Explained with ayahs 38–48
مناظرہ کے بعد مقابلہ
مناظرہ زبانی ہوچکا۔ اب مناظرہ عملا ہو رہا ہے اس مناظرہ کا ذکر سورة اعراف سورة طہ اور اس سورت میں ہے۔ قبطیوں کا ارادہ اللہ کے نور کے بجھانے کا تھا اور اللہ کا ارادہ اس کی نورانیت کے پھیلانے کا تھا۔ پس اللہ کا ارادہ غالب رہا۔ ایمان و کفر کا مقابلہ جب کبھی ہوا ایمان کفر پر غالب رہا۔ اللہ تعالیٰ حق کو غالب کرتا ہے باطل کا سر پھٹ جاتا ہے اور لوگوں کے باطل ارادے ہوا میں اڑ جاتے ہیں۔ حق آجاتا ہے باطل بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔ یہاں بھی یہ ہوا ہر ایک شہر میں سپاہی بھیجے گئے۔ چاروں طرف سے بڑے بڑے نامی گرامی جادوگر جمع کئے گئے جو اپنے فن میں کامل اور استاد زمانہ تھے کہا گیا ہے کہ ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
سورة الشُّعَرَآء 37
یہ حضرت موسیٰ کے مقابلے میں ایک طرف سے محض شکست کا اعتراف نہیں تھا کہ کوئی شخص یہ کہہ کر پیچھا چھڑا لیتا کہ ایک بڑے جادوگر نے چھوٹے جادوگروں کو نیچا دکھا دیا، بلکہ ان کا سجدے میں گر کر اللہ رب العالمین پر ایمان لے آنا گویا برسر عام ہزارہا باشندگان مصر کے سامنے اس بات کا اور اعلان تھا کہ موسیٰ جو کچھ لائے ہیں یہ ہمارے فن کی چیز ہی نہیں ہے، یہ کام تو صرف اللہ رب العالمین ہی کی قدرت سے ہوسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–49
بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ ، یہ کلمہ ان جادوگروں کے لئے بمنزلہ قسم ہے جو زمانہ جاہلیت میں رائج تھی۔ افسوس کہ مسلمانوں میں بھی اب ایسی قسمیں رائج ہوگئی ہیں جو اس سے زیادہ شنیع اور قبیح ہیں مثلاً بادشاہ کی قسم، تیرے سر کی قسم، تیری ڈاڑھی کی قسم یا تیرے باپ کی قبر کی قسم، اس قسم کی قسمیں کھانا شرعاً جائز نہیں، بلکہ ان کے متعلق یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ خدا کے نام کی جھوٹی قسم کھانے میں جو گناہ عظیم ہے ان ناموں کی سچی قسم بھی گناہ میں اس سے کم نہیں (کما فی الروح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
آیت 48-46
اسحروں کا اعتراف حق
ہم دوسروں مقام میں واضح کرچکے ہیں کہ سحر و معجزہ کے فرق کو سب سے زیادہ پرکھنے والا ایک ساحر ہو ہی سکتا ہے اگر اس کے اندر اعتراف حق کی رمق ہو۔ ان ساحروں کے اندر یہ رمق موجود تھی اس وجہ سے وہ اس کو دیکھتے ہی سجدے میں گر پڑے، علی رئوس الاشہاد اپنے ایمان کا اعلان کردیا اور اس تصریح کے ساتھ کہ ہم ایمان لائے رب العالمین، موسیٰ اور ہارون کے رب پر ! اوپر آیات 16 اور 24 میں فرعن کے اس غیظ و غضب کا ذکر گزر چکا ہے جو حضرت موسیٰ کے پیش کردہ رب العالمین کے خلاف وہ ظاہر کرچکا تھا۔ ساحروں نے کچھ لگی لپٹی رکھے بغیر اسی رب العالمین پر اپنے ایمان کا اعلان کیا اور اس کے ساتھ اتنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–49
