Ash-Shu'araa 26:31

Ash-Shu'araa · from ayah 31

26:31

قَالَ فَاْتِ بِهٖۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ ۟قَالَ فَاۡتِ بِهٖۤ اِنۡ كُنۡتَ مِنَ الصّٰدِقِيۡنَ

فرعون نے کہا اگر سچے ہو تو اسے لاؤ (دکھاؤ)

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Pharaoh] said, "Then bring it, if you should be of the truthful."

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 2 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:31

فرعون نے کہا "اچھا تو لے آ اگر تو سچا ہے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

فرعون نے کہا اگر سچے ہو تو اسے لاؤ (دکھاؤ)

— مولانا فتح محمد جالندہری

فرعون نے کہا اگر تو سچوں میں سے ہے تو اسے پیش کر

— مولانا محمد جوناگڑہی

فرعون نے کہا : اچھا، اگر واقعی سچے ہو تو لے آؤ وہ چیز۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کہا تو لاؤ اگر سچے ہو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(فرعون نے) کہا: تم اسے لے آؤ اگر تم سچے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس نے کہا تو اسے لے آ، اگر تو سچوں سے ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

فرعون کہنے لگا : لاؤ وہ چیز ! اگر تم سچے ہو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس نے کہا، وہ پیش کرو اگر تم سچے ہو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

فرعون نے کہا اچھا تو تو لے آ اسے اگر تو سچا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

(فرعون) بولا اچھا تو وہ لاؤ اگر تم سچے ہو

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ بولا : تو اسے پیش کرو اگر تم سچے ہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

فرعون نے کہا اگر سچے ہو تو اسے لائو دکھائو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Pharaoh said: "Then bring it if you are truthful at all."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He said, :Then bring it, if you are truthful.

— Muhammad Taqi Usmani

He said, :Then bring it, if you are truthful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

He said: "Bring it forth then, if you are of the truthful!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

(Pharaoh) said: Produce it then, if thou art of the truthful!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[Pharaoh] said, "Then bring it, if you should be of the truthful."

— Saheeh International

The Pharaoh replied, "Bring it, if you are telling the truth."

— Muhammad Sarwar

Said he: Bring it then, if you are of the truthful ones.

— Muhammad Habib Shakir

Fir'awn said: forth with it then, if thou art of the truth- tellers.

— Abdul Majid Daryabadi

(Pharaoh) said: "Show it then, if thou tellest the truth!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 26:31

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 29–37

فرعون اور موسیٰ ؑ کا مباحثہ جب مباحثے میں فرعون ہارا دلیل وبیان میں غالب نہ آسکا تو قوت وطاقت کا مظاہرہ کرنے لگا اور سطوت وشوکت سے حق کو دبانے کا ارادہ کیا اور کہنے لگا کہ موسیٰ ؑ میرے سوا کسی اور کو معبود بنائے گا تو جیل میں سڑا سڑا کر تیری جان لے لونگا۔ حضرت موسیٰ ؑ بھی چونکہ وعظ و نصیحت کر ہی چکے تھے آپ نے بھی ارادہ کیا کہ میں بھی اسے اور اس کی قوم کو دوسری طرح قائل کروں تو فرمانے لگے کیوں جی میں اگر اپنی سچائی پر کسی ایسے معجزے کا اظہار کروں کہ تمہیں بھی قائل ہونا پڑے تب ؟ فرعون سو اس کے کیا کرسکتا تھا کہ کہا اچھا اگر سچا ہے تو پیش کر۔ آپ نے سنتے ہی اپنی لکڑی جو آپ کے ہاتھ میں تھی ہی اسے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الشُّعَرَآء 26 حضرت موسیٰ کے سوال پر فرعون کا یہ جواب خود ظاہر کرتا ہے کہ اس کا حال قدیم و جدید زمانے کے عام مشرکین سے مختلف نہ تھا۔ وہ دوسرے تمام مشرکین کی طرح فوق الفطری معنوں میں اللہ کے الٰہٰ الالٰہہ ہونے کو مانتا تھا اور ان ہی کی طرح یہ بھی تسلیم کرتا تھا کہ کائنات میں اس کی قدرت سب دیوتاؤں سے برتر ہے۔ اسی وجہ سے حضرت موسیٰ نے اس سے کہا کہ اگر تجھے میرے مامور من اللہ ہونے کا یقین نہیں ہے تو میں ایسی صریح نشانیاں پیش کروں جن سے ثابت ہوجائے کہ میں اسی کا بھیجا ہوا ہوں۔ اور اسی وجہ سے اس نے بھی جواب دیا کہ اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو تو لاؤ کوئی نشانی۔ ورنہ ظاہر ہے کہ اگر اللہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 23–33

