Explained with ayahs 38–48
مناظرہ کے بعد مقابلہ
مناظرہ زبانی ہوچکا۔ اب مناظرہ عملا ہو رہا ہے اس مناظرہ کا ذکر سورة اعراف سورة طہ اور اس سورت میں ہے۔ قبطیوں کا ارادہ اللہ کے نور کے بجھانے کا تھا اور اللہ کا ارادہ اس کی نورانیت کے پھیلانے کا تھا۔ پس اللہ کا ارادہ غالب رہا۔ ایمان و کفر کا مقابلہ جب کبھی ہوا ایمان کفر پر غالب رہا۔ اللہ تعالیٰ حق کو غالب کرتا ہے باطل کا سر پھٹ جاتا ہے اور لوگوں کے باطل ارادے ہوا میں اڑ جاتے ہیں۔ حق آجاتا ہے باطل بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔ یہاں بھی یہ ہوا ہر ایک شہر میں سپاہی بھیجے گئے۔ چاروں طرف سے بڑے بڑے نامی گرامی جادوگر جمع کئے گئے جو اپنے فن میں کامل اور استاد زمانہ تھے کہا گیا ہے کہ ان کی…
Read the full tafseer →سورة الشُّعَرَآء 35
اور یہ تھا وہ بڑے سے بڑا اجر جو ان خادمان دین و ملت کو بادشاہ وقت کے ہاں سے مل سکتا تھا۔ یعنی روپیہ پیسہ ہی نہیں ملے گا، دربار میں کرسی بھی نصیب ہوجائے گی۔ اس طرح فرعون اور اس کے ساحروں نے پہلے ہی مرحلے پر نبی اور جادوگر کا عظیم اخلاقی فرق خود کھول کر رکھ دیا۔ ایک طرف وہ حوصلہ تھا کہ بنی اسرائیل جیسی پسی ہوئی قوم کا ایک فرد دس سال تک قتل کے الزام میں روپوش رہنے کے بعد فرعون کے دربار میں درّانہ آکھڑا ہوتا ہے اور دھڑلّے کے ساتھ کہتا ہے کہ میں اللہ رب العالمین کا بھیجا ہوا ہوں، بنی اسرائیل کو میرے حوالے کر۔ فرعون سے دو بدو بحث کرنے میں ادنیٰ سی جھجک بھی محسوس نہیں کرتا۔ اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–42
خلاصہ تفسیر
(حضرت موسیٰ ؑ کے جو یہ معجزات ظاہر ہوئے تو) فرعون نے اہل دربار سے جو اس کے آس پاس (بیٹھے) تھے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ بڑا ماہر جادوگر ہے اس کا (اصل) مطلب یہ ہے کہ اپنے جادو (کے زور) سے (خود رئیس ہوجاوے اور) تم کو تمہاری زمین سے باہر کر دے (تاکہ بلا مزاحمت غیر اپنی قوم کو لے کر ریاست کرے) سو تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو ؟ درباریوں نے کہا کہ آپ ان کو اور ان کے بھائی کو (چندے) مہلت دیجئے اور (اپنے ملک کے حدود کے) شہروں میں (گرد اوروں کو یعنی) چپراسیوں کو (حکمنامے دے کر) بھیج دیجئے کہ وہ (سب شہروں سے) سب ماہر جادوگروں کو (جمع کر کے) آپ کے پاس لا کر حاضر کردیں، غرض وہ جادوگر ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
فرعون کی طرف سے ساحروں کی حوصلہ افزائی
ساحر جب فرعون کے سامنے حاضر ہوئے تو انہوں نے عام پیشہ وروں کی طرح یہ التجا پیش کی کہ اگر ہم اس مقابلے میں غالب رہے تو سرکار سے بھرپور انعام ملے گا نا ! فرعون نے ان کو اطمینان دلایا کہ انعام تو جو ملنا ہے وہ ملے ہی گا۔ مزید برآں تم پر ایں جانب کی یہ نوازش بھی ہوگی کہ تم مقربنی بارگاہ شاہی میں شامل کئے جائو گے !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–43
43-1حضرت موسیٰ علیہ کی طرف سے جادوگروں کو پہلے اپنے کرتب دکھانے کے لئے کہنے میں یہ حکمت معلوم ہوتی ہے کہ ایک تو ان پر یہ واضح ہوجائے کہ اللہ کے پیغمبر اتنی بڑی تعداد میں نامی گرامی جادوگروں کے اجتماع اور ان کی ساحرانہ شعبدہ بازیوں سے خوف زدہ نہیں ہے۔ دوسرا یہ مقصد بھی ہوسکتا ہے کہ جب اللہ کے حکم سے یہ ساری شعبدہ بازیاں آن واحد میں ختم ہوجائیں گی تو دیکھنے والوں پر اس کے اچھے اثرات مرتب ہونگے اور شاید اس طرح زیادہ لوگ اللہ پر ایمان لے آئیں۔ چناچہ ایسا ہی ہوا، بلکہ جادوگر ہی سب سے پہلے ایمان لے آئے، جیسا کہ آگے آرہا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 33–43
