Ash-Shu'araa 26:24

Ash-Shu'araa · from ayah 24

26:24

قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَهُمَا ؕ— اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ ۟قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَمَا بَيۡنَهُمَاؕ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّوۡقِنِيۡنَ

کہا کہ آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب کا مالک۔ بشرطیکہ تم لوگوں کو یقین ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Moses] said, "The Lord of the heavens and earth and that between them, if you should be convinced."

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 2 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:24

موسیٰؑ نے جواب دیا "آسمان اور زمین کا رب، اور اُن سب چیزوں کا رب جو آسمان اور زمین کے درمیان ہیں، اگر تم یقین لانے والے ہو"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کہا کہ آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب کا مالک۔ بشرطیکہ تم لوگوں کو یقین ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

(حضرت) موسیٰ ؑ نے فرمایا وه آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا رب ہے، اگر تم یقین رکھنے والے ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

موسیٰ نے کہا : وہ سارے آسمانوں اور زمین کا، اور ان ساری چیزوں کا پروردگار ہے جو ان کے درمیان پائی جاتی ہیں، اگر تم کو واقعی یقین کرنا ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

موسیٰ نے فرمایا رب آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے، اگر تمہیں یقین ہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(موسٰی علیہ السلام نے) فرمایا: (وہ) جملہ آسمانوں کا اور زمین کا اور اُس (ساری کائنات) کا رب ہے جو ان دونوں کے درمیان ہے اگر تم یقین کرنے والے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

کہا جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے اور اس کا بھی جو ان دونوں کے درمیان ہے، اگر تم یقین کرنے والے ہو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

موسیٰ نے کہا : وہ جو آسمانوں، زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا مالک ہے، اگر تمہیں کچھ یقین آجائے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس نے جواب دیا کہ آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، سب کا خداوند، اگر تم لوگ یقین کرنے والے بنو !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

موسیٰ نے جواب دیا وہ رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور اس ساری مخلوق کا جو کہ آسمان اور زمین کے درمیان میں ہے اگر تم لوگ یقین لانے والے ہو

— مولانا اسحاق مدنی

(موسی ؑ نے) کہا کہ وہ پروردگار ہے آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان کے درمیان ہے اس (سب) کا اگر تم کو یقین حاصل کرنا ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

موسیٰ ؑ ٰ نے جواب دیا : آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں کے مابین ہے اس کا آقا اور مالک۔ اگر تم یقین کرنے والے ہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

کہا کہ آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب کا رب بشرطیکہ تم لوگوں کو یقین ہو

— محترمہ رفعت اعجاز

Moses answered: "The Lord of the heavens and the earth and of all that is between them, if you were only to believe."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He (Musa) said, :Lord of the heavens and the earth and whatever there is between them, if you are to believe

— Muhammad Taqi Usmani

He (Musa) said, :Lord of the heavens and the earth and whatever there is between them, if you are to believe

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

(Musa) said: "The Lord of the heavens and the earth, and all that is between them, if you seek to be convinced with certainty."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

(Moses) said: Lord of the heavens and the earth and all that is between them, if ye had but sure belief.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[Moses] said, "The Lord of the heavens and earth and that between them, if you should be convinced."

— Saheeh International

Moses replied, "The Lord of the heavens and the earth and all that is between them, if you want to be certain".

— Muhammad Sarwar

He said: The Lord of the heavens and the earth and what is between them, if you would be sure.

— Muhammad Habib Shakir

He said: Lord of the heavens and the earth and whatsoever is in-between, if ye seek to be convinced.

— Abdul Majid Daryabadi

(Moses) said: "The Lord and Cherisher of the heavens and the earth, and all between,- if ye want to be quite sure."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 26:24

