Explained with ayahs 69–77
ابراہیم ؑ علامت توحیدی پرستی
تمام موحدوں کے باپ اللہ کے بندے اور رسول اور خلیل حضرت ابراہیم علیہ افضل التحیۃ والتسلیم کا واقعہ بیان ہو رہا ہے۔ حضور ﷺ کو حکم ہو رہا ہے کہ آپ اپنی امت کو یہ واقعہ سنادیں۔ تاکہ وہ اخلاص توکل اور اللہ واحد کی عبادت اور شرک اور مشرکین سے بیزاری میں آپ کی اقتدا کریں۔ آپ اول دن سے اللہ کی توحید پر قائم تھے اور آخر دن تک اسی توحید پر جمے رہے۔ اپنی قوم سے اور اپنے باپ سے فرمایا کہ یہ بت پرستی کیا کر رہے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم تو پرانے وقت سے ان بتوں کی مجاوری اور عبادت کرتے چلے آتے ہیں۔ حضرت ابراہیم ؑ نے انکی اس غلطی کو ان پر وضح کرکے ان کی غلط روش بےنقاب کرنے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
سورة الشُّعَرَآء 50
یہاں حضرت ابراہیم ؑ کی حیات طیبہ کے اس دور کا قصہ بیان ہوا ہے جبکہ نبوت سے سرفراز ہونے کے بعد شرک و توحید کے مسئلے پر آپ کی اپنے خاندان اور اپنی قوم سے کشمکش شروع ہوئی تھی۔ اس دور کی تاریخ کے مختلف گوشے قرآن مجید میں حسب ذیل مقامات پر بیان ہوئے ہیں البقرہ رکوع 35۔ الانعام رکوع 9۔ مریم رکوع 3۔ الانبیاء رکوع 5۔ الصّٰفّٰت رکوع 3۔ الممتحنہ رکوع 1)۔
سیرت ابراہیمی کے اس دور کی تاریخ خاص طور پر جس وجہ سے قرآن مجید بار بار سامنے لاتا ہے وہ یہ ہے کہ عرب کے لوگ بالعموم اور قریش بالخصوص اپنے آپ کو سیدنا ابراہیم ؑ کا پیرو سمجھتے اور کہتے تھے اور یہ دعویٰ رکھتے تھے کہ ملت ابراہیمی ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–83
خلاصہ تفسیر
اور آپ ان لوگوں کے سامنے ابراہیم ؑ کا قصہ بیان کیجئے (تاکہ ان کو شرک کی مذمت کے دلائل معلوم ہوں، خصوص ابراہیم ؑ سے منقول ہو کر، کیونکہ یہ مشرکین عرب اپنے کو ملت ابراہیمیہ پر بتلاتے ہیں اور وہ قصہ اس وقت ہوا تھا، جبکہ انہوں نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے (جو کہ بت پرست تھی) فرمایا کہ تم کس (واہیات) چیز کی عبادت کیا کرتے ہو، انہوں نے کہا ہم بتوں کی عبادت کیا کرتے ہیں اور ہم انہی (کی عبادت) پر جمے بیٹھے رہتے ہیں، ابراہیم ؑ نے فرمایا کہ یہ تمہاری سنتے ہیں جب تم ان کو (اپنی عرض حاجت کے وقت) پکارا کرتے ہو یا (تم جو ان کی عبادت کرتے ہو تو کیا) یہ تم کو کچھ نفع پہنچاتے ہیں یا (اگر تم ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–71
آگے کا مضمون …… آیات 104-49
حضرت ابراہیم کی دعوت اور ان کی قوم کے ردعمل کا بیان
آگے حضرت ابراہیم ؑ کی دعوت اور ان کی قوم کے ردعمل کا ذکر ہے اور آخر میں وہی آیات ترجیح ہیں جو اوپر گزر چکی ہیں۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اس سرگزشت کے منانے سے بھی مقصود وہی ہے جو پچھلی سرگزشت کے سنانے سے ہے۔
ایک بات یہاں خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ پچھلی سورة میں حضرت موسیٰ کے ذکر کے بعد حضرت نوح کا ذکر آیا تھا، بیچ کے انبیاء میں سے کسی کا ذکر نہیں آیا تھا۔ اس سورة میں حضرت ابراہیم کی سرگزشت نے اس خلا کو بھر دیا۔ اس لئے کہ حضرت نوح اور حضرت موسیٰ کے درمیان سب سے زیادہ جلیل القدر نبی حضرت ابراہیم ؑ ہی ہیں۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–71
71-1یعنی رات دن ان کی عبادت کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–79
