Ash-Shu'araa 26:30

Ash-Shu'araa · from ayah 30

26:30

قَالَ اَوَلَوْ جِئْتُكَ بِشَیْءٍ مُّبِیْنٍ ۟ۚقَالَ اَوَلَوۡ جِئۡتُكَ بِشَىۡءٍ مُّبِيۡنٍ‌ۚ

(موسیٰ نے) کہا خواہ میں آپ کے پاس روشن چیز لاؤں (یعنی معجزہ)

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Moses] said, "Even if I brought you proof manifest?"

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 2 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:30

موسیٰؑ نے کہا "اگرچہ میں لے آؤں تیرے سامنے ایک صریح چیز بھی؟"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(موسیٰ نے) کہا خواہ میں آپ کے پاس روشن چیز لاؤں (یعنی معجزہ)

— مولانا فتح محمد جالندہری

موسیٰ ؑ نے کہا اگرچہ میں تیرے پاس کوئی کھلی چیز لے آؤں؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

موسیٰ بولے : اور اگر میں تمہیں کوئی ایسی چیز لا دکھاؤں جو حق کو واضح کر دے، پھر ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

فرمایا کیا اگرچہ میں تیرے پاس کوئی روشن چیز لاؤں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(موسٰی علیہ السلام نے) فرمایا: اگرچہ میں تیرے پاس کوئی واضح چیز (بطور معجزہ بھی) لے آؤں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہا کیا اگرچہ میں تیرے پاس کوئی واضح چیز لے آؤں ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

موسیٰ نے کہا : خواہ میں تیرے پاس واضح چیز (نشانی) بھی لاؤں ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

موسیٰ نے کہا، کیا اس صورت میں بھی کہ جب میں تمہارے پاس کوئی واضح نشانی لے کر آیا ہوں ؟

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

موسیٰ نے فرمایا اگرچہ میں لے آؤں تیرے سامنے کوئی روشن چیز بھی ؟

— مولانا اسحاق مدنی

(موسی ؑ نے) کہا اور جو میں کوئی کھلی ہوئی بات پیش کردوں تو ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

موسیٰ ؑ ٰ نے جواب دیا : اگرچہ میں تمہارے پاس کوئی واضح چیز لے کر آیا ہوں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

موسیٰ نے کہا خواہ میں آپ کے پاس روشن چیز (یعنی معجزہ) لائوں ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

Moses said: "Even if I were to bring a Clear Sign to you?"

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He (Musa) said :Will you (do this) even if I bring to you something evident?

— Muhammad Taqi Usmani

He (Musa) said :Will you (do this) even if I bring to you something evident?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He said: "Even if I bring you something manifest"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He said: Even though I show thee something plain?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[Moses] said, "Even if I brought you proof manifest?"

— Saheeh International

Moses asked, "What if I were to bring you clear proof (of the existence of God)?"

— Muhammad Sarwar

He said: What! even if I bring to you something manifest?

— Muhammad Habib Shakir

He said: even though I bring unto thee something manifest?

— Abdul Majid Daryabadi

(Moses) said: "Even if I showed you something clear (and) convincing?"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 26:30

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 29–37

فرعون اور موسیٰ ؑ کا مباحثہ جب مباحثے میں فرعون ہارا دلیل وبیان میں غالب نہ آسکا تو قوت وطاقت کا مظاہرہ کرنے لگا اور سطوت وشوکت سے حق کو دبانے کا ارادہ کیا اور کہنے لگا کہ موسیٰ ؑ میرے سوا کسی اور کو معبود بنائے گا تو جیل میں سڑا سڑا کر تیری جان لے لونگا۔ حضرت موسیٰ ؑ بھی چونکہ وعظ و نصیحت کر ہی چکے تھے آپ نے بھی ارادہ کیا کہ میں بھی اسے اور اس کی قوم کو دوسری طرح قائل کروں تو فرمانے لگے کیوں جی میں اگر اپنی سچائی پر کسی ایسے معجزے کا اظہار کروں کہ تمہیں بھی قائل ہونا پڑے تب ؟ فرعون سو اس کے کیا کرسکتا تھا کہ کہا اچھا اگر سچا ہے تو پیش کر۔ آپ نے سنتے ہی اپنی لکڑی جو آپ کے ہاتھ میں تھی ہی اسے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الشُّعَرَآء 25 یعنی کیا تو اس صورت میں بھی میری بات ماننے سے انکار کرے گا اور مجھے جیل بھیجے گا جبکہ میں اس امر کی ایک صریح علامت پیش کر دوں کہ میں واقعی اس خدا کا فرستادہ ہوں جو رب العالمین، رب السمٰوات والارض اور رب المشرق و المغرب ہے ؟

