تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ ۟تِلۡكَ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ
یہ کتاب روشن کی آیتیں ہیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
These are the verses of the clear Book.
— Saheeh International
Juz 19 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz
تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ ۟تِلۡكَ اٰيٰتُ الۡكِتٰبِ الۡمُبِيۡنِ
یہ کتاب روشن کی آیتیں ہیں
— Fateh Muhammad Jalandhari
These are the verses of the clear Book.
— Saheeh International
Juz 19 · Ruku 1 of surah · Ruku 5 of juz
Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa
یہ کتاب مبین کی آیات ہیں
یہ کتاب روشن کی آیتیں ہیں
یہ آیتیں روشن کتاب کی ہیں
یہ اس کتاب کی آیتیں ہیں جو حق کو واضح کرنے والی ہے۔
یہ آیتیں ہیں روشن کتا ب کی
یہ (حق کو) واضح کرنے والی کتاب کی آیتیں ہیں،
یہ واضح کتاب کی آیات ہیں۔
یہ وضاحت کرنے والی کتاب کی آیات ہیں
یہ واضح کتاب کی آیات ہیں
یہ آیتیں ہیں کھول کر بیان کرنے والی اس عظیم الشان کتاب کی
یہ کتاب واضح کی آیتیں ہیں
یہ روشن کتاب کی آیات ہیں
یہ روشن کتاب کی آیات ہیں۔
These are the verses of the Clear Book.
These are the verses of the manifest Book.
These are the verses of the manifest Book.
These are Ayat of the Book Mubin.
These are revelations of the Scripture that maketh plain.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
These are the verses of the clear Book.
These are the verses of the illustrious Book.
These are the verses of the Book that makes (things) clear.
These are the verses of a Book luminous.
These are verses of the Book that makes (things) clear.
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–9
تعارف قرآن کریم پھر فرمان ہے کہ یہ آیتیں قرآن مبین کی ہیں جو بہت واضح بالکل صاف اور حق وباطل بھلائی برائی کے درمیان فیصلہ اور فرق کرنے والا ہے۔ ان لوگوں کے ایمان نہ لانے سے آپ ﷺ رنجیدہ خاطر اور غمگین نہ ہوں۔ جیسے اور جگہ ارشاد ہے آیت (فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرٰتٍ ۭ اِنَّ اللّٰهَ عَلِـيْمٌۢ بِمَا يَصْنَعُوْنَ) 35۔ فاطر :8) تو ان کے ایمان نہ لانے پر حسرت و افسوس نہ کر۔ اور آیت میں ہے آیت (فَلَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ عَلٰٓي اٰثَارِهِمْ اِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوْا بِهٰذَا الْحَدِيْثِ اَسَفًا) 18۔ الكهف :6) کہیں ایسا نہ ہو کہ تو ان کے پیچے اپنی جان گنوادے۔ چونکہ ہماری یہ چاہت ہی نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
سورة الشُّعَرَآء 1 یعنی یہ آیات جو اس سورے میں پیش کی جا رہی ہیں، اس کتاب کی آیات ہیں جو اپنا مدعا صاف صاف کھول کر بیان کرتی ہے۔ جسے پڑھ کر یا سن کر ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ وہ کس چیز کی طرف بلاتی ہے، کس چیز سے روکتی ہے، کسے حق کہتی ہے اور کسے باطل قرار دیتی ہے۔ ماننا یا نہ ماننا الگ بات ہے، مگر کوئی شخص یہ بہانہ کبھی نہیں بنا سکتا کہ اس کتاب کی تعلیم اس کی سمجھ میں نہیں آئی اور وہ اس سے یہ معلوم ہی نہ کرسکا کہ وہ اس کو کیا چیز چھوڑنے اور کیا اختیار کرنے کی دعوت دے رہی ہے۔ قرآن کو الکِتَابُ الْمُبِیْن کہنے کا ایک دوسرا مفہوم بھی ہے، اور وہ یہ کہ اس کا کتاب الہیٰ ہونا ظاہر و باہر ہے۔ اس کی زبان،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
