Explained with ayahs 29–37
فرعون اور موسیٰ ؑ کا مباحثہ
جب مباحثے میں فرعون ہارا دلیل وبیان میں غالب نہ آسکا تو قوت وطاقت کا مظاہرہ کرنے لگا اور سطوت وشوکت سے حق کو دبانے کا ارادہ کیا اور کہنے لگا کہ موسیٰ ؑ میرے سوا کسی اور کو معبود بنائے گا تو جیل میں سڑا سڑا کر تیری جان لے لونگا۔ حضرت موسیٰ ؑ بھی چونکہ وعظ و نصیحت کر ہی چکے تھے آپ نے بھی ارادہ کیا کہ میں بھی اسے اور اس کی قوم کو دوسری طرح قائل کروں تو فرمانے لگے کیوں جی میں اگر اپنی سچائی پر کسی ایسے معجزے کا اظہار کروں کہ تمہیں بھی قائل ہونا پڑے تب ؟ فرعون سو اس کے کیا کرسکتا تھا کہ کہا اچھا اگر سچا ہے تو پیش کر۔ آپ نے سنتے ہی اپنی لکڑی جو آپ کے ہاتھ میں تھی ہی اسے…
Read the full tafseer →سورة الشُّعَرَآء 24
اس گفتگو کو سمجھنے کے لیے یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ آج کی طرح قدیم زمانے میں بھی " معبود " کا تصور صرف مذہبی معنوں تک محدود تھا۔ یعنی یہ کہ اسے بس پوجا پاٹ اور نذر و نیاز کا استحقاق پہنچتا ہے، اور اپنے فوق الفطری غلبہ و اقتدار کی وجہ سے اس کا یہ منصب بھی ہے کہ انسان اپنے معاملات میں اس سے استمداد و استعانت کے لیے دعائیں مانگیں۔ لیکن کسی معبود کی یہ حیثیت کہ وہ قانونی اور سیاسی معنوں میں بھی بالا دست ہے، اور اسے یہ حق بھی پہنچتا ہے کہ معاملات دنیا میں وہ جو حکم چاہے دے، اور انسانوں کا یہ فرض ہے کہ اس کے امر و نہی کو قانون برتر مان کر اس کے آگے جھک جائیں، یہ چیز زمین کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–33
خدائے ذوالجلال کی ذات و حقیقت کا علم انسان کے لئے ناممکن ہے
قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ ، اس آیت مبارکہ سے ثابت ہوا کہ خدائے ذوالجلال کی کنہ و حقیقت کا جاننا ممکن نہیں کیونکہ فرعون کا سوال اللہ تعالیٰ کی حقیت، ماہیت کے متعلق تھا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے بجائے ماہیت باری تعالیٰ بتلانے کے اللہ تعالیٰ کے اوصاف بیان فرمائے جس سے اشارہ فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ کی کنہ اور حقیقت کا ادراک ناممکن ہے اور ایسا سوال ہی کرنا بیجا ہے۔ (کذا فی الروح)
Read the full tafseer →قال لین اتخذت الھا غیری لاجعلنک من المسجونین 29
فرعون کی دھمکی
جب فرعون نے دیکھا کہ حضرت موسیٰ اس کی کسی بات کو سرے سے لائق اعتناء ہی نہیں سمجھتے بلکہ پوری بےخوفی کے ساتھ اپنی ایک بات کے بعد دوسری بات پہلی سے بڑھ چڑھ کر کہہ گزرتے ہیں اور ہر بات اس کی خدائی پر ایک سخت سے سخت تر ضرب کی نوعیت رکھتی ہے تو وہ بالکل بےحوصلہ ہو کر چلا اٹھا کہ اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو معبود مانا تو یاد رکھو کہ میں تمہیں قید کر کے چھوڑوں گا۔
Read the full tafseer →29-1فرعون نے دیکھا کہ موسیٰ ؑ مختلف انداز سے رب العالمین کی ربوبیت کامل کی وضاحت کر رہے ہیں جس کا کوئی معقول جواب اس سے نہیں بن پا رہا ہے۔ تو اس نے دلائل سے صرف نظر انداز کرکے دھمکی دینی شروع کردی اور موسیٰ ؑ کو قید کرنے سے ڈرایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–32
9: فرعون نے جو سوال کیا تھا، اس کا مطلب یہ تھا کہ رب العالمین کی حقیقت و ماہیت بتاؤ۔ حضرت موسیٰ ؑ کے جواب کا حاصل یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کی حقیقت و ماہیت کوئی نہیں جان سکتا، البتہ اس کو اس کی صفات سے پہچانا جاتا ہے۔ چنانچہ حضرت موسیٰ ؑ نے جواب میں باری تعالیٰ کی صفات ہی بیان فرمائیں۔ اس پر فرعون نے کہا کہ ”یہ بالکل دیوانہ ہے“ کیونکہ سوال حقیقت کا کیا گیا تھا، اور جواب صفات سے دے رہے ہیں۔
