Explained with ayahs 23–28
چونکہ فرعون نے اپنی رعیت کو بہکا رکھا تھا اور انیں یقین دلایا تھا کہ معبود اور رب صرف میں ہی ہوں میرے سوا کوئی نہیں اس لیے ان سب کا عقیدہ یہ تھا۔ جب حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا کہ میں رب العالمین کا رسول ﷺ ہوں تو اس نے کہا کہ رب العالمین ہے کیا چیز ؟ مقصد یہی تھا کہ میرے سوا کوئی رب ہے ہی نہیں تو جو کہہ رہا ہے محض غلط ہے۔ چناچہ اور آیت میں ہے کہ اس نے پوچھا آیت (فمن ربکما یا موسیٰ) موسیٰ تم دونوں کا رب کون ہے ؟ اس کے جواب میں کلیم اللہ نے فرمایا جس نے ہر ایک کی پیدائش کی ہے اور جو سب کا ہادی ہے۔ یہاں پر یہ یاد رہے کہ بعض منطقیوں نے یہاں ٹھوکر کھائی ہے اور کہا ہے کہ فرعون کا سوال اللہ کی ماہیت سے…
Read the full tafseer →سورة الشُّعَرَآء 19
بیچ میں یہ تفصیل چھوڑ دی گئی ہے کہ حضرت موسیٰ نے اپنے آپ کو رب العالمین کے رسول کی حیثیت سے پیش کر کے فرعون کو وہ پیغام پہنچایا جس کے لیے وہ بھیجے گئے تھے۔ یہ بات آپ سے آپ ظاہر ہے کہ نبی نے ضرور وہ پیغام پہنچا دیا ہوگا جس پر وہ مامور کیے گئے تھے، اس لیے اس کا ذکر کرنے کی حاجت نہ تھی۔ اسے چھوڑ کر اب وہ گفتگو نقل کی جاتی ہے جو اس پیغام کی تبلیغ کے بعد فرعون اور موسیٰ کے درمیان ہوئی۔
سورة الشُّعَرَآء 20
یہ اس کا سوال حضرت موسیٰ کے اس قول پر تھا کہ میں رب العالمین (تمام جہان والوں کے مالک و آقا اور فرماں روا) کی طرف سے بھیجا گیا ہوں اور اس لیے بھیجا گیا ہوں کہ تو بنی اسرائیل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–33
خدائے ذوالجلال کی ذات و حقیقت کا علم انسان کے لئے ناممکن ہے
قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ ، اس آیت مبارکہ سے ثابت ہوا کہ خدائے ذوالجلال کی کنہ و حقیقت کا جاننا ممکن نہیں کیونکہ فرعون کا سوال اللہ تعالیٰ کی حقیت، ماہیت کے متعلق تھا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے بجائے ماہیت باری تعالیٰ بتلانے کے اللہ تعالیٰ کے اوصاف بیان فرمائے جس سے اشارہ فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ کی کنہ اور حقیقت کا ادراک ناممکن ہے اور ایسا سوال ہی کرنا بیجا ہے۔ (کذا فی الروح)
Read the full tafseer →دعوائے رسالت کا استہزاء
فرعون اپنے طعنہ اور اظہار احسان کا جواب تو ایسا مسکت پا گیا کہ اس کے لئے مزید کچھ کہنے کی گنجائش باقی نہیں رہ گئی اس وجہ سے اس نے اپنا بھرم قائم رکھنے کے لئے حضرت موسیٰ کے دعوائے رسالت کا مذاق اڑانے کی کوشش کی۔ اوپر آیت 16 میں گزر چکا ہے کہ حضرت موسیٰ و حضرت ہارون (علیہما السلام) نے اس کے سامنے اپنے آپ کو اللہ رب العالمین کے رسول کی حیثیت سے پیش کیا تھا۔ اس نے رب العالمین کا مذاق اڑایا کہ یہ رب العلمین کیا چیز ہے جس کے تم دونوں رسول بن کر آئے ہو ! اس کا مطلب یہ تھا کہ سب سے بڑے دیوتا کا اوتار اور رب العلمین کیا چیز ہے جس کے تم دونوں رسول بن کر آئے ہو ! اس کا مطلب یہ…
Read the full tafseer →23-1یہ اس نے بطور دریافت کے نہیں، بلکہ جواب کے طور پر کہا، کیونکہ اس کا دعویٰ تو یہ تھا (مَا عَلِمْتُ لَکُمْ مِّنْ اِلٰہِ غَیْرِیْ) (وَقَالَ فِرْعَوْنُ يٰٓاَيُّهَا الْمَلَاُ مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرِيْ ۚ فَاَوْقِدْ لِيْ يٰهَامٰنُ عَلَي الطِّيْنِ فَاجْعَلْ لِّيْ صَرْحًا لَّعَلِّيْٓ اَطَّلِــعُ اِلٰٓى اِلٰهِ مُوْسٰي ۙ وَاِنِّىْ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الْكٰذِبِيْنَ) 28۔ القصص :38) ' میں اپنے سوا تمہارے لئے کوئی اور معبود جانتا ہی نہیں '