خلاصہ تفسیر طسم (اس کے معنی تو اللہ کو معلوم ہیں) یہ (مضامین جو آپ پر نازل ہوتے ہیں) کتاب واضح (یعنی) کی آیتیں ہیں (اور یہ لوگ جو اس پر ایمان نہیں لاتے تو آپ اتنا غم کیوں کرتے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے کہ) شاید آپ ان کے ایمان نہ لانے پر (تاسف کرتے کرتے) اپنی جان دے دیں گے (اصل یہ ہے کہ یہ عالم ابتلاء ہے اس میں حق کے اثبات پر وہی دلائل قائم کئے جاتے ہیں جن کے بعد بھی ایمان لانا بندہ کے اختیار میں رہتا ہے ورنہ) اگر ہم (جبراً و اضطراراً ان کو مومن کرنا) چاہیں تو ان پر آسمان سے ایک (ایسی) بڑی نشانی نازل کردیں (کہ ان کا اختیار ہی بالکل سلب ہوجاوے) پھر ان کی گردنیں اس نشانی (کے آنے) سے پست ہوجاویں (ور…
Read the full tafseer →تلک ایت الکتب المبین (2) آفتاب آمد دلیل آفتاب ! کتاب مبین سے مراد ظاہر ہے کہ قرآن مجید ہے جس نے نہایت فصیح وبلیغ زبان میں اپنی دعوت کے ہر پہلو کو گوناگوں اسلوبوں سے بالکل مدلل و مبرہن کردیا ہے۔ قرآن کی اس صفت کے ذکر سے یہاں مقصود آنحضرت ﷺ کو تسلی دینا ہے کہ آپ جو کتاب لوگوں کے سامنے پیش کر رہے ہیں وہ اپنی صحت و صداقت کی خود سب سے بڑی دلیل ہے۔ کسی خارجی شہادت کی محتاج نہیں ہے اس وجہ سے جو لوگ اس کی تصدیق کے لئے کسی معجزہ یا نشانی عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں ان کا مطالبہ درخور اعتناء نہیں ہے، آپ اس کی پرواہ نہ کریں۔ آفتاب اپنی دلیل خود ہوتا ہے۔ اس پر خارج سے کوئی دلیل قائم نہیں کی جاتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
3-1نبی ﷺ کو انسانیت سے جو ہمدردی اور ان کی ہدایت کے لئے جو تڑپ تھی، اس میں اس کا اظہار ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1: جیسا کہ سورة بقرہ کے شروع میں عرض کیا گیا تھا، مختلف سورتوں کے شروع میں جو حروف آئے ہیں، انہیں حروف مقطعات کہا جاتا ہے، اور ان کا ٹھیک ٹھیک مطلب اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
طسم ……المبین (2) حروف تہجی سے یہ بتانا مقصود ہے کہ یہ کتاب مبین اور یہ سورت انہی حروف سے بنائی گئی ہے اور جو لوگ تکذیب پر اصرار کرتے ہیں یہ حروف ان کے علم میں ہیں اور ان سے مرکب کلمات وہ بولتے ہیں لیکن وہ ایسی کتاب مبین پیش نہیں کرسکتے۔ اس کتاب کے بارے میں اس سورت میں بہت سی باتوں پر بحث کی گئی ہے۔ مقدمے میں بھی اور آخری نتائج میں بھی۔ اور یہ اندازان تمام سورتوں کا ہوتا ہے جن کے آغاز میں حروف مقطعات لائے گئے ہوتے ہیں۔ اس تنبیہ کے بعد حضور کو براہ راست مخاطب کیا جاتا ہے کیونکہ حضور مشرزکین کے مقابلے میں ایک انتھک جدوجہد کر رہے تھے اور ان کی مسسل تکذیب سے آپ کو دکھ پہنچ رہا تھا۔ تو حضور اکرم ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1 یعنی اس کتاب کا اعجاز کھلا ہوا ہے۔ احکام واضح ہیں اور حق کو باطل سے الگ کرنے والی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
