Ash-Shu'araa 26:27

Ash-Shu'araa · from ayah 27

26:27

قَالَ اِنَّ رَسُوْلَكُمُ الَّذِیْۤ اُرْسِلَ اِلَیْكُمْ لَمَجْنُوْنٌ ۟قَالَ اِنَّ رَسُوۡلَـكُمُ الَّذِىۡۤ اُرۡسِلَ اِلَيۡكُمۡ لَمَجۡنُوۡنٌ

(فرعون نے) کہا کہ (یہ) پیغمبر جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے باؤلا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Pharaoh] said, "Indeed, your 'messenger' who has been sent to you is mad."

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 2 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:27

فرعون نے (حاضرین سے) کہا "تمہارے یہ رسول صاحب جو تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں، بالکل ہی پاگل معلوم ہوتے ہیں"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(فرعون نے) کہا کہ (یہ) پیغمبر جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے باؤلا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

فرعون نے کہا (لوگو!) تمہارا یہ رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے یہ تو یقیناً دیوانہ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

فرعون بولا : تمہارا یہ پیغمبر جو تمہارے پاس بھیجا گیا ہے یہ تو بالکل ہی دیوانہ ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بولا تمہارے یہ رسول جو تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں ضرور عقل نہیں رکھتے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(فرعون نے) کہا: بیشک تمہارا رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے ضرور دیوانہ ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہا یقینا تمہارا یہ پیغمبر، جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے، ضرور پاگل ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

فرعون کہنے لگا : یہ رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے یہ تو دیوانہ ہے ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

فرعون نے کہا، تمہارا یہ رسول، جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے، بالکل خبطی ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اس پر فرعون نے حاضرین سے کہا کہ بیشک تمہارے یہ پیغمبر صاحب جو تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں بالکل دیوانے ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

(فرعون) بولا کہ یہ تمہارا رسول جو تمہاری طرف رسول ہو کر آیا ہے یہ تو مجنون ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

فرعون نے (درباریوں سے) کہا کہ تمہارا یہ رسول جسے تمہاری طرف بھیجا گیا ہے یقیناً مجنون ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

فرعون نے کہا یہ پیغمبر جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے بائولا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Pharaoh said to the audience: "This Messenger of yours who has been sent to you is simply mad."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He (Pharaoh) said, :Your messenger who is sent to you is a mad man indeed.

— Muhammad Taqi Usmani

He (Pharaoh) said, :Your messenger who is sent to you is a mad man indeed.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

(Fir`awn) said: "Verily, your Messenger who has been sent to you is a madman!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

(Pharaoh) said: Lo! your messenger who hath been sent unto you is indeed a madman!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[Pharaoh] said, "Indeed, your 'messenger' who has been sent to you is mad."

— Saheeh International

The Pharaoh said, "The Messengers who has been sent to you is certainly insane".

— Muhammad Sarwar

Said he: Most surely your Apostle who is sent to you is mad.

— Muhammad Habib Shakir

Fir'awn said: verily your apostle who hath been sent unto you is mad.

— Abdul Majid Daryabadi

(Pharaoh) said: "Truly your messenger who has been sent to you is a veritable madman!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 26:27

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 23–28

چونکہ فرعون نے اپنی رعیت کو بہکا رکھا تھا اور انیں یقین دلایا تھا کہ معبود اور رب صرف میں ہی ہوں میرے سوا کوئی نہیں اس لیے ان سب کا عقیدہ یہ تھا۔ جب حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا کہ میں رب العالمین کا رسول ﷺ ہوں تو اس نے کہا کہ رب العالمین ہے کیا چیز ؟ مقصد یہی تھا کہ میرے سوا کوئی رب ہے ہی نہیں تو جو کہہ رہا ہے محض غلط ہے۔ چناچہ اور آیت میں ہے کہ اس نے پوچھا آیت (فمن ربکما یا موسیٰ) موسیٰ تم دونوں کا رب کون ہے ؟ اس کے جواب میں کلیم اللہ نے فرمایا جس نے ہر ایک کی پیدائش کی ہے اور جو سب کا ہادی ہے۔ یہاں پر یہ یاد رہے کہ بعض منطقیوں نے یہاں ٹھوکر کھائی ہے اور کہا ہے کہ فرعون کا سوال اللہ کی ماہیت سے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 27–28

