Ash-Shu'araa 26:43

Ash-Shu'araa · from ayah 43

26:43

قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰۤی اَلْقُوْا مَاۤ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ ۟قَالَ لَهُمۡ مُّوۡسٰۤى اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ

موسیٰ نے ان سے کہا کہ جو چیز ڈالنی چاہتے ہو، ڈالو

— Fateh Muhammad Jalandhari

Moses said to them, "Throw whatever you will throw."

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 3 of surah · Ruku 7 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:43

موسیٰؑ نے کہا "پھینکو جو تمہیں پھینکنا ہے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

موسیٰ نے ان سے کہا کہ جو چیز ڈالنی چاہتے ہو، ڈالو

— مولانا فتح محمد جالندہری

(حضرت) موسیٰ ؑ نے جادوگروں سے فرمایا جو کچھ تمہیں ڈالنا ہے ڈال دو

— مولانا محمد جوناگڑہی

موسیٰ نے ان جادوگروں سے کہا : جو کچھ تمہیں پھینکنا ہے، پھینکو

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

موسیٰ نے ان سے فرمایا ڈالو جو تمہیں ڈالنا ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

موسٰی ؑ نے ان (جادوگروں سے) فرمایا: تم وہ (جادو کی) چیزیں ڈال دو جو تم ڈالنے والے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

موسیٰ نے ان سے کہا پھینکو جو کچھ تم پھینکنے والے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

موسیٰ نے جادوگروں سے کہا : پھینکو جو تم پھینکنا چاہتے ہو۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

موسیٰ نے ان سے کہا پیش کرو جو کچھ تم پیش کرنے والے ہو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر عین مقابلہ کے موقع پر جادوگروں کے سوال پر موسیٰ نے ان سے کہا کہ ڈالو جو کچھ کہ تمہیں ڈالنا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

موسیٰ ؑ نے ان لوگوں سے کہا ڈال چلو جو کچھ تمہیں ڈالنا ہو

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

موسیٰ ؑ ٰ نے ان سے کہا کہ پھینکو تم لوگ جو کچھ پھینکنے والے ہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

موسیٰ نے ان سے کہا جو چیز ڈالنی چاہو ڈالو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Moses said to them: "Throw down whatever you wish to throw."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Musa said to them, :Throw you down what you are to throw.

— Muhammad Taqi Usmani

Musa said to them, :Throw you down what you are to throw.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Musa said to them: "Throw what you are going to throw!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Moses said unto them: Throw what ye are going to throw!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Moses said to them, "Throw whatever you will throw."

— Saheeh International

(Moses) asked the magicians, "Cast down what you want to".

— Muhammad Sarwar

Musa said to them: Cast what you are going to cast.

— Muhammad Habib Shakir

Musa said unto them: cast whatsoever ye have to cast.

— Abdul Majid Daryabadi

Moses said to them: "Throw ye - that which ye are about to throw!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 26:43

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 38–48

مناظرہ کے بعد مقابلہ مناظرہ زبانی ہوچکا۔ اب مناظرہ عملا ہو رہا ہے اس مناظرہ کا ذکر سورة اعراف سورة طہ اور اس سورت میں ہے۔ قبطیوں کا ارادہ اللہ کے نور کے بجھانے کا تھا اور اللہ کا ارادہ اس کی نورانیت کے پھیلانے کا تھا۔ پس اللہ کا ارادہ غالب رہا۔ ایمان و کفر کا مقابلہ جب کبھی ہوا ایمان کفر پر غالب رہا۔ اللہ تعالیٰ حق کو غالب کرتا ہے باطل کا سر پھٹ جاتا ہے اور لوگوں کے باطل ارادے ہوا میں اڑ جاتے ہیں۔ حق آجاتا ہے باطل بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔ یہاں بھی یہ ہوا ہر ایک شہر میں سپاہی بھیجے گئے۔ چاروں طرف سے بڑے بڑے نامی گرامی جادوگر جمع کئے گئے جو اپنے فن میں کامل اور استاد زمانہ تھے کہا گیا ہے کہ ان کی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 43–44

