Ash-Shu'araa 26:44

Ash-Shu'araa · from ayah 44

26:44

فَاَلْقَوْا حِبَالَهُمْ وَعِصِیَّهُمْ وَقَالُوْا بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ اِنَّا لَنَحْنُ الْغٰلِبُوْنَ ۟فَاَلۡقَوۡا حِبَالَهُمۡ وَعِصِيَّهُمۡ وَقَالُوۡا بِعِزَّةِ فِرۡعَوۡنَ اِنَّا لَـنَحۡنُ الۡغٰلِبُوۡنَ

تو انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں اور کہنے لگے کہ فرعون کے اقبال کی قسم ہم ضرور غالب رہیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

So they threw their ropes and their staffs and said, "By the might of Pharaoh, indeed it is we who are predominant."

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 3 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:44

انہوں نے فوراً اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینک دیں اور بولے "فرعون کے اقبال سے ہم ہی غالب رہیں گے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں اور کہنے لگے کہ فرعون کے اقبال کی قسم ہم ضرور غالب رہیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

انہوں نے اپنی رسیاں اور ﻻٹھیاں ڈال دیں اور کہنے لگے عزت فرعون کی قسم! ہم یقیناً غالب ہی رہیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اس پر ان جادوگروں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں زمین پر ڈال دیں اور کہا کہ : فرعون کی عزت کی قسم ! ہم ہی غالب آئیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں اور بولے فرعون کی عزت کی قسم بیشک ہماری ہی جیت ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

تو انہوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں ڈال دیں اور کہنے لگے: فرعون کی عزت کی قسم! ہم ضرور غالب ہوں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو انھوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں اور انھوں نے کہا فرعون کی عزت کی قسم ! بیشک ہم، یقینا ہم ہی غالب آنے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

چناچہ انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینک دیں اور کہنے لگے : فرعون کی جے ! یقینا ہم ہی غالب رہیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈال دیں اور بولے کہ فرعون کے اقبال کی قسم، ہم ہی غالب رہنے والے ہوں گے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اس پر انہوں نے پھینک دیں اپنی رسیاں اور لاٹھیاں اور بولے فرعون کے اقبال کی قسم ہم ہی نے بہرحال غالب آکر رہنا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

سو انہوں نے ڈالیں اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں۔ اور کہنے لگے کہ فرعون کے اقبال کی قسم۔ غالب یقیناً ہم ہی رہیں گے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو انہوں نے پھینک ڈالیں اپنی رسیاں اور لاٹھیاں اور کہا کہ فرعون کی عزت کی قسم یقیناً ہم ہی غالب رہنے والے ہوں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈال دیں اور کہنے لگے ”فرعون کے اقبال کی قسم ہم ضرور غالب رہیں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

Thereupon they threw down their ropes and their rods, and said: "By the glory of Pharaoh, we shall prevail."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So they threw down their ropes and their staffs and said, :By the majesty of Pharaoh, we will be the triumphant for sure.

— Muhammad Taqi Usmani

So they threw down their ropes and their staffs and said, :By the majesty of Pharaoh, we will be the triumphant for sure.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

So, they threw their ropes and their sticks, and said: "By the might of Fir`awn, it is we who will certainly win!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then they threw down their cords and their staves and said: By Pharaoh's might, lo! we verily are the winners.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

So they threw their ropes and their staffs and said, "By the might of Pharaoh, indeed it is we who are predominant."

— Saheeh International

So they cast down their ropes and staffs saying, "By the honor of the Pharaoh we shall certainly become the winners".

— Muhammad Sarwar

So they cast down their cords and their rods and said: By Firon's power, we shall most surely be victorious.

— Muhammad Habib Shakir

Then they cast their cords and their staves, and said: by the might of Fir'awn, verily we! we shall be the winners.

— Abdul Majid Daryabadi

So they threw their ropes and their rods, and said: "By the might of Pharaoh, it is we who will certainly win!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 26:44

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 38–48

مناظرہ کے بعد مقابلہ مناظرہ زبانی ہوچکا۔ اب مناظرہ عملا ہو رہا ہے اس مناظرہ کا ذکر سورة اعراف سورة طہ اور اس سورت میں ہے۔ قبطیوں کا ارادہ اللہ کے نور کے بجھانے کا تھا اور اللہ کا ارادہ اس کی نورانیت کے پھیلانے کا تھا۔ پس اللہ کا ارادہ غالب رہا۔ ایمان و کفر کا مقابلہ جب کبھی ہوا ایمان کفر پر غالب رہا۔ اللہ تعالیٰ حق کو غالب کرتا ہے باطل کا سر پھٹ جاتا ہے اور لوگوں کے باطل ارادے ہوا میں اڑ جاتے ہیں۔ حق آجاتا ہے باطل بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔ یہاں بھی یہ ہوا ہر ایک شہر میں سپاہی بھیجے گئے۔ چاروں طرف سے بڑے بڑے نامی گرامی جادوگر جمع کئے گئے جو اپنے فن میں کامل اور استاد زمانہ تھے کہا گیا ہے کہ ان کی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 43–44