سورة الشُّعَرَآء 23 یعنی مجھے تو پاگل قرار دیا جا رہا ہے، لیکن آپ لوگ اگر عاقل ہیں تو خود سوچیے کہ حقیقت میں رب یہ بیچارا فرعون ہے جو زمین کے ایک ذرا سے رقبے پر بادشاہ بنا بیٹھا ہے، یا وہ جو مشرق و مغرب کا مالک اور مصر سمیت ہر اس چیز کا مالک ہے جو مشرق و مغرب سے گھری ہوئی ہے۔ میں تو فرماں روائی اسی کی مانتا ہوں اور اسی کی طرف سے یہ حکم اس کے ایک بندے کو پہنچا رہا ہوں۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 23–33

خدائے ذوالجلال کی ذات و حقیقت کا علم انسان کے لئے ناممکن ہے قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ ، اس آیت مبارکہ سے ثابت ہوا کہ خدائے ذوالجلال کی کنہ و حقیقت کا جاننا ممکن نہیں کیونکہ فرعون کا سوال اللہ تعالیٰ کی حقیت، ماہیت کے متعلق تھا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے بجائے ماہیت باری تعالیٰ بتلانے کے اللہ تعالیٰ کے اوصاف بیان فرمائے جس سے اشارہ فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ کی کنہ اور حقیقت کا ادراک ناممکن ہے اور ایسا سوال ہی کرنا بیجا ہے۔ (کذا فی الروح)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قال ان رسولکم الذی ارسل الیکم لمجنون (27) فرعون کی جھنجھلاہٹ حضرت موسیٰ نے جب ان کے آباء و اجداد کی گمراہی بھی واضح کردی تو فرعون کا پارہ بہت چڑھ گیا۔ غصہ سے جھنجھلا کر اس نے نہایت تحقیر انگیز، طنزیہ انداز میں، درباریوں سے کہا کہ تمہارا یہ رسول، جو بزعم خویش تھا تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہے، مجھے تو ایک بالکل دیوانہ آدمی معلوم ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ جب یہ شخص ہمارے آباء و اجداد کو بھی احمق اور گمراہ ثابت کر رہا ہے تو اس کے پاگل ہونے میں کیا شبہ رہا ! رسولکم الذی ارسل الیکم میں طنز کے ساتھ لوگوں کو اکسانے کی خواہش بھی مضمر ہے کہ دیکھ لو، یہ شخص ہے جو مدعی ہے کہ تمہاری طرف رسول…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 26–28

28-1یعنی جس نے مشرق کو مشرق بنایا، جس سے کواکب طلوع ہوتے ہیں اور مغرب کو مغرب بنایا جس میں کواکب غروب ہوتے ہیں۔ اسی طرح ان کے درمیان جو کچھ ہے، ان سب کا رب اور ان کا انتظام کرنے والا بھی وہی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 27–32

9: فرعون نے جو سوال کیا تھا، اس کا مطلب یہ تھا کہ رب العالمین کی حقیقت و ماہیت بتاؤ۔ حضرت موسیٰ ؑ کے جواب کا حاصل یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کی حقیقت و ماہیت کوئی نہیں جان سکتا، البتہ اس کو اس کی صفات سے پہچانا جاتا ہے۔ چنانچہ حضرت موسیٰ ؑ نے جواب میں باری تعالیٰ کی صفات ہی بیان فرمائیں۔ اس پر فرعون نے کہا کہ ”یہ بالکل دیوانہ ہے“ کیونکہ سوال حقیقت کا کیا گیا تھا، اور جواب صفات سے دے رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

قال ان رسولکم الذی ارسل الیکم لمجنون (27) یہ رسول جو بزعم خود تمہارے پاس بھیجا گیا ہے اس کا دماغ خراب معلوم ہوتا ہے۔ یہ شخص رسول خدا کے بارے میں یہ توہین آمیز ریمارکس اس لئے پاس کر رہا ہے کہ لوگوں پر اثر نہ ہوجائے اور یقین نہ کرلیں۔ مقصد یہ نہیں ہے کہ حضرت فی اوالقعہ رسول بھیجے گئے۔ یہ بات وہ بطور مذاق کہتا ہے کہ یہ شخص جو باتیں کرتا ہے وہ تو ہمارے مستحکم نظام سے متصادم ہیں اور ہمارا نظام تو صدیوں سے چل رہا ہے جس کے مطابق ہم رب ہیں اور یہ کسی دوسرے رب العالمین کی طرف بلا رہا ہے اور پھر یہ بھی کہتا ہے کہ وہ ہمارے آباء کا بھی رب العالمین ہے۔ لیکن اس مذاق اور استہزاء کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