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 23–33

خدائے ذوالجلال کی ذات و حقیقت کا علم انسان کے لئے ناممکن ہے قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ ، اس آیت مبارکہ سے ثابت ہوا کہ خدائے ذوالجلال کی کنہ و حقیقت کا جاننا ممکن نہیں کیونکہ فرعون کا سوال اللہ تعالیٰ کی حقیت، ماہیت کے متعلق تھا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے بجائے ماہیت باری تعالیٰ بتلانے کے اللہ تعالیٰ کے اوصاف بیان فرمائے جس سے اشارہ فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ کی کنہ اور حقیقت کا ادراک ناممکن ہے اور ایسا سوال ہی کرنا بیجا ہے۔ (کذا فی الروح)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قال اولو جئتک بشیء مبین (30) معجزات کی نشانی اس کا گمان ہوگا کہ اس کھلی ہوئی دھمکی کے بعد حضرت موسیٰ سہم جائیں گے لیکن انہوں نے نہایت متانت اور وقار کے ساتھ فرمایا کہ کیا تمہارا یہی فیصلہ اس صورت میں بھی ہوگا جب میں تمہیں کوئی نہایت واضح نشانی اس بات کی دکھا دوں کہ میں خدا کا بھیجا ہوا رسول ہوں ؟

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

30-1یعنی ایسی چیز یا معجزہ جس سے واضح ہوجائے کہ میں سچا اور واقعی اللہ کا رسول ہوں، تب بھی تو میری صداقت کو تسلیم نہیں کرے گا ؟

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 27–32

9: فرعون نے جو سوال کیا تھا، اس کا مطلب یہ تھا کہ رب العالمین کی حقیقت و ماہیت بتاؤ۔ حضرت موسیٰ ؑ کے جواب کا حاصل یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کی حقیقت و ماہیت کوئی نہیں جان سکتا، البتہ اس کو اس کی صفات سے پہچانا جاتا ہے۔ چنانچہ حضرت موسیٰ ؑ نے جواب میں باری تعالیٰ کی صفات ہی بیان فرمائیں۔ اس پر فرعون نے کہا کہ ”یہ بالکل دیوانہ ہے“ کیونکہ سوال حقیقت کا کیا گیا تھا، اور جواب صفات سے دے رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

قال اولوجئتک بشیء مبین (30) ” موسیٰ نے کہا ” اگرچہ میں لے آئوں تیرے سامنے ایک صریح چیز بھی۔ “ یعنی اگر میں اپنی رسالت پر ایک صریح اور واضح دلیل بھی پیش کر دوں تو بھی میری یہی سزا ہے کہ جیل جائوں۔ حضرت موسیٰ اس طرح فرعون کو ، اس کے سرداروں کے سامنے جو یہ تمام گفتگو سنا رہے تھے ، سخت مشکل میں ڈال دیتے ہیں۔ اگر وہ حضرت موسیٰ کی بات نہیں سنتا تو ثابت ہوجاتا ہے کہ فرعون لاجواب ہوگیا حالانکہ وہ کہہ چکا ہے کہ یہ شخص تو مجنون ہے۔ چناچہ مجبور ہو کر اس نے ہا اچھا لائو دلیل۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی فیصلہ میں ابھی جلدی نہ کر۔ یہ تو تیری باتوں کا جواب تھا اب ذرا وہ کھلے ہوئے نشان بھی دیکھ جن سے اللہ تعالیٰ کی قدرت اور میری صداقت دونوں کا اظہار ہو۔ اگر ایسے نشان دکھلاؤں تو کیا پھر بھی تیرا فیصلہ یہ ہی رہے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 30–32

