحر (قلزم) کی طرف لے جا، یقیناً تمہارا تعاقب کیا جائے گا یعنی فرعون اور اس کا لشکر تمہارا تعاقب کرے گا چناچہ وہ تمہارے پیچھے دریا میں داخل ہوجائیں گے سو میں تم کو نجات دوں گا اور ان کو غرق کر دوں گا جس وقت فرعون…
Read the full tafseer →وان ربک لہو العزیز الرحیم۔ اور یقیناً آپ کا رب (دشمنوں سے انتقام لینے میں) غالب اور (دوستوں کے لئے) مہربان ہے۔
Read the full tafseer →(68) اور آپ کا رب کافروں کو سزا دینے میں بڑا زبردست ہے اور مسلمانوں پر بڑا مہربان بھی اسی لیے ان لوگوں کو غرق ہونے سے بچا لیا۔
Read the full tafseer →وَاِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ الْعَزِيْزُ الرَّحِيْمُ : یعنی اپنے دشمنوں سے انتقام لینے والا اور اپنے ماننے والوں پر رحم کرنے والا ہے۔ چناچہ دیکھو دم بھر میں فرعون کو غرق کردیا اور بنی اسرائیل کو نجات دلا کر بادشاہ بنادیا۔ اس میں ہمارے نبی کریم ﷺ کے لیے بھی بشارت ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی مدد کرے گا، اگر ہجرت کے بعد مکہ کے فرعونوں نے آپ کا تعاقب کیا تو ان کا حال بھی مصر کے فرعون جیسا ہوگا اور پھر واقعی اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی مدد فرمائی اور بدر کے میدان میں مکہ کے فرعونوں کو تباہ و برباد کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–68
(واوحینا الی موسیٰ ان۔۔۔۔۔ )
واوحینا الی موسیٰ ان اسربعبادی انکم متبعون جب اللہ تعالیٰ کی یہی سنت رہی ہے کہ وہ اپنے مومن بندوں کو نجات عطاء فرماتا ہے جو اس کے اولیاء میں سے تصدیق کرنے والے ہوتے ہیں اور اس کے رسولوں اور انبیاء کی تصدیق کرنے والے ہوتے ہیں اور ان کافروں کو ہلاک فرماتا ہے جو اس کے دشمنوں میں سے جھٹلانے والے ہوتے ہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو رات کے وقت نکالے۔ انہیں اپنے بندوں ہونے کا نام دیا کیونکہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے تھے انکم متبعون کا معنی ہے فرعون اور اس کی قوم تمہارا پیچھاکرے گی تاکہ تمہیں واپس لے جائیں۔ اس کلام کے ضمن میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 63–68
1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” کا الطود “ سے مراد ہے جیسے پہاڑ۔
2۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” کا الطود “ سے مراد ہے جیسے پہاڑ۔
3۔ عبدبن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کہ آیت ” الطود “ سے مراد ہے پہاڑ۔
4۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” وازلفنا ثم الاخرین “ سے فرعون کی قوم مراد ہے اللہ تعالیٰ نے ان کو قریب کیا یہاں تک کہ ان کو دریا میں غرق کردیا۔
5۔ ابن مردویہ نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا میں تم کو ایسے کلمات نہ سکھاؤں جو موسیٰ (علیہ السلام) نے اس وقت کہے جب سمندر پھٹ گیا تھا میں نے…
Read the full tafseer →وَاِنَّ رَبَّكَ [ اور بیشک آپ ﷺ کا رب ] لَهُوَ الْعَزِيْزُ [ یقینا وہی بالادست ہے ] الرَّحِيْمُ [ ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو توحید کی دعوت دینا اللہ تعالیٰ کی شان ربوبیت بیان کرنا اور بارگاہ خداوندی میں دعائیں پیش کرنا
یہاں سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت توحید اور قوم کی تبلیغ کا بیان شروع ہو رہا ہے آخر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاء نقل فرائی ہے جو انہوں نے اللہ جل شانہٗ سے اپنی دنیا و آخرت کی کامیابی کے لیے کی تھی۔ انہوں نے اپنے باپ کو اور اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی اور شرک سے روکا ان لوگوں نے جو بےت کے جواب دیئے اس کا ذکر قرآن مجید میں متعدد مواقع میں کیا گیا یہاں جو مکالمہ مذکور ہے قریب قریب اسی طرح کی گفتگو سورة الانبیاء (ع 5) میں بھی گزر چکی ہے۔
حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–68
ذکر کرشمہ قدرت خداوند جلیل ورنجات بنی اسرائیل و غرقابی فرعون و دریائے نیل
قال اللہ تعالیٰ و اوحینا الی موسیٰ ان اسر بعبادی الیٰ و ان ربک لھو العزیز الرحیم۔
(ربط) مقابلہ میں جب موسیٰ (علیہ السلام) غالب آگئے اور اللہ کی حجت اور برہان سب پر قائم ہوگئی مگر باوجود اس کے فرعون اور اسکی قوم عناد پر قائم رہی اور ایمان لانے والوں پر ظلم ڈھانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تو اب اتمام حجت کے بعد سوائے وبال و نکال اور عذاب و عقاب کے کچھ باقی نہ رہا تو مشیت ایزدی یہ ہوئی کہ اس ظالم سے انتقام لیا جائے اس لیے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ رات کے وقت بنی اسرائیل کو نکال لے جائیں اور بتلا دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–69
33:۔ یہ دوسری نقلی دلیل ہے کہ اللہ کے سوا کوئی برکات دہندہ نہیں۔ اس سے تخویف دنیوی مطلوب نہیں۔ کیونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم پر انکار دعوی کی وجہ سے اس وقت عذاب نہیں آیا۔ ” اذ قال لابیہ وقومہ الخ “ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے سوال کیا تم کس چیز کی عبادت کرتے ہو ؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو معلوم تو تھا وہ کس چیز کی عبادت کرتے ہیں لیکن وہ اس مکالمے سے ان پر یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ جن معبودوں کی وہ عبادت و دعاء میں مصروف ہیں وہ معبود ہونے کے مستحق نہیں ہیں۔ و ابراہیم (علیہ السلام) یعلم انہم عبدۃ الاصنام ولکنہ سالھم لیریھم ان ما یعبدونہ لیس بمستحق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–68
ربط آیات
گزشتہ درس میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی قوم کو لے کر راتوں رات مصر سے نکل جائیں اور ساتھ یہ بھی بتلا دیا کہ فرعون کا لشکر آپ کا تعاقب کرے گا ۔ حسب حکم موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو لے کر نکل کھڑے ہوئے۔ جیسا کہ پہلے درس میں بیان ہوچکا ہے کہ بنی اسرائیل ہر سال خاص دنوں میں اپنا قومی میلہ منایا کرتے تھے ۔ حسب معمول اس سال بھی انہوں نے باہر جا کر جشن منانے کا پروگرام بنایا اور اس سلسلے میں بعض نے قبضیوں سے زیورات بھی مانگے جو انہوں نے بخوشی دے دیے۔ پروگرام کے مطابق موسیٰ علیہ السلم بمع قوم بنی اسرائیل مصر سے نکل گئے اور چلتے چلتے…
Read the full tafseer →وَاِنَّ رَبَّكَ لَہُوَالْعَزِيْزُ الرَّحِيْمُ 68ۧ
عزیز
، وَالعَزيزُ : الذي يقهر ولا يقهر . قال تعالی: إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [ العنکبوت/ 26] ، يا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنا [يوسف/ 88]
( ع ز ز ) العزۃ
العزیز وہ ہے جو غالب ہو اور مغلوب نہ ہو قرآن ، میں ہے : ۔ إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ [ العنکبوت/ 26] بیشک وہ غالب حکمت والا ہے ۔ يا أَيُّهَا الْعَزِيزُ مَسَّنا [يوسف/ 88] اے عزیز میں اور ہمارے اہل و عیال کو بڑی تکلیف ہورہی ہے ۔ اعزہ ( افعال ) کے معنی کسی کو عزت بخشے کے ہیں ۔ )
رحم
والرَّحْمَةُ رقّة تقتضي الإحسان إلى الْمَرْحُومِ ، وقد تستعمل تارة في الرّقّة المجرّدة، وتارة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–68
1 ؎ زبردست ایسا کہ فرعون اور اس کے لشکر کو غرق کردیا رحیم ایسا کہ بیچارے بنی اسرائیل کو بچا لیا یا یہ کہ زبردست ہے سزا دینے پر آئے تو کوئی بچ نہیں سکتا مگر رحیم بھی ہے کہ فی الفور سزا نہیں دیتا درگزر کرجاتا ہے۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–68
اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً ط وَمَا کَانَ اَکْثَرُھُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۔ وَاِنَّ رَبَّـکَ لَھُوَالْعَزِیْزُالرَّحِیْمُ ۔
