Ash-Shu'araa 26:61

Ash-Shu'araa · from ayah 61

26:61

فَلَمَّا تَرَآءَ الْجَمْعٰنِ قَالَ اَصْحٰبُ مُوْسٰۤی اِنَّا لَمُدْرَكُوْنَ ۟ۚفَلَمَّا تَرَآءَ الۡجَمۡعٰنِ قَالَ اَصۡحٰبُ مُوۡسٰٓى اِنَّا لَمُدۡرَكُوۡنَ‌ۚ

جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے ساتھی کہنے لگے کہ ہم تو پکڑ لئے گئے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And when the two companies saw one another, the companions of Moses said, "Indeed, we are to be overtaken!"

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 4 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:61

جب دونوں گروہوں کا آمنا سامنا ہوا تو موسیٰؑ کے ساتھی چیخ اٹھے کہ "ہم تو پکڑے گئے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے ساتھی کہنے لگے کہ ہم تو پکڑ لئے گئے

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس جب دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھ لیا، تو موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا، ہم تو یقیناً پکڑ لیے گئے

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر جب دونوں جتھے ایک دوسرے کو نظر آنے لگے تو موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا کہ : اب تو پکی بات ہے کہ ہم پکڑ ہی لیے گئے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر جب آمنا سامنا ہوا دونوں گروہوں کا موسیٰ والوں نے کہا ہم کو انہوں نے آلیا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں (تو) موسٰی ؑ کے ساتھیوں نے کہا: (اب) ہم ضرور پکڑے گئے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر جب دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تو موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا بیشک ہم یقینا پکڑے جانے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر جب دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کو دیکھ لیا تو موسیٰ کے ساتھی چیخ اٹھے کہ ہم تو پکڑے گئے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا، ہم تو پکڑے گئے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر جب آمنا سامنا ہوا ان دونوں گروہوں کا تو چیخ اٹھے موسیٰ کے ساتھی کہ ہم تو بالکل پکڑے ہی گئے

— مولانا اسحاق مدنی

پھر جب دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تو موسیٰ ؑ کے ہمراہی (گھبراکر) بول اٹھے کہ ہم تو بس پکڑے گئے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تو موسیٰ ؑ کے ساتھیوں نے کہا کہ اب تو ہم پکڑے گئے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جب دونوں جماعتیں آمنے سامنے ہوئیں تو موسیٰ کے ساتھی کہنے لگے کہ ہم تو پکڑ لیے گئے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and when the groups came face to face, the companions of Moses cried out: "We are overtaken!"

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And when the two hosts saw each other, the companions of Musa said, :Surely we are overtaken.

— Muhammad Taqi Usmani

And when the two hosts saw each other, the companions of Musa said, :Surely we are overtaken.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And when the two hosts saw each other, the companions of Musa said: "We are sure to be overtaken."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And when the two hosts saw each other, those with Moses said: Lo! we are indeed caught.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And when the two companies saw one another, the companions of Moses said, "Indeed, we are to be overtaken!"

— Saheeh International

The people of the Pharaoh pursued them at sunrise.

— Muhammad Sarwar

So when the two hosts saw each other, the companions of Musa cried out: Most surely we are being overtaken.

— Muhammad Habib Shakir

And when the two parties saw each other, the companions of Musa said: verily we are overtaken.

— Abdul Majid Daryabadi

And when the two bodies saw each other, the people of Moses said: "We are sure to be overtaken."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 26:61

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 60–68

فرعون اور اس کا لشکر غرق دریا ہوگیا فرعون اپنے تمام لاؤ لشکر اور تمام رعایا کو مصر اور بیرون کے لوگوں کو اپنے والوں کو اور اپنی قوم کے لوگوں کو لے کر بڑ طمطراق اور ٹھاٹھ سے بنی اسرائیل کو تہس نہس کرنے کے ارادے سے چلا بعض کہتے ہیں ان کی تعداد لاکھوں سے تجاوز کرگئی تھی۔ ان میں سے ایک لاکھ تو صرف سیاہ رنگ کے گھوڑوں پر سوار تھے لیکن یہ خبر اہل کتاب کی ہے جو تامل طلب ہے۔ کعب سے تو مروی ہے کہ آٹھ لاکھ تو ایسے گھوڑوں پر سوار تھے۔ ہمارا تو خیال ہے کہ یہ سب بنی اسرائیل کی مبالغہ آمیز روایتیں ہیں۔ اتنا تو قرآن سے ثابت ہے کہ فرعون اپنی کل جماعت کو لے کر چلا مگر قرآن نے ان کی تعداد بیان نہیں فرمائی نہ اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

