Ash-Shu'araa 26:67

Ash-Shu'araa · from ayah 67

26:67

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً ؕ— وَمَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۟اِنَّ فِىۡ ذٰ لِكَ لَاٰيَةً ؕ وَمَا كَانَ اَكۡثَرُهُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ

بےشک اس (قصے) میں نشانی ہے۔ لیکن یہ اکثر ایمان لانے والے نہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed in that is a sign, but most of them were not to be believers.

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 4 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:67

اس واقعہ میں ایک نشانی ہے، مگر اِن لوگوں میں سے اکثر ماننے والے نہیں ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

بےشک اس (قصے) میں نشانی ہے۔ لیکن یہ اکثر ایمان لانے والے نہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

یقیناً اس میں بڑی عبرت ہے اور ان میں کےاکثر لوگ ایمان والے نہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

یقینا اس سارے واقعے میں عبرت کا بڑا سامان ہے، پھر بھی ان میں سے اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک اس میں ضرور نشانی ہے اور ان میں اکثر مسلمان نہ تھے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک اس (واقعہ) میں (قدرتِ الٰہیہ) کی بڑی نشانی ہے، اور ان میں سے اکثر لوگ مومن نہ تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک اس میں یقینا ایک نشانی ہے اور ان کے اکثر ایمان لانے والے نہیں تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اس واقعہ میں بھی ایک نشانی ہے لیکن ان میں سے اکثر ماننے والے نہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بیشک اس کے اندر بہت بڑی نشانی ہے اور ان کے اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بیشک اس میں بڑی بھاری نشانی ہے مگر اکثر لوگ پھر بھی ماننے والے نہیں

— مولانا اسحاق مدنی

بیشک اس واقعہ میں ایک بڑا نشان ہے۔ اور ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہ تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقیناً اس میں ایک نشانی ہے لیکن ان کی اکثریت ایمان لانے والی نہیں ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

بیشک اس (واقعے) میں نشانی ہے لیکن یہ اکثر ایمان لانے والے نہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Surely there is a Sign in this, but most of them would not believe.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Surely, in this there is a sign, but most of them are not believers,

— Muhammad Taqi Usmani

Surely, in this there is a sign, but most of them are not believers,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, in this is indeed a sign, yet most of them are not believers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Lo! herein is indeed a portent, yet most of them are not believers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed in that is a sign, but most of them were not to be believers.

— Saheeh International

and drowned the other party.

— Muhammad Sarwar

Most surely there is a sign in this, but most of them do not believe.

— Muhammad Habib Shakir

Verily herein is a sign; but most of them are not believers.

— Abdul Majid Daryabadi

Verily in this is a Sign: but most of them do not believe.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 26:67

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 60–68

فرعون اور اس کا لشکر غرق دریا ہوگیا فرعون اپنے تمام لاؤ لشکر اور تمام رعایا کو مصر اور بیرون کے لوگوں کو اپنے والوں کو اور اپنی قوم کے لوگوں کو لے کر بڑ طمطراق اور ٹھاٹھ سے بنی اسرائیل کو تہس نہس کرنے کے ارادے سے چلا بعض کہتے ہیں ان کی تعداد لاکھوں سے تجاوز کرگئی تھی۔ ان میں سے ایک لاکھ تو صرف سیاہ رنگ کے گھوڑوں پر سوار تھے لیکن یہ خبر اہل کتاب کی ہے جو تامل طلب ہے۔ کعب سے تو مروی ہے کہ آٹھ لاکھ تو ایسے گھوڑوں پر سوار تھے۔ ہمارا تو خیال ہے کہ یہ سب بنی اسرائیل کی مبالغہ آمیز روایتیں ہیں۔ اتنا تو قرآن سے ثابت ہے کہ فرعون اپنی کل جماعت کو لے کر چلا مگر قرآن نے ان کی تعداد بیان نہیں فرمائی نہ اس…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 65–67