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 23–28

چونکہ فرعون نے اپنی رعیت کو بہکا رکھا تھا اور انیں یقین دلایا تھا کہ معبود اور رب صرف میں ہی ہوں میرے سوا کوئی نہیں اس لیے ان سب کا عقیدہ یہ تھا۔ جب حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا کہ میں رب العالمین کا رسول ﷺ ہوں تو اس نے کہا کہ رب العالمین ہے کیا چیز ؟ مقصد یہی تھا کہ میرے سوا کوئی رب ہے ہی نہیں تو جو کہہ رہا ہے محض غلط ہے۔ چناچہ اور آیت میں ہے کہ اس نے پوچھا آیت (فمن ربکما یا موسیٰ) موسیٰ تم دونوں کا رب کون ہے ؟ اس کے جواب میں کلیم اللہ نے فرمایا جس نے ہر ایک کی پیدائش کی ہے اور جو سب کا ہادی ہے۔ یہاں پر یہ یاد رہے کہ بعض منطقیوں نے یہاں ٹھوکر کھائی ہے اور کہا ہے کہ فرعون کا سوال اللہ کی ماہیت سے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الشُّعَرَآء 21 یعنی میں زمین پر بسنے والے کسی مخلوق اور فانی مدعی ملوکیت کی طرف سے نہیں آیا ہوں، بلکہ اس کی طرف سے آیا ہوں جو آسمان و زمین کا مالک ہے۔ اگر تم اس بات کا یقین رکھتے ہو کہ اس کائنات کا کوئی خالق اور مالک و فرمانروا ہے تو تمہیں یہ سمجھنے میں کوئی زحمت نہیں ہونی چاہیے کہ سارے جہاں والوں کا رب کون ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 23–33

خدائے ذوالجلال کی ذات و حقیقت کا علم انسان کے لئے ناممکن ہے قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ ، اس آیت مبارکہ سے ثابت ہوا کہ خدائے ذوالجلال کی کنہ و حقیقت کا جاننا ممکن نہیں کیونکہ فرعون کا سوال اللہ تعالیٰ کی حقیت، ماہیت کے متعلق تھا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے بجائے ماہیت باری تعالیٰ بتلانے کے اللہ تعالیٰ کے اوصاف بیان فرمائے جس سے اشارہ فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ کی کنہ اور حقیقت کا ادراک ناممکن ہے اور ایسا سوال ہی کرنا بیجا ہے۔ (کذا فی الروح)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قال رب السموت والارض وما بینھا ان کنتم موقنین (24) دعوت کی راہ میں ایک قدم اور آگے کی طرف حضرت موسیٰ نے اس کے اس گستاخانہ طنز کے جواب میں اپنی دعوت کا ایک قدم اور آگے بڑھا دیا۔ فرمایا کہ تمہار رب العلمین وہی ہے جو آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، سب کا رب ہے۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ مابینھما کے تحت سورج چاند، سب آگئے اور فرعون، جیسا کہ دوسرے مقام میں ہم وضاحت کرچکے ہیں، سورج دیوتا کا اوتار سمجھا جاتا تھا۔ ان کنتم موقنین، یعنی اصل حقیقت یہ ہے جو میں نے واضح کردی ہے۔ اس کو مانو یا نہ مانو اس کی ذمہ داری مجھ پر نہیں۔ بلکہ خود تم لوگوں پر ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 24–25

25-1یعنی کیا تم اس کی بات پر تعجب نہیں کرتے کہ میرے سوا بھی کوئی اور معبود ہے ؟

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 21–26

8: حضرت موسیٰ ؑ مصر سے مدین چلے گئے تھے جہاں سے واپسی میں انہیں نبوت عطا ہوئی۔ تفصیلی واقعہ سورة قصص میں آنے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

قال رب السموت والارض وما بینھما ان کنتم موقنین (24) یہ جواب اس کے تجاہل عارفانہ کے انداز کے سوال کا شافی جواب ہے یعنی اے فرعون رب العالمین اس پوری کائنات مشہود و غیر مشہود کا رب ہے ۔ اور اس کی بادشاہت اور اقتدار تک تمہاری بادشاہت نہیں پہنچ سکتی۔ نہ اللہ کے علم تک تمہارا علم پہنچ سکتا ع ہے۔ فرعون کا دعویٰ تو صرف یہ تھا کہ وہ مصری قوم کا الہ اور حاکم ہے ، صرف وادی نیل کا فرمان روا ہے۔ رب العالمین کے مقابلے میں یہ کیا ربوبیت ہے۔ اس قدر حقیر جس طرح اس عظیم کائنات کے اندر ایک ذرہ ہوتا ہے۔ اس جواب کے ذریعے موسیٰ (علیہ السلام) اس کی توجہ اس عظیم کائنات کی طرف مبذول کراتے ہیں اور وہ خود جس ربوبیت کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

14 یعنی آسمان و زمین کی سب چیزیں جس کے زیر تربیت ہیں وہ ہی رب العالمین ہے۔ اگر تمہارے قلوب میں کسی چیز پر بھی یقین لانے کی استعداد موجود ہو تو فطرت انسانی سب سے پہلے اس چیز کا یقین دلانے کے لیے کافی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 24–25