قَالَ اَصْحٰبُ مُوْسٰٓي اِنَّا لَمُدْرَكُوْنَ ، قَالَ كَلَّا ۚ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيْ سَيَهْدِيْنِ ، اس وقت جبکہ فرعونی لشکر جو ان کے تعاقب میں تھا جب بالکل سامنے آ گیا تو پوری قوم بنی اسرائیل چلا اٹھی کہ ہم تو پکڑ لئے گئے اور پکڑے جانے میں شبہ اور دیر ہی کیا تھی کہ پیچھے یہ لشکر جرار اور آگے دریا حائل یہ صورت حال موسیٰ ؑ سے بھی غائب نہ تھی مگر وہ کوہ استقامت اللہ کے وعدہ پر یقین کئے ہوئے اس وقت بھی بڑی زور سے کہتے ہیں كَلَّا ہرگز نہیں پکڑے جاسکتے

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 60–62

بالآخر صبح تڑکے فرعونیوں نے بنی اسرائیل کا تعاقب کیا۔ جب بنی اسرائیل نے دیکھا کہ آگے سمندر ہے اور پیچھے فرعون کا لشکر تو وہ بہت گھبرائے کہ اب تو ہم مارے گئے تورات میں ہے کہ انہوں نے حضرت موسیٰ کو برا بھلا کہنا شروع کردیا کہ کیا مصر میں ہمارے دفن ہونے کے لئے جگہ نہیں تھی کہ تم نے یہاں لا کر ہمیں مروانے کا سامان کیا ! حضرت موسیٰ نے ان کو اطمینان دلایا کہ گھیرائو نہیں۔ میرا رب میرے ساتھ ہے۔ وہ ہمارے لئے راہ کھولے گا۔ اگرچہ آگے سمندر ہے اور پیچھے رفعن کی فوجیں، بظاہر تمہیں راہ مسدود نظر آرہی ہے لیکن میرے رب نے مجھ سے جو وعدہ کیا ہے وہ ضرور پورا ہو کر رہے گا۔ تمہیں ہرگز کوئی گزند نہیں پہنچے گا۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

61-1یعنی فرعون کے لشکر کو دیکھتے ہی وہ، گھبرا اٹھے کہ آگے سمندر ہے اور پیچھے فرعون کا لشکر، اب بچاؤ کس طرح ممکن ہے ؟ اب دوبارہ وہی فرعون اور اس کی غلامی ہوگی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 61–62

14: موسیٰ ؑ کے لشکر کے سامنے سمندر آگیا تھا، اور پیچھے سے فرعون کا لشکر، اس لیے موسیٰ ؑ کے ساتھی سمجھے کہ اب بچنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 60–66

فاخرجنھم من ……اسرآئیل (59) یہ لوگ تو اس لئے نکلے کہ حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کا تعاقب کریں اور انہیں گرفتار کریں مگر اپنے گھروں سے ان کا یہ خروج آخری خروج تھا۔ یہ دراصل اللہ کی اسکیم میں ان کے لئے ان انعامات اور عیاشیوں سے اخراج تھا ، جن میں وہ تھے ، اعلیٰ سہولتوں ، عزت کے مقامات اور خوشحالی اور باغات و محلات سے اخراج تھا۔ اس کے بعد یہ پھر ان مقامات کی طرف واپس نہ آئے اور یہ تھی ان کی سزابن مظالم کی وجہ سے جو یہ غریبوں پر ڈھاتے تھے۔ واورثنھا بنی اسرائیل (26 : 59) ” اور دوسری طرف ہم نے بنی اسرائیل کو ان چیزوں کا وارث کردیا۔ “ تاریخ میں تو اس بات کا ذکر نہیں ہے کہ یہ بنی اسرائیل فرعونیوں کے بعد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 60–61

