Ash-Shu'araa 26:28

Ash-Shu'araa · from ayah 28

26:28

قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَمَا بَیْنَهُمَا ؕ— اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ ۟قَالَ رَبُّ الۡمَشۡرِقِ وَالۡمَغۡرِبِ وَمَا بَيۡنَهُمَا ؕ اِنۡ كُنۡتُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ‏

موسیٰ نے کہا کہ مشرق اور مغرب اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب کا مالک، بشرطیکہ تم کو سمجھ ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Moses] said, "Lord of the east and the west and that between them, if you were to reason."

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 2 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:28

موسیٰؑ نے کہا "مشرق و مغرب اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا رب، اگر آپ لوگ کچھ عقل رکھتے ہیں"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

موسیٰ نے کہا کہ مشرق اور مغرب اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب کا مالک، بشرطیکہ تم کو سمجھ ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا! وہی مشرق ومغرب کا اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا رب ہے، اگر تم عقل رکھتے ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

موسیٰ نے کہا : وہ مشرق و مغرب کا بھی پروردگار ہے، اور ان کے درمیان ساری چیزوں کا بھی، اگر تم عقل سے کام لو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

موسیٰ نے فرمایا رب پورب (مشرق) اور پچھم (مغرب) کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اگر تمہیں عقل ہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(موسٰی علیہ السلام نے) کہا: (وہ) مشرق اور مغرب اور اس (ساری کائنات) کا رب ہے جو ان دونوں کے درمیان ہے اگر تم (کچھ) عقل رکھتے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس نے کہا جو مشرق و مغرب کا رب ہے اور اس کا بھی جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر تم سمجھتے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

موسیٰ نے کہا : وہی مشرق اور مغرب اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا پروردگار ہے۔ اگر تمہیں کچھ سمجھ آسکے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

موسیٰ نے کہا، مشرق و مغرب اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا رب، اگر تم عقل رکھتے ہو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

موسیٰ نے مزید فرمایا کہ وہ جو رب ہے مشرق و مغرب کا اور ان سب چیزوں کا جو ان دونوں کے درمیان ہیں اگر تم لوگ عقل رکھتے ہو

— مولانا اسحاق مدنی

کہا وہ پروردگار ہے مشرق ومغرب کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس سب کا اگر تم عقل سے کام لو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اس نے کہا کہ وہ مشرق و مغرب کا بھی رب ہے اور جو کچھ ان کے مابین ہے اس کا بھی۔ اگر تم عقل رکھتے ہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

موسیٰ نے کہا کہ ”مشرق اور مغرب اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب کا رب اگر تم کو سمجھ ہو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Moses continued: "(He is) the Lord of the east and the west, and all between them. If you only had any understanding!"

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He (Musa) said, :Lord of the East and the West and whatever lies between them, if you are to understand.

— Muhammad Taqi Usmani

He (Musa) said, :Lord of the East and the West and whatever lies between them, if you are to understand.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

(Musa) said: "Lord of the east and the west, and all that is between them, if you did but understand!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He said: Lord of the East and the West and all that is between them, if ye did but understand.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[Moses] said, "Lord of the east and the west and that between them, if you were to reason."

— Saheeh International

Moses continued, "He is the Lord of the East and West and all that is between them, if only you would think".

— Muhammad Sarwar

He said: The Lord of the east and the west and what is between them, if you understand.

— Muhammad Habib Shakir

He said: Lord of the east and the west and whatsoever is in-between, if ye understand.

— Abdul Majid Daryabadi

(Moses) said: "Lord of the East and the West, and all between! if ye only had sense!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 26:28

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 23–28

چونکہ فرعون نے اپنی رعیت کو بہکا رکھا تھا اور انیں یقین دلایا تھا کہ معبود اور رب صرف میں ہی ہوں میرے سوا کوئی نہیں اس لیے ان سب کا عقیدہ یہ تھا۔ جب حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا کہ میں رب العالمین کا رسول ﷺ ہوں تو اس نے کہا کہ رب العالمین ہے کیا چیز ؟ مقصد یہی تھا کہ میرے سوا کوئی رب ہے ہی نہیں تو جو کہہ رہا ہے محض غلط ہے۔ چناچہ اور آیت میں ہے کہ اس نے پوچھا آیت (فمن ربکما یا موسیٰ) موسیٰ تم دونوں کا رب کون ہے ؟ اس کے جواب میں کلیم اللہ نے فرمایا جس نے ہر ایک کی پیدائش کی ہے اور جو سب کا ہادی ہے۔ یہاں پر یہ یاد رہے کہ بعض منطقیوں نے یہاں ٹھوکر کھائی ہے اور کہا ہے کہ فرعون کا سوال اللہ کی ماہیت سے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 27–28