سورة الشُّعَرَآء 36 یہاں یہ ذکر چھوڑ دیا ہے کہ حضرت موسیٰ کی زبان سے یہ فقرہ سنتے ہی جب جادوگروں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں تو یکایک وہ بہت سے سانپوں کی شکل میں حضرت موسیٰ کی طرف لپکتی نظر آئیں۔ اس کی تفصیل قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر بیان ہوچکی ہے۔ سورة اعراف میں ہے فَلَمَّآ اَلْقَوْا سَحَرُوْا اَعْیُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْھَبُوْھُمْ وَجَآءُوْا بِسِحْرٍ عَظِیْمٍ ، " جب انہوں نے اپنے انچھرے پھینکے تو لوگوں کی آنکھوں کو مسحور کردیا، سب کو دہشت زدہ کر کے رکھ دیا، اور بڑا بھاری جادو بنا لائے "۔ سورة طٰہٰ میں اس وقت کا نقشہ یہ کھینچا گیا ہے کہ فَاِذا حِبَالُھُمْ وَعِصِیُّھُمْ یُخَیَّلُ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 44–49

بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ ، یہ کلمہ ان جادوگروں کے لئے بمنزلہ قسم ہے جو زمانہ جاہلیت میں رائج تھی۔ افسوس کہ مسلمانوں میں بھی اب ایسی قسمیں رائج ہوگئی ہیں جو اس سے زیادہ شنیع اور قبیح ہیں مثلاً بادشاہ کی قسم، تیرے سر کی قسم، تیری ڈاڑھی کی قسم یا تیرے باپ کی قبر کی قسم، اس قسم کی قسمیں کھانا شرعاً جائز نہیں، بلکہ ان کے متعلق یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ خدا کے نام کی جھوٹی قسم کھانے میں جو گناہ عظیم ہے ان ناموں کی سچی قسم بھی گناہ میں اس سے کم نہیں (کما فی الروح)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 43–44

حضرت موسیٰ اور ساحر میدان مقابلہ میں جب میدان مقابلہ میں موسیٰ اور ساحروں کا آمنا سامنا ہوا تو حضرت موسیٰ نے ساحروں ہی کو پہل کرنے کا موقع دیا۔ فرمایا کہ جو ہنر تم دکھانا چاہتے ہو دکھائو۔ ان کے پاس جو رسیاں اور لاٹھیاں تھیں وہ انہوں نے پانسہ کے تیروں کی طرح پھینکیں اور ساتھ ہی یہ قسم کھائی کہ فرعون کے اقبال کی قسم ہم ہی غالب رہیں گے ! بعزۃ فرعن میں ب ہمارے نزدیک قسمیہ ہے۔ فرعن کو چونکہ ان کے ہاں دیوتا کی حیثیت حاصل تھی اس وجہ سے کوئی اہم قدم اٹھاتے ہوئے وہ اس کے عزت و اقبال کی قسم کھاتے۔ تورات میں ان کے شواہد موجود ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

44-1جیسا کہ سورة اعراف اور طٰہٰ میں گزرا کہ ان جادوگروں نے اپنے خیال میں بہت بڑا جادو پیش کیا،۔ سحروا أعین الناس واسترھبوھم وجاؤا بسحر عظیم۔ سورة الاعراف۔ حتٰی کہ حضرت موسیٰ ؑ نے بھی اپنے دل میں خوف محسوس کیا،۔ فاوجس فی نفسہ خیفۃ موسی۔ طہ۔ چناچہ ان جادوگروں کو اپنی کامیابی اور برتری کا بڑا یقین تھا، جیسا کہ یہاں ان الفاظ سے ظاہر ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کو تسلی دی کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ذرا اپنی لاٹھی زمین پر پھینکو اور پھر دیکھو۔ چناچہ لاٹھی کا زمین پر پھینکنا تھا کہ اس نے ایک خوفناک اژدھا کی شکل اختیار کرلی اور ایک ایک کر کے ان سارے کرتبوں کو نگل گیا۔ جیسا کہ اگلی آیت میں…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 44–45

11: سورة طٰہٰ : 66 میں گذر چکا ہے کہ اچانک ان کی ڈالی ہوئی رسیاں اور لاٹھیاں ان کے جادو کے نتیجے میں ایسی محسوس ہونے لگیں جیسے دوڑ رہی ہی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 43–45