سورة الشُّعَرَآء 36 یہاں یہ ذکر چھوڑ دیا ہے کہ حضرت موسیٰ کی زبان سے یہ فقرہ سنتے ہی جب جادوگروں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں تو یکایک وہ بہت سے سانپوں کی شکل میں حضرت موسیٰ کی طرف لپکتی نظر آئیں۔ اس کی تفصیل قرآن مجید میں دوسرے مقامات پر بیان ہوچکی ہے۔ سورة اعراف میں ہے فَلَمَّآ اَلْقَوْا سَحَرُوْا اَعْیُنَ النَّاسِ وَاسْتَرْھَبُوْھُمْ وَجَآءُوْا بِسِحْرٍ عَظِیْمٍ ، " جب انہوں نے اپنے انچھرے پھینکے تو لوگوں کی آنکھوں کو مسحور کردیا، سب کو دہشت زدہ کر کے رکھ دیا، اور بڑا بھاری جادو بنا لائے "۔ سورة طٰہٰ میں اس وقت کا نقشہ یہ کھینچا گیا ہے کہ فَاِذا حِبَالُھُمْ وَعِصِیُّھُمْ یُخَیَّلُ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

معارف و مسائل اَلْقُوْا مَآ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ ، یعنی حضرت موسیٰ ؑ نے جادوگروں سے کہا کہ آپ جو کچھ جادو دکھانا چاہتے ہو وہ دکھاؤ۔ اس پر سرسری نظر ڈالنے سے یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ ان کو جادو کا حکم دے رہے ہیں لیکن ذرا سے غور سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ حضرت موسیٰ ؑ کی طرف سے جادو دکھانے کا حکم نہیں تھا بلکہ جو کچھ وہ کرنے والے تھے اس کا ابطال مقصود تھا لیکن اس کا باطل ہونا بغیر اس کے ظاہر کرنے کے ناممکن تھا اس لئے آپ نے ان کو اظہار جادو کا حکم دیا جیسے کہ ایک زندیق کو کہا جائے کہ تم اپنے زندقہ اور بےدینی کے دلائل پیش کرو تاکہ میں ان کو باطل ثابت کرسکوں ظاہر ہے کہ اسے کفر پر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 43–44

حضرت موسیٰ اور ساحر میدان مقابلہ میں جب میدان مقابلہ میں موسیٰ اور ساحروں کا آمنا سامنا ہوا تو حضرت موسیٰ نے ساحروں ہی کو پہل کرنے کا موقع دیا۔ فرمایا کہ جو ہنر تم دکھانا چاہتے ہو دکھائو۔ ان کے پاس جو رسیاں اور لاٹھیاں تھیں وہ انہوں نے پانسہ کے تیروں کی طرح پھینکیں اور ساتھ ہی یہ قسم کھائی کہ فرعون کے اقبال کی قسم ہم ہی غالب رہیں گے ! بعزۃ فرعن میں ب ہمارے نزدیک قسمیہ ہے۔ فرعن کو چونکہ ان کے ہاں دیوتا کی حیثیت حاصل تھی اس وجہ سے کوئی اہم قدم اٹھاتے ہوئے وہ اس کے عزت و اقبال کی قسم کھاتے۔ تورات میں ان کے شواہد موجود ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 40–43

43-1حضرت موسیٰ علیہ کی طرف سے جادوگروں کو پہلے اپنے کرتب دکھانے کے لئے کہنے میں یہ حکمت معلوم ہوتی ہے کہ ایک تو ان پر یہ واضح ہوجائے کہ اللہ کے پیغمبر اتنی بڑی تعداد میں نامی گرامی جادوگروں کے اجتماع اور ان کی ساحرانہ شعبدہ بازیوں سے خوف زدہ نہیں ہے۔ دوسرا یہ مقصد بھی ہوسکتا ہے کہ جب اللہ کے حکم سے یہ ساری شعبدہ بازیاں آن واحد میں ختم ہوجائیں گی تو دیکھنے والوں پر اس کے اچھے اثرات مرتب ہونگے اور شاید اس طرح زیادہ لوگ اللہ پر ایمان لے آئیں۔ چناچہ ایسا ہی ہوا، بلکہ جادوگر ہی سب سے پہلے ایمان لے آئے، جیسا کہ آگے آرہا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 43–45