Read the full tafseer →قال لئن اتخذت الھا غیری لاجعلنک من المسجونین (29)
یہ ہے سرکشوں کی دل یل اور حجت۔ یہ کہ تمہیں جیل میں ڈال دیا جائے گا۔ جیل تو تیار ہے اور دور بھی نہیں ہے اور نہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ جب سرکش عاجز آجاتے ہیں اور جب ان کو احساس ہوجاتا ہے کہ ان کا موقف تو سچائی کے مقابلے میں کمزور پڑ رہا ہے کیونکہ سچائی ہمیشہ جارح ہوتی ہے تو پھر لاجواب سرکشوں کا قدیم زمانے سے یہ آخری ہتھیار ہوتا ہے ۔ اور آج تک یہ آخری ہتھیار استعمال ہوتا ہے۔
لیکن حضرت موسیٰ حوصلہ نہیں ہارتے۔ آخر وہ رسول برحق ہیں۔ ان کے اور ان کے بھائی کے ساتھ ، اللہ بھی کھڑا ہے اور دیکھ رہا ہے چناچہ فرعون جس بحث کا سلسلہ ختم کرنا چاہتا تھا حضرت…
Read the full tafseer →2 اس مرتبہ فرعون نے اپنا مطلب صاف کہہ دیا کہ یہاں " مصر " میں کوئی اور خدا نہیں۔ اگر میرے سوا کسی اور معبود کی حکومت مانی تو یاد رکھو قید خانہ تیار ہے۔
Read the full tafseer →آیت 29 قَالَ لَءِنِ اتَّخَذْتَ اِلٰہًا غَیْرِیْ لَاَجْعَلَنَّکَ مِنَ الْمَسْجُوْنِیْنَ ”
صورت حال فرعون کی برداشت سے باہر ہوگئی تو اس کا غصہ اور مطلق العنانیت کا جلال اس کیّ خفت پر غالب آگیا۔ اس کیفیت میں اس نے گرجتے ہوئے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دھمکی دی ‘ مگر یہ قتل کے بجائے صرف جیل میں ڈالنے کی دھمکی تھی۔ اس سے یوں لگتا ہے جیسے ابھی تک فرعون کے دل میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے کوئی نرم گوشہ موجود تھا اور یہ بالکل فطری بات تھی ‘ کیونکہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا بچپن کا ساتھی تھا۔ دونوں اکٹھے کھیلے اور ایک ساتھ پلے بڑھے تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام عمر میں بڑے ہونے کی وجہ سے اس کے بڑے…
Read the full tafseer →22 دنیا میں جتنے بھی مشرکین یا خدائی کے دعویٰ دار گزار ہیں۔ وہ سب یہ بات تسلیم کرتے تھے کہ اس کائنات کا خالق ومالک اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ فرعون کا بھی یہی حال تھا وہ خدائی کا دعویدار صرف ان معنوں میں تھا کہ وہ اپنے سیاسی اقتدار میں کسی بالاتر ہستی کی مداخلت کا قائل نہ تھا۔ بالفاظ دیگر وہ اللہ تعالیٰ کے اس پوری کائنات کے خالق ومالک ہونے کا تو قائل تھا مگر اس کی قانونی یا سیاسی حاکمیت کا قائل نہ تھا۔ اور اپنی مملکت میں اپنے قانون کو ہی بالاتر قانون سمجھتا تھا۔ اور اپنی رعیت کو بھی اسی راستے پر لگائے ہوئے تھا۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے مطالبہ کیا تھا وہ براہ راست اس کے قانونی اور سیاسی…
Read the full tafseer →28۔ ہندوستان میں سورج بنسی خاندان کی طرف مصر میں بھی ایک نسل رب الارباب یعنی سورج دیوتا کی نسل سے تھی۔ بادشاہ وقت یا فرعون، اسی نسل کا سب سے بڑا نمائندہ اور سورج دیوتا کا مظہر یا اوتار ہوتا تھا، اس کی پرستش عین سورج دیوتا کی پرستش تھی، آج کے زمانہ (یعنی 1945 ء۔ ) میں اس کی قریب ترین مثال ڈھونڈنا ہو تو ملک جاپان کے فرمانروا میکاڈو کو پیش نظر رکھا جائے، جاپانی میکاڈو کو محض بادشاہ نہی، خدایا بڑا دیوتا سمجھتے ہیں۔ اور سب معاملات اس کے ساتھ وہی برتتے ہیں جو سب سے بڑے دیوتا کے ساتھ برتنے چاہئیں۔ ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی۔ (آیت) ” من المسجونین “۔ فرعون کے زمانہ کے جیل اپنے شدائد کے لیے مشہور تھے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–33
آیت نمبر 10 تا 33