اب ایٓئے میدان مقابلہ کی طرف فریقین تیار ہیں اور عوام جمع ہیں۔ قال لھم ……اول المئومنین (51) پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا پھینکا تو یکایک وہ ان کے جھوٹے کرشموں کو ہڑپ کرتا چلا جا رہا تھا۔ اس پر سارے جادوگر بےاختیار سجدے میں گر پڑے اور بول اٹھے کہ ” مان گئے ہم رب العالمین کو … موسیٰ اور ہارون (علیہم السلام) کے رب کو۔ “ فرعون نے کہا ” تم موسیٰ کی بات مان گئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دینا ! ضرور یہ تمہارا بڑا ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے۔ اچھا ؟ ابھی تمہیں معلوم ہوتا جاتا ہے ، میں تمہارے ہاتھ پائوں مخلاف سمتوں سے کنوائوں گا اور تم سب کو سولی چڑھا دوں گا۔ ‘ انہوں نے جواب دیا ” کچھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 بعض نے " بِعِزَّۃِ فِرْعَوْن " کو قسم کے معنی میں لیا ہے۔ یعنی فرعون کے اقبال کی قسم ہم ہی غالب ہو کر رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 43–45

آیت 45 فَاَلْقٰی مُوْسٰی عَصَاہُ فَاِذَا ہِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِکُوْنَ ” ان کیّ رسیاں اور لاٹھیاں جو بظاہر سانپ دکھائی دے رہی تھیں ‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عصانے اژدھا بن کر انہیں نگلنا شروع کردیا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

34 جادوگروں کو فرعون کے اہل کاروں کی طرف سے صرف یہ بتلایا گیا کہ دارالخلافہ میں بادشاہ سلامت کے ہاں دو جادوگر آئے ہیں۔ ان میں سے ایک اپنی لاٹھی پھینکتا ہے تو وہ سانپ بن جاتا ہے اور یہی ان کے پاس سب سے بڑا شعبدہ ہے اور تم لوگوں کو بادشاہ سلامت نے ان کے مقابلہ کے لئے بلایا ہے۔ لہذا ان لوگوں نے اسی خاص پہلو میں اپنی تیاریاں کی تھیں۔ انہوں نے کچھ اپنی لاٹھیاں پھینکیں اور کچھ رسیاں پھینکیں جو لوگوں کو جیتے جاگتے متحرک سانپ نظر آنے لگے۔ اور ان کی تعداد اتنی زیادہ تھا کہ سارا میدان مقابلہ ایسے سانپوں سے بھر گیا تھا سارا مجمع اس منظر سے دہشت زدہ ہونے لگا۔ حتیٰ کہ حضرت موسیٰ بھی دل ہی دل میں ڈرنے لگے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 43–44

37۔ (اور وہ سحر کے اثر سے سب کو سانپ دکھائی دینے لگیں) مصری عقائد میں سانپ کو بڑی اہمیت حاصل تھی۔ (آیت) ” قال ...... القو “۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے قول سے کیا یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ سحر کی اجازت دے رہے تھے ؟ سحر ایسی معصیت ہے جو محض فسق ہی نہیں، بلکہ اس کے ڈانڈے کفر سے ملے ہوئے ہیں۔ تو کیا پیغمبر اپنی رضاء کفر یاتقریبا کفر کو دے رہے تھے ؟ صاحب روح المعانی کہتے ہیں کہ اس میں بظاہر امر ہے سحر کرنے کا، لیکن در حقیقت آپ نے انہیں اس عمل کا حکم دیا، جو آپ کو الہام یا فراست یا قرائن سے معلوم ہوگیا تھا کہ وہ کرکے رہیں گے۔ مقصود آپ کا رد تھا اس سحر کا اور خود وہ رد موقوف تھا سحر کے اظہار پر۔ بالکل ایسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 34–51

آیت نمبر 34 تا 51 ترجمہ : فرعون اپنے اردگرد موجود مصاحبین سے کہنے لگا یہ تو کوئی بڑا دانا جادوگر ہے یعنی علم سحر میں بڑا فائق ہے یہ تو یہ چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے ذریعہ تمہیں تمہاری سر زمین سے نکال دے سو تم کیا مشورہ دیتے ہو ؟ درباریوں نے کہا آپ اس کو اور اس کے بھائی کو (کچھ) مہلت دیجئے یعنی ان کے معاملہ کو فی الحال مؤخر کر دیجئے اور شہروں میں (جادوگروں کو) جمع کرنے والے بھیج دیجئے جو آپ کے پاس ہر ذی علم ماہر جادوگر کو لے آئیں جو موسیٰ پر علم سحر میں فائق ہوں پھر ایک معین دن کو مقررہ وقت پر جادو گر جمع کرلئے گئے اور وہ عید کے دن کا چاشت کا وقت تھا (یعنی یوم عاشوریٰ کا) اور لوگوں سے کہا گیا کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فالقوا حیالہم وعصیہم وقالوا بعزۃ فرعون انا لنحن الغلبون۔ پس جادوگروں نے اپنی رسیاں اور گنڈے (زمین پر) پھینکے اور (بطور تبرک فرعون کا نام لیا اور) کہا فرعون کی عزت کے وسیلہ سے ہم ہی بلاشبہ غالب رہیں گے۔ چونکہ فرعون پر جادوگروں کو اعتقاد تھا اس لئے عزت فرعون کا ذکر انہوں نے بطور تبرک لیا۔ یا (بِ ) قسمیہ ہے یعنی عزت فرعون کی قسم ہم غالب رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(44) چناچہ انہوں نے ستر لکڑیاں اور ستر رسیاں میدان میں ڈالیں اور کہنے لگے فرعون کے اقبال کی قسم ہم ہی موسیٰ ؑ پر غالب رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 44–46

