Ash-Shu'araa 26:63

Ash-Shu'araa · from ayah 63

26:63

فَاَوْحَیْنَاۤ اِلٰی مُوْسٰۤی اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْبَحْرَ ؕ— فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِیْمِ ۟ۚفَاَوۡحَيۡنَاۤ اِلٰى مُوۡسٰٓى اَنِ اضۡرِبْ بِّعَصَاكَ الۡبَحۡرَ‌ؕ فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرۡقٍ كَالطَّوۡدِ الۡعَظِيۡمِ‌ۚ

اس وقت ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی لاٹھی دریا پر مارو۔ تو دریا پھٹ گیا۔ اور ہر ایک ٹکڑا (یوں) ہوگیا (کہ) گویا بڑا پہاڑ (ہے)

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then We inspired to Moses, "Strike with your staff the sea," and it parted, and each portion was like a great towering mountain.

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 4 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:63

ہم نے موسیٰؑ کو وحی کے ذریعہ سے حکم دیا کہ "مار اپنا عصا سمندر پر" یکایک سمندر پھَٹ گیا اور اس کا ہر ٹکڑا ایک عظیم الشان پہاڑ کی طرح ہو گیا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اس وقت ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی لاٹھی دریا پر مارو۔ تو دریا پھٹ گیا۔ اور ہر ایک ٹکڑا (یوں) ہوگیا (کہ) گویا بڑا پہاڑ (ہے)

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ دریا پر اپنی ﻻٹھی مار، پس اسی وقت دریا پھٹ گیا اور ہر ایک حصہ پانی کا مثل بڑے پہاڑ کے ہوگیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

چنانچہ ہم نے موسیٰ کے پاس وحی بھیجی کہ اپنی لاٹھی سمندر پر مارو۔ بس پھر سمندر پھٹ گیا، اور ہر حصہ ایک بڑے پہاڑ کی طرح کھڑا ہوگیا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو ہم نے موسیٰ کو وحی فرمائی کہ دریا پر اپنا عصا مار تو جبھی دریا پھٹ گیا تو ہر حصہ ہوگیا جیسے بڑا پہاڑ

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر ہم نے موسٰی ؑ کی طرف وحی بھیجی کہ اپنا عصا دریا پر مارو، پس دریا (بارہ حصوں میں) پھٹ گیا اور ہر ٹکڑا زبردست پہاڑ کی مانند ہو گیا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ اپنی لاٹھی سمندر پر مار، پس وہ پھٹ گیا تو ہر ٹکڑا بہت بڑے پہاڑ کی طرح ہوگیا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

چناچہ ہم نے موسیٰ کو وحی کی کہ : اپنا عصا سمندر پر مارو چناچہ سمندر پھٹ گیا اور اس کا ہر ایک حصہ ایک بڑے پہاڑ کی طرح (ساکن و جامد) ہوگیا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس ہم نے موسیٰ کو وحی کی کہ اپنا عصا دریا پر مارو۔ پس وہ پھٹ گیا اور ہر حصہ ایک عظیم تو دے کے مانند بن گیا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

چناچہ ہم نے موسیٰ کو وحی کی کہ مار دو اپنا عصا سمندر پر پس عصا کا مارنا تھا کہ پھٹ پڑا سمندر اور ہوگیا اس کا ہر ٹکڑا ایک عظیم الشان پہاڑ کی طرح

— مولانا اسحاق مدنی

پھر ہم نے موسیٰ ؑ کی طرف وحی بھیجی کہ اپنے عصا کو دریا پر مارو چناچہ وہ دریا پھٹ گیا اور ہر حصہ اتنا بڑا تھا جیسے بڑی پہاڑی

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو ہم نے وحی کی موسیٰ ؑ کی طرف کہ ضرب لگاؤ اپنے عصا کے ساتھ سمندر کو تو وہ پھٹ گیا اور ہر حصہ ایک بہت بڑے پہاڑ کی طرح ہوگیا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اس وقت ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی لاٹھی دریا پر مارو، تو دریا پھٹ گیا اور ہر ایک طرف یوں ہوگئی کہ گویا بڑا پہاڑ ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Then We revealed to Moses, (commanding him): "Strike the sea with your rod." Thereupon the sea split up, and then each became like the mass of a huge mount.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So We revealed to Musa saying, :Strike the sea with your staff. So it was severed apart, and each part became like a big mountain.

— Muhammad Taqi Usmani

So We revealed to Musa saying, :Strike the sea with your staff. So it was severed apart, and each part became like a big mountain.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then We revealed to Musa (saying): "Strike the sea with your stick." And it parted, and each separate part became like huge mountain.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then We inspired Moses, saying: Smite the sea with thy staff. And it parted, and each part was as a mountain vast.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then We inspired to Moses, "Strike with your staff the sea," and it parted, and each portion was like a great towering mountain.

— Saheeh International

Moses said, "Certainly not. My Lord is with me and He will certainly guide me."

— Muhammad Sarwar

Then We revealed to Musa: Strike the sea with your staff. So it had cloven asunder, and each part was like a huge mound.

— Muhammad Habib Shakir

Then We revealed unto Musa, saying: smite thou the sea with thy staff. So it became separated, and each part was like unto a cliff mighty.