17 یعنی (العیاذ باللہ) کس دیوانہ کو رسول بنا کر بھیجا ہے، جو ہماری اور ہمارے باپ دادوں کی خبر لیتا ہے۔ اور ہماری شوکت و حشمت کو دیکھ کر ذرا نہیں جھجکتا۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس کا دماغ عقل سے بالکل خالی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 26–27

آیت 27 قَالَ اِنَّ رَسُوْلَکُمُ الَّذِیْٓ اُرْسِلَ اِلَیْکُمْ لَمَجْنُوْنٌ ” گویافرعون مسلسل حضرت موسیٰ علیہ السلام سے آنکھیں چرا رہا ہے۔ آپ علیہ السلام کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دینے کے بجائے وہ پھر اپنے درباریوں سے ہی مخاطب ہوا ہے۔ اپنی شرمندگی مٹانے کے لیے اب اس نے طنزیہ انداز اختیار کیا ہے کہ مجھے تو یہ صاحب جو تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں مجنون لگتے ہیں ‘ ان کا دماغی توازن ٹھیک نہیں لگتا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اس کی اس بات کو بھی نظر انداز کر کے اپنی گفتگو اسی جوش اور بےباکی کے ساتھ جاری رکھتے ہیں :

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

20 فرعون پھر موسیٰ (علیہ السلام) کے بجائے درباریوں کی طرف ہی متوجہ ہو کر کہنے لگا۔ اس شخص کی حقیقت دیکھو اور اس کا مطالبہ دیکھو۔ اگر یہ رسول ہے بھی تب بھی اس کے ہوش و حواس ٹھکانے نہیں رہے۔ اسے یہ بھی معلوم نہیں ہو رہا کہ وہ کس ہستی سے مخاطب ہے اور کیا مطالبہ کر رہا ہے ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

26۔ (جب ہی تو ایسی بہکی بہکی باتیں کررہا ہے کہ تعدد آلہہ ہی سے انکار کررہا ہے ! ) آج بھی دنیا کی مشرک قوموں کی سمجھ ہی میں یہ نہیں آتا کہ توحید خالص بھی کوئی صحیح مسلک ہوسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 10–33

آیت نمبر 10 تا 33 ترجمہ : اور اے محمد ﷺ اپنی قوم کو اس وقت کا واقعہ یاد دلائیے کہ جب تیرے رب نے موسیٰ کو حکم دیا اس رات میں جبکہ موسیٰ نے آگ اور درخت کو دیکھا کہ تو ظالم قوم کے پاس رسول بن کر جا قوم فرعون کے پاس مع فرعون کے انہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کرکے اور بنی اسرائیل کو غلام بنا کر اپنے اوپر ظلم کیا ہے اَلاَ یتقون میں ہمزہ استفہام انکاری کے لئے ہے کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو کہ اس کی طاعت اختیار کرکے اس کی توحید کے قائل ہوجاؤ تو موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے پروردگار مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے اور ان کے میری تکذیب کی وجہ سے میرا دل تنگ ہوجائے، اور اداء رسالت کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال ان رسولکم الذی ارسل الیکم لمجنون۔ فرعون کہنے لگا تمہارا (یہ) رسول جو تمہارے پاس بھیجا گیا ہے بلاشک و شبہ پاگل ہے۔ کہ میں اس سے اس کے رب کی حقیقت پوچھتا ہوں اور یہ دوسرے جواب دیتا ہے۔ فرعون نے حضرت موسیٰ کو رسول بطور مذاق کہا تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(27) فرعون نہ سمجھا اس نے اپنے ہم نشینوں سے کہا کہ یہ تمہارا رسول مجنون معلوم ہوتا ہے ان حواریوں نے کہا کہ موسیٰ کس پروردگار کی طرف تم ہمیں دعوت دے رہے ہو اور کون ہمارا پروردگار ہے اور ہمارے آباؤ اجداد کا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالَ اِنَّ رَسُوْلَكُمُ الَّذِيْٓ اُرْسِلَ اِلَيْكُمْ لَمَجْنُوْنٌ : موسیٰ ؑ کی دلیل اتنی واضح اور زبردست تھی کہ فرعون اس کا جواب دینا چھوڑ کر موسیٰ ؑ کی ذات پر حملہ آور ہوگیا اور کہنے لگا، یقیناً تمہارا یہ رسول، جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے، ضرور پاگل ہے۔ موسیٰ ؑ کے چہرے پر حکمت و دانائی اور نور فراست کے آثار ان کے دیوانہ یا پاگل ہونے کی نفی کر رہے تھے، اس لیے فرعون نے ”لَمَجْنُوْن“ اور ”لام تاکید“ کے ساتھ انھیں مجنون قرار دیا کہ یقیناً یہ ضرور پاگل ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 23–51

