Ash-Shu'araa 26:62

Ash-Shu'araa · from ayah 62

26:62

قَالَ كَلَّا ۚ— اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ ۟قَالَ كَلَّا‌‌ ۚ اِنَّ مَعِىَ رَبِّىۡ سَيَهۡدِيۡنِ

موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں میرا پروردگار میرے ساتھ ہے وہ مجھے رستہ بتائے گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Moses] said, "No! Indeed, with me is my Lord; He will guide me."

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 4 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:62

موسیٰؑ نے کہا "ہرگز نہیں میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور میری رہنمائی فرمائے گا"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

موسیٰ نے کہا ہرگز نہیں میرا پروردگار میرے ساتھ ہے وہ مجھے رستہ بتائے گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں۔ یقین مانو، میرا رب میرے ساتھ ہے جو ضرور مجھے راه دکھائے گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

موسیٰ نے کہا : ہرگز نہیں، میرے ساتھ یقینی طور سے میرا پروردگار ہے، وہ مجھے راستہ بتائے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

موسیٰ نے فرمایا یوں نہیں بیشک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ مجھے اب راہ دیتا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(موسٰی علیہ السلام نے) فرمایا: ہرگز نہیں، بیشک میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ابھی مجھے راہِ (نجات) دکھا دے گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہا ہرگز نہیں ! بیشک میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ مجھے ضرور راستہ بتائے گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

موسیٰ نے کہا : ایسا ہرگز نہ ہوگا۔ میرا پروردگار میرے ساتھ ہے وہ جلد ہی میری رہنمائی کر دے گا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

موسیٰ نے کہا، ہرگز نہیں میرے ساتھ میرا رب ہے وہ میری رہنمائی فرمائے گا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

موسیٰ نے فرمایا ہرگز نہیں، بیشک میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور میرے لیے نجات کی کوئی راہ نکالے گا

— مولانا اسحاق مدنی

موسیٰ ؑ نے) فرمایا کہ ہرگز نہیں کیونکہ میرے ہمراہ میرا پروردگار ہے وہ مجھے ابھی راہ بتا دے گا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

موسیٰ ؑ ٰ نے کہا : ہرگز نہیں ! یقیناً میرے ساتھ میرا رب ہے وہ ضرور میرے لیے راستہ پیدا کر دے گا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

موسیٰ نے کہا ”ہرگز نہیں ‘ میرا رب میرے ساتھ ہے ‘ وہ مجھے رستہ بتائے گا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Moses said: "Certainly not. My Lord is with me; He will direct me."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He said, :Never! Indeed with me is my Lord. He will guide me.

— Muhammad Taqi Usmani

He said, :Never! Indeed with me is my Lord. He will guide me.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

(Musa) said: "Nay, verily with me is my Lord. He will guide me."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He said: Nay, verily! for lo! my Lord is with me. He will guide me.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[Moses] said, "No! Indeed, with me is my Lord; He will guide me."

— Saheeh International

When the two groups came close to each other, the companions of Moses said, "We will be caught".

— Muhammad Sarwar

He said: By no means; surely my Lord is with me: He will show me a way out.

— Muhammad Habib Shakir

Musa said: by no means; verily with me is my Lord; He shall guide me.

— Abdul Majid Daryabadi

(Moses) said: "By no means! my Lord is with me! Soon will He guide me!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 26:62

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 60–68

فرعون اور اس کا لشکر غرق دریا ہوگیا فرعون اپنے تمام لاؤ لشکر اور تمام رعایا کو مصر اور بیرون کے لوگوں کو اپنے والوں کو اور اپنی قوم کے لوگوں کو لے کر بڑ طمطراق اور ٹھاٹھ سے بنی اسرائیل کو تہس نہس کرنے کے ارادے سے چلا بعض کہتے ہیں ان کی تعداد لاکھوں سے تجاوز کرگئی تھی۔ ان میں سے ایک لاکھ تو صرف سیاہ رنگ کے گھوڑوں پر سوار تھے لیکن یہ خبر اہل کتاب کی ہے جو تامل طلب ہے۔ کعب سے تو مروی ہے کہ آٹھ لاکھ تو ایسے گھوڑوں پر سوار تھے۔ ہمارا تو خیال ہے کہ یہ سب بنی اسرائیل کی مبالغہ آمیز روایتیں ہیں۔ اتنا تو قرآن سے ثابت ہے کہ فرعون اپنی کل جماعت کو لے کر چلا مگر قرآن نے ان کی تعداد بیان نہیں فرمائی نہ اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 62–68