سورة الشُّعَرَآء 49 یعنی قریش کے لیے اس میں یہ سبق ہے کہ ہٹ دھرم لوگ کھلے کھلے معجزات دیکھ کر بھی کس طرح ایمان لانے سے انکار ہی کیے جاتے ہیں اور پھر اس ہٹ دھرمی کا انجام کیسا درد ناک ہوتا ہے۔ فرعون اور اس کی قوم کے تمام سرداروں اور ہزارہا لشکریوں کی آنکھوں پر ایسی پٹی بندھی ہوئی تھی کہ سالہا سال تک جو نشانیاں ان کو دکھائی جاتی رہیں ان کو تو وہ نظر انداز کرتے ہی رہے تھے، آخر میں عین غرق ہونے کے وقت بھی ان کو یہ نہ سوجھا کہ سمندر اس قافلے کے لیے پھٹ گیا ہے، پانی پہاڑوں کی طرح دونوں طرف کھڑا ہے اور بیچ میں سوکھی سڑک سی بنی ہوئی ہے۔ یہ صریح علامتیں دیکھ کر بھی ان کو عقل نہ آئی کہ موسیٰ ؑ کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 62–68

اور وجہ یہ بتلاتے ہیں کہ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيْ سَيَهْدِيْنِ میرے ساتھ میرا پروردگار ہے جو مجھے راستہ دے گا۔ ایمان کا امتحان ایسے ہی مواقع میں ہوتا ہے کہ موسیٰ ؑ پر ذرا ہراس نہیں تھا، وہ گویا راستہ بچنے کا آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ اسی طرح کا بعینہ واقعہ ہجرت کے وقت غار ثور میں چھپنے کے وقت رسول کریم ﷺ کو پیش آیا تھا کہ دشمن جو آپ کے تعاقب میں تھے اس غار کے دہانے پر آکھڑے ہوئے ذرا نیچے نظر کریں تو آپ ان کے سامنے آجائیں اس وقت صدیق اکبر کو گھبراہٹ ہوئی تو آپ نے بعینہ یہی جواب دیا لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا کہ غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ ان دونوں واقعات میں ایک بات یہ بھی قابل نظر ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 67–68

آیت 68-67 ترجیح یہ سرگزشت کے آخر میں وہی ترجیح ہے جس کا حالہ اوپر گزر چکا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر ان لوگوں کو نشانی ہی مطلوب ہے تو اس سرگزشت کے اندر بڑا سامان عبرت موجود ہے لیکن جو لوگ عقل سے کام نہیں لیتے وہ نشانیوں ہی کے مطالبے کرتے رہ جاتے ہیں۔ بڑی سے بڑی نشانیاں دیکھنے کے بعد بھی فرعونیوں کی طرح ان کی اکثریت کو ایمان لانے کی توفیق نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ اس قسم کے رکشوں کو جب چاہے پکڑ سکتا ہے۔ وہ عزیز ہے لیکن وہ ان کو توبہ و اصلاح کے لئے مہلت دیتا ہے اس لئے کہ وہ رحیم بھی ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

67-1یعنی اگرچہ اس واقعے میں، جو اللہ کی نصرت و معاونت کا واضح مظہر ہے، بڑی نشانی ہے لیکن اس کے باوجود اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 64–79

16: یعنی فرعون کے لشکر نے جب دیکھا کہ سمندر کے درمیان راستے بنے ہوئے ہیں، تو اس نے بھی اس راستے سے گذرنے کی کوشش کی، لیکن جب وہ لوگ وہاں پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کو اپنی اصل حالت پر لوٹا دیا، اور فرعون اور اس کے ساتھی اسی سمندر میں غرق ہوگئے۔ یہ تفصیل سورة یونس :91، 92 میں گذر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 67–68

ان فی ذلک ……مئومنین (67) اس لئے اگر خارق عادت معجزات کا صدور بھی ہوجائے تو نہ ماننے والے پھر بھی نہیں مانتے۔ اگرچہ بظاہر لوگ لاجواب ہوجائیں ، کیونکہ تو ایک ہدایت ہے اور ہدیات وہ ہوتی ہے جسے دل قبول کرے۔ وان ربک لھو العزیز الرحیم (68) ’ ۔ “ یہ پوری سورت کا سبق اور محور ہے کہ معجزات اور آیات پیش کرنے کے بعد ، اگر لوگ تکذیب پر اصرار کریں گے تو اللہ بھی عزیز ہے۔ “

