Ash-Shu'araa 26:3

Ash-Shu'araa · from ayah 3

26:3

لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ ۟لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّـفۡسَكَ اَلَّا يَكُوۡنُوۡا مُؤۡمِنِيۡنَ

(اے پیغمبرﷺ) شاید تم اس (رنج) سے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے اپنے تئیں ہلاک کردو گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Perhaps, [O Muhammad], you would kill yourself with grief that they will not be believers.

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:3

اے محمدؐ، شاید تم اس غم میں اپنی جان کھو دو گے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(اے پیغمبرﷺ) شاید تم اس (رنج) سے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے اپنے تئیں ہلاک کردو گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ان کے ایمان نہ ﻻنے پر شاید آپ تو اپنی جان کھودیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اے پیغمبر) شاید تم اس غم میں اپنی جان ہلاک کیے جار ہے ہو کہ یہ لوگ ایمان (کیوں) نہیں لاتے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کہیں تم اپنی جان پر کھیل جاؤ گے ان کے غم میں کہ وہ ایمان نہیں لائے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(اے حبیبِ مکرّم!) شاید آپ (اس غم میں) اپنی جانِ (عزیز) ہی دے بیٹھیں گے کہ وہ ایمان نہیں لاتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

شاید تو اپنے آپ کو ہلاک کرنے والا ہے، اس لیے کہ وہ مومن نہیں ہوتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(اے نبی !) اگر یہ لوگ ایمان نہیں لاتے تو اس غم میں شاید آپ اپنے آپ کو ہلاک ہی کر ڈالیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

شاید تم اپنے آپ کو اس فکر میں بالک کر کے رہو گے کہ یہ لوگ ایمان لانے والے نہیں بنتے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

شاید آپ اپنی جان ہی گنوا بیٹھیں گے اس غم واندوہ میں کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے

— مولانا اسحاق مدنی

شاید کہ آپ ان کے ایمان نہ لانے پر جان دے دیں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اے نبی ﷺ !) شاید آپ اپنے آپ کو ہلاک کردیں گے اس صدمے میں کہ یہ لوگ ایمان نہیں لا رہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

شاید آپ اس غم سے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے اپنے آپ کو ہلاک کردیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(O Muhammad), you will perhaps grieve yourself to death because these people do not believe.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(O Prophet,) perhaps you are going to let yourself collapse in grief because they do not believe.

— Muhammad Taqi Usmani

(O Prophet,) perhaps you are going to let yourself collapse in grief because they do not believe.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

It may be that you are going Bakhi` yourself, that they do not become believers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

It may be that thou tormentest thyself (O Muhammad) because they believe not.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Perhaps, [O Muhammad], you would kill yourself with grief that they will not be believers.

— Saheeh International

You will perhaps kill yourself with anguish because they are not accepting the faith.

— Muhammad Sarwar

Perhaps you will kill yourself with grief because they do not believe.

— Muhammad Habib Shakir

Belike thou shalt kill thyself with grief because they become not believers.

— Abdul Majid Daryabadi

It may be thou frettest thy soul with grief, that they do not become Believers.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 26:3

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–9

تعارف قرآن کریم پھر فرمان ہے کہ یہ آیتیں قرآن مبین کی ہیں جو بہت واضح بالکل صاف اور حق وباطل بھلائی برائی کے درمیان فیصلہ اور فرق کرنے والا ہے۔ ان لوگوں کے ایمان نہ لانے سے آپ ﷺ رنجیدہ خاطر اور غمگین نہ ہوں۔ جیسے اور جگہ ارشاد ہے آیت (فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرٰتٍ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِـيْمٌۢ بِمَا يَصْنَعُوْنَ) 35۔ فاطر :8) تو ان کے ایمان نہ لانے پر حسرت و افسوس نہ کر۔ اور آیت میں ہے آیت (فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِيْثِ اَسَفًا) 18۔ الكهف :6) کہیں ایسا نہ ہو کہ تو ان کے پیچے اپنی جان گنوادے۔ چونکہ ہماری یہ چاہت ہی نہیں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الشُّعَرَآء 2 نبی ﷺ کی اس حالت کا ذکر قرآن مجید میں مختلف مقامات پر کیا گیا ہے۔ مثلاً سورة کہف میں فرمایا فَلَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ عَلیٰٓ اٰثَارِھِمْ اِنْ لَّم یُؤْمِنُوْا بِھٰذَا الْحَدِیْثِ اَسَفاً۔ " شاید تم ان کے پیچھے غم کے مارے اپنی جان کھو دینے والے ہو اگر یہ اس تعلیم پر ایمان نہ لائے "۔ (آیت 6)۔ اور سورة فاطر میں ارشاد ہوا فَلَا تَذْھَبْ نَفْسُکَ عَلَیْھِمْ حَسَرَاتٍ۔ " ان لوگوں کی حالت پر رنج و افسوس میں تمہاری جان نہ گھلے " (آیت 8)۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس دور میں اپنی قوم کی گمراہی و ضلالت، اس کی اخلاقی پستی، اس کی ہٹ دھرمی، اور اصلاح کی ہر کوشش کے مقابلے میں اس کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