16: یعنی فرعون کے لشکر نے جب دیکھا کہ سمندر کے درمیان راستے بنے ہوئے ہیں، تو اس نے بھی اس راستے سے گذرنے کی کوشش کی، لیکن جب وہ لوگ وہاں پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کو اپنی اصل حالت پر لوٹا دیا، اور فرعون اور اس کے ساتھی اسی سمندر میں غرق ہوگئے۔ یہ تفصیل سورة یونس :91، 92 میں گذر چکی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
درس نمبر 163 تشریح آیات
69……تا……104
واتل علیھم نبا ……ماتعبدون (70)
ان کے سامنے حضرت ابراہیم کا قصہ پیش کرو۔ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ابراہیم کے وارث ہیں اور ابراہیم (علیہ السلام) کے دین پر ہیں۔ ان کو بتائو کہ ابراہیم کے والد بھی توبت پرست تھے اور انہوں نے تو والد کے فعل بت پرستی پر سخت مواخذہ کیا تھا۔ پھر تم بت پرست کس طرح بن گئے۔ وہ تو بت پرستی اور شرک کے مسئلے پر ہی اپنے والد اور قوم سے ٹکرا گئے۔ انہوں نے والد اور قوم کو صاف صاف بتا دیا تھا کہ بت پرستی کھلی گمراہی ہے کس قدر سخت لہجے میں ماتعبدون (26 : 80) ” یہ کیا چیزیں ہیں جنہیں تم پوجتے ہو۔ “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
8 یعنی یہ چیز کیا ہے جسے تم پوجتے ہو ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–72
آیت 72 قَالَ ہَلْ یَسْمَعُوْنَکُمْ اِذْ تَدْعُوْنَ ”
جب تم ان سے دعا کرتے ہو اور ان کے سامنے گڑ گڑاتے ہو تو کیا وہ تمہاری دعائیں اور تمہاری باتیں سنتے ہیں ؟
Read the full tafseer →48 حضرت ابراہیم کا قصہ قریش مکہ سے گہری مناسب رکھتا ہے۔ یہ لوگ اپنے آپ کو حضرت ابراہیم کا پیروکار ہونے کا دعویٰ رکھتے تھے۔ حضرت ابراہیم وہ ہستی ہیں جنہوں نے اپنی ساری زندگی شرک کے خلاف جہاد میں گزاری اور اس راہ میں آنے والی ہر مصیبت کو بڑی خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔ جبکہ قریش مکہ اپنے اس اتباع ابراہیمی کے دعویٰ کے باوجود سر سے پاؤں تک شرک میں ڈوبے ہوئے تھے۔ انھیں یہ اعتراف بھی تھا کہ حضرت ابراہیم خالصتؤہ توحید پرست اور شرک سے سخت بیزار تھے اور یہ بھی اعتراف تھا کہ عرب میں شرکیہ رسوم حضرت ابراہیم کی وفات کے صدیوں بعد رائج ہوئیں۔
حضرت ابراہیم کی قوم بھی سر تا پا شرک میں مبتلا تھی۔ دوسروں کا کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–71
56۔ آزر اور قوم ابراہیم کے مذہب شرک پر مفصل حاشیے اوپر گزر چکے۔ سورة الانعام، سورة ہود، سورة الانبیاء وغیرہ میں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
آیت نمبر 69 تا 104
ترجمہ : وَاتْلُ عَلَیھِمْ اور کفار کو ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ (بھی) سنائے اِذْ قَالَ لِاَبِیْہٖ ، نَبَا اِبراہیم سے بدل الاشتمال ہے جبکہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد صاحب اور اپنی قوم سے کہا تم کس چیز کی بندگی کرتے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا بتوں کی بندگی کرتے ہیں فعل کی صراحت کی، تاکہ اس پر فَنَطَلُّ لَھَا عَاکِفِیْنَ کا عطف کرسکیں ہم تو دن بھر ان کی عبادت میں مشغول رہتے ہیں یعنی ہم پابندی سے دن بھر ان کی عبادت کرتے ہیں، اور انہوں نے جواب میں (فَنَظَلُّ ) کا اضافہ (بتوں کی) عبادت پر فخر کے طور پر کیا تو ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کیا یہ تمہاری سنتے بھی ہیں جب…