سورة الشُّعَرَآء 23 یعنی مجھے تو پاگل قرار دیا جا رہا ہے، لیکن آپ لوگ اگر عاقل ہیں تو خود سوچیے کہ حقیقت میں رب یہ بیچارا فرعون ہے جو زمین کے ایک ذرا سے رقبے پر بادشاہ بنا بیٹھا ہے، یا وہ جو مشرق و مغرب کا مالک اور مصر سمیت ہر اس چیز کا مالک ہے جو مشرق و مغرب سے گھری ہوئی ہے۔ میں تو فرماں روائی اسی کی مانتا ہوں اور اسی کی طرف سے یہ حکم اس کے ایک بندے کو پہنچا رہا ہوں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 23–33

خدائے ذوالجلال کی ذات و حقیقت کا علم انسان کے لئے ناممکن ہے قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ ، اس آیت مبارکہ سے ثابت ہوا کہ خدائے ذوالجلال کی کنہ و حقیقت کا جاننا ممکن نہیں کیونکہ فرعون کا سوال اللہ تعالیٰ کی حقیت، ماہیت کے متعلق تھا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے بجائے ماہیت باری تعالیٰ بتلانے کے اللہ تعالیٰ کے اوصاف بیان فرمائے جس سے اشارہ فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ کی کنہ اور حقیقت کا ادراک ناممکن ہے اور ایسا سوال ہی کرنا بیجا ہے۔ (کذا فی الروح)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فرعون کی خدانی پر آخری فسرب حضرت موسیٰ نے فرعن کی اس بدتمیزی کا بھی کوئی نوٹس نہیں لیا بلکہ اس کو بالکل نظر انداز کر کے اپنی دعوت کی راہ میں ایک قدم اور آگے بڑھ گئے۔ فرمایا کہ وہی مشرق و مغرب اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا رب ہے بشرطیکہ تم لوگ عقل سے کام لو اور سوچنے سمجھنے والے بنو ! یہ فرعون کی خدائی پر حضرت موسیٰ کی آخری ضرب تھی۔ وہ اپنے آپ کو سورج کا اوتار سمجھتا تھا۔ حضرت موسیٰ نے اس پر واضح کردیا کہ جس کو نہ مشرق پر کوئی اختیار نہ مغرب پر اگر وہ اپنے آپ کو رب سمجھتا ہے تو یہ اس کی اور اس کو رب ماننے والوں کی عقل کا فتور ہے آپ لوگ اپنی عقل سے کام لو گے تو یہ بات ایسی واضح ہے کہ کسی کو…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 26–28

28-1یعنی جس نے مشرق کو مشرق بنایا، جس سے کواکب طلوع ہوتے ہیں اور مغرب کو مغرب بنایا جس میں کواکب غروب ہوتے ہیں۔ اسی طرح ان کے درمیان جو کچھ ہے، ان سب کا رب اور ان کا انتظام کرنے والا بھی وہی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 27–32

9: فرعون نے جو سوال کیا تھا، اس کا مطلب یہ تھا کہ رب العالمین کی حقیقت و ماہیت بتاؤ۔ حضرت موسیٰ ؑ کے جواب کا حاصل یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کی حقیقت و ماہیت کوئی نہیں جان سکتا، البتہ اس کو اس کی صفات سے پہچانا جاتا ہے۔ چنانچہ حضرت موسیٰ ؑ نے جواب میں باری تعالیٰ کی صفات ہی بیان فرمائیں۔ اس پر فرعون نے کہا کہ ”یہ بالکل دیوانہ ہے“ کیونکہ سوال حقیقت کا کیا گیا تھا، اور جواب صفات سے دے رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