معارف و مسائل لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ الآیتہ، باخع بخع سے مشتق ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ ذبح کرتے کرتے بخاع تک پہنچ جائے جو گردن کی ایک رگ ہے۔ اور اس جگہ باخع سے مردا اپنے آپ کو تکلیف اور مشقت میں ڈالنا ہے۔ علامہ عسکری نے فرمایا کہ اس جیسے مقامات میں اگرچہ صورت جملہ خبریہ کی ہے مگر حقیقۃً اس سے مراد نہی اور ممانعت کرنا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اے پیغمبر، اپنی قوم کے کفر اور اسلام سے انحراف کے سبب اتنا رنج نہ کیجئے کہ جان گھلنے لگے۔ اس آیت سے ایک تو یہ معلوم ہوا کہ کسی کافر کے بارے میں اگر یہ معلوم بھی ہوجائے کہ اس کی تقدیر میں ایمان لانا نہیں ہے تب بھی اس کو تبلیغ کرنے سے رکنا نہیں چاہئے، دوسرے یہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

دل نواز تسلی وہی تسلی کا مضمون جو اوپر والی آیت میں مخفی تھا اس آیت میں نہایت دل نواز پیرائے میں اضح ہوگیا ہے۔ پیغمبر ﷺ کو خطاب کر کے ارشاد ہوا ہے کہ ان لوگوں کا اس کتاب مبین پر ایمان نہ لانا آپ کے دل پر اتنا شاق ہے کہ معلوم ہوتا ہے آپ اس غم میں اپنے کو ہلاک کر کے رہیں گے حالانکہ قصور نہ آپ کا ہے نہ اس کتاب کا سارا قصور ان لوگوں کا خود اپنا ہے کہ ایک بالکل واضح حقیقت کو جھٹلانے کے لئے مختلف قسم کے بہانے تلاش کر رہے ہیں۔ آپکی ذمہ داری صرف تبلیغ ہے۔ اس کا حق آپ نے پورا پورا ادا کردیا اور ادا کر رہے ہیں، پھر ایسے ناقدروں کے پیچھے آپ اپنے کو کیوں ہلکان کریں !

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 1–3

3-1نبی ﷺ کو انسانیت سے جو ہمدردی اور ان کی ہدایت کے لئے جو تڑپ تھی، اس میں اس کا اظہار ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–3

1: جیسا کہ سورة بقرہ کے شروع میں عرض کیا گیا تھا، مختلف سورتوں کے شروع میں جو حروف آئے ہیں، انہیں حروف مقطعات کہا جاتا ہے، اور ان کا ٹھیک ٹھیک مطلب اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 3–4

لعلک باخع ……خضعین (4) انداز کلام ایسا ہے کہ گویا خود نبی ﷺ کو تنبیہ کی جاتی ہے کہ اپنی جان کو اس وجہ سے خطرے میں ڈال رہے ہیں کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔ لعلک باخع نفسک (26 : 3) ” اے نبی شاید آپ اس غم میں اپنی جان کھو دو گے۔ “ مع النفس کے معنی قتل النفس ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور اکرم کفار قریش کے عدم ایمان پر کس قدر دل گیر تھے۔ کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ اگر یہ ایمان نہ لائے تو دوسری اقوام کی طرح کہیں یہ بھی نیست و نابود نہ کردیئے جائیں۔ یوں آپ اپنے آپ کو اس غم میں گھول رہے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ آپ کے رشتہ دار ، اہل خاندان اور اہل قوم تھے۔ اس کی وجہ سے آپ زیادہ پریشان تھے۔ لیکن رب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی اب بدبختوں کے غم میں اپنے کو اس قدر گھلانے کی ضرورت نہیں کیا ان کے پیچھے آپ اپنی جان کو ہلاک کرکے رہیں گے۔ دلسوزی اور شفقت کی بھی آخر ایک حد ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 1–4

آیت 4 اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَیْہِمْ مِّنَ السَّمَآءِ اٰیَۃً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُہُمْ لَہَا خٰضِعِیْنَ ” انہیں ایسی کوئی نشانی دکھا دینا ہماری قدرت سے کچھ بعید نہیں ‘ لیکن اپنی خاص حکمت اور مشیت کے تحت ہم ایسا نہیں کر رہے۔ آگے چل کر اسی سورت میں اس حکمت کا ذکر بھی آئے گا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

