Explained with ayahs 23–28
چونکہ فرعون نے اپنی رعیت کو بہکا رکھا تھا اور انیں یقین دلایا تھا کہ معبود اور رب صرف میں ہی ہوں میرے سوا کوئی نہیں اس لیے ان سب کا عقیدہ یہ تھا۔ جب حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا کہ میں رب العالمین کا رسول ﷺ ہوں تو اس نے کہا کہ رب العالمین ہے کیا چیز ؟ مقصد یہی تھا کہ میرے سوا کوئی رب ہے ہی نہیں تو جو کہہ رہا ہے محض غلط ہے۔ چناچہ اور آیت میں ہے کہ اس نے پوچھا آیت (فمن ربکما یا موسیٰ) موسیٰ تم دونوں کا رب کون ہے ؟ اس کے جواب میں کلیم اللہ نے فرمایا جس نے ہر ایک کی پیدائش کی ہے اور جو سب کا ہادی ہے۔ یہاں پر یہ یاد رہے کہ بعض منطقیوں نے یہاں ٹھوکر کھائی ہے اور کہا ہے کہ فرعون کا سوال اللہ کی ماہیت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
سورة الشُّعَرَآء 22
حضرت موسیٰ کا یہ خطاب فرعون کے درباریوں سے تھا۔ جن سے فرعون نے کہا تھا کہ " سنتے ہو "۔ حضرت موسیٰ نے ان سے فرمایا کہ میں ان جھوٹے ارباب کا قائل نہیں ہوں جو آج ہیں اور کل نہ تھے، اور کل تھے مگر آج نہیں ہیں۔ تمہارا یہ فرعون جو آج تمہارا رب بنا بیٹھا ہے کل نہ تھا اور کل تمہارے باپ دادا جن فرعونوں کو رب بنائے بیٹھے تھے وہ آج نہیں ہیں۔ میں صرف اس رب کی حاکمیت و فرماں روائی مانتا ہوں جو آج بھی تمہارا اور اس فرعون کا رب ہے، اور اس سے پہلے جو تمہارے اور اس کے باپ دادا گزر چکے ہیں ان سب کا رب بھی تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–33
خدائے ذوالجلال کی ذات و حقیقت کا علم انسان کے لئے ناممکن ہے
قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ ، اس آیت مبارکہ سے ثابت ہوا کہ خدائے ذوالجلال کی کنہ و حقیقت کا جاننا ممکن نہیں کیونکہ فرعون کا سوال اللہ تعالیٰ کی حقیت، ماہیت کے متعلق تھا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے بجائے ماہیت باری تعالیٰ بتلانے کے اللہ تعالیٰ کے اوصاف بیان فرمائے جس سے اشارہ فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ کی کنہ اور حقیقت کا ادراک ناممکن ہے اور ایسا سوال ہی کرنا بیجا ہے۔ (کذا فی الروح)
Read the full tafseer →قال لمن حولہ الا تستمعن (25)
فرعون کی بوکھلاہٹ
حضرت موسیٰ کا جواب فرعون کے کبر پر ایک کاری ضرب تھا اس وجہ سے وہ تلملا اٹھا اور درباریوں کی طرف متوجہ ہو کر بولا کہ تم لوگ سن رہے ہو، یہ شخص کیا کہہ رہا ہے !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
25-1یعنی کیا تم اس کی بات پر تعجب نہیں کرتے کہ میرے سوا بھی کوئی اور معبود ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
8: حضرت موسیٰ ؑ مصر سے مدین چلے گئے تھے جہاں سے واپسی میں انہیں نبوت عطا ہوئی۔ تفصیلی واقعہ سورة قصص میں آنے والا ہے۔
Read the full tafseer →قال لمن حولہ الا تستمعون (35)
’ ۔ “ کیا تم اس شخص کی عجیب باتیں نہیں سنتے ؟ یہ باتیں تو ہمارے سامنے کسی نے نہیں کیں اور نہ ہم نے کبھی سنی ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بغیر توقف کے ایک دوسرا دار کیا۔ اور رب العالمین کا مزید تعارف کرایا۔
Read the full tafseer →15 فرعون جان بوجھ کر بات کو رلانا چاہتا تھا۔ اپنے حوالی موالی کو ابھارنے اور موسیٰ (علیہ السلام) کی بات کو خفیف کرنے کے لیے کہنے لگا، سنتے ہو، موسیٰ کیسی دور ازکار باتیں کر رہے ہیں۔ کیا تم میں کوئی تصدیق کرے گا کہ میرے سوا آسمان و زمین میں کوئی اور رب ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