آیت 32 فَاَلْقٰی عَصَاہُ فَاِذَا ہِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌ ” واضح رہے کہ سورة طٰہٰ کی آیت 20 میں عصا کی تبدیلۂ یئت کے لیے ”حَیَّۃٌ“ کا لفظ استعمال ہوا ہے ‘ جس کے معنی عام سانپ کے ہیں اور یہ اس وقت کا ذکر ہے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو وادئ طویٰ میں پہلی بار اس کا تجربہ کرایا گیا تھا۔ جبکہ فرعون کے دربار میں وہ ”ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌ“ یعنی واضح طور پر ایک بہت بڑا اژدھا بن گیا تھا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

23 اس کے جواب میں موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : اگر میں اللہ کی عطا کردہ نشانیاں تمہیں دکھلا کر یہ ثابت کردوں کہ میں فی الواقع اللہ رب العالمین کی طرف سے رسول ہوں تو کیا پھر بھی تمہارا یہی فیصلہ ہوگا ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

29۔ فرعون اور فرعونی سحر وغیرہ کے خرافات میں غرق تھے، جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دیکھا کہ نفس مسائل وحقائق ان لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتے، تو فرمایا کہ تم جو خرق عادت ہی کو دلیل صداقت اور معیار حقانیت قرار دیتے ہو تو کہو، میں بھی کوئی خارق عادت ہی پیش کروں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 10–33

آیت نمبر 10 تا 33 ترجمہ : اور اے محمد ﷺ اپنی قوم کو اس وقت کا واقعہ یاد دلائیے کہ جب تیرے رب نے موسیٰ کو حکم دیا اس رات میں جبکہ موسیٰ نے آگ اور درخت کو دیکھا کہ تو ظالم قوم کے پاس رسول بن کر جا قوم فرعون کے پاس مع فرعون کے انہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کرکے اور بنی اسرائیل کو غلام بنا کر اپنے اوپر ظلم کیا ہے اَلاَ یتقون میں ہمزہ استفہام انکاری کے لئے ہے کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو کہ اس کی طاعت اختیار کرکے اس کی توحید کے قائل ہوجاؤ تو موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے پروردگار مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے اور ان کے میری تکذیب کی وجہ سے میرا دل تنگ ہوجائے، اور اداء رسالت کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال اولو جئتک بشیء مبین۔ موسیٰ نے (فرعون کی دھمکی کے جواب میں) کہا ‘ (تو مجھے ایسی حالت میں بھی قید کرسکے گا) جبکہ میں نے تیرے سامنے (اپنی سچائی اور تیری غلطی کی) کوئی واضح چیز (یعنی نشانی) لے آؤں۔ اس جملہ میں استفہام انکاریہ تنبیہ ہے اور واو حالیہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(30) حضرت موسیٰ ؑ نے فرعون سے کہا کہ اگر میں اپنے دعوی پر کوئی صریح دلیل پیش کردوں تب بھی نہ مانے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالَ اَوَلَوْ جِئْتُكَ بِشَيْءٍ مُّبِيْنٍ : جب فرعون لاجواب ہوگیا اور قید خانے کی دھمکی دینے لگا تو موسیٰ ؑ نے اللہ تعالیٰ کے عطا کیے ہوئے معجزے پیش کرنے کی پیش کش کی اور اس کے لیے نہایت نرم الفاظ اور نرم لہجہ اختیار فرمایا کہ ہوسکتا ہے وہ ان کے صدق کی واضح دلیل دیکھ کر ہی ایمان لے آئے۔ ”اَوَلَوْ جِئْتُكَ“ میں واؤ سے پہلے ایک لفظ محذوف ہے : ”أَتَفْعَلُ بِيْ ذٰلِکَ وَلَوْ جِءْتُکَ۔۔“ یعنی کیا اگر میں تمہارے سامنے بالکل واضح چیز پیش کر دوں، پھر بھی تم نہیں مانو گے اور میرے ساتھ یہی سلوک کرو گے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 23–51

