Ash-Shu'araa 26:45

Ash-Shu'araa · from ayah 45

26:45

فَاَلْقٰی مُوْسٰی عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِكُوْنَ ۟ۚۖفَاَ لۡقٰى مُوۡسٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِىَ تَلۡقَفُ مَا يَاۡفِكُوۡنَ‌

پھر موسیٰ نے اپنی لاٹھی ڈالی تو وہ ان چیزوں کو جو جادوگروں نے بنائی تھیں یکایک نگلنے لگی

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then Moses threw his staff, and at once it devoured what they falsified.

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 3 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:45

پھر موسیٰؑ نے اپنا عصا پھینکا تو یکایک وہ ان کے جھوٹے کرشموں کو ہڑپ کرتا چلا جا رہا تھا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پھر موسیٰ نے اپنی لاٹھی ڈالی تو وہ ان چیزوں کو جو جادوگروں نے بنائی تھیں یکایک نگلنے لگی

— مولانا فتح محمد جالندہری

اب (حضرت) موسیٰ ؑ نے بھی اپنی ﻻٹھی میدان میں ڈال دی جس نے اسی وقت ان کے جھوٹ موٹ کے کرتب کو نگلنا شروع کردیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اب موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈالا تو اچانک اس نے (اژدھا بن کر) اس تماشے کو نگلنا شروع کردیا جو وہ جھوٹ موٹ بنا رہے تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو موسیٰ نے اپنا عصا ڈالا جبھی وہ ان کی بناوٹوں کو نگلنے لگا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر موسٰی ؑ نے اپنا ڈنڈا ڈال دیا تو وہ (اژدھا بن کر) فوراً ان چیزوں کو نگلنے لگا جو انہوں نے فریب کاری سے (اپنی اصل حقیقت سے) پھیر رکھی تھیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر موسیٰ نے اپنی لاٹھی پھینکی تو اچانک وہ ان چیزوں کو نگل رہی تھی جو وہ جھوٹ بنا رہے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر موسیٰ نے اپنا عصا پھینکا تو جو کچھ جادوگروں نے شعبدے بنائے تھے، اس نے انھیں فوراً نگلنا شروع کردیا۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو موسیٰ نے اپنا عصا ڈالا تو یکایک وہ نگلنے لگا اس سوانگ کو جو وہ رچاتے تھے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر موسیٰ نے بھی ڈال دیا اپنی لاٹھی کو تو اس نے یکایک نگلنا شروع کردیا اس سارے سوانگ کو جو ان لوگوں نے بڑے طمطراق سے رچایا تھا

— مولانا اسحاق مدنی

پھر موسیٰ ؑ نے اپنا عصا ڈال دیا سو وہ لگا ان کے بنائے ہوئے گو رکھ دھندے کو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اب موسیٰ ؑ نے اپنا عصا پھینکا تو یکایک وہ نگلنے لگا اس فریب کو جو انہوں نے بنایا تھا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر موسیٰ نے اپنی لاٹھی ڈالی تو وہ ان تمام چیزوں کو جو جادو گروں نے بنائی تھیں نگلنے لگی۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Thereafter, Moses threw down his rod and behold, it went about swallowing up all the false devices they had contrived.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Then Musa threw down his staff, and in no time it started swallowing the falsehood they invented.

— Muhammad Taqi Usmani

Then Musa threw down his staff, and in no time it started swallowing the falsehood they invented.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then Musa threw his stick, and behold, it swallowed up all that they falsely showed!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then Moses threw his staff and lo! it swallowed that which they did falsely show.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then Moses threw his staff, and at once it devoured what they falsified.

— Saheeh International

Then Moses cast down his staff and suddenly it swallowed up what they had falsely invented.

— Muhammad Sarwar

Then Musa cast down his staff and lo! it swallowed up the lies they told.

— Muhammad Habib Shakir

Then Musa cast down his staff, and lo! it swallowed up that which they had devised.

