فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سٰجِدِیْنَ ۟ۙفَاُلۡقِىَ السَّحَرَةُ سٰجِدِيۡنَۙ
تب جادوگر سجدے میں گر پڑے
— Fateh Muhammad Jalandhari
So the magicians fell down in prostration [to Allah].
— Saheeh International
Juz 19 · Ruku 3 of surah · Ruku 7 of juz
فَاُلْقِیَ السَّحَرَةُ سٰجِدِیْنَ ۟ۙفَاُلۡقِىَ السَّحَرَةُ سٰجِدِيۡنَۙ
تب جادوگر سجدے میں گر پڑے
— Fateh Muhammad Jalandhari
So the magicians fell down in prostration [to Allah].
— Saheeh International
Juz 19 · Ruku 3 of surah · Ruku 7 of juz
Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa
اس پر سارے جادوگر بے اختیار سجدے میں گر پڑے
تب جادوگر سجدے میں گر پڑے
یہ دیکھتے ہی دیکھتے جادوگر بے اختیار سجدے میں گر گئے
بس پھر وہ جادوگر سجدے میں گرا دیئے گئے۔
اب سجدہ میں گرے،
پس سارے جادوگر سجدہ کرتے ہوئے گر پڑے،
تو جادو گر نیچے گرا دیے گئے، اس حال میں کہ سجدہ کرنے والے تھے۔
یہ دیکھ کر جادوگر بےاختیار سجدہ میں گرپڑے
تو ساحر بےتحاشا سجدے میں گر پڑے
اس پر وہ سب جادوگر بےساختہ اپنے رب کے حضور سجدے میں گرپڑے
سو جادوگر سجدہ میں گرپڑے۔
تو سارے جادوگر بےاختیار سجدے میں گرا دیے گئے
جادوگر سجدے میں گر پڑے۔
Thereupon the magicians fell down in prostration,
So the sorcerers were made (by the truth they saw) to fall down in prostration.
So the sorcerers were made (by the truth they saw) to fall down in prostration.
And the sorcerers fell down prostrate.
And the wizards were flung prostrate,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
So the magicians fell down in prostration [to Allah].
The magicians fell down in adoration
And the magicians were thrown down prostrate;
Then the magicians flung themselves prostrate.
Then did the sorcerers fall down, prostrate in adoration,
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 38–48
مناظرہ کے بعد مقابلہ مناظرہ زبانی ہوچکا۔ اب مناظرہ عملا ہو رہا ہے اس مناظرہ کا ذکر سورة اعراف سورة طہ اور اس سورت میں ہے۔ قبطیوں کا ارادہ اللہ کے نور کے بجھانے کا تھا اور اللہ کا ارادہ اس کی نورانیت کے پھیلانے کا تھا۔ پس اللہ کا ارادہ غالب رہا۔ ایمان و کفر کا مقابلہ جب کبھی ہوا ایمان کفر پر غالب رہا۔ اللہ تعالیٰ حق کو غالب کرتا ہے باطل کا سر پھٹ جاتا ہے اور لوگوں کے باطل ارادے ہوا میں اڑ جاتے ہیں۔ حق آجاتا ہے باطل بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔ یہاں بھی یہ ہوا ہر ایک شہر میں سپاہی بھیجے گئے۔ چاروں طرف سے بڑے بڑے نامی گرامی جادوگر جمع کئے گئے جو اپنے فن میں کامل اور استاد زمانہ تھے کہا گیا ہے کہ ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
سورة الشُّعَرَآء 37 یہ حضرت موسیٰ کے مقابلے میں ایک طرف سے محض شکست کا اعتراف نہیں تھا کہ کوئی شخص یہ کہہ کر پیچھا چھڑا لیتا کہ ایک بڑے جادوگر نے چھوٹے جادوگروں کو نیچا دکھا دیا، بلکہ ان کا سجدے میں گر کر اللہ رب العالمین پر ایمان لے آنا گویا برسر عام ہزارہا باشندگان مصر کے سامنے اس بات کا اور اعلان تھا کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں یہ ہمارے فن کی چیز ہی نہیں ہے، یہ کام تو صرف اللہ رب العالمین ہی کی قدرت سے ہوسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–49
بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ ، یہ کلمہ ان جادوگروں کے لئے بمنزلہ قسم ہے جو زمانہ جاہلیت میں رائج تھی۔ افسوس کہ مسلمانوں میں بھی اب ایسی قسمیں رائج ہوگئی ہیں جو اس سے زیادہ شنیع اور قبیح ہیں مثلاً بادشاہ کی قسم، تیرے سر کی قسم، تیری ڈاڑھی کی قسم یا تیرے باپ کی قبر کی قسم، اس قسم کی قسمیں کھانا شرعاً جائز نہیں، بلکہ ان کے متعلق یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ خدا کے نام کی جھوٹی قسم کھانے میں جو گناہ عظیم ہے ان ناموں کی سچی قسم بھی گناہ میں اس سے کم نہیں (کما فی الروح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
آیت 48-46 اسحروں کا اعتراف حق ہم دوسروں مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ سحر و معجزہ کے فرق کو سب سے زیادہ پرکھنے والا ایک ساحر ہو ہی سکتا ہے اگر اس کے اندر اعتراف حق کی رمق ہو۔ ان ساحروں کے اندر یہ رمق موجود تھی اس وجہ سے وہ اس کو دیکھتے ہی سجدے میں گر پڑے، علی رئوس الاشہاد اپنے ایمان کا اعلان کردیا اور اس تصریح کے ساتھ کہ ہم ایمان لائے رب العالمین، موسیٰ اور ہارون کے رب پر ! اوپر آیات 16 اور 24 میں فرعن کے اس غیظ و غضب کا ذکر گزر چکا ہے جو حضرت موسیٰ کے پیش کردہ رب العالمین کے خلاف وہ ظاہر کرچکا تھا۔ ساحروں نے کچھ لگی لپٹی رکھے بغیر اسی رب العالمین پر اپنے ایمان کا اعلان کیا اور اس کے ساتھ اتنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–49
49-1فرعون کے لئے یہ واقعہ بڑا عجیب اور نہایت حیرت ناک تھا جن جادوگروں کے ذریعے وہ فتح و غلبہ کی آس لگائے بیٹھا تھا وہی نہ صرف مغلوب ہوگئے بلکہ موقع پر ہی وہ اس رب پر ایمان لے آئے، جس نے حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کو دلائل و معجزات دے کر بھیجا تھا لیکن بجائے اس کے کہ فرعون بھی غور و فکر سے کام لیتا اور ایمان لاتا، اس نے مکابرہ اور عناد کا راستہ اختیار کیا اور جادوگروں کو ڈرانا دھمکانا شروع کردیا اور کہا کہ تم سب اسی کے شاگرد لگتے ہو اور تمہارا استاد یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سازش کے ذریعے سے تم ہمیں یہاں سے بےدخل کردو۔ (اِنَّ هٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوْهُ فِي الْمَدِيْنَةِ لِتُخْرِجُوْا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–58
12: یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ قرآن کریم نے ان کے لیے ”سجدے میں گرگئے“ کے بجائے ”سجدے میں گرا دئیے گئے“ فرمایا ہے۔ اس میں اشارہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ نے جو معجزہ دکھلایا، وہ اس درجہ موثر تھا کہ اس نے انہیں بےساختہ سجدے میں گرا دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
فالقی السحرۃ سجدین (26 : 36) ” قالوا امنا برب العلمین (26 : 38) رب موسیٰ وھرون (26 : 38) ” ، ۔ “ ایک ہی لمحہ قبل وہ کرایہ کے لوگ تھے اور فرعون کے ساتھ وہ اپنی مہارت اور اجرت کا مول تول کر رہے تھے۔ نہ وہ کوئی نظریہ رکھتے تھے اور نہ ان کے پیش نظر کوئی نصب العین تھا۔ لیکن اب ان کے دلوں تک جو سچئای پہنچ گئی اس نے ان کو پوری طرح بدل دیا۔ اس واقعہ نے انہیں ہلا کر رکھ دیا۔ ان کی دینی دنیا میں ایک زلزلہ پیدا ہوگیا اور انہوں نے اپنی آنکھوں سے جو سچائی دیکھی وہ ان کے دلوں کے تہہ تک پہنچ گئی۔ اس نے ان کے دل پر تمام پردے زائل کردیئے اور گمراہی کی جو تہیں ان کے دلوں پر جمی ہوئی تھیں ، وہ صاف ہوگئیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–49