قال رب المشرق والمغرب وما بینھما ان کنتم تعقلون (28) مشرق و مغرب تو ہر دن انسانوں کو نظر آتے ہیں اور اس دنیا میں ایک خوبصورت منظر پیش کرتے ہیں۔ یہ منظر تو بڑا عبرت آموز ہے لیکن چونکہ یہ 24 گھنٹوں میں مسلسل دھرایا جاتا ہے اس لئے لوگوں پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ لوگ اس کے عادی ہوگئے ہیں ان الفاظ سے جس طرح طلوع و غروب کا مفہوم ذہن میں آتا ہے ، اسی طرح طلوع و غروب کے مقام کا مفہوم بھی ان میں ہے۔ یہ دو مناظر حضرت نے اس لئے پیش کئے کہ طلوع و غروب کے مظاہر کو اور مقامات و طلوع اور مقامات غروب کو کوئی جابر بدل نہیں سکتا۔ نہ ان دونوں مناظر کی اس خصوصیت کا کوئی انکار کرسکتا ہے کہ آغاز تخلیق سے آج تک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 حضرت موسیٰ نے پھر ایک بات کہی جس طرح کی حضرت ابراہیم نے نمرود کے سامنے آخر میں کہی تھی۔ یعنی رب العالمین وہ ہے جو مشرق و مغرب کا مالک اور تمام سیارات کے طلوع و غروب کی تدبیر ایک محکم و مضبوط نظام کے موافق کرنے والا ہے۔ اور تم میں ذرا بھی عقل ہو تو بتلا سکتے ہو کہ اس عظیم الشان نظام کا قائم رکھنے والا بجز خدا کے کون ہوسکتا ہے۔ کیا کسی کو قدرت ہے کہ اس کے قائم کیے ہوئے نظام کو ایک سیکنڈ کے لیے توڑ دے یا بدل ڈالے۔ یہ آخری بات سن کر فرعون بالکل مبہوت ہوگیا اور بحث وجدال سے گزر کر دھمکیوں پر اتر آیا۔ جیسا کہ آگے آتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " حضرت موسیٰ ایک بات کہے جاتے تھے اللہ کی قدرتیں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 28 قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَمَا بَیْنَہُمَاط اِنْ کُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ ” گویا اب حضرت موسیٰ علیہ السلام پورے طور پر دربار پر چھائے ہوئے ہیں اور دوسری طرف فرعون کے مکالمات اور انداز سے اس کی بےبسی صاف نظر آرہی ہے۔ آیات میں درج مکالمات کی مدد سے اس پورے منظر کو اگر ڈرامائی انداز میں پیش کیا جائے تو بہت دلچسپ اور عبرت انگیز صورت حال کی تصویر سامنے آسکتی ہے۔ میں نے میڈیکل کالج میں اپنے زمانہ طالب علمی کے دوران ان آیات کے ترجمے سے ڈرامے کا ایک سکرپٹ تیار کیا تھا : ”ایک رسول ‘ بادشاہ کے دربار میں !“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

21 موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو جب یوں بوکھلایا ہوا دیکھا تو پھر سے اپنے دعویٰ پر زور دیتے ہوئے اور رب العالمین کا تعارف کراتے ہوئے فرمایا کہ روئے زمین پر جتنی بھی مخلوق آباد ہے۔ خواہ اس کا تعلق اس ملک مصر سے ہو یا مشرق سے ہو یا مغرب سے ہو یا کہیں سے بھی ہو ساری مخلوق کا پروردگار وہی رب العالمین ہے اب امید ہے تم لوگوں کو سمجھ آہی گئی ہوگی کہ رب العالمین کون ہے ؟ اور میں کون ہوں ؟ تم تو صرف زمین کے ایک چپہ بھر ملک کے فرمانروا ہو اور میں اس رب العالمین کا رسول ہوں جس کی فرمانروائی اس پوری زمین پر ہی نہیں پوری کائنات پر بھی ہے۔ لہذا تمہارے حق میں بہتری اسی بات میں ہے کہ تم فرمانروائے کائنات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

27۔ مصری شرک کی تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفسیر انگریزی۔ سورج دیوتا کی پوجا کرنے والوں کے مقابلہ میں اللہ کو مشرق ومغرب کے خدائے واحد اور مالک کی حیثیت سے پیش کرنا بہت ہی بلیغ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 10–33

