Explained with ayahs 1–9
تعارف قرآن کریم
پھر فرمان ہے کہ یہ آیتیں قرآن مبین کی ہیں جو بہت واضح بالکل صاف اور حق وباطل بھلائی برائی کے درمیان فیصلہ اور فرق کرنے والا ہے۔ ان لوگوں کے ایمان نہ لانے سے آپ ﷺ رنجیدہ خاطر اور غمگین نہ ہوں۔ جیسے اور جگہ ارشاد ہے آیت (فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرٰتٍ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِـيْمٌۢ بِمَا يَصْنَعُوْنَ) 35۔ فاطر :8) تو ان کے ایمان نہ لانے پر حسرت و افسوس نہ کر۔ اور آیت میں ہے آیت (فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِيْثِ اَسَفًا) 18۔ الكهف :6) کہیں ایسا نہ ہو کہ تو ان کے پیچے اپنی جان گنوادے۔ چونکہ ہماری یہ چاہت ہی نہیں…
Read the full tafseer →سورة الشُّعَرَآء 3
یعنی کوئی ایسی نشانی نازل کردینا جو تمام کفار کو ایمان وطاعت کی روش اختیار کرنے پر مجبور کر دے، اللہ تعالیٰ کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں ہے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ یہ کام اس کی قدرت سے باہر ہے۔ بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس طرح کا جبری ایمان اس کو مطلوب نہیں ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ لوگ عقل و خرد سے کام لے کر ان آیات کی مدد سے حق کو پہچانیں جو کتاب الہیٰ میں پیش کی گئی ہیں، جو تمام آفاق میں ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں، جو خود ان کی اپنی ہستی میں پائی جاتی ہیں۔ پھر جب ان کا دل گواہی دے کہ واقعی حق وہی ہے جسے انبیاء (علیہم السلام) نے پیش کیا ہے، اور اس کے خلاف جو عقیدے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ اٰيَةً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُهُمْ لَهَا خٰضِعِيْنَ ، علامہ زمخشری نے فرمایا کہ اصل کلام فظلوا لھا خاضعین ہے یعنی کفار اس بڑی نشانی کو دیکھ کر تابع ہوجاویں اور جھک جائیں لیکن یہاں اعناق کا لفظ یہ ظاہر کرنے کے لئے لایا گیا ہے کہ موضوع خضوع ظاہر ہوجائے کیونکہ جھکنا وغیرہ اور عاجزی کرنا سب سے پہلے گردن پر ظاہر ہوتا ہے۔ مضمون اس آیت کا یہ ہے کہ ہم اس پر بھی قادر ہیں کہ اپنی توحید اور قدرت کاملہ کی کوئی نشانی ظاہر کردیں جس سے احکام شرعیہ اور حقائق الہیہ بدیہی ہو کر سامنے آجائیں اور کسی کو مجال انکار نہ رہے مگر حکمت کا مقتضا یہ ہے کہ یہ احکام و معارف…
Read the full tafseer →عربیت کا ایک اسلوب
آیت میں بظاہر خاضعین کی جگہ خاضعۃ ہونا تھا لیکن اعناقھم میں مضاف الیہ کی رعایت سے خاضعین آیا ہے۔ یہ عربی زبان کا ایک معروف اسلوب ہے۔ اس کی بعض مثالیں پیچھے بھی گزر چکی ہیں۔
پیغمبر ﷺ کے لئے تسلی اور مخالفین کے لئے تہدید
اس آیت میں آنحضرت ﷺ کے لئے تسلی کے ساتھ کفار کے لئے دھمکی بھی مضمر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ اس کتاب پر ایمان لانے کے لئے کوئی نشانی دیکھنے ہی پر اڑے ہوئے ہیں تو یاد رکھیں کہ ہمارے پاش نشانیوں کی کمی نہیں ہے۔ ہم جب چاہیں آسمان سے کوئی ایسی نشانی اتار سکتے ہیں جس کے آگے سب کی گردنیں جھک جائیں لیکن ہم چاہتے ہیں کہ یہ سوچ سمجھ کر اپنے اختیار و ارادہ سے ایمان…
Read the full tafseer →4-1یعنی جسے مانے اور جس پر ایمان لائے بغیر چارہ نہ ہوتا۔ لیکن اس طرح جبر کا پہلو شامل ہوجاتا، جب کہ ہم نے انسان کو ارادہ و اختیار کی آزادی دی ہے تاکہ اس کی آزمائش کی جائے۔ اس لئے ہم نے ایسی نشانی بھی اتارنے سے گریز کیا جس سے ہمارا یہ قانون متاثر ہو۔ اور صرف انبیاء و رسل بھیجنے اور کتابیں نازل کرنے پر ہی اکتفا کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–13