آیت 25 قَالَ لِمَنْ حَوْلَہٗٓ اَلَا تَسْتَمِعُوْنَ ”
اس فقرے کے صحیح مفہوم اور موقع و محل کو سمجھنے کے لیے فرعون کے دربار کا تصور ذہن میں لانا ضروری ہے۔ تصور کیجیے ! دربار سجا ہے ‘ تمام اعیان سلطنت اپنی اپنی نشستوں پر براجمان ہیں۔ اس بھرے دربار میں حضرت موسیٰ علیہ السلام براہ راست فرعون سے مخاطب ہیں اور اس گفتگو کو تمام درباری روبرو سن رہے ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ترکی بہ ترکی گفتگو اور بےباک لہجے کے سامنے فرعون کھسیانا ہوچکا ہے۔ اپنی اس خفت کو چھپانے کے لیے وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو جواب دینے کے بجائے پلٹ کر اپنے درباریوں کی طرف دیکھتا ہے اور انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ آپ…
Read the full tafseer →18 فرعون اب اپنے درباریوں اور امیروں، وزیروں سے متوجہ ہو کر کہنے لگا : سن رہو ہو جو یہ شخص کہہ رہا ہے۔ یہ کہہ رہا ہے کہ تمام بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے رہا کرکے میرے ہمراہ کردو۔ تاکہ یہ ہمارے مقابلہ پر اتر آئے۔ پھر ساتھ ہی یہ بھی کہے جاتا ہے کہ میں رب العالمین کا فرستادہ ہوں
فرعون کے اس جواب سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی خدائی اور فرعونیت کے باوجود موسیٰ (علیہ السلام) سے کچھ خطرہ محسوس کرنے لگا تھا اور اپنے درباریوں کو ان کے خلاف بھڑکانا چاہتا تھا۔
Read the full tafseer →24۔ (کہ یہ شخص کیسی عجیب و غریب باتیں بےپر کی اڑا رہا ہے ! ) (آیت) ” لمن حولہ “۔ سے مراد اہل دربار ہیں۔ اے اشراف قومہ (کشاف) التفت فرعون الی من حولہ من ملاۂ و رؤساء دولتہ (ابن کثیر) سب کے سب عقیدۂ توحید سے یکسر نا آشنا ونامانوس تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–33
آیت نمبر 10 تا 33
ترجمہ : اور اے محمد ﷺ اپنی قوم کو اس وقت کا واقعہ یاد دلائیے کہ جب تیرے رب نے موسیٰ کو حکم دیا اس رات میں جبکہ موسیٰ نے آگ اور درخت کو دیکھا کہ تو ظالم قوم کے پاس رسول بن کر جا قوم فرعون کے پاس مع فرعون کے انہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کرکے اور بنی اسرائیل کو غلام بنا کر اپنے اوپر ظلم کیا ہے اَلاَ یتقون میں ہمزہ استفہام انکاری کے لئے ہے کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو کہ اس کی طاعت اختیار کرکے اس کی توحید کے قائل ہوجاؤ تو موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے پروردگار مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے اور ان کے میری تکذیب کی وجہ سے میرا دل تنگ ہوجائے، اور اداء رسالت کے…
Read the full tafseer →قال لمن حولہ الا تستمعون۔ اور اپنے گردوپیش کے لوگوں سے فرعون (بطور تعجب) کہنے لگا کیا تم سن رہے
ہو۔ یعنی موسیٰ کا جواب تم نے سنا میں نے اس سے اس کے رب العالمین کی حقیقت پوچھی اور یہ اس کے افعال و آثار کا ذکر کرنے لگا یا یہ مطلب ہے کہ آسمان تو قدیم بالذات ہیں اور یہ کہہ رہا ہے کہ ان کا رب (خالق) ہے شاید فرعون دہریہ کا خیال تھا (جو عالم کو قدیم اور خود کو فنا جانتے ہیں مترجم) ۔
یا یہ مطلب ہے کہ آسمان کسی موثر فاعل کے محتاج نہیں ہیں اور یہ ان کو رب مانتا ہے۔ حضرت موسیٰ نے دیکھا کہ آسمان و زمین کی تخلیق و حدوث تو ان لوگوں کے سامنے نہیں اس لئے یہ آسمانوں کو قدیم خیال کرنے لگے ایسی دلیل پیش کرنا…