وَقَالُوْا بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ۔۔ : فرعون کی تعظیم کے لیے اس کی عزت کی قسم کھائی کہ ہم ضرور ہی جیتیں گے۔ اس سے جادوگروں کا مقصد فرعون کو خوش اور موسیٰ ؑ کو مرعوب کرنا تھا۔ جاہلیت میں لوگ اس قسم کی قسمیں کھایا کرتے تھے، اسلام میں اس سے منع کردیا گیا۔ عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (أَلاَ إِنَّ اللّٰہَ یَنْھَاکُمْ أَنْ تَحْلِفُوْا بآبَاءِکُمْ مَنْ کَانَ حَالِفًا فَلْیَحْلِفْ باللّٰہِ أَوْ لِیَصْمُتْ) [ بخاری، الأیمان والنذور، باب لا تحلفوا بآبائکم : 6646 ] ”خبر دار ! اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے باپوں کی قسم کھانے سے منع کرتا ہے، جسے قسم کھانی ہو وہ اللہ کی قسم کھائے، یا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 23–51

( قال فرعون وما رب العلمین۔۔۔۔ ) قال فرعون وما رب العٰلمین جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) میں فرعون پر غالب آگئے اور فرعون لعین نے تربیت اور دوسری چیزوں میں کوئی دلیل نہ پائی تو وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے معاوضہ کے لیے آپ کے قول رسول رب العٰلمین کی طرف متوجہ ہوئے تو اس نے ایسا سوال کیا جو مجہول چیز کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے۔ مکی اور دوسرے علماء نے کہا : جس طرح اجناس کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے، اسی وجہ سے ما کے ساتھ سوال کیا۔ مکی نے کہا : ایک اور جگہ من کے ساتھ بھی استفہام واقع ہوا ہے یہ اس کے مشابہ ہے کہ یہاں کئی مواطن ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مخلوقات میں سے ایسی صفات لائے جو اللہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 10–51

1۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” یعنی طور کے داہنی جانب سے ان کو آواز دی گئی۔ 2۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جرری وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ ایک جان کے قتل کرنے کا الزام جو ان کے درمیان قتل ہوا آیت ” وفعلت فعلتک التی فعلت “ سے مراد بھی انسان کا قتل ہے۔ آیت ” فعلتہا اذا وانا من الضالین “ یعنی جب میں چوک جانے والوں میں سے تھا۔ 3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ یعنی ایک جان کا قتل کرنا آیت ” الم لربک فینا ولیدا “ یعنی ان کو فرعون والوں سے اٹھا لیا سو اس بچے کو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ فَاَلْـقَوْا : تو انہوں نے ڈالیں ][ حِبَالَهُمْ : اپنی رسیاں ][ وَعِصِيَّهُمْ : اور اپنی لاٹھیاں ][ وَقَالُوْا بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ : اور انہوں نے کہا فرعون کی عزت کی قسم ][ اِنَّا : بیشک ہم ][ لَنَحْنُ الْغٰلِبُوْنَ : ضرور ہم ہی غالب ہونے والے ہیں ] نوٹ۔ 1: بعزۃ فرعون۔ یہ کلمہ ان جادوگروں کی قسم ہے جو زمانہ جاہلیت میں رائج تھی۔ افسوس کہ مسلمانوں میں بھی اب ایسی قسمیں رائج ہوگئی ہیں جو اس سے زیادہ شنیع اور قبیح ہیں مثلا بادشاہ کی قسم ، تیرے سر کی قسم ، میری داڑھی کی قسم، تیرے باپ کی قبر کی قسم وغیرہ۔ اس قسم کی قسمیں کھانا شرعا جائز نہیں ہے بلکہ ان کے متعلق یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ خدا کے نام…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 35–52