ترجمہ : اور اے محمد ﷺ اپنی قوم کو اس وقت کا واقعہ یاد دلائیے کہ جب تیرے رب نے موسیٰ کو حکم دیا اس رات میں جبکہ موسیٰ نے آگ اور درخت کو دیکھا کہ تو ظالم قوم کے پاس رسول بن کر جا قوم فرعون کے پاس مع فرعون کے انہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کرکے اور بنی اسرائیل کو غلام بنا کر اپنے اوپر ظلم کیا ہے اَلاَ یتقون میں ہمزہ استفہام انکاری کے لئے ہے کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو کہ اس کی طاعت اختیار کرکے اس کی توحید کے قائل ہوجاؤ تو موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے پروردگار مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے اور ان کے میری تکذیب کی وجہ سے میرا دل تنگ ہوجائے، اور اداء رسالت کے…
Read the full tafseer →قال لئن اتخذت الہا غیر لاجعلنک من المسجونین۔ بولا اگر میرے سوا تو نے کسی اور کو معبود
بنایا تو میں تجھے قیدیوں میں شامل کر دوں گا۔
اَلْمَسْجُوْنِیْنَ میں الف لام عہدی ہے یعنی ان قیدیوں میں شامل کر دوں گا جن کی حالت میرے قید خانے میں تجھے معلوم ہے ‘ کلبی نے کہا فرعون کی قید کی حالت قتل سے بھی زیادہ سخت تھی ‘ قیدی کو ایک تنہا اندھیری کوٹھری میں پھینک دیتا تھا ‘ قیدی کو وہاں کچھ نظر نہ آتا تھا اور لڑھکتا ہوا زمین کے اندر چلا جاتا تھا۔ فرعون کو سخت عذاب دینے کی قدرت حاصل تھی اس نے اپنے رب ہونے پر استدلال کیا اور صانع عالم کا انکار کرنے لگا اس نے بطور تعجب الا تَسْتَمِعُوْنَ کہا تھا کہ میرے سوا…
Read the full tafseer →(29) آخر فرعون نے حضرت موسیٰ ؑ سے کہا کہ اگر تم میرے سوا کوئی اور معبود تجویز کرو گے تو تمہیں جیل خانہ بھیج دوں گا اور اس کی قید قتل کرنے سے زیادہ سخت تھی کیوں کہ جب کسی کو قید کرتا تھا تو دور دراز وحشت ناک تاریک مقام میں ڈال دیا کرتا تھا کہ وہاں نہ کوئی آواز سنائی دیتی تھی اور نہ ہی کوئی چیز نظر آیا کرتی تھی۔
Read the full tafseer →قَالَ لَىِٕنِ اتَّخَذْتَ اِلٰــهًا غَيْرِيْ۔۔ : ہر ظالم و جابر اور باطل کے علم بردار حکمران کا وتیرہ ہے کہ جب وہ دلیل کے میدان میں شکست کھاتا ہے تو آخری حربے کے طور پر طاقت کے استعمال کی دھمکی دیتا ہے کہ یا تو ہمارے غلط کو بھی صحیح مانو، ورنہ سزا کے لیے تیار ہوجاؤ۔ فرعون نے بھی آخر میں صاف کہہ دیا کہ مصر میں میرے سوا کوئی خدا نہیں اور نہ کسی کا حکم چلے گا، اگر میرے سوا کسی اور معبود کی حکومت مانی تو تمہارے لیے قید خانہ تیار ہے۔
لَاَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُوْنِيْنَ : فرعون نے موسیٰ ؑ کو یہ کہنے کے بجائے کہ ”لَأَسْجُنَنَّکَ“ (میں تجھے قید کر دوں گا) یہ کہا کہ ”میں تجھے قید کیے ہوئے لوگوں میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–51
( قال فرعون وما رب العلمین۔۔۔۔ )
قال فرعون وما رب العٰلمین جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) میں فرعون پر غالب آگئے اور فرعون لعین نے تربیت اور دوسری چیزوں میں کوئی دلیل نہ پائی تو وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے معاوضہ کے لیے آپ کے قول رسول رب العٰلمین کی طرف متوجہ ہوئے تو اس نے ایسا سوال کیا جو مجہول چیز کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے۔ مکی اور دوسرے علماء نے کہا : جس طرح اجناس کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے، اسی وجہ سے ما کے ساتھ سوال کیا۔ مکی نے کہا : ایک اور جگہ من کے ساتھ بھی استفہام واقع ہوا ہے یہ اس کے مشابہ ہے کہ یہاں کئی مواطن ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مخلوقات میں سے ایسی صفات لائے جو اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–51
1۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” یعنی طور کے داہنی جانب سے ان کو آواز دی گئی۔
2۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جرری وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ ایک جان کے قتل کرنے کا الزام جو ان کے درمیان قتل ہوا آیت ” وفعلت فعلتک التی فعلت “ سے مراد بھی انسان کا قتل ہے۔ آیت ” فعلتہا اذا وانا من الضالین “ یعنی جب میں چوک جانے والوں میں سے تھا۔
3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ یعنی ایک جان کا قتل کرنا آیت ” الم لربک فینا ولیدا “ یعنی ان کو فرعون والوں سے اٹھا لیا سو اس بچے کو…
Read the full tafseer →قَالَ [ (فرعون نے) کہا ] لَىِٕنِ [ بیشک اگر ] اتَّخَذْتَ [ تو نے بنایا ] اِلٰــهًا [ کوئی الہٰ ] غَيْرِيْ [ میرے علاوہ ] لَاَجْعَلَنَّكَ [ تو میں لازما بنا دوں گا تجھ کو ] مِنَ الْمَسْجُوْنِيْنَ [ قید کئے ہوئے لوگوں میں سے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–34
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ کے لیے فرعون کا جادو گروں کو بلانا، مقابلہ ہونا اور جادو گروں کا شکست کھا کر ایمان قبول کرنا
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے جواب وسوال سے عاجز ہو کر اور دو بڑے معجزے دیکھ کر فرعون کی شکست تو اسی وقت ہوگئی لیکن اس نے اپنی خفت مٹانے اور درباریوں کو مطمئن رکھنے اور ان کے ذریعہ ساری قوم کو اپنی فرمانبرداری پر جمائے رکھنے کے لیے سرداروں سے کہا جو اس وقت وہاں موجود تھے کہ سمجھ میں آگیا یہ تو ایک بڑا ماہر جادوگر ہے یہ چاہتا ہے کہ تمہیں مصر کی سر زمین سے نکال دے اور اپنی قوم کا بڑا بن کر ان کو ساتھ لے کر حکومت کرنے لگے۔ تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو ؟ سورة اعراف میں ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–33
مکاملہ موسیٰ (علیہ السلام) بافرعون
دربارہ ربوبیت خداوند کون
قال اللہ تعالیٰ قال فرعون وما رب العلمین .... الیٰ .... فازا ہی بیضاء للنظرین۔
فرعون اس گفتگو میں ذلیل و خوار ہوا تو اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کے اس قول انا رسول رب العلمین۔ یعنی ہم دونوں اللہ رب العالمین کے پیغمبر ہیں یعنی ان کے دعوائے نبوت پر اعتراض شروع کیا۔ اور اللہ رب العالمین کی ربوبیت میں جھگڑا لگانے لگا چناچہ فرعون بولا اچھا بتاؤ کہ وہ رب العالمین جس کے رسول ہونے کا تو مدعی ہے وہ کیا چیز ہے وہ کون ہے اور کیا ہے تمہارا دعویٰ یہ ہے کہ ہم رب العالمین کے رسول مرسل ہیں یعنی اس کے فرستادہ ہیں لہٰذا تم کو چاہئے کہ اول اپنے مرسل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–30
18:۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) چونکہ ناصح مشفق تھے اور چاہتے تھے کہ فرعون ایمان لے آئے اس لیے اس کی ہر اوچھی، غیر معقول اور متکبرانہ بات کا معقول اور حکیمانہ جواب دیا اور کسی موقع پر بھی متانت کا دامن نہ چھوڑا۔ فرعون کی دھمکی کے جواب میں کس قدر محکم بات ارشاد فرمائی۔ کیا اگر میرے پاس اپنے دعوے پر واضح دلائل موجود ہوں تب بھی تم مجھے قید کر ڈالو گے اور ان دلائل میں غور وفکر کر کے میری صداقت کو جانچنے کی کوشش نہیں کرو گے۔ والمعنی اتفعل ذلک ولو جئتک بحجۃ بینۃ وانما قال ذلک موسیٰ لان من اخلاق الناس السکون الی الانصاف والاجابۃ الی الحق بالبیان (معالم و خازن ج ص 96) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–33
ربط آیات