آیت 4 اِنْ نَّشَاْ نُنَزِّلْ عَلَیْہِمْ مِّنَ السَّمَآءِ اٰیَۃً فَظَلَّتْ اَعْنَاقُہُمْ لَہَا خٰضِعِیْنَ ” انہیں ایسی کوئی نشانی دکھا دینا ہماری قدرت سے کچھ بعید نہیں ‘ لیکن اپنی خاص حکمت اور مشیت کے تحت ہم ایسا نہیں کر رہے۔ آگے چل کر اسی سورت میں اس حکمت کا ذکر بھی آئے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1 کتاب سے مراد یہی خاص سورة شعراء بھی ہوسکتی ہے اور پورا قرآن بھی۔ کیونکہ قرآن کی ہر سورة اپنی ذات میں جامع ہے، مکمل ہے اور مفصل کتاب ہے۔ جیسا کہ پہلے اس کی وضاحت کی جاچکی ہے اور مبین سے مراد یہ ہے کہ یہ کتاب اپنا مدعا صاف صاف بیان کر رہی ہے اس میں کچھ ابہام نہیں جس کی کسی کو سمجھ نہ آسکے۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ ان آیات سے واضح طور پر معلوم ہوجاتا ہے کہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ کتاب کی آیات ہں۔ کسی انسان سے یہ ممکن نہیں کہ وہ ایسی آیات پیش کرسکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–3
2۔ یعنی آپ کے غم وتاسف سے معلوم کچھ ایسا ہی ہوتا ہے۔ یہ ایک نقشہ ہے رسول اللہ ﷺ کی غمخواری اور دلسوزی کا شدید منکروں اور کٹر کافروں تک کے لیے ! قرآن کریم نے آپ کو سمجھایا ہے کہ اس قدر غم وتاسف بےکار ہے۔ ہمارا کام تو اثبات حق کے ساتھ صرف دلائل صحیح وواضح کا نازل کردینا ہے، باقی ایمان لانا نہ لانا یہ خود لوگوں کے اختیار کی چیز ہے صاحب روح المعانی نے آیت سے دو امر اخذ کیے ہیں ایک یہ کہ رسول اللہ ﷺ اپنی امت پر کمال شفقت رکھتے تھے، دوسرے یہ کہ کافر کے ایمان پر حرص حکم ازلی کے منافی نہیں۔ اور عارف تھانوی (رح) نے آیت کے ذیل میں فرمایا ہے کہ (1) شیخ کو شفقت میں اعتدال مناسب ہے، جو ہدایت نہ پائے اس پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
بسم اللہ الرحمن الرحیم آیت نمبر 1 تا 9 ترجمہ : شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے۔ طٰسٓمٓ اس کی مراد اللہ ہی بہتر جانتا ہے یہ یعنی یہ آیات کتاب مبین (یعنی) قرآن کی آیتیں ہیں جو حق کو باطل سے ممتاز کرنے والی ہیں، اور اٰیٰتُ الکِتابِ میں اضافت بمعنی مِنْ ہے شاید اے محمد آپ تو اس غم کے سبب سے کہ اہل مکہ ایمان نہیں لاتے اپنی جان کھو دیں گے، اور لَعَلَّ کے یہاں اشفاق کے معنی ہے یعنی اس غم میں تخفیف کرکے اپنے اوپر رحم کیجئے، اگر ہم چاہتے تو ان پر آسمان سے کوئی ایسی نشانی اتارتے کہ جس کے سامنے ان کی گردنیں جھک جائیں ظَلَّتْ بمعنی مضارع ہے ای تَدُوْمُ پھر وہ ایمان لے آئیں، جبکہ…
Read the full tafseer →تلک یہ سورت یا قرآن۔ آیت الکتب المبین۔ کھلی یا کھول دینے والی کتاب کی آیات ہیں۔ یعنی اس کتاب کی آیات ہیں جس کا معجزہ ہونا ظاہر ہے یا جو اللہ کے احکام اور ہدایت کا راستہ کھول دینے والی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(1۔ 2) طاء سے مراد اس کی بلندی اور قدرت اور سین سے مراد عمدگی اور میم سے مراد ملک اور بادشاہت ہے یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے یہ ایک قسم کھائی ہے یعنی میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ سورت اس قرآن کی آیات میں جو حلال و حرام اور اوامرو نواہی کو واضح طور پر بیان کرنے والا ہے۔