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
8: حضرت موسیٰ ؑ مصر سے مدین چلے گئے تھے جہاں سے واپسی میں انہیں نبوت عطا ہوئی۔ تفصیلی واقعہ سورة قصص میں آنے والا ہے۔
Read the full tafseer →قال فرعون و ما رب العلمین (23)
اس کا خانہ خراب ہو وہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں کہتا ہے کہ رب العالمین کیا ہوتا ہے۔ جس کی طرف سے تم کو رسول بنا کر بھیجا گیا ہے۔ یہ اس انداز کا سوال ہے کہ گویا وہ رب العالمین کے بارے میں کچھ جانتا ہی نہیں لیکن یہ غرور کا ایک انداز ہے۔ وہ گویا حضرت موسیٰ کے دعویٰ کو ایک عجیب و غریب دعویٰ تصور کر کے اسے ناممکن الوقوع تصور کرتا ہے اور یہ تاثر قائم کرتا ہے کہ ایسے دعویٰ پر تو بات کرنا بھی فضول ہے۔
موسیٰ (علیہ السلام) اس طرح جواب دیتے ہیں کہ رب العالمین وہ ہے جس کی الوہیت تمام دکھائی دینے والی کائنات پر مشتمل ہے۔ زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی تمام چیزوں کا رب۔
Read the full tafseer →13 یعنی موسیٰ (علیہ السلام) نے (فَقُوْلَآ اِنَّا رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ) 26 ۔ الشعراء :16) کے امتثال میں اپنے کو " رب العالمین " کا پیغمبر کہا، اس پر فرعون حجود، تعنت اور ہٹ دھرمی کی راہ سے بولا کہ (العیاذ باللہ) رب العالمین کیا چیز ہوتی ہے، میری موجودگی میں کسی اور رب کا نام لینا کیا معنی رکھتا ہے کیونکہ اس شقی ازلی کا دعویٰ تو اپنی قوم کے روبرو یہ تھا ماعَلِمْتُ لَکُمْ مِنْ اِلٰہٍ غَیْرِی (میں اپنے سوا تمہارے لیے کوئی معبود نہیں سمجھتا) اور (اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰی) 79 ۔ النازعات :24) (تمہارا بڑا پروردگار میں ہوں) چناچہ اس کی قوم کے لوگ بعض تو انتہائی جہل و بلادت سے اور بعض خوف یا…
Read the full tafseer →آیت 23 قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ ”
تم نے دعویٰ کیا ہے کہ تم رب العالمین کے رسول ہو اور اس کی طرف سے بھیجے گئے ہو ‘ تو یہ رب العالمین کون ہے ؟
Read the full tafseer →16 فرعون نے پوری مملکت کے رسائل معاش اپنے قبضہ میں کر رکھے تھے۔ اسی لحاظ سے وہ اپنے آپ کو اپنی رعیت کا پروردگار یا رب سمجھے بیٹھا تھا اور اپنے رب ہونے کا دعویٰ بھی کرتا تھا۔ اس نے ملک بھر میں اپنے مجسمے نصب کروا رکھے تھے۔ جن کی پوجا کی جاتی تھی اس نے اپنی رعیت کے ذہنوں میں یہ بات راسخ کردی تھی کہ ان کا پرورش کنندہ میں ہی ہوں۔ لہذا موسیٰ (علیہ السلام) نے یوں فرمایا کہ ہم رب العالمین کے رسول ہیں تو وہ فوراً چونک اٹھا اور ازراہ حقارت کہنے لگا کہ یہ رب العالمین کیا ہوتا ہے۔ اپنی رعیت کا رب تو میں خود ہوں۔ یہ کون سے رب العالمین کی بات کرتے ہو ؟
Read the full tafseer →22۔ سوال فرعون کی طرف سے ہورہا ہے، جو مجسمہ شرک تھا، عقیدہ توحید سے تمامتر نا آشنا۔ مصری عقیدہ میں سورج دیوتا سب سے بڑا دیوتا تھا اور خود فرعون اس کا اوتار یا مظہر۔ اسے بڑی حیرت ہوئی کہ موسیٰ (علیہ السلام) یہ انوکھا لفظ رب العالمین کیا بول رہے ہیں ؟ عالمگیر ربوبیت کا تخیل ہی مشرکانہ دماغ کی گرفت سے باہر رہتا ہے۔ جاہلی دماغ الگ الگ اصناف موجودات کے دیوی دیوتا تو سمجھ لیتا ہے، لیکن اس حقیقت کے قبول کرنے میں اور وہ اپنے تنگ پاتا ہے کہ کوئی ایک پروردگار ساری کائنات کا ہے۔ توریت میں ہے ” فرعون نے کہا کہ خداوند کون ہے کہ میں اس کی آواز کو سنوں کہ بنی اسرائیل کو جانے دوں ؟ میں خداوند کو نہیں جانتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–33