خدائے ذوالجلال کی ذات و حقیقت کا علم انسان کے لئے ناممکن ہے قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ ، اس آیت مبارکہ سے ثابت ہوا کہ خدائے ذوالجلال کی کنہ و حقیقت کا جاننا ممکن نہیں کیونکہ فرعون کا سوال اللہ تعالیٰ کی حقیت، ماہیت کے متعلق تھا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے بجائے ماہیت باری تعالیٰ بتلانے کے اللہ تعالیٰ کے اوصاف بیان فرمائے جس سے اشارہ فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ کی کنہ اور حقیقت کا ادراک ناممکن ہے اور ایسا سوال ہی کرنا بیجا ہے۔ (کذا فی الروح)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قال فات بہ ان کنت من الصدقین (31) حضرت موسیٰ نے معجزے دعوت کے بعد فرعون کی مطلب پر دکھائے فرعون نے کہا اگر تم اپنی سچائی کی کوئی نشانی رکھتے ہو تو اس کو دکھائو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 31–32

32-1بعض جگہ ثعبان کو حیۃ اور بعض جگہ جان کہا گیا ہے ثعبان وہ سانپ ہوتا ہے جو بڑا ہو اور جان چھوٹے سانپ کو کہتے ہیں او حیۃ چھوٹے بڑے دونوں قسم کے سانپوں پر بولا جاتا ہے۔ فتح القدیر۔ گویا لاٹھی نے پہلے چھوٹے سانپ کی شکل اختیار کی پھر دیکھتے دیکھتے اژدھا بن گئی۔ واللہ اعلم

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 27–32

9: فرعون نے جو سوال کیا تھا، اس کا مطلب یہ تھا کہ رب العالمین کی حقیقت و ماہیت بتاؤ۔ حضرت موسیٰ ؑ کے جواب کا حاصل یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کی حقیقت و ماہیت کوئی نہیں جان سکتا، البتہ اس کو اس کی صفات سے پہچانا جاتا ہے۔ چنانچہ حضرت موسیٰ ؑ نے جواب میں باری تعالیٰ کی صفات ہی بیان فرمائیں۔ اس پر فرعون نے کہا کہ ”یہ بالکل دیوانہ ہے“ کیونکہ سوال حقیقت کا کیا گیا تھا، اور جواب صفات سے دے رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

قال فات بہ ان کنت من الصدقین (31) ’ ۔ “ لائو اگر تمہارا دعویٰ سچا ہے۔ یا یہ کہ تم دعویٰ کرتے ہو کہ تمہارے پاس کوئی معجزانہ دلیل ہے ، اس دعویٰ میں اگر تم سچے ہو ، یہ شخص ابھی تک موسیٰ (علیہ السلام) کی حقانیت کے بارے میں شک کا اظہار کرتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اس کے اردگرد جو لوگ بیٹھے ہیں ، کہیں وہ متاثر نہ ہوجائیں۔ اب حضرت موسیٰ اپنے معجزات پیش فرماتے ہیں۔ فرعون کے ساتھ چیلنج اور جوابی چیلنج چونکہ انتہا تک پہنچ گئے ہیں۔ اس لئے اب وقت آگیا ہے کہ فرعون پر آخری وار کیا جائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 31–35

4 یا تو خدائی کے دعوے تھے، یا اتنی جلد ایسا حواس باختہ ہوگیا کہ اپنے غلاموں اور پرستاروں کے احکام پر چلنے کے لیے آمادہ ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 30–32