2 آپ کی یہ انتہائی آرزو تھی کہ کفار مکہ ایمان لے آئیں اور جب وہ ایمان لانے کے بجائے معاندانہ روش اختیار کرتے تو آپ کو اتنا ہی شدید صدمہ ہوتا تھا۔ اس کی وجوہ کئی تھیں۔ ایک یہ کہ آپ خلق خدا کے لئے نہایت ہمدردانہ اور مشفقانہ جذبات رکھتے تھے۔ آپ جانتے تھے کہ یہ لوگ میری مخالفت کرکے جہنم کا ایندھن بننے والے ہیں۔ لہذا آپ کو ان کی اس مخالفت سے شدید دکھ ہوتا تھا۔ تیسری وجہ فطری تھی۔ انسان جس کام میں اپنی تمام تر کوششیں صرف کر رہا ہو اگر اس کا کوئی مثبت نتیجہ نظر نہ آرہا ہو تو وہ مایوس ہوجاتا ہے اور اسے سخت صدمہ پہنچتا ہے۔ تیسری وجہ یہ تھی جس میں دوسرے مسلمان بھی شامل تھے۔ کہ اگر یہ لوگ اسلام قبول…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 2–3

2۔ یعنی آپ کے غم وتاسف سے معلوم کچھ ایسا ہی ہوتا ہے۔ یہ ایک نقشہ ہے رسول اللہ ﷺ کی غمخواری اور دلسوزی کا شدید منکروں اور کٹر کافروں تک کے لیے ! قرآن کریم نے آپ کو سمجھایا ہے کہ اس قدر غم وتاسف بےکار ہے۔ ہمارا کام تو اثبات حق کے ساتھ صرف دلائل صحیح وواضح کا نازل کردینا ہے، باقی ایمان لانا نہ لانا یہ خود لوگوں کے اختیار کی چیز ہے صاحب روح المعانی نے آیت سے دو امر اخذ کیے ہیں ایک یہ کہ رسول اللہ ﷺ اپنی امت پر کمال شفقت رکھتے تھے، دوسرے یہ کہ کافر کے ایمان پر حرص حکم ازلی کے منافی نہیں۔ اور عارف تھانوی (رح) نے آیت کے ذیل میں فرمایا ہے کہ (1) شیخ کو شفقت میں اعتدال مناسب ہے، جو ہدایت نہ پائے اس پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–9

بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 9 ترجمہ : شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے۔ طٰسٓمٓ اس کی مراد اللہ ہی بہتر جانتا ہے یہ یعنی یہ آیات کتاب مبین (یعنی) قرآن کی آیتیں ہیں جو حق کو باطل سے ممتاز کرنے والی ہیں، اور اٰیٰتُ الکِتابِ میں اضافت بمعنی مِنْ ہے شاید اے محمد آپ تو اس غم کے سبب سے کہ اہل مکہ ایمان نہیں لاتے اپنی جان کھو دیں گے، اور لَعَلَّ کے یہاں اشفاق کے معنی ہے یعنی اس غم میں تخفیف کرکے اپنے اوپر رحم کیجئے، اگر ہم چاہتے تو ان پر آسمان سے کوئی ایسی نشانی اتارتے کہ جس کے سامنے ان کی گردنیں جھک جائیں ظَلَّتْ بمعنی مضارع ہے ای تَدُوْمُ پھر وہ ایمان لے آئیں، جبکہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لعلک باخع نفسک شاید آپ اپنی جان کھو دیں گے۔ بَخَعَ نَفْسَۂ اس نے غم میں اپنی جان ہلاک کردی۔ بَخاعپشت میں ایک رگ ہوتی ہے جو گردن میں بھی آتی ہے یہ رگ حسب زعم زمخشری نخاع (حرام مغز) کے علاوہ ہوتی ہے اور نجع کا اصل معنی ہے ذبح کرتے وقت چھری کو نجاع تک پہنچا دینا پھر اس کا استعمال ہر مبالغہ کے لئے ہونے لگا 1 ؂۔ الا یکونو مؤمنین۔ اس وجہ سے کہ وہ مؤمن نہیں ہوتے (ایمان نہیں لاتے) اس آیت کا نزول اس وقت ہوا جب اہل مکہ نے رسول اللہ کی تکذیب کی اور آپ کو یہ بات بہت شاق ہوئی کیونکہ حضور ﷺ : کو بہت زیادہ تمنا اور رغبت تھی کہ اہل مکہ مسلمان ہوجائیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ حضور کو اہل مکہ کے ایمان نہ لانے کی وجہ…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ۔۔ : اس سے مقصود نبی ﷺ کو تسلی دینا ہے کہ ان بدبختوں کے ایمان نہ لانے پر آپ اس قدر رنجیدہ نہ ہوں، قرآن سے بڑا معجزہ کوئی نہیں، وہ آپ نے انھیں دکھلا دیا، اب بھی ایمان نہیں لاتے تو ان پر اتنا غم کرنے کی ضرورت نہیں۔ دیکھیے سورة کہف کی آیت (6) اور سورة فاطر کی آیت (8) کی تفسیر۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 1–9