آیت نمبر 10 تا 33
ترجمہ : اور اے محمد ﷺ اپنی قوم کو اس وقت کا واقعہ یاد دلائیے کہ جب تیرے رب نے موسیٰ کو حکم دیا اس رات میں جبکہ موسیٰ نے آگ اور درخت کو دیکھا کہ تو ظالم قوم کے پاس رسول بن کر جا قوم فرعون کے پاس مع فرعون کے انہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کرکے اور بنی اسرائیل کو غلام بنا کر اپنے اوپر ظلم کیا ہے اَلاَ یتقون میں ہمزہ استفہام انکاری کے لئے ہے کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو کہ اس کی طاعت اختیار کرکے اس کی توحید کے قائل ہوجاؤ تو موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے پروردگار مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے اور ان کے میری تکذیب کی وجہ سے میرا دل تنگ ہوجائے، اور اداء رسالت کے…
Read the full tafseer →قال فرعون وما رب العلمین (بطور تحقیق) کہنے لگا رب العلمین کیا چیز ہوتی ہے۔ یعنی فرعون نے رب العالمین کی حقیقت دریافت کی اور ظاہر ہے کہ اللہ کی ذات مرکب نہیں ہے کہ اس کے اجزاء ذاتیہ حضرت موسیٰ بتا دیتے اور فرد کے صرف خصوصیات ہی بتائے جاسکتے ہیں (یعنی صرف تعریف بالخاصہ ہی ہوسکتی ہے) اس لئے حضرت موسیٰ نے جواب میں اللہ کے خصوصی افعال اور آثار کا ذکر کیا اور۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
(23۔ 24) فرعون نے حضرت موسیٰ ؑ سے کہا کہ رب العالمین کی ماہیت اور اس سے تمہارا مقصود کیا ہے، حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا کہ رب العالمین آسمان و زمین اور ان کے درمیان جو مخلوقات اور عجائبات ہیں ان سب کا پروردگار ہے اگر تمہیں اس بات کا یقین ہو کہ آسمان و زمین کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔
Read the full tafseer →قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ : فرعون نے جب دیکھا کہ وہ موسیٰ ؑ کو خوف زدہ نہیں کرسکا اور وہ کسی صورت توحید کی دعوت سے اور بنی اسرائیل کی آزادی کے مطالبے سے باز آنے والے نہیں تو وہ مجادلے پر اتر آیا۔ عموماً مناظرے کا کامیاب اسلوب یہ سمجھا جاتا ہے کہ مدّ مقابل کو سوالات میں الجھا دیا جائے۔ تو اس کے مطابق اس نے کہا : (وَمَا رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ) ”اور رب العالمین کیا ہے ؟“ واؤ عطف اس لیے ہے کہ اس سے پہلے وہ ایک سوال کرچکا تھا : (اَلَمْ نُرَبِّكَ فِيْنَا وَلِيْدًا) یہ اس پر عطف ہے۔ یہاں مفسرین عام طور پر لکھتے ہیں کہ ”مَا“ کے ساتھ کسی چیز کی حقیقت کے متعلق سوال ہوتا ہے، چونکہ مخلوق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–51
( قال فرعون وما رب العلمین۔۔۔۔ )