2 یعنی بحرقلزم کے کنارہ پہنچ کر بنی اسرائیل پار ہونے کی فکر کر رہے تھے کہ پیچھے سے فرعونی لشکر نظر آیا گھبرا کر موسیٰ (علیہ السلام) سے کہنے لگے کہ اب ان کے ہاتھ سے کیسے بچیں گے۔ آگے سمندر حائل ہے اور پیچھے سے دشمن دبائے چلا آرہا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 61 فَلَمَّا تَرَآءَ الْجَمْعٰنِ قَالَ اَصْحٰبُ مُوْسٰٓی اِنَّا لَمُدْرَکُوْنَ ” جب فرعونی لشکر تعاقب کرتے ہوئے ان کے قریب پہنچ گیا تو بنی اسرائیل کو اپنے پکڑے جانے کا یقین ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 60–61

42 فرعون کی بدحواسی کا یہ عالم تھا کہ ایک طرف تو وہ بنی اسرائیل کو ایک مٹھی بھر اور کمزور سی جماعت قرار دے رہا تھا دوسری طرف وہ ایک عظیم الشان مسلح لشکر کی تیاری کا حکم دے رہا تھا۔ جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ فرعون کو یقین تھا کہ بنی اسرائیل محض ایک کمزور سی اور مٹھی بھر جماعت ہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی مدد بھی ان کے شامل حل ہے۔ لہذا اس نے ہر ممکن احتیاط کو ملحوظ رکھتے ہوئے ایسا لشکر جرار تیار کرنے کا حکم دیا تھا جس کے تیار ہونے میں خواہ مخواہ کچھ عرصہ لگ گیا۔ فرعون کے اس لشکر نے بالاخر بنی اسرائیل کو بحیرہ قلزم کے کنارے پر جا پکڑا۔ اب صورت حال یہ تھی کہ دونوں لشکروں میں صرف اتنا فاصلہ رہ گیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

50۔ توریت میں ہے :۔” اور جب فرعون نزدیک ہوا اور بنی اسرائیل نے آنکھیں ادھر کیں، اور مصریوں کو اپنے پیچھے آتے ہوئے دیکھا اور وہ شدت سے ڈرے۔ تب بنی اسرائیل نے خداوند سے فریاد کی۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ کیا مصر میں قبروں کی جگہ نہ تھی کہ تو ہم کو وہاں سے بیابان میں مرنے کے لیے لایا “۔ (خروج 14: 10، 11)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 52–68

آیت نمبر 52 تا 68 ترجمہ : اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا بعد اس کے کہ موسیٰ (علیہ السلام) ان کے درمیان سالہا سال مقیم رہے (اور) اللہ کی آیات کے ذریعہ دعوت حق دیتے رہے مگر ان کی سرکشی ہی میں اضافہ ہوتا رہا، کہ میرے بندوں بنی اسرائیل کو راتوں رات نکال لیجا، اور ایک قرأت میں نون کے کسرہ اور اَسْرِ کے ہمزہ وصل کے ساتھ ہے اَسْرٰی میں ایک لغت مَسرَیٰ بھی ہے، یعنی راتوں رات ان کو بحر (قلزم) کی طرف لے جا، یقیناً تمہارا تعاقب کیا جائے گا یعنی فرعون اور اس کا لشکر تمہارا تعاقب کرے گا چناچہ وہ تمہارے پیچھے دریا میں داخل ہوجائیں گے سو میں تم کو نجات دوں گا اور ان کو غرق کر دوں گا جس وقت فرعون…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فلما ترآء الجمعان قال اصحب موسیٰ انا لمدرکون۔ جب دونوں جماعتیں باہم دکھائی دینے لگیں تو موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا ہم تک بلاشبہ یہ پہنچ جائیں گے (یعنی ہم کو پکڑ لیں گے اور ہم میں مدافعت کی طاقت ہے نہیں) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 60–61