آیت نمبر 10 تا 33 ترجمہ : اور اے محمد ﷺ اپنی قوم کو اس وقت کا واقعہ یاد دلائیے کہ جب تیرے رب نے موسیٰ کو حکم دیا اس رات میں جبکہ موسیٰ نے آگ اور درخت کو دیکھا کہ تو ظالم قوم کے پاس رسول بن کر جا قوم فرعون کے پاس مع فرعون کے انہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کرکے اور بنی اسرائیل کو غلام بنا کر اپنے اوپر ظلم کیا ہے اَلاَ یتقون میں ہمزہ استفہام انکاری کے لئے ہے کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو کہ اس کی طاعت اختیار کرکے اس کی توحید کے قائل ہوجاؤ تو موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے پروردگار مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے اور ان کے میری تکذیب کی وجہ سے میرا دل تنگ ہوجائے، اور اداء رسالت کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال رب المشرق والمغرب وما بینہما موسیٰ نے کہا وہی مشرق و مغرب کا اور ان دونوں کے درمیانی کائنات کا رب ہے۔ یعنی روزانہ دیکھتے ہو کہ اللہ سورج کو مشرق سے نکالتا ہے اور گزشتہ دن کے محور کے علاوہ ودسرے محور پر چلاتا ہے یہاں تک کہ مغرب تک ایسے طریقہ سے پہنچا دیتا ہے جو انتظامِ کائنات کے لئے انتہائی مفید ہے۔ ان کنتم تعقلون۔ اگر تم عقل رکھتے ہو تو سمجھ گئے ہو گے کہ جو جواب میں نے دیا ہے اس سے اعلیٰ جواب (اللہ کے بارے میں) ممکن نہیں۔ حضرت موسیٰ نے پہلے گفتگو میں نرمی کی تھی لیکن جب ان لوگوں کی طرف سے شدت محسوس کی تو ان ہی کے قول کی طرح اپنے کلام میں بھی درشتی اختیار کرلی۔ مغلوب جاہلوں کی عادت ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(28) حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا وہ پروردگار مشرق کا اور مغرب کا ہے اور جو کچھ اس کے درمیان میں ہے اس کا بھی اگر تم اس کی تصدیق کرتے ہو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ۔۔ : شاہ عبد القادر لکھتے ہیں : ”موسیٰ ؑ ایک بات کہے جاتے تھے اللہ کی قدرتیں بتانے کو اور فرعون بیچ میں اپنے سرداروں کو ابھارتا تھا کہ ان کو یقین نہ آجائے۔“ پاگل ہونے کے الزام کے جواب میں موسیٰ ؑ نے اب وہ دلیل پیش کی جو ان کے جدّ امجد ابراہیم خلیل اللہ ؑ نے پیش کی تھی کہ ”رب العالمین“ وہ ہے جو مشرق و مغرب اور ان کے مابین کا رب ہے، جو ہمیشہ سے سورج کو مشرق سے طلوع کرتا ہے اور مغرب میں غروب کرتا ہے، تمہیں رب ہونے کا زعم ہے تو ذرا سورج کو مغرب سے نکال کر دکھا دو۔ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ : مجھے دیوانہ بتاتے ہو اور خود عقل مند ہونے کا دعویٰ کرتے ہو، اگر تم…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 23–51

( قال فرعون وما رب العلمین۔۔۔۔ ) قال فرعون وما رب العٰلمین جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) میں فرعون پر غالب آگئے اور فرعون لعین نے تربیت اور دوسری چیزوں میں کوئی دلیل نہ پائی تو وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے معاوضہ کے لیے آپ کے قول رسول رب العٰلمین کی طرف متوجہ ہوئے تو اس نے ایسا سوال کیا جو مجہول چیز کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے۔ مکی اور دوسرے علماء نے کہا : جس طرح اجناس کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے، اسی وجہ سے ما کے ساتھ سوال کیا۔ مکی نے کہا : ایک اور جگہ من کے ساتھ بھی استفہام واقع ہوا ہے یہ اس کے مشابہ ہے کہ یہاں کئی مواطن ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مخلوقات میں سے ایسی صفات لائے جو اللہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 10–51

1۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” یعنی طور کے داہنی جانب سے ان کو آواز دی گئی۔ 2۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جرری وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ ایک جان کے قتل کرنے کا الزام جو ان کے درمیان قتل ہوا آیت ” وفعلت فعلتک التی فعلت “ سے مراد بھی انسان کا قتل ہے۔ آیت ” فعلتہا اذا وانا من الضالین “ یعنی جب میں چوک جانے والوں میں سے تھا۔ 3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ یعنی ایک جان کا قتل کرنا آیت ” الم لربک فینا ولیدا “ یعنی ان کو فرعون والوں سے اٹھا لیا سو اس بچے کو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قَالَ [ (موسیٰ (علیہ السلام) نے) کہا ] رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ [ (وہ) مشرق اور مغرب کا رب ہے ] وَمَا [ اور اس کا جو ] بَيْنَهُمَا ۭ [ ان دونوں کے درمیان ہے ] اِنْ كُنْتُمْ [ اگر تم لوگ ] تَعْقِلُوْنَ [ عقل سے کام لیتے ہو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 11–34

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ کے لیے فرعون کا جادو گروں کو بلانا، مقابلہ ہونا اور جادو گروں کا شکست کھا کر ایمان قبول کرنا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے جواب وسوال سے عاجز ہو کر اور دو بڑے معجزے دیکھ کر فرعون کی شکست تو اسی وقت ہوگئی لیکن اس نے اپنی خفت مٹانے اور درباریوں کو مطمئن رکھنے اور ان کے ذریعہ ساری قوم کو اپنی فرمانبرداری پر جمائے رکھنے کے لیے سرداروں سے کہا جو اس وقت وہاں موجود تھے کہ سمجھ میں آگیا یہ تو ایک بڑا ماہر جادوگر ہے یہ چاہتا ہے کہ تمہیں مصر کی سر زمین سے نکال دے اور اپنی قوم کا بڑا بن کر ان کو ساتھ لے کر حکومت کرنے لگے۔ تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو ؟ سورة اعراف میں ہے کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 23–33