قال فرعون وما رب العٰلمین جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) میں فرعون پر غالب آگئے اور فرعون لعین نے تربیت اور دوسری چیزوں میں کوئی دلیل نہ پائی تو وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے معاوضہ کے لیے آپ کے قول رسول رب العٰلمین کی طرف متوجہ ہوئے تو اس نے ایسا سوال کیا جو مجہول چیز کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے۔ مکی اور دوسرے علماء نے کہا : جس طرح اجناس کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے، اسی وجہ سے ما کے ساتھ سوال کیا۔ مکی نے کہا : ایک اور جگہ من کے ساتھ بھی استفہام واقع ہوا ہے یہ اس کے مشابہ ہے کہ یہاں کئی مواطن ہیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مخلوقات میں سے ایسی صفات لائے جو اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–51
1۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” یعنی طور کے داہنی جانب سے ان کو آواز دی گئی۔
2۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جرری وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ ایک جان کے قتل کرنے کا الزام جو ان کے درمیان قتل ہوا آیت ” وفعلت فعلتک التی فعلت “ سے مراد بھی انسان کا قتل ہے۔ آیت ” فعلتہا اذا وانا من الضالین “ یعنی جب میں چوک جانے والوں میں سے تھا۔
3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ یعنی ایک جان کا قتل کرنا آیت ” الم لربک فینا ولیدا “ یعنی ان کو فرعون والوں سے اٹھا لیا سو اس بچے کو…
Read the full tafseer →قَالَ [ کہا ] فِرْعَوْنُ [ فرعون نے ] وَمَا [ اور کیا چیز ہے ] رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ [ تمام جہانوں کا رب ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–34
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ کے لیے فرعون کا جادو گروں کو بلانا، مقابلہ ہونا اور جادو گروں کا شکست کھا کر ایمان قبول کرنا
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے جواب وسوال سے عاجز ہو کر اور دو بڑے معجزے دیکھ کر فرعون کی شکست تو اسی وقت ہوگئی لیکن اس نے اپنی خفت مٹانے اور درباریوں کو مطمئن رکھنے اور ان کے ذریعہ ساری قوم کو اپنی فرمانبرداری پر جمائے رکھنے کے لیے سرداروں سے کہا جو اس وقت وہاں موجود تھے کہ سمجھ میں آگیا یہ تو ایک بڑا ماہر جادوگر ہے یہ چاہتا ہے کہ تمہیں مصر کی سر زمین سے نکال دے اور اپنی قوم کا بڑا بن کر ان کو ساتھ لے کر حکومت کرنے لگے۔ تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو ؟ سورة اعراف میں ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–33
مکاملہ موسیٰ (علیہ السلام) بافرعون
دربارہ ربوبیت خداوند کون
قال اللہ تعالیٰ قال فرعون وما رب العلمین .... الیٰ .... فازا ہی بیضاء للنظرین۔
فرعون اس گفتگو میں ذلیل و خوار ہوا تو اس نے موسیٰ (علیہ السلام) کے اس قول انا رسول رب العلمین۔ یعنی ہم دونوں اللہ رب العالمین کے پیغمبر ہیں یعنی ان کے دعوائے نبوت پر اعتراض شروع کیا۔ اور اللہ رب العالمین کی ربوبیت میں جھگڑا لگانے لگا چناچہ فرعون بولا اچھا بتاؤ کہ وہ رب العالمین جس کے رسول ہونے کا تو مدعی ہے وہ کیا چیز ہے وہ کون ہے اور کیا ہے تمہارا دعویٰ یہ ہے کہ ہم رب العالمین کے رسول مرسل ہیں یعنی اس کے فرستادہ ہیں لہٰذا تم کو چاہئے کہ اول اپنے مرسل…
Read the full tafseer →15:۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے دعوے میں کہا تھا ” انا رسول رب العلمین “ اب فرعون نے ان سے سوال کیا وہ ” رب العلمین “ کون ہے اور اس کی صفات کیا ہیں ؟ ” قال رب السموات الخ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا ” رب العلمین “ وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا اور جو کچھ ان میں ہے ساری کائنات کا مالک ہے۔ اگر تم ماننا چاہو تو یہی کافی ہے کیونکہ جو ساری کائنات کا مالک ہو وہی کارساز، برکات دہندہ اور ہر قسم کی عبادت کا مستحق ہوسکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–33