49-1فرعون کے لئے یہ واقعہ بڑا عجیب اور نہایت حیرت ناک تھا جن جادوگروں کے ذریعے وہ فتح و غلبہ کی آس لگائے بیٹھا تھا وہی نہ صرف مغلوب ہوگئے بلکہ موقع پر ہی وہ اس رب پر ایمان لے آئے، جس نے حضرت موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) کو دلائل و معجزات دے کر بھیجا تھا لیکن بجائے اس کے کہ فرعون بھی غور و فکر سے کام لیتا اور ایمان لاتا، اس نے مکابرہ اور عناد کا راستہ اختیار کیا اور جادوگروں کو ڈرانا دھمکانا شروع کردیا اور کہا کہ تم سب اسی کے شاگرد لگتے ہو اور تمہارا استاد یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سازش کے ذریعے سے تم ہمیں یہاں سے بےدخل کردو۔ (اِنَّ هٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوْهُ فِي الْمَدِيْنَةِ لِتُخْرِجُوْا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–58
12: یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ قرآن کریم نے ان کے لیے ”سجدے میں گرگئے“ کے بجائے ”سجدے میں گرا دئیے گئے“ فرمایا ہے۔ اس میں اشارہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ نے جو معجزہ دکھلایا، وہ اس درجہ موثر تھا کہ اس نے انہیں بےساختہ سجدے میں گرا دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
فالقی السحرۃ سجدین (26 : 36) ” قالوا امنا برب العلمین (26 : 38) رب موسیٰ وھرون (26 : 38) ” ، ۔ “ ایک ہی لمحہ قبل وہ کرایہ کے لوگ تھے اور فرعون کے ساتھ وہ اپنی مہارت اور اجرت کا مول تول کر رہے تھے۔ نہ وہ کوئی نظریہ رکھتے تھے اور نہ ان کے پیش نظر کوئی نصب العین تھا۔ لیکن اب ان کے دلوں تک جو سچئای پہنچ گئی اس نے ان کو پوری طرح بدل دیا۔ اس واقعہ نے انہیں ہلا کر رکھ دیا۔ ان کی دینی دنیا میں ایک زلزلہ پیدا ہوگیا اور انہوں نے اپنی آنکھوں سے جو سچائی دیکھی وہ ان کے دلوں کے تہہ تک پہنچ گئی۔ اس نے ان کے دل پر تمام پردے زائل کردیئے اور گمراہی کی جو تہیں ان کے دلوں پر جمی ہوئی تھیں ، وہ صاف ہوگئیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–49
4 یعنی موسیٰ تمہارا بڑا استاد ہے، آپس میں سازش کر کے آئے ہو کہ تم یہ کرنا، ہم یوں کہیں گے اور حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " تمہارا بڑا " کہا رب کو " یعنی موسیٰ اور تم ایک استاد کے شاگرد ہو " واللہ اعلم۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
آیت 49 قَالَ اٰمَنْتُمْ لَہٗ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَکُمْ ج ”
فرعونُ پر جلال انداز میں گرجا کہ تمہاری یہ جرأت کہ مابدولت کی اجازت کے بغیر تم لوگوں نے موسیٰ اور ہارون کے رب پر ایمان لانے کا اعلان کردیا !