اس سورة کی ابتداء سے موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت کا تذکرہ بیان کیا گیا ۔ جب اللہ تعالیٰ نے آپ کے سر پر تاج نبوت رکھا تو آپ کو حکم دیا کہ فرعون کے سامنے جا کر کلمہ حق بلند کرو۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے بعض مشکلات کا ذکر کیا تو اللہ نے آپ کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو بھی نبوت عطا فرمائی اور پھر دونوں کو حکم ہوا کہ فرعون سے جا کر کہو کہ ہم دونوں رب العالمین کے فرستادہ ہیں ۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ تم اللہ کی وحدانیت کو قبول کرلو اور دوسری بات یہ کہ بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے آزاد کر دو ۔ اس کے جواب میں فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو طعن کیا کہ کیا تم وہی نہیں جس کی ہم نے بچپن…
Read the full tafseer →قَالَ لَىِٕنِ اتَّخَذْتَ اِلٰــہًا غَيْرِيْ لَاَجْعَلَنَّكَ مِنَ الْمَسْجُوْنِيْنَ 29
أخذ ( افتعال، مفاعله)
والاتّخاذ افتعال منه، ويعدّى إلى مفعولین ويجري مجری الجعل نحو قوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصاری أَوْلِياءَ [ المائدة/ 51] ، أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِياءَ [ الشوری/ 9] ، فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا [ المؤمنون/ 110] ، أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ : اتَّخِذُونِي وَأُمِّي إِلهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ [ المائدة/ 116] ، وقوله تعالی: وَلَوْ يُؤاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ [ النحل/ 61] فتخصیص لفظ المؤاخذة تنبيه علی معنی المجازاة والمقابلة لما أخذوه من النعم فلم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–34
بدنصیب یہ معجزے دیکھ کر ایمان تو نہ لایا کہہ دیا کہ یہ بڑا جادوگر ہے اس کے زور سے تمہارا ملک لینا چاہتا ہے۔ فرعونیوں کے عہد میں جادو اور طلسم کا بڑا زور تھا چناچہ اس عہد کے یادگار مسلمانوں کے ابتدائِ عہد تک موجود تھے جن کو اہل اسلام کے مؤرخین نے نقل کیا ہے دیکھو تاریخ مصر، درباریوں نے صلاح دی کہ آپ بھی اپنے ملک میں سے نامور جادوگر ایک روز معین میں جمع کر کے اس کو عاجز کر دیجئے اور عید یا کوئی فرعونیوں کا میلہ ہوتا تھا جس میں سب لوگ شریک ہوتے تھے وہ روز قرار پایا تاکہ سب لوگ موسیٰ ( علیہ السلام) کا عجز ملاحظہ کریں۔ چناچہ اس روز وہ سب جادوگر اور طلسم کار آئے اور ایک میدان میں فرعون اور اس کے…
Read the full tafseer →قَالَ لَئِنِ اتَّخَذْتَ اِلٰـھًا غَیْرِیْ لَاَجْعَلَنَّـکَ مِنَ الْمَسْجُوْنِیْنَ ۔ (الشعرآء : 29)
(فرعون نے دھمکی دیتے ہوئے) کہا اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو معبود مانا تو میں تمہیں ضرور قیدیوں میں داخل کردوں گا۔ )
فرعون کی دھمکی
فرعون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دلائل سے عاجز آکر دھمکی دیتے ہوئے کہنے لگا کہ اگر تم نے میرے اقتدارِاعلیٰ کے سوا کسی اور کے اقتدارِاعلیٰ کی بات کی اور میرے سوا کسی اور کو معبود مانا اور اس کی کبریائی کی دعوت دی تو میں تمہیں جیل میں ڈال دو گا۔ اس دور میں جیل میں ڈالے جانے والے لوگ موت سے پہلے کبھی نہیں نکالے جاتے تھے۔ تو اس کا مطلب یہ تھا کہ تم وہاں سے مر کر ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 28–29
فہم القرآن
ربط کلام : فرعون نے اپنے اقتدار کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کو چیلنج سمجھا اس لیے اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو قید و بند کی دھمکی دی۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بڑے حوصلہ اور دانش مندی کے ساتھ فرعون کو لاجواب کردیا۔ فرعون نے ذلّت محسوس کرتے ہوئے دلائل کا جواب دلائل سے دینے کی بجائے نہ صرف موسیٰ (علیہ السلام) کو بھرے دربار میں پاگل بلکہ جیل کی سلاخوں میں بند کرنے کی دھمکی دی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کمال ذہانت اور بردباری سے فرعون کو پھر دلائل کے میدان میں کھینچ لائے۔ ارشاد فرمایا کیا میں اپنے دعویٰ کے جواب میں کھلے دلائل پیش کروں تو پھر بھی آپ اسے ماننے کے لیے تیار نہیں…