— Abdul Majid Daryabadi

Then We told Moses by inspiration: "Strike the sea with thy rod." So it divided, and each separate part became like the huge, firm mass of a mountain.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 26:63

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 60–68

فرعون اور اس کا لشکر غرق دریا ہوگیا فرعون اپنے تمام لاؤ لشکر اور تمام رعایا کو مصر اور بیرون کے لوگوں کو اپنے والوں کو اور اپنی قوم کے لوگوں کو لے کر بڑ طمطراق اور ٹھاٹھ سے بنی اسرائیل کو تہس نہس کرنے کے ارادے سے چلا بعض کہتے ہیں ان کی تعداد لاکھوں سے تجاوز کرگئی تھی۔ ان میں سے ایک لاکھ تو صرف سیاہ رنگ کے گھوڑوں پر سوار تھے لیکن یہ خبر اہل کتاب کی ہے جو تامل طلب ہے۔ کعب سے تو مروی ہے کہ آٹھ لاکھ تو ایسے گھوڑوں پر سوار تھے۔ ہمارا تو خیال ہے کہ یہ سب بنی اسرائیل کی مبالغہ آمیز روایتیں ہیں۔ اتنا تو قرآن سے ثابت ہے کہ فرعون اپنی کل جماعت کو لے کر چلا مگر قرآن نے ان کی تعداد بیان نہیں فرمائی نہ اس…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الشُّعَرَآء 47 اصل الفاظ ہیں کالطَّوْدِ الْعَظِیْمِ۔ طود عربی زبان میں کہتے ہی بڑے پہاڑ کو ہیں۔ لسان العرب میں ہے الطود، الجبل العظیم۔ اس کے لیے پھر عظیم کی صفت لانے کے معنی یہ ہوئے کہ پانی دونوں طرف بہت اونچے پہاڑوں کی طرح کھڑا ہوگیا تھا۔ پھر جب ہم اس بات پر غور کرتے ہیں کہ سمندر حضرت موسیٰ کے عصا مارنے سے پھٹا تھا، اور یہ کام ایک طرف بنی اسرائیل کے پورے قافلے کو گزارنے کے لیے کیا گیا تھا اور دوسری طرف اس سے مقصود فرعون کے لشکر کو غرق کرنا تھا، تو اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ عصا کی ضرب لگنے پر پانی نہایت بلند پہاڑوں کی شکل میں کھڑا ہوگیا اور اتنی دیر تک کھڑا رہا کہ ہزاروں لاکھوں بنی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 62–68

اور وجہ یہ بتلاتے ہیں کہ اِنَّ مَعِيَ رَبِّيْ سَيَهْدِيْنِ میرے ساتھ میرا پروردگار ہے جو مجھے راستہ دے گا۔ ایمان کا امتحان ایسے ہی مواقع میں ہوتا ہے کہ موسیٰ ؑ پر ذرا ہراس نہیں تھا، وہ گویا راستہ بچنے کا آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ اسی طرح کا بعینہ واقعہ ہجرت کے وقت غار ثور میں چھپنے کے وقت رسول کریم ﷺ کو پیش آیا تھا کہ دشمن جو آپ کے تعاقب میں تھے اس غار کے دہانے پر آکھڑے ہوئے ذرا نیچے نظر کریں تو آپ ان کے سامنے آجائیں اس وقت صدیق اکبر کو گھبراہٹ ہوئی تو آپ نے بعینہ یہی جواب دیا لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا کہ غم نہ کرو اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ ان دونوں واقعات میں ایک بات یہ بھی قابل نظر ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 63–66

آیت 66-63 یہ حرت موسیٰ اور ان کی قوم کے اعتماد علی اللہ کا امتحان تھا۔ اس امتحان میں بنی اسرائیل تو اپنی روایت کے مطابق بالکل ناکام رہے لیکن حضرت موسیٰ سو فیصد کامیاب ہوئے۔ اس امحتان سے گزرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا کرشمہ دکھایا۔ حضرت موسیٰ کو حکم ہوا کہ اپنا عصا سمندر پر مارو۔ انہوں نے اس حکم کی تعمیل کی۔ تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بعد ایسی ہوا چلی کہ سمندر کا پانی پھٹ کر دو حصوں میں تقسیم ہو گاک۔ دونوں طرف پانی کی دیوار کھڑی ہوگئی اور بیچ میں سے خشک راستہ نکل آیا۔ حضرت موسیٰ بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر اس راستہ پر چلے۔ تدبیر الٰہی فرعونیوں کو بھی اسی مقام پر لائی اور انہوں نے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

63-1چناچہ اللہ تعالیٰ نے یہ راہنمائی اور نشان دہی فرمائی کہ اپنی لاٹھی سمندر پر مارو، جس سے دائیں طرف کا پانی دائیں طرف اور بائیں طرف کا پانی بائیں طرف رک گیا اور دونوں کے بیچ راستہ بن گیا کہا جاتا ہے کہ بارہ قبیلوں کے حساب سے بارہ راستے بن گئے تھے واللہ عالم۔ -63-2فرق قطعہ بحر، سمندر کا حصہ طور پہاڑ۔ یعنی پانی کا ہر حصہ بڑے پہاڑ کی طرح کھڑا ہوگیا یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے معجزے کا صدور ہوا تاکہ موسیٰ ؑ اور ان کی قوم فرعون سے نجات پالے اس تائید الہی کے بغیر فرعون سے نجات ممکن نہیں تھی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