مکاملہ موسیٰ (علیہ السلام) بافرعون دربارہ ربوبیت خداوند کون قال اللہ تعالیٰ قال فرعون وما رب العلمین .... الیٰ .... فازا ہی بیضاء للنظرین۔ فرعون اس گفتگو میں ذلیل و خوار ہوا تو اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کے اس قول انا رسول رب العلمین۔ یعنی ہم دونوں اللہ رب العالمین کے پیغمبر ہیں یعنی ان کے دعوائے نبوت پر اعتراض شروع کیا۔ اور اللہ رب العالمین کی ربوبیت میں جھگڑا لگانے لگا چناچہ فرعون بولا اچھا بتاؤ کہ وہ رب العالمین جس کے رسول ہونے کا تو مدعی ہے وہ کیا چیز ہے وہ کون ہے اور کیا ہے تمہارا دعویٰ یہ ہے کہ ہم رب العالمین کے رسول مرسل ہیں یعنی اس کے فرستادہ ہیں لہٰذا تم کو چاہئے کہ اول اپنے مرسل…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 26–28

17:۔ اب بھی موسیٰ (علیہ السلام) برہم نہیں ہوئے بلکہ پوری سنجیدگی سے روز مرہ کے مشاہدات سے استدلال پیش کردیا مشرق سے طلوع شمس اور مغرب سے غروب شمس مراد ہے۔ اراد بالمشرق طلوع الشمس و ظہور النھار واراد بالمغرب غروب الشمس وزوال النھار (کبیر ج 6 ص 514) ۔ فرمایا تم روزانہ مشاہدہ کرتے ہو کہ سورج اپنے وقت پر نکلتا اور اپنے وقت پر ڈوبتا ہے۔ اس نظم عجیب اور نسق غریب کے ساتھ سورج کا طلوع غروب جس کے قبضہ قدرت میں ہے وہی رب العالمین ہے۔ اگر تم عقل و خرد سے کام لو تو یہ بات کس قدر واضح اور معقول ہے۔ اس پر فرعون کا مزاج شاہانہ برہم ہوگیا اور اب موسیٰ (علیہ السلام) کو قید کی دھمکی دیدی۔ ” قال لئن التخذت الھا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 23–33

ربط آیات اس سورة کی ابتداء سے موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت کا تذکرہ بیان کیا گیا ۔ جب اللہ تعالیٰ نے آپ کے سر پر تاج نبوت رکھا تو آپ کو حکم دیا کہ فرعون کے سامنے جا کر کلمہ حق بلند کرو۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے بعض مشکلات کا ذکر کیا تو اللہ نے آپ کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو بھی نبوت عطا فرمائی اور پھر دونوں کو حکم ہوا کہ فرعون سے جا کر کہو کہ ہم دونوں رب العالمین کے فرستادہ ہیں ۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ تم اللہ کی وحدانیت کو قبول کرلو اور دوسری بات یہ کہ بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے آزاد کر دو ۔ اس کے جواب میں فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو طعن کیا کہ کیا تم وہی نہیں جس کی ہم نے بچپن…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَمَا بَيْنَہُمَا۝ 0ۭ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ۝ 28 شرق شَرَقَتِ الشمس شُرُوقاً : طلعت، وقیل : لا أفعل ذلک ما ذرّ شَارِقٌ «1» ، وأَشْرَقَتْ : أضاءت . قال اللہ : بِالْعَشِيِّ وَالْإِشْراقِ [ ص/ 18] أي : وقت الإشراق . والْمَشْرِقُ والمغرب إذا قيلا بالإفراد فإشارة إلى ناحیتي الشَّرْقِ والغرب، وإذا قيلا بلفظ التّثنية فإشارة إلى مطلعي ومغربي الشتاء والصّيف، وإذا قيلا بلفظ الجمع فاعتبار بمطلع کلّ يوم ومغربه، أو بمطلع کلّ فصل ومغربه، قال تعالی: رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ [ الشعراء/ 28] ، رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ [ الرحمن/ 17] ، بِرَبِّ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 11–34