آیت 25 قَالَ لِمَنْ حَوْلَہٗٓ اَلَا تَسْتَمِعُوْنَ ” اس فقرے کے صحیح مفہوم اور موقع و محل کو سمجھنے کے لیے فرعون کے دربار کا تصور ذہن میں لانا ضروری ہے۔ تصور کیجیے ! دربار سجا ہے ‘ تمام اعیان سلطنت اپنی اپنی نشستوں پر براجمان ہیں۔ اس بھرے دربار میں حضرت موسیٰ علیہ السلام براہ راست فرعون سے مخاطب ہیں اور اس گفتگو کو تمام درباری روبرو سن رہے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ترکی بہ ترکی گفتگو اور بےباک لہجے کے سامنے فرعون کھسیانا ہوچکا ہے۔ اپنی اس خفت کو چھپانے کے لیے وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جواب دینے کے بجائے پلٹ کر اپنے درباریوں کی طرف دیکھتا ہے اور انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ آپ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

17 موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ رب العالمین وہ ہے جو اس پوری کائنات کا خالق ومالک ہے۔ اگر تمہیں اس بات کا یقین ہے کہ اس کائنات کو وجود میں لانے والی کوئی ہستی موجود ہے تو سمجھ لو کہ میں اس ہستی کی طرف سے تیرے پاس رسول بن کر آیا ہوں اور تمہیں اسی کا پیغام پہنچا رہا ہوں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

23۔ موسیٰ (علیہ السلام) اپنے جواب میں سب سے زیادہ زور پروردگار عالم کی صفت ہمہ گیری پردے رہے تھے، یعنی دائرہ امکان میں کوئی شے بھی اس کی خالقیت، مالکیت، اور ربوبیت سے باہر نہیں، مصریوں کے ہاں آسمان، زمین اور فضائے درمیانی تینوں کے خدا الگ الگ تھے۔ قرآن مجید نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے جواب کے الفاظ سے اس طرف بھی اشارہ کردیا۔ (آیت) ” قال ..... وما بینھما “۔ اس سے یہ استدلال بھی کیا گیا ہے کہ حق تعالیٰ صورت وجسم سے پاک ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ موقع تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) حضرت باری کی شکل و صورت کو بیان کرچلتے۔ الایۃ تدل علی ان تعالیٰ لیس بجسم (کبیر)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 10–33

آیت نمبر 10 تا 33 ترجمہ : اور اے محمد ﷺ اپنی قوم کو اس وقت کا واقعہ یاد دلائیے کہ جب تیرے رب نے موسیٰ کو حکم دیا اس رات میں جبکہ موسیٰ نے آگ اور درخت کو دیکھا کہ تو ظالم قوم کے پاس رسول بن کر جا قوم فرعون کے پاس مع فرعون کے انہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کرکے اور بنی اسرائیل کو غلام بنا کر اپنے اوپر ظلم کیا ہے اَلاَ یتقون میں ہمزہ استفہام انکاری کے لئے ہے کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو کہ اس کی طاعت اختیار کرکے اس کی توحید کے قائل ہوجاؤ تو موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے پروردگار مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے اور ان کے میری تکذیب کی وجہ سے میرا دل تنگ ہوجائے، اور اداء رسالت کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال رب السموت والارض وما بینہما ان کنتم موقنین۔ موسیٰ نے کہا وہ آسمانوں کا اور زمین اور ان کے درمیانی کائنات کا رب ہے اگر (ان آثار قدرت و حکمت کے ذریعہ سے) تم اس کو ماننے والے ہو (تو ایمان لے آؤ اور مان لو) یعنی اگر حقائق اشیاء کے وجود کو مانتے ہو تو پھر ان مصنوعات و مخلوقات سے ان کے خالق کے وجود و وحدانیت پر استدلال کرو۔ یہ تمام اجسام محسوسہ ممکن ہیں کیونکہ مرکب ہیں۔ ان میں تعدو ہے ان کے احوال تغیر پذیر ہیں ان کا ایک مبدء اور موثر ہونا لازم ہے جو واجب بالذات ہو۔ ممکن ‘ ممکن کی علت تامہ نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ ہر ممکن اپنے وجود میں اپنی علت کا محتاج ہے پس یا تو علت کی جانب تسلسل غیر متناہی ہوگا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 23–24