10: یعنی چمک دار ہوگیا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
فلما جآء ……المقربین (42)
یہ ہے پوزیشن کرایہ کے ان معاونین کی جو فرعون پورے ملک سے پیغمبر خدا کے مقابلے کے لئے جمع کر کے لایا ہے۔ اس نے ان کی خدمات چند ٹکوں کے عوض خریدی ہیں۔ ان کے سامنے نہ کوئی قومی مسئلہ ہے اور نہ کوئی مقصد اور کوئی نظریہ ہے۔ وہ تو صرف اجر اور مفادات کے بندے ہیں اور ہر زمان و مکان اور ہر دور میں ہمیشہ سرکش ، حکمران کرایہ کے ایسے لوگوں کی خدمات حاصل کرتے ہیں۔
اور یہ لوگ بھی اپنی چالاکی ، شعبدہ بازی اور مہارت اور محنت کی قیمت چکاتے ہیں اور فرعون بھی اس مشکل گھڑی میں ان کے ساتھ زیادہ سے زیادہ اجر اور انعامات کا وعدہ کرتا ہے۔ وہ وعدہ کرتا ہے کہ یہ لوگ ہمیشہ میرے مقرب ہوں گے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
1 یعنی جب ساحرین نے کہا کہ موسیٰ پہلے اپنی لاٹھی ڈالتے ہو، یا ہم ڈالیں، اس کے جواب میں فرمایا کہ تم ہی اپنی قوت خرچ کر دیکھو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
آیت 42 قَالَ نَعَمْ وَاِنَّکُمْ اِذًا لَّمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ ”
خلعتیں اور انعامات بھی ملیں گے اور اس کے علاوہ تم لوگوں کو دربار میں اعلیٰ مناصب عطا کر کے میں اپنے مقرب مصاحبین میں بھی شامل کرلوں گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
32 مقررہ وقت سے پہلے جب تمام جادوگر اطراف و اکناف سے دارالخلافہ پہنچ گئے تو انہوں نے مل کر فرعون سے سوال کیا کہ اگر ہم کامیاب ہوگئے تو ہمیں کچھ معاوضہ یا انعام و اکرام بھی ملے گا ؟ جادوگروں کے اس سوال سے ان کی ذہنیت سامنے آجاتی ہے کہ وہ جو کچھ کرتے ہیں۔ پیٹ کے دھندے کے طور پر کرتے ہیں۔ اس سے بلند ان کا کوئی مطمع نظر ہوتا ہی نہیں۔ جبکہ نبی لوگوں کے معاوضہ سے مطلقاً بےنیاز ہوتا ہے وہ بےلوث ہو کر محض اللہ کی رضا مندی کی خاطر اپنا فریضہ سرانجام دیتا ہے۔
فرعون کی اس وقت جان پر بنی ہوئی تھی۔ جادوگروں کے اس وال پر فوراً کہنے لگا۔ محض انعام و کرام کی کیا بات کرتے ہو اگر تم کامیاب ہوگئے میں انعام و…
Read the full tafseer →36۔ فرعون نے کہا کہ انعام محض مالی ہی نہ رہے گا، بلکہ ” اسٹیٹ “ تمہاری اور بھی ہر طرح سرپرستی کرے گی، مالی وجان دونوں سے تمہاری حوصلہ افزائی ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–51
آیت نمبر 34 تا 51
ترجمہ : فرعون اپنے اردگرد موجود مصاحبین سے کہنے لگا یہ تو کوئی بڑا دانا جادوگر ہے یعنی علم سحر میں بڑا فائق ہے یہ تو یہ چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے ذریعہ تمہیں تمہاری سر زمین سے نکال دے سو تم کیا مشورہ دیتے ہو ؟ درباریوں نے کہا آپ اس کو اور اس کے بھائی کو (کچھ) مہلت دیجئے یعنی ان کے معاملہ کو فی الحال مؤخر کر دیجئے اور شہروں میں (جادوگروں کو) جمع کرنے والے بھیج دیجئے جو آپ کے پاس ہر ذی علم ماہر جادوگر کو لے آئیں جو موسیٰ پر علم سحر میں فائق ہوں پھر ایک معین دن کو مقررہ وقت پر جادو گر جمع کرلئے گئے اور وہ عید کے دن کا چاشت کا وقت تھا (یعنی یوم عاشوریٰ کا) اور لوگوں سے کہا گیا کہ…