— Abdul Majid Daryabadi

Then Moses threw his rod, when, behold, it straightway swallows up all the falsehoods which they fake!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 26:45

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 38–48

مناظرہ کے بعد مقابلہ مناظرہ زبانی ہوچکا۔ اب مناظرہ عملا ہو رہا ہے اس مناظرہ کا ذکر سورة اعراف سورة طہ اور اس سورت میں ہے۔ قبطیوں کا ارادہ اللہ کے نور کے بجھانے کا تھا اور اللہ کا ارادہ اس کی نورانیت کے پھیلانے کا تھا۔ پس اللہ کا ارادہ غالب رہا۔ ایمان و کفر کا مقابلہ جب کبھی ہوا ایمان کفر پر غالب رہا۔ اللہ تعالیٰ حق کو غالب کرتا ہے باطل کا سر پھٹ جاتا ہے اور لوگوں کے باطل ارادے ہوا میں اڑ جاتے ہیں۔ حق آجاتا ہے باطل بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔ یہاں بھی یہ ہوا ہر ایک شہر میں سپاہی بھیجے گئے۔ چاروں طرف سے بڑے بڑے نامی گرامی جادوگر جمع کئے گئے جو اپنے فن میں کامل اور استاد زمانہ تھے کہا گیا ہے کہ ان کی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 45–48

سورة الشُّعَرَآء 37 یہ حضرت موسیٰ کے مقابلے میں ایک طرف سے محض شکست کا اعتراف نہیں تھا کہ کوئی شخص یہ کہہ کر پیچھا چھڑا لیتا کہ ایک بڑے جادوگر نے چھوٹے جادوگروں کو نیچا دکھا دیا، بلکہ ان کا سجدے میں گر کر اللہ رب العالمین پر ایمان لے آنا گویا برسر عام ہزارہا باشندگان مصر کے سامنے اس بات کا اور اعلان تھا کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں یہ ہمارے فن کی چیز ہی نہیں ہے، یہ کام تو صرف اللہ رب العالمین ہی کی قدرت سے ہوسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 44–49

بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ ، یہ کلمہ ان جادوگروں کے لئے بمنزلہ قسم ہے جو زمانہ جاہلیت میں رائج تھی۔ افسوس کہ مسلمانوں میں بھی اب ایسی قسمیں رائج ہوگئی ہیں جو اس سے زیادہ شنیع اور قبیح ہیں مثلاً بادشاہ کی قسم، تیرے سر کی قسم، تیری ڈاڑھی کی قسم یا تیرے باپ کی قبر کی قسم، اس قسم کی قسمیں کھانا شرعاً جائز نہیں، بلکہ ان کے متعلق یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ خدا کے نام کی جھوٹی قسم کھانے میں جو گناہ عظیم ہے ان ناموں کی سچی قسم بھی گناہ میں اس سے کم نہیں (کما فی الروح)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

سحر و ساحری کے طلسم پر عصائے موسٰی کی ضمر کاری جواب میں حضرت موسیٰ نے اپنا عصا پھینکا اور وہ ان کے اس سارے سوانگ کو، جو وہ اب تک لوگوں کو بیوقوف بنانے کے لئے رچاتے رہے تھے، نگلنے لگا مایافکون کے اسلوب سے یہ بات نکلتی ہے کہ صرف یہی نہیں ہوا کہ اس موقع پر ساحروں نے جو کرتب دکھایا عصائے موسیٰ نے اس کا بھرم کھول دیا، بلکہ اس نے ان کے اب تک کے سارے کئے کرائے پر پانی پھیر دیا، اس لئے کہ یہی ہنر کا شاہکار تھا جب اس کا یہ حشر ہوا تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ عصائے موسیٰ نے سحر و ساحری کے سارے طلسم ہی کو باطل کردیا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 45–49

49-1فرعون کے لئے یہ واقعہ بڑا عجیب اور نہایت حیرت ناک تھا جن جادوگروں کے ذریعے وہ فتح و غلبہ کی آس لگائے بیٹھا تھا وہی نہ صرف مغلوب ہوگئے بلکہ موقع پر ہی وہ اس رب پر ایمان لے آئے، جس نے حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کو دلائل و معجزات دے کر بھیجا تھا لیکن بجائے اس کے کہ فرعون بھی غور و فکر سے کام لیتا اور ایمان لاتا، اس نے مکابرہ اور عناد کا راستہ اختیار کیا اور جادوگروں کو ڈرانا دھمکانا شروع کردیا اور کہا کہ تم سب اسی کے شاگرد لگتے ہو اور تمہارا استاد یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سازش کے ذریعے سے تم ہمیں یہاں سے بےدخل کردو۔ (اِنَّ هٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوْهُ فِي الْمَدِيْنَةِ لِتُخْرِجُوْا…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 44–45

11: سورة طٰہٰ : 66 میں گذر چکا ہے کہ اچانک ان کی ڈالی ہوئی رسیاں اور لاٹھیاں ان کے جادو کے نتیجے میں ایسی محسوس ہونے لگیں جیسے دوڑ رہی ہی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 43–45