( قال فرعون وما رب العلمین۔۔۔۔ ) قال فرعون وما رب العٰلمین جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) میں فرعون پر غالب آگئے اور فرعون لعین نے تربیت اور دوسری چیزوں میں کوئی دلیل نہ پائی تو وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے معاوضہ کے لیے آپ کے قول رسول رب العٰلمین کی طرف متوجہ ہوئے تو اس نے ایسا سوال کیا جو مجہول چیز کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے۔ مکی اور دوسرے علماء نے کہا : جس طرح اجناس کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے، اسی وجہ سے ما کے ساتھ سوال کیا۔ مکی نے کہا : ایک اور جگہ من کے ساتھ بھی استفہام واقع ہوا ہے یہ اس کے مشابہ ہے کہ یہاں کئی مواطن ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مخلوقات میں سے ایسی صفات لائے جو اللہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 10–51

1۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” یعنی طور کے داہنی جانب سے ان کو آواز دی گئی۔ 2۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جرری وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ ایک جان کے قتل کرنے کا الزام جو ان کے درمیان قتل ہوا آیت ” وفعلت فعلتک التی فعلت “ سے مراد بھی انسان کا قتل ہے۔ آیت ” فعلتہا اذا وانا من الضالین “ یعنی جب میں چوک جانے والوں میں سے تھا۔ 3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ یعنی ایک جان کا قتل کرنا آیت ” الم لربک فینا ولیدا “ یعنی ان کو فرعون والوں سے اٹھا لیا سو اس بچے کو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قَالَ [ (موسیٰ (علیہ السلام) نے) کہا ] اَوَلَوْ [ اور کیا اگر ] جِئْتُكَ [ میں لاؤں تیرے پاس ] بِشَيْءٍ مُّبِيْنٍ [ ایک واضح چیز ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 11–34

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ کے لیے فرعون کا جادو گروں کو بلانا، مقابلہ ہونا اور جادو گروں کا شکست کھا کر ایمان قبول کرنا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے جواب وسوال سے عاجز ہو کر اور دو بڑے معجزے دیکھ کر فرعون کی شکست تو اسی وقت ہوگئی لیکن اس نے اپنی خفت مٹانے اور درباریوں کو مطمئن رکھنے اور ان کے ذریعہ ساری قوم کو اپنی فرمانبرداری پر جمائے رکھنے کے لیے سرداروں سے کہا جو اس وقت وہاں موجود تھے کہ سمجھ میں آگیا یہ تو ایک بڑا ماہر جادوگر ہے یہ چاہتا ہے کہ تمہیں مصر کی سر زمین سے نکال دے اور اپنی قوم کا بڑا بن کر ان کو ساتھ لے کر حکومت کرنے لگے۔ تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو ؟ سورة اعراف میں ہے کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 23–33

مکاملہ موسیٰ (علیہ السلام) بافرعون دربارہ ربوبیت خداوند کون قال اللہ تعالیٰ قال فرعون وما رب العلمین .... الیٰ .... فازا ہی بیضاء للنظرین۔ فرعون اس گفتگو میں ذلیل و خوار ہوا تو اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کے اس قول انا رسول رب العلمین۔ یعنی ہم دونوں اللہ رب العالمین کے پیغمبر ہیں یعنی ان کے دعوائے نبوت پر اعتراض شروع کیا۔ اور اللہ رب العالمین کی ربوبیت میں جھگڑا لگانے لگا چناچہ فرعون بولا اچھا بتاؤ کہ وہ رب العالمین جس کے رسول ہونے کا تو مدعی ہے وہ کیا چیز ہے وہ کون ہے اور کیا ہے تمہارا دعویٰ یہ ہے کہ ہم رب العالمین کے رسول مرسل ہیں یعنی اس کے فرستادہ ہیں لہٰذا تم کو چاہئے کہ اول اپنے مرسل…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 29–30

18:۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) چونکہ ناصح مشفق تھے اور چاہتے تھے کہ فرعون ایمان لے آئے اس لیے اس کی ہر اوچھی، غیر معقول اور متکبرانہ بات کا معقول اور حکیمانہ جواب دیا اور کسی موقع پر بھی متانت کا دامن نہ چھوڑا۔ فرعون کی دھمکی کے جواب میں کس قدر محکم بات ارشاد فرمائی۔ کیا اگر میرے پاس اپنے دعوے پر واضح دلائل موجود ہوں تب بھی تم مجھے قید کر ڈالو گے اور ان دلائل میں غور وفکر کر کے میری صداقت کو جانچنے کی کوشش نہیں کرو گے۔ والمعنی اتفعل ذلک ولو جئتک بحجۃ بینۃ وانما قال ذلک موسیٰ لان من اخلاق الناس السکون الی الانصاف والاجابۃ الی الحق بالبیان (معالم و خازن ج ص 96) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 23–33

ربط آیات اس سورة کی ابتداء سے موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت کا تذکرہ بیان کیا گیا ۔ جب اللہ تعالیٰ نے آپ کے سر پر تاج نبوت رکھا تو آپ کو حکم دیا کہ فرعون کے سامنے جا کر کلمہ حق بلند کرو۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے بعض مشکلات کا ذکر کیا تو اللہ نے آپ کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو بھی نبوت عطا فرمائی اور پھر دونوں کو حکم ہوا کہ فرعون سے جا کر کہو کہ ہم دونوں رب العالمین کے فرستادہ ہیں ۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ تم اللہ کی وحدانیت کو قبول کرلو اور دوسری بات یہ کہ بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے آزاد کر دو ۔ اس کے جواب میں فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو طعن کیا کہ کیا تم وہی نہیں جس کی ہم نے بچپن…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ اَوَلَوْ جِئْتُكَ بِشَيْءٍ مُّبِيْنٍ۝ 3 0ۚ جاء جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال «1» : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ، ( ج ی ء ) جاء ( ض ) جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ اتیان سے زیادہ عام ہے کیونکہ اتیان کا لفط خاص کر کسی چیز کے بسہولت آنے پر بولا جاتا ہے نیز اتبان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 11–34

بدنصیب یہ معجزے دیکھ کر ایمان تو نہ لایا کہہ دیا کہ یہ بڑا جادوگر ہے اس کے زور سے تمہارا ملک لینا چاہتا ہے۔ فرعونیوں کے عہد میں جادو اور طلسم کا بڑا زور تھا چناچہ اس عہد کے یادگار مسلمانوں کے ابتدائِ عہد تک موجود تھے جن کو اہل اسلام کے مؤرخین نے نقل کیا ہے دیکھو تاریخ مصر، درباریوں نے صلاح دی کہ آپ بھی اپنے ملک میں سے نامور جادوگر ایک روز معین میں جمع کر کے اس کو عاجز کر دیجئے اور عید یا کوئی فرعونیوں کا میلہ ہوتا تھا جس میں سب لوگ شریک ہوتے تھے وہ روز قرار پایا تاکہ سب لوگ موسیٰ ( علیہ السلام) کا عجز ملاحظہ کریں۔ چناچہ اس روز وہ سب جادوگر اور طلسم کار آئے اور ایک میدان میں فرعون اور اس کے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قَالَ اَوَلَوْجِئْتُکَ بِشَیْ ئٍ مُّبِیْنٍ ۔ (الشعرآء : 30) (اگرچہ میں تیرے پاس ایک واضح چیز بھی لے آئوں۔ ) سندِ ماموریت کا اظہار حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ تو مجھے انتہائی سزا دینے کا ذکر کر رہا ہے اور تیرا گمان شاید یہ ہے کہ میں ایک بےنوا اور بےسہارا آدمی ہوں اور تو میرے ساتھ جو کچھ بھی کر گزرے تیرے لیے بہت آسان ہے اور میں بار بار اس بات کا اظہار کرچکا ہوں کہ میں رب العالمین کا نمائندہ بن کر آیا ہوں، لیکن تمہیں شاید اس کا یقین نہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ تمہیں اس کا یقین دلانے کے لیے ایسی نشانیوں کا تمہارے سامنے اظہار کروں جو ایک طرح سے میرے لیے سندماموریت کی حیثیت رکھتی ہیں تاکہ اس کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 30–35