4 یعنی موسیٰ تمہارا بڑا استاد ہے، آپس میں سازش کر کے آئے ہو کہ تم یہ کرنا، ہم یوں کہیں گے اور حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " تمہارا بڑا " کہا رب کو " یعنی موسیٰ اور تم ایک استاد کے شاگرد ہو " واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →آیت 46 فَاُلْقِیَ السَّحَرَۃُ سٰجِدِیْنَ ” اُلْقِیَصیغۂ مجہول ہے ‘ یعنی وہ سجدے میں خود نہیں گرے بلکہ گرا دیے گئے۔ مطلب یہ کہ اپنے جادو کے زائل ہونے کا منظر دیکھ کر وہ لوگ اس طرح بےاختیار سجدوں میں گرگئے جیسے کسی نے انہیں ایسا کرنے پر مجبور کردیا ہو۔
Read the full tafseer →36 فرعون کے جے پکارنے والے جادوگروں نے جب دیکھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے عصا سے بنا ہوا سانپ ان کے سانپ کو ہڑپ کر رہا ہے تو انھیں یقین ہوگیا تھا کہ یہ جادو کے فن سے ماورا کوئی اور چیز ہے۔ وہ کوئی معمولی قسم کے جادوگر نہ تھے۔ بلکہ ملک بھر کے چوٹی کے ماہر اور نامور جادوگر تھے۔ لہذا جب ان کے بنائے ہوئے سب سانپ میدان مقابلہ سے ختم ہوگئے تو انہوں نے اپنی شکست کا برملا اعتراف کرلیا پھر اسی پر اکتفا نہ کیا۔ بلکہ اسی بھرے مجمع میں رب العالمین پر ایمان لانے کا اقرار کیا اور یہ بھی ساتھ ہی وضاحت کردی کہ رب سے مراد ہماری مراد فرعون نہیں بلکہ رب العالمین سے ہماری مراد وہ پروردگار ہے جو ہر چیز کا پرورش…
Read the full tafseer →40۔ (موسی (علیہ السلام) کے معجزہ سے متاثر اور اس کے سامنے لاجواب اور بےبس ہوکر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–51
آیت نمبر 34 تا 51 ترجمہ : فرعون اپنے اردگرد موجود مصاحبین سے کہنے لگا یہ تو کوئی بڑا دانا جادوگر ہے یعنی علم سحر میں بڑا فائق ہے یہ تو یہ چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے ذریعہ تمہیں تمہاری سر زمین سے نکال دے سو تم کیا مشورہ دیتے ہو ؟ درباریوں نے کہا آپ اس کو اور اس کے بھائی کو (کچھ) مہلت دیجئے یعنی ان کے معاملہ کو فی الحال مؤخر کر دیجئے اور شہروں میں (جادوگروں کو) جمع کرنے والے بھیج دیجئے جو آپ کے پاس ہر ذی علم ماہر جادوگر کو لے آئیں جو موسیٰ پر علم سحر میں فائق ہوں پھر ایک معین دن کو مقررہ وقت پر جادو گر جمع کرلئے گئے اور وہ عید کے دن کا چاشت کا وقت تھا (یعنی یوم عاشوریٰ کا) اور لوگوں سے کہا گیا کہ…
Read the full tafseer →فالقی السحرۃ سجدین۔ اس کے بعد (بےاختیار) جادوگر سجدے میں گرا دیئے گئے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
(46 تا 48) یہ دیکھتے ہی تمام جادوگر سجدہ میں گرگئے ان کے تیزی کے ساتھ سجدہ کرنے کو گرنے سے تعبیر فرمایا اور جب تمام ان کی رسیوں اور لکڑیوں کا حال ختم ہوگیا تو جادوگر سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں، بلکہ اللہ کی طرف سے عطا کردہ معجزہ ہے اور پکار پکار کر کہنے لگے کہ ہم رب العالمین پر ایمان لے آئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
وَقَالُوْا بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ۔۔ : فرعون کی تعظیم کے لیے اس کی عزت کی قسم کھائی کہ ہم ضرور ہی جیتیں گے۔ اس سے جادوگروں کا مقصد فرعون کو خوش اور موسیٰ ؑ کو مرعوب کرنا تھا۔ جاہلیت میں لوگ اس قسم کی قسمیں کھایا کرتے تھے، اسلام میں اس سے منع کردیا گیا۔ عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (أَلاَ إِنَّ اللّٰہَ یَنْھَاکُمْ أَنْ تَحْلِفُوْا بآبَاءِکُمْ مَنْ کَانَ حَالِفًا فَلْیَحْلِفْ باللّٰہِ أَوْ لِیَصْمُتْ) [ بخاری، الأیمان والنذور، باب لا تحلفوا بآبائکم : 6646 ] ”خبر دار ! اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے باپوں کی قسم کھانے سے منع کرتا ہے، جسے قسم کھانی ہو وہ اللہ کی قسم کھائے، یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–51