15: اللہ تعالیٰ نے پانی کے کئی حصے کر کے ان کو پہاڑ کی طرح کھڑا کردیا، اور ان حصوں کے درمیان خشک راستے بن گئے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 60–66

فاخرجنھم من ……اسرآئیل (59) یہ لوگ تو اس لئے نکلے کہ حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کا تعاقب کریں اور انہیں گرفتار کریں مگر اپنے گھروں سے ان کا یہ خروج آخری خروج تھا۔ یہ دراصل اللہ کی اسکیم میں ان کے لئے ان انعامات اور عیاشیوں سے اخراج تھا ، جن میں وہ تھے ، اعلیٰ سہولتوں ، عزت کے مقامات اور خوشحالی اور باغات و محلات سے اخراج تھا۔ اس کے بعد یہ پھر ان مقامات کی طرف واپس نہ آئے اور یہ تھی ان کی سزابن مظالم کی وجہ سے جو یہ غریبوں پر ڈھاتے تھے۔ واورثنھا بنی اسرائیل (26 : 59) ” اور دوسری طرف ہم نے بنی اسرائیل کو ان چیزوں کا وارث کردیا۔ “ تاریخ میں تو اس بات کا ذکر نہیں ہے کہ یہ بنی اسرائیل فرعونیوں کے بعد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 پانی بہت گہرا تھا۔ بارہ جگہ سے پھٹ کر خشک راستے بن گئے۔ بارہ قبیلے بنی اسرائیل کے الگ الگ ان میں سے گزرے اور بیچ میں پانی کے پہاڑ کھڑے رہ گئے۔ (کذا فی موضح القرآن) ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

فَانْفَلَقَ فَکَانَ کُلُّ فِرْقٍ کَالطَّوْدِ الْعَظِیْمِ ” اپنے مفہوم کے اعتبار سے آیت کے الفاظ بہت واضح ہیں ‘ لیکن اس کے باوجود اگر کوئی شخص ان الفاظ کی لایعنی تاویل کرکے اس واقعہ کو مدوجزر قرار دے تو اسے صرف ڈھٹائی ہی کہا جاسکتا ہے۔ فَلَقَکے معنی پھٹنے کے ہیں اور یہ مادہ اس مفہوم کے ساتھ قرآن میں کثرت سے آیا ہے۔ جیسے : فَالِقُ الْاِصْبَاحِ ج الانعام : 96 ”چاک کرنے والا صبح کی سفیدی کو“۔ اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ الفلق ”کہیے میں پناہ مانگتا ہوں صبح کے رب کی“۔ چناچہ اس آیت میں بھی لفظ فلق کے لغوی معنی ہی مراد ہیں ‘ یعنی سمندر پھٹ گیا اور اس کے دونوں حصے پہاڑ کی طرح کھڑے ہوگئے۔ کون…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

44 بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بوجب وحی الٰہی جب اپنا عصا سمندر پر مارا تو وہ دو حصوں میں بٹ گیا اور درمیان میں کافی کشادہ راستہ بن گیا۔ اور راستہ خشک بھی فوراً ہوگیا۔ نیچے دلدلی زمین نہیں تھی۔ ایک طرف کا پانی بھی ساکن جامد پہاڑ کی طرح کھڑا کا کھڑا رہ گیا اور دوسری طرف کا بھی۔ لیکن مفسرین کی نقل کردہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خشک راستہ نہیں بلکہ بارہ راستے بنے تھے اور کل فرق کے الفاظ بھی ان روایات کی تائید کرتے ہیں کیونکہ کل کا لفظ دو کے لئے نہیں آتا۔ روایات کے مطابق سمندر میں بارہ راستے بنے تھے اور بنی اسرائیل کے بارہ ہی قبیلے تھے اور ہر قبیلے کے تقریباً…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 63–66

52۔ بحر قلزم کے کنارے فرعونیوں کے غرق ہونے پر مفصل حاشیے سورة بقرہ پ 1 میں گزر چکے ،” کالطود العظیم “۔ ابن مسعود اور ابن عباس ؓ صحابیوں، اور متعدد تابعین سے معنی یہی بڑی پہاڑی کے منقول ہیں۔ اے کالجبل الکبیر قالہ ابن مسعود وابن عباس ؓ ومحمد بن کعب وقتادۃ والضحاک وغیرہ (ابن کثیر) (آیت) ” ثم “۔ یعنی وہیں۔ اسی مقام تک، اے ھنالک قال ابن عباس وعطاء الخراسانی وقتادۃ والسدی (ابن کثیر) (آیت) ” الاخرین “۔ یعنی فرعون اور فرعونیوں کو۔ یعنی قوم فرعون (معالم) فرعون و جنودہ (ابن کثیر) (آیت) ” فاوحینا “۔ الخ، صاحب روح المعانی نے لکھا ہے کہ حق تعالیٰ تو بغیر عصائے موسیٰ (علیہ السلام) کی ضرب کے بھی سمندر میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 52–68