( قال فرعون وما رب العلمین۔۔۔۔ ) قال فرعون وما رب العٰلمین جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) میں فرعون پر غالب آگئے اور فرعون لعین نے تربیت اور دوسری چیزوں میں کوئی دلیل نہ پائی تو وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے معاوضہ کے لیے آپ کے قول رسول رب العٰلمین کی طرف متوجہ ہوئے تو اس نے ایسا سوال کیا جو مجہول چیز کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے۔ مکی اور دوسرے علماء نے کہا : جس طرح اجناس کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے، اسی وجہ سے ما کے ساتھ سوال کیا۔ مکی نے کہا : ایک اور جگہ من کے ساتھ بھی استفہام واقع ہوا ہے یہ اس کے مشابہ ہے کہ یہاں کئی مواطن ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مخلوقات میں سے ایسی صفات لائے جو اللہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 10–51

1۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” یعنی طور کے داہنی جانب سے ان کو آواز دی گئی۔ 2۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جرری وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ ایک جان کے قتل کرنے کا الزام جو ان کے درمیان قتل ہوا آیت ” وفعلت فعلتک التی فعلت “ سے مراد بھی انسان کا قتل ہے۔ آیت ” فعلتہا اذا وانا من الضالین “ یعنی جب میں چوک جانے والوں میں سے تھا۔ 3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ یعنی ایک جان کا قتل کرنا آیت ” الم لربک فینا ولیدا “ یعنی ان کو فرعون والوں سے اٹھا لیا سو اس بچے کو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قَالَ [ (فرعون نے) کہا ] اِنَّ [ بیشک ] رَسُوْلَكُمُ الَّذِيْٓ [ تم لوگوں کا وہ پیغمبر جو ] اُرْسِلَ [ بھیجا گیا ] اِلَيْكُمْ [ تمہاری طرف ] لَمَجْنُوْنٌ [ یقینا مجنون ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 11–34

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ کے لیے فرعون کا جادو گروں کو بلانا، مقابلہ ہونا اور جادو گروں کا شکست کھا کر ایمان قبول کرنا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے جواب وسوال سے عاجز ہو کر اور دو بڑے معجزے دیکھ کر فرعون کی شکست تو اسی وقت ہوگئی لیکن اس نے اپنی خفت مٹانے اور درباریوں کو مطمئن رکھنے اور ان کے ذریعہ ساری قوم کو اپنی فرمانبرداری پر جمائے رکھنے کے لیے سرداروں سے کہا جو اس وقت وہاں موجود تھے کہ سمجھ میں آگیا یہ تو ایک بڑا ماہر جادوگر ہے یہ چاہتا ہے کہ تمہیں مصر کی سر زمین سے نکال دے اور اپنی قوم کا بڑا بن کر ان کو ساتھ لے کر حکومت کرنے لگے۔ تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو ؟ سورة اعراف میں ہے کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 23–33

مکاملہ موسیٰ (علیہ السلام) بافرعون دربارہ ربوبیت خداوند کون قال اللہ تعالیٰ قال فرعون وما رب العلمین .... الیٰ .... فازا ہی بیضاء للنظرین۔ فرعون اس گفتگو میں ذلیل و خوار ہوا تو اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کے اس قول انا رسول رب العلمین۔ یعنی ہم دونوں اللہ رب العالمین کے پیغمبر ہیں یعنی ان کے دعوائے نبوت پر اعتراض شروع کیا۔ اور اللہ رب العالمین کی ربوبیت میں جھگڑا لگانے لگا چناچہ فرعون بولا اچھا بتاؤ کہ وہ رب العالمین جس کے رسول ہونے کا تو مدعی ہے وہ کیا چیز ہے وہ کون ہے اور کیا ہے تمہارا دعویٰ یہ ہے کہ ہم رب العالمین کے رسول مرسل ہیں یعنی اس کے فرستادہ ہیں لہٰذا تم کو چاہئے کہ اول اپنے مرسل…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 26–28