( قال فرعون وما رب العلمین۔۔۔۔ ) قال فرعون وما رب العٰلمین جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) میں فرعون پر غالب آگئے اور فرعون لعین نے تربیت اور دوسری چیزوں میں کوئی دلیل نہ پائی تو وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے معاوضہ کے لیے آپ کے قول رسول رب العٰلمین کی طرف متوجہ ہوئے تو اس نے ایسا سوال کیا جو مجہول چیز کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے۔ مکی اور دوسرے علماء نے کہا : جس طرح اجناس کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے، اسی وجہ سے ما کے ساتھ سوال کیا۔ مکی نے کہا : ایک اور جگہ من کے ساتھ بھی استفہام واقع ہوا ہے یہ اس کے مشابہ ہے کہ یہاں کئی مواطن ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مخلوقات میں سے ایسی صفات لائے جو اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–51
1۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” یعنی طور کے داہنی جانب سے ان کو آواز دی گئی۔ 2۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جرری وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ ایک جان کے قتل کرنے کا الزام جو ان کے درمیان قتل ہوا آیت ” وفعلت فعلتک التی فعلت “ سے مراد بھی انسان کا قتل ہے۔ آیت ” فعلتہا اذا وانا من الضالین “ یعنی جب میں چوک جانے والوں میں سے تھا۔ 3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ یعنی ایک جان کا قتل کرنا آیت ” الم لربک فینا ولیدا “ یعنی ان کو فرعون والوں سے اٹھا لیا سو اس بچے کو…
Read the full tafseer →فَاُلْقِيَ [ پھر ڈالدئیے گئے ] السَّحَرَةُ [ جادو گر لوگ ] سٰجِدِيْنَ [ سجدہ کرنے والوں کی حالت میں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–52
بحکم الٰہی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو ہمراہ لے کر راتوں رات چلا جانا اور فرعون کا پیچھا کرنا پھر لشکروں سمیت غرق ہونا سیدنا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ شانہٗ کا حکم ہوا کہ میرے بندوں کو راتوں رات لے کر مصر سے نکل جاؤ۔ اور سمندر کی طرف جانا سمندر پر پہنچو گے تو اسے خشک پاؤ گے۔ اپنی قوم کو لے کر گزر جانا تمہارے پیچھے دشمن لگے گا بےفکر رہنا اور نڈر رہنا کما قال تعالیٰ فی سورة طٰہٰ (لاَ تَخَافُ دَرْکًا وَّ لاَ تَخْشٰی) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کو لے کر چل دیئے فرعون کو پہلے اندیشہ تھا کہ کہیں یہ مصر سے نہ نکل جائیں، وہ لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو سچا نبی تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–51
ساحران فرعون کا موسیٰ (علیہ السلام) سے مقابلہ قال اللہ تعالیٰ قال للملا حولہ ان ھذا لسحر علیم الیٰ ان کنا اول المومنین۔ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کے جب یہ دو معجزے (معجزہ عصا اور معجزہ یدبیضا) دیکھے تو اسکو ڈر ہوا کہ اہل دربار شبہ میں نہ پڑجائیں اس لیے فرعون نے لوگوں کے سامنے اپنا بھرم رکھنے کے لئے یہ کہا کہ یہ کوئی خاص قسم کا سحر ہے اس لیے ملک کے جادوگروں کو جمع کر کے اسکا مقابلہ کرایا جائے اس کا خیال یہ تھا کہ ایک جادوگر ملک کے تمام جادوگروں کا مقابلہ نہیں کرسکتا اس لیے فرعون نے اپنی اندرونی حیرانی اور پریشانی پر پردہ ڈالنے کے لئے اپنی قوم کے سرداروں سے جو اس کے اردگر بیٹھتے تھے یہ کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