آیت نمبر 52 تا 68 ترجمہ : اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا بعد اس کے کہ موسیٰ (علیہ السلام) ان کے درمیان سالہا سال مقیم رہے (اور) اللہ کی آیات کے ذریعہ دعوت حق دیتے رہے مگر ان کی سرکشی ہی میں اضافہ ہوتا رہا، کہ میرے بندوں بنی اسرائیل کو راتوں رات نکال لیجا، اور ایک قرأت میں نون کے کسرہ اور اَسْرِ کے ہمزہ وصل کے ساتھ ہے اَسْرٰی میں ایک لغت مَسرَیٰ بھی ہے، یعنی راتوں رات ان کو بحر (قلزم) کی طرف لے جا، یقیناً تمہارا تعاقب کیا جائے گا یعنی فرعون اور اس کا لشکر تمہارا تعاقب کرے گا چناچہ وہ تمہارے پیچھے دریا میں داخل ہوجائیں گے سو میں تم کو نجات دوں گا اور ان کو غرق کر دوں گا جس وقت فرعون…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فاوحینا الی موسیٰ ان اضرب بعصاک البحر فانفلق ہم نے موسیٰ کے پاس وحی بھیجی کہ اپنی لاٹھی دریا میں (یعنی نیل میں) مارو۔ (موسیٰ نے لاٹھی پانی میں ماری) فوراً دریا پھٹ گیا (اور خشک راستہ نکل آیا 1 ؂) ۔ فکان کل فرق کالطود العظیم۔ اور (پانی کا) ہر حصہ ایک بڑے پہاڑ کی طرح ہوگیا (یعنی اپنی جگہ پر رک گیا ‘ پھر بنی اسرائیل کے بارہ خاندانوں میں سے ہر خاندان اپنے راستہ میں داخل ہو کر پار ہوگیا) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(63) پھر ہم نے حضرت موسیٰ ؑ کو حکم دیا کہ اپنے عصا کو دریا پر مارو، چناچہ انہوں نے مارا جس سے اس دریا کے پھٹ کر بارہ حصے ہوگئے اور ان میں سے ہر ایک حصہ اتنا بڑا تھا جتنا بڑا پہاڑ۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَاَوْحَيْنَآ اِلٰى مُوْسٰٓي اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْبَحْرَ۔۔ : بعض لوگ جو معجزات کے منکر ہیں فرعون اور اس کی قوم کے سمندر میں غرق ہونے کی تاویل یہ کرتے ہیں کہ جب بنی اسرائیل سمند رکے کنارے پہنچے تو اس وقت سمندر میں جزر کی کیفیت تھی، پانی پیچھے ہٹ گیا تھا، چناچہ وہ بخیریت اس سے گزر گئے، ان کے پیچھے فرعون اور اس کی قوم بھی سمندر میں داخل ہوگئی۔ جب وہ پوری طرح اس کے اندر داخل ہوگئے تو سمندر میں ”مد“ کی کیفیت پیدا ہوگئی، پانی یک لخت چڑھ آیا اور وہ سب غرق ہوگئے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ تاویل نہیں بلکہ قرآن کا صاف انکار ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے اس موقع پر موسیٰ ؑ کو وحی کی کہ اپنا عصا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 52–68

(واوحینا الی موسیٰ ان۔۔۔۔۔ ) واوحینا الی موسیٰ ان اسربعبادی انکم متبعون جب اللہ تعالیٰ کی یہی سنت رہی ہے کہ وہ اپنے مومن بندوں کو نجات عطاء فرماتا ہے جو اس کے اولیاء میں سے تصدیق کرنے والے ہوتے ہیں اور اس کے رسولوں اور انبیاء کی تصدیق کرنے والے ہوتے ہیں اور ان کافروں کو ہلاک فرماتا ہے جو اس کے دشمنوں میں سے جھٹلانے والے ہوتے ہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو رات کے وقت نکالے۔ انہیں اپنے بندوں ہونے کا نام دیا کیونکہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے تھے انکم متبعون کا معنی ہے فرعون اور اس کی قوم تمہارا پیچھاکرے گی تاکہ تمہیں واپس لے جائیں۔ اس کلام کے ضمن میں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 63–68

1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” کا الطود “ سے مراد ہے جیسے پہاڑ۔ 2۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” کا الطود “ سے مراد ہے جیسے پہاڑ۔ 3۔ عبدبن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کہ آیت ” الطود “ سے مراد ہے پہاڑ۔ 4۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” وازلفنا ثم الاخرین “ سے فرعون کی قوم مراد ہے اللہ تعالیٰ نے ان کو قریب کیا یہاں تک کہ ان کو دریا میں غرق کردیا۔ 5۔ ابن مردویہ نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا میں تم کو ایسے کلمات نہ سکھاؤں جو موسیٰ (علیہ السلام) نے اس وقت کہے جب سمندر پھٹ گیا تھا میں نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَاَوْحَيْنَآ [ تو ہم نے وحی کی ] اِلٰى مُوْسٰٓي [ موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف ] اَنِ [ کہ ] اضْرِبْ [ آپ (علیہ السلام) ماریں ] بِّعَصَاكَ [ اپنی لاٹھی سے ] الْبَحْرَ ۭ[ سمندر کو ] فَانْفَلَقَ [ پھر وہ پھٹ گیا ] فَكَانَ [ تو ہوگیا ] كُلُّ فِرْقٍ [ ہر ٹکڑا ] كَالطَّوْدِ الْعَظِيْمِ [ بڑے تودے کے مانند ] ط و د (ن) طودا ثابت قدم ہونا۔ جما ہوا ہونا۔ طود اسم ذات بھی ہے۔ ٹیلہ۔ پہاڑ کا بڑا ٹکڑا۔ تو وہ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 63 ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 63–67

(اِِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لاآیَۃً ) (بلاشبہ اس میں بہت بڑی نشانی ہے) (وَّمَا کَانَ اَکْثَرُھُمْ مُؤْمِنِیْنَ ) (اور ان میں اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں) (وَاِِنَّ رَبَّکَ لَہُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ ) (اور بلاشبہ آپ کا رب عزت والا ہے رحمت والا ہے) وہ گرفت فرمانے پر بھی قادر ہے اور رحم بھی فرماتا ہے مومن بندوں کو اس کے عذاب سے ڈرتے رہنا چاہئے اور اس کی رحمت کا امید وار رہنا چاہئے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 52–68

ذکر کرشمہ قدرت خداوند جلیل ورنجات بنی اسرائیل و غرقابی فرعون و دریائے نیل قال اللہ تعالیٰ و اوحینا الی موسیٰ ان اسر بعبادی الیٰ و ان ربک لھو العزیز الرحیم۔ (ربط) مقابلہ میں جب موسیٰ (علیہ السلام) غالب آگئے اور اللہ کی حجت اور برہان سب پر قائم ہوگئی مگر باوجود اس کے فرعون اور اسکی قوم عناد پر قائم رہی اور ایمان لانے والوں پر ظلم ڈھانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تو اب اتمام حجت کے بعد سوائے وبال و نکال اور عذاب و عقاب کے کچھ باقی نہ رہا تو مشیت ایزدی یہ ہوئی کہ اس ظالم سے انتقام لیا جائے اس لیے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ رات کے وقت بنی اسرائیل کو نکال لے جائیں اور بتلا دیا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 61–63

31:۔ اب ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ اپنی لاٹھی سمندر پر ماریں۔ ” فانفلق الخ “ چناچہ انہوں نے لاٹھی ماری تو پانی کے درمیان سمندر کی تہ تک بارہ راستے بن گئے اور پانی کا ہر ٹکڑا پہاڑ کی مانند اونچا نظر آنے لگا۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ برکات دہندہ بھی نہ تھے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 60–68

ربط آیات گزشتہ درس میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی قوم کو لے کر راتوں رات مصر سے نکل جائیں اور ساتھ یہ بھی بتلا دیا کہ فرعون کا لشکر آپ کا تعاقب کرے گا ۔ حسب حکم موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو لے کر نکل کھڑے ہوئے۔ جیسا کہ پہلے درس میں بیان ہوچکا ہے کہ بنی اسرائیل ہر سال خاص دنوں میں اپنا قومی میلہ منایا کرتے تھے ۔ حسب معمول اس سال بھی انہوں نے باہر جا کر جشن منانے کا پروگرام بنایا اور اس سلسلے میں بعض نے قبضیوں سے زیورات بھی مانگے جو انہوں نے بخوشی دے دیے۔ پروگرام کے مطابق موسیٰ علیہ السلم بمع قوم بنی اسرائیل مصر سے نکل گئے اور چلتے چلتے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاَوْحَيْنَآ اِلٰى مُوْسٰٓي اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْبَحْرَ۝ 0ۭ فَانْفَلَقَ فَكَانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيْمِ۝ 6 3ۚ وحی أصل الوحي : الإشارة السّريعة، ولتضمّن السّرعة قيل : أمر وَحْيٌ ، وذلک يكون بالکلام علی سبیل الرّمز والتّعریض، وقد يكون بصوت مجرّد عن التّركيب، وبإشارة ببعض الجوارح، وبالکتابة، وقد حمل علی ذلک قوله تعالیٰ عن زكريّا : فَخَرَجَ عَلى قَوْمِهِ مِنَ الْمِحْرابِ فَأَوْحى إِلَيْهِمْ أَنْ سَبِّحُوا بُكْرَةً وَعَشِيًّا[ مریم/ 11] وقوله : وَأَوْحَيْنا إِلى مُوسی وَأَخِيهِ [يونس/ 87] فوحيه إلى موسیٰ بوساطة جبریل، ووحيه تعالیٰ إلى هرون بوساطة جبریل وموسی، ( و ح ی ) الوحی کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 60–68

1 ؎ زبردست ایسا کہ فرعون اور اس کے لشکر کو غرق کردیا رحیم ایسا کہ بیچارے بنی اسرائیل کو بچا لیا یا یہ کہ زبردست ہے سزا دینے پر آئے تو کوئی بچ نہیں سکتا مگر رحیم بھی ہے کہ فی الفور سزا نہیں دیتا درگزر کرجاتا ہے۔ 12 منہ