اِنَّہٗ لَکَبِیْرُکُمُ الَّذِیْ عَلَّمَکُمُ السِّحْرَ ج ”
کہ مجھے تمہاری سازش کا پتا چل گیا ہے۔ یقیناً یہ تمہارا استاد اور گرو گھنٹال ہے جس سے تم جادو سیکھتے رہے ہو۔ تمہارا یہاں آنا اور مقابلہ کرنا محض ایک ڈھونگ تھا اور اب اس سے یوں تمہارا ہار مان لینا تمہاری باہمی ملی بھگت اور نورا کشتی کا نتیجہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
37 فرعون ایک تو بھرے مجمع میں اپنی واضح شکست دیکھ چکا تھا۔ یہ رنج ابھی تازہ ہی تھا کہ اوپر سے اس کے جادوگروں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کی رسالت کا اور اپنے ایمان لانے کا اقرار کرلیا تو وہ اس دوہرے صدمہ سے سیخ پا ہوگیا۔ اسے خطرہ یہ تھا کہ اب یہ سارا مجمع اور اس کے بعد اس کی قوم بھی اس کا ساتھ چھوڑ کر ایمان لے آئیں گے۔ لہذا اب دو تشدد پر اتر آیا۔ وہ مقابلہ سے پہلے اپنے ہی اس اقرار کو بھی بھول گیا جو وہ کہہ رہا تھا کہ ہمیں جادوگروں کا ہیساتھ دینا پڑے گا۔ فوراً ایک تجویز اس کے ذہن میں آئی اور اس نے جادوگروں پر یہ الزام لگا دیا کہ یہ جادوگر تو پہلے ہی موسیٰ (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
41۔ یعنی شرک چھوڑ کر توحید پر ایمان لے آئے۔” پروردگار عالم “ کے تخیل ہی سے یہ اب تک ناآشنا تھے، اور اس کا نام بھی انہوں نے دونوں پیغمبروں کی زبان سے سنا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–51
آیت نمبر 34 تا 51
ترجمہ : فرعون اپنے اردگرد موجود مصاحبین سے کہنے لگا یہ تو کوئی بڑا دانا جادوگر ہے یعنی علم سحر میں بڑا فائق ہے یہ تو یہ چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے ذریعہ تمہیں تمہاری سر زمین سے نکال دے سو تم کیا مشورہ دیتے ہو ؟ درباریوں نے کہا آپ اس کو اور اس کے بھائی کو (کچھ) مہلت دیجئے یعنی ان کے معاملہ کو فی الحال مؤخر کر دیجئے اور شہروں میں (جادوگروں کو) جمع کرنے والے بھیج دیجئے جو آپ کے پاس ہر ذی علم ماہر جادوگر کو لے آئیں جو موسیٰ پر علم سحر میں فائق ہوں پھر ایک معین دن کو مقررہ وقت پر جادو گر جمع کرلئے گئے اور وہ عید کے دن کا چاشت کا وقت تھا (یعنی یوم عاشوریٰ کا) اور لوگوں سے کہا گیا کہ…
Read the full tafseer →قالوا امنا برب العلمین۔ کہہ اٹھے ہم رب العلمین پر ایمان لے آئے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
(46 تا 48) یہ دیکھتے ہی تمام جادوگر سجدہ میں گرگئے ان کے تیزی کے ساتھ سجدہ کرنے کو گرنے سے تعبیر فرمایا اور جب تمام ان کی رسیوں اور لکڑیوں کا حال ختم ہوگیا تو جادوگر سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں، بلکہ اللہ کی طرف سے عطا کردہ معجزہ ہے اور پکار پکار کر کہنے لگے کہ ہم رب العالمین پر ایمان لے آئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔۔ :”ہم تمام جہانوں کے رب پر ایمان لے آئے“ کے بعد ”موسیٰ اور ہارون کے رب پر“ اس لیے کہا کہ کہیں فرعون کو شبہ نہ ہو کہ انھوں نے اسے تمام جہانوں کا رب قرار دے دیا ہے، کیونکہ وہ بھی اپنے آپ کو رب کہتا تھا۔ (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–51
( قال فرعون وما رب العلمین۔۔۔۔ )