اور وجہ یہ بتلاتے ہیں کہ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيْ سَيَهْدِيْنِ میرے ساتھ میرا پروردگار ہے جو مجھے راستہ دے گا۔ ایمان کا امتحان ایسے ہی مواقع میں ہوتا ہے کہ موسیٰ ؑ پر ذرا ہراس نہیں تھا، وہ گویا راستہ بچنے کا آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ اسی طرح کا بعینہ واقعہ ہجرت کے وقت غار ثور میں چھپنے کے وقت رسول کریم ﷺ کو پیش آیا تھا کہ دشمن جو آپ کے تعاقب میں تھے اس غار کے دہانے پر آکھڑے ہوئے ذرا نیچے نظر کریں تو آپ ان کے سامنے آجائیں اس وقت صدیق اکبر کو گھبراہٹ ہوئی تو آپ نے بعینہ یہی جواب دیا لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا کہ غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ ان دونوں واقعات میں ایک بات یہ بھی قابل نظر ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 60–62

بالآخر صبح تڑکے فرعونیوں نے بنی اسرائیل کا تعاقب کیا۔ جب بنی اسرائیل نے دیکھا کہ آگے سمندر ہے اور پیچھے فرعون کا لشکر تو وہ بہت گھبرائے کہ اب تو ہم مارے گئے تورات میں ہے کہ انہوں نے حضرت موسیٰ کو برا بھلا کہنا شروع کردیا کہ کیا مصر میں ہمارے دفن ہونے کے لئے جگہ نہیں تھی کہ تم نے یہاں لا کر ہمیں مروانے کا سامان کیا ! حضرت موسیٰ نے ان کو اطمینان دلایا کہ گھیرائو نہیں۔ میرا رب میرے ساتھ ہے۔ وہ ہمارے لئے راہ کھولے گا۔ اگرچہ آگے سمندر ہے اور پیچھے رفعن کی فوجیں، بظاہر تمہیں راہ مسدود نظر آرہی ہے لیکن میرے رب نے مجھ سے جو وعدہ کیا ہے وہ ضرور پورا ہو کر رہے گا۔ تمہیں ہرگز کوئی گزند نہیں پہنچے گا۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

62-1حضرت موسیٰ ؑ نے تسلی دی کہ تمہارا اندیشہ صحیح نہیں، اب دوبارہ تم فرعون کی گرفت میں نہیں جاؤ گے۔ میرا رب یقینا نجات کے راستے کی نشاندہی فرمائے گا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 61–62

14: موسیٰ ؑ کے لشکر کے سامنے سمندر آگیا تھا، اور پیچھے سے فرعون کا لشکر، اس لیے موسیٰ ؑ کے ساتھی سمجھے کہ اب بچنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 60–66

فاخرجنھم من ……اسرآئیل (59) یہ لوگ تو اس لئے نکلے کہ حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کا تعاقب کریں اور انہیں گرفتار کریں مگر اپنے گھروں سے ان کا یہ خروج آخری خروج تھا۔ یہ دراصل اللہ کی اسکیم میں ان کے لئے ان انعامات اور عیاشیوں سے اخراج تھا ، جن میں وہ تھے ، اعلیٰ سہولتوں ، عزت کے مقامات اور خوشحالی اور باغات و محلات سے اخراج تھا۔ اس کے بعد یہ پھر ان مقامات کی طرف واپس نہ آئے اور یہ تھی ان کی سزابن مظالم کی وجہ سے جو یہ غریبوں پر ڈھاتے تھے۔ واورثنھا بنی اسرائیل (26 : 59) ” اور دوسری طرف ہم نے بنی اسرائیل کو ان چیزوں کا وارث کردیا۔ “ تاریخ میں تو اس بات کا ذکر نہیں ہے کہ یہ بنی اسرائیل فرعونیوں کے بعد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی گھبراؤ نہیں، اللہ کے وعدوں پر اطمینان رکھو، اس کی حمایت و نصرت میرے ساتھ ہے۔ وہ یقینا ہمارے لیے کوئی راستہ نکال دے گا۔ ناممکن ہے کہ دشمن ہم کو پکڑ سکے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 62 قَالَ کَلَّاج اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَہْدِیْنِ ” اس آیت کے یہ الفاظ سورة التوبہ کی آیت 40 کے ان الفاظ سے ملتے جلتے ہیں جو حضور ﷺ نے غار ثور میں حضرت ابوبکر صدیق رض کو مخاطب کر کے فرمائے تھے : لاَ تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا ج ” اے ابوبکر رض آپ پریشان نہ ہوں ‘ یقیناً اللہ ہمارے ساتھ ہے۔“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