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی جب اکثروں نے حق قبول نہ کیا تو آخر میں قدرت نے یہ نشان دکھلایا۔ جس سے صادقین اور مکذبین کے انجام کا دنیا ہی میں الگ الگ پتہ چل جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 65–67

آیت 67 اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃًط وَمَا کَانَ اَکْثَرُہُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ” اس آیت میں حضور ﷺ اور اہل ایمان کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی ﷺ ! اگر مشرکین مکہّ کو کوئی نشانی چاہیے تو وہ اس واقعہ کو دیکھ لیں۔ اور اگر انہیں اس میں کوئی نشانی نظر نہیں آتی تو پھر کوئی بڑے سے بڑا معجزہ بھی ان کی آنکھیں نہیں کھول سکے گا۔ چناچہ آپ ﷺ خواہ کتنی ہی کوشش کریں ان کی اکثریت ایمان نہیں لائے گی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 65–67

46 یعنی اس واقعہ میں ہر طرح کے لوگوں کے لئے نشانی ہے۔ ظالموں کے لئے یہ نشانی ہے کہ وہ اپنے کرتوتوں کی سزا اور اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچ نہیں سکتے۔ اللہ تعالیٰ کا دست قدرت انھیں ایسے راستوں سے مقام ہلاکت کی طرف کھینچ لاتا ہے جن کا انھیں وہم و گمان بھی نہیں ہوتا۔ لہذا اے معاندین قریش تم بھی اس واقعہ سے عبرت حاصل کرو کہ کہیں تمہیں بھی ایسے انجام بد سے دوچار نہ ہونا پڑے اور اس واقعہ میں ایمان لانے والوں کے لئے بھی نشانی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو آزماتا ضرور ہے۔ انھیں تکلیفیں بھی پہنچتی ہیں۔ بالاخر اللہ تعالیٰ مظلوموں کی ہی مدد کرتا ہے اور ظالموں کو تباہ و برباد کردیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

53۔ (اللہ کی قدرت و حکمت کا اور مخالفین حق کی سزا یابی کا) اے فی ھذہ القصۃ وما فیھا من العجائب والنصر والتائید لعباد اللہ ال مومنین لدلالۃ وحجۃ قاطعۃ و حکمۃ بالغۃ (ابن کثیر) 54۔ یعنی قوم فرعون واہل مصر میں سے، اے من اھل مصر (معالم) اے اکثر قوم فرعون وھم القبط (بحر) بعض نے رسول اللہ ﷺ کے معاصر کفار اہل عرب بھی مراد لیے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 52–68

آیت نمبر 52 تا 68 ترجمہ : اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا بعد اس کے کہ موسیٰ (علیہ السلام) ان کے درمیان سالہا سال مقیم رہے (اور) اللہ کی آیات کے ذریعہ دعوت حق دیتے رہے مگر ان کی سرکشی ہی میں اضافہ ہوتا رہا، کہ میرے بندوں بنی اسرائیل کو راتوں رات نکال لیجا، اور ایک قرأت میں نون کے کسرہ اور اَسْرِ کے ہمزہ وصل کے ساتھ ہے اَسْرٰی میں ایک لغت مَسرَیٰ بھی ہے، یعنی راتوں رات ان کو بحر (قلزم) کی طرف لے جا، یقیناً تمہارا تعاقب کیا جائے گا یعنی فرعون اور اس کا لشکر تمہارا تعاقب کرے گا چناچہ وہ تمہارے پیچھے دریا میں داخل ہوجائیں گے سو میں تم کو نجات دوں گا اور ان کو غرق کر دوں گا جس وقت فرعون…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ان فی ذلک لایۃ وما کان اکثرہم مؤمنین۔ بلاشبہ اس میں (یعنی موسیٰ کو ساتھیوں سمیت بچا لینے اور فرعون کو ساتھیوں سمیت غرق کردینے میں) کھلی ہوئی دلیل ہے (موسیٰ کی سچائی کی) اور ان میں (فرعون کے ساتھیوں میں) اکثر لوگ مؤمن نہ تھے۔ روایت میں آیا ہے کہ فرعون کے ساتھیوں میں سے صرف یہ لوگ ایمان لائے تھے آسیہ فرعون کی بی بی ‘ ایک وہ شخص جو اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا یعنی حزئیل اور اس کی بی بی مریم بنت ناموسیا۔ یہ مریم وہی عورت ہے جس نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی قبر کی نشاندہی کی تھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(67) اور یہ جو ہم نے ان کے ساتھ معاملہ کیا اس واقعہ میں بھی بڑی عبرت ہے اور باوجود اس کے ان میں اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً : ایک ہی پانی کے ذریعے سے کسی کو بچا لینے اور کسی کو غرق کردینے میں یقیناً بہت بڑی نشانی ہے کہ اللہ کے رسولوں کو جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ قوموں اور سلطنتوں میں انقلاب آتے رہتے ہیں، مگر ایسے حیرت انگیز اور عظیم الشان واقعہ کے ساتھ انقلاب ایک بہت بڑا معجزہ ہے۔ وَمَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِيْنَ : اس جگہ ”اَكْثَرُهُمْ“ سے مراد ان لوگوں میں سے اکثر مراد نہیں جو فرعون کے ساتھ آئے تھے، کیونکہ وہ تو سب غرق ہوگئے اور غرق ہوتے وقت ایمان لائے بھی تو بےسود۔ (دیکھیے یونس : 90، 91) مراد مصر میں فرعون سے تعلق رکھنے والے تمام لوگ ہیں کہ ان کے اکثر ایمان…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 52–68