Read the full tafseer →فرعون کی دھمکی :
29: قَالَ لَپنَ اتَّخَذْتَ اِلٰھًا غَیْرِیْ (اگر تو نے میرے سوا اور کسی کو الٰہ مانا) لَاَجْعَلَنَّکَ مِنَ الْمَسْجُوْنِیْنَ (تو میں تجھے قید کردونگا) یعنی میں تمہیں بھی ان لوگوں میں سے ایک بنا دونگا جن کا حال تم میری جیلوں میں جانتے ہو اس کی عادت یہ تھی کہ جس کے متعلق چاہتا پکڑ کر جیل ڈلوا دیتا۔ وہ جیلیں زمین میں دور تک لمبی لمبی سرنگیں تھیں جو خوب گہری ہوتی تھیں۔ ان میں جانے والا نہ کچھ دیکھ سکتا اور نہ سن سکتا تھا اور یہ صورت حال قتل سے کہیں بدتر تھی۔ اور اگر سبحننک لا سجنک ہوتا تو یہ معانی ادا نہ ہوسکتے جو لا جعلنک من المسجونین سے ادا ہورہے ہیں۔ اگرچہ وہ مختصر ہے۔
Read the full tafseer →تفسیر۔
29۔ قال، فرعون نے کہا جب اس کی حجت پوری ہوگئی اور لاجواب ہوگیا تو حق سے تکبر کرتے ہوئے پھر گیا، لئن اتخذت الھا غیر لاجعلنک من المسجونین، ان قیدیوں میں شامل کردیں گے ۔ کلبی نے بیان کیا کہ فرعون کی قید کی حالت قتل سے بھی زیادہ سخت تھی، قیدی کو ایک تنہاکوٹھری میں پھینک دیتا تھا، قیدی کو وہاں کچھ نظر نہ آتا تھا، اور لڑھکتا ہوا زمین کے اندر چلاجاتا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
(23 تا 30) جب مدین سے مصر آتے وقت حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو نبوت عطا ہوئی اور اس کی قوم کو ہدایت کرنے کا اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا۔ جس کا قصہ آگے سورة قصص میں آوے گا اور مدین کے سفر سے حضرت موسیٰ مصر پہنچے تو اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے موافق حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون دونوں مل کر اللہ کا حکم پہنچانے کی غرض سے فرعون کے محل کے دروازہ پر گئے دستک دی دروازہ کے دربانوں نے پوچھا تم کون ہو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے جواب دیا ہم اللہ کے رسول اور قاصد ہیں اور فرعون کی ہدایت کو آئے ہیں فرعون کی قوم میں چار سو برس سے یہ بات پھیلی ہوئی تھی کہ وہ لوگ فرعون کو اپنا خدا جانتے تھے اس لیے دربانوں نے حضرت موسیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–68
آیت نمبر 10 سے 68
اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں موسیٰ (علیہ السلام) کی مدح وثنا اور ان کے واقعات کا بار بار جتنا اعادہ کیا ہے اتنا کسی اور واقعے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ عظیم حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس قصے میں اہل ایمان اور اہل کفر کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے طرز عمل کی تفصیل ہے نیز موسیٰ (علیہ السلام) صاحب شریعت کبری اور صاحب تورات تھے جو قرآن عظیم کے بعد سب سے افضل کتاب ہے۔
فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجئے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندادی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، ان کو رسول بنا کر…