43 لیکن موسیٰ (علیہ السلام) پر اس صورت حال کا کچھ بھی اثر نہ ہوا۔ انھیں اس بات کا یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے جو فتح و نصرت کے وعدے کر رکھے ہیں وہ یقیناً پورے ہوں گے۔ اور اس مصیبت سے نجات کے لئے بھی اللہ ضرور کوئی راہ نکال دے گا۔ لہذا انہوں نے گھبرائے ہوئے بنی اسرائیل کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ فرعون تمہلارا کچھ بھی نہ بگاڑ سکے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مدد ہمارے شامل حال ہے وہ ان حالات میں بھی ضرور ہماری رہنمائی فرمائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

51۔ ان لوگوں کو اپنے مقابلہ میں شاہی باقاعدہ فوج کو دیکھ کر گھبرا جانا ایک حد تک امر طبعی تھا۔ لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو وعدۂ نصرت الہی پر بھروسہ تھا۔ آپ نے پیغمبرانہ وقار ومسکنت کے ساتھ فرمایا کہ گھبراؤ نہیں ایسا ہرگز نہ ہونے پائے گا، میرے پروردگار نے میرا ساتھ کہیں چھوڑ تھوڑے ہی دیا ہے وہ مخلصی کی راہیں ابھی ابھی مجھے دکھا کر رہے گا، توریت میں ہے :۔” تب موسیٰ (علیہ السلام) نے لوگوں کو کہا، خوف نہ کرو، کھڑے رہو، اور خداوند کی نجات دیکھو، جو آج کے دن وہ تمہیں دیوے گا۔ کیونکہ ان مصریوں کو جنہیں تم آج دیکھتے ہو تم انہیں پھر تا ابد نہ دیکھو گے، خداوند تمہارے لیے جنگ کرے گا، اور تم چپ چاپ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 52–68

آیت نمبر 52 تا 68 ترجمہ : اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا بعد اس کے کہ موسیٰ (علیہ السلام) ان کے درمیان سالہا سال مقیم رہے (اور) اللہ کی آیات کے ذریعہ دعوت حق دیتے رہے مگر ان کی سرکشی ہی میں اضافہ ہوتا رہا، کہ میرے بندوں بنی اسرائیل کو راتوں رات نکال لیجا، اور ایک قرأت میں نون کے کسرہ اور اَسْرِ کے ہمزہ وصل کے ساتھ ہے اَسْرٰی میں ایک لغت مَسرَیٰ بھی ہے، یعنی راتوں رات ان کو بحر (قلزم) کی طرف لے جا، یقیناً تمہارا تعاقب کیا جائے گا یعنی فرعون اور اس کا لشکر تمہارا تعاقب کرے گا چناچہ وہ تمہارے پیچھے دریا میں داخل ہوجائیں گے سو میں تم کو نجات دوں گا اور ان کو غرق کر دوں گا جس وقت فرعون…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال کلا ان معی ربی سیہدین۔ موسیٰ نے کہا (اللہ کے وعدے پر بھروسہ رکھتے ہوئے) کہا ہر گز نہیں۔ میرے ساتھ میرا رب موجود ہے (یعنی اس کی مدد موجود ہے) وہی مجھ کو عنقریب (نجات کا) راستہ بتادے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(62) حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا ہم ہرگز ان کے ہاتھ نہیں آسکتے کیوں کہ میرے ساتھ میرا پروردگار ہے وہ ابھی مجھ کو ان سے نجات دے دے گا اور راستہ بتا دے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالَ كَلَّا ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيْ سَيَهْدِيْنِ : فرمایا، ایسا ہرگز نہیں ہوگا، بلکہ میرا رب میرے ساتھ ہے، اس نے فرعون کی طرف روانہ کرتے ہوئے خود مجھ سے وعدہ کیا ہے : (اِنَّا مَعَكُمْ مُّسْتَمِعُوْنَ) [ الشعراء : 15 ] ”بیشک ہم تمہارے ساتھ خوب سننے والے ہیں۔“ اسی کے حکم سے میں یہاں آیا ہوں، یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ اب وہ مجھے بےیارو مددگار چھوڑ دے، وہ مجھے ضرور ان سے نجات کا راستہ بتائے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 52–68