17:۔ اب بھی موسیٰ (علیہ السلام) برہم نہیں ہوئے بلکہ پوری سنجیدگی سے روز مرہ کے مشاہدات سے استدلال پیش کردیا مشرق سے طلوع شمس اور مغرب سے غروب شمس مراد ہے۔ اراد بالمشرق طلوع الشمس و ظہور النھار واراد بالمغرب غروب الشمس وزوال النھار (کبیر ج 6 ص 514) ۔ فرمایا تم روزانہ مشاہدہ کرتے ہو کہ سورج اپنے وقت پر نکلتا اور اپنے وقت پر ڈوبتا ہے۔ اس نظم عجیب اور نسق غریب کے ساتھ سورج کا طلوع غروب جس کے قبضہ قدرت میں ہے وہی رب العالمین ہے۔ اگر تم عقل و خرد سے کام لو تو یہ بات کس قدر واضح اور معقول ہے۔ اس پر فرعون کا مزاج شاہانہ برہم ہوگیا اور اب موسیٰ (علیہ السلام) کو قید کی دھمکی دیدی۔ ” قال لئن التخذت الھا…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 23–33

ربط آیات اس سورة کی ابتداء سے موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت کا تذکرہ بیان کیا گیا ۔ جب اللہ تعالیٰ نے آپ کے سر پر تاج نبوت رکھا تو آپ کو حکم دیا کہ فرعون کے سامنے جا کر کلمہ حق بلند کرو۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے بعض مشکلات کا ذکر کیا تو اللہ نے آپ کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو بھی نبوت عطا فرمائی اور پھر دونوں کو حکم ہوا کہ فرعون سے جا کر کہو کہ ہم دونوں رب العالمین کے فرستادہ ہیں ۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ تم اللہ کی وحدانیت کو قبول کرلو اور دوسری بات یہ کہ بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے آزاد کر دو ۔ اس کے جواب میں فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو طعن کیا کہ کیا تم وہی نہیں جس کی ہم نے بچپن…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ اِنَّ رَسُوْلَكُمُ الَّذِيْٓ اُرْسِلَ اِلَيْكُمْ لَمَجْنُوْنٌ۝ 27 رسل وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ، ( ر س ل ) الرسل اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ہم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 11–34

بدنصیب یہ معجزے دیکھ کر ایمان تو نہ لایا کہہ دیا کہ یہ بڑا جادوگر ہے اس کے زور سے تمہارا ملک لینا چاہتا ہے۔ فرعونیوں کے عہد میں جادو اور طلسم کا بڑا زور تھا چناچہ اس عہد کے یادگار مسلمانوں کے ابتدائِ عہد تک موجود تھے جن کو اہل اسلام کے مؤرخین نے نقل کیا ہے دیکھو تاریخ مصر، درباریوں نے صلاح دی کہ آپ بھی اپنے ملک میں سے نامور جادوگر ایک روز معین میں جمع کر کے اس کو عاجز کر دیجئے اور عید یا کوئی فرعونیوں کا میلہ ہوتا تھا جس میں سب لوگ شریک ہوتے تھے وہ روز قرار پایا تاکہ سب لوگ موسیٰ ( علیہ السلام) کا عجز ملاحظہ کریں۔ چناچہ اس روز وہ سب جادوگر اور طلسم کار آئے اور ایک میدان میں فرعون اور اس کے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قَالَ اِنَّ رَسُوْلَـکُمُ الَّذِیْ اُرْسِلَ اِلَیْکُمْ لَمَجْنُوْنٌ۔ (الشعرآء : 27) (فرعون نے کہا بلاشبہ تمہارا یہ رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے بالکل ہی پاگل معلوم ہوتا ہے۔ ) فرعون کی جھنجلاہٹ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی گفتگو سے فرعون چکرا کر رہ گیا۔ اس نے محسوس کیا کہ اس کے حاشیہ نشین بھی اس گفتگو کی کاٹ محسوس کررہے ہیں اور ان کے لیے یہ بات انتہائی حیران کن ہے کہ ایک غلام اور پسی ہوئی قوم کا فرد جو اپنی ظاہری حالت سے بےکسی کی تصویر نظر آتا ہے کس جرأت و جسارت سے مدعی ربوبیت کو کھری کھری باتیں سنا رہا ہے اور اس کی باتوں میں کتنی معقولیت اور کتنا زور ہے۔ اس سے پہلے کہ وہ لوگ اس گفتگو کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 24–27