بحکم الٰہی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو ہمراہ لے کر راتوں رات چلا جانا اور فرعون کا پیچھا کرنا پھر لشکروں سمیت غرق ہونا سیدنا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ شانہٗ کا حکم ہوا کہ میرے بندوں کو راتوں رات لے کر مصر سے نکل جاؤ۔ اور سمندر کی طرف جانا سمندر پر پہنچو گے تو اسے خشک پاؤ گے۔ اپنی قوم کو لے کر گزر جانا تمہارے پیچھے دشمن لگے گا بےفکر رہنا اور نڈر رہنا کما قال تعالیٰ فی سورة طٰہٰ (لاَ تَخَافُ دَرْکًا وَّ لاَ تَخْشٰی) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کو لے کر چل دیئے فرعون کو پہلے اندیشہ تھا کہ کہیں یہ مصر سے نہ نکل جائیں، وہ لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو سچا نبی تو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 34–51

ساحران فرعون کا موسیٰ (علیہ السلام) سے مقابلہ قال اللہ تعالیٰ قال للملا حولہ ان ھذا لسحر علیم الیٰ ان کنا اول المومنین۔ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کے جب یہ دو معجزے (معجزہ عصا اور معجزہ یدبیضا) دیکھے تو اسکو ڈر ہوا کہ اہل دربار شبہ میں نہ پڑجائیں اس لیے فرعون نے لوگوں کے سامنے اپنا بھرم رکھنے کے لئے یہ کہا کہ یہ کوئی خاص قسم کا سحر ہے اس لیے ملک کے جادوگروں کو جمع کر کے اسکا مقابلہ کرایا جائے اس کا خیال یہ تھا کہ ایک جادوگر ملک کے تمام جادوگروں کا مقابلہ نہیں کرسکتا اس لیے فرعون نے اپنی اندرونی حیرانی اور پریشانی پر پردہ ڈالنے کے لئے اپنی قوم کے سرداروں سے جو اس کے اردگر بیٹھتے تھے یہ کہا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 44–46

24:۔ جب انہوں نے اس معجزے کا مشاہدہ کیا تو فوراً سمجھ گئے یہ جادو نہیں بلکہ یہ امر الٰہی ہے اس لیے بلا توقف اور بلا تامل اس طرح سجدے میں گر پڑے گویا کسی نے ان کو پکڑ کر گرا دیا ہو۔ اور زبان سے اعلان کردیا کہ ہم رب العالمین پر ایمان لے آئے جو موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کا رب ہے۔ ای خروا ساجدین اثر ما شاھدوا ذلک من غیر تلعثم و تردد لعلمھم بان مثل ذلک خارج عن حدود السحر وانہ امر الہی قد ظھر علی یدہ (علیہ السلام) لتصدیقہ (روح ج 19 ص 87) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 34–51

ربط آیات گزشتہ آیات میں بیان ہوچکا ہے کہ حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) نے فرعون کے دربار میں پہنچ کر اللہ کا پیغام پہنچایا اور کہا کہ یہ رب العالمین کی طرف بھیجے ہوئے ہیں اس نے متکبر انہ انداز میں سوال کیا کہ رب العالمین کیا ہوتا ہے ؟ اس کے جواب میں موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی بعض صفات بیان کیں اور اس کی پہچان کی نشانیاں بتلائیں کہ رب العالمین وہ ہے جو ارض و سماکا پرورش کنندہ ہے اور جس نے تمہیں ہ تمہارے آبائو اجداد کو بھی پیدا کیا ہے۔ مشرق و مغرب کی تمام اشیاء بھی اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں ۔ اس فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو دھمکی دی کہ اگر تم نے میرے سوا کسی دوسرے کو الٰہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاَلْـقَوْا حِبَالَہُمْ وَعِصِيَّہُمْ وَقَالُوْا بِعِزَّۃِ فِرْعَوْنَ اِنَّا لَنَحْنُ الْغٰلِبُوْنَ۝ 44 حبل الحَبْلُ معروف، قال عزّ وجلّ : فِي جِيدِها حَبْلٌ مِنْ مَسَدٍ [ المسد/ 5] ، وشبّه به من حيث الهيئة حبل الورید وحبل العاتق، والحبل : المستطیل من الرّمل، واستعیر للوصل، ولكلّ ما يتوصّل به إلى شيء . قال عزّ وجلّ : وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعاً [ آل عمران/ 103] ، فحبله هو الذي معه التوصل به إليه من القرآن والعقل، وغیر ذلک ممّا إذا اعتصمت به أدّاك إلى جواره، ويقال للعهد حبل، وقوله تعالی: ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ أَيْنَ ما ثُقِفُوا إِلَّا بِحَبْلٍ مِنَ اللَّهِ وَحَبْلٍ مِنَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 35–52