(واوحینا الی موسیٰ ان۔۔۔۔۔ ) واوحینا الی موسیٰ ان اسربعبادی انکم متبعون جب اللہ تعالیٰ کی یہی سنت رہی ہے کہ وہ اپنے مومن بندوں کو نجات عطاء فرماتا ہے جو اس کے اولیاء میں سے تصدیق کرنے والے ہوتے ہیں اور اس کے رسولوں اور انبیاء کی تصدیق کرنے والے ہوتے ہیں اور ان کافروں کو ہلاک فرماتا ہے جو اس کے دشمنوں میں سے جھٹلانے والے ہوتے ہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو رات کے وقت نکالے۔ انہیں اپنے بندوں ہونے کا نام دیا کیونکہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے تھے انکم متبعون کا معنی ہے فرعون اور اس کی قوم تمہارا پیچھاکرے گی تاکہ تمہیں واپس لے جائیں۔ اس کلام کے ضمن میں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 52–62

بنی اسرائیل کے ساتھ مصر سے ہجرت کرنے کا حکم 1۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم فرمایا کہ وہ بنی اسرائیل کے ساتھ نکل جاءٰں اور فرمایا آیت ” ان اسر بعبادی لیلا “ (الدخان آیت (23) یعنی میرے بندوں کو رات کو لے کر چل دو ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو نکلنے کا حکم فرمایا اور ان کو حکم فرمایا کہ قبط یعنی فرعون کے خاندان والوں عاریتا زبور لے لیں اور حکم فرمایا کوئی بھی اپنے ساتھی کو آواز نہ دے اور صبح تک اپنے گھروں میں چراغ جلائے رکھیں اور جو آدمی ان میں سے نکلے تو اپنے دروازے کے آگے خون لگادے یہاں تک کہ وہ جان لیا جائے کہ وہ نکل چکا ہے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قَالَ [ (موسیٰ (علیہ السلام) نے) کہا ] كَلَّا ۚ [ ہرگز نہیں ] اِنَّ [ یقینا ] مَعِيَ [ میرے ساتھ ] رَبِّيْ [ میرا رب ہے ] سَيَهْدِيْنِ [ وہ راہ سمجھائے گا مجھ کو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 53–62

(اِِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَہْدِیْنِ ) (بلاشبہ میرا رب میرے ساتھ ہے وہ مجھے ضرور راہ بتائے گا) موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ شانہٗ کا حکم ہوا کہ سمندر میں اپنی لاٹھی مار دو چناچہ انہوں نے لاٹھی دریا پر مار دی، اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ سمندر پھٹ گیا اور جگہ جگہ پانی ٹھہر گیا اور راستے نکل آئے پانی کے ٹھہرنے سے جگہ جگہ جو ٹکڑے بنے وہ اتنے بڑے تھے جیسے کوئی بڑا پہاڑ ہو ان ٹکڑوں کے درمیان راستے نکل آئے اور بنی اسرائیل کے قبیلے ان راستوں سے پار ہوگئے فرعون جو اپنے لشکر کے ساتھ پیچھے آ رہا تھا اس نے یہ نہ سوچا کہ یہ سمندر تو کبھی ٹھہرا نہیں اس میں کبھی راستے نہیں بنے یہ راستے کیسے بن گئے ؟ اگر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 52–68