اب ایٓئے میدان مقابلہ کی طرف فریقین تیار ہیں اور عوام جمع ہیں۔ قال لھم ……اول المئومنین (51) پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا پھینکا تو یکایک وہ ان کے جھوٹے کرشموں کو ہڑپ کرتا چلا جا رہا تھا۔ اس پر سارے جادوگر بےاختیار سجدے میں گر پڑے اور بول اٹھے کہ ” مان گئے ہم رب العالمین کو … موسیٰ اور ہارون (علیہم السلام) کے رب کو۔ “ فرعون نے کہا ” تم موسیٰ کی بات مان گئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دینا ! ضرور یہ تمہارا بڑا ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے۔ اچھا ؟ ابھی تمہیں معلوم ہوتا جاتا ہے ، میں تمہارے ہاتھ پائوں مخلاف سمتوں سے کنوائوں گا اور تم سب کو سولی چڑھا دوں گا۔ ‘ انہوں نے جواب دیا ” کچھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 42–43

1 یعنی جب ساحرین نے کہا کہ موسیٰ پہلے اپنی لاٹھی ڈالتے ہو، یا ہم ڈالیں، اس کے جواب میں فرمایا کہ تم ہی اپنی قوت خرچ کر دیکھو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 43–45

آیت 45 فَاَلْقٰی مُوْسٰی عَصَاہُ فَاِذَا ہِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِکُوْنَ ” ان کیّ رسیاں اور لاٹھیاں جو بظاہر سانپ دکھائی دے رہی تھیں ‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عصانے اژدھا بن کر انہیں نگلنا شروع کردیا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

33 فرعون کے اس جواب پر جادوگر بہت خوش ہوگئے۔ میدان مقابلہ میں آئے تو موسیٰ (علیہ السلام) سے مقابلہ کے عام دستور کے مطابق پوچھا : پہلے آپ اپنا شعبدہ دکھلائیں گے، یا ہم پہل کریں ؟ موسیٰ (علیہ السلام) نے فوراً جواب دیا : نہیں پہلے تم ہی اپنا شعبدہ دکھلاؤ گے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ جواب محض رسماً یا رواجاً یا ان کی عزت افزائی کے طور پر نہیں دیا بلکہ آپ چاہتے ہی یہ تھے کہ باطل پوری طرح پہلے اپنا مظاہرہ کرلے۔ اس کے بعد ہی حق کی فتح پوری طرح واضح ہوسکے گی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 43–44

37۔ (اور وہ سحر کے اثر سے سب کو سانپ دکھائی دینے لگیں) مصری عقائد میں سانپ کو بڑی اہمیت حاصل تھی۔ (آیت) ” قال ...... القو “۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے قول سے کیا یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ سحر کی اجازت دے رہے تھے ؟ سحر ایسی معصیت ہے جو محض فسق ہی نہیں، بلکہ اس کے ڈانڈے کفر سے ملے ہوئے ہیں۔ تو کیا پیغمبر اپنی رضاء کفر یاتقریبا کفر کو دے رہے تھے ؟ صاحب روح المعانی کہتے ہیں کہ اس میں بظاہر امر ہے سحر کرنے کا، لیکن در حقیقت آپ نے انہیں اس عمل کا حکم دیا، جو آپ کو الہام یا فراست یا قرائن سے معلوم ہوگیا تھا کہ وہ کرکے رہیں گے۔ مقصود آپ کا رد تھا اس سحر کا اور خود وہ رد موقوف تھا سحر کے اظہار پر۔ بالکل ایسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 34–51

آیت نمبر 34 تا 51 ترجمہ : فرعون اپنے اردگرد موجود مصاحبین سے کہنے لگا یہ تو کوئی بڑا دانا جادوگر ہے یعنی علم سحر میں بڑا فائق ہے یہ تو یہ چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے ذریعہ تمہیں تمہاری سر زمین سے نکال دے سو تم کیا مشورہ دیتے ہو ؟ درباریوں نے کہا آپ اس کو اور اس کے بھائی کو (کچھ) مہلت دیجئے یعنی ان کے معاملہ کو فی الحال مؤخر کر دیجئے اور شہروں میں (جادوگروں کو) جمع کرنے والے بھیج دیجئے جو آپ کے پاس ہر ذی علم ماہر جادوگر کو لے آئیں جو موسیٰ پر علم سحر میں فائق ہوں پھر ایک معین دن کو مقررہ وقت پر جادو گر جمع کرلئے گئے اور وہ عید کے دن کا چاشت کا وقت تھا (یعنی یوم عاشوریٰ کا) اور لوگوں سے کہا گیا کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال لہم موسیٰ القوا ما انتم ملقون۔ موسیٰ نے ان سے کہا (پہلے) تم ہی پھینکو جو کچھ تم پھینکنے والے ہو۔ اس آیت سے یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ جادو کرنا تو حرام ہے حضرت موسیٰ نے ان کو جادو کرنے کا کیوں حکم دیا۔ کیونکہ اس جگہ حکم دینا مراد ہی نہیں ہے بلکہ صرف اجازت مقصود ہے اور اجازت بھی پہلے کر چکنے کی۔ تاکہ موسیٰ کو اپنا معجزہ ظاہر کرنے کا موقع مل جائے یا یوں کہا جائے کہ امر اس جگہ بمعنئ تحقیر ہے۔ حضرت موسیٰ نے معجزے کے مقابلے میں ان کے جادو کو حقیر قرار دیا اور اس تحقیر کو ظاہر کرنے کے لئے فرمالیا ‘ جو کرنے والے ہو کرو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 38–43

فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِمِيْقَاتِ۔۔ : سورة طٰہٰ (59) میں اس مقرر کردہ وقت اور مقام کا ذکر گزر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 23–51

( قال فرعون وما رب العلمین۔۔۔۔ ) قال فرعون وما رب العٰلمین جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) میں فرعون پر غالب آگئے اور فرعون لعین نے تربیت اور دوسری چیزوں میں کوئی دلیل نہ پائی تو وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے معاوضہ کے لیے آپ کے قول رسول رب العٰلمین کی طرف متوجہ ہوئے تو اس نے ایسا سوال کیا جو مجہول چیز کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے۔ مکی اور دوسرے علماء نے کہا : جس طرح اجناس کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے، اسی وجہ سے ما کے ساتھ سوال کیا۔ مکی نے کہا : ایک اور جگہ من کے ساتھ بھی استفہام واقع ہوا ہے یہ اس کے مشابہ ہے کہ یہاں کئی مواطن ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مخلوقات میں سے ایسی صفات لائے جو اللہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 10–51

1۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” یعنی طور کے داہنی جانب سے ان کو آواز دی گئی۔ 2۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جرری وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ ایک جان کے قتل کرنے کا الزام جو ان کے درمیان قتل ہوا آیت ” وفعلت فعلتک التی فعلت “ سے مراد بھی انسان کا قتل ہے۔ آیت ” فعلتہا اذا وانا من الضالین “ یعنی جب میں چوک جانے والوں میں سے تھا۔ 3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ یعنی ایک جان کا قتل کرنا آیت ” الم لربک فینا ولیدا “ یعنی ان کو فرعون والوں سے اٹھا لیا سو اس بچے کو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ قَالَ : کہا [ لَهُمْ : ان سے [ مُّوْسٰٓي : موسیٰ نے ][ اَلْقُوْا : تم لوگ ڈالو ] مَآ : اس چیز کو ][ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ : تم لوگ ڈالنے والے ہو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 35–52

بحکم الٰہی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو ہمراہ لے کر راتوں رات چلا جانا اور فرعون کا پیچھا کرنا پھر لشکروں سمیت غرق ہونا سیدنا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ شانہٗ کا حکم ہوا کہ میرے بندوں کو راتوں رات لے کر مصر سے نکل جاؤ۔ اور سمندر کی طرف جانا سمندر پر پہنچو گے تو اسے خشک پاؤ گے۔ اپنی قوم کو لے کر گزر جانا تمہارے پیچھے دشمن لگے گا بےفکر رہنا اور نڈر رہنا کما قال تعالیٰ فی سورة طٰہٰ (لاَ تَخَافُ دَرْکًا وَّ لاَ تَخْشٰی) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کو لے کر چل دیئے فرعون کو پہلے اندیشہ تھا کہ کہیں یہ مصر سے نہ نکل جائیں، وہ لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو سچا نبی تو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 34–51

ساحران فرعون کا موسیٰ (علیہ السلام) سے مقابلہ قال اللہ تعالیٰ قال للملا حولہ ان ھذا لسحر علیم الیٰ ان کنا اول المومنین۔ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کے جب یہ دو معجزے (معجزہ عصا اور معجزہ یدبیضا) دیکھے تو اسکو ڈر ہوا کہ اہل دربار شبہ میں نہ پڑجائیں اس لیے فرعون نے لوگوں کے سامنے اپنا بھرم رکھنے کے لئے یہ کہا کہ یہ کوئی خاص قسم کا سحر ہے اس لیے ملک کے جادوگروں کو جمع کر کے اسکا مقابلہ کرایا جائے اس کا خیال یہ تھا کہ ایک جادوگر ملک کے تمام جادوگروں کا مقابلہ نہیں کرسکتا اس لیے فرعون نے اپنی اندرونی حیرانی اور پریشانی پر پردہ ڈالنے کے لئے اپنی قوم کے سرداروں سے جو اس کے اردگر بیٹھتے تھے یہ کہا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 42–43