Read the full tafseer →واتل علیہم نبا ابراہیم۔ اور ان (اہل مکہ) کو ابراہیم کی خبر (یعنی واقعہ) پڑھ کر سناؤ۔ اس جملہ کا عطف وَاِذَا نَادٰی رَبُّکَپر ہے کیونکہ اذ نادی سے پہلے لفظ اُذْ لُّرْمحذوف ہے (اس لئے فعل کا عطف فعل پر ہوگیا) ۔
Read the full tafseer →(69) اور آپ اپنی قوم یعنی قریش کے سامنے حضرت ابرہیم ؑ کا قصہ بیان کیجیے۔
Read the full tafseer →وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَاَ اِبْرٰهِيْمَ : سورت کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی شدت غم کا ذکر فرمایا، جو آپ کو اپنی قوم کے ایمان نہ لانے پر لاحق ہوئی تھی۔ پھر موسیٰ ؑ کا بیان فرمایا، تاکہ آپ کو تسلی ہو اور آپ کو یاد رہے کہ نہ آپ پہلے رسول ہیں اور نہ ہی آپ کی قوم جھٹلانے میں پہلی ہے، بلکہ موسیٰ ؑ کے عظیم الشان معجزے لے کر آنے کے باوجود قبطیوں کے بہت ہی کم لوگ ان پر ایمان لائے۔ اس کے بعد ابو الانبیاء ابراہیم ؑ کا ذکر فرمایا جو خلیل اللہ کے بلند منصب پر فائز تھے، تاکہ آپ کے سامنے وہ شخصیت بھی رہے جس کا غم بھی بےانتہا تھا، کیونکہ وہ اپنے باپ اور اپنی قوم کو آگ میں جاتے ہوئے دیکھتا تھا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–77
(واتل علیھم نبا۔۔۔۔۔ )
1 ؎۔ المستدرک للحاکم، جلد 2 ص 439، دارالکتب العلمیۃ
واتل علیھم نبا ابراہیم مشرکوں کو ان کی انتہائی جہالت پر آگاہ کیا کیونکہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اعتقاد و دین سے اعراض کرنے والے تھے جب کہ وہ ان کے جد اعلیٰ تھے۔ نبا کا معنی خبر ہے یعنی اے محمد ! ان پر اس کی خبر، اس کی گفتگو اور قوم جن کی عبادت کرتی تھی اس پر عیب لگانے کو بیان کر دیجئے۔ یہ اس لیے فرمایا تاکہ ان پر حجت لازم کردی جائے۔ جمہور قراء دوسرے ہمزے میں تخفیف کرتے ہیں، یہ بہترین توجیہ ہے، کیونکہ تمام علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ ایک کلمہ میں دوسرے ہمزہ میں تخفیف کرتے ہیں جس طرح آدم۔ اگر تو چاہے تو دونوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–77
ابراہیم کا اپنے والد سے مکالمہ
1۔ عبد بن حید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” فنظل لہا عکفین “ یعنی عبادت کرنے والے آیت ” قال ہل یسمعونکم اذ تدعون “ یعنی کیا تمہارے معبودوں نے تم کو کوئی جواب دیا جب تم ان کو پکارتے ہو۔
2۔ ابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” یسمعونکم “ یعنی کیا وہ تمہاری آواز کو سنتے ہیں
Read the full tafseer →وَاتْلُ [ اور آپ ﷺ پڑھ کر سنائیے ] عَلَيْهِمْ [ ان لوگوں کو ] نَبَاَ اِبْرٰهِيْمَ [ ابراہیم (علیہ السلام) کی خبر ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو توحید کی دعوت دینا اللہ تعالیٰ کی شان ربوبیت بیان کرنا اور بارگاہ خداوندی میں دعائیں پیش کرنا
یہاں سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعوت توحید اور قوم کی تبلیغ کا بیان شروع ہو رہا ہے آخر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاء نقل فرائی ہے جو انہوں نے اللہ جل شانہٗ سے اپنی دنیا و آخرت کی کامیابی کے لیے کی تھی۔ انہوں نے اپنے باپ کو اور اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی اور شرک سے روکا ان لوگوں نے جو بےت کے جواب دیئے اس کا ذکر قرآن مجید میں متعدد مواقع میں کیا گیا یہاں جو مکالمہ مذکور ہے قریب قریب اسی طرح کی گفتگو سورة الانبیاء (ع 5) میں بھی گزر چکی ہے۔
حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
قصہ دوم حضرت ابراہیم (علیہ السلام) باقوم او
قال اللہ تعالیٰ واتل علیہم نبا ابراہیم .... الیٰ .... وان ربک لھو العزیز الرحیم۔
(ربط) گزشتہ آیت میں حضرت موسیٰ کلیم اللہ (علیہ السلام) کے قصہ کا ذکر تھا اب اس کے بعد آپ ﷺ کے جد امجد حضرت ابراہیم خلیل اللہ (علیہ السلام) کا قصہ ذکر کرتے ہیں کہ ان کو اپنی قوم کے مقابلہ میں کیا ابتلا پیش آیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے باپ کی گواہی کا شدید رنج تھا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم بابل کے اطراف میں آباد تھی مذھبا صابی یعنی ستارہ پرست تھے اور بت پرست بھی تھے کواکب اور نجوم کی تاثیر کے قائل تھے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے دلائل سے حق واضح کردیا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–69
33:۔ یہ دوسری نقلی دلیل ہے کہ اللہ کے سوا کوئی برکات دہندہ نہیں۔ اس سے تخویف دنیوی مطلوب نہیں۔ کیونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم پر انکار دعوی کی وجہ سے اس وقت عذاب نہیں آیا۔ ” اذ قال لابیہ وقومہ الخ “ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے سوال کیا تم کس چیز کی عبادت کرتے ہو ؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو معلوم تو تھا وہ کس چیز کی عبادت کرتے ہیں لیکن وہ اس مکالمے سے ان پر یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ جن معبودوں کی وہ عبادت و دعاء میں مصروف ہیں وہ معبود ہونے کے مستحق نہیں ہیں۔ و ابراہیم (علیہ السلام) یعلم انہم عبدۃ الاصنام ولکنہ سالھم لیریھم ان ما یعبدونہ لیس بمستحق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–77
ربط آیات
گزشتہ تین رکوع میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات باتفصیل بیان فرمائے۔ اس سورة مبارکہ میں موسیٰ (علیہ السلام) کے حالات ان کی فرعون کی طرف روانگی سے شروع ہوئے۔ اللہ نے آپ کو حکم دیا کہ فرعون اور اس کی ظالم قوم کو میرا پیغام توحید سنائو ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے ساتھ ہارون (علیہ السلام) کی تائید چاہی اور ساتھ یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ میں نے ان کا ایک آدمی قتل کردیا تھا ، شدید کہ وہ مجھے بھی نہ مار ڈالیں ۔ اللہ نے تسلی دی تو آپ فرعون کے پاس پہنچے ۔ اپنی رسالت کا اعلان کیا اور بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ کیا ۔ فرعون نے آپ پر بچپن میں کیے گئے احسانات یا دلائے اور…
Read the full tafseer →وَاتْلُ عَلَيْہِمْ نَبَاَ اِبْرٰہِيْمَ 69ۘ
تلو
تَلَاهُ : تبعه متابعة ليس بينهم ما ليس منها، وذلک يكون تارة بالجسم وتارة بالاقتداء في الحکم، ومصدره : تُلُوٌّ وتُلْوٌ ، وتارة بالقراءة وتدبّر المعنی، ومصدره : تِلَاوَة وَالْقَمَرِ إِذا تَلاها [ الشمس/ 2]
( ت ل و ) تلاہ ( ن )