(واوحینا الی موسیٰ ان۔۔۔۔۔ ) واوحینا الی موسیٰ ان اسربعبادی انکم متبعون جب اللہ تعالیٰ کی یہی سنت رہی ہے کہ وہ اپنے مومن بندوں کو نجات عطاء فرماتا ہے جو اس کے اولیاء میں سے تصدیق کرنے والے ہوتے ہیں اور اس کے رسولوں اور انبیاء کی تصدیق کرنے والے ہوتے ہیں اور ان کافروں کو ہلاک فرماتا ہے جو اس کے دشمنوں میں سے جھٹلانے والے ہوتے ہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو رات کے وقت نکالے۔ انہیں اپنے بندوں ہونے کا نام دیا کیونکہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے تھے انکم متبعون کا معنی ہے فرعون اور اس کی قوم تمہارا پیچھاکرے گی تاکہ تمہیں واپس لے جائیں۔ اس کلام کے ضمن میں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 63–68

1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” کا الطود “ سے مراد ہے جیسے پہاڑ۔ 2۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” کا الطود “ سے مراد ہے جیسے پہاڑ۔ 3۔ عبدبن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کہ آیت ” الطود “ سے مراد ہے پہاڑ۔ 4۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” وازلفنا ثم الاخرین “ سے فرعون کی قوم مراد ہے اللہ تعالیٰ نے ان کو قریب کیا یہاں تک کہ ان کو دریا میں غرق کردیا۔ 5۔ ابن مردویہ نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا میں تم کو ایسے کلمات نہ سکھاؤں جو موسیٰ (علیہ السلام) نے اس وقت کہے جب سمندر پھٹ گیا تھا میں نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ [ بیشک اس میں ] لَاٰيَةً ۭ [ یقینا ایک نشانی ہے ] وَمَا كَانَ [ اور نہیں تھے ] اَكْثَرُهُمْ [ ان کے اکثر ] مُّؤْمِنِيْنَ [ ایمان لانے والے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 63–67

(اِِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لاآیَۃً ) (بلاشبہ اس میں بہت بڑی نشانی ہے) (وَّمَا کَانَ اَکْثَرُھُمْ مُؤْمِنِیْنَ ) (اور ان میں اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں) (وَاِِنَّ رَبَّکَ لَہُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ ) (اور بلاشبہ آپ کا رب عزت والا ہے رحمت والا ہے) وہ گرفت فرمانے پر بھی قادر ہے اور رحم بھی فرماتا ہے مومن بندوں کو اس کے عذاب سے ڈرتے رہنا چاہئے اور اس کی رحمت کا امید وار رہنا چاہئے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 52–68