(طسم۔ تلک ایت الکتب۔۔۔۔ ) طسم۔ اعمش، یحییٰ ، ابو بکر، مفصل، حمزہ، کسائی اور خلف نے اس سورت اور اس جیسی سورتوں میں طاء کو امالہ اور اشباع کے ساتھ پڑھا ہے۔ نافع، ابو جعفر، شیبہ اور زہری نے دو لفظوں کے درمیان پڑھا ہے : ابو عبیدہ اور حاتم نے اسے پسند کیا ہے۔ باقی قراء نے فتحہ کے ساتھ اشباع کی صورت میں پڑھا ہے۔ ثعلبی نے کہا : یہ تمام فصیح لغتیں ہیں۔ سورة طہٰ میں نحاس کا قول اس بارے میں گزر چکی ہے، نحاس نے کہا : مدینہ طیبہ کے قاریوں، ابو عمرو، عاصم اور کسائی نے طسم نون کو میم میں ادغام کرتے ہوئے پڑھا ہے۔ فراء نے نون کے اخفاء کے ساتھ کہا اعمش اور حمزہ نے طسین میم، نون کے اظہار کے ساتھ قرأت کی۔ نحاس…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 2–9

1۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ’ ’ لعلک باخع نفسک “ سے مراد ہے شاید کہ تو قتل کرنے والا ہے اپنے آپ کو آیت ” الا یکونو مومنین “ (یعنی وہ ایمان کیوں نہیں لائے) آیت ” ان نشاء ننزل علیہم من السماء اٰیۃ فظلت ا 4 عناقہم لہا خضعین “ یعنی اگر اللہ چاہے تو ان پر ایسی نشانی نازل فرماتا ہے کہ جس کے سامنے وہ اطاعت والے بن جاتے اور ان میں سے کوئی بھی اپنی گردن کو نہ موڑتا اللہ کی نافرمانی کی طرف آیت ”’ وما یاتیہم من ذکر من الرحمن محدث یعنی ان کے پاس کوئی چیز اللہ کی کتاب میں سے نہیں آئی مگر وہ اس سے اعراض کرتے ہیں آیت ” فسیاتیہم “ یعنی قیامت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

لَعَلَّكَ [ شاید کہ آپ ] بَاخِعٌ [ ہلاکت تک پہنچانے والے ہیں ] نَّفْسَكَ [ اپنے آپ کو ] اَلَّا [ کہ نہیں ] يَكُوْنُوْا [ ہوتے یہ لوگ ] مُؤْمِنِيْنَ [ ایمان لانے والے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–3

رسول اللہ ﷺ کو تسلی اور مکذبین کے لیے وعید علامہ بغوی معالم التنزیل ص 381 ج 3 میں لکھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی جب اہل مکہ نے تکذیب کی تو یہ آپ کو شاق گزرا چونکہ آپ کو اس بات کی حرص تھی کہ وہ لوگ ایمان لے آئیں اس لیے ان کی تکذیب سے آپ کو تکلیف ہوتی تھی۔ آپ کو تسلی دینے کے لیے اللہ تعالیٰ نے آیت (لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ ) نازل فرمائی (جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنا کام کرتے رہیں ان کے غم میں آپ کو جان ہلاک کرنا نہیں ہے) ۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ ہم اگر چاہیں تو آسمان سے ایسی نشانی نازل فرما دیں جسے یہ تسلیم کرلیں اور اس کی وجہ سے ان کی گردنیں جھک جائیں اور اس طرح سے جبراً و قہراً ایمان لے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–9

ذکر حقانیت کتاب مبین و تہدید معاندین و مستہزئین قال اللہ تعالیٰ طسم تلک ایت الکتب المبین .... الیٰ .... وان ربک لھو العزیز الرحیم۔ (ربط) گزشتہ سورت کا آغاز حقانیت قرآن سے ہوا اور اختتام مکذبین کی وعید پر ہوا اسی طرح اس سورت کا آغاز حقانیت قرآن اور مکذبین کی وعید اور تہدید سے فرماتے ہیں طسم واللہ اعلم بمرادہ۔ یہ آیتیں ہیں روشن کتاب کی جس کا اعجزا اور سرچشمہ ہدایت ہونا روز روشن کی طرح واضح ہے۔ اے نبی اگر یہ بدنصیب ایمان نہیں لاتے تو آپ ﷺ ان کے غم میں کیوں گھٹے جاتے ہیں بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شاید آپ اپنی جان کو اس گھٹن میں ہلاک کردیں کہ یہ لوگ ایمان لانے والے کیوں نہیں بنتے جو شخص اپنے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

3:۔ یہ آنحضرت ﷺ کے لیے تسلی ہے۔ دعوی توحید پر کچھ دلائل سورة الفرقان میں بیان ہوچکے ہیں اور کچھ اب سورة الشعراء میں بیان ہوں گے۔ ان دلائل کے باوجود بھی اگر مشرکین نہ مانیں تو آپ اپنی جان کو غم میں نہ ڈالیں۔ کیونکہ غرض تبلیغ تھی جو احسن طریق سے ہوچکی اور زبردستی منوانا مقصود نہیں۔ ” ان نشا ننزل علیھم الخ “ اگر ہم چاہتے تو آسمان سے ایک ایسی نشانی نازل کردیتے جس کے سامنے وہ عاجز ہو کر جھک جاتے اور مجبور ہو کر ایمان لے آتے مگر جبراً منوانا ہماری حکمت کے منافی ہے کیونکہ ہم امتحان لینا چاہتے ہیں کہ کون اپنے اختیار سے ایمان لاتا ہے اور کون انکار کرتا ہے۔ ” ان لا یکونوا ای لئلا یکونوا “ (مدارک) اور ”…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–9