کے معنی کسی کے پیچھے پیچھے اس طرح چلنا کے ہیں کہ ان کے درمیان کوئی اجنبی کو چیز حائل نہ ہو یہ کہیں تو جسمانی طور ہوتا ہے اور کہیں اس کے احکام کا اتباع کرنے سے اس معنی میں اس کا مصدر تلو اور تلو آتا ہے اور کبھی یہ متا بعت کسی کتاب کی قراءت ( پڑھنے ) ۔ اور اس کے معانی سمجھنے کے لئے غور وفکر کرنے کی صورت میں ہوتی ہے اس معنی کے…
Read the full tafseer →ترکیب : کذالک منصوب بہ یفعلون فانہم عدولی انما افردوالقیاس اعداء لانا العد و جنس یطلق علی الواحد والکثیر، المراد ذوعداوۃ الا رب العلمین استثناجنس اور غیر جنس دونوں سے ہوسکتا ہے الذی مبتداء فھو مبتداء ثان یہدین اس کی خبر اور جملہ الذی کی خبر اور بعد کے الذی پہلے کی صفات ہیں اور صفات میں و کا داخل کرنا جائز ہے یوم لاینفع بدل ہے اول یوم سے الامن استثناء متصل اور غیر متصل بھی ہوسکتا ہے۔
تفسیر : واتل علیہم نباء ابراھیم الخ (2) قصہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے جس میں حضرت ﷺ کو کامل تسلی دی گئی ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) کا باپ اور ان کی تمام قوم بھی گمراہی میں مبتلا تھی بت پرست تھے پھر ابراہیم…
Read the full tafseer →وَاتْلُ عَلَیْھِمْ نَبَاَ اِبْرٰھِیْمَ ۔ اِذْ قَالَ لِاَبِیْہِ وَقَوْمِہٖ مَا تَعْبُدُوْنَ ۔ قَالُوْا نَعْبُدُ اَصْنَامًا فَنَظَلُّ لَھَا عٰکِفِیْنَ ۔ (الشعرآء : 69 تا 71)
(اور اے پیغمبر، انھیں حضرت ابراہیم کا قصہ سنایئے۔ جبکہ انھوں نے اپنے باپ اور قوم کے لوگوں سے کہا، تم کس کی پرستش کرتے ہو۔ انھوں نے جواب دیا کہ ہم بتوں کو پوجتے ہیں اور برابر ان کی پوجا پر جمے رہیں گے۔ )
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی سرگزشت سے متعلق چند اہم امور اور دعوت کا آغاز
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے تذکرہ کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی سرگزشت بیان کی جارہی ہے۔ آپ ( علیہ السلام) کی سرگزشت قرآن کریم میں مختلف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 61–69
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے درمیان ہونے والی کشمکش کا مختصربیان۔
اہل مکہ اپنے آپ کو ملت ابراہیم (علیہ السلام) کے وارث سمجھتے تھے۔ اسی بنا پر قرآن مجید میں جابجا ابراہیم (علیہ السلام) کی سیرت اور ان کی بےمثال اور لازوال جدوجہد کا تذکرہ کیا گیا ہے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ اور قوم کو مشترکہ خطاب کرتے ہوئے استفسار فرمایا کہ آخر تم ان چیزوں کی کیوں عبادت کرتے ہو ؟ انھوں نے کہا کہ ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں اور ہمیشہ ان کے سامنے اعتکاف اور ان کی تعظیم کرتے رہیں گے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پے درپے ان سے تین…
Read the full tafseer →ابراہیم ( علیہ السلام) کا واقعہ :
69: وَاتْلُ عَلَیْہِِمْ (آپ ان پر پڑھیں) یعنی قریش مکہ پر نَبَآ اِبْرٰھِیْمَ ابراہیم (علیہ السلام) کے حالات۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
68۔ وان ربک لھوالعزیزالرحیم۔ عزیز جو اپنے دشمنوں سے انتقام لینے والا ہو اور رحیم ہے مومنین کے لیے ان کو نجات دے کر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–85