23:۔ مقابلے کے لیے جب موسیٰ (علیہ السلام) اور جادوگر آمنے سامنے ہوئے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے جادوگروں سے فرمایا جو کچھ لائے ہو میدان میں ڈالو ” فالقوا حبالھم وعصیھم الخ “ چناچہ انہوں نے اپنی لاٹھیاں اور رسیاں میدان میں ڈالدیں تو وہ سانپوں کی طرح حرکت کرنے لگیں۔ دیکھنے والوں کو ایسا محسوس ہورہا تھا کہ سارا میدان سانپوں سے بھر گیا ہے جادوگروں نے اپنی لاٹھیاں اور رسیاں پھینکتے وقت فرعون کی عزت اور اس کے غلبہ و سلطان کی قسم کھائی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں اپنی مہارت فن پر اس قدر اعتماد تھا کہ وہ اپنی کامیابی یقینی سمجھتے تھے۔ ” فالقی موسیٰ عصاہ “ اب موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی اپنی لاٹھی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 34–51

ربط آیات گزشتہ آیات میں بیان ہوچکا ہے کہ حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) نے فرعون کے دربار میں پہنچ کر اللہ کا پیغام پہنچایا اور کہا کہ یہ رب العالمین کی طرف بھیجے ہوئے ہیں اس نے متکبر انہ انداز میں سوال کیا کہ رب العالمین کیا ہوتا ہے ؟ اس کے جواب میں موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی بعض صفات بیان کیں اور اس کی پہچان کی نشانیاں بتلائیں کہ رب العالمین وہ ہے جو ارض و سماکا پرورش کنندہ ہے اور جس نے تمہیں ہ تمہارے آبائو اجداد کو بھی پیدا کیا ہے۔ مشرق و مغرب کی تمام اشیاء بھی اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں ۔ اس فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو دھمکی دی کہ اگر تم نے میرے سوا کسی دوسرے کو الٰہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ لَہُمْ مُّوْسٰٓي اَلْقُوْا مَآ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ۝ 43 موسی مُوسَى من جعله عربيّا فمنقول عن مُوسَى الحدید، يقال : أَوْسَيْتُ رأسه : حلقته . لقی( افعال) والإِلْقَاءُ : طرح الشیء حيث تلقاه، أي : تراه، ثم صار في التّعارف اسما لكلّ طرح . قال : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] ، قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ [ الأعراف/ 115] ، ( ل ق ی ) لقیہ ( س) الالقآء ( افعال) کے معنی کسی چیز کو اس طرح ڈال دیناکے ہیں کہ وہ دوسرے کو سمانے نظر آئے پھر عرف میں مطلق کس چیز کو پھینک دینے پر القاء کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَكَذلِكَ أَلْقَى…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 35–52

تفسیر : واوحینا الی موسیٰ باقی تمام قصہ کو حذف کر کے جو موسیٰ کی سرگزشت مصر سے تعلق رکھتا تھا صرف بنی اسرائیل کے مصر سے جانے کا تذکرہ شروع فرمایا کیونکہ نشانی قدرت کاملہ اور ان کے کفرو انکار کا نتیجہ ظاہر کرنا مقصود مقام تھا۔ موسیٰ کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ میرے بندوں کو یعنی بنی اسرائیل کو رات میں لے نکل۔ چناچہ موسیٰ ( علیہ السلام) بنی اسرائیل کو مع زن و فرزند کسی عید کے بہانہ سے باجازت فرعون لے نکلے اور اسرائیلیوں نے فرعونیوں سے عید کے بہانہ سے زیورات بھی مستعار لیے تھے جب یہ سب نکل گئے تو فرعون کو خبر ملی کہ وہ نکل کر ملک شام میں جاتے ہیں۔ فرعون نے جابجا ہر کارے بھیج دیے کہ لوگ کمک کو…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قَالَ لَھُمْ مُّوْسٰٓی اَلْقُوْا مَـآ اَنْـتُمْ مُّلْقُوْنَ ۔ فَاَلْقَوْا حِبَالَھُمْ وَعِصِیَّـھُمْ وَقَالُوْا بِعِزَّۃِ فِرْعَوْنَ اِنَّا لَنَحْنُ الْغٰلِبُوْنَ ۔ (الشعرآء : 43، 44) (حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے کہا، پھینکو جو تم پھینکنے والے ہو۔ انھوں نے اپنی رسیاں اور اپنی لاٹھیاں پھینک دیں اور بولے ناموسِ فرعون کی قسم ہم ہی غالب رہنے والے ہیں۔ ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ساحر میدانِ مقابلہ میں میدانِ مقابلہ میں جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ساحرانِ مصر کا آمنا سامنا ہوا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ تم جو اپنا ہنر دکھانا چاہتے ہو، دکھائو۔ وہ اپنے ساتھ رسیاں اور…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 36–43