ذکر کرشمہ قدرت خداوند جلیل ورنجات بنی اسرائیل و غرقابی فرعون و دریائے نیل قال اللہ تعالیٰ و اوحینا الی موسیٰ ان اسر بعبادی الیٰ و ان ربک لھو العزیز الرحیم۔ (ربط) مقابلہ میں جب موسیٰ (علیہ السلام) غالب آگئے اور اللہ کی حجت اور برہان سب پر قائم ہوگئی مگر باوجود اس کے فرعون اور اسکی قوم عناد پر قائم رہی اور ایمان لانے والوں پر ظلم ڈھانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تو اب اتمام حجت کے بعد سوائے وبال و نکال اور عذاب و عقاب کے کچھ باقی نہ رہا تو مشیت ایزدی یہ ہوئی کہ اس ظالم سے انتقام لیا جائے اس لیے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ رات کے وقت بنی اسرائیل کو نکال لے جائیں اور بتلا دیا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 65–69

33:۔ یہ دوسری نقلی دلیل ہے کہ اللہ کے سوا کوئی برکات دہندہ نہیں۔ اس سے تخویف دنیوی مطلوب نہیں۔ کیونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم پر انکار دعوی کی وجہ سے اس وقت عذاب نہیں آیا۔ ” اذ قال لابیہ وقومہ الخ “ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے سوال کیا تم کس چیز کی عبادت کرتے ہو ؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو معلوم تو تھا وہ کس چیز کی عبادت کرتے ہیں لیکن وہ اس مکالمے سے ان پر یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ جن معبودوں کی وہ عبادت و دعاء میں مصروف ہیں وہ معبود ہونے کے مستحق نہیں ہیں۔ و ابراہیم (علیہ السلام) یعلم انہم عبدۃ الاصنام ولکنہ سالھم لیریھم ان ما یعبدونہ لیس بمستحق…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 60–68

ربط آیات گزشتہ درس میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی قوم کو لے کر راتوں رات مصر سے نکل جائیں اور ساتھ یہ بھی بتلا دیا کہ فرعون کا لشکر آپ کا تعاقب کرے گا ۔ حسب حکم موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو لے کر نکل کھڑے ہوئے۔ جیسا کہ پہلے درس میں بیان ہوچکا ہے کہ بنی اسرائیل ہر سال خاص دنوں میں اپنا قومی میلہ منایا کرتے تھے ۔ حسب معمول اس سال بھی انہوں نے باہر جا کر جشن منانے کا پروگرام بنایا اور اس سلسلے میں بعض نے قبضیوں سے زیورات بھی مانگے جو انہوں نے بخوشی دے دیے۔ پروگرام کے مطابق موسیٰ علیہ السلم بمع قوم بنی اسرائیل مصر سے نکل گئے اور چلتے چلتے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَۃً۝ 0ۭ وَمَا كَانَ اَكْثَرُہُمْ مُّؤْمِنِيْنَ۝ 67 الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 60–68

1 ؎ زبردست ایسا کہ فرعون اور اس کے لشکر کو غرق کردیا رحیم ایسا کہ بیچارے بنی اسرائیل کو بچا لیا یا یہ کہ زبردست ہے سزا دینے پر آئے تو کوئی بچ نہیں سکتا مگر رحیم بھی ہے کہ فی الفور سزا نہیں دیتا درگزر کرجاتا ہے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 67–68

اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً ط وَمَا کَانَ اَکْثَرُھُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۔ وَاِنَّ رَبَّـکَ لَھُوَالْعَزِیْزُالرَّحِیْمُ ۔ (الشعرآء : 67، 68) (بیشک اس واقعہ میں بہت بڑی نشانی ہے مگر ان لوگوں میں سے اکثر ماننے والے نہیں ہیں۔ اور بیشک آپ کا رب زبردست بھی ہے اور رحیم بھی۔ ) ترجیع کی آیت اور اس کا مفہوم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی سرگزشت کے آخر میں یہ آیت کریمہ وہی ہے جو اس کے بعد آنے والے ہر پیغمبر کی سرگزشت کے بعد آٹھ بار وارد ہوئی ہے۔ اس آیت کو ترجیع کہتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قریش آنحضرت ﷺ سے بار بار آپ کی حقانیت اور آپ کے دین کی صداقت پر کوئی نشانی مانگتے تھے۔ انھیں بار بار ہر پیغمبر کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 61–69