2: مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے یہ کچھ مشکل نہیں تھا کہ ان کو ایمان لانے پر مجبور کردیتا، لیکن اس دنیا میں انسان کو بھیجنے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ اسے زبردستی مسلمان بنایا جائے۔ بلکہ انسان سے مطالبہ یہ ہے کہ وہ کسی زور زبردستی کے بغیر اپنی عقل کو استعمال کر کے اور دلائل پر غور کر کے ایمان کا راستہ اختیار کرے۔ یہی وہ آزمائش ہے جس کے لیے اسے دنیا میں بھیجا گیا ہے۔ اس لیے اگر یہ لوگ ایمان نہیں لا رہے ہیں تو آپ کو اتنا صدمہ نہیں کرنا چاہیے کہ اپنی جان کو ہلکان کرلیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
لعلک باخع ……خضعین (4)
انداز کلام ایسا ہے کہ گویا خود نبی ﷺ کو تنبیہ کی جاتی ہے کہ اپنی جان کو اس وجہ سے خطرے میں ڈال رہے ہیں کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔
لعلک باخع نفسک (26 : 3) ” اے نبی شاید آپ اس غم میں اپنی جان کھو دو گے۔ “ مع النفس کے معنی قتل النفس ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور اکرم کفار قریش کے عدم ایمان پر کس قدر دل گیر تھے۔ کیونکہ آپ کو یقین تھا کہ اگر یہ ایمان نہ لائے تو دوسری اقوام کی طرح کہیں یہ بھی نیست و نابود نہ کردیئے جائیں۔ یوں آپ اپنے آپ کو اس غم میں گھول رہے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ آپ کے رشتہ دار ، اہل خاندان اور اہل قوم تھے۔ اس کی وجہ سے آپ زیادہ پریشان تھے۔ لیکن رب…
Read the full tafseer →3 یعنی یہ دنیا ابتلاء کا گھر ہے جہاں بندوں کے انقیاد و تسلیم اور سرکشی کو آزمایا جاتا ہے۔ اسی لیے حکمت الٰہی مقتضی نہیں کہ ان کا اختیار بالکل سلب کرلیا جائے۔ ورنہ خدا چاہتا تو کوئی ایسا آسمانی نشان دکھلاتا کہ اس کے آگے زبردستی سب کی گردنیں جھک جاتیں۔ بڑے بڑے سرداروں کو بھی انکار و انحراف کی قدرت باقی نہ رہتی۔ اللہ تعالیٰ نے ایسا تو نہیں کیا، ہاں وہ نشان بھیجے جنہیں دیکھ کر آدمی حق کو سمجھنا چاہے تو باآسانی سمجھ سکے۔ اور کبھی کبھی مغلوب ہو کر گردن جھکانے سے مفر بھی نہ ملے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
آیت 4 اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَیْہِمْ مِّنَ السَّمَآءِ اٰیَۃً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُہُمْ لَہَا خٰضِعِیْنَ ”
انہیں ایسی کوئی نشانی دکھا دینا ہماری قدرت سے کچھ بعید نہیں ‘ لیکن اپنی خاص حکمت اور مشیت کے تحت ہم ایسا نہیں کر رہے۔ آگے چل کر اسی سورت میں اس حکمت کا ذکر بھی آئے گا۔
Read the full tafseer →3 اگر ان کا ایمان لانا ہی مطلوب مقصود ہوتا تو یہ کام یوں بھی ہوسکتا تھا کہ ہم کوئی ایسا معجزہ نازل کردیتے۔ جس کی بنا پر یہ ایمان لانے پر مجبور ہوجاتے۔ مگر یہ بات ہماری مشیت کے خلاف ہے۔ ایسا جبری ایمان لانے کا نہ کوئی فائدہ ہے اور نہ ہمیں مطلوب ہے۔ مطلوب تو یہ ہے کہ انھیں راہ ہدایت سمجھا دینے کے بعد کون شخص اپنی عقل وتمیز کو کام میں لاکر اور اپنے ارادہ اختیار سے ایمان لاتا ہے۔ اور یہی چیز انسان کی پیدائش کا مقصود اصلی ہے ورنہ اللہ انسان کو بھی دوسری مخلوق کی طرح پیدا کرسکتا تھا۔ جو اللہ کے سامنے ہر حال میں سرتسلیم خم کرنے پر مجبور ہے۔
Read the full tafseer →3) (اور انہیں چار وناچار ایمان لاتے ہی بنے) (آیت) ” ان نشا “۔ یعنی اگر مشیت یہ ہوتی کہ سب کے سب ایمان لے ہی آئیں، تو غیب سے کوئی نہ کوئی ایسا کھلا ہوا نشان دکھا دیا جاتا، جس کے بعد تردود تامل، ردوانکار کی گنجائش ہی باقی نہ رہتی اور سب کے سب ایمان لانے پر مجبور ومضطر ہوجاتے۔ لیکن پھر یہ عالم ابتلاء باقی نہ رہتا یہاں تو مقصود ہی ان کی قوت اختیار کا امتحان ہے۔ اور یہی دیکھنا ہے کہ کون کس حد تک اپنے ارادہ کو صحیح مصرف میں لاتا ہے۔ اور یہی دیکھنا ہے کہ کون کس حد تک اپنے ارادہ کو صحیح مصرف میں لاتا ہے۔ محقق تھانوی (رح) نے یہاں یہ نکتہ خوب بیان کیا ہے کہ تصرف باطنی میں بھی ایک شان جبر و زبردستی کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
بسم اللہ الرحمن الرحیم