فہم القرآن ربط کلام : جادوگروں اور موسیٰ (علیہ السلام) کا آپس میں آمنا سامنا۔ سورۃ طٰہٰ آیت 61 تا 65 میں قدرے تفصیل موجود ہے کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کے ساتھ جادوگروں کے سامنے تشریف لائے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے انھیں سمجھایا کہ افسوس تم پر کہ تمہیں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہیں بولنا چاہیے۔ اگر تم اپنے مفاد کی خاطر اس بات پر ڈٹے رہے تو تمہیں اللہ کا عذاب رسوا کر دے گا۔ جس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا وہ ناکام ہوا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس قدر دل سوز اور مؤثر انداز میں انھیں خطاب فرمایا کہ وہ سوچنے پر مجبور ہوئے اور قریب تھا کہ ان کے درمیان موسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

43: قَالَ لَھُمْ مُّوْسٰٓی اَلْقُوْا مَآ اَنْتُمْ مُّلْقُوْنَ (موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو کہا تم ڈالو جو تم نے ڈالنا ہے) جادو میں سے پس عنقریب تمہیں اس کا انجام نظر آجائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 40–51

40۔ لعلنا نتبع السحرۃ ان کانوا ھم الغالبین۔ موسیٰ پر اوربعض نے کہا کہ یہ کہنا کہ ان کا بطور استہزاء کے تھا، بالسحرۃ سے مراد موسیٰ و ہارون اور ان کی قوم کے متعلق تھا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 36–48

36 تا 49: جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے اوصاف بیان کر کے فوعون کو باتوں سے قائل کیا اور عصا اور یدبیضاء کا معجزہ دکھا کر بھی اس کو قائل کیا تو فرعون نے اپنے سرداروں کو ابھارا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ یہ دو شخص بڑے جادوگر معلوم ہوتے ہیں کہ اپنے جادو کے زور سے یہ تمہاری بادشاہت تمہارا ملک چھین لیویں ان کے جادو سے بچنے کی تمہاری کیا صلاح اور مصلحت ہے بیان کرو انہوں نے فرعون کی عملداری کی سب بستیوں کے بڑے بڑے جادوگروں کو بلوانے کی صلاح دی اور وہ جادوگر آئے اور مقابلہ ہو کر آخر کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) غالب رہے یہاں بعضے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 10–68

آیت نمبر 10 سے 68 اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں موسیٰ (علیہ السلام) کی مدح وثنا اور ان کے واقعات کا بار بار جتنا اعادہ کیا ہے اتنا کسی اور واقعے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ عظیم حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس قصے میں اہل ایمان اور اہل کفر کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے طرز عمل کی تفصیل ہے نیز موسیٰ (علیہ السلام) صاحب شریعت کبری اور صاحب تورات تھے جو قرآن عظیم کے بعد سب سے افضل کتاب ہے۔ فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجئے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندادی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، ان کو رسول بنا کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