آیت 32 فَاَلْقٰی عَصَاہُ فَاِذَا ہِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌ ” واضح رہے کہ سورة طٰہٰ کی آیت 20 میں عصا کی تبدیلۂ یئت کے لیے ”حَیَّۃٌ“ کا لفظ استعمال ہوا ہے ‘ جس کے معنی عام سانپ کے ہیں اور یہ اس وقت کا ذکر ہے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو وادئ طویٰ میں پہلی بار اس کا تجربہ کرایا گیا تھا۔ جبکہ فرعون کے دربار میں وہ ”ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌ“ یعنی واضح طور پر ایک بہت بڑا اژدھا بن گیا تھا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

24 فرعون کی پہلی بحث تو اس امر میں تھی کہ رب تو میں خود ہوں یہ رب العالمین کیا ہوتا ہے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے بار بار کے تکرار سے اسے یہ بات ذہین نشین کرا دی کہ رب العالمین ہی وہ بالاتر ہستی ہے جو پوری کائنات کی خالق، مالک اور پرورش کنندہ ہے۔ حتیٰ کہ خود تمہارا بھی وہی پروردگار ہے۔ لہذا اسے ہی یہ حق سزاوار ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور اس کے ہر حکم کو بجا لایا جائے۔ اب بحث اس بات میں رہ گئی تھی کہ آیا موسیٰ (علیہ السلام) اس بالاتر ہستی کے رسول ہیں بھی یا نہیں ؟ اس بحث کا آغاز بھی خود موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اور کہا کہ اس ہستی نے مجھے اپنے دعویٰ رسالت کی تائید میں کچھ نشانیاں بھی دی ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 31–32

30۔ نمایاں یعنی ایسا جسے سب نے دیکھا۔ حاشیے سورة اعراف پ 9 میں گزر چکے۔ (آیت) ” ثعبان “۔ ثعبان اور حیۃ میں فرق یہ ہے کہ ثعبان میں پہلو سانپ کے حجم اور قدوقامت کی بڑائی کا زیادہ ہے یعنی خوب موٹا تازہ سانپ۔ اور حیۃ میں اس کی تیز رفتاری کا۔ یعنی بڑی تیزی سے دوڑنے والا سانپ۔ امام رازی (رح) نے کہا ہے کہ حیۃ ہر قسم کے سانپ کے لیے عام ہے۔ ثعبان اسے اس کی بڑائی کے لحاظ سے کہا گیا ہے۔ اور جان اسے اس کے ہلکے پھلکے ہونے اور تیز رفتاری کی بناء پر۔ اما الحیۃ فھی اسم الجنس ثم انھا لکبرھا صارت ثعبانا وشبھھا بالجان لخف تھا وسرعتھا (کبیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 10–33

آیت نمبر 10 تا 33 ترجمہ : اور اے محمد ﷺ اپنی قوم کو اس وقت کا واقعہ یاد دلائیے کہ جب تیرے رب نے موسیٰ کو حکم دیا اس رات میں جبکہ موسیٰ نے آگ اور درخت کو دیکھا کہ تو ظالم قوم کے پاس رسول بن کر جا قوم فرعون کے پاس مع فرعون کے انہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کرکے اور بنی اسرائیل کو غلام بنا کر اپنے اوپر ظلم کیا ہے اَلاَ یتقون میں ہمزہ استفہام انکاری کے لئے ہے کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو کہ اس کی طاعت اختیار کرکے اس کی توحید کے قائل ہوجاؤ تو موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے پروردگار مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے اور ان کے میری تکذیب کی وجہ سے میرا دل تنگ ہوجائے، اور اداء رسالت کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال فات بہ ان کنت من الصدقین۔ فرعون بولا (وہ واضح چیز کیا ہے) اس کو پیش کر اگر تو (اپنی رسالت کے دعوے میں) سچا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 31–32