آیت نمبر 1 تا 9
ترجمہ : شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے۔ طٰسٓمٓ اس کی مراد اللہ ہی بہتر جانتا ہے یہ یعنی یہ آیات کتاب مبین (یعنی) قرآن کی آیتیں ہیں جو حق کو باطل سے ممتاز کرنے والی ہیں، اور اٰیٰتُ الکِتابِ میں اضافت بمعنی مِنْ ہے شاید اے محمد آپ تو اس غم کے سبب سے کہ اہل مکہ ایمان نہیں لاتے اپنی جان کھو دیں گے، اور لَعَلَّ کے یہاں اشفاق کے معنی ہے یعنی اس غم میں تخفیف کرکے اپنے اوپر رحم کیجئے، اگر ہم چاہتے تو ان پر آسمان سے کوئی ایسی نشانی اتارتے کہ جس کے سامنے ان کی گردنیں جھک جائیں ظَلَّتْ بمعنی مضارع ہے ای تَدُوْمُ پھر وہ ایمان لے آئیں، جبکہ…
Read the full tafseer →ان نشا اگر ہم (ان کا مؤمن ہوجانا) چاہیں۔
ننزل علیہم من السمآء ایۃ تو ان پر آسمان سے کوئی نشانی نازل کردیں کہ وہ اس کو دیکھ کر ایمان لانے پر
مجبور ہوجائیں۔ یا (آیۃً سے مراد ہے مصیبت یعنی) کوئی ایسی مصیبت نازل کردیں۔ جو ان کو ایمان لانے پر مجبور کر دے۔
فظلت اعناقہم لہا خضعین۔ پھر ان کی گردنیں اس کے سامنے جھک جائیں یعنی یہ فرماں بردار ہوجائیں۔
قتادہ نے کہا اگر اللہ چاہتا تو کوئی ایسی نشانی نازل کردیتا کہ پھر کوئی بھی نافرمانی سے گردن نہ موڑتا ابن جریج نے کہا آیت کا یہ معنی ہے کہ اگر اللہ چاہتا تو کوئی ایسا امر نازل کردیتا کہ پھر ان میں سے کوئی شخص بھی نافرمانی نہ کرسکتا۔
ایک شبہاعناق عنق کی جمع…
Read the full tafseer →(4) کیوں کہ آپ قریش کے ایمان لانے کے بہت خواہش مند تھے اور آپ ان کے ایمان لانے کو پسند فرماتے تھے، اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے ایک بڑی نشانی نازل کردیں کہ پھر ان کی گردنیں ان نشانی سے جھک جائیں۔
Read the full tafseer →اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ۔۔ : آسمان سے نشانی اتارنے سے مراد وہ معجزے دکھانا ہے جن کا وہ مطالبہ کرتے تھے۔ (سعدی) یعنی اگر ہم چاہیں تو آسمان سے کوئی نشانی اتار دیں، جس کے آنے کے بعد ان کے لیے مانے بغیر کوئی چارہ کار نہ رہے، لیکن ہم ایسا نہیں کرتے، کیونکہ دنیا امتحان کا گھر ہے اور ہمارا فیصلہ یہ ہے کہ جو شخص بھی ایمان لائے سوچ سمجھ کر اپنے اختیار سے لائے، نہ کہ کسی دباؤ اور مجبوری کے تحت۔ اس لیے ہم نے انبیاء و رسل بھیجے، صحیفے اور کتابیں نازل فرمائیں۔ یہ حقیقت قرآن میں متعدد مقامات پر بیان کی گئی ہے۔ دیکھیے سورة یونس (99) ، ہود (118، 119) اور غاشیہ (21، 22) اور ہم اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
(طسم۔ تلک ایت الکتب۔۔۔۔ )
طسم۔ اعمش، یحییٰ ، ابو بکر، مفصل، حمزہ، کسائی اور خلف نے اس سورت اور اس جیسی سورتوں میں طاء کو امالہ اور اشباع کے ساتھ پڑھا ہے۔ نافع، ابو جعفر، شیبہ اور زہری نے دو لفظوں کے درمیان پڑھا ہے : ابو عبیدہ اور حاتم نے اسے پسند کیا ہے۔ باقی قراء نے فتحہ کے ساتھ اشباع کی صورت میں پڑھا ہے۔ ثعلبی نے کہا : یہ تمام فصیح لغتیں ہیں۔ سورة طہٰ میں نحاس کا قول اس بارے میں گزر چکی ہے، نحاس نے کہا : مدینہ طیبہ کے قاریوں، ابو عمرو، عاصم اور کسائی نے طسم نون کو میم میں ادغام کرتے ہوئے پڑھا ہے۔ فراء نے نون کے اخفاء کے ساتھ کہا اعمش اور حمزہ نے طسین میم، نون کے اظہار کے ساتھ قرأت کی۔ نحاس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–9
1۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ’ ’ لعلک باخع نفسک “ سے مراد ہے شاید کہ تو قتل کرنے والا ہے اپنے آپ کو آیت ” الا یکونو مومنین “ (یعنی وہ ایمان کیوں نہیں لائے) آیت ” ان نشاء ننزل علیہم من السماء اٰیۃ فظلت ا 4 عناقہم لہا خضعین “ یعنی اگر اللہ چاہے تو ان پر ایسی نشانی نازل فرماتا ہے کہ جس کے سامنے وہ اطاعت والے بن جاتے اور ان میں سے کوئی بھی اپنی گردن کو نہ موڑتا اللہ کی نافرمانی کی طرف آیت ”’ وما یاتیہم من ذکر من الرحمن محدث یعنی ان کے پاس کوئی چیز اللہ کی کتاب میں سے نہیں آئی مگر وہ اس سے اعراض کرتے ہیں آیت ” فسیاتیہم “ یعنی قیامت…