بدنصیب یہ معجزے دیکھ کر ایمان تو نہ لایا کہہ دیا کہ یہ بڑا جادوگر ہے اس کے زور سے تمہارا ملک لینا چاہتا ہے۔ فرعونیوں کے عہد میں جادو اور طلسم کا بڑا زور تھا چناچہ اس عہد کے یادگار مسلمانوں کے ابتدائِ عہد تک موجود تھے جن کو اہل اسلام کے مؤرخین نے نقل کیا ہے دیکھو تاریخ مصر، درباریوں نے صلاح دی کہ آپ بھی اپنے ملک میں سے نامور جادوگر ایک روز معین میں جمع کر کے اس کو عاجز کر دیجئے اور عید یا کوئی فرعونیوں کا میلہ ہوتا تھا جس میں سب لوگ شریک ہوتے تھے وہ روز قرار پایا تاکہ سب لوگ موسیٰ ( علیہ السلام) کا عجز ملاحظہ کریں۔ چناچہ اس روز وہ سب جادوگر اور طلسم کار آئے اور ایک میدان میں فرعون اور اس کے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَمَا بَیْنَہُمَا ط اِنْ کُنْـتُمْ تَعْقِلُوْنَ ۔ (الشعرآء : 28) (حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا (کہ میں اس رب العالمین کی طرف سے آیا ہوں) جو مشرق اور مغرب اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا رب ہے، اگر تم لوگ کچھ بھی عقل رکھتے ہو۔ ) فرعون کی خدائی پر آخری ضرب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے فرعون ! تم مصر کی محدود مملکت پر اترا کر الوہیت کا دعویٰ کررہے ہو اور میں تمہیں حقیقت کی خبر دے رہا ہوں تو تم مجھے پاگل قرار دے رہے ہو، حالانکہ میرا بھیجنے والا وہ ہے جس کی الوہیت کا پھریرا مشرق اور مغرب میں لہرا رہا ہے اور مشرق و مغرب کے درمیان ہر جگہ اس کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 28–29

فہم القرآن ربط کلام : فرعون نے اپنے اقتدار کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کو چیلنج سمجھا اس لیے اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو قید و بند کی دھمکی دی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بڑے حوصلہ اور دانش مندی کے ساتھ فرعون کو لاجواب کردیا۔ فرعون نے ذلّت محسوس کرتے ہوئے دلائل کا جواب دلائل سے دینے کی بجائے نہ صرف موسیٰ (علیہ السلام) کو بھرے دربار میں پاگل بلکہ جیل کی سلاخوں میں بند کرنے کی دھمکی دی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کمال ذہانت اور بردباری سے فرعون کو پھر دلائل کے میدان میں کھینچ لائے۔ ارشاد فرمایا کیا میں اپنے دعویٰ کے جواب میں کھلے دلائل پیش کروں تو پھر بھی آپ اسے ماننے کے لیے تیار نہیں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

موسیٰ ( علیہ السلام) کی ایک اور دلیل : 28: قَالَ رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَمَا بَیْنَھُمَا اِنْ کُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ (موسیٰ نے کہا وہی مشرق ومغرب کا رب ہے اور ان کے درمیان جو کائنات ہے اس کا رب ہے اگر تم عقل رکھتے ہو) تو تم میرے قول سے استدلال کر کے اپنے رب کو پہچان لوگے۔ اور یہ اصل مقصودی ارشاد ہے۔ نمبر 2۔ پھر اس عام سے ان کے اور ان کے آباء و اجداد کے نفوس کو وضاحت کیلئے خاص کیا کیونکہ دیکھنے کو اپنا نفس سب سے قریب تر ہوتا ہے۔ اور وہ بھی جس سے وہ پید ہوا۔ اور وہ مشاہدات بھی قریب تر ہوتے جو ولادت سے وفات تک دیکھتا ہے۔ نمبر 3۔ پھر آپ نے مشرق و مغرب کی تخصیص فرمائی کیونکہ طلوع شمس ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 27–28

27۔ قال ، فرعون نے کہا کہ ، ان رسولکم الذین ارسل الیکم لمجنون، وہ جو کلام کرتا ہے اس پر نہ وہ عقل رکھتا ہے اور نہ وہ جانتا ہے کہ یہ کلام درست نہیں ، ان کے نزدیک جوا ان کے اعتقاد کے مطابق اعتقاد نہ رکھے تو وہ عاقل نہیں سمجھا جاتا، موسیٰ نے اس بات پر مزید اور واضح کلام بیان کیا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 23–30

(23 تا 30) جب مدین سے مصر آتے وقت حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو نبوت عطا ہوئی اور اس کی قوم کو ہدایت کرنے کا اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا۔ جس کا قصہ آگے سورة قصص میں آوے گا اور مدین کے سفر سے حضرت موسیٰ مصر پہنچے تو اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے موافق حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون دونوں مل کر اللہ کا حکم پہنچانے کی غرض سے فرعون کے محل کے دروازہ پر گئے دستک دی دروازہ کے دربانوں نے پوچھا تم کون ہو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے جواب دیا ہم اللہ کے رسول اور قاصد ہیں اور فرعون کی ہدایت کو آئے ہیں فرعون کی قوم میں چار سو برس سے یہ بات پھیلی ہوئی تھی کہ وہ لوگ فرعون کو اپنا خدا جانتے تھے اس لیے دربانوں نے حضرت موسیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 10–68