24:۔ جب انہوں نے اس معجزے کا مشاہدہ کیا تو فوراً سمجھ گئے یہ جادو نہیں بلکہ یہ امر الٰہی ہے اس لیے بلا توقف اور بلا تامل اس طرح سجدے میں گر پڑے گویا کسی نے ان کو پکڑ کر گرا دیا ہو۔ اور زبان سے اعلان کردیا کہ ہم رب العالمین پر ایمان لے آئے جو موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کا رب ہے۔ ای خروا ساجدین اثر ما شاھدوا ذلک من غیر تلعثم و تردد لعلمھم بان مثل ذلک خارج عن حدود السحر وانہ امر الہی قد ظھر علی یدہ (علیہ السلام) لتصدیقہ (روح ج 19 ص 87) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–51
ربط آیات گزشتہ آیات میں بیان ہوچکا ہے کہ حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) نے فرعون کے دربار میں پہنچ کر اللہ کا پیغام پہنچایا اور کہا کہ یہ رب العالمین کی طرف بھیجے ہوئے ہیں اس نے متکبر انہ انداز میں سوال کیا کہ رب العالمین کیا ہوتا ہے ؟ اس کے جواب میں موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی بعض صفات بیان کیں اور اس کی پہچان کی نشانیاں بتلائیں کہ رب العالمین وہ ہے جو ارض و سماکا پرورش کنندہ ہے اور جس نے تمہیں ہ تمہارے آبائو اجداد کو بھی پیدا کیا ہے۔ مشرق و مغرب کی تمام اشیاء بھی اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں ۔ اس فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو دھمکی دی کہ اگر تم نے میرے سوا کسی دوسرے کو الٰہ…
Read the full tafseer →فَاُلْقِيَ السَّحَرَۃُ سٰجِدِيْنَ 46ۙ سجد السُّجُودُ أصله : التّطامن «3» والتّذلّل، وجعل ذلک عبارة عن التّذلّل لله وعبادته، وهو عامّ في الإنسان، والحیوانات، والجمادات، وذلک ضربان : سجود باختیار، ولیس ذلک إلا للإنسان، وبه يستحقّ الثواب، نحو قوله : فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا[ النجم/ 62] ، أي : تذللوا له، وسجود تسخیر، وهو للإنسان، والحیوانات، والنّبات، وعلی ذلک قوله : وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً وَظِلالُهُمْ بِالْغُدُوِّ وَالْآصالِ [ الرعد/ 15] ( س ج د ) السجود ( ن ) اسکے اصل معنی فرو تنی اور عاجزی کرنے کے ہیں اور اللہ کے سامنے عاجزی اور اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–52
تفسیر : واوحینا الی موسیٰ باقی تمام قصہ کو حذف کر کے جو موسیٰ کی سرگزشت مصر سے تعلق رکھتا تھا صرف بنی اسرائیل کے مصر سے جانے کا تذکرہ شروع فرمایا کیونکہ نشانی قدرت کاملہ اور ان کے کفرو انکار کا نتیجہ ظاہر کرنا مقصود مقام تھا۔ موسیٰ کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ میرے بندوں کو یعنی بنی اسرائیل کو رات میں لے نکل۔ چناچہ موسیٰ ( علیہ السلام) بنی اسرائیل کو مع زن و فرزند کسی عید کے بہانہ سے باجازت فرعون لے نکلے اور اسرائیلیوں نے فرعونیوں سے عید کے بہانہ سے زیورات بھی مستعار لیے تھے جب یہ سب نکل گئے تو فرعون کو خبر ملی کہ وہ نکل کر ملک شام میں جاتے ہیں۔ فرعون نے جابجا ہر کارے بھیج دیے کہ لوگ کمک کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
فَاُلْقِیَ السَّحَرَۃُ سٰجِدِیْنَ ۔ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ رَبِّ مُوْسٰی وَ ھٰـرُوْنَ ۔ (الشعرآء : 46، 4847) (تو ساحر بےاختیار سجدے میں گرپڑے۔ بولے کہ ہم ایمان لائے رب العالمین پر۔ موسیٰ اور ہارون کے رب پر۔ ) ساحروں کا اعترافِ حق مصر کے یہ عظیم جادوگر، جادوگری کے فن کی حدود کے شناسا تھے۔ وہ اپنی علمی مہارت کے باعث خوب سمجھتے تھے کہ جادو کی حقیقت کیا ہے اور یہ دیکھنے والوں کو کہاں تک مسحور کرسکتا اور کسی شے میں کہاں تک تبدیلی پیدا کرسکتا ہے۔ انھوں نے عصائے موسیٰ کو جس طرح اژدھا کی صورت میں دیکھا اور پھر جس طرح اس نے ان کے سحروساحری کے سارے طلسم کو ختم کرکے رکھ دیا وہ اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–49