Read the full tafseer →اِنْ نَّشَاْ [ اگر ہم چاہیں ] نُنَزِّلْ [ تو ہم اتاردیں ] عَلَيْهِمْ [ ان پر ] مِّنَ السَّمَاۗءِ [ آسمان سے ] اٰيَةً [ کوئی نشانی ] فَظَلَّتْ [ تو ہوجائیں ] اَعْنَاقُهُمْ [ ان کی گردنیں ] لَهَا [ اس کے لئے ] خٰضِعِيْنَ [ جھکنے والی ]
خ ض ع
(ف) خضوعا عاجزی کرنا۔ تواضع کرنا۔ جھکنا۔ فَلَا تَخْـضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِيْ فِيْ قَلْبِهٖ مَرَضٌ (تو تم خواتین تواضع مت کرو بات سے کہ لالچ کرے وہ جس کے دل میں کوئی مرض ہو) 33/32 ۔
خاضع فاعل کے وزن پر صفت ہے۔ جھکنے والا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 4 ۔
نوٹ۔ 1: آیت ۔ 4 ۔ کا مطلب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ اس کتاب پر ایمان لانے کے لئے کوئی نشانی دیکھنے ہی پر اڑے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی شان ربوبیت کا تذکرہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے زمین سے ہر قسم کی عمدہ عمدہ چیزیں نکالی اور اگائی ہیں جنہیں بنی آدم اور حیوانات کھاتے ہیں اور استعمال کرتے ہیں آخر میں فرمایا (اِِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لاآیَۃً ) کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی توحید پر اور کمال پر بڑی نشانی ہے اور اکثر لوگ مانتے نہیں ہیں اور انکار پر تلے ہوئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
ذکر حقانیت کتاب مبین و تہدید معاندین و مستہزئین
قال اللہ تعالیٰ طسم تلک ایت الکتب المبین .... الیٰ .... وان ربک لھو العزیز الرحیم۔
(ربط) گزشتہ سورت کا آغاز حقانیت قرآن سے ہوا اور اختتام مکذبین کی وعید پر ہوا اسی طرح اس سورت کا آغاز حقانیت قرآن اور مکذبین کی وعید اور تہدید سے فرماتے ہیں طسم واللہ اعلم بمرادہ۔ یہ آیتیں ہیں روشن کتاب کی جس کا اعجزا اور سرچشمہ ہدایت ہونا روز روشن کی طرح واضح ہے۔
اے نبی اگر یہ بدنصیب ایمان نہیں لاتے تو آپ ﷺ ان کے غم میں کیوں گھٹے جاتے ہیں بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شاید آپ اپنی جان کو اس گھٹن میں ہلاک کردیں کہ یہ لوگ ایمان لانے والے کیوں نہیں بنتے جو شخص اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
4:۔ یہ زجر ہے۔ یعنی یہ مشرکین مسلسل توحید کا انکار کر رہے ہیں ! چناچہ اللہ کی طرف سے جب بھی مضمون توحید اور دعوت ” تبارک “ پر مشتمل کوئی تازہ آیت نازل ہوتی ہے تو وہ اس سے اعراض اور اس کا انکار کرتے ہیں۔ ” فقدکذبوا فسیاتھیہم الخ “ یہ تخویف دنیوی ہے یا اخروی۔ ان معاندین پر ہماری حجت قائم ہوچکی اور مسئلہ توحید ہر پہلو سے ان پر دلائل کے ساتھ واضح کیا جا چکا ہے۔ مگر اس کے باوجود وہ انکار و اعراض کر رہے ہیں، اس لیے اب عنقریب ہی انہیں توحید سے اعراض و استہزاء کی سخت سزا دی جائے گی جس طرح اقوام سابقہ کو ان کے انکار و اعراض اور عناد و استہزاء کی سزا دی گئی تو اس وقت ان پر توحید کی حقانیت واجح ہوجائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
ربط آیات
اس سورة کا نام سورة الشعراء ہے اس کے آخری حصے میں اللہ تعالیٰ نے شعر و شاعری اور شاعروں کے متعلق ارشاد فرمایا ہے ۔ اسی مناسبت سے سورة کا یہ نام لکھا گیا ہے۔ البتہ امام مالک (رح) کے قول کے مطابق اس سورة کا ایک نام سورة الجاثیۃ بھی ہے کیونکہ یہ نصیحت کی جہت سی باتوں کو جمع کرنے والی سورة ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی بعض کے مطابق اس سورة کا نزول سورة واقعہ کے بعد ہوا یعنی ہجرت سے دو یا تین سال قبل ۔ اس کی چھوٹی چھوٹی 722 آیات اور گیارہ رکوع ہیں ۔ یہ سورة 7221 الفاظ اور 2455 حروف پر مشتمل ہے۔
مضامین سورة