(23۔ 24) فرعون نے حضرت موسیٰ ؑ سے کہا کہ رب العالمین کی ماہیت اور اس سے تمہارا مقصود کیا ہے، حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا کہ رب العالمین آسمان و زمین اور ان کے درمیان جو مخلوقات اور عجائبات ہیں ان سب کا پروردگار ہے اگر تمہیں اس بات کا یقین ہو کہ آسمان و زمین کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۔۔ : موسیٰ ؑ نے جواب دیا، رب العالمین وہ ہے جو آسمانوں کا اور زمین کا اور ان کے درمیان کی ہر چیز کا رب ہے، اگر تم میں کسی چیز پر یقین کرنے کی صلاحیت ہے تو اس بات پر یقین کے سوا تمہارے لیے کوئی چارہ نہیں، تم تو زمین کے ایک نہایت چھوٹے سے قطعہ مصر پر حکومت کی وجہ سے رب اعلیٰ بن رہے ہو، حالانکہ تم نے مصر کو نہ پیدا کیا نہ اہل مصر کو روزی دے رہے ہو۔ تو وہ جس نے زمین و آسمان اور وہ سب کچھ پیدا فرمایا جو ان دونوں کے درمیان ہے اور ان کی پرورش بھی کر رہا ہے۔ غور کرو تمہیں کس بات پر یقین آتا ہے، اپنے رب ہونے پر یا اس کے رب ہونے پر جو آسمانوں کا، زمین کا اور ان دونوں کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 23–51

( قال فرعون وما رب العلمین۔۔۔۔ ) قال فرعون وما رب العٰلمین جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) میں فرعون پر غالب آگئے اور فرعون لعین نے تربیت اور دوسری چیزوں میں کوئی دلیل نہ پائی تو وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے معاوضہ کے لیے آپ کے قول رسول رب العٰلمین کی طرف متوجہ ہوئے تو اس نے ایسا سوال کیا جو مجہول چیز کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے۔ مکی اور دوسرے علماء نے کہا : جس طرح اجناس کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے، اسی وجہ سے ما کے ساتھ سوال کیا۔ مکی نے کہا : ایک اور جگہ من کے ساتھ بھی استفہام واقع ہوا ہے یہ اس کے مشابہ ہے کہ یہاں کئی مواطن ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مخلوقات میں سے ایسی صفات لائے جو اللہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 10–51

1۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” یعنی طور کے داہنی جانب سے ان کو آواز دی گئی۔ 2۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جرری وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ ایک جان کے قتل کرنے کا الزام جو ان کے درمیان قتل ہوا آیت ” وفعلت فعلتک التی فعلت “ سے مراد بھی انسان کا قتل ہے۔ آیت ” فعلتہا اذا وانا من الضالین “ یعنی جب میں چوک جانے والوں میں سے تھا۔ 3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ یعنی ایک جان کا قتل کرنا آیت ” الم لربک فینا ولیدا “ یعنی ان کو فرعون والوں سے اٹھا لیا سو اس بچے کو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قَالَ [ (موسیٰ (علیہ السلام) نے) کہا ] رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ [ (وہ ) زمین اور آسمانوں کا رب ہے ] وَمَا [ اور اس کا جو ] بَيْنَهُمَا ۭ [ ان دونوں کی درمیان ہے ] اِنْ كُنْتُمْ [ اگر تم لوگ ] مُّوْقِنِيْنَ [ یقین کرنے والے ہو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 11–34

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ کے لیے فرعون کا جادو گروں کو بلانا، مقابلہ ہونا اور جادو گروں کا شکست کھا کر ایمان قبول کرنا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے جواب وسوال سے عاجز ہو کر اور دو بڑے معجزے دیکھ کر فرعون کی شکست تو اسی وقت ہوگئی لیکن اس نے اپنی خفت مٹانے اور درباریوں کو مطمئن رکھنے اور ان کے ذریعہ ساری قوم کو اپنی فرمانبرداری پر جمائے رکھنے کے لیے سرداروں سے کہا جو اس وقت وہاں موجود تھے کہ سمجھ میں آگیا یہ تو ایک بڑا ماہر جادوگر ہے یہ چاہتا ہے کہ تمہیں مصر کی سر زمین سے نکال دے اور اپنی قوم کا بڑا بن کر ان کو ساتھ لے کر حکومت کرنے لگے۔ تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو ؟ سورة اعراف میں ہے کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 23–33