Read the full tafseer →قال نعم وانکم اذا لمن المقربین۔ فرعون نے کہا ہاں تم اس وقت (جبکہ غالب آجاؤ گے شاہی)
مقرب ہوجاؤ گے۔
جادوگروں نے بصورت غلبہ معاوضہ کی طلب ظاہر کی تھی فرعون نے ان کی طلب سے زیادہ اپنا مقرب بنانے کا وعدہ کرلیا۔ اس کے بعد جادوگروں نے حضرت موسیٰ سے کہا آپ جو کچھ پھینکنا چاہتے ہیں پہلے پھینکئے یا ہم کو اجازت دیجئے کہ ہم پہلے (اپنا جادو) پھینکیں ‘ سورة اعراف میں یہ ٹکڑا گزر چکا ہے کہ جادوگروں نے موسیٰ سے کہا امَّا اَنْ تُلْقِیَ وَاِمَّا اَنْ نَکُوْنَ نَحْنُ الْمُلْقِیْنَ ۔
Read the full tafseer →(42) فرعون نے کہا ہاں تمہیں بڑا انعام ملے گا اور مزید یہ کہ تم میرے خصوصی مقرب بن جاؤگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 38–43
فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِمِيْقَاتِ۔۔ : سورة طٰہٰ (59) میں اس مقرر کردہ وقت اور مقام کا ذکر گزر چکا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–51
( قال فرعون وما رب العلمین۔۔۔۔ )
قال فرعون وما رب العٰلمین جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) میں فرعون پر غالب آگئے اور فرعون لعین نے تربیت اور دوسری چیزوں میں کوئی دلیل نہ پائی تو وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے معاوضہ کے لیے آپ کے قول رسول رب العٰلمین کی طرف متوجہ ہوئے تو اس نے ایسا سوال کیا جو مجہول چیز کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے۔ مکی اور دوسرے علماء نے کہا : جس طرح اجناس کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے، اسی وجہ سے ما کے ساتھ سوال کیا۔ مکی نے کہا : ایک اور جگہ من کے ساتھ بھی استفہام واقع ہوا ہے یہ اس کے مشابہ ہے کہ یہاں کئی مواطن ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مخلوقات میں سے ایسی صفات لائے جو اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–51
1۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” یعنی طور کے داہنی جانب سے ان کو آواز دی گئی۔
2۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جرری وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ ایک جان کے قتل کرنے کا الزام جو ان کے درمیان قتل ہوا آیت ” وفعلت فعلتک التی فعلت “ سے مراد بھی انسان کا قتل ہے۔ آیت ” فعلتہا اذا وانا من الضالین “ یعنی جب میں چوک جانے والوں میں سے تھا۔
3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ یعنی ایک جان کا قتل کرنا آیت ” الم لربک فینا ولیدا “ یعنی ان کو فرعون والوں سے اٹھا لیا سو اس بچے کو…
Read the full tafseer →قَالَ [ (فرعون نے) کہا ] نَعَمْ [ ہاں ] وَاِنَّكُمْ [ اور بیشک تم لوگ ] اِذًا [ تب تو ] لَّمِنَ الْمُقَرَّبِيْنَ [ ضرور ہم ہی غالب ہونے والے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–52
بحکم الٰہی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو ہمراہ لے کر راتوں رات چلا جانا اور فرعون کا پیچھا کرنا پھر لشکروں سمیت غرق ہونا