فہم القرآن ربط کلام : فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو جادوگروں کے ساتھ مقابلہ کا چیلنج دیا۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) کی سیرت اور جدوجہد کا تذکرہ کرتے ہوئے قرآن مجید نے یہ بات واضح فرمائی ہے کہ جب بھی انبیاء کرام (علیہ السلام) نے اپنی اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی تو سب سے پہلے انھیں پاگل اور جادو گر کہا گیا تھا۔ یہی الزام موسیٰ (علیہ السلام) پر لگے کہ یہ بہت بڑا جادوگر ہے۔ حالانکہ فرعون جانتا تھا کہ جادوگر اس سیرت کے حامل لوگ نہیں ہوتے۔ جس سیرت سے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو سرفراز فرمایا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو جادوگر کہہ کر فرعون نے سیاسی حربہ استعمال کرتے ہوئے اپنے وزیروں،…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

30: قَالَ اَوَلَوْ جِئْتُکَ (موسیٰ نے کہا کیا تو مجھے ( ایسی حالت میں بھی قید کرسکے گا) اگر میں تیرے پاس لے آئوں) ۔ نحو : اس میں وائو حالیہ ہے اور اس پر ہمزہ استفہام انکاری کا داخل کیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کیا تو مجھے قید خانے میں اس حال میں بھی ڈال دیگا۔ اگرچہ میں تیرے پاس لے آئوں۔ بِشَیْئٍ مُّبِیْنٍ (کوئی ایسی واضح چیز) یعنی معجزہ لے آئوں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

30۔ قال، جب موسیٰ کے ساتھ قید کا وعدہ کیا، اولوجئتک ، اگر آپ کوئی لے آؤ، بشئی مبین، واضح آیات اس آیت کا معنی ہے کہ کیا تم لوگ میرے ساتھ ایسا ہی معاملہ کرو گے حالانکہ میں تمہارے پاس واضح دلائل لے کر آیا ہوں حضرت موسیٰ نے یہ بات اس وجہ سے کہی کہ لوگوں کے اخلاق میں سے یہ بات بھی شامل تھی کہ وہ انصاف سکون حاصل کرتے تھے اور بیان کے بعد حق کو قبول کرتے تھے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 23–30

(23 تا 30) جب مدین سے مصر آتے وقت حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو نبوت عطا ہوئی اور اس کی قوم کو ہدایت کرنے کا اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا۔ جس کا قصہ آگے سورة قصص میں آوے گا اور مدین کے سفر سے حضرت موسیٰ مصر پہنچے تو اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے موافق حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون دونوں مل کر اللہ کا حکم پہنچانے کی غرض سے فرعون کے محل کے دروازہ پر گئے دستک دی دروازہ کے دربانوں نے پوچھا تم کون ہو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے جواب دیا ہم اللہ کے رسول اور قاصد ہیں اور فرعون کی ہدایت کو آئے ہیں فرعون کی قوم میں چار سو برس سے یہ بات پھیلی ہوئی تھی کہ وہ لوگ فرعون کو اپنا خدا جانتے تھے اس لیے دربانوں نے حضرت موسیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 10–68

آیت نمبر 10 سے 68 اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں موسیٰ (علیہ السلام) کی مدح وثنا اور ان کے واقعات کا بار بار جتنا اعادہ کیا ہے اتنا کسی اور واقعے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ عظیم حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس قصے میں اہل ایمان اور اہل کفر کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے طرز عمل کی تفصیل ہے نیز موسیٰ (علیہ السلام) صاحب شریعت کبری اور صاحب تورات تھے جو قرآن عظیم کے بعد سب سے افضل کتاب ہے۔ فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجئے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندادی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، ان کو رسول بنا کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 30–32