(60۔ 61) غرض فرعونیوں نے (ایک روز) سورج نکلنے کے وقت ان کو پیچھے سے جا لیا، پھر جب حضرت موسیٰ ؑ کی جماعت اور فرعون کی جماعت کا آمنا سامنا ہوگیا تو حضرت موسیٰ ؑ کے ہمراہی کہنے لگے، اے موسیٰ ؑ بس ہم تو اب ان کے ہاتھ آگئے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَلَمَّا تَرَاۗءَ الْجَمْعٰنِ۔۔ :”تَرَاءٰ ی یَتَرَاءٰ ی تَرَاءُیًا“ (تفاعل) ایک دوسرے کو دیکھنا۔ جب دونوں جماعتیں ایک دوسرے کو نظر آنے لگیں تو موسیٰ ؑ کے ساتھی کہنے لگے کہ ہم تو یقیناً پکڑے جانے والے ہیں۔ ”إِنَّ“ اور ”لام تاکید“ سے ان کے شدید خوف کا اظہار ہو رہا ہے کہ اب ہر صورت یہ لوگ ہمیں مار ڈالیں گے، یا پھر غلام بنا کر ساتھ لے جائیں گے۔ اس سے پہلے مصر میں بھی انھوں نے موسیٰ ؑ سے کہا تھا : (اُوْذِيْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِيَنَا) [ الأعراف : 129 ] ”ہمیں اس سے پہلے ایذا دی گئی کہ تو ہمارے پاس آئے اور اس کے بعد بھی کہ تو ہمارے پاس آیا۔“ اب انھیں فرعون کی صورت میں موت نظر آئی تو انھوں نے یہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 52–68

(واوحینا الی موسیٰ ان۔۔۔۔۔ ) واوحینا الی موسیٰ ان اسربعبادی انکم متبعون جب اللہ تعالیٰ کی یہی سنت رہی ہے کہ وہ اپنے مومن بندوں کو نجات عطاء فرماتا ہے جو اس کے اولیاء میں سے تصدیق کرنے والے ہوتے ہیں اور اس کے رسولوں اور انبیاء کی تصدیق کرنے والے ہوتے ہیں اور ان کافروں کو ہلاک فرماتا ہے جو اس کے دشمنوں میں سے جھٹلانے والے ہوتے ہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو رات کے وقت نکالے۔ انہیں اپنے بندوں ہونے کا نام دیا کیونکہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے تھے انکم متبعون کا معنی ہے فرعون اور اس کی قوم تمہارا پیچھاکرے گی تاکہ تمہیں واپس لے جائیں۔ اس کلام کے ضمن میں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 52–62

بنی اسرائیل کے ساتھ مصر سے ہجرت کرنے کا حکم 1۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم فرمایا کہ وہ بنی اسرائیل کے ساتھ نکل جاءٰں اور فرمایا آیت ” ان اسر بعبادی لیلا “ (الدخان آیت (23) یعنی میرے بندوں کو رات کو لے کر چل دو ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو نکلنے کا حکم فرمایا اور ان کو حکم فرمایا کہ قبط یعنی فرعون کے خاندان والوں عاریتا زبور لے لیں اور حکم فرمایا کوئی بھی اپنے ساتھی کو آواز نہ دے اور صبح تک اپنے گھروں میں چراغ جلائے رکھیں اور جو آدمی ان میں سے نکلے تو اپنے دروازے کے آگے خون لگادے یہاں تک کہ وہ جان لیا جائے کہ وہ نکل چکا ہے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَلَمَّا [ پھر جب ] تَرَاۗءَ [ ایک دوسرے کو دیکھا ] الْجَمْعٰنِ [ دو جماعتوں نے ] قَالَ [ تو کہا ] اَصْحٰبُ مُوْسٰٓي [ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھیوں نے ] اِنَّا [ بیشک ہم ] لَمُدْرَكُوْنَ [ یقینا پکڑے جانے والے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 53–62

(اِِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَہْدِیْنِ ) (بلاشبہ میرا رب میرے ساتھ ہے وہ مجھے ضرور راہ بتائے گا) موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ شانہٗ کا حکم ہوا کہ سمندر میں اپنی لاٹھی مار دو چناچہ انہوں نے لاٹھی دریا پر مار دی، اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ سمندر پھٹ گیا اور جگہ جگہ پانی ٹھہر گیا اور راستے نکل آئے پانی کے ٹھہرنے سے جگہ جگہ جو ٹکڑے بنے وہ اتنے بڑے تھے جیسے کوئی بڑا پہاڑ ہو ان ٹکڑوں کے درمیان راستے نکل آئے اور بنی اسرائیل کے قبیلے ان راستوں سے پار ہوگئے فرعون جو اپنے لشکر کے ساتھ پیچھے آ رہا تھا اس نے یہ نہ سوچا کہ یہ سمندر تو کبھی ٹھہرا نہیں اس میں کبھی راستے نہیں بنے یہ راستے کیسے بن گئے ؟ اگر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 52–68