ذکر کرشمہ قدرت خداوند جلیل ورنجات بنی اسرائیل و غرقابی فرعون و دریائے نیل قال اللہ تعالیٰ و اوحینا الی موسیٰ ان اسر بعبادی الیٰ و ان ربک لھو العزیز الرحیم۔ (ربط) مقابلہ میں جب موسیٰ (علیہ السلام) غالب آگئے اور اللہ کی حجت اور برہان سب پر قائم ہوگئی مگر باوجود اس کے فرعون اور اسکی قوم عناد پر قائم رہی اور ایمان لانے والوں پر ظلم ڈھانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تو اب اتمام حجت کے بعد سوائے وبال و نکال اور عذاب و عقاب کے کچھ باقی نہ رہا تو مشیت ایزدی یہ ہوئی کہ اس ظالم سے انتقام لیا جائے اس لیے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ رات کے وقت بنی اسرائیل کو نکال لے جائیں اور بتلا دیا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 61–63

31:۔ اب ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ اپنی لاٹھی سمندر پر ماریں۔ ” فانفلق الخ “ چناچہ انہوں نے لاٹھی ماری تو پانی کے درمیان سمندر کی تہ تک بارہ راستے بن گئے اور پانی کا ہر ٹکڑا پہاڑ کی مانند اونچا نظر آنے لگا۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ برکات دہندہ بھی نہ تھے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 60–68

ربط آیات گزشتہ درس میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی قوم کو لے کر راتوں رات مصر سے نکل جائیں اور ساتھ یہ بھی بتلا دیا کہ فرعون کا لشکر آپ کا تعاقب کرے گا ۔ حسب حکم موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو لے کر نکل کھڑے ہوئے۔ جیسا کہ پہلے درس میں بیان ہوچکا ہے کہ بنی اسرائیل ہر سال خاص دنوں میں اپنا قومی میلہ منایا کرتے تھے ۔ حسب معمول اس سال بھی انہوں نے باہر جا کر جشن منانے کا پروگرام بنایا اور اس سلسلے میں بعض نے قبضیوں سے زیورات بھی مانگے جو انہوں نے بخوشی دے دیے۔ پروگرام کے مطابق موسیٰ علیہ السلم بمع قوم بنی اسرائیل مصر سے نکل گئے اور چلتے چلتے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ كَلَّا۝ 0ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيْ سَيَہْدِيْنِ۝ 62 كلا كَلَّا : ردع وزجر وإبطال لقول القائل، وذلک نقیض «إي» في الإثبات . قال تعالی: أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] وقال تعالی: لَعَلِّي أَعْمَلُ صالِحاً فِيما تَرَكْتُ كَلَّا [ المؤمنون/ 100] إلى غير ذلک من الآیات، وقال : كَلَّا لَمَّا يَقْضِ ما أَمَرَهُ [ عبس/ 23] . کلا یہ حرف روع اور زجر ہے اور ماقبل کلام کی نفی کے لئے آتا ہے اور یہ ای حرف ایجاب کی ضد ہے ۔ جیسا کہ قرآن میں ہے ۔ أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ إلى قوله كَلَّا[ مریم/ 77- 79] بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں سے کفر کیا ۔ اور کہنے لگا اگر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 60–68

1 ؎ زبردست ایسا کہ فرعون اور اس کے لشکر کو غرق کردیا رحیم ایسا کہ بیچارے بنی اسرائیل کو بچا لیا یا یہ کہ زبردست ہے سزا دینے پر آئے تو کوئی بچ نہیں سکتا مگر رحیم بھی ہے کہ فی الفور سزا نہیں دیتا درگزر کرجاتا ہے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 60–62

فَاَ تْبَعُوْھُمْ مُّشْرِقِیْنَ ۔ فَلَمَّا تَرَآئَ الْجَمْعٰنِ قَالَ اَصْحٰبُ مُوْسٰٓی اِنَّا لَمُدْرَکُوْنَ ۔ قَالَ کَلاَّ ج اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَھْدِیْنِ ۔ (الشعرآء : 60، 61، 62) (پس وہ ان کے تعاقب میں نکلے اشراق کے وقت۔ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھ لیا، موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھیوں نے کہا، ہم تو پکڑے گئے۔ تو موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا ہرگز نہیں، میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری رہنمائی فرمائے گا۔ ) قوم کی کمزوری اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اعتماد علیٰ اللہ صبح ہوتے ہی فرعونیوں نے بنی اسرائیل کا تعاقب کیا، حتیٰ کہ بحرقلزم کے کنارے بنی اسرائیل کے قریب پہنچ گئے۔ جب…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 61–69