(31۔ 32) فرعون نے حضرت موسیٰ ؑ سے کہا اچھا تو دلیل پیش کرو اگر تم اپنے دعوائے رسالت میں سچے ہو، حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی لاٹھی ڈال دی تو وہ اچانک ایک پیلے رنگ کا نمایاں اژدہا بن گیا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالَ فَاْتِ بِهٖٓ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ : فرعون کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ اس نے کہا، اگر سچے ہو تو پیش کرو۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 23–51

( قال فرعون وما رب العلمین۔۔۔۔ ) قال فرعون وما رب العٰلمین جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) میں فرعون پر غالب آگئے اور فرعون لعین نے تربیت اور دوسری چیزوں میں کوئی دلیل نہ پائی تو وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے معاوضہ کے لیے آپ کے قول رسول رب العٰلمین کی طرف متوجہ ہوئے تو اس نے ایسا سوال کیا جو مجہول چیز کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے۔ مکی اور دوسرے علماء نے کہا : جس طرح اجناس کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے، اسی وجہ سے ما کے ساتھ سوال کیا۔ مکی نے کہا : ایک اور جگہ من کے ساتھ بھی استفہام واقع ہوا ہے یہ اس کے مشابہ ہے کہ یہاں کئی مواطن ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مخلوقات میں سے ایسی صفات لائے جو اللہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 10–51

1۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” یعنی طور کے داہنی جانب سے ان کو آواز دی گئی۔ 2۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جرری وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ ایک جان کے قتل کرنے کا الزام جو ان کے درمیان قتل ہوا آیت ” وفعلت فعلتک التی فعلت “ سے مراد بھی انسان کا قتل ہے۔ آیت ” فعلتہا اذا وانا من الضالین “ یعنی جب میں چوک جانے والوں میں سے تھا۔ 3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ یعنی ایک جان کا قتل کرنا آیت ” الم لربک فینا ولیدا “ یعنی ان کو فرعون والوں سے اٹھا لیا سو اس بچے کو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قَالَ [ (فرعون نے) کہا ] فَاْتِ [ پس تولا ] بِهٖٓ [ اس کو ] اِنْ كُنْتَ [ اگر تو ہے ] مِنَ الصّٰدِقِيْنَ [ سچ کہنے والوں میں سے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 11–34

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ کے لیے فرعون کا جادو گروں کو بلانا، مقابلہ ہونا اور جادو گروں کا شکست کھا کر ایمان قبول کرنا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے جواب وسوال سے عاجز ہو کر اور دو بڑے معجزے دیکھ کر فرعون کی شکست تو اسی وقت ہوگئی لیکن اس نے اپنی خفت مٹانے اور درباریوں کو مطمئن رکھنے اور ان کے ذریعہ ساری قوم کو اپنی فرمانبرداری پر جمائے رکھنے کے لیے سرداروں سے کہا جو اس وقت وہاں موجود تھے کہ سمجھ میں آگیا یہ تو ایک بڑا ماہر جادوگر ہے یہ چاہتا ہے کہ تمہیں مصر کی سر زمین سے نکال دے اور اپنی قوم کا بڑا بن کر ان کو ساتھ لے کر حکومت کرنے لگے۔ تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو ؟ سورة اعراف میں ہے کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 23–33

مکاملہ موسیٰ (علیہ السلام) بافرعون دربارہ ربوبیت خداوند کون قال اللہ تعالیٰ قال فرعون وما رب العلمین .... الیٰ .... فازا ہی بیضاء للنظرین۔ فرعون اس گفتگو میں ذلیل و خوار ہوا تو اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کے اس قول انا رسول رب العلمین۔ یعنی ہم دونوں اللہ رب العالمین کے پیغمبر ہیں یعنی ان کے دعوائے نبوت پر اعتراض شروع کیا۔ اور اللہ رب العالمین کی ربوبیت میں جھگڑا لگانے لگا چناچہ فرعون بولا اچھا بتاؤ کہ وہ رب العالمین جس کے رسول ہونے کا تو مدعی ہے وہ کیا چیز ہے وہ کون ہے اور کیا ہے تمہارا دعویٰ یہ ہے کہ ہم رب العالمین کے رسول مرسل ہیں یعنی اس کے فرستادہ ہیں لہٰذا تم کو چاہئے کہ اول اپنے مرسل…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