ذکر کرشمہ قدرت خداوند جلیل ورنجات بنی اسرائیل و غرقابی فرعون و دریائے نیل قال اللہ تعالیٰ و اوحینا الی موسیٰ ان اسر بعبادی الیٰ و ان ربک لھو العزیز الرحیم۔ (ربط) مقابلہ میں جب موسیٰ (علیہ السلام) غالب آگئے اور اللہ کی حجت اور برہان سب پر قائم ہوگئی مگر باوجود اس کے فرعون اور اسکی قوم عناد پر قائم رہی اور ایمان لانے والوں پر ظلم ڈھانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تو اب اتمام حجت کے بعد سوائے وبال و نکال اور عذاب و عقاب کے کچھ باقی نہ رہا تو مشیت ایزدی یہ ہوئی کہ اس ظالم سے انتقام لیا جائے اس لیے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ رات کے وقت بنی اسرائیل کو نکال لے جائیں اور بتلا دیا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 61–63

31:۔ اب ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ اپنی لاٹھی سمندر پر ماریں۔ ” فانفلق الخ “ چناچہ انہوں نے لاٹھی ماری تو پانی کے درمیان سمندر کی تہ تک بارہ راستے بن گئے اور پانی کا ہر ٹکڑا پہاڑ کی مانند اونچا نظر آنے لگا۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ برکات دہندہ بھی نہ تھے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 60–68

ربط آیات گزشتہ درس میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی قوم کو لے کر راتوں رات مصر سے نکل جائیں اور ساتھ یہ بھی بتلا دیا کہ فرعون کا لشکر آپ کا تعاقب کرے گا ۔ حسب حکم موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو لے کر نکل کھڑے ہوئے۔ جیسا کہ پہلے درس میں بیان ہوچکا ہے کہ بنی اسرائیل ہر سال خاص دنوں میں اپنا قومی میلہ منایا کرتے تھے ۔ حسب معمول اس سال بھی انہوں نے باہر جا کر جشن منانے کا پروگرام بنایا اور اس سلسلے میں بعض نے قبضیوں سے زیورات بھی مانگے جو انہوں نے بخوشی دے دیے۔ پروگرام کے مطابق موسیٰ علیہ السلم بمع قوم بنی اسرائیل مصر سے نکل گئے اور چلتے چلتے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَلَمَّا تَرَاۗءَ الْجَمْعٰنِ قَالَ اَصْحٰبُ مُوْسٰٓي اِنَّا لَمُدْرَكُوْنَ۝ 61ۚ رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ، ( ر ء ی ) رای الرؤیتہ کے معنی کسی مرئی چیز کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 60–68

1 ؎ زبردست ایسا کہ فرعون اور اس کے لشکر کو غرق کردیا رحیم ایسا کہ بیچارے بنی اسرائیل کو بچا لیا یا یہ کہ زبردست ہے سزا دینے پر آئے تو کوئی بچ نہیں سکتا مگر رحیم بھی ہے کہ فی الفور سزا نہیں دیتا درگزر کرجاتا ہے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 60–62

فَاَ تْبَعُوْھُمْ مُّشْرِقِیْنَ ۔ فَلَمَّا تَرَآئَ الْجَمْعٰنِ قَالَ اَصْحٰبُ مُوْسٰٓی اِنَّا لَمُدْرَکُوْنَ ۔ قَالَ کَلاَّ ج اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَھْدِیْنِ ۔ (الشعرآء : 60، 61، 62) (پس وہ ان کے تعاقب میں نکلے اشراق کے وقت۔ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھ لیا، موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھیوں نے کہا، ہم تو پکڑے گئے۔ تو موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا ہرگز نہیں، میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ ضرور میری رہنمائی فرمائے گا۔ ) قوم کی کمزوری اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اعتماد علیٰ اللہ صبح ہوتے ہی فرعونیوں نے بنی اسرائیل کا تعاقب کیا، حتیٰ کہ بحرقلزم کے کنارے بنی اسرائیل کے قریب پہنچ گئے۔ جب…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 61–69