ربط آیات
اس سورة کی ابتداء سے موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت کا تذکرہ بیان کیا گیا ۔ جب اللہ تعالیٰ نے آپ کے سر پر تاج نبوت رکھا تو آپ کو حکم دیا کہ فرعون کے سامنے جا کر کلمہ حق بلند کرو۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے بعض مشکلات کا ذکر کیا تو اللہ نے آپ کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو بھی نبوت عطا فرمائی اور پھر دونوں کو حکم ہوا کہ فرعون سے جا کر کہو کہ ہم دونوں رب العالمین کے فرستادہ ہیں ۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ تم اللہ کی وحدانیت کو قبول کرلو اور دوسری بات یہ کہ بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے آزاد کر دو ۔ اس کے جواب میں فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو طعن کیا کہ کیا تم وہی نہیں جس کی ہم نے بچپن…
Read the full tafseer →قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ 2 3 ۭ
فِرْعَوْنُ
: اسم أعجميّ ، وقد اعتبر عرامته، فقیل : تَفَرْعَنَ فلان : إذا تعاطی فعل فرعون، كما يقال : أبلس وتبلّس، ومنه قيل للطّغاة : الفَرَاعِنَةُ والأبالسة .
فرعون
یہ علم عجمی ہے اور اس سے سرکش کے معنی لے کر کہا جاتا ہے تفرعن فلان کہ فلاں فرعون بنا ہوا ہے جس طرح کہ ابلیس سے ابلس وتبلس وغیرہ مشتقات استعمال ہوتے ہیں اور ایس سے سرکشوں کو فراعنۃ ( جمع فرعون کی اور ابا لسۃ ( جمع ابلیس کی ) کہا جاتا ہے ۔
عالَمُ
والعالَمُ : اسم للفلک وما يحويه من الجواهر والأعراض، وهو في الأصل اسم لما يعلم به کالطابع والخاتم لما يطبع به ويختم به، وجعل بناؤه علی هذه…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–34
بدنصیب یہ معجزے دیکھ کر ایمان تو نہ لایا کہہ دیا کہ یہ بڑا جادوگر ہے اس کے زور سے تمہارا ملک لینا چاہتا ہے۔ فرعونیوں کے عہد میں جادو اور طلسم کا بڑا زور تھا چناچہ اس عہد کے یادگار مسلمانوں کے ابتدائِ عہد تک موجود تھے جن کو اہل اسلام کے مؤرخین نے نقل کیا ہے دیکھو تاریخ مصر، درباریوں نے صلاح دی کہ آپ بھی اپنے ملک میں سے نامور جادوگر ایک روز معین میں جمع کر کے اس کو عاجز کر دیجئے اور عید یا کوئی فرعونیوں کا میلہ ہوتا تھا جس میں سب لوگ شریک ہوتے تھے وہ روز قرار پایا تاکہ سب لوگ موسیٰ ( علیہ السلام) کا عجز ملاحظہ کریں۔ چناچہ اس روز وہ سب جادوگر اور طلسم کار آئے اور ایک میدان میں فرعون اور اس کے…
Read the full tafseer →قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ (الشعرآء : 23)
(فرعون نے کہا کہ رب العالمین کیا ہوتا ہے۔ )
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مسکت جواب پر فرعون کا خلط مبحث
فرعون جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی باتوں کا جواب نہ دے سکا تو اس نے کہا کہ تم جس رب العالمین کی نمائندگی کا دعویٰ کررہے ہو وہ کیا ہے ؟ جبکہ سب سے بڑا رب تو میں ہوں۔ ذرا اس کی حقیقت تو بیان کرو، کیونکہ عربی زبان میں ” ما “ کا لفظ کسی چیز کی حقیقت اور ماہیت معلوم کرنے کے لیے آتا ہے۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سوال سے فرعون رب العالمین کی حقیقت معلوم کرنا چاہتا تھا۔ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حقیقت پر آگاہ ہونا انسان کے لیے ناممکن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–23