(الشعرآء : 67، 68)
(بیشک اس واقعہ میں بہت بڑی نشانی ہے مگر ان لوگوں میں سے اکثر ماننے والے نہیں ہیں۔ اور بیشک آپ کا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی۔ )
ترجیع کی آیت اور اس کا مفہوم
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی سرگزشت کے آخر میں یہ آیت کریمہ وہی ہے جو اس کے بعد آنے والے ہر پیغمبر کی سرگزشت کے بعد آٹھ بار وارد ہوئی ہے۔ اس آیت کو ترجیع کہتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قریش آنحضرت ﷺ سے بار بار آپ کی حقانیت اور آپ کے دین کی صداقت پر کوئی نشانی مانگتے تھے۔ انھیں بار بار ہر پیغمبر کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–69
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے درمیان ہونے والی کشمکش کا مختصربیان۔
اہل مکہ اپنے آپ کو ملت ابراہیم (علیہ السلام) کے وارث سمجھتے تھے۔ اسی بنا پر قرآن مجید میں جابجا ابراہیم (علیہ السلام) کی سیرت اور ان کی بےمثال اور لازوال جدوجہد کا تذکرہ کیا گیا ہے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ اور قوم کو مشترکہ خطاب کرتے ہوئے استفسار فرمایا کہ آخر تم ان چیزوں کی کیوں عبادت کرتے ہو ؟ انھوں نے کہا کہ ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں اور ہمیشہ ان کے سامنے اعتکاف اور ان کی تعظیم کرتے رہیں گے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پے درپے ان سے تین…
Read the full tafseer →68: اِنَّ رَبَّکَ لَھُوَ الْعَزِیْزُ (اور بلاشبہ آپ کا رب البتہ زبردست ہے) اپنے دشمنوں سے انتقام و بدلہ لینے میں الرَّحِیْمُ (مہربان ہے) اپنی فرمانبرداری پر انعامات کرنے میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
68۔ وان ربک لھوالعزیزالرحیم۔ عزیز جو اپنے دشمنوں سے انتقام لینے والا ہو اور رحیم ہے مومنین کے لیے ان کو نجات دے کر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–68
(52 تا 68) جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون اور اس کے اہل دربار پر خدا کی وحدانیت قائم کرچکے اور وہ لوگ اپنی سرکشی سے باز نہ آئے تو اب سوائے عذاب الٰہی کے اور کچھ باقی نہ رہا اس لیے خدا تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم کیا کہ بنی اسرائیل کو مصر سے ایک رات اپنے ساتھ لے کر چلے جاؤ اس وقت بنی اسرائیل نے فرعون کی قوم سے بہت سا زیور اس حیلہ سے مانگ لیا تھا کہ آج ان کے ہاں ایک شادی ہے اکثر مفسروں 1 ؎ نے لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) مصر سے چاند کے طلوع ہونے کے وقت باہر نکلے تھے اور یوسف (علیہ السلام) کی یہ وصیت تھی کہ بنی اسرائیل جب مصر سے جاویں تو یوسف (علیہ السلام) کی لاش کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–68
آیت نمبر 10 سے 68
اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں موسیٰ (علیہ السلام) کی مدح وثنا اور ان کے واقعات کا بار بار جتنا اعادہ کیا ہے اتنا کسی اور واقعے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ عظیم حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس قصے میں اہل ایمان اور اہل کفر کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے طرز عمل کی تفصیل ہے نیز موسیٰ (علیہ السلام) صاحب شریعت کبری اور صاحب تورات تھے جو قرآن عظیم کے بعد سب سے افضل کتاب ہے۔
فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجئے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندادی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، ان کو رسول بنا کر…