Read the full tafseer →تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ : یہ تمہیدی فقرہ اس مضمون کے ساتھ پوری مناسبت رکھتا ہے جو اس سورت میں آگے بیان ہوا ہے۔ کفار مکہ نبی ﷺ سے کوئی نشانی (معجزہ) مانگتے تھے، تاکہ اسے دیکھ کر انھیں اطمینان ہوجائے کہ آپ واقعی یہ پیغام اللہ کی طرف سے لائے ہیں۔ فرمایا، اگر کسی کو ایمان لانے کے لیے نشانی کی طلب ہے تو کتاب مبین کی یہ آیات موجود ہیں، مزید کسی معجزے کی ضرورت نہیں۔ اس بات کو اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں ہر واقعہ کے آخر پر دہرایا ہے : (اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيَةً) [ الشعراء : 8 ] ”بیشک اس میں یقیناً عظیم نشانی ہے۔“ یعنی قرآن میں آنے والی ہر آیت اور ہر واقعہ ہی معجزہ ہے، جو قرآن کے من جانب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
(طسم۔ تلک ایت الکتب۔۔۔۔ ) طسم۔ اعمش، یحییٰ ، ابو بکر، مفصل، حمزہ، کسائی اور خلف نے اس سورت اور اس جیسی سورتوں میں طاء کو امالہ اور اشباع کے ساتھ پڑھا ہے۔ نافع، ابو جعفر، شیبہ اور زہری نے دو لفظوں کے درمیان پڑھا ہے : ابو عبیدہ اور حاتم نے اسے پسند کیا ہے۔ باقی قراء نے فتحہ کے ساتھ اشباع کی صورت میں پڑھا ہے۔ ثعلبی نے کہا : یہ تمام فصیح لغتیں ہیں۔ سورة طہٰ میں نحاس کا قول اس بارے میں گزر چکی ہے، نحاس نے کہا : مدینہ طیبہ کے قاریوں، ابو عمرو، عاصم اور کسائی نے طسم نون کو میم میں ادغام کرتے ہوئے پڑھا ہے۔ فراء نے نون کے اخفاء کے ساتھ کہا اعمش اور حمزہ نے طسین میم، نون کے اظہار کے ساتھ قرأت کی۔ نحاس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–9
1۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ’ ’ لعلک باخع نفسک “ سے مراد ہے شاید کہ تو قتل کرنے والا ہے اپنے آپ کو آیت ” الا یکونو مومنین “ (یعنی وہ ایمان کیوں نہیں لائے) آیت ” ان نشاء ننزل علیہم من السماء اٰیۃ فظلت ا 4 عناقہم لہا خضعین “ یعنی اگر اللہ چاہے تو ان پر ایسی نشانی نازل فرماتا ہے کہ جس کے سامنے وہ اطاعت والے بن جاتے اور ان میں سے کوئی بھی اپنی گردن کو نہ موڑتا اللہ کی نافرمانی کی طرف آیت ”’ وما یاتیہم من ذکر من الرحمن محدث یعنی ان کے پاس کوئی چیز اللہ کی کتاب میں سے نہیں آئی مگر وہ اس سے اعراض کرتے ہیں آیت ” فسیاتیہم “ یعنی قیامت…
Read the full tafseer →تِلْكَ [ یہ ] اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ ’ واضح کتاب کی آیات ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
رسول اللہ ﷺ کو تسلی اور مکذبین کے لیے وعید علامہ بغوی معالم التنزیل ص 381 ج 3 میں لکھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی جب اہل مکہ نے تکذیب کی تو یہ آپ کو شاق گزرا چونکہ آپ کو اس بات کی حرص تھی کہ وہ لوگ ایمان لے آئیں اس لیے ان کی تکذیب سے آپ کو تکلیف ہوتی تھی۔ آپ کو تسلی دینے کے لیے اللہ تعالیٰ نے آیت (لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ ) نازل فرمائی (جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنا کام کرتے رہیں ان کے غم میں آپ کو جان ہلاک کرنا نہیں ہے) ۔ اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ ہم اگر چاہیں تو آسمان سے ایسی نشانی نازل فرما دیں جسے یہ تسلیم کرلیں اور اس کی وجہ سے ان کی گردنیں جھک جائیں اور اس طرح سے جبراً و قہراً ایمان لے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