قال فرعون وما رب العٰلمین جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) میں فرعون پر غالب آگئے اور فرعون لعین نے تربیت اور دوسری چیزوں میں کوئی دلیل نہ پائی تو وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے معاوضہ کے لیے آپ کے قول رسول رب العٰلمین کی طرف متوجہ ہوئے تو اس نے ایسا سوال کیا جو مجہول چیز کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے۔ مکی اور دوسرے علماء نے کہا : جس طرح اجناس کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے، اسی وجہ سے ما کے ساتھ سوال کیا۔ مکی نے کہا : ایک اور جگہ من کے ساتھ بھی استفہام واقع ہوا ہے یہ اس کے مشابہ ہے کہ یہاں کئی مواطن ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مخلوقات میں سے ایسی صفات لائے جو اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–51
1۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” یعنی طور کے داہنی جانب سے ان کو آواز دی گئی۔
2۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جرری وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ ایک جان کے قتل کرنے کا الزام جو ان کے درمیان قتل ہوا آیت ” وفعلت فعلتک التی فعلت “ سے مراد بھی انسان کا قتل ہے۔ آیت ” فعلتہا اذا وانا من الضالین “ یعنی جب میں چوک جانے والوں میں سے تھا۔
3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ یعنی ایک جان کا قتل کرنا آیت ” الم لربک فینا ولیدا “ یعنی ان کو فرعون والوں سے اٹھا لیا سو اس بچے کو…
Read the full tafseer →قَالُوْٓا [ انھوں نے کہا ] اٰمَنَّا [ ہم ایمان لائے ] بِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ [ تمام جہانوں کے رب پر ]
نوٹ۔ 2: آیت نمبر 7/115 کے نوٹ۔ 1 ۔ میں جادوگروں کے ایمان لانے کا جو پس منظر بیان ہوا ہے اسے دوبارہ پڑھ کر اپنے ذہن میں تازہ کرلیں۔ پھر لاضیر پر غور کریں جس میں لائے نفی جنس استعمال ہوا ہے ، تو پھر ان شاء اللہ یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہوجائے گی کہ آبا و اجداد کے کسی نظریہ یا عقیدے (Dogma) کی کیفیت انسان کے قلب و ذہن میں ایسی ہی ہوتی ہے جیسے زمین پر پھیلی ہوئی کوئی بیل بوٹی جس کی جڑ زمین میں گہری نہیں ہوتی اور جس کو آسانی سے اکھیڑا جاسکتا ہے۔ لیکن انسان اپنے علم کی بنیاد پر سوچ سمجھ کر جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–52
بحکم الٰہی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو ہمراہ لے کر راتوں رات چلا جانا اور فرعون کا پیچھا کرنا پھر لشکروں سمیت غرق ہونا
سیدنا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ شانہٗ کا حکم ہوا کہ میرے بندوں کو راتوں رات لے کر مصر سے نکل جاؤ۔ اور سمندر کی طرف جانا سمندر پر پہنچو گے تو اسے خشک پاؤ گے۔ اپنی قوم کو لے کر گزر جانا تمہارے پیچھے دشمن لگے گا بےفکر رہنا اور نڈر رہنا کما قال تعالیٰ فی سورة طٰہٰ (لاَ تَخَافُ دَرْکًا وَّ لاَ تَخْشٰی) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کو لے کر چل دیئے فرعون کو پہلے اندیشہ تھا کہ کہیں یہ مصر سے نہ نکل جائیں، وہ لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو سچا نبی تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–51
ساحران فرعون کا موسیٰ (علیہ السلام) سے مقابلہ
قال اللہ تعالیٰ قال للملا حولہ ان ھذا لسحر علیم الیٰ ان کنا اول المومنین۔
فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کے جب یہ دو معجزے (معجزہ عصا اور معجزہ یدبیضا) دیکھے تو اسکو ڈر ہوا کہ اہل دربار شبہ میں نہ پڑجائیں اس لیے فرعون نے لوگوں کے سامنے اپنا بھرم رکھنے کے لئے یہ کہا کہ یہ کوئی خاص قسم کا سحر ہے اس لیے ملک کے جادوگروں کو جمع کر کے اسکا مقابلہ کرایا جائے اس کا خیال یہ تھا کہ ایک جادوگر ملک کے تمام جادوگروں کا مقابلہ نہیں کرسکتا اس لیے فرعون نے اپنی اندرونی حیرانی اور پریشانی پر پردہ ڈالنے کے لئے اپنی قوم کے سرداروں سے جو اس کے اردگر بیٹھتے تھے یہ کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–49