اب ایٓئے میدان مقابلہ کی طرف فریقین تیار ہیں اور عوام جمع ہیں۔ قال لھم ……اول المئومنین (51) پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا پھینکا تو یکایک وہ ان کے جھوٹے کرشموں کو ہڑپ کرتا چلا جا رہا تھا۔ اس پر سارے جادوگر بےاختیار سجدے میں گر پڑے اور بول اٹھے کہ ” مان گئے ہم رب العالمین کو … موسیٰ اور ہارون (علیہم السلام) کے رب کو۔ “ فرعون نے کہا ” تم موسیٰ کی بات مان گئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دینا ! ضرور یہ تمہارا بڑا ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے۔ اچھا ؟ ابھی تمہیں معلوم ہوتا جاتا ہے ، میں تمہارے ہاتھ پائوں مخلاف سمتوں سے کنوائوں گا اور تم سب کو سولی چڑھا دوں گا۔ ‘ انہوں نے جواب دیا ” کچھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 شیخ اکبر نے لکھا ہے کہ خالی رسیاں اور لاٹھیاں رہ گئیں جو سانپوں کی صورتیں انہوں نے بنائی تھیں، موسیٰ کا عصا ان کو نگل گیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 43–45

آیت 45 فَاَلْقٰی مُوْسٰی عَصَاہُ فَاِذَا ہِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِکُوْنَ ” ان کیّ رسیاں اور لاٹھیاں جو بظاہر سانپ دکھائی دے رہی تھیں ‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عصانے اژدھا بن کر انہیں نگلنا شروع کردیا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

35 اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو فوراً وحی کی کہ ڈرو نہیں بس اپنا عصا ڈال دو ۔ چناچہ آپ نے عصا ڈالا تو وہ صرف حرکت ہی نہیں کر رہا تھا بلکہ جادوگروں کے بنائے ہوئے تمام سانپوں کو اپنا لقمہ بھی بنائے جارہا تھا۔ حتیٰ کہ اس نے۔۔۔ بھرے مجمع میں اسی مقابلہ میں فرعون کو شکست ہوئی۔۔ پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے عصا کو ہاتھ میں لیا وہ پھر وہ عصا بن گیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 34–51

آیت نمبر 34 تا 51 ترجمہ : فرعون اپنے اردگرد موجود مصاحبین سے کہنے لگا یہ تو کوئی بڑا دانا جادوگر ہے یعنی علم سحر میں بڑا فائق ہے یہ تو یہ چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے ذریعہ تمہیں تمہاری سر زمین سے نکال دے سو تم کیا مشورہ دیتے ہو ؟ درباریوں نے کہا آپ اس کو اور اس کے بھائی کو (کچھ) مہلت دیجئے یعنی ان کے معاملہ کو فی الحال مؤخر کر دیجئے اور شہروں میں (جادوگروں کو) جمع کرنے والے بھیج دیجئے جو آپ کے پاس ہر ذی علم ماہر جادوگر کو لے آئیں جو موسیٰ پر علم سحر میں فائق ہوں پھر ایک معین دن کو مقررہ وقت پر جادو گر جمع کرلئے گئے اور وہ عید کے دن کا چاشت کا وقت تھا (یعنی یوم عاشوریٰ کا) اور لوگوں سے کہا گیا کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فالقی موسیٰ عصاہ فاذا ہی تلقف ما یافکون۔ پھر موسیٰ ( علیہ السلام) نے اپنی لاٹھی (زمین پر) پھینکی تو وہ یکدم جادوگروں کی شعبدہ گری سے بنائی ہوئی چیزوں کو نگلنے لگی۔ مَایَاْفِکُوْنَمیں ما موصولہ ہے یعنی جادوگروں نے اپنی شعبدہ بازی سے جو کچھ بنایا تھا۔ ان کی رسیاں اور ڈنڈے سانپوں کی طرح رینگتے دوڑتے لوگوں کے خیال میں نظر آنے لگے تھے (اور لوگوں کی انہوں نے نظر بندی کردی تھی۔ مترجم) ۔ ان سب کو موسیٰ کی لاٹھی کا سانپ نگلنے لگا۔ یا ماء مصدریہ ہے یعنی ان کے جھوٹے شعبدے کو لاٹھی نگلنے لگی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(45) چناچہ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنا عصا ڈالا اور وہ ڈالنے کے ساتھ ہی جادوگروں نے تمام دھندوں کو نگلنے لگا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 44–46