ربط آیات اس سورة کا نام سورة الشعراء ہے اس کے آخری حصے میں اللہ تعالیٰ نے شعر و شاعری اور شاعروں کے متعلق ارشاد فرمایا ہے ۔ اسی مناسبت سے سورة کا یہ نام لکھا گیا ہے۔ البتہ امام مالک (رح) کے قول کے مطابق اس سورة کا ایک نام سورة الجاثیۃ بھی ہے کیونکہ یہ نصیحت کی جہت سی باتوں کو جمع کرنے والی سورة ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی بعض کے مطابق اس سورة کا نزول سورة واقعہ کے بعد ہوا یعنی ہجرت سے دو یا تین سال قبل ۔ اس کی چھوٹی چھوٹی 722 آیات اور گیارہ رکوع ہیں ۔ یہ سورة 7221 الفاظ اور 2455 حروف پر مشتمل ہے۔ مضامین سورة اس سورة میں مختلف مضامین بیان ہوئے ہیں ۔ ابتداء میں قرآن کریم کی حقانیت و…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ۝ 3 لعل لَعَلَّ : طمع وإشفاق، وذکر بعض المفسّرين أنّ «لَعَلَّ» من اللہ واجب، وفسّر في كثير من المواضع ب «كي» ، وقالوا : إنّ الطّمع والإشفاق لا يصحّ علی اللہ تعالی، و «لعلّ» وإن کان طمعا فإن ذلك يقتضي في کلامهم تارة طمع المخاطب، وتارة طمع غيرهما . فقوله تعالیٰ فيما ذکر عن قوم فرعون : لَعَلَّنا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ [ الشعراء/ 40] ( لعل ) لعل ( حرف ) یہ طمع اور اشفاق ( دڑتے ہوئے چاہنے ) کے معنی ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے ۔ بعض مفسرین کا قول ہے کہ جب یہ لفظ اللہ تعالیٰ اپنے لئے استعمال کرے تو اس کے معنی میں قطیعت آجاتی ہے اس بنا پر بہت سی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–3

ترکیب : ان لایکون مفعول لہ اے لئلا خاضعین و القیاس خاضعات انما جاء جمع المذکر لان المراد اصحاب الاعناق ولیس المراد الرقاب کم انبتنافی موضع نصب بانبتنا من ذکر ای قرآن من الرحمن صفۃ ذکر محدث صفۃ اخری۔ تفسیر : یہ سورة بھی مکہ میں اسی وقت نازل ہوئی ہے جبکہ کافروں کا حضرت ﷺ پر اور مسلمانوں پر ہر طرف سے سخت ہجوم تھا اور اسلام کی روح افزا باتیں ان کو عجیب و غریب معلوم ہوتی تھیں۔ حضرت ﷺ کی نبوت پر وہ طرح طرح سے لغو شبہات وارد کیا کرتے تھے اور جب جواب سے عاجز آجاتے تھے تو اپنی خواہش کے موافق ہر شخص ایک عجیب و غریب معجزے کا طالب ہوتا تھا۔ کوئی کہتا تھا اس پہاڑ کو یہاں سے ہٹا دو تو جانوں ‘ کوئی کہتا تھا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

لَعَلَّـکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ اَلاَّیَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ ۔ (الشعرآء : 3) (اے پیغمبر ! ) شاید آپ اپنے آپ کو ہلاک کردیں گے کہ یہ لوگ ایمان لانے والے نہیں بنتے۔ ) بَاخِعٌ … جو رگ ریڑھ کی ہڈی میں سے گزرتی ہوئی گردن میں پہنچتی ہے اسے بَخَاعٌ کہتے ہیں۔ جب ذبح کرتے وقت چھری یہاں تک پہنچ جائے تو ذبح مکمل ہوجاتی ہے، اسی سے بَاخِعٌماخوذ ہے۔ اس کا معنی ہے ایسا ذبح کرنے والا جس نے چھری بخاعتک پہنچا دی۔ نبی کریم ﷺ کی جس حالت کا ذکر اس آیت میں کیا گیا ہے سورة کہف میں بھی یہی بات تھوڑی سے وضاحت سے کہی گئی ہے۔ فَلَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَفْسَکَ عَلٰی آثَارِھِمْ اِنْ لَّمْ یُوْمِنُوْا بِہٰذَا الْحَدِیْثِ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–3