19:۔ فرعون نے کہا ہاں لاؤ وہ کونسی دلیل ہے۔ اگر اپنے اس قول میں سچے ہو تو وہ دلیل پیش کرو۔ فرعون کا مقصد یہ تھا کہ شاید اس کی پیش کردہ دلیل میں بھی کچھ اعتراض اور رد و قدح کی گنجائش مل جائے۔ ” فالقی عصاہ الخ “ موسیٰ (علیہ السلام) نے فوراً اپنی لاتھی زمین پر ڈالدی جو زمین پر گرتے ہی ایک ہیبتناک اژدہا بن گئی جو ہر ایک کو صاف نظر آرہا تھا۔ ” و نزع یدہ الخ “ اس کے بعد اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر جو باہر نکالا تو وہ جگمگا رہا تھا جسے تمام حاضرین نے صاف صاف دیکھا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 23–33

ربط آیات اس سورة کی ابتداء سے موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت کا تذکرہ بیان کیا گیا ۔ جب اللہ تعالیٰ نے آپ کے سر پر تاج نبوت رکھا تو آپ کو حکم دیا کہ فرعون کے سامنے جا کر کلمہ حق بلند کرو۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے بعض مشکلات کا ذکر کیا تو اللہ نے آپ کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو بھی نبوت عطا فرمائی اور پھر دونوں کو حکم ہوا کہ فرعون سے جا کر کہو کہ ہم دونوں رب العالمین کے فرستادہ ہیں ۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ تم اللہ کی وحدانیت کو قبول کرلو اور دوسری بات یہ کہ بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے آزاد کر دو ۔ اس کے جواب میں فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو طعن کیا کہ کیا تم وہی نہیں جس کی ہم نے بچپن…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ فَاْتِ بِہٖٓ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ۝ 31 صدق الصِّدْقُ والکذب أصلهما في القول، ماضیا کان أو مستقبلا، وعدا کان أو غيره، ولا يکونان بالقصد الأوّل إلّا في القول، ولا يکونان في القول إلّا في الخبر دون غيره من أصناف الکلام، ولذلک قال : وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ص دق) الصدق ۔ یہ ایک الکذب کی ضد ہے اصل میں یہ دونوں قول کے متعلق استعمال ہوتے ہیں خواہ اس کا تعلق زمانہ ماضی کے ساتھ ہو یا مستقبل کے ۔ وعدہ کے قبیل سے ہو یا وعدہ کے قبیل سے نہ ہو ۔ الغرض بالذات یہ قول ہی کے متعلق استعمال ہوتے ہیں پھر قول میں بھی صرف خبر کے لئے آتے ہیں اور اس کے ماسوا دیگر اصناف کلام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 11–34

بدنصیب یہ معجزے دیکھ کر ایمان تو نہ لایا کہہ دیا کہ یہ بڑا جادوگر ہے اس کے زور سے تمہارا ملک لینا چاہتا ہے۔ فرعونیوں کے عہد میں جادو اور طلسم کا بڑا زور تھا چناچہ اس عہد کے یادگار مسلمانوں کے ابتدائِ عہد تک موجود تھے جن کو اہل اسلام کے مؤرخین نے نقل کیا ہے دیکھو تاریخ مصر، درباریوں نے صلاح دی کہ آپ بھی اپنے ملک میں سے نامور جادوگر ایک روز معین میں جمع کر کے اس کو عاجز کر دیجئے اور عید یا کوئی فرعونیوں کا میلہ ہوتا تھا جس میں سب لوگ شریک ہوتے تھے وہ روز قرار پایا تاکہ سب لوگ موسیٰ ( علیہ السلام) کا عجز ملاحظہ کریں۔ چناچہ اس روز وہ سب جادوگر اور طلسم کار آئے اور ایک میدان میں فرعون اور اس کے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قَالَ فَاْتِ بِہٖٓ اِنْ کُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ ۔ (الشعرآء : 13) (فرعون نے کہا پیش کرو اسے اگر تم سچے ہو۔ ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اس سوال پر فرعون نے کہا کہ اگر تم واقعی رب العالمین کی نمائندگی کے دعوے میں سچے ہو تو پھر کوئی ایسی نشانی دکھائو جو تمہارے اس دعوے کی تصدیق کرتی ہو۔