وَقَالُوْا بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ۔۔ : فرعون کی تعظیم کے لیے اس کی عزت کی قسم کھائی کہ ہم ضرور ہی جیتیں گے۔ اس سے جادوگروں کا مقصد فرعون کو خوش اور موسیٰ ؑ کو مرعوب کرنا تھا۔ جاہلیت میں لوگ اس قسم کی قسمیں کھایا کرتے تھے، اسلام میں اس سے منع کردیا گیا۔ عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (أَلاَ إِنَّ اللّٰہَ یَنْھَاکُمْ أَنْ تَحْلِفُوْا بآبَاءِکُمْ مَنْ کَانَ حَالِفًا فَلْیَحْلِفْ باللّٰہِ أَوْ لِیَصْمُتْ) [ بخاری، الأیمان والنذور، باب لا تحلفوا بآبائکم : 6646 ] ”خبر دار ! اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے باپوں کی قسم کھانے سے منع کرتا ہے، جسے قسم کھانی ہو وہ اللہ کی قسم کھائے، یا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 23–51

( قال فرعون وما رب العلمین۔۔۔۔ ) قال فرعون وما رب العٰلمین جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) میں فرعون پر غالب آگئے اور فرعون لعین نے تربیت اور دوسری چیزوں میں کوئی دلیل نہ پائی تو وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے معاوضہ کے لیے آپ کے قول رسول رب العٰلمین کی طرف متوجہ ہوئے تو اس نے ایسا سوال کیا جو مجہول چیز کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے۔ مکی اور دوسرے علماء نے کہا : جس طرح اجناس کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے، اسی وجہ سے ما کے ساتھ سوال کیا۔ مکی نے کہا : ایک اور جگہ من کے ساتھ بھی استفہام واقع ہوا ہے یہ اس کے مشابہ ہے کہ یہاں کئی مواطن ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مخلوقات میں سے ایسی صفات لائے جو اللہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 10–51

1۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” یعنی طور کے داہنی جانب سے ان کو آواز دی گئی۔ 2۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جرری وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ ایک جان کے قتل کرنے کا الزام جو ان کے درمیان قتل ہوا آیت ” وفعلت فعلتک التی فعلت “ سے مراد بھی انسان کا قتل ہے۔ آیت ” فعلتہا اذا وانا من الضالین “ یعنی جب میں چوک جانے والوں میں سے تھا۔ 3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ یعنی ایک جان کا قتل کرنا آیت ” الم لربک فینا ولیدا “ یعنی ان کو فرعون والوں سے اٹھا لیا سو اس بچے کو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَاَلْقٰى [ پھر ڈالا ] مُوْسٰي [ موسیٰ (علیہ السلام) نے ] عَصَاهُ [ اپنا عصا ] فَاِذَا [ تو جب ہی ] هِىَ [ وہ ] تَلْقَفُ [ نگلنے لگا ] مَا [ اس کو جو ] يَاْفِكُوْنَ [ وہ لوگ جھوٹی بناوٹ کرتے تھے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 35–52

بحکم الٰہی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو ہمراہ لے کر راتوں رات چلا جانا اور فرعون کا پیچھا کرنا پھر لشکروں سمیت غرق ہونا سیدنا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ شانہٗ کا حکم ہوا کہ میرے بندوں کو راتوں رات لے کر مصر سے نکل جاؤ۔ اور سمندر کی طرف جانا سمندر پر پہنچو گے تو اسے خشک پاؤ گے۔ اپنی قوم کو لے کر گزر جانا تمہارے پیچھے دشمن لگے گا بےفکر رہنا اور نڈر رہنا کما قال تعالیٰ فی سورة طٰہٰ (لاَ تَخَافُ دَرْکًا وَّ لاَ تَخْشٰی) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کو لے کر چل دیئے فرعون کو پہلے اندیشہ تھا کہ کہیں یہ مصر سے نہ نکل جائیں، وہ لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو سچا نبی تو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 34–51

ساحران فرعون کا موسیٰ (علیہ السلام) سے مقابلہ قال اللہ تعالیٰ قال للملا حولہ ان ھذا لسحر علیم الیٰ ان کنا اول المومنین۔ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کے جب یہ دو معجزے (معجزہ عصا اور معجزہ یدبیضا) دیکھے تو اسکو ڈر ہوا کہ اہل دربار شبہ میں نہ پڑجائیں اس لیے فرعون نے لوگوں کے سامنے اپنا بھرم رکھنے کے لئے یہ کہا کہ یہ کوئی خاص قسم کا سحر ہے اس لیے ملک کے جادوگروں کو جمع کر کے اسکا مقابلہ کرایا جائے اس کا خیال یہ تھا کہ ایک جادوگر ملک کے تمام جادوگروں کا مقابلہ نہیں کرسکتا اس لیے فرعون نے اپنی اندرونی حیرانی اور پریشانی پر پردہ ڈالنے کے لئے اپنی قوم کے سرداروں سے جو اس کے اردگر بیٹھتے تھے یہ کہا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 44–46