سیدنا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ شانہٗ کا حکم ہوا کہ میرے بندوں کو راتوں رات لے کر مصر سے نکل جاؤ۔ اور سمندر کی طرف جانا سمندر پر پہنچو گے تو اسے خشک پاؤ گے۔ اپنی قوم کو لے کر گزر جانا تمہارے پیچھے دشمن لگے گا بےفکر رہنا اور نڈر رہنا کما قال تعالیٰ فی سورة طٰہٰ (لاَ تَخَافُ دَرْکًا وَّ لاَ تَخْشٰی) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کو لے کر چل دیئے فرعون کو پہلے اندیشہ تھا کہ کہیں یہ مصر سے نہ نکل جائیں، وہ لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو سچا نبی تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–51
ساحران فرعون کا موسیٰ (علیہ السلام) سے مقابلہ
قال اللہ تعالیٰ قال للملا حولہ ان ھذا لسحر علیم الیٰ ان کنا اول المومنین۔
فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کے جب یہ دو معجزے (معجزہ عصا اور معجزہ یدبیضا) دیکھے تو اسکو ڈر ہوا کہ اہل دربار شبہ میں نہ پڑجائیں اس لیے فرعون نے لوگوں کے سامنے اپنا بھرم رکھنے کے لئے یہ کہا کہ یہ کوئی خاص قسم کا سحر ہے اس لیے ملک کے جادوگروں کو جمع کر کے اسکا مقابلہ کرایا جائے اس کا خیال یہ تھا کہ ایک جادوگر ملک کے تمام جادوگروں کا مقابلہ نہیں کرسکتا اس لیے فرعون نے اپنی اندرونی حیرانی اور پریشانی پر پردہ ڈالنے کے لئے اپنی قوم کے سرداروں سے جو اس کے اردگر بیٹھتے تھے یہ کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–43
23:۔ مقابلے کے لیے جب موسیٰ (علیہ السلام) اور جادوگر آمنے سامنے ہوئے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے جادوگروں سے فرمایا جو کچھ لائے ہو میدان میں ڈالو ” فالقوا حبالھم وعصیھم الخ “ چناچہ انہوں نے اپنی لاٹھیاں اور رسیاں میدان میں ڈالدیں تو وہ سانپوں کی طرح حرکت کرنے لگیں۔ دیکھنے والوں کو ایسا محسوس ہورہا تھا کہ سارا میدان سانپوں سے بھر گیا ہے جادوگروں نے اپنی لاٹھیاں اور رسیاں پھینکتے وقت فرعون کی عزت اور اس کے غلبہ و سلطان کی قسم کھائی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہیں اپنی مہارت فن پر اس قدر اعتماد تھا کہ وہ اپنی کامیابی یقینی سمجھتے تھے۔ ” فالقی موسیٰ عصاہ “ اب موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی اپنی لاٹھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–51
ربط آیات
گزشتہ آیات میں بیان ہوچکا ہے کہ حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) نے فرعون کے دربار میں پہنچ کر اللہ کا پیغام پہنچایا اور کہا کہ یہ رب العالمین کی طرف بھیجے ہوئے ہیں اس نے متکبر انہ انداز میں سوال کیا کہ رب العالمین کیا ہوتا ہے ؟ اس کے جواب میں موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی بعض صفات بیان کیں اور اس کی پہچان کی نشانیاں بتلائیں کہ رب العالمین وہ ہے جو ارض و سماکا پرورش کنندہ ہے اور جس نے تمہیں ہ تمہارے آبائو اجداد کو بھی پیدا کیا ہے۔ مشرق و مغرب کی تمام اشیاء بھی اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں ۔ اس فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو دھمکی دی کہ اگر تم نے میرے سوا کسی دوسرے کو الٰہ…
Read the full tafseer →قَالَ نَعَمْ وَاِنَّكُمْ اِذًا لَّمِنَ الْمُقَرَّبِيْنَ 42
نعم (هاں)
و «نَعَمْ» كلمةٌ للإيجابِ من لفظ النِّعْمَة، تقول : نَعَمْ ونُعْمَةُ عَيْنٍ ونُعْمَى عَيْنٍ ونُعَامُ عَيْنٍ ، ويصحُّ أن يكون من لفظ أَنْعَمَ منه، أي : أَلْيَنَ وأَسْهَلَ.