فہم القرآن ربط کلام : جادوگروں کے ایمان لانے کا اعلان سن کر فرعون کا الزام اور اس کی دھمکیاں۔ چاہیے تو یہ تھا کہ فرعون اور اس کے درباری حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کے رب پر ایمان لاتے۔ لیکن فرعون نے لوگوں کو اپنے ساتھ ملائے رکھنے کے لیے شاطرانہ انداز میں اعلان کیا کہ دراصل موسیٰ تمہارا بڑا استاد ہے۔ اسی نے تمہیں جادو سکھایا اور تمہارے ساتھ مل کر سازش کی ہے۔ جس بنا پر تم میری اجازت کے بغیر ایمان لائے ہو۔ لہٰذا تمہیں بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ میں تمہارا کیا حشر کرتا ہوں، یاد رکھو کہ میں تمہارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت پر کاٹ ڈالوں گا اور ہر صورت تمہیں سولی پر لٹکاؤں…
Read the full tafseer →46: فَاُلْقِیَ السَّحَرَۃُ سٰجِدِیْنَ (جادوگر سجدہ میں ڈال دیے گئے) یہاں گرنے کو ڈالنے سے بطور مشاکلت تعبیر کیا گیا کیونکہ یہاں اس کو القاء ات کے ساتھ ذکر کیا گیا تھا۔ اور دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ سجدہ میں تیزی کی وجہ سے اس طرح ہوگئے گویا کہ ان کو سجدہ میں ڈال دیا گیا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–51
40۔ لعلنا نتبع السحرۃ ان کانوا ھم الغالبین۔ موسیٰ پر اوربعض نے کہا کہ یہ کہنا کہ ان کا بطور استہزاء کے تھا، بالسحرۃ سے مراد موسیٰ و ہارون اور ان کی قوم کے متعلق تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–48
36 تا 49: جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے اوصاف بیان کر کے فوعون کو باتوں سے قائل کیا اور عصا اور یدبیضاء کا معجزہ دکھا کر بھی اس کو قائل کیا تو فرعون نے اپنے سرداروں کو ابھارا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ یہ دو شخص بڑے جادوگر معلوم ہوتے ہیں کہ اپنے جادو کے زور سے یہ تمہاری بادشاہت تمہارا ملک چھین لیویں ان کے جادو سے بچنے کی تمہاری کیا صلاح اور مصلحت ہے بیان کرو انہوں نے فرعون کی عملداری کی سب بستیوں کے بڑے بڑے جادوگروں کو بلوانے کی صلاح دی اور وہ جادوگر آئے اور مقابلہ ہو کر آخر کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) غالب رہے یہاں بعضے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–68
آیت نمبر 10 سے 68 اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں موسیٰ (علیہ السلام) کی مدح وثنا اور ان کے واقعات کا بار بار جتنا اعادہ کیا ہے اتنا کسی اور واقعے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ عظیم حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس قصے میں اہل ایمان اور اہل کفر کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے طرز عمل کی تفصیل ہے نیز موسیٰ (علیہ السلام) صاحب شریعت کبری اور صاحب تورات تھے جو قرآن عظیم کے بعد سب سے افضل کتاب ہے۔ فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجئے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندادی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، ان کو رسول بنا کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