24:۔ جب انہوں نے اس معجزے کا مشاہدہ کیا تو فوراً سمجھ گئے یہ جادو نہیں بلکہ یہ امر الٰہی ہے اس لیے بلا توقف اور بلا تامل اس طرح سجدے میں گر پڑے گویا کسی نے ان کو پکڑ کر گرا دیا ہو۔ اور زبان سے اعلان کردیا کہ ہم رب العالمین پر ایمان لے آئے جو موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کا رب ہے۔ ای خروا ساجدین اثر ما شاھدوا ذلک من غیر تلعثم و تردد لعلمھم بان مثل ذلک خارج عن حدود السحر وانہ امر الہی قد ظھر علی یدہ (علیہ السلام) لتصدیقہ (روح ج 19 ص 87) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 34–51

ربط آیات گزشتہ آیات میں بیان ہوچکا ہے کہ حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) نے فرعون کے دربار میں پہنچ کر اللہ کا پیغام پہنچایا اور کہا کہ یہ رب العالمین کی طرف بھیجے ہوئے ہیں اس نے متکبر انہ انداز میں سوال کیا کہ رب العالمین کیا ہوتا ہے ؟ اس کے جواب میں موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی بعض صفات بیان کیں اور اس کی پہچان کی نشانیاں بتلائیں کہ رب العالمین وہ ہے جو ارض و سماکا پرورش کنندہ ہے اور جس نے تمہیں ہ تمہارے آبائو اجداد کو بھی پیدا کیا ہے۔ مشرق و مغرب کی تمام اشیاء بھی اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں ۔ اس فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو دھمکی دی کہ اگر تم نے میرے سوا کسی دوسرے کو الٰہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاَلْقٰى مُوْسٰي عَصَاہُ فَاِذَا ہِىَ تَلْقَفُ مَا يَاْفِكُوْنَ۝ 4 5ۚۖ لقف لَقِفْتُ الشیء أَلْقَفُهُ ، وتَلَقَّفْتُهُ : تناولته بالحذق، سواء في ذلک تناوله بالفم أو الید . قال : فَإِذا هِيَ تَلْقَفُ ما يَأْفِكُونَ [ الأعراف/ 117] . ( ل ق) لقفت الشئی الففۃ وتلقفتہ کے معنی کسی چیز کو ہوشیاری اور حذاقت سے لینا کے ہیں اور یہ منہ ہاتھ دونوں سے لینے پر بولاجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَإِذا هِيَ تَلْقَفُ ما يَأْفِكُونَ [ الأعراف/ 117] وہ فورا جادوگروں کے بنائے ہوئے سانپوں کو ( ایک ایک کرکے ) نگلنے لگا ۔ أفك الإفك : كل مصروف عن وجهه الذي يحق أن يكون عليه، ومنه قيل للریاح العادلة عن المهابّ :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 35–52

تفسیر : واوحینا الی موسیٰ باقی تمام قصہ کو حذف کر کے جو موسیٰ کی سرگزشت مصر سے تعلق رکھتا تھا صرف بنی اسرائیل کے مصر سے جانے کا تذکرہ شروع فرمایا کیونکہ نشانی قدرت کاملہ اور ان کے کفرو انکار کا نتیجہ ظاہر کرنا مقصود مقام تھا۔ موسیٰ کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ میرے بندوں کو یعنی بنی اسرائیل کو رات میں لے نکل۔ چناچہ موسیٰ ( علیہ السلام) بنی اسرائیل کو مع زن و فرزند کسی عید کے بہانہ سے باجازت فرعون لے نکلے اور اسرائیلیوں نے فرعونیوں سے عید کے بہانہ سے زیورات بھی مستعار لیے تھے جب یہ سب نکل گئے تو فرعون کو خبر ملی کہ وہ نکل کر ملک شام میں جاتے ہیں۔ فرعون نے جابجا ہر کارے بھیج دیے کہ لوگ کمک کو…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 45–48