آیت نمبر 10 سے 68 اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں موسیٰ (علیہ السلام) کی مدح وثنا اور ان کے واقعات کا بار بار جتنا اعادہ کیا ہے اتنا کسی اور واقعے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ عظیم حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس قصے میں اہل ایمان اور اہل کفر کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے طرز عمل کی تفصیل ہے نیز موسیٰ (علیہ السلام) صاحب شریعت کبری اور صاحب تورات تھے جو قرآن عظیم کے بعد سب سے افضل کتاب ہے۔ فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجئے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندادی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، ان کو رسول بنا کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

21 حضرت موسیٰ کی طرف سے فرعون کی جھوٹی خدائی پر ایک اور ضرب کاری : سو حضرت موسیٰ نے اس کی بدتمیزی کا نوٹس لیے بغیر اس کی جھوٹی خدائی پر ایک ضرب کاری لگانے کے لیے مزید کہا کہ " جو رب ہے مشرق و مغرب کا اور ان تمام چیزوں کا جو کہ ان دونوں کے درمیان ہیں "۔ یعنی مجھے دیوانہ قرار دینے والو، تم اپنی عقل کی خبر لو اور مشرق و مغرب اور ان کے درمیان پھیلی ہوئی اس اتھاہ کائنات پر غور کرکے اس کے خالق ومالک اور اس کے رب کو پہچانو اور اس پر ایمان لاؤ۔ تاکہ تمہارا اپنا ہی بھلا ہو۔ سو حضرت موسیٰ نے فرعون کی بدتمیزی کا کوئی نوٹس لیے بغیر رب کی مزید صفات اس کے سامنے رکھ دیں۔ سو یہ حضرت موسیٰ کی طرف سے فرعون کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 10–68

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ تشریح : اس واقعہ میں بیشمار نصیحتیں ‘ اللہ کے کمالات ‘ عجزو انکساری اور سب سے بڑھ کر توکل علی اللہ کا بہت زبردست سبق ملتا ہے۔ ایمان کامل انسان کے اندر اس قدر ہمت ‘ جرأت ‘ بہادری اور معرفت پیدا کردیتا ہے کہ انسان مادی اصولوں سے بےنیاز ہو کر روحانی دنیا میں گم ہوجاتا ہے اور اس کو اللہ ‘ اس کی مدد ‘ اس کا سایہ دنیا کے ہر خطرے سے محفوظ بےنیاز کردیتا ہے۔ جیسا کہ سید حسین نصر صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں : ” سچے مومن کی فراست تکمیل کو پہنچ جاتی ہے جیسا کہ اللہ نے فرمایا ” اللہ کی یاد میں دلوں کا سکون ہے۔ “ ( سورة رعد آیت : 28) ایسا شخص جو اس حالت میں ہو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 10–33

آیات 10 تا 33 اسرار و معارف نبی اکرم ﷺ کی شفقت کس قدر ہے اس کا اندازہ کیجیے کہ کفار کا دکھ بھی کس شدت سے محسوس فرماتے ہیں دوستاں راکجا کنی محروم۔ تو کہ بادشمناں نظر داری یعنی جس کا لطف و کرم دشمن پہ بھی عام ہے بھلا دوستوں کو کب محروم کرسکتا ہے تو آپ ﷺ کی تشفی فرماتے ہوئے اللہ کریم نے انسانوں پہ اپنے کرم کی ایک ادا کا تذکرہ فرمایا کہ فرعون کس قدر ظالم اور گستاخ کافر تھا اور اپنے خدا ہونے کا دعویدار بھی مگر اللہ کریم نے اسے بھی محروم نہ رکھا اور اپنے اولوالعزم رسول کو اس کے پاس بھیجا معجزات اور دلائل دیئے اور ہدایت کی طرف بلایا اگر وہ اپنی پسند سے دوسرے راستے پر ہی جانا چاہتا ہو تو پھر ایسے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

16 ۔ یعنی اگر تم میں سوچنے سمجھنے کی ذرا بھی صلاحیت ہے تو یہ سمجھنا کچھ مشکل نہیں کہ حقیقت میں تو رب وہ ہے جو مشرق و مغرب کا اور ہر اس چیز کا مالک ہے جو مشرق و مغرب کے درمیان ہے نہ کہ تمہارا یہ فرعون جو مصر جیسی زمین کے ایک چھوٹے سے رقبے کا مالک بنا بیٹھا ہے۔ (قرطبی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 27–28

(26:27) قال : ای قال فرعون۔ رسولکم میں ضمیر کم جمع مذکر حاضر۔ فرعون کے اردگرد بیٹھے ہوئے سرداروں کی طرف راجع ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 23–33