28 حضرت موسیٰ کے اعتماد و وثوق کا مظہر و نمونہ : کہ حضرت موسیٰ نے پورے اعتماد و وثوق سے کہا کہ " ڈال دو جو کچھ کہ تم لوگوں کو ڈالنا ہے " اور حضرت موسیٰ نے یہ بات جادوگروں کے پوچھنے پر ارشاد فرمائی کہ اس طرح حق کا غلبہ زیادہ نکھر کر سامنے آنے والا تھا۔ سو دیکھا آپ نے کہ حق پرستی انسان کو کس قدر قوت، ثابت قدمی اور اطمینان قلب سے بہرہ ور کردیتی ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) یکا و تنہا ہونے کے باوجود اتنے خوفناک اور رعب دار منظر میں بھی اپنے رب پر توکل کرتے ہوئے کامل اطمینان سے ان کو جواب دیتے ہیں ۔ { اَلْقُوْا مَا اَنْتُمْ مُلْقُوْنَ } ۔ " ڈال دو جو کچھ کہ تم کو ڈالنا ہے "۔ سو اس پر انہوں نے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 10–68

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ تشریح : اس واقعہ میں بیشمار نصیحتیں ‘ اللہ کے کمالات ‘ عجزو انکساری اور سب سے بڑھ کر توکل علی اللہ کا بہت زبردست سبق ملتا ہے۔ ایمان کامل انسان کے اندر اس قدر ہمت ‘ جرأت ‘ بہادری اور معرفت پیدا کردیتا ہے کہ انسان مادی اصولوں سے بےنیاز ہو کر روحانی دنیا میں گم ہوجاتا ہے اور اس کو اللہ ‘ اس کی مدد ‘ اس کا سایہ دنیا کے ہر خطرے سے محفوظ بےنیاز کردیتا ہے۔ جیسا کہ سید حسین نصر صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں : ” سچے مومن کی فراست تکمیل کو پہنچ جاتی ہے جیسا کہ اللہ نے فرمایا ” اللہ کی یاد میں دلوں کا سکون ہے۔ “ ( سورة رعد آیت : 28) ایسا شخص جو اس حالت میں ہو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 34–51

آیات 34 تا 51 اسرار و معارف تو فرعون موسیٰ علہی السلام سے مخاطب ہونے کی بجائے اپنے امراء دربار سے کہنے لگا کہ دیکھو کتنا ماہر جادوگر ہے اس کے ارادے تو یہ نظر آتے ہیں کہ جادو کے زور سے ملک ہی چھین لے گا اور تم سب کو یہاں سے بھگا دیگا حالانکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے دعوت الی اللہ دی تھی اور بنی اسرائیل کو آزاد کرنے کی بات ارشاد فرمائی تھی۔ ان کی حکومت یا ملک تک کی بات نہ کی تھی۔ فرعون چونکہ دلائل میں لاجواب ہوچکا تھا اس لیے ادھر کی بات بنا کر اپنے امراء کو ساتھ رکھنے کا آرزومند تھا چناچہ کہنے لگا اب آپ لوگ جو مشورہ دیں گے اسی کے مطابق عمل کیا جاسکے گا تو امراء نے مشورہ دیا کہ فی الحال موسیٰ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

11 ۔ اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے ان کو حکم دیا کہ اچھا تم جادو کرو کیونکہ جادو کفر ہے اور ایک پیغمبر کفر کی اجازت کیسے دے سکتا ہے۔ بلکہ پہلے جادوگروں نے کہا : ” اما ان تلقی واما ان تکون اول من القی “ یا تم پہلے ڈالو یا ہم ڈالتے ہیں۔ (طٰہ :65) اس پر حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے ” القوا “ فرمایا تاکہ دلیل سے مغلوب ہوجائیں اور لوگوں کو بھی پتہ چل جائے کہ ان کا معجزہ جادو کی کوئی قسم نہیں ہے (شوکانی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(26:43) ملقون۔ اسم فاعل جمع مذکر ۔ القاء مصدر (باب افعال) اصل میں ملقیون تھا۔ ڈالنے والے۔ پیش کرنے والے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 34–51