69 تا 85:۔ ابراہیم (علیہ السلام) کو بچپن میں ہی نیک راہ کی ہدایت دی اور بڑے ہونے تک وہ اپنی قوم کو بتوں کی عبادت سے منع کرتے رہے یہی ذکر ان آیتوں میں ہے کہ انہوں نے اپنے باپ اور قوم سے کہا کہ تم ان بتوں کی پوجا کیوں کرتے ہو کیا سنتے ہیں جب پکارتے ہو تم ان کو یا بھلا کرتے ہیں تمہارا یا کچھ برا کرتے ہیں ان بت پرستوں نے جواب دیا کہ یہ بت نہ تو ہماری التجا کو سنتے ہیں نہ ہمارے بھلے برے کے کچھ مختار ہیں لیکن ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا کہ ان کو ایسا ہی کرتے دیکھا اس واسطے ہم ان کے ہی قدموں پر چل رہے ہیں لفظ ھل عربی زبان میں ایسے ہی موقع پر آتا ہے کہ جس سے اس لفظ سے پہلی بات کا انکار اور بعد کی بات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
آیت 69 سے 104
فرمایا : اے محمد ! ﷺ آپ لوگوں کو، اللہ تعالیٰ کے خلیل حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس خاص حالت کی جلیل القدر ! خبر سنا دیجئے اگرچہ ان کی زندگی کے تمام پہلو عظیم واقعات سے پر ہیں۔ مگر ان کا یہ واقعہ سب سے زیادہ حیرت انگیز اور سب سے افضل ہے جو آپ کی رسالت، اپنی قوم کو دعوت، اپنی قوم سے آپ کے مباحثہ اور آپ کی قوم کے موقف کے ابطال کو متضمن ہے اس لئے اسے ظرف کے ساتھ مقید کرتے ہوئے فرمایا : (اذ قال لابیہ وقومہ ما تعبدون۔ قالو) ” جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پوچھا کہ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تو انہوں نے کہا “ بتوں کی عبادت پر فخر کا اظہار کرتے ہوئے : (نعبد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
42 قصہ ابراہیم کی تذکیر و یاددہانی کا حکم و ارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا " ان کو ابراہیم کا قصہ بھی پڑھ کر سناؤ خاص کر ان کا اس وقت کا حال جبکہ انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے خطاب کیا "۔ معلوم ہوا کہ اصل کام انبیائے کرام ۔ علیہم الصلوۃ والسلام ۔ کا ان کی دعوت و تبلیغ کا وہ کام ہوتا ہے جس کیلئے ان کو مبعوث فرمایا جاتا ہے۔ اسی کو یاد رکھنے اور اپنانے کی اصل ضرورت ہوتی ہے نہ کہ یوم پیدائش اور یوم وفات منا نے کی۔ یہی وجہ ہے کہ مغربی دنیا کی طرف سے جاری کردہ ان رسموں میں سے کوئی رسم بھی خیر القرون میں نہیں اپنائی گئی۔ صحابہ، تابعین اور تبع تابعین کے ادوار مشہود لہا بالخیر میں ایسے جشن منانے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی قوم
تشریح : سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) بڑے جلیل القدر پیغمبر گزرے ہیں۔ ان کی خاص بات یہ ہے کہ ان کی عزت و احترام اہل قریش یہود و نصاریٰ سب ہی کرتے ہیں مگر ان کی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے آپ کے بارے میں سورة بقرہ ‘ الانعام ‘ مریم ‘ الانبیاء میں بیان ہوچکا اور آئندہ سورة اَلصّٰفّٰتِ اور اَلْمُمْتَحِنَہ میں ہوگا۔
انہوں نے بت پرستی اور شرک کو مسترد کیا اور صرف اللہ کی عبادت کی ترغیب دی۔ صاف ظاہر ہے اللہ خالق اور مالک اور ہدایت دینے والا بھی ہے جبکہ بت اور دوسری چیزیں خود اس کی پیدا کی ہوئی ہیں۔ آپ اتنے بڑے پیغمبر تھے کہ آپ کو اللہ نے خلیل اللہ ‘ یعنی اللہ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
آیات 69 تا 104
اسرارومعارف