مکاملہ موسیٰ (علیہ السلام) بافرعون دربارہ ربوبیت خداوند کون قال اللہ تعالیٰ قال فرعون وما رب العلمین .... الیٰ .... فازا ہی بیضاء للنظرین۔ فرعون اس گفتگو میں ذلیل و خوار ہوا تو اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کے اس قول انا رسول رب العلمین۔ یعنی ہم دونوں اللہ رب العالمین کے پیغمبر ہیں یعنی ان کے دعوائے نبوت پر اعتراض شروع کیا۔ اور اللہ رب العالمین کی ربوبیت میں جھگڑا لگانے لگا چناچہ فرعون بولا اچھا بتاؤ کہ وہ رب العالمین جس کے رسول ہونے کا تو مدعی ہے وہ کیا چیز ہے وہ کون ہے اور کیا ہے تمہارا دعویٰ یہ ہے کہ ہم رب العالمین کے رسول مرسل ہیں یعنی اس کے فرستادہ ہیں لہٰذا تم کو چاہئے کہ اول اپنے مرسل…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 24–25

16:۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی بات کو بےاثر کرنے کے لیے فرعون نے اپنے درباریوں سے کہا کیا سنتے نہیں ہوموسی کیا کہہ رہا ہے بھلا میرے سوا بھی کوئی رب ہے۔ ای الا تصغون الی ھذہ المقالہ اغراء بہ و تعجبا اذ کانت عقیدتھم ان فرعون ربھم و معبودھم (بحر ج 7 ص 13) ۔ ” قال ربکم و رب اباء کم الاولین “ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے نہایت سنجیدگی اور متانت سے پھر فرمایا۔ ہاں ہاں دور کیوں جاتے ہو جس نے تمہیں اور تمہارے باپ دادا کو پیدا فرمایا اور جو سب کی پرورش کرتا ہے وہی سارے جہان کا رب اور کارساز ہے۔ ” قال ان رسولکم الخ “ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جس قدر سنجیدہ ہورہے تھے فرعون اسی قدر غیر سنجیدہ ہو رہا تھا۔ وہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 23–33

ربط آیات اس سورة کی ابتداء سے موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت کا تذکرہ بیان کیا گیا ۔ جب اللہ تعالیٰ نے آپ کے سر پر تاج نبوت رکھا تو آپ کو حکم دیا کہ فرعون کے سامنے جا کر کلمہ حق بلند کرو۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے بعض مشکلات کا ذکر کیا تو اللہ نے آپ کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو بھی نبوت عطا فرمائی اور پھر دونوں کو حکم ہوا کہ فرعون سے جا کر کہو کہ ہم دونوں رب العالمین کے فرستادہ ہیں ۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ تم اللہ کی وحدانیت کو قبول کرلو اور دوسری بات یہ کہ بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے آزاد کر دو ۔ اس کے جواب میں فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو طعن کیا کہ کیا تم وہی نہیں جس کی ہم نے بچپن…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَيْنَہُمَا۝ 0ۭ اِنْ كُنْتُمْ مُّوْقِنِيْنَ۝ 24 سما سَمَاءُ كلّ شيء : أعلاه، قال بعضهم : كلّ سماء بالإضافة إلى ما دونها فسماء، وبالإضافة إلى ما فوقها فأرض إلّا السّماء العلیا فإنها سماء بلا أرض، وحمل علی هذا قوله : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] ، ( س م و ) سماء ہر شے کے بالائی حصہ کو سماء کہا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے ( کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے ) کہ ہر سماء اپنے ماتحت کے لحاظ سے سماء ہے لیکن اپنے مافوق کے لحاظ سے ارض کہلاتا ہے ۔ بجز سماء علیا ( فلک الافلاک ) کے کہ وہ ہر لحاظ سے سماء ہی ہے اور کسی کے لئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 11–34