لغات القرآن : آیت نمبر 34 تا 51 : ساحر علیم (ماہر جادو گر۔ بہت جاننے والا جادوگر) ‘ ماذا تامرون (تم کیا مشورہ دیتے ہو۔ تم کیا کہتے ہو) ‘ ارجہ (چھوڑدے اس کو۔ اس کو مہلت دے) ‘ حشرین (جمع کرنے والے۔ ہر کارے) ‘ میقات (مقرر وقت۔ مقرر جگہ) مجتمعون ( جمع ہونے والے) ‘ المقربین (قریب بیٹھنے والے) ‘ حبال (حبل) رسیاں ‘ عصی (لاٹھیاں) ‘ تلقف (نگلنے لگا) ‘ یا فکون ( وہ کھیل کھلونے بناتے ہیں) ‘ کبیر کم ( تمہارا بڑا۔ تمہارا استاد) ‘ اقطعن ( میں ضرور کاٹ ڈالوں گا) ‘ ایدی (ایدین) دونوں ہاتھو ‘ ارجل (رجل) پاؤں ‘ اصلبن (میں ضرور پھانسی چڑھادوں گا) ‘ لاضیر (کوئی حرج نہیں) ‘ منقلبون (پلٹ کر جانے والے) نطمع ( ہم…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 36–48

(ف 1) فرعون سے سرداروں نے یہ کہا کہ ان دونوں کو مہلت دیدو، کیونکہ فرعون نے موسیٰ کے شہید کرنے کا ارادہ کیا تھا اس پر اس کے سرداروں نے اس کو قتل سے منع کیا اور کہا کہ قتل سے لوگوں کے دل میں یہ شبہ پیدا ہوجائے گا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) میں فرعون نے کوئی ایسی ہی زبردست غلبہ کی بات دیکھی تھی جوان کو زندہ رکھنا مناسب نہیں خیال کیا۔ اس لیے موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) ان دونوں جادوگروں سے مقابلہ کرانا ہے اور سب کے سامنے ان دونوں کو ہرانا مناسب ہے ان کے قتل کا ارادہ مناسب نہیں ہے۔ اور اپنی بادشاہت کے شہروں میں نقبیوں کو بھیج دے تاکہ وہ تیرے پاس بڑے جادوگر واقف کاروں کو لے آئیں تب فرعون نے اپنے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 36–43

حل لغات :۔ ارجہ ۔ ڈھیل دیجئے ۔ یا توقف کیجئے ۔ ارجہ سے امر ہے جسے معنے تاخیرہ تعویق میں ڈالنے کے ہیں

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

43۔ باہمی گفتگو میں موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ طے ہوا کہ پہلے جادوگر ڈالیں گے چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ان جادوگروں سے فرمایا تمہیں جو کچھ ڈالنا ہے وہ ڈالو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

موسیٰ (علیہ السلام) نے آتے ہی ان کو مخاطب کرلیا کہ پیش کرو جو تم لائے ہو : 43۔ اختصار کے پیش نظر درمیان سے ایک حصہ حذف کردیا گیا ‘ فریقین فریقین میدان میں جمع ہوئے میدان میں اللہ کے رسول موسیٰ (علیہ السلام) نے ان مذہبی ٹھیکہ داروں کو مخاطب کرکے تبلیغ دین کی اور ان کو واضح الفاظ میں فرمایا کہ افسوس تم پر ” دیکھو اللہ پر جھوٹی تہمت نہ لگاؤ ایسا نہ ہو کہ وہ کوئی عذاب بھیج کر تمہاری جڑ ہی اکھاڑ دے تم کو معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ پر جھوٹ بولنے والے یقینا نامراد ہو کر رہتے ہیں ۔ “ تفصیل کے لئے سورة طہ کی آیت 61 کی تفسیر پر ایک نظر ڈال لیں بلکہ آیت 62 کا حاشیہ بھی ملاحظہ کریں :

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary. أَلْقُوا مَا أَنتُم مُّلْقُونَ Musa (علیہ السلام) said to them, "Throw you down what you are to throw." (26:43) Sayyidna Musa (علیہ السلام) said to the magicians ` You show the magic you wish to show'. With a cursory look one might be inclined to think that Sayyidna Musa (علیہ السلام) ordered them to perform their magic. But with a little deep thinking it becomes clear that actually it was not an order from Sayyidna Musa (علیہ السلام) to 'show magic, but the real intention was to demonstrate the fallacy of magic. This demonstration was not possible without the magic shown by…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 43–44

36 As soon as they cast down their cords and staffs, these started moving like so many snakes- towards Moses. This has been described in greater detail at other places in the Qur'an. According to Al-A`raf: 116: "When they threw down their devices, they bewitched the eyes of the people and terrified their hearts: for they had indeed produced a great magic." And according to Ta Ha: 66, 67: "Suddenly it so appeared to Moses that their cords and staffs were running about by the power of their magic, and Moses' heart was filled with fear."

Read the full tafseer →