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 63–66

فَاَوْحَیْنَآ اِلٰی مُوْسٰٓی اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاکَ الْبَحْرَ ط فَانْفَلَقَ فَکَانَ کُلُّ فِرْقٍ کَالطَّوْدِالْعَظِیْمِ ۔ وَاَزْلَفْنَا ثُمَّ الْاٰخَرِیْنَ ۔ وَاَنْجَیْنَا مُوْسٰی وَمَنْ مَّعَـہٗٓ اَجْمَعِیْنَ ۔ ثُمَّ اَغْرَقْنَا الْاٰخَرِیْنَ ۔ (الشعرآء : 64 تا 66) (پس ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو وحی کی کہ اپنا عصا سمندر پر مارو، سمندر پھٹ گیا اور ہر حصہ ایک عظیم پہاڑ کی مانند بن گیا۔ اور ہم قریب لائے وہیں دوسروں کو۔ موسیٰ اور ان سب لوگوں کو جو ان کے ساتھ تھے، ہم نے نجات دی۔ اور پھر ہم نے دوسروں کو غرق کردیا۔ ) قدرتِ خداوندی کا کرشمہ بنی اسرائیل کی گھبراہٹ اور چیخ و پکار میں حضرت موسیٰ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 61–69

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے درمیان ہونے والی کشمکش کا مختصربیان۔ اہل مکہ اپنے آپ کو ملت ابراہیم (علیہ السلام) کے وارث سمجھتے تھے۔ اسی بنا پر قرآن مجید میں جابجا ابراہیم (علیہ السلام) کی سیرت اور ان کی بےمثال اور لازوال جدوجہد کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ اور قوم کو مشترکہ خطاب کرتے ہوئے استفسار فرمایا کہ آخر تم ان چیزوں کی کیوں عبادت کرتے ہو ؟ انھوں نے کہا کہ ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں اور ہمیشہ ان کے سامنے اعتکاف اور ان کی تعظیم کرتے رہیں گے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پے درپے ان سے تین…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

بنی اسرائیل کا لشکر سمندر کے درمیان : 63: فَاَوْحَیْنَآ اِلٰی مُوْسٰٓی اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاکَ الْبَحْرَ (پس ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی کی کہ تم اپنی لاٹھی سمندر پر مارو) البحر سے بحر قلزم مراد ہے یہی وہ سمندر ہے جس میں لوگ یمن سے مصر کی طرف جاتے ہیں۔ نمبر 2۔ دریائے نیل۔ فَانْفَلَقَ (پس وہ پھٹ گیا) یعنی انہوں نے مارا تو وہ پھٹ گیا۔ اور اس میں بارہ راستے بن گئے اور قبائل بنی اسرائیل کی تعداد بھی اس قدر تھی۔ فَکَانَ کُلُّ فِرْقٍ (ہر حصہ) ایک حصہ دوسرے سے جدا ہو کر کھڑا ہوگیا۔ کَالطَّوْدِ (گویا کہ وہ ایک بڑا پہاڑ ہے) آسمان میں بلندہونے والا پہاڑ الْعَظِیْمِ (بڑا) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

63۔ فاوحینا الی موسیٰ ان اضرب بعصاک البحر فانفلق، حضرت موسیٰ نے اپناعصا سمندر پر مارا جس سے وہ خشک ہوکرپھٹ گیا، فکان کل فرق پانی کے ٹکڑے بن گئے۔ کالطودالعظیم، جیسا کہ وہ بڑے بڑے پہاڑ بن گئے۔ ابن جریج کا قول ہے کہ جب حضرت موسیٰ سمندر کے کنارے پر پہنچے تو ہوا چلنے لگی اور سمندر پہاڑ کی مانند موجیں مارنے لگا، یوشع کہنے لگا کہ اے اللہ کلام کرنے والے آپ کا کیا حکم ہے۔ ہمیں فرعون کی فوج نے ڈھانپ لیا اور ہمارے سامنے سمندر ہے۔ موسیٰ نے فرمایا کہ یوشع اپنے گھورے کو لے کر پانی میں چلو، انہوں نے ایسا ہی کیا حتی کہ ان کے گھوڑوں کے کھروں کو پانی تک نہ لگا، اور جس شخص نے اپنا ایمان چھپایا ہوا تھا اس نے کہا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 52–68

(52 تا 68) جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون اور اس کے اہل دربار پر خدا کی وحدانیت قائم کرچکے اور وہ لوگ اپنی سرکشی سے باز نہ آئے تو اب سوائے عذاب الٰہی کے اور کچھ باقی نہ رہا اس لیے خدا تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم کیا کہ بنی اسرائیل کو مصر سے ایک رات اپنے ساتھ لے کر چلے جاؤ اس وقت بنی اسرائیل نے فرعون کی قوم سے بہت سا زیور اس حیلہ سے مانگ لیا تھا کہ آج ان کے ہاں ایک شادی ہے اکثر مفسروں 1 ؎ نے لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) مصر سے چاند کے طلوع ہونے کے وقت باہر نکلے تھے اور یوسف (علیہ السلام) کی یہ وصیت تھی کہ بنی اسرائیل جب مصر سے جاویں تو یوسف (علیہ السلام) کی لاش کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 10–68