Read the full tafseer →41 رب کی صفت ِ عزت و رحمت کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک تمہارا رب بڑا ہی زبردست انتہائی مہربان ہے۔ اور زبردست اتنا کہ کوئی بھی اس کی گرفت و پکڑ سے بچ نہیں سکتا۔ مگر مہربان اتنا کہ بڑے سے بڑے مجرموں کو بھی مہلت پر مہلت دئے جاتا ہے۔ اور اس کی رحمت کا دروازہ ہر ایک کے لئے کھلا ہے ۔ فَلَکَ الْحَمْدُ یَارَبّیْ کَمَا یَلِیْقُ بِجَلَالِ وَجْھِکَ وَعَظِیْمِ سُلطانک۔ سو اس کی قوت وقدرت سب پر فائق اور سب سے اعلیٰ وبالا ہے۔ ذرا دیکھو تو سہی کہ کہاں فرعون کا وہ طمطراق تھا اور وہ ۔ { اَنَا رَبُّکُمُ الاَعْلیٰ } ۔ کے دعوے کرتا اور اپنی خدائی کے نعرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–68
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ
تشریح : اس واقعہ میں بیشمار نصیحتیں ‘ اللہ کے کمالات ‘ عجزو انکساری اور سب سے بڑھ کر توکل علی اللہ کا بہت زبردست سبق ملتا ہے۔ ایمان کامل انسان کے اندر اس قدر ہمت ‘ جرأت ‘ بہادری اور معرفت پیدا کردیتا ہے کہ انسان مادی اصولوں سے بےنیاز ہو کر روحانی دنیا میں گم ہوجاتا ہے اور اس کو اللہ ‘ اس کی مدد ‘ اس کا سایہ دنیا کے ہر خطرے سے محفوظ بےنیاز کردیتا ہے۔ جیسا کہ سید حسین نصر صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں : ” سچے مومن کی فراست تکمیل کو پہنچ جاتی ہے جیسا کہ اللہ نے فرمایا ” اللہ کی یاد میں دلوں کا سکون ہے۔ “ ( سورة رعد آیت : 28)
ایسا شخص جو اس حالت میں ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–68
آیات 52 تا 68
اسرار و معارف
جب فرعون ایسے ایسے معجزات دیکھ کر بھی ایمان نہ لایا تو ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بذریعہ وحی حکم دیا کہ کہ آپ میرے بندوں کو (بنی اسرائیل ایمان لا چکے تھے تو انہیں اپنے بندے ہونے کا شرف بخشا) لے کر رات کو مصر سے نکل کھڑے ہوں اور اور ساتھ یہ اطلاع بھی کردی کہ فرعون کو خبر ہوگی تو وہ تمہارا پیچھا کریگا (اور یوں اپنے انجام کو پہنچے گا) چناچہ جب فرعون کو علم ہوا کہ بنی اسرائیل تو راتو رات نکل گئے اور اہل مصر سے بہت سا مال اور زیورات بھی لے گئے تو بھڑک اٹھا اور دوسرے شہروں میں بھی ہرکارے دوڑا دئیے کہ سب لڑاکا جوان جمع ہوں اور کہا کہ یہ ایک معمولی سی بےحیثیت جماعت ہیں…
Read the full tafseer →3 ۔ یعنی اپنے دشمنوں سے انتقام لینے والا اور اپنے ماننے والوں پر رحم کرنے والا۔ چناچہ دیکھو دم بھر میں فرعون کو غرق کردیا اور بنی اسرائیل کو نجات دلا کر بادشاہ بنادیا۔ شاہ صاحب (رح) کہتے ہیں : یہ سنا دیا ہمارے حضرت ﷺ کو کہ مکہ کے فرعون بھی مسلمانوں کے پیچھے نکلیں گے لڑائی کو، پھر وطن سے باہر تباہ ہوں گے ” بدر “ کے دن جیسے فرعون تباہ ہوا۔ (موضح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–68
(26:65) انجینا ماضی جمع متکلم۔ انجاء مصدر (باب افعال) سے ہم نے بچا لیا ہم نے نجات دی۔ نجو مادہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–68
لغات القرآن : آیت نمبر 52 تا 68 :
اوحینا (ہم نے وحی کی) ‘ اسر (راتوں رات نکل جا) متبعون ( پیچھا کئے جانے والے) ‘ ارسل ( بھیج دے) ‘ مدائن (مدینۃ) شہروں ‘ شرذمۃ (جماعت۔ گروہ) غائظون (غصہ دلانے والے) حذورن (احتیاط کرنے والے۔ بچنے والے) ‘ عیون (عین) چشمے ‘ کنوز (کنز) خزانے ‘ مقام کریم (عمدہ پاکیزہ ٹھکانے) اور ثنا (ہم نے وارث (مالک) بنادیا ‘ مشرقین (سورج نکلنے (والے ) کی جگہ ‘ مدرکون (پکڑے جانے والے) ‘ انفلق (پھٹ پڑا) ‘ کل فرق (ہرحصہ) طودالعظیم (پہاڑ کی طرح بڑا حصہ) ‘ ازلفنا (ہم نے قریب کردیا) ‘ ثم (اسی جگہ) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 52 تا 68 :
جب نبی کریم ﷺ نے مکہ میں دین اسلام پھیلانے کی جدوجہد کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–68
فرعون کا ڈوب کر ہلاک ہونا۔