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے درمیان ہونے والی کشمکش کا مختصربیان۔ اہل مکہ اپنے آپ کو ملت ابراہیم (علیہ السلام) کے وارث سمجھتے تھے۔ اسی بنا پر قرآن مجید میں جابجا ابراہیم (علیہ السلام) کی سیرت اور ان کی بےمثال اور لازوال جدوجہد کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ اور قوم کو مشترکہ خطاب کرتے ہوئے استفسار فرمایا کہ آخر تم ان چیزوں کی کیوں عبادت کرتے ہو ؟ انھوں نے کہا کہ ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں اور ہمیشہ ان کے سامنے اعتکاف اور ان کی تعظیم کرتے رہیں گے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پے درپے ان سے تین…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

67: اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ (بےشک اس میں) جو ہم نے موسیٰ اور فرعون کے ساتھ کیا لَاٰیَۃً (ضرور نشانی ہے) عجیب عبرت ہے جس کا بیان نہیں کیا جاسکتا۔ وَمَاکَانَ اَکْثَرُھُمْ (اور ان کی اکثریت نہ تھی ڈوبنے والوں کی) مُّؤْمِنِیْنَ (ایمان لانیوالی) علماء کا بیان ہے کہ قبطیوں میں سے صرف آسیہ، حزقیل مومن آل فرعون اور مریم جس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو قبر یوسفی کی نشان دہی کی یہ ایمان لائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

67۔ ان فی ذالک لایہ، وماکان اکثرھم مومنین۔ اس سے مراد اہل مصر ہیں۔ بعض حضرات نے کہا کہ فرعون کے ساتھیوں میں سے صرف یہ لوگ ایمان لائے تھے آسیہ فرعون کی بیوی اور ایک وہ شخص جو اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا، یعنی حرقیل اور اس کی بی بی مریم بنت ناموسیا، یہ مریم وہی عورت ہے جس نے حضرت یوسف کی قبر کی نشاندہی کی تھی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 52–68

(52 تا 68) جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون اور اس کے اہل دربار پر خدا کی وحدانیت قائم کرچکے اور وہ لوگ اپنی سرکشی سے باز نہ آئے تو اب سوائے عذاب الٰہی کے اور کچھ باقی نہ رہا اس لیے خدا تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم کیا کہ بنی اسرائیل کو مصر سے ایک رات اپنے ساتھ لے کر چلے جاؤ اس وقت بنی اسرائیل نے فرعون کی قوم سے بہت سا زیور اس حیلہ سے مانگ لیا تھا کہ آج ان کے ہاں ایک شادی ہے اکثر مفسروں 1 ؎ نے لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) مصر سے چاند کے طلوع ہونے کے وقت باہر نکلے تھے اور یوسف (علیہ السلام) کی یہ وصیت تھی کہ بنی اسرائیل جب مصر سے جاویں تو یوسف (علیہ السلام) کی لاش کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 10–68

آیت نمبر 10 سے 68 اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں موسیٰ (علیہ السلام) کی مدح وثنا اور ان کے واقعات کا بار بار جتنا اعادہ کیا ہے اتنا کسی اور واقعے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ عظیم حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس قصے میں اہل ایمان اور اہل کفر کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے طرز عمل کی تفصیل ہے نیز موسیٰ (علیہ السلام) صاحب شریعت کبری اور صاحب تورات تھے جو قرآن عظیم کے بعد سب سے افضل کتاب ہے۔ فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجئے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندادی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، ان کو رسول بنا کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 66–67

40 بیشک اس میں بڑی بھاری نشانی ہے : اللہ پاک کی قدرت و عنایت کی اور اس بات کی کہ فتح آخر کار حق اور اہل حق ہی کی ہوتی ہے۔ اور حق کا مقابلہ کرنے والوں کا انجام آخر کار تباہی اور ہلاکت ہی ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ مگر ایسے درسہائے عبرت و بصیرت انہی لوگوں کو مل سکتے ہیں جو صحیح طور پر غور و فکر سے کام لیتے ہیں۔ اور جو ایسا نہیں کرتے وہ اندھے کے اندھے اور اوندھے کے اوندھے ہی رہتے ہیں۔ ان کو راہ حق و ہدایت سوجھ کے نہیں دیتی۔ یہاں تک کہ وہ اپنے آخری انجام کو پہنچ کر رہتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور عقل کے ایسے اندھے ایسی بصیرت افروز نشانیوں میں غور و فکر سے کام لیتے اور درس عبرت حاصل کرنے کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 10–68