لغات القرآن : آیت نمبر 23 تا 33 : موقنین (یقین کرنے والے) ‘ حولہ (اس کا اردگرد۔ آس پاس) ‘ الا تستمعون (کیا تم سنتے ہو ؟ ) ‘ اتخذت (تونے بنایا) ‘ المسجونین (قیدکئے گئے) ‘ عصا (لاٹھی) ‘ ثعبان (اژدھا۔ بڑا سانپ) ‘ نزع (اس نے نکالا۔ اس نے کھینچا) ‘ بیضاء سفید۔ روشن ‘ نظرین (دیکھنے والے) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 23 تا 33 : جیسا کہ گذشتہ آیات میں آپ نے پڑھا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) اللہ کا پیغام لے کر فرعون کے بھرے دربار میں پہنچے تو فرعون بوکھلا گیا پہلے تو اس نے اپنی کمینگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان احسانات کو یاد دلایا کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 10–30

فرعون کا قصہ۔ (ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ فرعون کی قوم کے پاس جاؤ جنہوں نے اپنی جانوں پر کفر کرکے اور بنی اسرائیل کو غلام بنا کر ظلم کررکھا ہے وہ اللہ سے نہیں ڈرتے کہ اس کی اطاعت کریں اور اکیلا جانیں کسی کو اس کا شریک نہ بنائیں تو حضرت موسیٰ نے کہا، اے میرے پروردگار میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ وہ مجھ کو جھٹلادیں اور ان کے جھٹلانے سے میرا دل تنگ ہوجائے اور میں طاقت لسانی بھی نہیں رکھتا، کیونکہ بوجہ لکنت کے صاف بول نہیں سکتا۔ اس لیے میرے بھائی ہارون کو بھی میرے ساتھ پیغمبر کر، اس کے علاوہ فرعون والوں کا مجھ پر الزام ہے میں نے ایک آدمی کو مارڈالا ہے اس واسطے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 23–35

[9] رب ہونے کا دعویٰ کرنے والا اتنی جلدی حواس باختہ ہوگیا کہ اپنے ماتحتوں کے احکام پر چلنے کے لئے آمادہ ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 23–28

مارب العلمین ۔ ما یہاں منطقی تعریف کے لئے نہیں بلکہ اس کا مقصود یہ تھا کہ موسیٰ خدا کا صحیح صحیح تخیل پیش کریں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(28) موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا وہی مشرق اور مغرب کا اور جو کچھ ان دونوں کے مابین ہے اس سب کا وہی پروردگار ہے اگر تم کچھ عقل اور سمجھ رکھتے ہو اگر تم کو سمجھ ہو ان دلائل اور صفات سے ان کو مان لو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 25–38

ف 1۔ معین دن سے رماد یوم الزنیة ہے اور خاص وقت سے مراد وقت ضحی ہے جیسا سورة طہ کے شروع رکوع سوم میں اس کا متعین ہونا مقابلہ کے لئے مذکور ہے، یعنی اس وقت کے قریب تک سب جمع کر لئے گئے اور فرعون کو جمع ہونے کی اطلاع کی گئی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

حضرت سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کی ربوبیت پر آخری ضرب بھی لگا دی : 28۔ حضرت سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ چلو میں تو پاگل ہی سہی کہ تم لوگ ایسا کہہ رہے ہو لیکن عقل اگر تمہارے پاس ہے تو غور کرو کہ رب تمہارا فرعون بھی ہوسکتا ہے جو زمین کے اس ایک حصہ کا رب بنا بیٹھا ہے اور جو آسمان و زمین اور مشارق ومغارب کا رب ہے اس کو تم نے پس پشت ڈال رکھا ہے اگر تمہارے اندر عقل نام کی کوئی شے ہوتی تو تم اس فرعون کو رب مان لیتے ؟ اس طرح حضرت سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کی خدائی پر گویا آخری ضرب لگا دی کہ ” آنکھوں نظر نہ آئے اور نام نور بھری “ اور جیسا کہا جاتا ہے کہ ” کیا پدی اور کیا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 17–42

أَنْ أَرْ‌سِلْ مَعَنَا بَنِي إِسْرَ‌ائِيلَ That you must send the children of Isra'i1 with us". (26:17) Bani Isra'il were the residents of Syria. They wanted to go back to their land but the Pharaoh would not let them. This way four hundred years had passed and they were living in his bondage like slaves. At that time they were six hundred and thirty thousand in number. Sayyidna Musa (علیہ السلام) when presented the message of Truth to the Pharaoh, he also asked him to stop all the cruelties he had perpetrated over Bani Isra'il and to let them go to their homeland. (Qurtubi) An example of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 27–28

23 That is, "You regard me as a mad person, but if you think you are wise people, you should yourself decide as to who is the real lord: this wretched Pharaoh who is ruling over a small piece of earth, or He Who is the Owner of the east and the west and of everything bounded by the east and the west including the land of Egynt. I believe in His sovereignty alone and have been sent to convey His message to a creature of His."

Read the full tafseer →