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 30–35

فہم القرآن ربط کلام : فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو جادوگروں کے ساتھ مقابلہ کا چیلنج دیا۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) کی سیرت اور جدوجہد کا تذکرہ کرتے ہوئے قرآن مجید نے یہ بات واضح فرمائی ہے کہ جب بھی انبیاء کرام (علیہ السلام) نے اپنی اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی تو سب سے پہلے انھیں پاگل اور جادو گر کہا گیا تھا۔ یہی الزام موسیٰ (علیہ السلام) پر لگے کہ یہ بہت بڑا جادوگر ہے۔ حالانکہ فرعون جانتا تھا کہ جادوگر اس سیرت کے حامل لوگ نہیں ہوتے۔ جس سیرت سے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو سرفراز فرمایا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو جادوگر کہہ کر فرعون نے سیاسی حربہ استعمال کرتے ہوئے اپنے وزیروں،…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

31: قَالَ فَاْتِ بِہٖٓ (اس نے کہا تو اس کو پیش کر) جو تیری سچائی کو واضح کر دے اِنْ کُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ (اگر تو سچا ہے) تیرے پاس دلیل ہے۔ : جواب شرط مقدر ہے۔ جو کہ (فاحضرہ) ہے یعنی تو اس کو حاضر کر دے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

31۔ قال، فرعون نے کہا، فات بہ، اگر آپ اس طرح آیات یا نشانی لے کر آئیں توپھرہم آپ کو قید نہیں کریں گے ، ان کنت من الصادقین۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 31–35

(31‘ 35) فرعون نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) سے کہا وہ حق اور ناحق کی کھول دینے والی کیا چیز ہے اسے لا اگر تو سچ بولنے والوں میں سے ہے حضرت موسیٰ نے اپنے عصا کو ڈال دیا تو وہ ایک ناگ ہوگیا جس کے پاؤں اور بڑا سا منہ اور خوفناک صورت ‘ اور نکالا موسیٰ (علیہ السلام) نے ہاتھ اپنا گریبان میں سے تو ناگہاں وہ ایک سفید اس طرح چمکنے والا تھا جس طرح سورج کا ٹکڑا یہ دوسرا معجزہ دکھایا تو فرعون بدبحت نے اس کے جھٹلانے کی طرف جلدی کر کے کہا یہ تو ایسا جادوگر ہے جو اور جادوگروں سے زیادہ علم والا ہے یہ بات فرعون نے کہہ کر ان کو بہکا دیا اور یہ سوجھا دیا کہ موسیٰ کا یہ کام جادو کی قسم سے ہے معجزہ نہیں ہے پھر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 10–68

آیت نمبر 10 سے 68 اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں موسیٰ (علیہ السلام) کی مدح وثنا اور ان کے واقعات کا بار بار جتنا اعادہ کیا ہے اتنا کسی اور واقعے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ عظیم حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس قصے میں اہل ایمان اور اہل کفر کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے طرز عمل کی تفصیل ہے نیز موسیٰ (علیہ السلام) صاحب شریعت کبری اور صاحب تورات تھے جو قرآن عظیم کے بعد سب سے افضل کتاب ہے۔ فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجئے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندادی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، ان کو رسول بنا کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 30–32

23 عصائے موسیٰ یکایک اژدھا بن گیا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب فرعون نے حضرت موسیٰ کو نشانی پیش کرنے کے لیے کہا تو حضرت موسیٰ نے اپنے عصا کو زمین پر ڈال دیا۔ اور اس کو زمین پر ڈالنا تھا کہ یکایک وہ ایک اژدہا بن گیا۔ سو جسم کے اعتبار سے تو وہ ایک بڑے اژدھا کی طرح تھا لیکن پھرتی اور چستی میں پتلے باریک سانپ کی طرح۔ جیسا کہ دوسری جگہ اس کیلئے " جان " کا لفظ آیا ہے جس کے معنیٰ پتلے اور باریک سانپ کے ہیں۔ یہ بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اس معجزے کا ایک اہم اعجازی پہلو تھا۔ ورنہ دنیا کے عام سانپوں میں ایسا کوئی سانپ نہیں پایا جاتا جس میں یہ دونوں صفتیں جمع ہوں کہ جسم کے اعتبار سے وہ اژدھا ہو اور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 10–68