اس سورة میں مختلف مضامین بیان ہوئے ہیں ۔ ابتداء میں قرآن کریم کی حقانیت و…
Read the full tafseer →اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَيْہِمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ اٰيَۃً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُہُمْ لَہَا خٰضِعِيْنَ 4
شاء
الشَّيْءُ قيل : هو الذي يصحّ أن يعلم ويخبر عنه، وعند کثير من المتکلّمين هو اسم مشترک المعنی إذ استعمل في اللہ وفي غيره، ويقع علی الموجود والمعدوم . وعند بعضهم : الشَّيْءُ عبارة عن الموجود «2» ، وأصله : مصدر شَاءَ ، وإذا وصف به تعالیٰ فمعناه : شَاءَ ، وإذا وصف به غيره فمعناه الْمَشِيءُ ، وعلی الثاني قوله تعالی: قُلِ اللَّهُ خالِقُ كُلِّ شَيْءٍ
[ الرعد/ 16] ، فهذا علی العموم بلا مثنويّة إذ کان الشیء هاهنا مصدرا في معنی المفعول . وقوله : قُلْ أَيُّ شَيْءٍ أَكْبَرُ شَهادَةً [ الأنعام/ 19] ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–10
واذا نادی ربک موسیٰ الخ اب یہاں سے انبیاء (علیہم السلام) کے تذکرہ عبرت انگیز شروع ہوتے ہیں (1) یہ قصہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ہے جس میں ان کا فرعون کے پاس جانا اور خدا کا پیغام پہنچانا اور طرح طرح کے معجزات دکھانا اور اس کا نہ ماننا اور انجام کار دریائِ قلزم میں مع لشکر غرق ہونا مذکور ہے۔
ولانیطق لسانی فرعون کے گھر جب موسیٰ ( علیہ السلام) تھے اور ان کے فرزندوں کی طرح پرورش پاتے تھے ایک بار فرعون کی ڈاڑھی پکڑ لی۔ جس پر خفا ہو کر اس نے قتل کا حکم دیا اس کی بیوی نے سفارش کی کہ نادان بچہ ہے اس کے نزدیک آگ اور جواہرات برابر ہیں دونوں لا کر سامنے رکھے گئے تو آگ مونہہ میں ڈال لی تھی جب سے لکنت…
Read the full tafseer →اِنْ نَّشَانُنَزِّلْ عَلَیْھِمْ مِّنَ السَّمَآئِ اٰ یَـۃً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُھُمْ لَھَا خٰضِعِیْنَ ۔ (الشعرآء : 4)
(اگر ہم چاہیں تو ان پر آسمان سے کوئی ایسی نشانی اتار دیں کہ ان کی گردنیں اس کے آگے جھکی ہی رہ جائیں۔ )
اس آیت میں اَعْنَاقُھُمْ ، ظَلَّتْ کا اسم ہے۔ خَاضِعِیْنَ خبر ہے۔ نحوی قاعدے کے مطابقخَاضِعَۃ ہونا چاہیے تھا، لیکن بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ اسم اگر مرکب اضافی ہو تو اس کی خبر میں مضاف کی بجائے مضاف الیہ کی مطابقت کا خیال رکھا جاتا ہے۔ یہ عربی زبان کا ایک معروف اسلوب ہے۔
بعض اہل لغت کے نزدیک اعناق رئوساء کے معنی میں بھی آتا ہے۔ اس صورت میں اس تأویل کی ضرورت ہی نہیں…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : کتاب مبین کی واضح آیات اور ٹھوس دلائل کے باوجود لوگ ایمان نہیں لاتے۔
رسول محترم ﷺ کی بےمثال جدوجہد اور قرآن مجید کے ٹھوس اور بیّندلائل کے باوجود۔ کفار آپ ﷺ سے ایک سے ایک بڑھ کر معجزہ لانے کا مطالبہ کرتے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اگر ہم چاہیں تو آسمان سے ایسا معجزہ نازل کریں جس کے سامنے ان کی گردنیں جھک جائیں۔ اور یہ ایمان لانے پر مجبور ہوجائیں لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے خلاف ہے کہ وہ لوگوں کو جبراً ایمان لانے پر مجبور کرے۔ اس نے لوگوں کے سامنے کتاب مبین رکھ دی ہے۔ جس کی تلاوت کرنے سے حق اور باطل واضح ہوجاتا ہے۔ اب یہ لوگوں کی ذمہ داری ہے…
Read the full tafseer →4: اِنْ نَّشَاْ (اگر ہم ان کا ایمان چاہیں) نُنَزِّلْ عَلَیْھِمْ مِّنَ السَّمَآ ئِ ٰایَۃً (ہم ان پر آسمان سے کوئی ایسی نشانی اتار دیں) واضح دلالت فَظَلَّتْ اَعْنَاقُھُمْ (پھر ان کی گردنیں ہوجائیں گی) ۔
نحو : یہاں ظلت ماضی، بمعنی مضارع تظل ہے کیونکہ شرط جزاء میں اگر ماضی آبھی جائے وہ بھی مستقبل کے معنی میں ہے۔ جیسے کہتے ہیں ان زرتنی اکرمتک ای اکرمک کذا قالہ الزجاج۔