(ف 2) جب حضرت موسیٰ فرعون اور اس کے اہل دربار پر خدا کی وحدانیت قائم کرچکے اور وہ لوگ سرکشی سے باز نہ آئے تو اب سوائے عذاب الٰہی کے اور کچھ باقی نہ رہا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو حکم کیا کہ بنی اسرائیل کو مصر سے ایک رات اپنے ساتھ لے کر چلے جاؤ اس وقت بنی اسرائیل نے فرعون کی قوم سے بہت سازیور مانگ لیا تھا کہ آج ان کے ہاں ایک شادی ہے ہم اپنی بیبیوں کو پہنائیں گے بعد فارغ ہونے کے واپس کردیں گے جب صبح ہوئی تو فرعون نے ایک آدمی بھی بنی اسرائیل کا مصر میں نہ دیکھا اس پر فرعون کو جوش آیا اور بہت غضب ناک ہوا اور فرعون نے شہروں میں جلدی سے نقیب دوڑائے اور کہابھیجا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–77
[15] یعنی میں ان کی عبادت میں سراسر اپنا نقصان دیکھتا ہوں۔ یہ تو باعث تباہی و بربادی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–68
اذلفنا ۔ قریب کرنا ۔
Read the full tafseer →68۔ اور بیشک آپ کا پروردگار کمال قوت کا مالک اور بڑی مہربانی والا ہے۔
حضرت شاہ (رح) صاحب فرماتے ہیں یہ سنا دیا ہمارے حضرت کو کہ مکہ کے فرعون بھی مسلمانوں کے پیچھے نکلیں گے لڑائی کو پھر وطن کے باہر تباہ ہوں گے بدر کی لڑائی میں جیسے فرعون تباہ ہوا 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–73
ف 5۔ یعنی استحقاق الوہیت کے لئے علم اور قدرت کاملہ تو ضروری ہے۔
Read the full tafseer →تیرا رب اے پیغمبر اسلام ! ﷺ زبردست بھی ہے اور پیار کرنے والا بھی :
68۔ اے میرے رسول ﷺ اللہ تعالیٰ اس قسم کے سرکشوں کو جب چاہے پکڑ سکتا ہے اور یہ وجہ ہے کہ وہ جب تک چاہتا ہے ڈھیل دیتا ہے کیونکہ اس کو یہ خطرہ نہیں کہ جب میں چاہوں گا معلوم نہیں یہ پکڑا جائے گا یا نہیں لہذا وہ عین ایسے وقت بھی کہ وہ خود سمجھتا کہ شاید میں پکڑا گیا وہ اس کو چھوڑ دیتا ہے اور بالکل اسی طرح ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس کے سان گمان میں بھی نہیں ہوتا کہ یہاں سے اس کو پکڑ لیا جائے گا لیکن اللہ تعالیٰ اس کو پکڑ لیتا ہے اس لئے کہ یہ پکڑنا اور چھوڑنا اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے قانون کے مطابق ہے یہ دنیا کے کسی حکمران کے قانون کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–83
The reasoning for this he gave إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ (62) "Indeed with me is my Lord. He will guide me." Such are the moments for the test of faith, when Sayyidna Musa (علیہ السلام) was not terror stricken at all, as if he was seeing for himself the way out. Almost the same thing happened with Holy Prophet ﷺ at the time of migration while hiding in the cave of Thaur. The enemy had reached right at the opening of the cave in his pursuit. In fact they were so close that they could have seen him if they had looked down towards their toes. Sayyidna Abu Bakr ؓ got alarmed a little, but…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
50 This part of the life-history of Prophet Abraham relates to the time when after his appointment to Prophethood, a conflict had started between him and his people on the questions of shirk and Tauhid. In this connection, the reader should also see Al-Baqarah: 258-260, Al-An`am: 75-83, Maryam: 41-50, Al-Anbiya': 51-70, As- Saffat: 83-113, and Al-Mumtahanah: 4-5.
The Qur'an has specially repeated this part of Prophet Abraham's lifestory over and over again because the Arabs in general and the Quraish in particular regarded themselves as his followers and professed his way and creed. Besides…
Read the full tafseer →