25:۔ فرعون جادوگروں کی ناکامی پر سخت پریشان اور پھر ان کے ایمان لانے پر بہت برہم ہوا اور اپنی خفت مٹانے اور رعیت پر اپنی خدائی کا رعب جمانے اور لوگوں کے دلوں سے اس ناکامی کا اثر زائل کرنے اور جادوگروں کو خوف زدہ کرنے کے لیے اس نے کہا۔ تم میری اجازت کے بغیر ہی موسیٰ پر ایمان لے آئے ہو معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰ تم سب کا اس فن میں استاد ہے اور تم سب نے مل کر ایک منصوبہ بنا رکھا ہے اور تم جادو کے زور سے میری سلطنت پر قبضہ کرنا چاہتے ہو۔ اچھا دیکھو ابھی میں تمہارا کیا حشر کرتا ہوں اور میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں۔ اب تمہارے الٹے ہاتھ پاؤں (یعنی دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں) کٹوا کر تمہیں سولی پر لٹکا دوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–51
ربط آیات
گزشتہ آیات میں بیان ہوچکا ہے کہ حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) نے فرعون کے دربار میں پہنچ کر اللہ کا پیغام پہنچایا اور کہا کہ یہ رب العالمین کی طرف بھیجے ہوئے ہیں اس نے متکبر انہ انداز میں سوال کیا کہ رب العالمین کیا ہوتا ہے ؟ اس کے جواب میں موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی بعض صفات بیان کیں اور اس کی پہچان کی نشانیاں بتلائیں کہ رب العالمین وہ ہے جو ارض و سماکا پرورش کنندہ ہے اور جس نے تمہیں ہ تمہارے آبائو اجداد کو بھی پیدا کیا ہے۔ مشرق و مغرب کی تمام اشیاء بھی اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں ۔ اس فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو دھمکی دی کہ اگر تم نے میرے سوا کسی دوسرے کو الٰہ…
Read the full tafseer →قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ 4 7ۙ
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] .
وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 35–52
تفسیر : واوحینا الی موسیٰ باقی تمام قصہ کو حذف کر کے جو موسیٰ کی سرگزشت مصر سے تعلق رکھتا تھا صرف بنی اسرائیل کے مصر سے جانے کا تذکرہ شروع فرمایا کیونکہ نشانی قدرت کاملہ اور ان کے کفرو انکار کا نتیجہ ظاہر کرنا مقصود مقام تھا۔ موسیٰ کو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ میرے بندوں کو یعنی بنی اسرائیل کو رات میں لے نکل۔ چناچہ موسیٰ ( علیہ السلام) بنی اسرائیل کو مع زن و فرزند کسی عید کے بہانہ سے باجازت فرعون لے نکلے اور اسرائیلیوں نے فرعونیوں سے عید کے بہانہ سے زیورات بھی مستعار لیے تھے جب یہ سب نکل گئے تو فرعون کو خبر ملی کہ وہ نکل کر ملک شام میں جاتے ہیں۔ فرعون نے جابجا ہر کارے بھیج دیے کہ لوگ کمک کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
فَاُلْقِیَ السَّحَرَۃُ سٰجِدِیْنَ ۔ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ رَبِّ مُوْسٰی وَ ھٰـرُوْنَ ۔ (الشعرآء : 46، 4847)
(تو ساحر بےاختیار سجدے میں گرپڑے۔ بولے کہ ہم ایمان لائے رب العالمین پر۔ موسیٰ اور ہارون کے رب پر۔ )
ساحروں کا اعترافِ حق
مصر کے یہ عظیم جادوگر، جادوگری کے فن کی حدود کے شناسا تھے۔ وہ اپنی علمی مہارت کے باعث خوب سمجھتے تھے کہ جادو کی حقیقت کیا ہے اور یہ دیکھنے والوں کو کہاں تک مسحور کرسکتا اور کسی شے میں کہاں تک تبدیلی پیدا کرسکتا ہے۔ انھوں نے عصائے موسیٰ کو جس طرح اژدھا کی صورت میں دیکھا اور پھر جس طرح اس نے ان کے سحروساحری کے سارے طلسم کو ختم کرکے رکھ دیا وہ اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–49