اہل مکہ اور اہل عرب مشرکین خود کو دین ابراہیمی کا پیروکار جانتے تھے تو ارشاد ہوا کہ انہیں ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بھی سنا دیجیے کہ وہ کیا تھے ان کی تعلیمات کیا تھیں اور یہ لوگ کیا کر رہے ہیں انہیں وہ واقعہ بتائیے جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد سے سوال کیا تھا اور قوم سے بھی کہ آپ لوگ کس کی عبادت کرتے ہیں انہیں بت پرستی میں گرفتار دیکھ کر جاننا چاہا کہ آخر یہ بتوں میں کیا عقیدہ رکھتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ہم بتوں کی پوجا کرتے ہیں اور اسی میں عمریں تمام کردیتے ہیں تو انہوں نے پوچھا کہ کیا یہ تمہارے حال سے واقف ہیں اور تمہاری پکار کو سنتے ہیں اور تمہاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
4 ۔ یعنی دیکھو تو سہی کہ تمہارے ان معبودوں کی حقیقت کیا ہے ؟ یہ پوچھنا اتمام حجت کی غرض سے تھا۔ (دیکھئے انبیاء آیت 52)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
(26:69) واتل میں واؤ عاطفہ ہے ای واذکر ذلک لقومک واتل علیہم نبأ ابراہیم یہ مثال یاد کرائیے اپنی قوم کو اور بیان کیجئے ان کے سامنے (حضرت) ابراہیم کا قصہ ۔ اتل تلاوۃ سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر (باب نصر) تو پڑھ۔ تو پڑھ کر سنا۔ تلو مادہ۔ نبأ۔ خبر۔ قصہ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–104
لغات القرآن : آیت نمبر 69 تا 104 :
اتل (تلاوت کر۔ سنادے) اصنام (صنم) بت ‘ نظل (ہم رہتے ہیں) ‘ عکفین (عاکف) جم کر بیٹھنے والے ‘ یسمعون ( وہ سنتے ہیں) ‘ وجدنا ( ہم نے پایا) ‘ الا قدمون (پہلے) ‘ یطعمنی (وہ مجھے کھلاتا ہے) ‘ یسقین (یسقینی) وہ مجھے پلاتا ہے ‘ یشفین (یشفینی) وہ مجھے شفا (صحت) دیتا ہے ‘ یمیتنی (وہ مجھے موت دے گا) ‘ یحیین (یحیینی) وہ مجھے زندگی دے گا ‘ اطمع (مید امید کرتا ہوں۔ میں توقع رکھتا ہوں) ‘ حکما (علم و حکمت (فیصلہ) ‘ الحقنی (مجھے ملادے) ‘ لسان صدق (ذکر خیر۔ اچھا ذکر۔ سچی زبان) ‘ لاتخزنی (مجھے رسوانہ کیجئے گا) ‘ یبعثون (وہ اٹھائے جائیں گے) ‘ من اتی ( جو آیا۔ (جو لایا) ‘ قلب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–86
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ۔
(ف 1) اے پیغمبر تم ان مشرکوں پر حضرت ابراہیم کا قصہ بیان کرو یہ اپنے آپ کو ان کی ہی طرف نسبت کرتے ہیں اور ان کو حضرت ابراہیم کی فرزندی کا بڑا دعوی ہے اور اس پر فخر کرتے ہیں ذراحضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ تو پڑھ کر سنادو ہمارے ساتھ حضرت ابراہیم کا کیا معاملہ تھا اور یہ جو اپنے آپ کو ان کی اولاد بتاتے ہیں یہ ہمارے ساتھ کس طرح معاملہ رکھتے ہیں جب حضرت ابراہیم نے اپنے باپ دادا اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کس کو پوجتے ہو، اگرچہ وہ بھی جانتے تھے کہ بتوں کو پوجتے ہیں مگر انکو الزام دینے کے لیے ان سے سوال کیا، اس کے جواب میں بولے کہ ہم بتوں کو پوجتے ہیں اور ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–77
[15] یعنی میں ان کی عبادت میں سراسر اپنا نقصان دیکھتا ہوں۔ یہ تو باعث تباہی و بربادی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قوم سے تخاطب
حاشیہ صفحہ ھذا
1: ان آیات میں یہ بتایا ہے ۔ کہ کس طریق سے حضرت ابراہیم نے توحید کی آواز کو بت پرستوں کے کانوں تک پہنچایا ۔ اور اس راہ میں کن مشکلات اور دشواریوں کو برداشت کیا ۔ اور یہ کہ حضرت ابراہیم کے دماغ میں توحید کا کس درجہ روشن اور صحیح تخیل موجود تھا ۔