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ تشریح : اس واقعہ میں بیشمار نصیحتیں ‘ اللہ کے کمالات ‘ عجزو انکساری اور سب سے بڑھ کر توکل علی اللہ کا بہت زبردست سبق ملتا ہے۔ ایمان کامل انسان کے اندر اس قدر ہمت ‘ جرأت ‘ بہادری اور معرفت پیدا کردیتا ہے کہ انسان مادی اصولوں سے بےنیاز ہو کر روحانی دنیا میں گم ہوجاتا ہے اور اس کو اللہ ‘ اس کی مدد ‘ اس کا سایہ دنیا کے ہر خطرے سے محفوظ بےنیاز کردیتا ہے۔ جیسا کہ سید حسین نصر صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں : ” سچے مومن کی فراست تکمیل کو پہنچ جاتی ہے جیسا کہ اللہ نے فرمایا ” اللہ کی یاد میں دلوں کا سکون ہے۔ “ ( سورة رعد آیت : 28) ایسا شخص جو اس حالت میں ہو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 52–68

آیات 52 تا 68 اسرار و معارف جب فرعون ایسے ایسے معجزات دیکھ کر بھی ایمان نہ لایا تو ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بذریعہ وحی حکم دیا کہ کہ آپ میرے بندوں کو (بنی اسرائیل ایمان لا چکے تھے تو انہیں اپنے بندے ہونے کا شرف بخشا) لے کر رات کو مصر سے نکل کھڑے ہوں اور اور ساتھ یہ اطلاع بھی کردی کہ فرعون کو خبر ہوگی تو وہ تمہارا پیچھا کریگا (اور یوں اپنے انجام کو پہنچے گا) چناچہ جب فرعون کو علم ہوا کہ بنی اسرائیل تو راتو رات نکل گئے اور اہل مصر سے بہت سا مال اور زیورات بھی لے گئے تو بھڑک اٹھا اور دوسرے شہروں میں بھی ہرکارے دوڑا دئیے کہ سب لڑاکا جوان جمع ہوں اور کہا کہ یہ ایک معمولی سی بےحیثیت جماعت ہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

2 ۔ بلکہ بےایمان تھے ان میں سے صرف چند آدمی ایمان لائے تھے جیسے حزقیل اور اس کی بیٹی، فرعون کی بیوی حضرت آسیہ اور ایک بڑھیا جس نے حضرت یوسف کی قبر بتائی تھی۔ اس کا قصہ یہ ہے کہ جب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) بنی اسرائیل کو لے کر نکلے تو راستہ بھول گئے۔ موسیٰ ( علیہ السلام) نے کہا ” یہ کیا “ ؟ بنی اسرائیل کے علما نے کہا ” حضرت یوسف ( علیہ السلام) نے وفات کے وقت ہمارے بزرگوں سے عہد لیا تھا کہ جب تم مصر سے نکلو تو میرا تابوت ساتھ لے کر جانا۔ موسیٰ ( علیہ السلام) نے پوچھا تم میں سے کسی شخص کو ان کی قبر کا علم ہے۔ وہ کہنے لگے صرف ایک بڑھیا کو اس کا علم ہے بڑھیا سے دریافت کرنے پر اس نے جواب دیا کہ ”…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 65–68

(26:65) انجینا ماضی جمع متکلم۔ انجاء مصدر (باب افعال) سے ہم نے بچا لیا ہم نے نجات دی۔ نجو مادہ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 52–68