بدنصیب یہ معجزے دیکھ کر ایمان تو نہ لایا کہہ دیا کہ یہ بڑا جادوگر ہے اس کے زور سے تمہارا ملک لینا چاہتا ہے۔ فرعونیوں کے عہد میں جادو اور طلسم کا بڑا زور تھا چناچہ اس عہد کے یادگار مسلمانوں کے ابتدائِ عہد تک موجود تھے جن کو اہل اسلام کے مؤرخین نے نقل کیا ہے دیکھو تاریخ مصر، درباریوں نے صلاح دی کہ آپ بھی اپنے ملک میں سے نامور جادوگر ایک روز معین میں جمع کر کے اس کو عاجز کر دیجئے اور عید یا کوئی فرعونیوں کا میلہ ہوتا تھا جس میں سب لوگ شریک ہوتے تھے وہ روز قرار پایا تاکہ سب لوگ موسیٰ ( علیہ السلام) کا عجز ملاحظہ کریں۔ چناچہ اس روز وہ سب جادوگر اور طلسم کار آئے اور ایک میدان میں فرعون اور اس کے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قَالَ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَیْنَھُمَا ط اِنْ کُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ ۔ (الشعرآء : 24) ( حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا (رب العالمین وہ ہے جو) آسمانوں اور زمین اور جو کچھ اس کے درمیان ہے سب کا رب (مالک) ہے، اگر تم یقین کرنے والے ہو۔ ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا کلمہ حق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے جواب میں فرمایا کہ میں اس رب العالمین کا نمائندہ بن کر آیا ہوں جو آسمانوں اور زمین اور اس کے درمیان پوری کائنات کا مالک ہے۔ تم بھی اسی کی فرمانروائی کا ایک حصہ ہو اس لیے تمہیں اپنی اصل حیثیت کا احساس اور میری حیثیت کا ادراک کرتے ہوئے میری دعوت کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 24–27

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے درمیان مکالمہ جاری ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دوسری دلیل یہ دی کہ میں اس رب کی طرف سے رسول بنایا گیا ہوں۔ جو تمہارا اور تمہارے باپ دادا کا رب ہے۔ اس دلیل کا صاف مطلب تھا کہ ” اے فرعون ! میں تجھے رب ماننے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ “ جس کا دوسرا مطلب یہ تھا کہ تو مصر کے لوگوں کا رب ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ اس کا کیا جواب ہے کہ تجھے اور تیرے آباء و اجداد کو کس نے پیدا کیا ؟ ظاہر ہے کہ نہ تو نے اپنے آپ کو پیدا کیا اور نہ ہی پہلے لوگوں کو پیدا کرنے والا ہے۔ فرعون اس دلیل کی وجہ سے جھنجھلاہٹ میں آکر اپنے درباریوں سے کہنے لگا کہ تمہاری طرف…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

جواب موسیٰ d: 24: قَالَ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو سوال کے موافق جواب دیتے ہوئے فرمایا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَ رْضِ وَمَا بَیْنَھُمَا (وہ آسمانوں اور زمین میں ان کے مابین سب کا رب ہے) یعنی دونوں جنسوں کے جو کچھ درمیان میں ہے اِنْ کُنْتُمْ مُّوْقِنِیْنَ (اگر تم یقین کرنے والے ہو) یعنی اگر تم دلائل سے اشیاء کو پہچانتے تو ان اشیاء کی تخلیق بطور دلیل کافی ہے۔ نمبر 2۔ اگر تم سے اس یقین کی امید ہے جس تک صحیح سوچ و فکر پہنچاتی ہے تو یہ جواب تمہارے حق میں نفع بخش ہوگا۔ ورنہ فائدہ نہ ہوگا۔ الایقانؔ سے مراد استدلال سے حاصل ہونے والا علم اسی وجہ سے محاورہ میں یہ کہنا درست نہیں۔ اللّٰہ مُّوْقِن۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

24۔ قال رب السماوات والارض ومابینھما ان کنتم موقنین۔ ان دونوں کو پیدا کرنیو الے ہیں۔ اہل معانی کا قول ہے کہ جس طرح تو ان اشیاء کو دیکھ کر تمہیں یقین ہوتا ہے ان کو معائنہ کرنے کے ساتھ لہذا یہ بھی یقین کرلو کہ وہ مخلوقات کا خدا ہے۔ جب حضرت موسیٰ نے اس کو جواب دیاتوفرعون موسیٰ کے جواب میں حیران ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 23–30

(23 تا 30) جب مدین سے مصر آتے وقت حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو نبوت عطا ہوئی اور اس کی قوم کو ہدایت کرنے کا اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا۔ جس کا قصہ آگے سورة قصص میں آوے گا اور مدین کے سفر سے حضرت موسیٰ مصر پہنچے تو اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے موافق حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون دونوں مل کر اللہ کا حکم پہنچانے کی غرض سے فرعون کے محل کے دروازہ پر گئے دستک دی دروازہ کے دربانوں نے پوچھا تم کون ہو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے جواب دیا ہم اللہ کے رسول اور قاصد ہیں اور فرعون کی ہدایت کو آئے ہیں فرعون کی قوم میں چار سو برس سے یہ بات پھیلی ہوئی تھی کہ وہ لوگ فرعون کو اپنا خدا جانتے تھے اس لیے دربانوں نے حضرت موسیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 10–68