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے درمیان ہونے والی کشمکش کا مختصربیان۔ اہل مکہ اپنے آپ کو ملت ابراہیم (علیہ السلام) کے وارث سمجھتے تھے۔ اسی بنا پر قرآن مجید میں جابجا ابراہیم (علیہ السلام) کی سیرت اور ان کی بےمثال اور لازوال جدوجہد کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ اور قوم کو مشترکہ خطاب کرتے ہوئے استفسار فرمایا کہ آخر تم ان چیزوں کی کیوں عبادت کرتے ہو ؟ انھوں نے کہا کہ ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں اور ہمیشہ ان کے سامنے اعتکاف اور ان کی تعظیم کرتے رہیں گے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پے درپے ان سے تین…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

62: قَالَ (موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا) کیونکہ ان کو اپنے رب کے وعدہ پر پختہ یقین تھا۔ کَلَّا (ہرگز نہیں) اللہ تعالیٰ کے متعلق بدگمانی سے باز آئو۔ وہ تمہیں ہرگز پکڑ نہ سکیں گے۔ اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَہْدِیْنِ (بیشک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ عنقریب راہنمائی فرمائے گا) ۔ قراءت : حفص نے مَعِیَ پڑھا۔ یعقوب نے سیھدین بینی پڑھا ہے سیھدینؔ کا مطلب سیھد ینی طریق النجاۃ من ادراکھم واضرارھم وہ عنقریب ان کے پکڑنے اور تکلیف پہنچانے کے متعلق میری راہنمائی فرمائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

62۔ قال، حضرت موسیٰ کو اللہ تعالیٰ کا وعدہ پختہ یاد تھا کہ اللہ نے ان کیساتھ مدد کا وعدہ کیا ہوا ہے ، کلا ہرگز وہ نہیں پا نہیں سکتے۔ ان معی ربی سیھدین، وہ ہمیں نجات کا راستہ ضرور بتلائے گا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 52–68

(52 تا 68) جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون اور اس کے اہل دربار پر خدا کی وحدانیت قائم کرچکے اور وہ لوگ اپنی سرکشی سے باز نہ آئے تو اب سوائے عذاب الٰہی کے اور کچھ باقی نہ رہا اس لیے خدا تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم کیا کہ بنی اسرائیل کو مصر سے ایک رات اپنے ساتھ لے کر چلے جاؤ اس وقت بنی اسرائیل نے فرعون کی قوم سے بہت سا زیور اس حیلہ سے مانگ لیا تھا کہ آج ان کے ہاں ایک شادی ہے اکثر مفسروں 1 ؎ نے لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) مصر سے چاند کے طلوع ہونے کے وقت باہر نکلے تھے اور یوسف (علیہ السلام) کی یہ وصیت تھی کہ بنی اسرائیل جب مصر سے جاویں تو یوسف (علیہ السلام) کی لاش کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 10–68

آیت نمبر 10 سے 68 اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں موسیٰ (علیہ السلام) کی مدح وثنا اور ان کے واقعات کا بار بار جتنا اعادہ کیا ہے اتنا کسی اور واقعے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ عظیم حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس قصے میں اہل ایمان اور اہل کفر کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے طرز عمل کی تفصیل ہے نیز موسیٰ (علیہ السلام) صاحب شریعت کبری اور صاحب تورات تھے جو قرآن عظیم کے بعد سب سے افضل کتاب ہے۔ فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجئے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندادی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، ان کو رسول بنا کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 60–65

39 نجات دہندہ سب کا اللہ ہی ہے : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حاجت روا و مشکل کشا اور سب کے نجات دہندہ اللہ تعالیٰ ہی ہیں۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے بچا لیا موسیٰ کو بھی اور ان سب کو بھی جو انکے ساتھ تھے کہ نجات دہندہ اور سب کے حاجت روا و مشکل کشا ہم ہی ہیں۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ بچانا اور نجات دینا صرف اور صرف اللہ پاک کا کام اور اسی کی صفت و شان ہے۔ نہ کہ کسی مخلوق کی۔ حضرات انبیاء و رسل کی پاکیزہ اور مقدس ہستیاں بھی اسی کی محتاج ہیں اور جب انبیاء و رسل اور موسیٰ جیسے جلیل القدر پیغمبر بھی اسی نجات دہندہ کے محتاج و منتظر ہیں تو پھر اور کون ہے جو دوسروں کا حاجت روا و مشکل کشا ہو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 10–68