Read the full tafseer →(25) فرعون نے اپنے حواریوں نے سے کہا موسیٰ جو کچھ کہہ رہے ہیں تم سنتے ہو اور فرعون کے حواریوں کی تعداد دو سو پچاس تھی یہ فرعون کے خصوصی آدمی تھے جو دیباج کے جبے پہنے ہوئے تھے جن پر سونے کا کام تھا۔
Read the full tafseer →قَالَ لِمَنْ حَوْلَهٗٓ اَلَا تَسْتَمِعُوْنَ : ظاہر ہے فرعون رب اعلیٰ ہونے کا لاکھ دعویٰ کرے، آسمان و زمین کے ایک ذرّے کا خالق و پروردگار نہیں تھا اور اپنی اوقات کو خوب جانتا تھا، جب وہ موسیٰ ؑ کی بات کا جواب نہ دے سکا تو بات کو خلط ملط کرنے، اپنے درباریوں کو ابھارنے اور موسیٰ ؑ اور ان کی دلیل کو بےوزن بنانے کے لیے کہنے لگا، کیا تم غور سے سنتے نہیں، یہ شخص کیسی عجیب بات کر رہا ہے ؟ کیا ایسی بات کبھی تمہارے سننے میں آئی بھی ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–51
( قال فرعون وما رب العلمین۔۔۔۔ )
قال فرعون وما رب العٰلمین جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) میں فرعون پر غالب آگئے اور فرعون لعین نے تربیت اور دوسری چیزوں میں کوئی دلیل نہ پائی تو وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے معاوضہ کے لیے آپ کے قول رسول رب العٰلمین کی طرف متوجہ ہوئے تو اس نے ایسا سوال کیا جو مجہول چیز کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے۔ مکی اور دوسرے علماء نے کہا : جس طرح اجناس کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے، اسی وجہ سے ما کے ساتھ سوال کیا۔ مکی نے کہا : ایک اور جگہ من کے ساتھ بھی استفہام واقع ہوا ہے یہ اس کے مشابہ ہے کہ یہاں کئی مواطن ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مخلوقات میں سے ایسی صفات لائے جو اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–51
1۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” یعنی طور کے داہنی جانب سے ان کو آواز دی گئی۔
2۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جرری وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ ایک جان کے قتل کرنے کا الزام جو ان کے درمیان قتل ہوا آیت ” وفعلت فعلتک التی فعلت “ سے مراد بھی انسان کا قتل ہے۔ آیت ” فعلتہا اذا وانا من الضالین “ یعنی جب میں چوک جانے والوں میں سے تھا۔
3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ یعنی ایک جان کا قتل کرنا آیت ” الم لربک فینا ولیدا “ یعنی ان کو فرعون والوں سے اٹھا لیا سو اس بچے کو…
Read the full tafseer →قَالَ [ (فرعون نے) کہا ] لِمَنْ [ ان سے جو ] حَوْلَهٗٓ [ اسی کے اردگرد ] اَ [ کیا ] لَا تَسْتَمِعُوْنَ [ تم لوگ سنتے نہیں ہو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–34
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ کے لیے فرعون کا جادو گروں کو بلانا، مقابلہ ہونا اور جادو گروں کا شکست کھا کر ایمان قبول کرنا
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے جواب وسوال سے عاجز ہو کر اور دو بڑے معجزے دیکھ کر فرعون کی شکست تو اسی وقت ہوگئی لیکن اس نے اپنی خفت مٹانے اور درباریوں کو مطمئن رکھنے اور ان کے ذریعہ ساری قوم کو اپنی فرمانبرداری پر جمائے رکھنے کے لیے سرداروں سے کہا جو اس وقت وہاں موجود تھے کہ سمجھ میں آگیا یہ تو ایک بڑا ماہر جادوگر ہے یہ چاہتا ہے کہ تمہیں مصر کی سر زمین سے نکال دے اور اپنی قوم کا بڑا بن کر ان کو ساتھ لے کر حکومت کرنے لگے۔ تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو ؟ سورة اعراف میں ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–33