اعناقہم ؔ سے ان کے رئو ساء اور پیش پیش لوگ مراد ہیں۔ نمبر 2۔ ان کی جماعتیں جیسا کہ کہتے ہیں جاء عنق من الناس یعنی ان میں سے ایک جماعت آئی۔ لھَا خَاضِعِیْنَ (جھکنے والی) مطیع۔
قول ابن عباس۔ : یہ ہمارے اور بنو امیہ کے متعلق اتری۔…
Read the full tafseer →4۔ ان نشاء ننزل علیھم، ،، ، قتادہ کا قول ہے کہ اگر اللہ چاہتا تو کوئی ایسی نشانی نازل کردیتاتو پھر کوئی بھی نافرمانی سے گردن نہ موڑتا۔
خاضعین کی تفسیر۔
ابن جریج نے کہا آیت کا معنی ہے کہ اگر اللہ چاہتا تو کوئی ایسا امر نازل کردیتا پھر کوئی بھی نافرمانی سے گردن نہ موڑتا۔ خاضعین، ارشاد فرمایا، خاضعۃ، نہیں فرمایا، کیونکہ یہ اعناق کی صفت ہے۔ اس صورت میں ، خاضعین ، نہیں ہونا چاہیے تھا، خاضعۃ ، ہونا چاہیے تھا۔
(1) ۔ اسکا ایک جواب تو یہ ہے کہ یہاں مضاف محذوف ہے۔ اصل میں اصحاب الاعناق تھا، مضاف کو حذف کرکے مضاف الیہ کو اس کے قائم مقام کردیا گیا کیونکہ گردنیں جب جھک جاتی ہیں توگردنوں والے خود ہی فرماں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
(1 تا 4) شروع سورة میں جو طٰسٓمٓ ہے یہ حروف مقطعات ہیں جو سورتوں کے اول میں آتے ہیں ان حروف کا ذکر سورة بقرہ میں بیان ہوچکا 1 ؎ ہے۔ کتاب کے لفظ سے مطلب قرآن شریف ہے اور مبین کے معنی اس واضح اور روشن کے ہیں جس سے حق و ناحق کا فیصلہ ہوجاوے باخع کے معنے ہلاک کرنے والا مشرکین مکہ کے ایمان نہ لانے کے رنج کو دور کرنے کے لیے یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے پیغمبر ﷺ کی تسلی ہے ‘ یہ آیت مثل سورة فاطر کی آیت کریمہ فَلَا تَذْھَبْ نَفْسٔکَ عَلَیْھِمْ حَسَرَاتٍ الٰایۃ کے ہے سورة فاطر کی آیت اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ کے ایمان نہ لانے پر زیادہ رنج کرنے سے اپنے رسول کو منع فرمایا ہے حضرت عبداللہ بن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
تفسیر سورة الشعراء
آیت 1 سے 9
اللہ تعالیٰ ایسا اشارہ فرماتا ہے جو کھول کھول کر بیان کرنے والی اس کی کتاب کی تعظیم پر دلالت کرتا ہے کہ یہ کتاب عظیم تمام مطالب الٰہیہ اور مقاصد شرعیہ پر دلالت کرتی ہے۔ غور و فکر کرنے والے کے لئے، اس کی خبر اور حکم میں کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہتا کیونکہ یہ نہایت واضح کتاب ہے، بلند ترین معانی ہر دلالت کرتی ہے، اس کے احکام مربوط اور اس کی تعلیق مناسب ہے۔ رسول اللہ ﷺ اس کتاب عظیم کے ذریعے سے لوگوں کو ان کی بد اعمالیوں کے انجام سے ڈراتے تھے اور اس کے ذریعے سے راہ راست کی طرف راہنمائی کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے متقی بندے اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور صرف وہی لوگ اسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
3 جبری ایمان نہ مطلوب ہے نہ مفید : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ جبری ایمان نہ مفید ہے نہ مطلوب۔ بلکہ مطلوب و مفید وہ ایمان ہے جو کہ اپنے قصد و ارادہ سے اور اپنے نفس کی قناعت و اختیار سے ہو۔ ورنہ اگر ہم چاہتے تو ان پر آسمان سے کوئی ایسی نشانی اتار دیتے کہ ان سب کی گردنیں اس کے آگے جھک جاتیں۔ اور یہ سب کے سب ایمان لے آتے۔ مگر ایسا جبری اور قہری ایمان تو ہماری مشیت و منشا ہے ہی نہیں۔ ورنہ اس کے لئے تو ایک اشارہ بھی کافی تھا۔ ہم تو چاہتے ہیں وہ ایمان جو کہ بندے کے اپنے اختیار اور اپنی مرضی سے ہو نہ کہ جبری و اضطراری ایمان۔ ورنہ امتحان کا ہے کا ؟ اور ثواب و عقاب کیونکر ؟ سو اب جبری ایمان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
قرآن روشن کتاب ہے
تشریح : ڈاکٹر برہان احمد فاروقی صاحب ” کتاب “ کی تعریف یوں کرتے ہیں۔
-1 ” جس کے پانے سے تمام خیروکمال وابستہ ہوں۔
-2 تصورِ کائنات موجودہ حالات ماضی حال اور مستقبل کے احکامات کا وہ جائزہ جس کی بنیاد پر نصب العین کا حصول ‘ معیار کا تعین ہو۔