فَاُلْقِیَ السَّحَرَۃُ سٰجِدِیْنَ ۔ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ رَبِّ مُوْسٰی وَ ھٰـرُوْنَ ۔ (الشعرآء : 46، 4847) (تو ساحر بےاختیار سجدے میں گرپڑے۔ بولے کہ ہم ایمان لائے رب العالمین پر۔ موسیٰ اور ہارون کے رب پر۔ ) ساحروں کا اعترافِ حق مصر کے یہ عظیم جادوگر، جادوگری کے فن کی حدود کے شناسا تھے۔ وہ اپنی علمی مہارت کے باعث خوب سمجھتے تھے کہ جادو کی حقیقت کیا ہے اور یہ دیکھنے والوں کو کہاں تک مسحور کرسکتا اور کسی شے میں کہاں تک تبدیلی پیدا کرسکتا ہے۔ انھوں نے عصائے موسیٰ کو جس طرح اژدھا کی صورت میں دیکھا اور پھر جس طرح اس نے ان کے سحروساحری کے سارے طلسم کو ختم کرکے رکھ دیا وہ اپنی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 45–49

فہم القرآن ربط کلام : جادوگروں کے ایمان لانے کا اعلان سن کر فرعون کا الزام اور اس کی دھمکیاں۔ چاہیے تو یہ تھا کہ فرعون اور اس کے درباری حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کے رب پر ایمان لاتے۔ لیکن فرعون نے لوگوں کو اپنے ساتھ ملائے رکھنے کے لیے شاطرانہ انداز میں اعلان کیا کہ دراصل موسیٰ تمہارا بڑا استاد ہے۔ اسی نے تمہیں جادو سکھایا اور تمہارے ساتھ مل کر سازش کی ہے۔ جس بنا پر تم میری اجازت کے بغیر ایمان لائے ہو۔ لہٰذا تمہیں بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ میں تمہارا کیا حشر کرتا ہوں، یاد رکھو کہ میں تمہارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت پر کاٹ ڈالوں گا اور ہر صورت تمہیں سولی پر لٹکاؤں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

اژدھا سب کچھ نگل گیا : 45: فَاَلْقٰی مُوْسٰٰی عَصَاہُ فَاِذَا ھِیَ تَلْقَفُ (پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی لاٹھی زمین پر ڈال دی تو وہ اسی وقت نگلنے والی تھی) تلقفؔ کا معنی نگلنا ہے۔ مَایَاْ فِکُوْنَ (جو چیزیں انہوں نے شعبدہ گری سے بنائیں) یعنی جن چیزوں کو وہ اپنے سحر کے بل بوتے پر انکی حقیقت و ظاہر سے پھیرتے تھے اور جھوٹی شعبدہ بازی کرتے تھے وہ اپنی لاٹھیوں اور رسیوں کے متعلق تخیل پیدا کرتے کہ وہ دوڑ رہی ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 40–51

40۔ لعلنا نتبع السحرۃ ان کانوا ھم الغالبین۔ موسیٰ پر اوربعض نے کہا کہ یہ کہنا کہ ان کا بطور استہزاء کے تھا، بالسحرۃ سے مراد موسیٰ و ہارون اور ان کی قوم کے متعلق تھا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 36–48

36 تا 49: جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے اوصاف بیان کر کے فوعون کو باتوں سے قائل کیا اور عصا اور یدبیضاء کا معجزہ دکھا کر بھی اس کو قائل کیا تو فرعون نے اپنے سرداروں کو ابھارا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ یہ دو شخص بڑے جادوگر معلوم ہوتے ہیں کہ اپنے جادو کے زور سے یہ تمہاری بادشاہت تمہارا ملک چھین لیویں ان کے جادو سے بچنے کی تمہاری کیا صلاح اور مصلحت ہے بیان کرو انہوں نے فرعون کی عملداری کی سب بستیوں کے بڑے بڑے جادوگروں کو بلوانے کی صلاح دی اور وہ جادوگر آئے اور مقابلہ ہو کر آخر کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) غالب رہے یہاں بعضے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 10–68

آیت نمبر 10 سے 68 اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں موسیٰ (علیہ السلام) کی مدح وثنا اور ان کے واقعات کا بار بار جتنا اعادہ کیا ہے اتنا کسی اور واقعے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ عظیم حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس قصے میں اہل ایمان اور اہل کفر کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے طرز عمل کی تفصیل ہے نیز موسیٰ (علیہ السلام) صاحب شریعت کبری اور صاحب تورات تھے جو قرآن عظیم کے بعد سب سے افضل کتاب ہے۔ فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجئے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندادی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، ان کو رسول بنا کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 45–46