فہم القرآن
ربط کلام : جادوگروں کے ایمان لانے کا اعلان سن کر فرعون کا الزام اور اس کی دھمکیاں۔
چاہیے تو یہ تھا کہ فرعون اور اس کے درباری حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کے رب پر ایمان لاتے۔ لیکن فرعون نے لوگوں کو اپنے ساتھ ملائے رکھنے کے لیے شاطرانہ انداز میں اعلان کیا کہ دراصل موسیٰ تمہارا بڑا استاد ہے۔ اسی نے تمہیں جادو سکھایا اور تمہارے ساتھ مل کر سازش کی ہے۔ جس بنا پر تم میری اجازت کے بغیر ایمان لائے ہو۔ لہٰذا تمہیں بہت جلد معلوم ہوجائے گا کہ میں تمہارا کیا حشر کرتا ہوں، یاد رکھو کہ میں تمہارے ہاتھ پاؤں مخالف سمت پر کاٹ ڈالوں گا اور ہر صورت تمہیں سولی پر لٹکاؤں…
Read the full tafseer →47: قَالُوْا ٰامَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ (وہ کہنے لگے ہم رب العالمین پر ایمان لائے) قول عکرمہ ؓ : صبح سویرے جادوگر تھے شام پڑنے سے پہلے ایمان والے شہداء بن گئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–51
40۔ لعلنا نتبع السحرۃ ان کانوا ھم الغالبین۔ موسیٰ پر اوربعض نے کہا کہ یہ کہنا کہ ان کا بطور استہزاء کے تھا، بالسحرۃ سے مراد موسیٰ و ہارون اور ان کی قوم کے متعلق تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–48
36 تا 49: جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے اوصاف بیان کر کے فوعون کو باتوں سے قائل کیا اور عصا اور یدبیضاء کا معجزہ دکھا کر بھی اس کو قائل کیا تو فرعون نے اپنے سرداروں کو ابھارا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ یہ دو شخص بڑے جادوگر معلوم ہوتے ہیں کہ اپنے جادو کے زور سے یہ تمہاری بادشاہت تمہارا ملک چھین لیویں ان کے جادو سے بچنے کی تمہاری کیا صلاح اور مصلحت ہے بیان کرو انہوں نے فرعون کی عملداری کی سب بستیوں کے بڑے بڑے جادوگروں کو بلوانے کی صلاح دی اور وہ جادوگر آئے اور مقابلہ ہو کر آخر کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) غالب رہے یہاں بعضے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–68
آیت نمبر 10 سے 68
اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں موسیٰ (علیہ السلام) کی مدح وثنا اور ان کے واقعات کا بار بار جتنا اعادہ کیا ہے اتنا کسی اور واقعے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ عظیم حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس قصے میں اہل ایمان اور اہل کفر کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے طرز عمل کی تفصیل ہے نیز موسیٰ (علیہ السلام) صاحب شریعت کبری اور صاحب تورات تھے جو قرآن عظیم کے بعد سب سے افضل کتاب ہے۔
فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجئے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندادی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، ان کو رسول بنا کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
32 قوت ایمان و یقین کی انقلاب آفرینی کا ایک مظہر و نمونہ : سو ان سچے ایمانداروں نے فرعون کی اس ہولناک دھمکی کے جواب میں پورے اطمینان سے کہا کہ تجھے جو کرنا ہے کرلے۔ ہمیں اس کی کوئی پرواہ نہیں۔ ہمیں تو بہرحال اپنے رب ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ سو جب جانا بہرطور اسی کے پاس ہے تو اگر شہادت کے ذریعے جانا نصیب ہوجائے تو پھر اور کیا چاہیئے ۔ سبحان اللہ ۔ ایمان کی قوت انسان کو کہاں سے کہاں پہنچا دیتی ہے۔ کہاں کفر کی حالت میں پہلے ہی قدم پر یہی جادوگر یہ سوال کرتے تھے کہ جیتنے پر ہمیں کیا صلہ و انعام ملے گا ؟ اور کہاں ایمان و یقین کی دولت سے سرفرازی کے بعد اب یہی لوگ اپنی جانوں کی قربانی سے بھی دریغ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–68