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے درمیان ہونے والی کشمکش کا مختصربیان۔ اہل مکہ اپنے آپ کو ملت ابراہیم (علیہ السلام) کے وارث سمجھتے تھے۔ اسی بنا پر قرآن مجید میں جابجا ابراہیم (علیہ السلام) کی سیرت اور ان کی بےمثال اور لازوال جدوجہد کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ اور قوم کو مشترکہ خطاب کرتے ہوئے استفسار فرمایا کہ آخر تم ان چیزوں کی کیوں عبادت کرتے ہو ؟ انھوں نے کہا کہ ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں اور ہمیشہ ان کے سامنے اعتکاف اور ان کی تعظیم کرتے رہیں گے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پے درپے ان سے تین…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

61: فَلَمَّا تَرَآ ئَ الْجَمْعٰنِ (جب دونوں جماعتوں نے ایک دوسرے کو دیکھا) آمنا سامنا ہوا۔ اس طرح کہ ہر فریق دوسرے کو دیکھ سکتا تھا۔ اسرائیلی اور قبطی مراد ہیں۔ قَالَ اَصْحٰبُ مُوْسٰٓی اِنَّا لَمُدْرَکُوْنَ (تو موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھیوں نے کہا بیشک وہ تو ہم کو پکڑ لیں گے) قریب ہے کہ ہمارا دشمن ہمیں آملے اور ادھر ہمارے سامنے سمندر ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

61۔ قال اصحاب موسیٰ انالمدرکون، فرعون کو قوم نے ہمیں پالیا اور ہم ان سے مقابلہ کرنے کی طاقت بھی نہیں رکھتے تھے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 52–68

(52 تا 68) جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون اور اس کے اہل دربار پر خدا کی وحدانیت قائم کرچکے اور وہ لوگ اپنی سرکشی سے باز نہ آئے تو اب سوائے عذاب الٰہی کے اور کچھ باقی نہ رہا اس لیے خدا تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم کیا کہ بنی اسرائیل کو مصر سے ایک رات اپنے ساتھ لے کر چلے جاؤ اس وقت بنی اسرائیل نے فرعون کی قوم سے بہت سا زیور اس حیلہ سے مانگ لیا تھا کہ آج ان کے ہاں ایک شادی ہے اکثر مفسروں 1 ؎ نے لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) مصر سے چاند کے طلوع ہونے کے وقت باہر نکلے تھے اور یوسف (علیہ السلام) کی یہ وصیت تھی کہ بنی اسرائیل جب مصر سے جاویں تو یوسف (علیہ السلام) کی لاش کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 10–68

آیت نمبر 10 سے 68 اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں موسیٰ (علیہ السلام) کی مدح وثنا اور ان کے واقعات کا بار بار جتنا اعادہ کیا ہے اتنا کسی اور واقعے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ عظیم حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس قصے میں اہل ایمان اور اہل کفر کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے طرز عمل کی تفصیل ہے نیز موسیٰ (علیہ السلام) صاحب شریعت کبری اور صاحب تورات تھے جو قرآن عظیم کے بعد سب سے افضل کتاب ہے۔ فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجئے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندادی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، ان کو رسول بنا کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 60–65

39 نجات دہندہ سب کا اللہ ہی ہے : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حاجت روا و مشکل کشا اور سب کے نجات دہندہ اللہ تعالیٰ ہی ہیں۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے بچا لیا موسیٰ کو بھی اور ان سب کو بھی جو انکے ساتھ تھے کہ نجات دہندہ اور سب کے حاجت روا و مشکل کشا ہم ہی ہیں۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ بچانا اور نجات دینا صرف اور صرف اللہ پاک کا کام اور اسی کی صفت و شان ہے۔ نہ کہ کسی مخلوق کی۔ حضرات انبیاء و رسل کی پاکیزہ اور مقدس ہستیاں بھی اسی کی محتاج ہیں اور جب انبیاء و رسل اور موسیٰ جیسے جلیل القدر پیغمبر بھی اسی نجات دہندہ کے محتاج و منتظر ہیں تو پھر اور کون ہے جو دوسروں کا حاجت روا و مشکل کشا ہو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 10–68