نعم یہ کلمہ ایجاب ہے اور لفظ نعمت سے مشتق ہے ۔ اور نعم ونعمۃ عین ونعمیٰ عین ونعام عین وغیرہ ان سب کا ماخز نعمت ہی ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ تمام مرکبات انعم سے ماخوذ ہوں جس کے معنی نرم اور سہل بنانے کے ہیں ۔
قرب
الْقُرْبُ والبعد يتقابلان . يقال : قَرُبْتُ منه أَقْرُبُ «3» ، وقَرَّبْتُهُ أُقَرِّبُهُ قُرْباً وقُرْبَاناً ، ويستعمل ذلک في المکان، وفي…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–52
تفسیر : واوحینا الی موسیٰ باقی تمام قصہ کو حذف کر کے جو موسیٰ کی سرگزشت مصر سے تعلق رکھتا تھا صرف بنی اسرائیل کے مصر سے جانے کا تذکرہ شروع فرمایا کیونکہ نشانی قدرت کاملہ اور ان کے کفرو انکار کا نتیجہ ظاہر کرنا مقصود مقام تھا۔ موسیٰ کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ میرے بندوں کو یعنی بنی اسرائیل کو رات میں لے نکل۔ چناچہ موسیٰ ( علیہ السلام) بنی اسرائیل کو مع زن و فرزند کسی عید کے بہانہ سے باجازت فرعون لے نکلے اور اسرائیلیوں نے فرعونیوں سے عید کے بہانہ سے زیورات بھی مستعار لیے تھے جب یہ سب نکل گئے تو فرعون کو خبر ملی کہ وہ نکل کر ملک شام میں جاتے ہیں۔ فرعون نے جابجا ہر کارے بھیج دیے کہ لوگ کمک کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
فَلَمَّا جَآئَ السَّحَرَۃُ قَالُوْا لِفِرْعَوْنَ اَیِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ کُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ ۔ قَالَ نَعَمْ وَاِنَّـکُمْ اِذًا لَّمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ ۔ (الشعرآء : 41، 42)
(پس جب جادوگر میدان میں آئے تو انھوں نے فرعون سے کہا، کیا ہمیں کوئی انعام بھی ملے گا، اگر ہم غالب رہے۔ فرعون نے کہا، ہاں۔ اور اس وقت تم مقربین میں سے ہو گے۔ )
ساحروں کی طلب اور فرعون کی حوصلہ افزائی
ان آیات کو پڑھتے ہوئے صاف محسوس ہوتا ہے کہ جادوگروں اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان اس مقابلے کو فرعون اور اس کے اعیانِ سلطنت حق و باطل کا معرکہ قرار دے چکے ہیں اور اسی حوالے سے ملک بھر میں جوش و جذبہ پیدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–43
فہم القرآن
ربط کلام : جادوگروں اور موسیٰ (علیہ السلام) کا آپس میں آمنا سامنا۔
سورۃ طٰہٰ آیت 61 تا 65 میں قدرے تفصیل موجود ہے کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کے ساتھ جادوگروں کے سامنے تشریف لائے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے انھیں سمجھایا کہ افسوس تم پر کہ تمہیں اللہ تعالیٰ پر جھوٹ نہیں بولنا چاہیے۔ اگر تم اپنے مفاد کی خاطر اس بات پر ڈٹے رہے تو تمہیں اللہ کا عذاب رسوا کر دے گا۔ جس نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا وہ ناکام ہوا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس قدر دل سوز اور مؤثر انداز میں انھیں خطاب فرمایا کہ وہ سوچنے پر مجبور ہوئے اور قریب تھا کہ ان کے درمیان موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →42: قَالَ نَعَمْ (فرعون نے کہا ہاں ! )
قراءت : علی نے نِعَمْ پڑھا ہے اور یہ دونوں لغات ہیں۔