-3 وہ مقام یا حیثیت جس کے حوالے کے بغیر اعمال کا موازنہ (جانچنا) اور تخمینہ مقصود نہ ہو سکے۔
-4 وہ عمل جسے اتمام (تکمیل) تک پہنچانے پر کوئی جماعت مأمور ہو۔
-5 لائحہ عمل پہلے سے ترتیب دیا ہوا فرائض و اعمال کا وہ گوشوارہ جو اپنے اندر مطلوبہ نتائج تک پہنچانے کی ضمانت رکھتا ہو۔
-6 معیار وہ نمونہ کمال یا اصول جس کے حوالے سے ہر عمل کو پرکھا جائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
بسم اللہ الرحمن الرحیم
تفسیر اسرار التنزیل جلد 05
سورۃ شعراء
اسرار و معارف
سورۃ شعراء بھی مکی سورتوں میں شمار کی گئی ہے اور گزشتہ مضمون یعنی کفار کے انکار پر بات کو آگے بڑھاتے ہوئے اس کیفیت کو بیان کرتی ہے جو رحمت للعالمین ﷺ پر وارد ہوتی تھی رسول اللہ ﷺ بھی تو یہ بات خوب جانتے تھے کہ ان کا نہ ماننا ان کی ان برائیوں کا نتیجہ ہے جس سے ان کی فطری صلاحیت تباہ ہوگئی اور آپ کا یہ ایمان بھی تھا کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے اگر وہ منوانا چاہے تو کوئی انکار نہیں کرسکتا نیز آپ ﷺ کو یہ علم بھی تھا کہ آپ کا کام اللہ کا پیغام پہنچانا ہے منوانا نہیں مگر اس کے باوجود جب کفار انکار کی راہ اختیار کرتے تو آپ ﷺ کی…
Read the full tafseer →8 ۔ یعنی اس پر ایمان لانے کے سوا ان کے لئے کوئی چارہ کار نہ رہے۔ لین ہم ایسا نہیں کرتے کیونکہ دنیا دار ابتلا ہے اور ہمارا فیصلہ یہ ہے کہ جو شخص بھی ایمان لائے سوچ سمجھ کر اختیاری طور پر لائے نہ کہ کسی دبائو یا مجبوری کے تحت۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →(26:4) نشائ۔ مضارع مجزوم بوجہ عمل ان جمع متکلم۔ شاء یشاء (باب فتح) شیء مشیئۃ مصدر (اگر) ہم چاہیں۔
ننزل۔ مضارع مجزوم بوجہ جواب شرط۔ جمع متکلم ۔ ہم اتاردیں۔ ہم نازل کردیں۔
فظلت۔ فاء تعقیب کے لئے ہے۔ ظلت۔ افعال ناقصہ میں سے ہے ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب ہے بمعنی صار۔ وہ ہوگیا۔ آیا ہے فظلت پس وہ ہوگئی۔
اعناقھم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کی گردنیں ۔ اعناق کا واحد عنق وعنق وعنق ہے۔ عنق بمعنی رئیس لوگ۔ لوگوں کی جماعت بھی ہے۔
لہا : ظلت کا صلہ ہے۔ اور ھا ضمیر واحد مؤنث غائب ایۃ کی طرف راجع ہے۔
خاضعین خضوع سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر ہے۔ الخضوع کے معنی خشوع یعنی جھکنے کے ہیں۔ رجل خضعۃ وہ شخص جو ہر ایک کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–9
لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 9 :
الکتاب المبین (کھلی اور واضح کتاب) باخع (گھلا ڈالنے والا) ظلت ( ہوگئی (ہوجائیں) ‘ اعناق (عنق) (گردنیں) ‘ خضعین (جھکنے والے) ‘ محدث (نئی بات۔ نئی نصیحت) ‘ انبئوا (خبریں) ‘ انبتنا (ہم نے اگایا) ‘ زوج کریم (عمدہ پاکیزہ جوڑے) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 1 تا 9 :
سورۃ الشعراء کی ابتداء حروف مقطعات سے کی گئی ہے۔ اس سے پہلے وضاحت کردی گئی ہے کہ قرآن کریم کی انتیس (29) سورتوں کی ابتداء میں ان حروف کو لایا گیا ہے۔ ان حروف کے کیا معنی ہیں ؟ علماء کرام نے فرمایا ہے کہ ان حروف کے معنی کا علم اللہ رب العزت کو ہے۔ ممکن ہے اللہ تعالیٰ نے ان حروف کے معنی نبی کریم ﷺ کو بتا دیئے ہوں مگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
(ف 1) شان نزول۔
جب اہل مکہ ایمان نہ لائے اور انہوں نے نبی ﷺ کی تکذیب کی تو نبی ﷺ پر ان کی محرومی بہت شاق ہوئی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
[2] یعنی ایسی نشانی دکھائی جاتی کہ تمام انسان ایمان لانے اور اطاعت اختیار کرنے پر مجبور ہوجاتے۔ لیکن یہ دنیا دارالامتحان ہے۔ یہاں تو مقصود ہی انسان کی قوت و اختیار کا امتحان ہے اور یہی دیکھنا ہے کہ کون کس حد تک اپنے اختیار و تصرف کا صحیح استعمال کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ف 2: طسم حروف مقطعات ہیں ۔ تفصیل الم کی بحث میں دیکھئے ۔