تفسیر : واوحینا الی موسیٰ باقی تمام قصہ کو حذف کر کے جو موسیٰ کی سرگزشت مصر سے تعلق رکھتا تھا صرف بنی اسرائیل کے مصر سے جانے کا تذکرہ شروع فرمایا کیونکہ نشانی قدرت کاملہ اور ان کے کفرو انکار کا نتیجہ ظاہر کرنا مقصود مقام تھا۔ موسیٰ کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ میرے بندوں کو یعنی بنی اسرائیل کو رات میں لے نکل۔ چناچہ موسیٰ ( علیہ السلام) بنی اسرائیل کو مع زن و فرزند کسی عید کے بہانہ سے باجازت فرعون لے نکلے اور اسرائیلیوں نے فرعونیوں سے عید کے بہانہ سے زیورات بھی مستعار لیے تھے جب یہ سب نکل گئے تو فرعون کو خبر ملی کہ وہ نکل کر ملک شام میں جاتے ہیں۔ فرعون نے جابجا ہر کارے بھیج دیے کہ لوگ کمک کو…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

فَاَلْقٰی مُوْسٰی عَصَاہُ فَاِذَا ھِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِکُوْنَ ۔ (الشعرآء : 45) (تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا ڈالا، تو یکایک وہ نگلنے لگا جو فریب انھوں نے بنا رکھا تھا۔ ) معجزے کی قاہری جادوگروں کی لاٹھیوں اور رسیوں کے مقابلے میں جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا پھینکا تو وہ اژدھا بن کر پھنکارتا ہوا آگے بڑھا اور وہ لاٹھیاں اور رسیاں جو سانپوں کی طرح لہراتی اور بل کھاتی ہوئی دکھائی دے رہی تھیں انھیں ہڑپ کرنا شروع کردیا۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے انھوں نے جو سوانگ رچا رکھا تھا سب کو نگل گیا اور ہر چیز ختم ہو کر رہ گئی۔ البتہ یہ بات حتمی طور پر نہیں کہی جاسکتی کہ اژدھا نے ان رسیوں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : جادوگروں کے مقابلے میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا عصا میدان میں پھینکنا۔ جو نہی موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا زمین پر پھینکا تو دیکھتے ہی دیکھتے اس نے ان کی رسیوں اور لاٹھیوں کو نگلنا شروع کیا چند لمحوں میں عصا نے میدان اس طرح صاف کردیا کہ کوئی رسی اور لاٹھی باقی نہ تھی۔ اژدھا اس قدر، پھرتیلا اور بڑا تھا کہ جدھر منہ کرتا یوں دکھائی دیتا تھا جیسے رسیاں اور لاٹھیاں خود بخود اس کے منہ میں پڑرہی ہیں۔ جادوگروں نے یہ حیرت ناک منظر دیکھا تو یہ کہتے ہوئے سجدے میں گرپڑے کہ ہم رب العالمین پر ایمان لاتے ہیں۔ قرآن مجید نے جادوگروں کے سجدہ میں گرنے کے بارے میں فرمایا کہ انہیں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

سحر کے اثرات : 44: فَاَلْقَوْا حِبَالَھُمْ (پس انہوں نے اپنی رسیاں ڈالیں) جو کہ ستّرہزار تھیں۔ وَعِصِیَّھُمْ (اور اپنی لاٹھیاں) جو کہ ستّرہزار تھیں۔ دوسرا قول ہر دو بہتر ہزار تھیں۔ وَقَالُوْا بِعِزَّۃِ فِرْعَوْنَ اِنَّا لَنَحْنُ الْغٰلِبُوْنَ (اور کہنے لگے فرعون کی عزت کی قسم بیشک ہم ہی غالب رہیں گے) انہوں نے فرعون کی عزت و قوت کی قسم کھائی۔ اور جاہلیت کا ایمان یہی تھا۔ باء قسمیہؔ ہے یا بطور تبرک فرعون کی عزت کا ذکر کیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 40–51

40۔ لعلنا نتبع السحرۃ ان کانوا ھم الغالبین۔ موسیٰ پر اوربعض نے کہا کہ یہ کہنا کہ ان کا بطور استہزاء کے تھا، بالسحرۃ سے مراد موسیٰ و ہارون اور ان کی قوم کے متعلق تھا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 36–48

36 تا 49: جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے اوصاف بیان کر کے فوعون کو باتوں سے قائل کیا اور عصا اور یدبیضاء کا معجزہ دکھا کر بھی اس کو قائل کیا تو فرعون نے اپنے سرداروں کو ابھارا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ یہ دو شخص بڑے جادوگر معلوم ہوتے ہیں کہ اپنے جادو کے زور سے یہ تمہاری بادشاہت تمہارا ملک چھین لیویں ان کے جادو سے بچنے کی تمہاری کیا صلاح اور مصلحت ہے بیان کرو انہوں نے فرعون کی عملداری کی سب بستیوں کے بڑے بڑے جادوگروں کو بلوانے کی صلاح دی اور وہ جادوگر آئے اور مقابلہ ہو کر آخر کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) غالب رہے یہاں بعضے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 10–68