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ تشریح : اس واقعہ میں بیشمار نصیحتیں ‘ اللہ کے کمالات ‘ عجزو انکساری اور سب سے بڑھ کر توکل علی اللہ کا بہت زبردست سبق ملتا ہے۔ ایمان کامل انسان کے اندر اس قدر ہمت ‘ جرأت ‘ بہادری اور معرفت پیدا کردیتا ہے کہ انسان مادی اصولوں سے بےنیاز ہو کر روحانی دنیا میں گم ہوجاتا ہے اور اس کو اللہ ‘ اس کی مدد ‘ اس کا سایہ دنیا کے ہر خطرے سے محفوظ بےنیاز کردیتا ہے۔ جیسا کہ سید حسین نصر صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں : ” سچے مومن کی فراست تکمیل کو پہنچ جاتی ہے جیسا کہ اللہ نے فرمایا ” اللہ کی یاد میں دلوں کا سکون ہے۔ “ ( سورة رعد آیت : 28) ایسا شخص جو اس حالت میں ہو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 10–33

آیات 10 تا 33 اسرار و معارف نبی اکرم ﷺ کی شفقت کس قدر ہے اس کا اندازہ کیجیے کہ کفار کا دکھ بھی کس شدت سے محسوس فرماتے ہیں دوستاں راکجا کنی محروم۔ تو کہ بادشمناں نظر داری یعنی جس کا لطف و کرم دشمن پہ بھی عام ہے بھلا دوستوں کو کب محروم کرسکتا ہے تو آپ ﷺ کی تشفی فرماتے ہوئے اللہ کریم نے انسانوں پہ اپنے کرم کی ایک ادا کا تذکرہ فرمایا کہ فرعون کس قدر ظالم اور گستاخ کافر تھا اور اپنے خدا ہونے کا دعویدار بھی مگر اللہ کریم نے اسے بھی محروم نہ رکھا اور اپنے اولوالعزم رسول کو اس کے پاس بھیجا معجزات اور دلائل دیئے اور ہدایت کی طرف بلایا اگر وہ اپنی پسند سے دوسرے راستے پر ہی جانا چاہتا ہو تو پھر ایسے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 31–32

3 ۔ یعنی ایسا اژدھا جس کا اژدھا ہونا بالکل واضح اور عیاں تھا نہ کہ کسی شعبدہ بازی کا دھوکا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 30–31

(26:30) اولو جئتک بشیء مبین۔ میں واؤ حالیہ ہے اور اس پر ہمزہ استفہامیہ داخل کیا گیا ہے۔ ای اتفعل ذلک ولو جئتک بشیء مبین۔ کیا تو پھر بھی (میرے ساتھ) ایسا کرے گا (یعنی قید کرے گا) جب کہ میں تیرے سامنے ایک کھلی ہوئی چیز (یعنی معجزہ) پیش کروں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 23–33

لغات القرآن : آیت نمبر 23 تا 33 : موقنین (یقین کرنے والے) ‘ حولہ (اس کا اردگرد۔ آس پاس) ‘ الا تستمعون (کیا تم سنتے ہو ؟ ) ‘ اتخذت (تونے بنایا) ‘ المسجونین (قیدکئے گئے) ‘ عصا (لاٹھی) ‘ ثعبان (اژدھا۔ بڑا سانپ) ‘ نزع (اس نے نکالا۔ اس نے کھینچا) ‘ بیضاء سفید۔ روشن ‘ نظرین (دیکھنے والے) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 23 تا 33 : جیسا کہ گذشتہ آیات میں آپ نے پڑھا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) اللہ کا پیغام لے کر فرعون کے بھرے دربار میں پہنچے تو فرعون بوکھلا گیا پہلے تو اس نے اپنی کمینگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان احسانات کو یاد دلایا کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 31–35