23 عصائے موسیٰ یکایک اژدھا بن گیا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب فرعون نے حضرت موسیٰ کو نشانی پیش کرنے کے لیے کہا تو حضرت موسیٰ نے اپنے عصا کو زمین پر ڈال دیا۔ اور اس کو زمین پر ڈالنا تھا کہ یکایک وہ ایک اژدہا بن گیا۔ سو جسم کے اعتبار سے تو وہ ایک بڑے اژدھا کی طرح تھا لیکن پھرتی اور چستی میں پتلے باریک سانپ کی طرح۔ جیسا کہ دوسری جگہ اس کیلئے " جان " کا لفظ آیا ہے جس کے معنیٰ پتلے اور باریک سانپ کے ہیں۔ یہ بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اس معجزے کا ایک اہم اعجازی پہلو تھا۔ ورنہ دنیا کے عام سانپوں میں ایسا کوئی سانپ نہیں پایا جاتا جس میں یہ دونوں صفتیں جمع ہوں کہ جسم کے اعتبار سے وہ اژدھا ہو اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 10–68

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ تشریح : اس واقعہ میں بیشمار نصیحتیں ‘ اللہ کے کمالات ‘ عجزو انکساری اور سب سے بڑھ کر توکل علی اللہ کا بہت زبردست سبق ملتا ہے۔ ایمان کامل انسان کے اندر اس قدر ہمت ‘ جرأت ‘ بہادری اور معرفت پیدا کردیتا ہے کہ انسان مادی اصولوں سے بےنیاز ہو کر روحانی دنیا میں گم ہوجاتا ہے اور اس کو اللہ ‘ اس کی مدد ‘ اس کا سایہ دنیا کے ہر خطرے سے محفوظ بےنیاز کردیتا ہے۔ جیسا کہ سید حسین نصر صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں : ” سچے مومن کی فراست تکمیل کو پہنچ جاتی ہے جیسا کہ اللہ نے فرمایا ” اللہ کی یاد میں دلوں کا سکون ہے۔ “ ( سورة رعد آیت : 28) ایسا شخص جو اس حالت میں ہو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 10–33

آیات 10 تا 33 اسرار و معارف نبی اکرم ﷺ کی شفقت کس قدر ہے اس کا اندازہ کیجیے کہ کفار کا دکھ بھی کس شدت سے محسوس فرماتے ہیں دوستاں راکجا کنی محروم۔ تو کہ بادشمناں نظر داری یعنی جس کا لطف و کرم دشمن پہ بھی عام ہے بھلا دوستوں کو کب محروم کرسکتا ہے تو آپ ﷺ کی تشفی فرماتے ہوئے اللہ کریم نے انسانوں پہ اپنے کرم کی ایک ادا کا تذکرہ فرمایا کہ فرعون کس قدر ظالم اور گستاخ کافر تھا اور اپنے خدا ہونے کا دعویدار بھی مگر اللہ کریم نے اسے بھی محروم نہ رکھا اور اپنے اولوالعزم رسول کو اس کے پاس بھیجا معجزات اور دلائل دیئے اور ہدایت کی طرف بلایا اگر وہ اپنی پسند سے دوسرے راستے پر ہی جانا چاہتا ہو تو پھر ایسے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 30–31

(26:30) اولو جئتک بشیء مبین۔ میں واؤ حالیہ ہے اور اس پر ہمزہ استفہامیہ داخل کیا گیا ہے۔ ای اتفعل ذلک ولو جئتک بشیء مبین۔ کیا تو پھر بھی (میرے ساتھ) ایسا کرے گا (یعنی قید کرے گا) جب کہ میں تیرے سامنے ایک کھلی ہوئی چیز (یعنی معجزہ) پیش کروں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 23–33

لغات القرآن : آیت نمبر 23 تا 33 : موقنین (یقین کرنے والے) ‘ حولہ (اس کا اردگرد۔ آس پاس) ‘ الا تستمعون (کیا تم سنتے ہو ؟ ) ‘ اتخذت (تونے بنایا) ‘ المسجونین (قیدکئے گئے) ‘ عصا (لاٹھی) ‘ ثعبان (اژدھا۔ بڑا سانپ) ‘ نزع (اس نے نکالا۔ اس نے کھینچا) ‘ بیضاء سفید۔ روشن ‘ نظرین (دیکھنے والے) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 23 تا 33 : جیسا کہ گذشتہ آیات میں آپ نے پڑھا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) اللہ کا پیغام لے کر فرعون کے بھرے دربار میں پہنچے تو فرعون بوکھلا گیا پہلے تو اس نے اپنی کمینگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان احسانات کو یاد دلایا کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 10–30