30 حق کا غلبہ اور باطل کی بےمثال شکست : سو غلبہ حق سب کے سامنے آگیا " اور بےساختہ سجدے میں گرگئے وہ سب جادوگر "۔ یہاں پر یوں نہیں فرمایا کہ جادوگر سجدے میں گرگئے بلکہ " القی " کا صیغہ استعمال فرمایا گیا ہے کہ وہ سجدے میں ڈال دئیے گئے۔ یعنی ان کے اندر سے ہی کوئی ایسی زبردست تحریک پیدا ہوئی اور یکدم ایسا جذبہ ابھرا کہ وہ سب کے سب بلا اختیار اور بےساختہ طور پر سجدے میں گرپڑے۔ جیسا کہ ترجمہ بھی اسی طرح کیا گیا ہے۔ اور اس طرح فرعون اور اس کے حواریوں کی ساری دوڑ دھوپ خود ان کی توقعات کے بالکل برعکس حق کے غلبہ و اظہار کا ذریعہ بن گئی ۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ سو جادو اور معجزہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–68
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ تشریح : اس واقعہ میں بیشمار نصیحتیں ‘ اللہ کے کمالات ‘ عجزو انکساری اور سب سے بڑھ کر توکل علی اللہ کا بہت زبردست سبق ملتا ہے۔ ایمان کامل انسان کے اندر اس قدر ہمت ‘ جرأت ‘ بہادری اور معرفت پیدا کردیتا ہے کہ انسان مادی اصولوں سے بےنیاز ہو کر روحانی دنیا میں گم ہوجاتا ہے اور اس کو اللہ ‘ اس کی مدد ‘ اس کا سایہ دنیا کے ہر خطرے سے محفوظ بےنیاز کردیتا ہے۔ جیسا کہ سید حسین نصر صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں : ” سچے مومن کی فراست تکمیل کو پہنچ جاتی ہے جیسا کہ اللہ نے فرمایا ” اللہ کی یاد میں دلوں کا سکون ہے۔ “ ( سورة رعد آیت : 28) ایسا شخص جو اس حالت میں ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–51
آیات 34 تا 51 اسرار و معارف تو فرعون موسیٰ علہی السلام سے مخاطب ہونے کی بجائے اپنے امراء دربار سے کہنے لگا کہ دیکھو کتنا ماہر جادوگر ہے اس کے ارادے تو یہ نظر آتے ہیں کہ جادو کے زور سے ملک ہی چھین لے گا اور تم سب کو یہاں سے بھگا دیگا حالانکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے دعوت الی اللہ دی تھی اور بنی اسرائیل کو آزاد کرنے کی بات ارشاد فرمائی تھی۔ ان کی حکومت یا ملک تک کی بات نہ کی تھی۔ فرعون چونکہ دلائل میں لاجواب ہوچکا تھا اس لیے ادھر کی بات بنا کر اپنے امراء کو ساتھ رکھنے کا آرزومند تھا چناچہ کہنے لگا اب آپ لوگ جو مشورہ دیں گے اسی کے مطابق عمل کیا جاسکے گا تو امراء نے مشورہ دیا کہ فی الحال موسیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
1 ۔ ” القی “ (گرا دیئے گئے) یعنی وہ جادوگر اس طرح بےاختیار ہو کر سجدہ میں گرپڑے گویا اندر سے کسی چیز سے انہیں گرا دیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
(26:46) فالقی السحرۃ سجدین۔ سو جادو گر سجدہ میں گرپڑے۔ یہاں صیغہ فعل مجہول لایا گیا ہے۔ اس کی دو صورتیں ہیں :۔ (1) جب جادوگروں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں یہ معجزہ دیکھا تو ان کے لئے کوئی چارہ کار ہی نہ رہا سوائے سرتسلیم خإ کرلینے کے اور وہ سجدہ کے لئے مجبور ہوگئے۔ (2) معجزہ کو دیکھ کر جب حقیقت ان پر عیاں ہوگئی اور ان کے دلوں پر سے جہالت و ضلالت کے پردے ہٹ گئے تو وفور شوق سے وہ جھٹ سجدہ میں گرپڑے۔ ان کی اندرنی کیفیت کی شدت کے اظہار کے لئے فعل مجہول لایا گیا ہے اس کی مثال سورة ھود میں ہے وجاء ہ قومہ یہرعون الیہ (11:78) اور اس کے پاس اس کی قوم کے لوگ کھچے چلے آئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–51
لغات القرآن : آیت نمبر 34 تا 51 : ساحر علیم (ماہر جادو گر۔ بہت جاننے والا جادوگر) ‘ ماذا تامرون (تم کیا مشورہ دیتے ہو۔ تم کیا کہتے ہو) ‘ ارجہ (چھوڑدے اس کو۔ اس کو مہلت دے) ‘ حشرین (جمع کرنے والے۔ ہر کارے) ‘ میقات (مقرر وقت۔ مقرر جگہ) مجتمعون ( جمع ہونے والے) ‘ المقربین (قریب بیٹھنے والے) ‘ حبال (حبل) رسیاں ‘ عصی (لاٹھیاں) ‘ تلقف (نگلنے لگا) ‘ یا فکون ( وہ کھیل کھلونے بناتے ہیں) ‘ کبیر کم ( تمہارا بڑا۔ تمہارا استاد) ‘ اقطعن ( میں ضرور کاٹ ڈالوں گا) ‘ ایدی (ایدین) دونوں ہاتھو ‘ ارجل (رجل) پاؤں ‘ اصلبن (میں ضرور پھانسی چڑھادوں گا) ‘ لاضیر (کوئی حرج نہیں) ‘ منقلبون (پلٹ کر جانے والے) نطمع ( ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–48