فہم القرآن ربط سورة : سورة الفرقان کا اختتام اس بات پر ہوا کہ اے پیغمبر ﷺ انہیں واضح کردیں کہ جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی تکذیب کرے گا، بہت جلد اپنا انجام پالے گا۔ اگر انہیں یقین نہیں آتا تو انہیں تکذیب کرنے والی اقوام کے واقعات سنائیں کہ ان کا کیا انجام ہوا، جس میں سر فہرست فرعون کی قوم ہے۔ طٓسٓمٰ ۔ حروف مقطعات ہیں۔ جن کا معنٰی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اس سورة کا آغاز کتاب مبین کے تعارف سے شرو ع وہا ہے۔ ” اَلْمُبِیْنِ “ کا معنٰی ہے ایسی کتاب جس کے ارشادات، احکام، ٹھوس دلائل اور حقائق پر مبنی ہیں۔ جن میں کسی قسم کا تضاد اور الجھاؤ نہیں پایا جاتا۔ یہ کتاب اپنا مدّعا اس انداز اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

ان کے ایمان لانے پر اپنے کو نہ کو سیں : 3: لَعَلَّکَ بَاخِعٌ (شاید آپ اپنی جان کھو دیں گے) بخع کا معنی ہلاک کرنا ہے اور لعلؔ شفقت کیلئے لایا گیا۔ نَّفْسَکَ (اپنی جان غم کی وجہ سے) یعنی آپ اپنے اوپر رحم کریں اس سے کہ اپنے کو اپنی قوم کے اسلام نہ لانے کی وجہ سے غم و حسرت میں ڈال کر ہلاک کریں۔ اَلَّا یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ (اس بناء پر کہ وہ ایمان نہیں لاتے) نمبر 2۔ ان کے ایمان سے باز رہنے کی وجہ سے۔ نمبر 3۔ اس خطرے کے پیش نظر کہ وہ ایمان نہ لائیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر۔ 3۔ لعلک باخع ، اس نے اپنے نفس کو ہلاک کرڈالا، نفسک الا یکونوا مومنین، اس آیت کا نزول اس وقت ہوا جب اہل مکہ نے رسول اللہ کی تکذیب کی اور ا آپ کو یہ بات بہت شاق گزری کیونکہ حضور کو بہت زیادہ تمنا تھی اور غبت تھی کہ اہل مکہ مسلمان ہوجائیں اس پر یہ آیات نازل ہوئیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–4

(1 تا 4) شروع سورة میں جو طٰسٓمٓ ہے یہ حروف مقطعات ہیں جو سورتوں کے اول میں آتے ہیں ان حروف کا ذکر سورة بقرہ میں بیان ہوچکا 1 ؎ ہے۔ کتاب کے لفظ سے مطلب قرآن شریف ہے اور مبین کے معنی اس واضح اور روشن کے ہیں جس سے حق و ناحق کا فیصلہ ہوجاوے باخع کے معنے ہلاک کرنے والا مشرکین مکہ کے ایمان نہ لانے کے رنج کو دور کرنے کے لیے یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے پیغمبر ﷺ کی تسلی ہے ‘ یہ آیت مثل سورة فاطر کی آیت کریمہ فَلَا تَذْھَبْ نَفْسٔکَ عَلَیْھِمْ حَسَرَاتٍ الٰایۃ کے ہے سورة فاطر کی آیت اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ کے ایمان نہ لانے پر زیادہ رنج کرنے سے اپنے رسول کو منع فرمایا ہے حضرت عبداللہ بن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–9

تفسیر سورة الشعراء آیت 1 سے 9 اللہ تعالیٰ ایسا اشارہ فرماتا ہے جو کھول کھول کر بیان کرنے والی اس کی کتاب کی تعظیم پر دلالت کرتا ہے کہ یہ کتاب عظیم تمام مطالب الٰہیہ اور مقاصد شرعیہ پر دلالت کرتی ہے۔ غور و فکر کرنے والے کے لئے، اس کی خبر اور حکم میں کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہتا کیونکہ یہ نہایت واضح کتاب ہے، بلند ترین معانی ہر دلالت کرتی ہے، اس کے احکام مربوط اور اس کی تعلیق مناسب ہے۔ رسول اللہ ﷺ اس کتاب عظیم کے ذریعے سے لوگوں کو ان کی بد اعمالیوں کے انجام سے ڈراتے تھے اور اس کے ذریعے سے راہ راست کی طرف راہنمائی کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے متقی بندے اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور صرف وہی لوگ اسے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 3–4

3 جبری ایمان نہ مطلوب ہے نہ مفید : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ جبری ایمان نہ مفید ہے نہ مطلوب۔ بلکہ مطلوب و مفید وہ ایمان ہے جو کہ اپنے قصد و ارادہ سے اور اپنے نفس کی قناعت و اختیار سے ہو۔ ورنہ اگر ہم چاہتے تو ان پر آسمان سے کوئی ایسی نشانی اتار دیتے کہ ان سب کی گردنیں اس کے آگے جھک جاتیں۔ اور یہ سب کے سب ایمان لے آتے۔ مگر ایسا جبری اور قہری ایمان تو ہماری مشیت و منشا ہے ہی نہیں۔ ورنہ اس کے لئے تو ایک اشارہ بھی کافی تھا۔ ہم تو چاہتے ہیں وہ ایمان جو کہ بندے کے اپنے اختیار اور اپنی مرضی سے ہو نہ کہ جبری و اضطراری ایمان۔ ورنہ امتحان کا ہے کا ؟ اور ثواب و عقاب کیونکر ؟ سو اب جبری ایمان…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–6