امام رازی کہتے ہیں ۔ طا سے مراد قلوب عارفین کی طرف و نشاط ہے ۔ اور اس سے مقصود عشاق کا سردرد بہیت ہے ۔ اور م مریدین سے مناجات پر دال ہے ۔
کتاب مبین کے تعارف کے بعد حضور ﷺ کی اس محبت وعشق کا ذکر ہے ۔ جو آپ کو عام انسانوں سے تھی ۔ آپ یہ نہیں چاہتے تھے کہ ایک نفس انسانی بھی نجات سے محروم رہے ۔ اور اللہ کا عذاب کا شکار ہوجائے ۔ آپ نے نہایت جانسوزی سے قوم کو نجات و فلاح کی دعوت دی ، اور صراط مستقیم پر گامزن ہونے کی تلقین فرمائی ارشاد ہے کہ آپ ان لوگوں کی محبت میں اپنی جان کیوں کھوتے ہیں ۔ اگر یہ لوگ اس وضاحت اور دلائل کی کثرت کے باوجود بھی…
Read the full tafseer →(4) اگر ہم چاہیں تو آسمان سے ایک ایسی بڑی نشانی نازل کردیں جس نشانی کے سامنے ان کی گردنیں پست ہوکر رہی جائیں یعنی ہم کوئی ایسا زبردست نشان آسمان سے نازل کردیں کہ یہ بےبس اور لاچار ہوجائیں اور ایمان لانے پر مجبور ہوجائیں یعنی چونکہ ایمان قبول کرنے میں جبرو اکراہ غیر صحیح اور غیر مفید ہے بلکہ ان کو دلائل سے سمجھانے کی ضرورت ہے تاکہ ایمان کا قبول کرنا بندے کے اختیار میں رہے کیونکہ مقصود یہی ہے اور ایسی کوئی نشانی جس سے بندہ مجبور اور ایمان قبول کرنے پر بےبس ہوجائے تو اس طر اس کا اختیار ہی سلب ہوجائے گا جو مقصد کے خلاف ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
ف 3۔ معلوم ہوا کہ ان کے عناد نے ان کی فطرت کو بالکل مختل کردیا، پھر ایسوں کے پیچھے کیوں جان کھوئی جائے۔
Read the full tafseer →اگر ہم چاہیں تو آسمان سے ان پر کوئی نشان اتار دیں تاکہ ان کی گردنیں جھک جائیں :
4۔ (اعناق) عنق کی جمع ہے جس کے معنی گردن کے ہیں اور عام بول چال میں (اعناق) ان لوگوں کو بھی کہا جاتا ہے جو قوم میں سربرآوردہ لوگ ہوں چوہدری یا سردار ‘ قوم کے و ڈیرے ‘ مذہبی اور سیاسی لیڈر اور راہنما۔ ہاں ! اگر گردنیں ہی مراد لی جائیں تو بھی مفہوم میں کوئی فرق نہیں فرق نہیں پڑتا کیونکہ ایسا ممکن نہیں کہ گردنیں تو جھک جائیں لیکن گردنوں والے نہ جھکیں حالانکہ ظاہر ہے کہ گردنیں جھکنے کا مطلب ہی دراصل ان لوگوں کا جھکنا ہے جن کی گردنوں کی بحث ہے ۔ آیت زیر نظر کا مطلب یہ ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! ﷺ اگر ہم ان لوگوں کو مجبور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–6
إِن نَّشَأْ نُنَزِّلْ عَلَيْهِم مِّنَ السَّمَاءِ آيَةً فَظَلَّتْ أَعْنَاقُهُمْ لَهَا خَاضِعِينَ
If We so will, We can send down to them a sign from the sky before which their necks will stay bent in submission. - 26:4
Allamah Zamakhshari has explained that the real intent of the text is to say that the disbelievers themselves will stay in submission, but the act of submission is attributed in the verse to their "necks", so that the initial object of submission is pinpointed, because yielding or bowing in humility initially appears on the neck. The substance of the message of this verse is…
Read the full tafseer →3 That is, "It is not at all difficult for Allah to send down a Sign which would make all the disbelievers yield and submit. If, however, He does not send one, it does not mean that such a thing is beyond His powers, but the reason is that . belief under compulsion is not acceptable to Him. Allah wants that people should use their common-sense and recognize the Truth through the verses of the Divine Book and the Signs which are scattered all over the universe and are found even in their ownselves. Then, when their hearts are satisfied that the message of the Prophets contains the Truth, and…
Read the full tafseer →