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ تشریح : اس واقعہ میں بیشمار نصیحتیں ‘ اللہ کے کمالات ‘ عجزو انکساری اور سب سے بڑھ کر توکل علی اللہ کا بہت زبردست سبق ملتا ہے۔ ایمان کامل انسان کے اندر اس قدر ہمت ‘ جرأت ‘ بہادری اور معرفت پیدا کردیتا ہے کہ انسان مادی اصولوں سے بےنیاز ہو کر روحانی دنیا میں گم ہوجاتا ہے اور اس کو اللہ ‘ اس کی مدد ‘ اس کا سایہ دنیا کے ہر خطرے سے محفوظ بےنیاز کردیتا ہے۔ جیسا کہ سید حسین نصر صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں : ” سچے مومن کی فراست تکمیل کو پہنچ جاتی ہے جیسا کہ اللہ نے فرمایا ” اللہ کی یاد میں دلوں کا سکون ہے۔ “ ( سورة رعد آیت : 28) ایسا شخص جو اس حالت میں ہو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 52–68

آیات 52 تا 68 اسرار و معارف جب فرعون ایسے ایسے معجزات دیکھ کر بھی ایمان نہ لایا تو ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بذریعہ وحی حکم دیا کہ کہ آپ میرے بندوں کو (بنی اسرائیل ایمان لا چکے تھے تو انہیں اپنے بندے ہونے کا شرف بخشا) لے کر رات کو مصر سے نکل کھڑے ہوں اور اور ساتھ یہ اطلاع بھی کردی کہ فرعون کو خبر ہوگی تو وہ تمہارا پیچھا کریگا (اور یوں اپنے انجام کو پہنچے گا) چناچہ جب فرعون کو علم ہوا کہ بنی اسرائیل تو راتو رات نکل گئے اور اہل مصر سے بہت سا مال اور زیورات بھی لے گئے تو بھڑک اٹھا اور دوسرے شہروں میں بھی ہرکارے دوڑا دئیے کہ سب لڑاکا جوان جمع ہوں اور کہا کہ یہ ایک معمولی سی بےحیثیت جماعت ہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

14 ۔ یعنی میرے پروردگار کی نصرت و حمایت میرے شامل حال ہے ان سے نجات کی ضرور کوئی سبیل نکل آئے گی۔ چناچہ آخر کار اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو پانی میں عصا مارنے کا حکم دیا۔ (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(26:62) کلا ہرگز نہیں۔ سیھدین : س حرف ہے۔ فعل مضارع کو مستقبل قریب کے معنی کے لئے مخصوص کردیتا ہے۔ یہدین مضارع واحد مذکر غائب ھدایۃ مصدر (باب ضرب) نون وقایہ یاء متکلم محذوف (کہ اصل میں بھدینی تھا) وہ مجھے ہدایت کردیگا ۔ وہ میری راہنمائی کرے گا وہ مجھے راہ بتادے گا۔ سیھدین وہ مجھے ابھی راہ بتادے گا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 52–68

لغات القرآن : آیت نمبر 52 تا 68 : اوحینا (ہم نے وحی کی) ‘ اسر (راتوں رات نکل جا) متبعون ( پیچھا کئے جانے والے) ‘ ارسل ( بھیج دے) ‘ مدائن (مدینۃ) شہروں ‘ شرذمۃ (جماعت۔ گروہ) غائظون (غصہ دلانے والے) حذورن (احتیاط کرنے والے۔ بچنے والے) ‘ عیون (عین) چشمے ‘ کنوز (کنز) خزانے ‘ مقام کریم (عمدہ پاکیزہ ٹھکانے) اور ثنا (ہم نے وارث (مالک) بنادیا ‘ مشرقین (سورج نکلنے (والے ) کی جگہ ‘ مدرکون (پکڑے جانے والے) ‘ انفلق (پھٹ پڑا) ‘ کل فرق (ہرحصہ) طودالعظیم (پہاڑ کی طرح بڑا حصہ) ‘ ازلفنا (ہم نے قریب کردیا) ‘ ثم (اسی جگہ) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 52 تا 68 : جب نبی کریم ﷺ نے مکہ میں دین اسلام پھیلانے کی جدوجہد کا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 52–68