قرآن روشن کتاب ہے تشریح : ڈاکٹر برہان احمد فاروقی صاحب ” کتاب “ کی تعریف یوں کرتے ہیں۔ -1 ” جس کے پانے سے تمام خیروکمال وابستہ ہوں۔ -2 تصورِ کائنات موجودہ حالات ماضی حال اور مستقبل کے احکامات کا وہ جائزہ جس کی بنیاد پر نصب العین کا حصول ‘ معیار کا تعین ہو۔ -3 وہ مقام یا حیثیت جس کے حوالے کے بغیر اعمال کا موازنہ (جانچنا) اور تخمینہ مقصود نہ ہو سکے۔ -4 وہ عمل جسے اتمام (تکمیل) تک پہنچانے پر کوئی جماعت مأمور ہو۔ -5 لائحہ عمل پہلے سے ترتیب دیا ہوا فرائض و اعمال کا وہ گوشوارہ جو اپنے اندر مطلوبہ نتائج تک پہنچانے کی ضمانت رکھتا ہو۔ -6 معیار وہ نمونہ کمال یا اصول جس کے حوالے سے ہر عمل کو پرکھا جائے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–9

بسم اللہ الرحمن الرحیم تفسیر اسرار التنزیل جلد 05 سورۃ شعراء اسرار و معارف سورۃ شعراء بھی مکی سورتوں میں شمار کی گئی ہے اور گزشتہ مضمون یعنی کفار کے انکار پر بات کو آگے بڑھاتے ہوئے اس کیفیت کو بیان کرتی ہے جو رحمت للعالمین ﷺ پر وارد ہوتی تھی رسول اللہ ﷺ بھی تو یہ بات خوب جانتے تھے کہ ان کا نہ ماننا ان کی ان برائیوں کا نتیجہ ہے جس سے ان کی فطری صلاحیت تباہ ہوگئی اور آپ کا یہ ایمان بھی تھا کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے اگر وہ منوانا چاہے تو کوئی انکار نہیں کرسکتا نیز آپ ﷺ کو یہ علم بھی تھا کہ آپ کا کام اللہ کا پیغام پہنچانا ہے منوانا نہیں مگر اس کے باوجود جب کفار انکار کی راہ اختیار کرتے تو آپ ﷺ کی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

7 ۔ اس سے مقصود نبی ﷺ کو تسلی دینا ہے کہ ان بدبختوں کے ایمان نہ لانے پر آپ ﷺ اس قدر رنجیدہ نہ ہوں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(26:3) لعلک۔ لعل حرف مشبہ بفعل ۔ ک اس کا اسم ۔ شاید تو۔ شاید کر تو۔ ہوسکتا ہے۔ کہ تو۔ باخع : بخع یبخع (فتح) بخع سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر۔ اپنے آپ کو ہلاک کردینے والا۔ غم یا غصہ سے اپنے آپ کو ہلاک کردینے والا۔ شاعر نے کہا ہے :۔ الا انھا الباخع الوجد نفسہ۔ اے غم کی وجہ سے خود کو ہلاک کرنے والے۔ اور جگہ قرآن میں آیا ہے : فلعلک باخع نفسک علی اثارھم ان لم یؤمنوا بھذا الحدیث اسفا (18:6) اگر وہ اس قرآن حکیم پر ایمان نہ لائے تو شاید آپ اس غم میں ان کے پیچھے اپنی جان دیدیں گے۔ جو گدی ریڑھ کی ہڈی میں سے گزرتی ہوئی گردن تک پہنچتی ہے اسے بخاع کہتے ہیں جب ذبح کرتے وقت چھری یہاں تک پہنچ جائے تو ذبح…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 2–9

لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 9 : الکتاب المبین (کھلی اور واضح کتاب) باخع (گھلا ڈالنے والا) ظلت ( ہوگئی (ہوجائیں) ‘ اعناق (عنق) (گردنیں) ‘ خضعین (جھکنے والے) ‘ محدث (نئی بات۔ نئی نصیحت) ‘ انبئوا (خبریں) ‘ انبتنا (ہم نے اگایا) ‘ زوج کریم (عمدہ پاکیزہ جوڑے) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 9 : سورۃ الشعراء کی ابتداء حروف مقطعات سے کی گئی ہے۔ اس سے پہلے وضاحت کردی گئی ہے کہ قرآن کریم کی انتیس (29) سورتوں کی ابتداء میں ان حروف کو لایا گیا ہے۔ ان حروف کے کیا معنی ہیں ؟ علماء کرام نے فرمایا ہے کہ ان حروف کے معنی کا علم اللہ رب العزت کو ہے۔ ممکن ہے اللہ تعالیٰ نے ان حروف کے معنی نبی کریم ﷺ کو بتا دیئے ہوں مگر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 2–4