بات یہ تھی ۔ کہ جس عہد میں حضرت ابراہیم مبعوث ہوئے ۔ اور اس عہد میں بابل میں سخت ترین جہالت رائج تھی ۔ لوگ بتوں کو بوجتے تھے ۔ ستاروں کے نام پر اپنے معاہد تعمیر کرتے تھے ۔ اور اللہ کو قطعاً فراموش کرچکے تھے ۔ اور بڑی مصیبت کی بات یہ تھی ۔ کہ حضرت ابراہیم کی قوم ۔ اور خود ان کا باپ شرک کی لعنتوں…
Read the full tafseer →69۔ اور اے پیغمبر آپ ان منکرین دین حق کو ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ پڑھ کر سنائیے۔ یعنی یہ لوگ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں ہوتے ہوئے اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت کا دعویٰ کرتے ہوئے یہ لوگ بت پرسی کرتے ہیں تو آپ ان کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی خبر سے اس قرآن کریم کے ذریعہ آگاہ کیجئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–73
ف 5۔ یعنی استحقاق الوہیت کے لئے علم اور قدرت کاملہ تو ضروری ہے۔
Read the full tafseer →اے پیغمبر اسلام ! ﷺ ﷺ اب ابراہیم (علیہ السلام) کے قصہ کی طرف آؤ :
69۔ قرآن کریم نے جتنے انبیاء ورسل کا ذکر کیا ہے ان میں سے چار پانچ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) سے پہلے گزرے ہوں گے باقی سب آپ ہی کی ذریت سے تعلق رکھتے تھے اس لئے آپ جد انبیاء کے نام سے معروف ہیں ۔ قرآن کریم میں ان کا ذکر اکثر مدنی سورتوں میں آیا ہے اور ایک دو مکی سورتیں بھی ہوں گی اس میں پہلے آپ کے واقعہ کی تفصیلات سورة البقرہ کی آیات 124 تا 136 ‘ 140 ‘ 158 ‘ 160 وغیرہ میں بیان کی ہیں سورة آل عمران کی آیت 33 ‘ 35 ‘ 67 ‘ 68 ‘ 95 ‘ 97 میں سورة النساء کی آیات 54 ‘ 125 ‘ 163 میں ‘ سورة الانعام کی آیات 74 ‘ 75 ‘ 83 ‘ 151 ‘ سورة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–83
The reasoning for this he gave إِنَّ مَعِيَ رَبِّي سَيَهْدِينِ (62) "Indeed with me is my Lord. He will guide me." Such are the moments for the test of faith, when Sayyidna Musa (علیہ السلام) was not terror stricken at all, as if he was seeing for himself the way out. Almost the same thing happened with Holy Prophet ﷺ at the time of migration while hiding in the cave of Thaur. The enemy had reached right at the opening of the cave in his pursuit. In fact they were so close that they could have seen him if they had looked down towards their toes. Sayyidna Abu Bakr ؓ got alarmed a little, but…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
50 This part of the life-history of Prophet Abraham relates to the time when after his appointment to Prophethood, a conflict had started between him and his people on the questions of shirk and Tauhid. In this connection, the reader should also see Al-Baqarah: 258-260, Al-An`am: 75-83, Maryam: 41-50, Al-Anbiya': 51-70, As- Saffat: 83-113, and Al-Mumtahanah: 4-5.
The Qur'an has specially repeated this part of Prophet Abraham's lifestory over and over again because the Arabs in general and the Quraish in particular regarded themselves as his followers and professed his way and creed. Besides…
Read the full tafseer →