آیت نمبر 10 سے 68 اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں موسیٰ (علیہ السلام) کی مدح وثنا اور ان کے واقعات کا بار بار جتنا اعادہ کیا ہے اتنا کسی اور واقعے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ عظیم حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس قصے میں اہل ایمان اور اہل کفر کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے طرز عمل کی تفصیل ہے نیز موسیٰ (علیہ السلام) صاحب شریعت کبری اور صاحب تورات تھے جو قرآن عظیم کے بعد سب سے افضل کتاب ہے۔ فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجئے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندادی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، ان کو رسول بنا کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 60–65

39 نجات دہندہ سب کا اللہ ہی ہے : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حاجت روا و مشکل کشا اور سب کے نجات دہندہ اللہ تعالیٰ ہی ہیں۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے بچا لیا موسیٰ کو بھی اور ان سب کو بھی جو انکے ساتھ تھے کہ نجات دہندہ اور سب کے حاجت روا و مشکل کشا ہم ہی ہیں۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ بچانا اور نجات دینا صرف اور صرف اللہ پاک کا کام اور اسی کی صفت و شان ہے۔ نہ کہ کسی مخلوق کی۔ حضرات انبیاء و رسل کی پاکیزہ اور مقدس ہستیاں بھی اسی کی محتاج ہیں اور جب انبیاء و رسل اور موسیٰ جیسے جلیل القدر پیغمبر بھی اسی نجات دہندہ کے محتاج و منتظر ہیں تو پھر اور کون ہے جو دوسروں کا حاجت روا و مشکل کشا ہو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 10–68

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ تشریح : اس واقعہ میں بیشمار نصیحتیں ‘ اللہ کے کمالات ‘ عجزو انکساری اور سب سے بڑھ کر توکل علی اللہ کا بہت زبردست سبق ملتا ہے۔ ایمان کامل انسان کے اندر اس قدر ہمت ‘ جرأت ‘ بہادری اور معرفت پیدا کردیتا ہے کہ انسان مادی اصولوں سے بےنیاز ہو کر روحانی دنیا میں گم ہوجاتا ہے اور اس کو اللہ ‘ اس کی مدد ‘ اس کا سایہ دنیا کے ہر خطرے سے محفوظ بےنیاز کردیتا ہے۔ جیسا کہ سید حسین نصر صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں : ” سچے مومن کی فراست تکمیل کو پہنچ جاتی ہے جیسا کہ اللہ نے فرمایا ” اللہ کی یاد میں دلوں کا سکون ہے۔ “ ( سورة رعد آیت : 28) ایسا شخص جو اس حالت میں ہو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 52–68

آیات 52 تا 68 اسرار و معارف جب فرعون ایسے ایسے معجزات دیکھ کر بھی ایمان نہ لایا تو ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بذریعہ وحی حکم دیا کہ کہ آپ میرے بندوں کو (بنی اسرائیل ایمان لا چکے تھے تو انہیں اپنے بندے ہونے کا شرف بخشا) لے کر رات کو مصر سے نکل کھڑے ہوں اور اور ساتھ یہ اطلاع بھی کردی کہ فرعون کو خبر ہوگی تو وہ تمہارا پیچھا کریگا (اور یوں اپنے انجام کو پہنچے گا) چناچہ جب فرعون کو علم ہوا کہ بنی اسرائیل تو راتو رات نکل گئے اور اہل مصر سے بہت سا مال اور زیورات بھی لے گئے تو بھڑک اٹھا اور دوسرے شہروں میں بھی ہرکارے دوڑا دئیے کہ سب لڑاکا جوان جمع ہوں اور کہا کہ یہ ایک معمولی سی بےحیثیت جماعت ہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 63–66

1 ۔ کیونکہ وہ بھی سمندر میں راستہ دیکھ کر اس میں گھس پڑے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے پانی کے دونوں ٹکڑوں کو مل جانے کا حکم دیا جب وہ مل گئے تو یہ لوگ غرق ہوگئے۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(26:63) فانفلق :تعقیب کا ہے انفلق ماضی واحد مذکر غائب وہ پھٹ گیا۔ انفلاق (انفعال) مصدر۔ باب ضرب سے الفلق کے معنی کسی چیز کو پھاڑنے اور اس کے ایک ٹکڑے کو دوسرے سے الگ کرنے کے ہیں۔ فالق الاصباح (6:96) وہی رات کے اندھیرے سے صبح کی روشنی پھاڑ نکالتا ہے۔ فرق اسم فعل۔ مجموعہ میں سے کاٹ کر الگ کیا ہوا ایک ٹکڑا۔ الطور بلند پہاڑ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 52–68