مکاملہ موسیٰ (علیہ السلام) بافرعون
دربارہ ربوبیت خداوند کون
قال اللہ تعالیٰ قال فرعون وما رب العلمین .... الیٰ .... فازا ہی بیضاء للنظرین۔
فرعون اس گفتگو میں ذلیل و خوار ہوا تو اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کے اس قول انا رسول رب العلمین۔ یعنی ہم دونوں اللہ رب العالمین کے پیغمبر ہیں یعنی ان کے دعوائے نبوت پر اعتراض شروع کیا۔ اور اللہ رب العالمین کی ربوبیت میں جھگڑا لگانے لگا چناچہ فرعون بولا اچھا بتاؤ کہ وہ رب العالمین جس کے رسول ہونے کا تو مدعی ہے وہ کیا چیز ہے وہ کون ہے اور کیا ہے تمہارا دعویٰ یہ ہے کہ ہم رب العالمین کے رسول مرسل ہیں یعنی اس کے فرستادہ ہیں لہٰذا تم کو چاہئے کہ اول اپنے مرسل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–25
16:۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی بات کو بےاثر کرنے کے لیے فرعون نے اپنے درباریوں سے کہا کیا سنتے نہیں ہوموسی کیا کہہ رہا ہے بھلا میرے سوا بھی کوئی رب ہے۔ ای الا تصغون الی ھذہ المقالہ اغراء بہ و تعجبا اذ کانت عقیدتھم ان فرعون ربھم و معبودھم (بحر ج 7 ص 13) ۔ ” قال ربکم و رب اباء کم الاولین “ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے نہایت سنجیدگی اور متانت سے پھر فرمایا۔ ہاں ہاں دور کیوں جاتے ہو جس نے تمہیں اور تمہارے باپ دادا کو پیدا فرمایا اور جو سب کی پرورش کرتا ہے وہی سارے جہان کا رب اور کارساز ہے۔ ” قال ان رسولکم الخ “ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جس قدر سنجیدہ ہورہے تھے فرعون اسی قدر غیر سنجیدہ ہو رہا تھا۔ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–33
ربط آیات
اس سورة کی ابتداء سے موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت کا تذکرہ بیان کیا گیا ۔ جب اللہ تعالیٰ نے آپ کے سر پر تاج نبوت رکھا تو آپ کو حکم دیا کہ فرعون کے سامنے جا کر کلمہ حق بلند کرو۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے بعض مشکلات کا ذکر کیا تو اللہ نے آپ کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو بھی نبوت عطا فرمائی اور پھر دونوں کو حکم ہوا کہ فرعون سے جا کر کہو کہ ہم دونوں رب العالمین کے فرستادہ ہیں ۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ تم اللہ کی وحدانیت کو قبول کرلو اور دوسری بات یہ کہ بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے آزاد کر دو ۔ اس کے جواب میں فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو طعن کیا کہ کیا تم وہی نہیں جس کی ہم نے بچپن…
Read the full tafseer →قَالَ لِمَنْ حَوْلَہٗٓ اَلَا تَسْتَمِعُوْنَ 25
حول
أصل الحَوْل تغيّر الشیء وانفصاله عن غيره، وباعتبار التّغيّر قيل : حَالَ الشیء يَحُولُ حُؤُولًا، واستحال : تهيّأ لأن يحول، وباعتبار الانفصال قيل : حَالَ بيني وبینک کذا، وقوله تعالی:
وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ [ الأنفال/ 24]
( ح ول ) ' الحوال