جادوگروں کا ایمان لانا۔ (ف 1) فرعون نے کہا اگر تم سچے ہو تو نشانی لاؤ، پس حضرت موسیٰ نے اپنے عصا کو ڈال دیا اور وہ فورا ایک اژدھا بن گیا جو ایک خوفناک صورت تھی پھر حضرت موسیٰ نے اپناہاتھ گریبان میں دے کر باہر نکالاتو وہ ہاتھ سفید ہوگیا اور اس طرح چمکنے لگا جس طرح سورج کا ٹکڑا یہ دوسرا معجزہ دکھایا تو فرعون بدبخت نے اس کو جھٹلانے کی طرح سے گھبرا کر کہا یہ تو ایسا جادوگر ہے جو اور جادوگروں سے زیادہ علم والا ہے۔ یہ بات فرعون نے سرداروں سے کہہ کر ان کو بہکا دیا اور یہ کہہ دیا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ کام جادو کی قسم ہے معجزہ نہیں ہے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تو یہ چاہتے ہیں کہ تم کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 23–35

[9] رب ہونے کا دعویٰ کرنے والا اتنی جلدی حواس باختہ ہوگیا کہ اپنے ماتحتوں کے احکام پر چلنے کے لئے آمادہ ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 25–38

ف 1۔ معین دن سے رماد یوم الزنیة ہے اور خاص وقت سے مراد وقت ضحی ہے جیسا سورة طہ کے شروع رکوع سوم میں اس کا متعین ہونا مقابلہ کے لئے مذکور ہے، یعنی اس وقت کے قریب تک سب جمع کر لئے گئے اور فرعون کو جمع ہونے کی اطلاع کی گئی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

فرعون نے کہا کہ اچھا تو اپنی وہ نشانی بھی دکھا دے جس کا تو نے ذکر کیا ہے : 31۔ سیاسی لیڈروں کا یہ کمال آج سے نہیں بلکہ شروع سے چلا آ رہا ہے کہ وہ حتی المقدور اور خود بنفس نفیس ایک دوسرے کے سامنے نہیں آتے بلکہ کوشش کرتے ہیں کہ اپنے مخالفین کو دوسروں کے ساتھ الجھائے رکھیں اور خود الگ تھلک رہ کر تماشا دیکھیں اس لئے وہ رو در رو بڑی بڑی باتیں برداشت کر جاتے ہیں اور پھر اس کا انتقام لینے کے لئے دوسری راہ اختیار کرتے ہیں یہی کچھ فرعون نے کہا موسیٰ (علیہ السلام) کی ساری باتوں کو جو رو در رو ہوئیں ان کو برداشت کیا اور انتقام کے لئے ہمیشہ اس نے اپنے اردگرد کے حواریوں اور درباریوں ہی کو دیکھا جب موسیٰ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 17–42

أَنْ أَرْ‌سِلْ مَعَنَا بَنِي إِسْرَ‌ائِيلَ That you must send the children of Isra'i1 with us". (26:17) Bani Isra'il were the residents of Syria. They wanted to go back to their land but the Pharaoh would not let them. This way four hundred years had passed and they were living in his bondage like slaves. At that time they were six hundred and thirty thousand in number. Sayyidna Musa (علیہ السلام) when presented the message of Truth to the Pharaoh, he also asked him to stop all the cruelties he had perpetrated over Bani Isra'il and to let them go to their homeland. (Qurtubi) An example of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

26 This reply of Pharaoh shows that he was not in any way different from the common polytheists of the ancient and modern times. Like all other polytheists he believed in Allah's being the highest Deity in the supernatural sense. Who wielded greater power and authority than all other gods and goddesses. That is why Prophet Moses said to him, "If you do not believe that I have been appointed by AIlah, I can present such clear Signs as will prove that I have really been sent by Him", and that is why Pharaoh said, " I f you are true in your claim, come out with your Sign", otherwise if he had…

Read the full tafseer →