آیت نمبر 10 سے 68 اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں موسیٰ (علیہ السلام) کی مدح وثنا اور ان کے واقعات کا بار بار جتنا اعادہ کیا ہے اتنا کسی اور واقعے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ عظیم حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس قصے میں اہل ایمان اور اہل کفر کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے طرز عمل کی تفصیل ہے نیز موسیٰ (علیہ السلام) صاحب شریعت کبری اور صاحب تورات تھے جو قرآن عظیم کے بعد سب سے افضل کتاب ہے۔ فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجئے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندادی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، ان کو رسول بنا کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

29 جادوگروں کی اپنے غلبے کے لیے ایک مشرکانہ قسم : سو جادوگروں نے فرعون کے اقبال کی قسم کھا کر کہا کہ " یقینا ہم ہی غالب رہیں گے "۔ کیونکہ فرعون ان لوگوں کے یہاں دیوتا کی حیثیت رکھتا تھا۔ سو یہ ہے مشرکوں کا طرہ امتیاز۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے کہ میدان میں اترتے وقت وہ اللہ کی بجائے اس کی کسی مخلوق ہی میں سے کسی کا سہارا لیں گے اور اس کا نام لیں گے۔ سو ان جادوگروں نے فرعون کی عزت اور اس کے اقبال کا نعرہ لگایا تو آج کا کلمہ گو مشرک " یا علی مدد "، " علی مشکل کشا "، " یا غوث دستگیر " وغیرہ کے نعرے لگاتا ہے۔ اور بدعتی ملاں اور مشرک پیر اس کی پیٹھ ٹھونکتا ہے کہ یہ سب ٹھیک ہے۔ اور یہ غیر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 10–68

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ تشریح : اس واقعہ میں بیشمار نصیحتیں ‘ اللہ کے کمالات ‘ عجزو انکساری اور سب سے بڑھ کر توکل علی اللہ کا بہت زبردست سبق ملتا ہے۔ ایمان کامل انسان کے اندر اس قدر ہمت ‘ جرأت ‘ بہادری اور معرفت پیدا کردیتا ہے کہ انسان مادی اصولوں سے بےنیاز ہو کر روحانی دنیا میں گم ہوجاتا ہے اور اس کو اللہ ‘ اس کی مدد ‘ اس کا سایہ دنیا کے ہر خطرے سے محفوظ بےنیاز کردیتا ہے۔ جیسا کہ سید حسین نصر صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں : ” سچے مومن کی فراست تکمیل کو پہنچ جاتی ہے جیسا کہ اللہ نے فرمایا ” اللہ کی یاد میں دلوں کا سکون ہے۔ “ ( سورة رعد آیت : 28) ایسا شخص جو اس حالت میں ہو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 34–51

آیات 34 تا 51 اسرار و معارف تو فرعون موسیٰ علہی السلام سے مخاطب ہونے کی بجائے اپنے امراء دربار سے کہنے لگا کہ دیکھو کتنا ماہر جادوگر ہے اس کے ارادے تو یہ نظر آتے ہیں کہ جادو کے زور سے ملک ہی چھین لے گا اور تم سب کو یہاں سے بھگا دیگا حالانکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے دعوت الی اللہ دی تھی اور بنی اسرائیل کو آزاد کرنے کی بات ارشاد فرمائی تھی۔ ان کی حکومت یا ملک تک کی بات نہ کی تھی۔ فرعون چونکہ دلائل میں لاجواب ہوچکا تھا اس لیے ادھر کی بات بنا کر اپنے امراء کو ساتھ رکھنے کا آرزومند تھا چناچہ کہنے لگا اب آپ لوگ جو مشورہ دیں گے اسی کے مطابق عمل کیا جاسکے گا تو امراء نے مشورہ دیا کہ فی الحال موسیٰ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

12 ۔ فرعون کی تعظیم کے لئے اس کی عزت کی قسم کھائی کہ ہم ضرور ہی جیتیں گے۔ اس سے جادوگروں کا مقصد فرعون کو خوش اور موسیٰ (علیہ السلام) کو مرعوب کرنا تھا…جاہلیت میں لوگ اس قسم کی قسمیں کھایا کرتے جیسا کہ آج کل بھی مسلمان اللہ تعالیٰ کی ذات یا صفات کی قسم کھانے پر مطمئن نہیں ہوتے بلکہ اپنے پیرومرشد یا کسی بزرگ کے روضہ کی قسم کھاتے ہیں۔ یا عام رواج کے مطابق کہہ دیتے ہیں : مجھے تیری قسم یا تیرے سر کی قسم وغیرہ۔ “ اس طرح دوسروں کی عظمت کا اظہار کرتے ہیں۔ شاید اللہ تعالیٰ کی جھوٹی قسم کھانے پر اتنا گناہ نہ ہوتا ہو جتنا کہ ان چیزوں کی سچی قسم کھانے پر ہوسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس قسم کے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(26:44) حبالہم مضاف مضاف الیہ۔ ان کی لاٹھیاں۔ ان کے عصا۔ عصی عصا کی جمع ہے۔ بعزۃ۔ باء قسم کے لئے ہے فرعون کے اقبال کی قسم۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 34–51