لغات القرآن : آیت نمبر 52 تا 68 : اوحینا (ہم نے وحی کی) ‘ اسر (راتوں رات نکل جا) متبعون ( پیچھا کئے جانے والے) ‘ ارسل ( بھیج دے) ‘ مدائن (مدینۃ) شہروں ‘ شرذمۃ (جماعت۔ گروہ) غائظون (غصہ دلانے والے) حذورن (احتیاط کرنے والے۔ بچنے والے) ‘ عیون (عین) چشمے ‘ کنوز (کنز) خزانے ‘ مقام کریم (عمدہ پاکیزہ ٹھکانے) اور ثنا (ہم نے وارث (مالک) بنادیا ‘ مشرقین (سورج نکلنے (والے ) کی جگہ ‘ مدرکون (پکڑے جانے والے) ‘ انفلق (پھٹ پڑا) ‘ کل فرق (ہرحصہ) طودالعظیم (پہاڑ کی طرح بڑا حصہ) ‘ ازلفنا (ہم نے قریب کردیا) ‘ ثم (اسی جگہ) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 52 تا 68 : جب نبی کریم ﷺ نے مکہ میں دین اسلام پھیلانے کی جدوجہد کا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 52–68

فرعون کا ڈوب کر ہلاک ہونا۔ (ف 2) جب حضرت موسیٰ فرعون اور اس کے اہل دربار پر خدا کی وحدانیت قائم کرچکے اور وہ لوگ سرکشی سے باز نہ آئے تو اب سوائے عذاب الٰہی کے اور کچھ باقی نہ رہا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو حکم کیا کہ بنی اسرائیل کو مصر سے ایک رات اپنے ساتھ لے کر چلے جاؤ اس وقت بنی اسرائیل نے فرعون کی قوم سے بہت سازیور مانگ لیا تھا کہ آج ان کے ہاں ایک شادی ہے ہم اپنی بیبیوں کو پہنائیں گے بعد فارغ ہونے کے واپس کردیں گے جب صبح ہوئی تو فرعون نے ایک آدمی بھی بنی اسرائیل کا مصر میں نہ دیکھا اس پر فرعون کو جوش آیا اور بہت غضب ناک ہوا اور فرعون نے شہروں میں جلدی سے نقیب دوڑائے اور کہابھیجا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

67۔ کچھ شک نہیں کہ اس واقعہ میں بڑی عبرت آموز نشانی ہے اور باوجود اس کے ان میں کے اکثر لوگ ایمان لانے والے نہ تھے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 65–73

ف 5۔ یعنی استحقاق الوہیت کے لئے علم اور قدرت کاملہ تو ضروری ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس قصہ میں بڑی نشانیاں موجود ہیں اگر وہ ان کو دیکھنا چاہیں : 67۔ وہ لوگ جو بات بات پر نشانی طلب کرتے ہیں اگر قرآن کریم کی ان آیات پر غور کریں تو کیا ان آیات میں نشانیوں کی کوئی کمی موجود ہے ایک ایک واقعہ قرآنی اپنے اندر بیسیوں نشانیاں رکھتا ہے لیکن ان نشانیوں پر کوئی غور وفکر کرنے کے لئے تیار ہی نہیں بلکہ ہر آدمی اس نشانی کو نشانی ماننے کے لئے تیار ہے جب اس کی منہ مانگی نشانی اس کو اسی وقت پیش کردی جائے اور عقل کے کو تایہ لوگ منہ مانگی نشانی طلب کرتے ہیں تو بچوں کی طرح کہ مجھے دودھ میں پانی ڈال کے دو اس کو سمجھایا گیا کہ اس کا نقصان ہوگا لیکن ضدی کو نفع ونقصان سے غرض ہی کب ہوتی ہے پھر اس کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 62–83

The reasoning for this he gave إِنَّ مَعِيَ رَ‌بِّي سَيَهْدِينِ (62) "Indeed with me is my Lord. He will guide me." Such are the moments for the test of faith, when Sayyidna Musa (علیہ السلام) was not terror stricken at all, as if he was seeing for himself the way out. Almost the same thing happened with Holy Prophet ﷺ at the time of migration while hiding in the cave of Thaur. The enemy had reached right at the opening of the cave in his pursuit. In fact they were so close that they could have seen him if they had looked down towards their toes. Sayyidna Abu Bakr ؓ got alarmed a little, but…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

49 That is, the Quraish have this lesson to learn from this: "The obdurate people like Pharaoh, his chiefs and followers had not believed even though they had been shown clear miracles for years. They had been so blinded by obduracy that even on the occasion of their drowning in the sea although they had seen the sea parting asunder in front of their very eyes, the waters standing like high mountains on either side, and the dry path in between for the Israelite caravans to pass, yet they failed to understand that Moses had Divine succour and support with him which they had come out to fight.…

Read the full tafseer →