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے درمیان مکالمہ جاری ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دوسری دلیل یہ دی کہ میں اس رب کی طرف سے رسول بنایا گیا ہوں۔ جو تمہارا اور تمہارے باپ دادا کا رب ہے۔ اس دلیل کا صاف مطلب تھا کہ ” اے فرعون ! میں تجھے رب ماننے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ “ جس کا دوسرا مطلب یہ تھا کہ تو مصر کے لوگوں کا رب ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ اس کا کیا جواب ہے کہ تجھے اور تیرے آباء و اجداد کو کس نے پیدا کیا ؟ ظاہر ہے کہ نہ تو نے اپنے آپ کو پیدا کیا اور نہ ہی پہلے لوگوں کو پیدا کرنے والا ہے۔ فرعون اس دلیل کی وجہ سے جھنجھلاہٹ میں آکر اپنے درباریوں سے کہنے لگا کہ تمہاری طرف…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

فرعون کا سٹپٹانا : 27: قَالَ (فرعون نے کہا) اِنَّ رَسُوْلَکُمُ الَّذِیْ اُرْسِلَ اِلَیْکُمْ لَمَجْنُوْنٌ (تمہاری طرف جو رسول بھیجا گیا ہے وہ بلاشبہ مجنون ہے) اس لئے کہ اس کا خیال یہ ہے میرے سوا اور بھی کوئی معبود موجود ہے۔ فرعون اپنے علاوہ کسی دوسرے کی الوہیت کا منکر تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 27–28

27۔ قال ، فرعون نے کہا کہ ، ان رسولکم الذین ارسل الیکم لمجنون، وہ جو کلام کرتا ہے اس پر نہ وہ عقل رکھتا ہے اور نہ وہ جانتا ہے کہ یہ کلام درست نہیں ، ان کے نزدیک جوا ان کے اعتقاد کے مطابق اعتقاد نہ رکھے تو وہ عاقل نہیں سمجھا جاتا، موسیٰ نے اس بات پر مزید اور واضح کلام بیان کیا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 23–30

(23 تا 30) جب مدین سے مصر آتے وقت حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو نبوت عطا ہوئی اور اس کی قوم کو ہدایت کرنے کا اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا۔ جس کا قصہ آگے سورة قصص میں آوے گا اور مدین کے سفر سے حضرت موسیٰ مصر پہنچے تو اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے موافق حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون دونوں مل کر اللہ کا حکم پہنچانے کی غرض سے فرعون کے محل کے دروازہ پر گئے دستک دی دروازہ کے دربانوں نے پوچھا تم کون ہو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے جواب دیا ہم اللہ کے رسول اور قاصد ہیں اور فرعون کی ہدایت کو آئے ہیں فرعون کی قوم میں چار سو برس سے یہ بات پھیلی ہوئی تھی کہ وہ لوگ فرعون کو اپنا خدا جانتے تھے اس لیے دربانوں نے حضرت موسیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 10–68

آیت نمبر 10 سے 68 اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں موسیٰ (علیہ السلام) کی مدح وثنا اور ان کے واقعات کا بار بار جتنا اعادہ کیا ہے اتنا کسی اور واقعے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ عظیم حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس قصے میں اہل ایمان اور اہل کفر کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے طرز عمل کی تفصیل ہے نیز موسیٰ (علیہ السلام) صاحب شریعت کبری اور صاحب تورات تھے جو قرآن عظیم کے بعد سب سے افضل کتاب ہے۔ فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجئے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندادی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، ان کو رسول بنا کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 25–27