ذکر حقانیت کتاب مبین و تہدید معاندین و مستہزئین قال اللہ تعالیٰ طسم تلک ایت الکتب المبین .... الیٰ .... وان ربک لھو العزیز الرحیم۔ (ربط) گزشتہ سورت کا آغاز حقانیت قرآن سے ہوا اور اختتام مکذبین کی وعید پر ہوا اسی طرح اس سورت کا آغاز حقانیت قرآن اور مکذبین کی وعید اور تہدید سے فرماتے ہیں طسم واللہ اعلم بمرادہ۔ یہ آیتیں ہیں روشن کتاب کی جس کا اعجزا اور سرچشمہ ہدایت ہونا روز روشن کی طرح واضح ہے۔ اے نبی اگر یہ بدنصیب ایمان نہیں لاتے تو آپ ﷺ ان کے غم میں کیوں گھٹے جاتے ہیں بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شاید آپ اپنی جان کو اس گھٹن میں ہلاک کردیں کہ یہ لوگ ایمان لانے والے کیوں نہیں بنتے جو شخص اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
2:۔ یہ تمہید ہے اس میں قرآن پر عمل کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ یہ اس قرآن کی آیتیں ہیں جس کے مضامین خوب واضح، جس کا اعجاز اور جس کا من عنداللہ ہونا اس قدر عیاں ہے کہ اس کے لیے کسی بیرونی دلیل کی ضرورت نہیں۔ ” الکتاب “ کی صفت ” المبین “ لا کر اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اس سورت میں زیادہ تر دلائل نقلیہ بیان کیے گئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
ربط آیات اس سورة کا نام سورة الشعراء ہے اس کے آخری حصے میں اللہ تعالیٰ نے شعر و شاعری اور شاعروں کے متعلق ارشاد فرمایا ہے ۔ اسی مناسبت سے سورة کا یہ نام لکھا گیا ہے۔ البتہ امام مالک (رح) کے قول کے مطابق اس سورة کا ایک نام سورة الجاثیۃ بھی ہے کیونکہ یہ نصیحت کی جہت سی باتوں کو جمع کرنے والی سورة ہے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی بعض کے مطابق اس سورة کا نزول سورة واقعہ کے بعد ہوا یعنی ہجرت سے دو یا تین سال قبل ۔ اس کی چھوٹی چھوٹی 722 آیات اور گیارہ رکوع ہیں ۔ یہ سورة 7221 الفاظ اور 2455 حروف پر مشتمل ہے۔ مضامین سورة اس سورة میں مختلف مضامین بیان ہوئے ہیں ۔ ابتداء میں قرآن کریم کی حقانیت و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
طٰسۗمّۗ 1 تِلْكَ اٰيٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ 2 الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع . الایۃ ۔ اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا ادراک کرے گو اس دوسری ( اصل ) شے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ترکیب : ان لایکون مفعول لہ اے لئلا خاضعین و القیاس خاضعات انما جاء جمع المذکر لان المراد اصحاب الاعناق ولیس المراد الرقاب کم انبتنافی موضع نصب بانبتنا من ذکر ای قرآن من الرحمن صفۃ ذکر محدث صفۃ اخری۔ تفسیر : یہ سورة بھی مکہ میں اسی وقت نازل ہوئی ہے جبکہ کافروں کا حضرت ﷺ پر اور مسلمانوں پر ہر طرف سے سخت ہجوم تھا اور اسلام کی روح افزا باتیں ان کو عجیب و غریب معلوم ہوتی تھیں۔ حضرت ﷺ کی نبوت پر وہ طرح طرح سے لغو شبہات وارد کیا کرتے تھے اور جب جواب سے عاجز آجاتے تھے تو اپنی خواہش کے موافق ہر شخص ایک عجیب و غریب معجزے کا طالب ہوتا تھا۔ کوئی کہتا تھا اس پہاڑ کو یہاں سے ہٹا دو تو جانوں ‘ کوئی کہتا تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
طٰسٓمّٓ۔ تِلْکَ اٰیٰتُ الْـکِتٰبِ الْمُبِیْنِ ۔ (الشعرآء : 1، 2) (ط۔ س۔ م) یہ کتاب مبین کی آیات ہیں۔ ) یہ کتاب خود اپنی حقانیت کی دلیل ہے بعد میں آنے والی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار آنحضرت ﷺ کے تبلیغی مشن کو ناکام کرنے کے لیے کبھی آپ کو شاعر یا کاہن قرار دیتے اور اس سے یہ تصور دینا چاہتے کہ جس طرح کاہنوں کی باتیں الجھی ہوئی اور ناقابلِ فہم ہوتی ہیں اسی طرح تمہاری باتیں بھی ہماری سمجھ میں آنے والی نہیں۔ اور کبھی آپ سے نئی نئی نشانیوں کا مطالبہ کرتے کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کے رسول ہو تو ہمیں یہ یہ حیرت انگیز کارنامے دکھائو جس کی تفصیل متعدد، مواقع پر گزر چکی ہے۔ چناچہ ان دونوں باتوں کے رد کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