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ
تشریح : اس واقعہ میں بیشمار نصیحتیں ‘ اللہ کے کمالات ‘ عجزو انکساری اور سب سے بڑھ کر توکل علی اللہ کا بہت زبردست سبق ملتا ہے۔ ایمان کامل انسان کے اندر اس قدر ہمت ‘ جرأت ‘ بہادری اور معرفت پیدا کردیتا ہے کہ انسان مادی اصولوں سے بےنیاز ہو کر روحانی دنیا میں گم ہوجاتا ہے اور اس کو اللہ ‘ اس کی مدد ‘ اس کا سایہ دنیا کے ہر خطرے سے محفوظ بےنیاز کردیتا ہے۔ جیسا کہ سید حسین نصر صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں : ” سچے مومن کی فراست تکمیل کو پہنچ جاتی ہے جیسا کہ اللہ نے فرمایا ” اللہ کی یاد میں دلوں کا سکون ہے۔ “ ( سورة رعد آیت : 28)
ایسا شخص جو اس حالت میں ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–51
آیات 34 تا 51
اسرار و معارف
تو فرعون موسیٰ علہی السلام سے مخاطب ہونے کی بجائے اپنے امراء دربار سے کہنے لگا کہ دیکھو کتنا ماہر جادوگر ہے اس کے ارادے تو یہ نظر آتے ہیں کہ جادو کے زور سے ملک ہی چھین لے گا اور تم سب کو یہاں سے بھگا دیگا حالانکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے دعوت الی اللہ دی تھی اور بنی اسرائیل کو آزاد کرنے کی بات ارشاد فرمائی تھی۔ ان کی حکومت یا ملک تک کی بات نہ کی تھی۔ فرعون چونکہ دلائل میں لاجواب ہوچکا تھا اس لیے ادھر کی بات بنا کر اپنے امراء کو ساتھ رکھنے کا آرزومند تھا چناچہ کہنے لگا اب آپ لوگ جو مشورہ دیں گے اسی کے مطابق عمل کیا جاسکے گا تو امراء نے مشورہ دیا کہ فی الحال موسیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–48
2 ۔” سارے جہاں کے مالک ” کے ساتھ “ جو موسیٰ ( علیہ السلام) و ہارون کا رب ہے “ اس لئے کہا کہ کہیں فرعون کو شبہ نہ ہو کہ انہوں نے اس کو سارے جہان کا مالک قرار دیا ہے کیونکہ وہ بھی اپنے آپ کو رب کہتا تھا۔ (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–48
(26:46) فالقی السحرۃ سجدین۔ سو جادو گر سجدہ میں گرپڑے۔ یہاں صیغہ فعل مجہول لایا گیا ہے۔ اس کی دو صورتیں ہیں :۔
(1) جب جادوگروں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں یہ معجزہ دیکھا تو ان کے لئے کوئی چارہ کار ہی نہ رہا سوائے سرتسلیم خإ کرلینے کے اور وہ سجدہ کے لئے مجبور ہوگئے۔
(2) معجزہ کو دیکھ کر جب حقیقت ان پر عیاں ہوگئی اور ان کے دلوں پر سے جہالت و ضلالت کے پردے ہٹ گئے تو وفور شوق سے وہ جھٹ سجدہ میں گرپڑے۔ ان کی اندرنی کیفیت کی شدت کے اظہار کے لئے فعل مجہول لایا گیا ہے اس کی مثال سورة ھود میں ہے وجاء ہ قومہ یہرعون الیہ (11:78) اور اس کے پاس اس کی قوم کے لوگ کھچے چلے آئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 34–51
لغات القرآن : آیت نمبر 34 تا 51 :
ساحر علیم (ماہر جادو گر۔ بہت جاننے والا جادوگر) ‘ ماذا تامرون (تم کیا مشورہ دیتے ہو۔ تم کیا کہتے ہو) ‘ ارجہ (چھوڑدے اس کو۔ اس کو مہلت دے) ‘ حشرین (جمع کرنے والے۔ ہر کارے) ‘ میقات (مقرر وقت۔ مقرر جگہ) مجتمعون ( جمع ہونے والے) ‘ المقربین (قریب بیٹھنے والے) ‘ حبال (حبل) رسیاں ‘ عصی (لاٹھیاں) ‘ تلقف (نگلنے لگا) ‘ یا فکون ( وہ کھیل کھلونے بناتے ہیں) ‘ کبیر کم ( تمہارا بڑا۔ تمہارا استاد) ‘ اقطعن ( میں ضرور کاٹ ڈالوں گا) ‘ ایدی (ایدین) دونوں ہاتھو ‘ ارجل (رجل) پاؤں ‘ اصلبن (میں ضرور پھانسی چڑھادوں گا) ‘ لاضیر (کوئی حرج نہیں) ‘ منقلبون (پلٹ کر جانے والے) نطمع ( ہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 36–48