20 فرعون کی بوکھلاہٹ اور اس کے طنز و استہزاء کا ایک نمونہ : سو اس سے حضرت موسیٰ کے جواب کے نتیجے میں فرعون کی بوکھلاہٹ سامنے آتی۔ یعنی { رسولکم } اس ملعون نے طنز کے طور پر کہا۔ ورنہ وہ حضرت موسیٰ کو رسول تھوڑا ہی مانتا تھا۔ حضرت موسیٰ کے مسکت جواب سے اس کے کبر و غرور پر جو چوٹ لگی اس سے وہ تلملا اٹھا اور اپنے درباریوں اور دوسروں کی طرف مڑ کر کہنے لگا۔ سنتے ہو یہ شخص کیا کہتا ہے ؟ یہ تو دیوانہ ہے۔ سو حضرت موسیٰ نے جب ان کے آباء و اجداد کی گمراہی کو واضح کردیا تو اس سے فرعون کا پارہ اور چڑھ گیا تو اس نے غصے میں جھنجھلا کر ایسے کہا۔

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 10–68

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ تشریح : اس واقعہ میں بیشمار نصیحتیں ‘ اللہ کے کمالات ‘ عجزو انکساری اور سب سے بڑھ کر توکل علی اللہ کا بہت زبردست سبق ملتا ہے۔ ایمان کامل انسان کے اندر اس قدر ہمت ‘ جرأت ‘ بہادری اور معرفت پیدا کردیتا ہے کہ انسان مادی اصولوں سے بےنیاز ہو کر روحانی دنیا میں گم ہوجاتا ہے اور اس کو اللہ ‘ اس کی مدد ‘ اس کا سایہ دنیا کے ہر خطرے سے محفوظ بےنیاز کردیتا ہے۔ جیسا کہ سید حسین نصر صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں : ” سچے مومن کی فراست تکمیل کو پہنچ جاتی ہے جیسا کہ اللہ نے فرمایا ” اللہ کی یاد میں دلوں کا سکون ہے۔ “ ( سورة رعد آیت : 28) ایسا شخص جو اس حالت میں ہو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 10–33

آیات 10 تا 33 اسرار و معارف نبی اکرم ﷺ کی شفقت کس قدر ہے اس کا اندازہ کیجیے کہ کفار کا دکھ بھی کس شدت سے محسوس فرماتے ہیں دوستاں راکجا کنی محروم۔ تو کہ بادشمناں نظر داری یعنی جس کا لطف و کرم دشمن پہ بھی عام ہے بھلا دوستوں کو کب محروم کرسکتا ہے تو آپ ﷺ کی تشفی فرماتے ہوئے اللہ کریم نے انسانوں پہ اپنے کرم کی ایک ادا کا تذکرہ فرمایا کہ فرعون کس قدر ظالم اور گستاخ کافر تھا اور اپنے خدا ہونے کا دعویدار بھی مگر اللہ کریم نے اسے بھی محروم نہ رکھا اور اپنے اولوالعزم رسول کو اس کے پاس بھیجا معجزات اور دلائل دیئے اور ہدایت کی طرف بلایا اگر وہ اپنی پسند سے دوسرے راستے پر ہی جانا چاہتا ہو تو پھر ایسے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

15 ۔ یعنی اس کا دماغ چل گیا ہے اس لئے یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ تمہاری طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ یا جو میں سوال کرتا ہوں اس کا جواب نہیں دے رہا ہے۔ (قرطبی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 27–28

(26:27) قال : ای قال فرعون۔ رسولکم میں ضمیر کم جمع مذکر حاضر۔ فرعون کے اردگرد بیٹھے ہوئے سرداروں کی طرف راجع ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 23–33

لغات القرآن : آیت نمبر 23 تا 33 : موقنین (یقین کرنے والے) ‘ حولہ (اس کا اردگرد۔ آس پاس) ‘ الا تستمعون (کیا تم سنتے ہو ؟ ) ‘ اتخذت (تونے بنایا) ‘ المسجونین (قیدکئے گئے) ‘ عصا (لاٹھی) ‘ ثعبان (اژدھا۔ بڑا سانپ) ‘ نزع (اس نے نکالا۔ اس نے کھینچا) ‘ بیضاء سفید۔ روشن ‘ نظرین (دیکھنے والے) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 23 تا 33 : جیسا کہ گذشتہ آیات میں آپ نے پڑھا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) اللہ کا پیغام لے کر فرعون کے بھرے دربار میں پہنچے تو فرعون بوکھلا گیا پہلے تو اس نے اپنی کمینگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان احسانات کو یاد دلایا کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 10–30