لغات القرآن : آیت نمبر 34 تا 51 : ساحر علیم (ماہر جادو گر۔ بہت جاننے والا جادوگر) ‘ ماذا تامرون (تم کیا مشورہ دیتے ہو۔ تم کیا کہتے ہو) ‘ ارجہ (چھوڑدے اس کو۔ اس کو مہلت دے) ‘ حشرین (جمع کرنے والے۔ ہر کارے) ‘ میقات (مقرر وقت۔ مقرر جگہ) مجتمعون ( جمع ہونے والے) ‘ المقربین (قریب بیٹھنے والے) ‘ حبال (حبل) رسیاں ‘ عصی (لاٹھیاں) ‘ تلقف (نگلنے لگا) ‘ یا فکون ( وہ کھیل کھلونے بناتے ہیں) ‘ کبیر کم ( تمہارا بڑا۔ تمہارا استاد) ‘ اقطعن ( میں ضرور کاٹ ڈالوں گا) ‘ ایدی (ایدین) دونوں ہاتھو ‘ ارجل (رجل) پاؤں ‘ اصلبن (میں ضرور پھانسی چڑھادوں گا) ‘ لاضیر (کوئی حرج نہیں) ‘ منقلبون (پلٹ کر جانے والے) نطمع ( ہم…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 36–48

(ف 1) فرعون سے سرداروں نے یہ کہا کہ ان دونوں کو مہلت دیدو، کیونکہ فرعون نے موسیٰ کے شہید کرنے کا ارادہ کیا تھا اس پر اس کے سرداروں نے اس کو قتل سے منع کیا اور کہا کہ قتل سے لوگوں کے دل میں یہ شبہ پیدا ہوجائے گا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) میں فرعون نے کوئی ایسی ہی زبردست غلبہ کی بات دیکھی تھی جوان کو زندہ رکھنا مناسب نہیں خیال کیا۔ اس لیے موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) ان دونوں جادوگروں سے مقابلہ کرانا ہے اور سب کے سامنے ان دونوں کو ہرانا مناسب ہے ان کے قتل کا ارادہ مناسب نہیں ہے۔ اور اپنی بادشاہت کے شہروں میں نقبیوں کو بھیج دے تاکہ وہ تیرے پاس بڑے جادوگر واقف کاروں کو لے آئیں تب فرعون نے اپنے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

44۔ اس پر ان جادوگروں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں اور یوں کہنے لگے کہ فرعون کے اقبال کی قسم بلاشبہ ہم ہی غالب رہیں گے فرعون کی عزت و آبرو کی قسم کھا کر اپنے غالب ہونے کا دعویٰ کیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

انہوں نے اپنی لاٹھیاں اور رسیاں میدان میں ڈال دیں : 44۔ سحر اور ساحر کا مفہوم ہم نے اوپر بیان کردیا ہے البیان السحر سے بھی یہ بات واضح ہوتی ہے چونکہ فریقین اپنے اپنے دلائل کو مسکت خیال کرتے ہیں اور انسان کا خاصہ بھی ہے کہ وہ اپنی بات کو ثابت کرنے کے لئے ایک بار ایڑی چوٹی کا زور خرچ کرتا ہے یہی ان مذہبی پیشواؤں کو بھی کرنا تھا اور یہی انہوں نے کیا اگرچہ موسیٰ (علیہ السلام) کی تقریر سن کر بعض ان میں سے دل ہار بیٹھے تھے لیکن قدرت الہی کی طرف سے ابھی وہ وقت نہیں آیا تھا کہ وہ اس کا برملا اظہار کردیتے اس لئے وہ اپنے عزم کے مطابق میدان میں آئے اور آتے ہی انہوں نے حسب عادت فرعون کی عزت کی قسم کھا کر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 44–49

بِعِزَّةِ فِرْ‌عَوْنَ (By the majesty of the Pharaoh - 26:44). This was an expression of pledge from the magicians, which was in vogue in the olden times. It is unfortunate that similar oaths have now become common among the Muslims as well, which are even more evil and vile, for instance, 'by the king,' 'by the head of yours,' 'by the beard of yours,' 'by the grave of your father' etc. It is not permitted to make an oath of this nature under the Islamic law (because swearing in the name of someone other than Allah is a sin). Rather, it will not be wrong to say that swearing a true oath in…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 43–44

36 As soon as they cast down their cords and staffs, these started moving like so many snakes- towards Moses. This has been described in greater detail at other places in the Qur'an. According to Al-A`raf: 116: "When they threw down their devices, they bewitched the eyes of the people and terrified their hearts: for they had indeed produced a great magic." And according to Ta Ha: 66, 67: "Suddenly it so appeared to Moses that their cords and staffs were running about by the power of their magic, and Moses' heart was filled with fear."

Read the full tafseer →