فہم القرآن ربط سورة : سورة الفرقان کا اختتام اس بات پر ہوا کہ اے پیغمبر ﷺ انہیں واضح کردیں کہ جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی تکذیب کرے گا، بہت جلد اپنا انجام پالے گا۔ اگر انہیں یقین نہیں آتا تو انہیں تکذیب کرنے والی اقوام کے واقعات سنائیں کہ ان کا کیا انجام ہوا، جس میں سر فہرست فرعون کی قوم ہے۔ طٓسٓمٰ ۔ حروف مقطعات ہیں۔ جن کا معنٰی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اس سورة کا آغاز کتاب مبین کے تعارف سے شرو ع وہا ہے۔ ” اَلْمُبِیْنِ “ کا معنٰی ہے ایسی کتاب جس کے ارشادات، احکام، ٹھوس دلائل اور حقائق پر مبنی ہیں۔ جن میں کسی قسم کا تضاد اور الجھاؤ نہیں پایا جاتا۔ یہ کتاب اپنا مدّعا اس انداز اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1، 2: طَسٓمٓ قراءت : طس، یس، حم امالہ سے پڑھیں گے کو فیوں کے ہاں مگر اعشیٰ ، حفص، برجمی امالہ نہیں کرتے میم کے وقت نون کو ظاہر کرتے ہیں یزید، حمزہ، اور ان کے علاوہ ادغام کرتے ہیں۔ تِلْکَ اٰیٰتُ الْکِتٰبِ الْمُبِیْنِ (یہ واضح کتاب کی آیات ہیں) جس کا اعجاز ظاہر ہے اور اس کا من عند اللہ ہونا صحیح ہے کتاب ؔ سے مراد سورة ہے۔ یا نمبر 2۔ قرآن مجید۔ مطلب یہ ہے کہ اس مجموعہ کی آیات کتاب مبین کی آیات کے حروف مبسوطہ میں سے ہیں۔
Read the full tafseer →2۔ تلک ، یہ اشیاء ، آیات الکتاب المبین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
(1 تا 4) شروع سورة میں جو طٰسٓمٓ ہے یہ حروف مقطعات ہیں جو سورتوں کے اول میں آتے ہیں ان حروف کا ذکر سورة بقرہ میں بیان ہوچکا 1 ؎ ہے۔ کتاب کے لفظ سے مطلب قرآن شریف ہے اور مبین کے معنی اس واضح اور روشن کے ہیں جس سے حق و ناحق کا فیصلہ ہوجاوے باخع کے معنے ہلاک کرنے والا مشرکین مکہ کے ایمان نہ لانے کے رنج کو دور کرنے کے لیے یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے پیغمبر ﷺ کی تسلی ہے ‘ یہ آیت مثل سورة فاطر کی آیت کریمہ فَلَا تَذْھَبْ نَفْسٔکَ عَلَیْھِمْ حَسَرَاتٍ الٰایۃ کے ہے سورة فاطر کی آیت اور اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ کے ایمان نہ لانے پر زیادہ رنج کرنے سے اپنے رسول کو منع فرمایا ہے حضرت عبداللہ بن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
تفسیر سورة الشعراء آیت 1 سے 9 اللہ تعالیٰ ایسا اشارہ فرماتا ہے جو کھول کھول کر بیان کرنے والی اس کی کتاب کی تعظیم پر دلالت کرتا ہے کہ یہ کتاب عظیم تمام مطالب الٰہیہ اور مقاصد شرعیہ پر دلالت کرتی ہے۔ غور و فکر کرنے والے کے لئے، اس کی خبر اور حکم میں کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہتا کیونکہ یہ نہایت واضح کتاب ہے، بلند ترین معانی ہر دلالت کرتی ہے، اس کے احکام مربوط اور اس کی تعلیق مناسب ہے۔ رسول اللہ ﷺ اس کتاب عظیم کے ذریعے سے لوگوں کو ان کی بد اعمالیوں کے انجام سے ڈراتے تھے اور اس کے ذریعے سے راہ راست کی طرف راہنمائی کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے متقی بندے اس سے راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور صرف وہی لوگ اسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1 قرآن اپنی صداقت و حقانیت کا گواہ خود : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ آیتیں ہیں کھول کر بیان کرنے والی اس کتاب کی "۔ اور ایسی کھول کر بیان کرنے والی کتاب جس نے حق و باطل، صحیح و غلط، جائز و ناجائز اور کامیابی و ناکامی وغیرہ سب کو پوری طرح واضح کردیا اور سب کچھ اس طرح کھول کھول کر بیان کردیا ہے کہ اس کی دوسری کوئی نظیر و مثال نہ اس سے پہلے کبھی ہوئی نہ آئندہ کبھی ممکن ہے۔ لہذا اس قدر عظیم الشان نعمت اور ایسی بےمثال کتاب کی ان آیات کریمہ کو پوری توجہ اور انہماک کے ساتھ اور دل کے کانوں سے سنو تاکہ تم لوگ اس کی برکات سے مالا مال ہو سکو۔ نیز یہ ایسی فصیح وبلیغ زبان میں ہے کہ اس نے اپنی دعوت کے ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
قرآن روشن کتاب ہے تشریح : ڈاکٹر برہان احمد فاروقی صاحب ” کتاب “ کی تعریف یوں کرتے ہیں۔ -1 ” جس کے پانے سے تمام خیروکمال وابستہ ہوں۔ -2 تصورِ کائنات موجودہ حالات ماضی حال اور مستقبل کے احکامات کا وہ جائزہ جس کی بنیاد پر نصب العین کا حصول ‘ معیار کا تعین ہو۔ -3 وہ مقام یا حیثیت جس کے حوالے کے بغیر اعمال کا موازنہ (جانچنا) اور تخمینہ مقصود نہ ہو سکے۔ -4 وہ عمل جسے اتمام (تکمیل) تک پہنچانے پر کوئی جماعت مأمور ہو۔ -5 لائحہ عمل پہلے سے ترتیب دیا ہوا فرائض و اعمال کا وہ گوشوارہ جو اپنے اندر مطلوبہ نتائج تک پہنچانے کی ضمانت رکھتا ہو۔ -6 معیار وہ نمونہ کمال یا اصول جس کے حوالے سے ہر عمل کو پرکھا جائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–9
بسم اللہ الرحمن الرحیم تفسیر اسرار التنزیل جلد 05 سورۃ شعراء اسرار و معارف سورۃ شعراء بھی مکی سورتوں میں شمار کی گئی ہے اور گزشتہ مضمون یعنی کفار کے انکار پر بات کو آگے بڑھاتے ہوئے اس کیفیت کو بیان کرتی ہے جو رحمت للعالمین ﷺ پر وارد ہوتی تھی رسول اللہ ﷺ بھی تو یہ بات خوب جانتے تھے کہ ان کا نہ ماننا ان کی ان برائیوں کا نتیجہ ہے جس سے ان کی فطری صلاحیت تباہ ہوگئی اور آپ کا یہ ایمان بھی تھا کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے اگر وہ منوانا چاہے تو کوئی انکار نہیں کرسکتا نیز آپ ﷺ کو یہ علم بھی تھا کہ آپ کا کام اللہ کا پیغام پہنچانا ہے منوانا نہیں مگر اس کے باوجود جب کفار انکار کی راہ اختیار کرتے تو آپ ﷺ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
6 ۔ یعنی جو اپنے مطالب کو بالکل واضح انداز میں بیان کرتی ہے۔
Read the full tafseer →(26:2) تلک۔ اسم اشارہ بعید ہے واحد مؤنث۔ مشار الیہ السورۃ ہے۔ یہ سورۃ۔ ایت الکتب المبین : الکتب المبین موصوف و صفت مل کر مضاف الیہ ایات مضاف۔ واضح کتاب کی آیات، یہ سورة واضح کتاب کی آیات (پر مشتمل) ہے یا یہ واضح کتاب کی آیات ہیں۔ الکتب سے مراد القران ہے۔ مبین اسم فاعل واحد مذکر بمعنی کھولنے والا۔ ظاہر کرنے والا۔ ابانۃ (افعال) سے بین مادہ باب تفعیل (تبیین) باب تفعل تبیین لازم بھی آتے ہیں متعدی بھی۔ ظاہر ہونا یا ظاہر کرنا۔ لہٰذا مبین کا معنی ظاہر بھی ہے اور ظاہر کرنے والا بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–9
لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 9 : الکتاب المبین (کھلی اور واضح کتاب) باخع (گھلا ڈالنے والا) ظلت ( ہوگئی (ہوجائیں) ‘ اعناق (عنق) (گردنیں) ‘ خضعین (جھکنے والے) ‘ محدث (نئی بات۔ نئی نصیحت) ‘ انبئوا (خبریں) ‘ انبتنا (ہم نے اگایا) ‘ زوج کریم (عمدہ پاکیزہ جوڑے) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 9 : سورۃ الشعراء کی ابتداء حروف مقطعات سے کی گئی ہے۔ اس سے پہلے وضاحت کردی گئی ہے کہ قرآن کریم کی انتیس (29) سورتوں کی ابتداء میں ان حروف کو لایا گیا ہے۔ ان حروف کے کیا معنی ہیں ؟ علماء کرام نے فرمایا ہے کہ ان حروف کے معنی کا علم اللہ رب العزت کو ہے۔ ممکن ہے اللہ تعالیٰ نے ان حروف کے معنی نبی کریم ﷺ کو بتا دیئے ہوں مگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
(ف 1) شان نزول۔ جب اہل مکہ ایمان نہ لائے اور انہوں نے نبی ﷺ کی تکذیب کی تو نبی ﷺ پر ان کی محرومی بہت شاق ہوئی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
[1] کتاب مبین یعنی واضح کتاب، مراد اس سے قرآن ہے جو اپنا مدعا صاف صاف بیان کرتا ہے اور جس کی تعلیمات ہر شخص پڑھ کر یا سن کر سمجھ سکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
ف 2: طسم حروف مقطعات ہیں ۔ تفصیل الم کی بحث میں دیکھئے ۔ امام رازی کہتے ہیں ۔ طا سے مراد قلوب عارفین کی طرف و نشاط ہے ۔ اور اس سے مقصود عشاق کا سردرد بہیت ہے ۔ اور م مریدین سے مناجات پر دال ہے ۔ کتاب مبین کے تعارف کے بعد حضور ﷺ کی اس محبت وعشق کا ذکر ہے ۔ جو آپ کو عام انسانوں سے تھی ۔ آپ یہ نہیں چاہتے تھے کہ ایک نفس انسانی بھی نجات سے محروم رہے ۔ اور اللہ کا عذاب کا شکار ہوجائے ۔ آپ نے نہایت جانسوزی سے قوم کو نجات و فلاح کی دعوت دی ، اور صراط مستقیم پر گامزن ہونے کی تلقین فرمائی ارشاد ہے کہ آپ ان لوگوں کی محبت میں اپنی جان کیوں کھوتے ہیں ۔ اگر یہ لوگ اس وضاحت اور دلائل کی کثرت کے باوجود بھی…
Read the full tafseer →(2) یہ سورت اور یہ مضامین ایک واضح اور کھلی کتاب کی آیتیں ہیں یعنی قرآن کریم کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
ف 3۔ معلوم ہوا کہ ان کے عناد نے ان کی فطرت کو بالکل مختل کردیا، پھر ایسوں کے پیچھے کیوں جان کھوئی جائے۔
Read the full tafseer →یہ واضح کردینے والی کتاب کی آیتیں ہیں : 2۔ مطلب یہ ہے کہ یہ سورت بھی اس کتاب مبین کی آیات ہیں جس کے مضامین نہایت وضاحت سے صاف صاف بیان کئے گئے ہیں اور وہ اپنا مدعا بھی صاف صاف اور کھول کھول کر بیان کرتی ہیں کوئی بات ان میں مبہم نہیں بیان کی گئی اور اس کا کتاب الہی ہونا روز روشن کی طرح عیاں ہے اور ان کے اس طرح نزول کی ایک ضرورت آپ ﷺ کو تسلی دینا بھی ہے تاکہ آپ ﷺ اپنا کام پوری تندہی سے جاری رکھیں ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1 That is, the verses being presented in this Surah are of that Book, which presents and explains its subject-matter clearly and plainly so that every reader and listener may easily understand what it invites to, what it enjoins and what it forbids, and what it regards as true and what as false. To believe or not to believe is a differen! matter; but no one can have the excuse that he could not understand the teachings of the Book and its injunctions and prohibitions. "Al-Kitab-ul-Mubin" also has the meaning that the Qur'an is, beyond any doubt, a Divine Book. Its language, its diction and…
Read the full tafseer →