فرعون کا قصہ۔ (ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ فرعون کی قوم کے پاس جاؤ جنہوں نے اپنی جانوں پر کفر کرکے اور بنی اسرائیل کو غلام بنا کر ظلم کررکھا ہے وہ اللہ سے نہیں ڈرتے کہ اس کی اطاعت کریں اور اکیلا جانیں کسی کو اس کا شریک نہ بنائیں تو حضرت موسیٰ نے کہا، اے میرے پروردگار میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ وہ مجھ کو جھٹلادیں اور ان کے جھٹلانے سے میرا دل تنگ ہوجائے اور میں طاقت لسانی بھی نہیں رکھتا، کیونکہ بوجہ لکنت کے صاف بول نہیں سکتا۔ اس لیے میرے بھائی ہارون کو بھی میرے ساتھ پیغمبر کر، اس کے علاوہ فرعون والوں کا مجھ پر الزام ہے میں نے ایک آدمی کو مارڈالا ہے اس واسطے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 23–35

[9] رب ہونے کا دعویٰ کرنے والا اتنی جلدی حواس باختہ ہوگیا کہ اپنے ماتحتوں کے احکام پر چلنے کے لئے آمادہ ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 23–28

مارب العلمین ۔ ما یہاں منطقی تعریف کے لئے نہیں بلکہ اس کا مقصود یہ تھا کہ موسیٰ خدا کا صحیح صحیح تخیل پیش کریں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(27) اس پر فرعون نے اپنے لوگوں سے کہا یہ تمہارا رسول جو تمہاری طرف بھیجا گیا ہے یقینا ہم کنہ اور حقیقت دریافت کرتے ہیں رب العٰلمین کی اور یہ بالوجہ معرفت کرانی چاہتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 25–38

ف 1۔ معین دن سے رماد یوم الزنیة ہے اور خاص وقت سے مراد وقت ضحی ہے جیسا سورة طہ کے شروع رکوع سوم میں اس کا متعین ہونا مقابلہ کے لئے مذکور ہے، یعنی اس وقت کے قریب تک سب جمع کر لئے گئے اور فرعون کو جمع ہونے کی اطلاع کی گئی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

فرعون نے درباریوں کو مخاطب کرکے کہا کہ تمہارا رسول تو سراسر پاگل ہے : 27۔ حضرت سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے جب صرف ایک فرعون ہی کو نہیں بلکہ اس کے سارے درباریوں کو مخاطب کرکے فرما دیا کہ صرف تم ہی نہیں اس سلسلہ میں تو تمہارے آباء و اجداد بھی گمراہی میں مبتلا تھے تو وہ غصہ سے جھنجھلا کر بولا کہ لوگو ! کان کھول کر سن لو کہ تمہاری طرف سے رسول بن کر آنے والا ایک بےعقل وخرد آدمی ہے ۔ بےعقل وخرد کون ہوتا ہے ؟ وہی جو دریا میں رہ کر مگرمچھ سے بیر ڈال لے اور یہی بات موسیٰ (علیہ السلام) کر رہا ہے اس لئے مجھے تو یہ بالکل ایک دیوانہ محسوس ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ جو شخص کھڑا ہو کر اس طرح کی باتیں کر دے جو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 17–42

أَنْ أَرْ‌سِلْ مَعَنَا بَنِي إِسْرَ‌ائِيلَ That you must send the children of Isra'i1 with us". (26:17) Bani Isra'il were the residents of Syria. They wanted to go back to their land but the Pharaoh would not let them. This way four hundred years had passed and they were living in his bondage like slaves. At that time they were six hundred and thirty thousand in number. Sayyidna Musa (علیہ السلام) when presented the message of Truth to the Pharaoh, he also asked him to stop all the cruelties he had perpetrated over Bani Isra'il and to let them go to their homeland. (Qurtubi) An example of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 27–28

23 That is, "You regard me as a mad person, but if you think you are wise people, you should yourself decide as to who is the real lord: this wretched Pharaoh who is ruling over a small piece of earth, or He Who is the Owner of the east and the west and of everything bounded by the east and the west including the land of Egynt. I believe in His sovereignty alone and have been sent to convey His message to a creature of His."

Read the full tafseer →