وَاِنَّکُمْ اِذًا لَّمِنَ الْمُقَرَّ بِیْنَ (اور بلاشبہ تم اس وقت شاہی مقرب بن جائو گے) یعنی فرعون نے کہا ہاں ! تمہارے لئے میرے ہاں اجر ہوگا اور اس کے ساتھ ساتھ تم شاہی مقربین میں شامل ہوجائو گے میرے ہاں تمہارا مرتبہ و مقام ہوگا تم میرے درمیان میں سب سے پہلے داخل ہونے والوں میں اور سب سے آخر میں نکلنے والوں میں سے ہوگے۔ جب کہ وہ جادوگروں کا
قول : ائن لنا لاجرًا جزاء شرط کے معنی میں ہوا جیسا کہ اس پر دلالت موجود ہے تو فرعون کا قول وانکم اذالمن المقربین اسی پر معطوف ہے اور اذاؔ کو جواب جزاء کے تقاضے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–51
40۔ لعلنا نتبع السحرۃ ان کانوا ھم الغالبین۔ موسیٰ پر اوربعض نے کہا کہ یہ کہنا کہ ان کا بطور استہزاء کے تھا، بالسحرۃ سے مراد موسیٰ و ہارون اور ان کی قوم کے متعلق تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–48
36 تا 49: جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے اوصاف بیان کر کے فوعون کو باتوں سے قائل کیا اور عصا اور یدبیضاء کا معجزہ دکھا کر بھی اس کو قائل کیا تو فرعون نے اپنے سرداروں کو ابھارا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ یہ دو شخص بڑے جادوگر معلوم ہوتے ہیں کہ اپنے جادو کے زور سے یہ تمہاری بادشاہت تمہارا ملک چھین لیویں ان کے جادو سے بچنے کی تمہاری کیا صلاح اور مصلحت ہے بیان کرو انہوں نے فرعون کی عملداری کی سب بستیوں کے بڑے بڑے جادوگروں کو بلوانے کی صلاح دی اور وہ جادوگر آئے اور مقابلہ ہو کر آخر کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) غالب رہے یہاں بعضے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–68
آیت نمبر 10 سے 68
اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں موسیٰ (علیہ السلام) کی مدح وثنا اور ان کے واقعات کا بار بار جتنا اعادہ کیا ہے اتنا کسی اور واقعے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ عظیم حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس قصے میں اہل ایمان اور اہل کفر کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے طرز عمل کی تفصیل ہے نیز موسیٰ (علیہ السلام) صاحب شریعت کبری اور صاحب تورات تھے جو قرآن عظیم کے بعد سب سے افضل کتاب ہے۔
فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجئے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندادی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، ان کو رسول بنا کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
27 جادوگروں کا پیشہ ورانہ مطالبہ اور فرعون کی طرف سے انعام کا وعدہ : یعنی تمہیں دربار میں کرسی ملے گی۔ آؤ بھگت ہوا کرے گی اور تم درباری لوگوں میں شامل ہوجاؤ گے وغیرہ وغیرہ۔ سو اس سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ ایمان و یقین کی دولت سے محروم لوگوں کے نزدیک اصل چیز دنیائے دوں کا متاع فانی اور اس کا حطام زائل ہی ہے۔ وہ اسی کیلئے جیتے اور اسی کیلئے مرتے ہیں۔ یہاں دیکھیے کہ ان لوگوں کا مقابلہ ان کے اپنے قول وقرار کے مطابق ان کے دین و ایمان اور ملک و ملت کا معاملہ ہے۔ اور ان کے اس مقابلے پر ایک لحاظ سے ان کے مستقبل کا دارومدار ہے۔ مگر اس سب کے باوجود جادوگر سب سے پہلے اپنے اسی مادی فائدے کا مطالبہ کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–68
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ
تشریح : اس واقعہ میں بیشمار نصیحتیں ‘ اللہ کے کمالات ‘ عجزو انکساری اور سب سے بڑھ کر توکل علی اللہ کا بہت زبردست سبق ملتا ہے۔ ایمان کامل انسان کے اندر اس قدر ہمت ‘ جرأت ‘ بہادری اور معرفت پیدا کردیتا ہے کہ انسان مادی اصولوں سے بےنیاز ہو کر روحانی دنیا میں گم ہوجاتا ہے اور اس کو اللہ ‘ اس کی مدد ‘ اس کا سایہ دنیا کے ہر خطرے سے محفوظ بےنیاز کردیتا ہے۔ جیسا کہ سید حسین نصر صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں : ” سچے مومن کی فراست تکمیل کو پہنچ جاتی ہے جیسا کہ اللہ نے فرمایا ” اللہ کی یاد میں دلوں کا سکون ہے۔ “ ( سورة رعد آیت : 28)
ایسا شخص جو اس حالت میں ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–51
آیات 34 تا 51
اسرار و معارف
تو فرعون موسیٰ علہی السلام سے مخاطب ہونے کی بجائے اپنے امراء دربار سے کہنے لگا کہ دیکھو کتنا ماہر جادوگر ہے اس کے ارادے تو یہ نظر آتے ہیں کہ جادو کے زور سے ملک ہی چھین لے گا اور تم سب کو یہاں سے بھگا دیگا حالانکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے دعوت الی اللہ دی تھی اور بنی اسرائیل کو آزاد کرنے کی بات ارشاد فرمائی تھی۔ ان کی حکومت یا ملک تک کی بات نہ کی تھی۔ فرعون چونکہ دلائل میں لاجواب ہوچکا تھا اس لیے ادھر کی بات بنا کر اپنے امراء کو ساتھ رکھنے کا آرزومند تھا چناچہ کہنے لگا اب آپ لوگ جو مشورہ دیں گے اسی کے مطابق عمل کیا جاسکے گا تو امراء نے مشورہ دیا کہ فی الحال موسیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–42
10 ۔ یعنی انعام تو ملے گا ہی۔ اس سے بڑھ کر تمہاری قدردانی یہ کی جائے گی کہ تمہیں اپنے رب (خود فرعون) کے مقربین کا مرتبہ حاصل ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–42
(26:40) لعلنا نتبع السحرۃ۔ (اگر ہمارے جادوگر غالب رہے یعنی یہ مقابلہ جیت گئے تو) شاید ہم جادو گروں کی راہ پر ہی رہ جائیں (اور موسیٰ کے دین سے بچ جائیں)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–51
لغات القرآن : آیت نمبر 34 تا 51 :
ساحر علیم (ماہر جادو گر۔ بہت جاننے والا جادوگر) ‘ ماذا تامرون (تم کیا مشورہ دیتے ہو۔ تم کیا کہتے ہو) ‘ ارجہ (چھوڑدے اس کو۔ اس کو مہلت دے) ‘ حشرین (جمع کرنے والے۔ ہر کارے) ‘ میقات (مقرر وقت۔ مقرر جگہ) مجتمعون ( جمع ہونے والے) ‘ المقربین (قریب بیٹھنے والے) ‘ حبال (حبل) رسیاں ‘ عصی (لاٹھیاں) ‘ تلقف (نگلنے لگا) ‘ یا فکون ( وہ کھیل کھلونے بناتے ہیں) ‘ کبیر کم ( تمہارا بڑا۔ تمہارا استاد) ‘ اقطعن ( میں ضرور کاٹ ڈالوں گا) ‘ ایدی (ایدین) دونوں ہاتھو ‘ ارجل (رجل) پاؤں ‘ اصلبن (میں ضرور پھانسی چڑھادوں گا) ‘ لاضیر (کوئی حرج نہیں) ‘ منقلبون (پلٹ کر جانے والے) نطمع ( ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–48
(ف 1) فرعون سے سرداروں نے یہ کہا کہ ان دونوں کو مہلت دیدو، کیونکہ فرعون نے موسیٰ کے شہید کرنے کا ارادہ کیا تھا اس پر اس کے سرداروں نے اس کو قتل سے منع کیا اور کہا کہ قتل سے لوگوں کے دل میں یہ شبہ پیدا ہوجائے گا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) میں فرعون نے کوئی ایسی ہی زبردست غلبہ کی بات دیکھی تھی جوان کو زندہ رکھنا مناسب نہیں خیال کیا۔ اس لیے موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) ان دونوں جادوگروں سے مقابلہ کرانا ہے اور سب کے سامنے ان دونوں کو ہرانا مناسب ہے ان کے قتل کا ارادہ مناسب نہیں ہے۔ اور اپنی بادشاہت کے شہروں میں نقبیوں کو بھیج دے تاکہ وہ تیرے پاس بڑے جادوگر واقف کاروں کو لے آئیں تب فرعون نے اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–49