لغات القرآن : آیت نمبر 52 تا 68 : اوحینا (ہم نے وحی کی) ‘ اسر (راتوں رات نکل جا) متبعون ( پیچھا کئے جانے والے) ‘ ارسل ( بھیج دے) ‘ مدائن (مدینۃ) شہروں ‘ شرذمۃ (جماعت۔ گروہ) غائظون (غصہ دلانے والے) حذورن (احتیاط کرنے والے۔ بچنے والے) ‘ عیون (عین) چشمے ‘ کنوز (کنز) خزانے ‘ مقام کریم (عمدہ پاکیزہ ٹھکانے) اور ثنا (ہم نے وارث (مالک) بنادیا ‘ مشرقین (سورج نکلنے (والے ) کی جگہ ‘ مدرکون (پکڑے جانے والے) ‘ انفلق (پھٹ پڑا) ‘ کل فرق (ہرحصہ) طودالعظیم (پہاڑ کی طرح بڑا حصہ) ‘ ازلفنا (ہم نے قریب کردیا) ‘ ثم (اسی جگہ) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 52 تا 68 : جب نبی کریم ﷺ نے مکہ میں دین اسلام پھیلانے کی جدوجہد کا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 52–68

فرعون کا ڈوب کر ہلاک ہونا۔ (ف 2) جب حضرت موسیٰ فرعون اور اس کے اہل دربار پر خدا کی وحدانیت قائم کرچکے اور وہ لوگ سرکشی سے باز نہ آئے تو اب سوائے عذاب الٰہی کے اور کچھ باقی نہ رہا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو حکم کیا کہ بنی اسرائیل کو مصر سے ایک رات اپنے ساتھ لے کر چلے جاؤ اس وقت بنی اسرائیل نے فرعون کی قوم سے بہت سازیور مانگ لیا تھا کہ آج ان کے ہاں ایک شادی ہے ہم اپنی بیبیوں کو پہنائیں گے بعد فارغ ہونے کے واپس کردیں گے جب صبح ہوئی تو فرعون نے ایک آدمی بھی بنی اسرائیل کا مصر میں نہ دیکھا اس پر فرعون کو جوش آیا اور بہت غضب ناک ہوا اور فرعون نے شہروں میں جلدی سے نقیب دوڑائے اور کہابھیجا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

63۔ تب ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی جانب حکم بھیجا کہ تو اپنی لاٹھی کو دریاپر مار چناچہ لکڑی مارتے ہی دریا پھٹ گیا اور پانی کا ہر ٹکڑا ایسا ہوگیا جیسے کوئی بڑا پہاڑ۔ حضرت شاہ (رح) صاحب فرماتے ہیں پانی پھٹ کر اٹھا بارہ 12 جگہ سے پھٹ کر گلیاں پڑی گئیں 12 بارہ قبیلے بنی اسرائیل کے اس میں بیٹھے بیچ میں پانی کے پہاڑ کھڑے ہوگئے 12 خلاصہ ! یہ کہ لاٹھی مارتے ہی دریا پھٹ کر درمیان میں راستے اور سڑکیں نکلی آئیں دائیں بائیں پانی کی دیواریں جیسے راستے کے دائیں بائیں پہاڑ کھڑے ہوں راستہ بنتے ہی بنی اسرائیل دریائی راستوں میں داخل ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 61–63

ف 3۔ یعنی پانی کئی جگہ سے ادھر ادھر ہٹ کر بیچ میں متعدد سڑکیں کھل گئی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہم نے وحی کی موسیٰ ٹھہر جاؤ یہی وہ جگہ ہے جہاں سے تم لوگوں کو دریا پار کرنا ہے : 63۔ موسیٰ (علیہ السلام) وحی الہی کے مطابق رکے اور اپنی لاٹھی سے دریا کے کنارے پر دو نشان وقفہ کے ساتھ لادیئے اور نشانات سے ان کو بتایا کہ یہاں سے یہاں تک کے درمیانی راستہ سے تم لوگ پار نکلتے چلو اور گھبراؤ نہیں کیونکہ گھبرانے کی اس میں کوئی بات نہیں اس جگہ پانی پایاب ہے اور علاوہ ازیں دوسری جگہوں پر دریا کی گہرائی اس قدر ہے کہ گویا اس میں کوئی چیز گری اور بھسم ہو کر رہ گئی ، بنی اسرائیل گھبرائے ہوئے تو پہلے ہی تھے وہ اس جگہ سے جہاں سے موسیٰ (علیہ السلام) نے پانی میں اترنے کا حکم دیا تھا اترے اور فرعونیوں کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 62–83

The reasoning for this he gave إِنَّ مَعِيَ رَ‌بِّي سَيَهْدِينِ (62) "Indeed with me is my Lord. He will guide me." Such are the moments for the test of faith, when Sayyidna Musa (علیہ السلام) was not terror stricken at all, as if he was seeing for himself the way out. Almost the same thing happened with Holy Prophet ﷺ at the time of migration while hiding in the cave of Thaur. The enemy had reached right at the opening of the cave in his pursuit. In fact they were so close that they could have seen him if they had looked down towards their toes. Sayyidna Abu Bakr ؓ got alarmed a little, but…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

47 Literally, tawd is a high mountain. It appears that as soon as Prophet Moses struck the sea with his staff, it tore the sea asunder and the waters stood like two mighty mountains on the sides and remained in that condition for so long that, on the one hand, the Israelite caravans consisting of hundreds of thousands of the nigrants were able to pass through safely, and on the other, Pharaoh and his hosts stepped in and reached the middle of the sea. In the natural course, a phenomenon like this has never occurred that due to a windstorm, however strong, the sea should have parted and stood…

Read the full tafseer →