30 حق کا غلبہ اور باطل کی بےمثال شکست : سو غلبہ حق سب کے سامنے آگیا " اور بےساختہ سجدے میں گرگئے وہ سب جادوگر "۔ یہاں پر یوں نہیں فرمایا کہ جادوگر سجدے میں گرگئے بلکہ " القی " کا صیغہ استعمال فرمایا گیا ہے کہ وہ سجدے میں ڈال دئیے گئے۔ یعنی ان کے اندر سے ہی کوئی ایسی زبردست تحریک پیدا ہوئی اور یکدم ایسا جذبہ ابھرا کہ وہ سب کے سب بلا اختیار اور بےساختہ طور پر سجدے میں گرپڑے۔ جیسا کہ ترجمہ بھی اسی طرح کیا گیا ہے۔ اور اس طرح فرعون اور اس کے حواریوں کی ساری دوڑ دھوپ خود ان کی توقعات کے بالکل برعکس حق کے غلبہ و اظہار کا ذریعہ بن گئی ۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ سو جادو اور معجزہ کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 10–68

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ تشریح : اس واقعہ میں بیشمار نصیحتیں ‘ اللہ کے کمالات ‘ عجزو انکساری اور سب سے بڑھ کر توکل علی اللہ کا بہت زبردست سبق ملتا ہے۔ ایمان کامل انسان کے اندر اس قدر ہمت ‘ جرأت ‘ بہادری اور معرفت پیدا کردیتا ہے کہ انسان مادی اصولوں سے بےنیاز ہو کر روحانی دنیا میں گم ہوجاتا ہے اور اس کو اللہ ‘ اس کی مدد ‘ اس کا سایہ دنیا کے ہر خطرے سے محفوظ بےنیاز کردیتا ہے۔ جیسا کہ سید حسین نصر صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں : ” سچے مومن کی فراست تکمیل کو پہنچ جاتی ہے جیسا کہ اللہ نے فرمایا ” اللہ کی یاد میں دلوں کا سکون ہے۔ “ ( سورة رعد آیت : 28) ایسا شخص جو اس حالت میں ہو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 34–51

آیات 34 تا 51 اسرار و معارف تو فرعون موسیٰ علہی السلام سے مخاطب ہونے کی بجائے اپنے امراء دربار سے کہنے لگا کہ دیکھو کتنا ماہر جادوگر ہے اس کے ارادے تو یہ نظر آتے ہیں کہ جادو کے زور سے ملک ہی چھین لے گا اور تم سب کو یہاں سے بھگا دیگا حالانکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے دعوت الی اللہ دی تھی اور بنی اسرائیل کو آزاد کرنے کی بات ارشاد فرمائی تھی۔ ان کی حکومت یا ملک تک کی بات نہ کی تھی۔ فرعون چونکہ دلائل میں لاجواب ہوچکا تھا اس لیے ادھر کی بات بنا کر اپنے امراء کو ساتھ رکھنے کا آرزومند تھا چناچہ کہنے لگا اب آپ لوگ جو مشورہ دیں گے اسی کے مطابق عمل کیا جاسکے گا تو امراء نے مشورہ دیا کہ فی الحال موسیٰ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 45–46

1 ۔ ” القی “ (گرا دیئے گئے) یعنی وہ جادوگر اس طرح بےاختیار ہو کر سجدہ میں گرپڑے گویا اندر سے کسی چیز سے انہیں گرا دیا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(26:45) فاذا۔ فاء تعقیب کے لئے ہے اور اذا حرف فجائیہ ہے (پس جیسے ہی اس نے عصا کو ڈالا وہ اژدہا بن گیا اور ان کو سحر بافیاں چٹ کرنے لگا۔ ہی ای عصای۔ تلقف مضارع واحد مؤنث غائب لقف مصدر (باب سمع) جس کے معنی کسی چیز کو پھرتی سے لے لینے اور جھٹ اتار لینے کے ہیں۔ خواہ منہ سے نکلنے کی صورت میں ہو یا ہاتھ سے لے لینے کی شکل میں۔ وہ نگل جاتی ہے یا نگل جائے گی۔ بمعنی ماضی یہاں آیا ہے۔ ما : موصلہ ہے۔ یافکون۔ مضارع جمع مذکر غائب افک (باب ضرب) مصدر۔ جس کو وہ جھوٹے طور پر بنا رہے تھے۔ جس کو فریب سے انہوں نے بنا رکھا تھا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 34–51