( ن ) دراصل اس کے معنی کسی چیز کے متغیر ہونے اور دوسری چیزوں سے الگ ہونا کے ہیں ۔ معنی تغییر کے اعتبار سے حال الشئی یحول حوولا کا محاورہ استعمال ہوتا ہے جس کے معنی کی شے کے متغیر ہونیکے ہیں ۔ اور استحال کے معنی تغیر پذیر ہونے کے لئے مستعد ہونے کے اور معنی انفصال کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–34
بدنصیب یہ معجزے دیکھ کر ایمان تو نہ لایا کہہ دیا کہ یہ بڑا جادوگر ہے اس کے زور سے تمہارا ملک لینا چاہتا ہے۔ فرعونیوں کے عہد میں جادو اور طلسم کا بڑا زور تھا چناچہ اس عہد کے یادگار مسلمانوں کے ابتدائِ عہد تک موجود تھے جن کو اہل اسلام کے مؤرخین نے نقل کیا ہے دیکھو تاریخ مصر، درباریوں نے صلاح دی کہ آپ بھی اپنے ملک میں سے نامور جادوگر ایک روز معین میں جمع کر کے اس کو عاجز کر دیجئے اور عید یا کوئی فرعونیوں کا میلہ ہوتا تھا جس میں سب لوگ شریک ہوتے تھے وہ روز قرار پایا تاکہ سب لوگ موسیٰ ( علیہ السلام) کا عجز ملاحظہ کریں۔ چناچہ اس روز وہ سب جادوگر اور طلسم کار آئے اور ایک میدان میں فرعون اور اس کے…
Read the full tafseer →قَالَ لِمَنْ حَوْلَـہٗٓ اَلاَ تَسْتَمِعُوْنَ ۔ (الشعرآء : 25)
(فرعون نے اپنے گردوپیش کے لوگوں سے کہا کیا تم سن نہیں رہے ہو۔ )
فرعون کی بوکھلاہٹ
فرعون نے اپنے درباریوں اور حاشیہ نشینوں کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ تم سن رہے ہو یہ شخص کیا کہہ رہا ہے، یہ درحقیقت میری حیثیت کو چیلنج کررہا ہے اور ایک ایسے بالاتر حکمران کی نمائندگی کا دعویٰ کررہا ہے جس کے مقابلے میں، میں ایک ادنیٰ حیثیت کا مالک ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 24–27
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے درمیان مکالمہ جاری ہے۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دوسری دلیل یہ دی کہ میں اس رب کی طرف سے رسول بنایا گیا ہوں۔ جو تمہارا اور تمہارے باپ دادا کا رب ہے۔ اس دلیل کا صاف مطلب تھا کہ ” اے فرعون ! میں تجھے رب ماننے کے لیے تیار نہیں ہوں۔ “ جس کا دوسرا مطلب یہ تھا کہ تو مصر کے لوگوں کا رب ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ اس کا کیا جواب ہے کہ تجھے اور تیرے آباء و اجداد کو کس نے پیدا کیا ؟ ظاہر ہے کہ نہ تو نے اپنے آپ کو پیدا کیا اور نہ ہی پہلے لوگوں کو پیدا کرنے والا ہے۔ فرعون اس دلیل کی وجہ سے جھنجھلاہٹ میں آکر اپنے درباریوں سے کہنے لگا کہ تمہاری طرف…
Read the full tafseer →25: قَالَ (فرعون نے کہا) لِمَنْ حَوْلَہٗ (ان کو جو اس کے اردگرد تھے) یعنی اس کی قوم کے سردار جن کی تعداد پانچ سو تھی جو کنگن پہنے ہوئے تھے یہ بادشاہوں کیلئے خاص تھی اَلَا تَسْتَمِعُوْنَ ( کیا تم سن رہے ہو ! ) اپنی قوم کو موسیٰ (علیہ السلام) کے جواب پر تعجب میں ڈالنا چاہ رہا تھا۔ کیونکہ وہ لوگ آسمان و زمین کے قدیم ہونے کے قائل تھے اور ان کے متعلق کسی رب کے قائل نہ تھے اسی لئے موسیٰ (علیہ السلام) کو ضرورت پڑی کہ ان کے سامنے ایسا استدلال پیش کریں جس سے آسمان و زمین کا حدوث وفناء ان کو مشاہداتی طور پر معلوم ہوجائے پس استدلال کرتے ہوئے آپ نے فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
25۔ قال لمن حولہ، ، اس کی قوم کے بڑے بڑے سردار، ابن عباس کا قول ہے کہ فرعون کے اردگرد پانچ سواشخاص موجود تھے فرعون اس بات کو بعید سمجھتے ہوئے موسیٰ کی اس بات کو ان لوگوں کے سامنے پیش کیا اور کہا، الاتسمعون، یہ اس لیے کہا کہ ان لوگوں کا یہ اعتقاد تھا کہ آسمان اور زمین کے مالک یہی ہیں۔ پھر حضرت موسیٰ نے اس بات کو مزید واضح بیان کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