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ تشریح : اس واقعہ میں بیشمار نصیحتیں ‘ اللہ کے کمالات ‘ عجزو انکساری اور سب سے بڑھ کر توکل علی اللہ کا بہت زبردست سبق ملتا ہے۔ ایمان کامل انسان کے اندر اس قدر ہمت ‘ جرأت ‘ بہادری اور معرفت پیدا کردیتا ہے کہ انسان مادی اصولوں سے بےنیاز ہو کر روحانی دنیا میں گم ہوجاتا ہے اور اس کو اللہ ‘ اس کی مدد ‘ اس کا سایہ دنیا کے ہر خطرے سے محفوظ بےنیاز کردیتا ہے۔ جیسا کہ سید حسین نصر صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں : ” سچے مومن کی فراست تکمیل کو پہنچ جاتی ہے جیسا کہ اللہ نے فرمایا ” اللہ کی یاد میں دلوں کا سکون ہے۔ “ ( سورة رعد آیت : 28) ایسا شخص جو اس حالت میں ہو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 52–68

آیات 52 تا 68 اسرار و معارف جب فرعون ایسے ایسے معجزات دیکھ کر بھی ایمان نہ لایا تو ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بذریعہ وحی حکم دیا کہ کہ آپ میرے بندوں کو (بنی اسرائیل ایمان لا چکے تھے تو انہیں اپنے بندے ہونے کا شرف بخشا) لے کر رات کو مصر سے نکل کھڑے ہوں اور اور ساتھ یہ اطلاع بھی کردی کہ فرعون کو خبر ہوگی تو وہ تمہارا پیچھا کریگا (اور یوں اپنے انجام کو پہنچے گا) چناچہ جب فرعون کو علم ہوا کہ بنی اسرائیل تو راتو رات نکل گئے اور اہل مصر سے بہت سا مال اور زیورات بھی لے گئے تو بھڑک اٹھا اور دوسرے شہروں میں بھی ہرکارے دوڑا دئیے کہ سب لڑاکا جوان جمع ہوں اور کہا کہ یہ ایک معمولی سی بےحیثیت جماعت ہیں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(26:61) تراء ماضی واحد مذکر غائب وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ تراء ی (تفاعل) سے جس کے معنی باہم ایک دوسرے کے اس طرح مقابل ہونے کے ہیں کہ یہ اس کو دیکھ سکے اور وہ اس کو۔ الجمعن : جمع کا تثنیہ ہے دو گروہ، دو فوجیں، دو جماعتیں۔ پس جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا۔ لمدرکون۔ لام تاکید کا مدرکون اسم مفعول جمع مذکر مدرک واحد ادراک افعال۔ ہم پکڑے گئے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 52–68

لغات القرآن : آیت نمبر 52 تا 68 : اوحینا (ہم نے وحی کی) ‘ اسر (راتوں رات نکل جا) متبعون ( پیچھا کئے جانے والے) ‘ ارسل ( بھیج دے) ‘ مدائن (مدینۃ) شہروں ‘ شرذمۃ (جماعت۔ گروہ) غائظون (غصہ دلانے والے) حذورن (احتیاط کرنے والے۔ بچنے والے) ‘ عیون (عین) چشمے ‘ کنوز (کنز) خزانے ‘ مقام کریم (عمدہ پاکیزہ ٹھکانے) اور ثنا (ہم نے وارث (مالک) بنادیا ‘ مشرقین (سورج نکلنے (والے ) کی جگہ ‘ مدرکون (پکڑے جانے والے) ‘ انفلق (پھٹ پڑا) ‘ کل فرق (ہرحصہ) طودالعظیم (پہاڑ کی طرح بڑا حصہ) ‘ ازلفنا (ہم نے قریب کردیا) ‘ ثم (اسی جگہ) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 52 تا 68 : جب نبی کریم ﷺ نے مکہ میں دین اسلام پھیلانے کی جدوجہد کا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 52–68