لغات القرآن : آیت نمبر 34 تا 51 : ساحر علیم (ماہر جادو گر۔ بہت جاننے والا جادوگر) ‘ ماذا تامرون (تم کیا مشورہ دیتے ہو۔ تم کیا کہتے ہو) ‘ ارجہ (چھوڑدے اس کو۔ اس کو مہلت دے) ‘ حشرین (جمع کرنے والے۔ ہر کارے) ‘ میقات (مقرر وقت۔ مقرر جگہ) مجتمعون ( جمع ہونے والے) ‘ المقربین (قریب بیٹھنے والے) ‘ حبال (حبل) رسیاں ‘ عصی (لاٹھیاں) ‘ تلقف (نگلنے لگا) ‘ یا فکون ( وہ کھیل کھلونے بناتے ہیں) ‘ کبیر کم ( تمہارا بڑا۔ تمہارا استاد) ‘ اقطعن ( میں ضرور کاٹ ڈالوں گا) ‘ ایدی (ایدین) دونوں ہاتھو ‘ ارجل (رجل) پاؤں ‘ اصلبن (میں ضرور پھانسی چڑھادوں گا) ‘ لاضیر (کوئی حرج نہیں) ‘ منقلبون (پلٹ کر جانے والے) نطمع ( ہم…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 36–48

(ف 1) فرعون سے سرداروں نے یہ کہا کہ ان دونوں کو مہلت دیدو، کیونکہ فرعون نے موسیٰ کے شہید کرنے کا ارادہ کیا تھا اس پر اس کے سرداروں نے اس کو قتل سے منع کیا اور کہا کہ قتل سے لوگوں کے دل میں یہ شبہ پیدا ہوجائے گا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) میں فرعون نے کوئی ایسی ہی زبردست غلبہ کی بات دیکھی تھی جوان کو زندہ رکھنا مناسب نہیں خیال کیا۔ اس لیے موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) ان دونوں جادوگروں سے مقابلہ کرانا ہے اور سب کے سامنے ان دونوں کو ہرانا مناسب ہے ان کے قتل کا ارادہ مناسب نہیں ہے۔ اور اپنی بادشاہت کے شہروں میں نقبیوں کو بھیج دے تاکہ وہ تیرے پاس بڑے جادوگر واقف کاروں کو لے آئیں تب فرعون نے اپنے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

45۔ پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا پھینکا عصا کا ڈالنا تھا کہ ا سنے اسی وقت اس سب بنے بنائے کھیل اور جھوٹے سوانگ کو نگلنا شروع کردیا جو جادوگر بنا رہے تھے یعنی وہ عصا اژدہا بن کر جادوگروں کے تمام کھیل اور رسیوں اور لاٹھیوں کو نگلنے لگا وہ لاٹھیاں اور رسیاں دیکھنے والوں کو دوڑتے ہوئے سانپ نظر آرہے تھے مگر وہ اژدہا سب کو نگل گیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 45–52

ف 4۔ یعنی بنی اسرائیل کو۔ 5۔ چناچہ وہ موافق حکم کے بنی اسرائیل کو لے کر رات کو چل دیئے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی اپنا عصا پھینکا جو سب کچھ چٹ کر گیا : 45۔ موسیٰ (علیہ السلام) پر انکی لاٹھیوں اور رسیوں نے ایک حد تک اچر ڈالا جیسا کہ فطرت انسانی کے مطابق اکثریت کا دھارا ایک بار اپنا اثر ڈالتا ہے ادھر رب ذوالجلال والاکرام کا حکم ہوا کہ موسیٰ ! جو کچھ تیرے داہنے ہاتھ میں ہے ڈال دے اور قدرت کا تماشا دیکھ کہ کیا ہوتا ہے ؟ موسیٰ (علیہ السلام) نے بحکم خداوندی اپنے دلائل کا عصا بھی ان پر پھینک دیا پھر کیا گیا تھا سب کی آنکھوں کے سامنے وہ ان کی ایک ایک دلیل ہڑپ کر گیا اور انکی کوئی رسی اور لاٹھی بھی میدان مناظرہ میں باقی نہ رہ سکی ‘ سب کا صفایا ہوگیا ۔ تفصیل اس کی دوسرے مقامات کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 44–49

بِعِزَّةِ فِرْ‌عَوْنَ (By the majesty of the Pharaoh - 26:44). This was an expression of pledge from the magicians, which was in vogue in the olden times. It is unfortunate that similar oaths have now become common among the Muslims as well, which are even more evil and vile, for instance, 'by the king,' 'by the head of yours,' 'by the beard of yours,' 'by the grave of your father' etc. It is not permitted to make an oath of this nature under the Islamic law (because swearing in the name of someone other than Allah is a sin). Rather, it will not be wrong to say that swearing a true oath in…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 45–48

37 This was not merely an acknowledgment of their defeat at the hands of Moses as though he was a greater magician, but their falling prostrate in submission to Allah, Lord of the universe, was an open declaration before thousands of Egyptians that what Moses had brought about was no magic at all, but a manifestation of the powers of Allah, Almighty.

Read the full tafseer →