(23 تا 30) جب مدین سے مصر آتے وقت حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو نبوت عطا ہوئی اور اس کی قوم کو ہدایت کرنے کا اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا۔ جس کا قصہ آگے سورة قصص میں آوے گا اور مدین کے سفر سے حضرت موسیٰ مصر پہنچے تو اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے موافق حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون دونوں مل کر اللہ کا حکم پہنچانے کی غرض سے فرعون کے محل کے دروازہ پر گئے دستک دی دروازہ کے دربانوں نے پوچھا تم کون ہو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے جواب دیا ہم اللہ کے رسول اور قاصد ہیں اور فرعون کی ہدایت کو آئے ہیں فرعون کی قوم میں چار سو برس سے یہ بات پھیلی ہوئی تھی کہ وہ لوگ فرعون کو اپنا خدا جانتے تھے اس لیے دربانوں نے حضرت موسیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–68
آیت نمبر 10 سے 68
اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں موسیٰ (علیہ السلام) کی مدح وثنا اور ان کے واقعات کا بار بار جتنا اعادہ کیا ہے اتنا کسی اور واقعے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ عظیم حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس قصے میں اہل ایمان اور اہل کفر کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے طرز عمل کی تفصیل ہے نیز موسیٰ (علیہ السلام) صاحب شریعت کبری اور صاحب تورات تھے جو قرآن عظیم کے بعد سب سے افضل کتاب ہے۔
فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجئے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندادی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، ان کو رسول بنا کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–27
20 فرعون کی بوکھلاہٹ اور اس کے طنز و استہزاء کا ایک نمونہ : سو اس سے حضرت موسیٰ کے جواب کے نتیجے میں فرعون کی بوکھلاہٹ سامنے آتی۔ یعنی { رسولکم } اس ملعون نے طنز کے طور پر کہا۔ ورنہ وہ حضرت موسیٰ کو رسول تھوڑا ہی مانتا تھا۔ حضرت موسیٰ کے مسکت جواب سے اس کے کبر و غرور پر جو چوٹ لگی اس سے وہ تلملا اٹھا اور اپنے درباریوں اور دوسروں کی طرف مڑ کر کہنے لگا۔ سنتے ہو یہ شخص کیا کہتا ہے ؟ یہ تو دیوانہ ہے۔ سو حضرت موسیٰ نے جب ان کے آباء و اجداد کی گمراہی کو واضح کردیا تو اس سے فرعون کا پارہ اور چڑھ گیا تو اس نے غصے میں جھنجھلا کر ایسے کہا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–68
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ
تشریح : اس واقعہ میں بیشمار نصیحتیں ‘ اللہ کے کمالات ‘ عجزو انکساری اور سب سے بڑھ کر توکل علی اللہ کا بہت زبردست سبق ملتا ہے۔ ایمان کامل انسان کے اندر اس قدر ہمت ‘ جرأت ‘ بہادری اور معرفت پیدا کردیتا ہے کہ انسان مادی اصولوں سے بےنیاز ہو کر روحانی دنیا میں گم ہوجاتا ہے اور اس کو اللہ ‘ اس کی مدد ‘ اس کا سایہ دنیا کے ہر خطرے سے محفوظ بےنیاز کردیتا ہے۔ جیسا کہ سید حسین نصر صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں : ” سچے مومن کی فراست تکمیل کو پہنچ جاتی ہے جیسا کہ اللہ نے فرمایا ” اللہ کی یاد میں دلوں کا سکون ہے۔ “ ( سورة رعد آیت : 28)