آیت نمبر 10 سے 68 اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں موسیٰ (علیہ السلام) کی مدح وثنا اور ان کے واقعات کا بار بار جتنا اعادہ کیا ہے اتنا کسی اور واقعے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ عظیم حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس قصے میں اہل ایمان اور اہل کفر کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے طرز عمل کی تفصیل ہے نیز موسیٰ (علیہ السلام) صاحب شریعت کبری اور صاحب تورات تھے جو قرآن عظیم کے بعد سب سے افضل کتاب ہے۔ فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجئے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندادی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، ان کو رسول بنا کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

19 حضرت موسیٰ کا فرعون کو جواب کہ میرا رب وہ ہے جو کہ رب ہے اس پوری کائنات کا : ظاہر ہے کہ آسمان و زمین اور ان کی درمیانی مخلوق کی خالقیت و مالکیت کا دعوی تو فرعون بھی بایں ہمہ استکبار و طمطراق نہیں کرسکتا تھا۔ ورنہ اس کو وہیں منہ پر جھٹلا دیا جاتا۔ وہ تو کہتا تھا کہ اس ملک پر جس پر میری حکمرانی ہے دوسری کسی ہستی کا حکم نہیں چل سکتا۔ یہاں سب کچھ میں ہی میں ہوں۔ اس لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا خدا وہ ہے جو سب کا خالق سب کا مالک ہے اور ان ان صفات کا مالک ہے ۔ جل جلالہ ۔ سو حضرت موسیٰ کا یہ جواب جو بظاہر بڑا سادہ سا لگتا ہے اپنے اندر بہت جامعیت اور بڑی ہمہ گیر و معنویت رکھتا ہے کہ جس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 10–68

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ تشریح : اس واقعہ میں بیشمار نصیحتیں ‘ اللہ کے کمالات ‘ عجزو انکساری اور سب سے بڑھ کر توکل علی اللہ کا بہت زبردست سبق ملتا ہے۔ ایمان کامل انسان کے اندر اس قدر ہمت ‘ جرأت ‘ بہادری اور معرفت پیدا کردیتا ہے کہ انسان مادی اصولوں سے بےنیاز ہو کر روحانی دنیا میں گم ہوجاتا ہے اور اس کو اللہ ‘ اس کی مدد ‘ اس کا سایہ دنیا کے ہر خطرے سے محفوظ بےنیاز کردیتا ہے۔ جیسا کہ سید حسین نصر صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں : ” سچے مومن کی فراست تکمیل کو پہنچ جاتی ہے جیسا کہ اللہ نے فرمایا ” اللہ کی یاد میں دلوں کا سکون ہے۔ “ ( سورة رعد آیت : 28) ایسا شخص جو اس حالت میں ہو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 10–33

آیات 10 تا 33 اسرار و معارف نبی اکرم ﷺ کی شفقت کس قدر ہے اس کا اندازہ کیجیے کہ کفار کا دکھ بھی کس شدت سے محسوس فرماتے ہیں دوستاں راکجا کنی محروم۔ تو کہ بادشمناں نظر داری یعنی جس کا لطف و کرم دشمن پہ بھی عام ہے بھلا دوستوں کو کب محروم کرسکتا ہے تو آپ ﷺ کی تشفی فرماتے ہوئے اللہ کریم نے انسانوں پہ اپنے کرم کی ایک ادا کا تذکرہ فرمایا کہ فرعون کس قدر ظالم اور گستاخ کافر تھا اور اپنے خدا ہونے کا دعویدار بھی مگر اللہ کریم نے اسے بھی محروم نہ رکھا اور اپنے اولوالعزم رسول کو اس کے پاس بھیجا معجزات اور دلائل دیئے اور ہدایت کی طرف بلایا اگر وہ اپنی پسند سے دوسرے راستے پر ہی جانا چاہتا ہو تو پھر ایسے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

13 ۔ یعنی یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے مانے بغیر چارہ نہیں اگر تم میں ماننے کی ذرا بھی صلاحیت ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(26:24) موقنین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ یقین کرنے والے۔ ایمان لانے والے۔ ایقان مصدر (باب افعال) ایقن یوقن یقین کرنا۔ یقین مادہ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 23–33