(ف 1) شان نزول۔ جب اہل مکہ ایمان نہ لائے اور انہوں نے نبی ﷺ کی تکذیب کی تو نبی ﷺ پر ان کی محرومی بہت شاق ہوئی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 3–4

[2] یعنی ایسی نشانی دکھائی جاتی کہ تمام انسان ایمان لانے اور اطاعت اختیار کرنے پر مجبور ہوجاتے۔ لیکن یہ دنیا دارالامتحان ہے۔ یہاں تو مقصود ہی انسان کی قوت و اختیار کا امتحان ہے اور یہی دیکھنا ہے کہ کون کس حد تک اپنے اختیار و تصرف کا صحیح استعمال کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–5

ف 2: طسم حروف مقطعات ہیں ۔ تفصیل الم کی بحث میں دیکھئے ۔ امام رازی کہتے ہیں ۔ طا سے مراد قلوب عارفین کی طرف و نشاط ہے ۔ اور اس سے مقصود عشاق کا سردرد بہیت ہے ۔ اور م مریدین سے مناجات پر دال ہے ۔ کتاب مبین کے تعارف کے بعد حضور ﷺ کی اس محبت وعشق کا ذکر ہے ۔ جو آپ کو عام انسانوں سے تھی ۔ آپ یہ نہیں چاہتے تھے کہ ایک نفس انسانی بھی نجات سے محروم رہے ۔ اور اللہ کا عذاب کا شکار ہوجائے ۔ آپ نے نہایت جانسوزی سے قوم کو نجات و فلاح کی دعوت دی ، اور صراط مستقیم پر گامزن ہونے کی تلقین فرمائی ارشاد ہے کہ آپ ان لوگوں کی محبت میں اپنی جان کیوں کھوتے ہیں ۔ اگر یہ لوگ اس وضاحت اور دلائل کی کثرت کے باوجود بھی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(3) اے پیغمبر ! آپ شاید اس بات سے کہ وہ کافر ایمان نہیں لائے اپنی جان کھو بیٹھیں گے۔ یعنی آپ ان پر اپنی شفقت کی وجہ اتنا غم کھاتے ہیں اور ان کے ایمان نہ لانے پر آپ اس قدر بےقرار اور غمگین ہوتے ہیں کہ ایسا معلوم ہوتا ہے شاید ان کے ایمان نہ لانے کے غم میں آپ کی جان جاتی رہے گی اور آپ صدمے میں اپنی جان دے بیٹھیں گے آخر شفقت کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–8

ف 3۔ معلوم ہوا کہ ان کے عناد نے ان کی فطرت کو بالکل مختل کردیا، پھر ایسوں کے پیچھے کیوں جان کھوئی جائے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آپ ﷺ اس فکر میں مبتلا نہ ہوں کہ یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے : 3۔ بخ نفسہ ، کفتح ۔ یبخعھا ، بخھا وبخوعا : قتلھا غیظا اوغمافھو باخع ۔ باخع کا لفظ قرآن کریم میں دوبارہ استعمال ہوا ہے ایک بار اس جگہ اور ایک بار اس سے پہلے سورة الکہف کی آیت 6 میں اور دونوں جگہ رسول اللہ ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آپ ﷺ اپنے آپ کو ہلاک کیوں کر رہے ہیں یعنی آپ ﷺ اس غم میں کیوں گھل رہے ہیں کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے ، یہ بات اس وقت آپ ﷺ کو کہی گئی جب آپ ﷺ شبانہ روز ان کوششوں میں مصروف تھے کہ قریش کی سمجھ میں وہ بات آجائے جس کی طرف میں ان کو دعوت دے رہا ہوں اور وہ لوگ تھے کہ روز بروز اپنی ضد اور عناد میں بڑھتے ہی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ Seemingly you are going to let yourself collapse in grief - 26:3). The word بَاخِعٌ (bakhi" )is derived from بَخعٌ (bakh' ) which means to reach up to Bikha`, an artery of the neck, while slaughtering. In this verse baki` is used in the sense of putting oneself into trouble and toil. "Allamah ` Askari has said, ` Although at such places the sentence appears to be informative but in fact it means to prohibit or prevent'. What it conveys is that, ` O Messenger, do not be so despondent because of your people's disbelief and rejection of Islam that you cause…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

2 The words bakhi'un-nafsaka literally mean: "You would kill yourself." The verse in fact describes the extreme anguish, anxiety and grief of the Holy Prophet over the Makkan disbelievers' ways of deviation, moral degradation, and obduracy and opposition to his message of reform. Sometimes it seemed as if his grief and mental suffering for their sake would cause his death. This state of the Holy Prophet has been referred to at other places in the Qur'an as well, for instance in AI-Kahf: 6, thus: "Well, O Muhammad, it may be that you will consume your life for their sake out of sorrow if they…

Read the full tafseer →