فرعون کا ڈوب کر ہلاک ہونا۔ (ف 2) جب حضرت موسیٰ فرعون اور اس کے اہل دربار پر خدا کی وحدانیت قائم کرچکے اور وہ لوگ سرکشی سے باز نہ آئے تو اب سوائے عذاب الٰہی کے اور کچھ باقی نہ رہا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو حکم کیا کہ بنی اسرائیل کو مصر سے ایک رات اپنے ساتھ لے کر چلے جاؤ اس وقت بنی اسرائیل نے فرعون کی قوم سے بہت سازیور مانگ لیا تھا کہ آج ان کے ہاں ایک شادی ہے ہم اپنی بیبیوں کو پہنائیں گے بعد فارغ ہونے کے واپس کردیں گے جب صبح ہوئی تو فرعون نے ایک آدمی بھی بنی اسرائیل کا مصر میں نہ دیکھا اس پر فرعون کو جوش آیا اور بہت غضب ناک ہوا اور فرعون نے شہروں میں جلدی سے نقیب دوڑائے اور کہابھیجا…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 60–62

ف 1: جب یہ لوگ تعاقب کے لئے نکلے تو سورج نکلتے وقت یعنی صبح کو انہوں نے بنی اسرائیل کو آلیا ۔ اور ان کے بالکل قریب پہنچ گئے ۔ جب دونوں گروہ ایک دوسرے کے رو برو ہوئے اور دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھ لیا ۔ تو اسرائیلی مارے خوف کے چلا اٹھے ۔ کہ موسیٰ ہم تو پکڑلئے گئے ۔ ہرگز نہیں ڈرو مت ، خدا میرے ساتھ ہے ۔ وہ ضرور کوئی راہ مخلصی کی نکال دے گا ۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ سے کہا ۔ کہ دریا میں عصا مارو ۔ چناچہ انہوں نے عصا مارا اور دریا پھٹ گیا ۔ اور اس میں راستہ بن گیا ۔ دونوں طرف پانی کی اونچی اونچی دیواریں پہاڑ کی طرح کھڑے ہوگئیں ۔ دریا میں راستہ دیکھ کر فرعون کالاؤ لشکر بھی آگے بڑھا ۔ مگر ہم نے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

61۔ پھر جب دونوں جماعتیں ایک دوسرے کو دیکھنے لگیں تو موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھیوں نے کہا بلاشبہ ہم تو پکڑے گئے۔ یعنی آگے دریا پیچھے لشکر اب پکڑے جانے میں شک ہی کیا باقی رہا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 61–63

ف 3۔ یعنی پانی کئی جگہ سے ادھر ادھر ہٹ کر بیچ میں متعدد سڑکیں کھل گئی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بنی اسرائیل نے جب دور ہی سے سمجھ لیا کہ ہم پیچھا کئے گئے ہیں تو وہ گھبرا گئے ۔ 61۔ بنی اسرائیل کی نظریں تو پہلے ہی پیچھے کی طرف لگی ہوئی تھیں وہ چلتے آگے کو تھے دیکھتے پیچھے کو ’ غلام قوموں کا یہ خاصہ ہوتا ہے کہ وہ آہستہ آہستہ غلامی ہی کو آزادی سمجھنا شروع کردیتی ہیں اور آزادی کا تصور کلی طور پر انکے ذہن سے محو ہو کر رہ جاتا ہے یہی حال قوم بنی اسرائیل کا بھی تھا وہ موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت پر نکل تو کھڑے ہوئے تھے لیکن ان کے دل ابھی دھک دھک کر رہے تھے اور نظریں پیچھے کو لگی ہوئی تھیں کہ کہیں کچھ ہو ہی نہ جائے جبھی انکی نظریں ایک لشکر پر پڑیں تو ان کو یقین ہوگیا کہ بس مارے گئے ‘ وہ پیچھے نظر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

قَالَ أَصْحَابُ مُوسَىٰ إِنَّا لَمُدْرَ‌كُونَ ﴿61﴾ قَالَ كَلَّا ۖ إِنَّ مَعِيَ رَ‌بِّي سَيَهْدِينِ ﴿62﴾ (The Companions of Musa said: "Surely we are overtaken." He said, "Never! Indeed with me is my Lord. He will guide me -26:61-62. When the Pharaoh's army, which was in their pursuit, reached right behind them, all the people of Bani Isra'il called out ` We are caught'. And there was little doubt in their nabbing as the river was in front of them and the Pharaoh's enormous army behind them. Sayyidna Musa (علیہ السلام) was fully aware of the situation, but his belief in the promise of Allah…

Read the full tafseer →