لغات القرآن : آیت نمبر 23 تا 33 : موقنین (یقین کرنے والے) ‘ حولہ (اس کا اردگرد۔ آس پاس) ‘ الا تستمعون (کیا تم سنتے ہو ؟ ) ‘ اتخذت (تونے بنایا) ‘ المسجونین (قیدکئے گئے) ‘ عصا (لاٹھی) ‘ ثعبان (اژدھا۔ بڑا سانپ) ‘ نزع (اس نے نکالا۔ اس نے کھینچا) ‘ بیضاء سفید۔ روشن ‘ نظرین (دیکھنے والے) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 23 تا 33 : جیسا کہ گذشتہ آیات میں آپ نے پڑھا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) اللہ کا پیغام لے کر فرعون کے بھرے دربار میں پہنچے تو فرعون بوکھلا گیا پہلے تو اس نے اپنی کمینگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان احسانات کو یاد دلایا کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 10–30

فرعون کا قصہ۔ (ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ فرعون کی قوم کے پاس جاؤ جنہوں نے اپنی جانوں پر کفر کرکے اور بنی اسرائیل کو غلام بنا کر ظلم کررکھا ہے وہ اللہ سے نہیں ڈرتے کہ اس کی اطاعت کریں اور اکیلا جانیں کسی کو اس کا شریک نہ بنائیں تو حضرت موسیٰ نے کہا، اے میرے پروردگار میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ وہ مجھ کو جھٹلادیں اور ان کے جھٹلانے سے میرا دل تنگ ہوجائے اور میں طاقت لسانی بھی نہیں رکھتا، کیونکہ بوجہ لکنت کے صاف بول نہیں سکتا۔ اس لیے میرے بھائی ہارون کو بھی میرے ساتھ پیغمبر کر، اس کے علاوہ فرعون والوں کا مجھ پر الزام ہے میں نے ایک آدمی کو مارڈالا ہے اس واسطے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 23–35

[9] رب ہونے کا دعویٰ کرنے والا اتنی جلدی حواس باختہ ہوگیا کہ اپنے ماتحتوں کے احکام پر چلنے کے لئے آمادہ ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 23–28

مارب العلمین ۔ ما یہاں منطقی تعریف کے لئے نہیں بلکہ اس کا مقصود یہ تھا کہ موسیٰ خدا کا صحیح صحیح تخیل پیش کریں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(24) موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ وہ پروردگار ہے آسمانوں کا اور زمین کا اگر تم کو یقین حاصل کرنا ہو۔ یعنی ماہیت سے اس کی معرفت ہو نہیں سکتی جب سوال کرو گے صفات ہی سے جواب دیاجائیگا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 23–24

ف 4۔ مطلب یہ کہ ماہیت سے اس کی معرفت نہیں ہوسکتی، جب سوال ہوگا صفات ہی سے جواب ملے گا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

دعوت کی راہ میں ایک قدم مزید اٹھاتے ہوئے حضرت سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا : 24۔ حضرت سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے سوال کا جواب دیتے ہوئے زیادہ زور دار طریقہ سے پروردگار عالم کی صفت ہمہ گیری پر دلیل دے دی کہ وہی تو رب العالمین ہے جو آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے سب کا رب ہے کہ دائرہ امکان میں کوئی شے بھی اس کی خالقیت ومالکیت اور ربوبیت سے باہر نہیں ہے اور یہ بات مصریوں کے لئے تعجب خیز تھی کیوں ؟ اس لئے کہ وہ آسمان ‘ زمین اور فضائے درمیانی تینوں کے الگ الگ خدا متصور کرتے تھے اور ظاہر ہے کہ کسی قوم کے قومی نظریہ کے خلاف بات کرنا ان کو تعجب میں ڈالنا ہی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 17–42

أَنْ أَرْ‌سِلْ مَعَنَا بَنِي إِسْرَ‌ائِيلَ That you must send the children of Isra'i1 with us". (26:17) Bani Isra'il were the residents of Syria. They wanted to go back to their land but the Pharaoh would not let them. This way four hundred years had passed and they were living in his bondage like slaves. At that time they were six hundred and thirty thousand in number. Sayyidna Musa (علیہ السلام) when presented the message of Truth to the Pharaoh, he also asked him to stop all the cruelties he had perpetrated over Bani Isra'il and to let them go to their homeland. (Qurtubi) An example of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

21 That is, "I have not been sent by any mortal king ruling in the world, but I come from Him Who is the Owner of the heavens and the earth. If you believe that, there is a Creator and Master and Ruler of this universe, it should not he difficult for you to understand who is the Lord of all Creation."

Read the full tafseer →