[11] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة اعراف حاشیہ 46 صفحہ 384۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–43
حل لغات :۔ ارجہ ۔ ڈھیل دیجئے ۔ یا توقف کیجئے ۔ ارجہ سے امر ہے جسے معنے تاخیرہ تعویق میں ڈالنے کے ہیں
Read the full tafseer →42۔ فرعون نے جواب دیا ہاں ضرور ملے گا اور مزید برآں تم تو اسوقت بارگاہ شاہی کے مقربین میں شامل کر لئے جائو گے ۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی میرے مصاحب رہو گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
ف 3۔ جو جادو کے اثر سے سانپ معلوم ہوتے تھے۔
Read the full tafseer →فرعون کی طرف سے ساحروں کو جو جواب سنایا گیا وہ بڑا عجیب ہے :
42۔ یہ تھا وہ بڑے سے بڑا اجر جو ان خادمان دین وملت کو بادشاہ وقت کے ہاں سے مل سکتا تھا ، فرعون نے کہا کہ تم کو صرف روپیہ وپیسہ ہی نہیں ملے گا دربار میں کرسی بھی نصیب ہوجائے گی اس طرح فرعون اور اس کے پیشوایان دین نے پہلے مرحلے پر نبی اور غیر نبی کا عظیم اخلاق فرق خود ہی کھول کر رکھ دیا ، ایک طرف وہ حوصلہ تھا کہ بنی اسرائیل جیسی پسی ہوئی قوم کا ایک فرد ایک مدت تک روپوش رہنے کے بعد فرعون کے دربار میں خدائی پیغام پہنچانے کے لئے آکھڑا ہوتا ہے اور دھڑلے سے کہتا ہے کہ میں رب ذوالجلال والاکرام کا بھیجا ہوا ہوں ‘ بنی اسرائیل کو میرے حوالے کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–42
أَنْ أَرْسِلْ مَعَنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ
That you must send the children of Isra'i1 with us". (26:17)
Bani Isra'il were the residents of Syria. They wanted to go back to their land but the Pharaoh would not let them. This way four hundred years had passed and they were living in his bondage like slaves. At that time they were six hundred and thirty thousand in number. Sayyidna Musa (علیہ السلام) when presented the message of Truth to the Pharaoh, he also asked him to stop all the cruelties he had perpetrated over Bani Isra'il and to let them go to their homeland. (Qurtubi)
An example of…
Read the full tafseer →35 This was then the highest honour that the king could confer on those who served the creed best Thus, at the very outset, Pharaoh and his magicians manifested by their conduct the great moral distinction that exists between a Prophet and a magician. On the one side, there stood that embodiment of courage and confidence, who in spite of belonging to the suppressed community of the Israelites and having remained to hiding for ten long years on account of a charge of murder, had suddenly appeared in Pharaoh's court to proclaim fearlessly that he had been sent by the Lord of all Creation and…
Read the full tafseer →