(ف 1) فرعون سے سرداروں نے یہ کہا کہ ان دونوں کو مہلت دیدو، کیونکہ فرعون نے موسیٰ کے شہید کرنے کا ارادہ کیا تھا اس پر اس کے سرداروں نے اس کو قتل سے منع کیا اور کہا کہ قتل سے لوگوں کے دل میں یہ شبہ پیدا ہوجائے گا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) میں فرعون نے کوئی ایسی ہی زبردست غلبہ کی بات دیکھی تھی جوان کو زندہ رکھنا مناسب نہیں خیال کیا۔ اس لیے موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) ان دونوں جادوگروں سے مقابلہ کرانا ہے اور سب کے سامنے ان دونوں کو ہرانا مناسب ہے ان کے قتل کا ارادہ مناسب نہیں ہے۔ اور اپنی بادشاہت کے شہروں میں نقبیوں کو بھیج دے تاکہ وہ تیرے پاس بڑے جادوگر واقف کاروں کو لے آئیں تب فرعون نے اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–49
[11] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة اعراف حاشیہ 46 صفحہ 384۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–48
حبالھم ۔ حبل کی جمع ہے یعنی دستی ۔
Read the full tafseer →47۔ اور کہنے لگے ہم اس رب العالمین پر ایمان لائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–52
ف 4۔ یعنی بنی اسرائیل کو۔
5۔ چناچہ وہ موافق حکم کے بنی اسرائیل کو لے کر رات کو چل دیئے۔
Read the full tafseer →ساحران مصر نے اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی ربوبیت کا اعلان کردیا :
47۔ اللہ تعالیٰ کے رب ہونے کا اعلان ہی دراصل فرعون کی ربوبیت سے انکار تھا اس لئے دوسرے لفظوں میں اس کا مفہوم یہی ہے کہ ساحران مصر نے فرعون کے رب کا انکار کردیا کہ آج تک جو ہم نے اس کو رب مانا ہمارا نظریہ غلط اور من گھڑت تھا بات واضح ہوگئی کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا عصا اور یدبیضاء کا اصل مفہوم وہی دلائل ہیں جو موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے رب ہونے کے متعلق پیش کئے اور فرعون کے رب ہونے کی نفی کی اور ساحران مصر دلائل سے اس کا رد نہ کرسکے اور نہ ہی کرسکتے تھے اس لئے حق نے اپنے حق ہونے کا ان سے اعلان کروا لیا اور انہوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–49
بِعِزَّةِ فِرْعَوْنَ (By the majesty of the Pharaoh - 26:44). This was an expression of pledge from the magicians, which was in vogue in the olden times. It is unfortunate that similar oaths have now become common among the Muslims as well, which are even more evil and vile, for instance, 'by the king,' 'by the head of yours,' 'by the beard of yours,' 'by the grave of your father' etc. It is not permitted to make an oath of this nature under the Islamic law (because swearing in the name of someone other than Allah is a sin). Rather, it will not be wrong to say that swearing a true oath in…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
37 This was not merely an acknowledgment of their defeat at the hands of Moses as though he was a greater magician, but their falling prostrate in submission to Allah, Lord of the universe, was an open declaration before thousands of Egyptians that what Moses had brought about was no magic at all, but a manifestation of the powers of Allah, Almighty.
Read the full tafseer →