ایسا شخص جو اس حالت میں ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–33
آیات 10 تا 33
اسرار و معارف
نبی اکرم ﷺ کی شفقت کس قدر ہے اس کا اندازہ کیجیے کہ کفار کا دکھ بھی کس شدت سے محسوس فرماتے ہیں دوستاں راکجا کنی محروم۔ تو کہ بادشمناں نظر داری یعنی جس کا لطف و کرم دشمن پہ بھی عام ہے بھلا دوستوں کو کب محروم کرسکتا ہے تو آپ ﷺ کی تشفی فرماتے ہوئے اللہ کریم نے انسانوں پہ اپنے کرم کی ایک ادا کا تذکرہ فرمایا کہ فرعون کس قدر ظالم اور گستاخ کافر تھا اور اپنے خدا ہونے کا دعویدار بھی مگر اللہ کریم نے اسے بھی محروم نہ رکھا اور اپنے اولوالعزم رسول کو اس کے پاس بھیجا معجزات اور دلائل دیئے اور ہدایت کی طرف بلایا اگر وہ اپنی پسند سے دوسرے راستے پر ہی جانا چاہتا ہو تو پھر ایسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
14 ۔ یعنی میں تمہیں اس رب العالمین کی طرف دعوت دے رہا ہوں جو جس طرح آج تمہارا رب ہے کل تمہارے باپ دادا کا بھی رب تھا اور تمہاری آئندہ نسلوں کا بھی رب ہوگا۔ اس کی شان یہ نہیں کہ وہ کل تھا اور آج نہیں یا آج ہے اور کل نہیں ہوگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
(26:25) حولہ مضاف مضاف الیہ۔ اس کے گرد۔ اس کے آس پاس الحول (باب نصر) کے اصل معنی کسی چیز کے متغیر ہونے اور دوسری چیزوں سے الگ ہونے کے ہیں ۔ حال الشیء یحول حوول کسی شے کا متغیر ہوجانا اور انفصال کے اعتبار سے حال بینی و بینک یعنی میرے اور تیرے درمیان فلاں چیز حائل ہوگئی۔ تغیر کے معنی میں اور جگہ قرآن مجید میں ہے لا یبغون عنھا حولا (18:108) اور وہاں سے مکان بدلنا نہ چاہیں گے۔ یہاں حولا کے معنی تھول یعنی پھرنے کے ہیں۔
حول الشیء میں حول سے مراد کسی شے کی وہ جانب جس کی طرف اسے پھیرنا ممکن ہو قرآن مجید میں ہے الذین یحملون العرش ومن حولہ (40:5) جو فرشتے کہ عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور جو (فرشتے) اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–33
لغات القرآن : آیت نمبر 23 تا 33 :
موقنین (یقین کرنے والے) ‘ حولہ (اس کا اردگرد۔ آس پاس) ‘ الا تستمعون (کیا تم سنتے ہو ؟ ) ‘ اتخذت (تونے بنایا) ‘ المسجونین (قیدکئے گئے) ‘ عصا (لاٹھی) ‘ ثعبان (اژدھا۔ بڑا سانپ) ‘ نزع (اس نے نکالا۔ اس نے کھینچا) ‘ بیضاء سفید۔ روشن ‘ نظرین (دیکھنے والے) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 23 تا 33 :
جیسا کہ گذشتہ آیات میں آپ نے پڑھا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) اللہ کا پیغام لے کر فرعون کے بھرے دربار میں پہنچے تو فرعون بوکھلا گیا پہلے تو اس نے اپنی کمینگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان احسانات کو یاد دلایا کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–30
فرعون کا قصہ۔
(ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ فرعون کی قوم کے پاس جاؤ جنہوں نے اپنی جانوں پر کفر کرکے اور بنی اسرائیل کو غلام بنا کر ظلم کررکھا ہے وہ اللہ سے نہیں ڈرتے کہ اس کی اطاعت کریں اور اکیلا جانیں کسی کو اس کا شریک نہ بنائیں تو حضرت موسیٰ نے کہا، اے میرے پروردگار میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ وہ مجھ کو جھٹلادیں اور ان کے جھٹلانے سے میرا دل تنگ ہوجائے اور میں طاقت لسانی بھی نہیں رکھتا، کیونکہ بوجہ لکنت کے صاف بول نہیں سکتا۔ اس لیے میرے بھائی ہارون کو بھی میرے ساتھ پیغمبر کر، اس کے علاوہ فرعون والوں کا مجھ پر الزام ہے میں نے ایک آدمی کو مارڈالا ہے اس واسطے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–35