فرعون کا ڈوب کر ہلاک ہونا۔ (ف 2) جب حضرت موسیٰ فرعون اور اس کے اہل دربار پر خدا کی وحدانیت قائم کرچکے اور وہ لوگ سرکشی سے باز نہ آئے تو اب سوائے عذاب الٰہی کے اور کچھ باقی نہ رہا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو حکم کیا کہ بنی اسرائیل کو مصر سے ایک رات اپنے ساتھ لے کر چلے جاؤ اس وقت بنی اسرائیل نے فرعون کی قوم سے بہت سازیور مانگ لیا تھا کہ آج ان کے ہاں ایک شادی ہے ہم اپنی بیبیوں کو پہنائیں گے بعد فارغ ہونے کے واپس کردیں گے جب صبح ہوئی تو فرعون نے ایک آدمی بھی بنی اسرائیل کا مصر میں نہ دیکھا اس پر فرعون کو جوش آیا اور بہت غضب ناک ہوا اور فرعون نے شہروں میں جلدی سے نقیب دوڑائے اور کہابھیجا…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 60–62

ف 1: جب یہ لوگ تعاقب کے لئے نکلے تو سورج نکلتے وقت یعنی صبح کو انہوں نے بنی اسرائیل کو آلیا ۔ اور ان کے بالکل قریب پہنچ گئے ۔ جب دونوں گروہ ایک دوسرے کے رو برو ہوئے اور دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھ لیا ۔ تو اسرائیلی مارے خوف کے چلا اٹھے ۔ کہ موسیٰ ہم تو پکڑلئے گئے ۔ ہرگز نہیں ڈرو مت ، خدا میرے ساتھ ہے ۔ وہ ضرور کوئی راہ مخلصی کی نکال دے گا ۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ سے کہا ۔ کہ دریا میں عصا مارو ۔ چناچہ انہوں نے عصا مارا اور دریا پھٹ گیا ۔ اور اس میں راستہ بن گیا ۔ دونوں طرف پانی کی اونچی اونچی دیواریں پہاڑ کی طرح کھڑے ہوگئیں ۔ دریا میں راستہ دیکھ کر فرعون کالاؤ لشکر بھی آگے بڑھا ۔ مگر ہم نے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

62۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا ہرگز نہیں کیونکہ میرے ساتھ میرا پروردگار ہے وہ عنقریب میر ی رہنمائی فرمائے گا یعنی دریا کو پار کرنے کا راستہ دکھائے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 61–63

ف 3۔ یعنی پانی کئی جگہ سے ادھر ادھر ہٹ کر بیچ میں متعدد سڑکیں کھل گئی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

موسیٰ (علیہ السلام) نے بڑے اطمینان سے کہا کہ لوگو ! ہمارے ساتھ ہمارا رب بھی ہے : 62۔ مارے گئے کہ صدائیں بلند ہو رہی تھیں کہ بعض نے یہاں تک کہہ دیا کہ کیا مصر کی زمین نے ہماری نعشوں کو قبول کرنے سے انکار کردیا تھا کہ تو ہم کو وہاں سے نکال لایا اس طرح وہ ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی حوصلہ پست کرنے والی باتیں کرنے لگے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے بڑے پروقار انداز سے پورے اطمینان کے ساتھ فرمایا کہ لوگو ! تم کو کیا ہوگیا ہے نہ میں اپنی مرضی سے نکلا اور نہ اپنی مرضی سے ہی میں نے یہ راستہ اختیار کیا اور نہ ہی میں اکیلا ہوں میں نکلا تو اللہ کی مرضی سے ‘ میں نے راستہ اختیار تو اللہ کی رضا سے اور پھر میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 62–83

The reasoning for this he gave إِنَّ مَعِيَ رَ‌بِّي سَيَهْدِينِ (62) "Indeed with me is my Lord. He will guide me." Such are the moments for the test of faith, when Sayyidna Musa (علیہ السلام) was not terror stricken at all, as if he was seeing for himself the way out. Almost the same thing happened with Holy Prophet ﷺ at the time of migration while hiding in the cave of Thaur. The enemy had reached right at the opening of the cave in his pursuit. In fact they were so close that they could have seen him if they had looked down towards their toes. Sayyidna Abu Bakr ؓ got alarmed a little, but…

Read the full tafseer →