Read the full tafseer →22 فرعون کی طرف سے حضرت موسیٰ کو دھمکی : حقائق و دلائل کے مقابلے میں عاجز آجانے کے بعد بوکھلاہٹ کا نتیجہ یہی ہوتا ہے کہ ایسے موقعہ پر باطل پرست دھمکیوں پر اتر آتے ہیں۔ جیسا کہ آج کل کے اہل ہویٰ اور باطل پرستوں کا بھی یہی طریقہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کہ ایسے لوگ جب دلائل وبراہین کی دنیا میں ناکام ہوجاتے ہیں تو تشدد اور دھمکیوں کی زبان اپنا لیتے ہیں۔ بہرکیف فرعون نے جب دیکھا کہ حضرت موسیٰ آپ کی کسی بات کو لائقِ اعتناء نہیں سمجھتے بلکہ پوری بےخوفی کے ساتھ اپنی ایک سے بڑھ کر ایک بات پورے زور و قوت سے اس کے منہ پر کیے جا رہے ہیں اور اس کی خدائی پر ایک سے بڑھ کر ایک ضرب کاری لگا رہے ہیں تو وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–68
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ
تشریح : اس واقعہ میں بیشمار نصیحتیں ‘ اللہ کے کمالات ‘ عجزو انکساری اور سب سے بڑھ کر توکل علی اللہ کا بہت زبردست سبق ملتا ہے۔ ایمان کامل انسان کے اندر اس قدر ہمت ‘ جرأت ‘ بہادری اور معرفت پیدا کردیتا ہے کہ انسان مادی اصولوں سے بےنیاز ہو کر روحانی دنیا میں گم ہوجاتا ہے اور اس کو اللہ ‘ اس کی مدد ‘ اس کا سایہ دنیا کے ہر خطرے سے محفوظ بےنیاز کردیتا ہے۔ جیسا کہ سید حسین نصر صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں : ” سچے مومن کی فراست تکمیل کو پہنچ جاتی ہے جیسا کہ اللہ نے فرمایا ” اللہ کی یاد میں دلوں کا سکون ہے۔ “ ( سورة رعد آیت : 28)
ایسا شخص جو اس حالت میں ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–33
آیات 10 تا 33
اسرار و معارف
نبی اکرم ﷺ کی شفقت کس قدر ہے اس کا اندازہ کیجیے کہ کفار کا دکھ بھی کس شدت سے محسوس فرماتے ہیں دوستاں راکجا کنی محروم۔ تو کہ بادشمناں نظر داری یعنی جس کا لطف و کرم دشمن پہ بھی عام ہے بھلا دوستوں کو کب محروم کرسکتا ہے تو آپ ﷺ کی تشفی فرماتے ہوئے اللہ کریم نے انسانوں پہ اپنے کرم کی ایک ادا کا تذکرہ فرمایا کہ فرعون کس قدر ظالم اور گستاخ کافر تھا اور اپنے خدا ہونے کا دعویدار بھی مگر اللہ کریم نے اسے بھی محروم نہ رکھا اور اپنے اولوالعزم رسول کو اس کے پاس بھیجا معجزات اور دلائل دیئے اور ہدایت کی طرف بلایا اگر وہ اپنی پسند سے دوسرے راستے پر ہی جانا چاہتا ہو تو پھر ایسے…
Read the full tafseer →1 ۔ ہر ظالم و جابر حکمران اور مدعی باطل کا قاعدہ ہے کہ جب وہ دلیل کے میدان میں شکست کھا جاتا ہے تو آخری پناہ گاہ کے طور پر طاقت کے استعمال کی دھمکی دینے لگتا ہے۔ چناچہ یہی دھمکی فرعون نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو دی۔
Read the full tafseer →(26:29) لاجعلنک۔ لام تاکید کا ہے۔ اجعلن مضارع بانون ثقیلہ صیغہ واحد متکلم ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ تو میں ضرور بالضرور تمہیں بنا دوں گا۔
المسجونین۔ اسم مفعول جمع مذکر۔ قیدی۔ المسجون واحد سجن یسجن (نصر) سجن سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–33
لغات القرآن : آیت نمبر 23 تا 33 :
موقنین (یقین کرنے والے) ‘ حولہ (اس کا اردگرد۔ آس پاس) ‘ الا تستمعون (کیا تم سنتے ہو ؟ ) ‘ اتخذت (تونے بنایا) ‘ المسجونین (قیدکئے گئے) ‘ عصا (لاٹھی) ‘ ثعبان (اژدھا۔ بڑا سانپ) ‘ نزع (اس نے نکالا۔ اس نے کھینچا) ‘ بیضاء سفید۔ روشن ‘ نظرین (دیکھنے والے) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 23 تا 33 :
جیسا کہ گذشتہ آیات میں آپ نے پڑھا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) اللہ کا پیغام لے کر فرعون کے بھرے دربار میں پہنچے تو فرعون بوکھلا گیا پہلے تو اس نے اپنی کمینگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان احسانات کو یاد دلایا کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–30
فرعون کا قصہ۔
(ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ فرعون کی قوم کے پاس جاؤ جنہوں نے اپنی جانوں پر کفر کرکے اور بنی اسرائیل کو غلام بنا کر ظلم کررکھا ہے وہ اللہ سے نہیں ڈرتے کہ اس کی اطاعت کریں اور اکیلا جانیں کسی کو اس کا شریک نہ بنائیں تو حضرت موسیٰ نے کہا، اے میرے پروردگار میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ وہ مجھ کو جھٹلادیں اور ان کے جھٹلانے سے میرا دل تنگ ہوجائے اور میں طاقت لسانی بھی نہیں رکھتا، کیونکہ بوجہ لکنت کے صاف بول نہیں سکتا۔ اس لیے میرے بھائی ہارون کو بھی میرے ساتھ پیغمبر کر، اس کے علاوہ فرعون والوں کا مجھ پر الزام ہے میں نے ایک آدمی کو مارڈالا ہے اس واسطے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–35
[9] رب ہونے کا دعویٰ کرنے والا اتنی جلدی حواس باختہ ہوگیا کہ اپنے ماتحتوں کے احکام پر چلنے کے لئے آمادہ ہوگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 29–33
المسجونین ۔ سجن سے ہے ۔ جس کے معنے قید خانہ کے ہیں ۔
Read the full tafseer →(29) فرعون نے اس پر قانونی دھمکی دیتے ہوئے کہا اگر اے موسیٰ (علیہ السلام) میرے سوا تو نے کوئی اور معبود تجویز کیا اور کسی اور معبود کا دعویٰ کیا تو میں تجھ کو قیدیوں میں شامل کروں گا یعنی قید خانے میں بند کردوں گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–38
ف 1۔ معین دن سے رماد یوم الزنیة ہے اور خاص وقت سے مراد وقت ضحی ہے جیسا سورة طہ کے شروع رکوع سوم میں اس کا متعین ہونا مقابلہ کے لئے مذکور ہے، یعنی اس وقت کے قریب تک سب جمع کر لئے گئے اور فرعون کو جمع ہونے کی اطلاع کی گئی۔
Read the full tafseer →فرعون نے دھمکی دیتے ہوئے حضرت سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو کہا :
29۔ فرعون کو خیال ہوگا کہ موسیٰ (علیہ السلام) آگے ہی آگے بڑھتا چلا جا رہا ہے اس دفعہ اس نے بڑھک مار کر کہا کہ اگر اے موسیٰ تو باز نہ آیا تو تجھے قید میں ڈال دیا جائے گا لیکن حضرت سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کی اس دھمکی کی ذرا پرواہ نہ کی اور بےدھڑک ہو کر بولے کہ کیا تیرا فیصلہ اس وقت بھی یہی ہوگا جب میں واضح کر دوں کہ رب تو نہیں ہے بلکہ رب تو وہ ہے جس نے مجھے اپنا رسول بنا کر تیری طرف مبعوث کیا ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–42
أَنْ أَرْسِلْ مَعَنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ
That you must send the children of Isra'i1 with us". (26:17)
Bani Isra'il were the residents of Syria. They wanted to go back to their land but the Pharaoh would not let them. This way four hundred years had passed and they were living in his bondage like slaves. At that time they were six hundred and thirty thousand in number. Sayyidna Musa (علیہ السلام) when presented the message of Truth to the Pharaoh, he also asked him to stop all the cruelties he had perpetrated over Bani Isra'il and to let them go to their homeland. (Qurtubi)
An example of…
Read the full tafseer →24 To understated and appreciate this conversation fully, one should bear in mind the fact that as it is today, in the ancient times too, the concept of "deity" was confined to its religious sense only. The deity was meant to be worshipped and presented offerings and gifts, and because of its "supernatural powers" and author ity the people were to pray to it for help and fulfilment of their desires. But a deity's being supreme legally and politically also and his right to enjoin anything he pleased in the mundane affairs and man's duty to submit to his commands as to superior law, has never…
Read the full tafseer →