فرعون کا قصہ۔ (ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ فرعون کی قوم کے پاس جاؤ جنہوں نے اپنی جانوں پر کفر کرکے اور بنی اسرائیل کو غلام بنا کر ظلم کررکھا ہے وہ اللہ سے نہیں ڈرتے کہ اس کی اطاعت کریں اور اکیلا جانیں کسی کو اس کا شریک نہ بنائیں تو حضرت موسیٰ نے کہا، اے میرے پروردگار میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ وہ مجھ کو جھٹلادیں اور ان کے جھٹلانے سے میرا دل تنگ ہوجائے اور میں طاقت لسانی بھی نہیں رکھتا، کیونکہ بوجہ لکنت کے صاف بول نہیں سکتا۔ اس لیے میرے بھائی ہارون کو بھی میرے ساتھ پیغمبر کر، اس کے علاوہ فرعون والوں کا مجھ پر الزام ہے میں نے ایک آدمی کو مارڈالا ہے اس واسطے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 23–35

[9] رب ہونے کا دعویٰ کرنے والا اتنی جلدی حواس باختہ ہوگیا کہ اپنے ماتحتوں کے احکام پر چلنے کے لئے آمادہ ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(30) اس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کیا اگر میں کوئی صاف وصریح چیز تیرے پاس لایا ہوں اور کوئی صحیح دلیل پیش کروں یعنی میں اگر صاف اور صریح دلیل پیش کروں کیا تب بھی میں قید خانے کیا مستحق قرار دیا جائوں گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 25–38

ف 1۔ معین دن سے رماد یوم الزنیة ہے اور خاص وقت سے مراد وقت ضحی ہے جیسا سورة طہ کے شروع رکوع سوم میں اس کا متعین ہونا مقابلہ کے لئے مذکور ہے، یعنی اس وقت کے قریب تک سب جمع کر لئے گئے اور فرعون کو جمع ہونے کی اطلاع کی گئی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

حضرت سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ اگر میں تیرے پاس کوئی دلیل لاؤں تو بھی ؟ : 30۔ فرعون کو خیال ہوگا کہ موسیٰ (علیہ السلام) آگے ہی آگے بڑھتا چلا جا رہا ہے اس دفعہ اس نے بڑھک مار کر کہا کہ اگر اے موسیٰ تو باز نہ آیا تو تجھے قید میں ڈال دیا جائے گا لیکن حضرت سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کی اس دھمکی کی ذرا پرواہ نہ کی اور بےدھڑک ہو کر بولے کہ کیا تیرا فیصلہ اس وقت بھی یہی ہوگا جب میں واضح کر دوں کہ رب تو نہیں ہے بلکہ رب تو وہ ہے جس نے مجھے اپنا رسول بنا کر تیری طرف مبعوث کیا ہے ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 17–42

أَنْ أَرْ‌سِلْ مَعَنَا بَنِي إِسْرَ‌ائِيلَ That you must send the children of Isra'i1 with us". (26:17) Bani Isra'il were the residents of Syria. They wanted to go back to their land but the Pharaoh would not let them. This way four hundred years had passed and they were living in his bondage like slaves. At that time they were six hundred and thirty thousand in number. Sayyidna Musa (علیہ السلام) when presented the message of Truth to the Pharaoh, he also asked him to stop all the cruelties he had perpetrated over Bani Isra'il and to let them go to their homeland. (Qurtubi) An example of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

25 That is, "Will you still deny me and send me to prison, even if I present a convincing Sign to prove that I am really the Messenger of God, Who is Lord of all Creation , Lord of the heavens and the earth and Lord of the east and the west?

Read the full tafseer →