(ف 1) فرعون سے سرداروں نے یہ کہا کہ ان دونوں کو مہلت دیدو، کیونکہ فرعون نے موسیٰ کے شہید کرنے کا ارادہ کیا تھا اس پر اس کے سرداروں نے اس کو قتل سے منع کیا اور کہا کہ قتل سے لوگوں کے دل میں یہ شبہ پیدا ہوجائے گا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) میں فرعون نے کوئی ایسی ہی زبردست غلبہ کی بات دیکھی تھی جوان کو زندہ رکھنا مناسب نہیں خیال کیا۔ اس لیے موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) ان دونوں جادوگروں سے مقابلہ کرانا ہے اور سب کے سامنے ان دونوں کو ہرانا مناسب ہے ان کے قتل کا ارادہ مناسب نہیں ہے۔ اور اپنی بادشاہت کے شہروں میں نقبیوں کو بھیج دے تاکہ وہ تیرے پاس بڑے جادوگر واقف کاروں کو لے آئیں تب فرعون نے اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–49
[11] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة اعراف حاشیہ 46 صفحہ 384۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–48
حبالھم ۔ حبل کی جمع ہے یعنی دستی ۔
Read the full tafseer →46۔ اس پر تمام جادوگر سجدے میں گرپڑے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–52
ف 4۔ یعنی بنی اسرائیل کو۔ 5۔ چناچہ وہ موافق حکم کے بنی اسرائیل کو لے کر رات کو چل دیئے۔
Read the full tafseer →ساحران فرعون نے جب یہ معاملہ دیکھا تو رب کریم کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوگئے : 46۔ ساحران فرعون جن کو ہم نے اکثر بار مذہبی پیشوا کے طور پر یاد کیا ہے اور بلاشبہ اس وقت تک وہ یہی کچھ تھے لیکن کچھ تو وہ میدان مبازرت میں آتے ہی موسیٰ (علیہ السلام) کی پہلی تقریر سے دل ہار بیٹھے تھے اور جو کسر باقی رہ گئی تھی وہ عین دلائل کے وقت نکل گئے اور حقیقت کو دیکھ کر گویا اللہ نے ان کی عقل کو سیدھا کردیا اور وہ اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوگئے اس طرح ساحران مصر پر آپ کی صداقت روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی اور وہ اپنے ایمان کا برملا اعتراف کرکے اللہ کریم کی بارگاہ میں سجدے میں گر پڑے بلاشبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–49
بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ (By the majesty of the Pharaoh - 26:44). This was an expression of pledge from the magicians, which was in vogue in the olden times. It is unfortunate that similar oaths have now become common among the Muslims as well, which are even more evil and vile, for instance, 'by the king,' 'by the head of yours,' 'by the beard of yours,' 'by the grave of your father' etc. It is not permitted to make an oath of this nature under the Islamic law (because swearing in the name of someone other than Allah is a sin). Rather, it will not be wrong to say that swearing a true oath in…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
37 This was not merely an acknowledgment of their defeat at the hands of Moses as though he was a greater magician, but their falling prostrate in submission to Allah, Lord of the universe, was an open declaration before thousands of Egyptians that what Moses had brought about was no magic at all, but a manifestation of the powers of Allah, Almighty.
Read the full tafseer →