[9] رب ہونے کا دعویٰ کرنے والا اتنی جلدی حواس باختہ ہوگیا کہ اپنے ماتحتوں کے احکام پر چلنے کے لئے آمادہ ہوگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–28
مارب العلمین ۔ ما یہاں منطقی تعریف کے لئے نہیں بلکہ اس کا مقصود یہ تھا کہ موسیٰ خدا کا صحیح صحیح تخیل پیش کریں ۔
Read the full tafseer →(25) اس پر فرعون نے اپنے گروپیش کے لوگوں سے کہا کیا تم کچھ سنتے ہو اپنے حاشیہ نشینوں کو توجہ دلانے لگا کہ کچھ سن بھی رہے ہو سوال کچھ اور جواب کچھ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–38
ف 1۔ معین دن سے رماد یوم الزنیة ہے اور خاص وقت سے مراد وقت ضحی ہے جیسا سورة طہ کے شروع رکوع سوم میں اس کا متعین ہونا مقابلہ کے لئے مذکور ہے، یعنی اس وقت کے قریب تک سب جمع کر لئے گئے اور فرعون کو جمع ہونے کی اطلاع کی گئی۔
Read the full tafseer →فرعون نے حاشیہ نشینوں سے کہا کہ سن رہے ہو جو موسیٰ (علیہ السلام) کہہ رہے ہیں :
25۔ فرعون نے درباریوں کو مخاطب کرکے کہا کہ سن رہے ہو جو موسیٰ (علیہ السلام) کہہ رہا ہے ؟ ظاہر ہے کہ جو بات موسیٰ (علیہ السلام) نے کہی وہ پورے اس معاشرہ کے عقیدہ کے خلاف تھی اور جہالت کا سب سے بڑا کارنامہ یہی ہوتا ہے کہ وہ اپنے عقیدہ کے خلاف بات کبھی نہیں سن سکتے لہذا وہ سنتے ہی بےاختیار کوئی قدم اٹھا دیتے ہیں اور قوم کے مذہبی ٹھیکیدار اور سیاسی لیڈر ان کی حوصلہ افزائی کے لئے ان کی پشت پر ہاتھ رکھ دیتے ہیں اور جذبات کی اس لہر میں وہ ان سے جو کچھ کرانا چاہتے ہیں کرا لیتے ہیں ، فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کی بات سن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–42
أَنْ أَرْسِلْ مَعَنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ
That you must send the children of Isra'i1 with us". (26:17)
Bani Isra'il were the residents of Syria. They wanted to go back to their land but the Pharaoh would not let them. This way four hundred years had passed and they were living in his bondage like slaves. At that time they were six hundred and thirty thousand in number. Sayyidna Musa (علیہ السلام) when presented the message of Truth to the Pharaoh, he also asked him to stop all the cruelties he had perpetrated over Bani Isra'il and to let them go to their homeland. (Qurtubi)
An example of…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
22 These words were addressed to the chiefs of Pharaoh, whom he had asked, "Do you hear?" Prophet Moses said: "I do not believe in the false gods who exist today, but did not exist yesterday, or who existed yesterday but do not exist today. This Pharaoh, whom you worship as your lord today, did not exist yesterday, and the Pharaohs whom your elders worshipped yesterday, do not exist today; whereas I believe in the sovereignty and authority of that Lord Who is both your Lord and Pharaoh's Lord as much today as He was your elders' Lord before this."
Read the full tafseer →