فہم القرآن
ربط کلام : فرعون اور موسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان مکالمہ۔
فرعون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر احسان جتلانے اور ان کی قوم کو غلام بنانے کے معاملے میں لاجواب ہوا۔ تو اس نے موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ سوال کیا کہ تم کس رب العالمین کی بات کرتے ہو۔ جس کا معنٰی تھا کہ میرے سوا کون رب ہوسکتا ہے ؟
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا تفصیلی جواب دینے کی بجائے سادہ اور جامع جواب دیا کہ میں اس رب کا رسول ہوں۔ جو آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا رب ہے۔ اگر تم اس پر یقین کرنے کے لیے تیار ہو۔ یاد رہے کہ رب کا معنی خالق، رازق، مالک اور بادشاہ ہے۔ فرعون نے اپنا سکہ…
Read the full tafseer →فرعون کا سوال :
23: قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ (فرعون کہنے لگا رب العالمین کیا چیز ہے) یعنی تو اس بات کا دعوے دار ہے کہ تو رب العالمین کا رسول ہے تو اس کی تعریف کیا ہے ؟ کیونکہ جب زید کی صفات کے متعلق سوال کیا جاتا ہے تو کہتے ہیں۔ مازید ؟ اس سے مراد یہ ہوتا ہے کہ لمبا یاچھوٹا فقیہ یا طبیب صاحب کشاف نے یہ لکھا ہے۔
Read the full tafseer →تفسیر۔
23۔ قال فرعون ومارب العالمین، ، فرعون کہنے لگا، رب العالمین، کیا چیز ہوتی اور اے موسیٰ تم گمان کرتے ہو کہ تاس کے بھیجے ہوئے رسول ہو تو اپنے الہ کی صفت بیان کرو جس نے تمہیں بھیجا ہے۔ فرعون نے جنس کے متعلق سوال کیا۔ اللہ رب العزت اس سے پاک ہیں۔ اس پر موسیٰ نے اس کو جواب دیا اور ان افعال کو لائے، (معجزات کو پیش کیا) جس کا مثل انسان لانے سے عاجز ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–30
(23 تا 30) جب مدین سے مصر آتے وقت حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو نبوت عطا ہوئی اور اس کی قوم کو ہدایت کرنے کا اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا۔ جس کا قصہ آگے سورة قصص میں آوے گا اور مدین کے سفر سے حضرت موسیٰ مصر پہنچے تو اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے موافق حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون دونوں مل کر اللہ کا حکم پہنچانے کی غرض سے فرعون کے محل کے دروازہ پر گئے دستک دی دروازہ کے دربانوں نے پوچھا تم کون ہو حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے جواب دیا ہم اللہ کے رسول اور قاصد ہیں اور فرعون کی ہدایت کو آئے ہیں فرعون کی قوم میں چار سو برس سے یہ بات پھیلی ہوئی تھی کہ وہ لوگ فرعون کو اپنا خدا جانتے تھے اس لیے دربانوں نے حضرت موسیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–68
آیت نمبر 10 سے 68
اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں موسیٰ (علیہ السلام) کی مدح وثنا اور ان کے واقعات کا بار بار جتنا اعادہ کیا ہے اتنا کسی اور واقعے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ عظیم حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس قصے میں اہل ایمان اور اہل کفر کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے طرز عمل کی تفصیل ہے نیز موسیٰ (علیہ السلام) صاحب شریعت کبری اور صاحب تورات تھے جو قرآن عظیم کے بعد سب سے افضل کتاب ہے۔
فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجئے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندادی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، ان کو رسول بنا کر…
Read the full tafseer →18 فرعون کے تکبر کا ایک اور مظہر و نمونہ : کہ اس نے کہا " یہ رب العالمین کیا ہوتا ہے ؟ " اور اس طرح اس ملعون نے حضرت موسیٰ و ہارون (علیہ السلام) کے دعوائے نبوت و رسالت کا استہزاء و مذاق اڑایا۔ فرعون ملعون چونکہ اپنے سے بالا کسی ہستی ۔ سپر پاور۔ (Super Power) کو ماننے کے لئے تیار ہی نہ تھا۔ اس کا کہنا تھا ۔ { مَا عَلِمْتُ لَکُمْ مِنْ اِلٰہٍ غَیْرِیْ } ۔ کہ " میں تم لوگوں کے لیے اپنے سوا کوئی معبود نہیں جانتا "۔ نیز اس کا نعرہ تھا ۔ { اَنَا رَبُّکُمُ الاَعْلٰی } ۔ کہ " میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں "۔ اس لئے اس نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ یہ رب العالمین کیا ہوتا ہے جس کا تم اپنے آپ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–68
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ
تشریح : اس واقعہ میں بیشمار نصیحتیں ‘ اللہ کے کمالات ‘ عجزو انکساری اور سب سے بڑھ کر توکل علی اللہ کا بہت زبردست سبق ملتا ہے۔ ایمان کامل انسان کے اندر اس قدر ہمت ‘ جرأت ‘ بہادری اور معرفت پیدا کردیتا ہے کہ انسان مادی اصولوں سے بےنیاز ہو کر روحانی دنیا میں گم ہوجاتا ہے اور اس کو اللہ ‘ اس کی مدد ‘ اس کا سایہ دنیا کے ہر خطرے سے محفوظ بےنیاز کردیتا ہے۔ جیسا کہ سید حسین نصر صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں : ” سچے مومن کی فراست تکمیل کو پہنچ جاتی ہے جیسا کہ اللہ نے فرمایا ” اللہ کی یاد میں دلوں کا سکون ہے۔ “ ( سورة رعد آیت : 28)
ایسا شخص جو اس حالت میں ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–33
آیات 10 تا 33
اسرار و معارف
نبی اکرم ﷺ کی شفقت کس قدر ہے اس کا اندازہ کیجیے کہ کفار کا دکھ بھی کس شدت سے محسوس فرماتے ہیں دوستاں راکجا کنی محروم۔ تو کہ بادشمناں نظر داری یعنی جس کا لطف و کرم دشمن پہ بھی عام ہے بھلا دوستوں کو کب محروم کرسکتا ہے تو آپ ﷺ کی تشفی فرماتے ہوئے اللہ کریم نے انسانوں پہ اپنے کرم کی ایک ادا کا تذکرہ فرمایا کہ فرعون کس قدر ظالم اور گستاخ کافر تھا اور اپنے خدا ہونے کا دعویدار بھی مگر اللہ کریم نے اسے بھی محروم نہ رکھا اور اپنے اولوالعزم رسول کو اس کے پاس بھیجا معجزات اور دلائل دیئے اور ہدایت کی طرف بلایا اگر وہ اپنی پسند سے دوسرے راستے پر ہی جانا چاہتا ہو تو پھر ایسے…
Read the full tafseer →12 ۔ یعنی اس کی حقیقت بتائو کہ وہ کیا چیز ہے ؟۔ فرعون نے یہ سوال اس بنا پر کیا کہ وہ خود خدا ہونے کا دعویدار تھا اور اس کی قومے بھی اس کا دعویٰ تسلیم کرلیا تھا اس لئے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے اس دعویٰ پر کہ مجھے سارے جہان کے رب نے بھیجا ہے۔ “ اس نے ہٹ دھرمی سے یہ سوال کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
ّ (26:22) تمنھا : من یمن منا (نصر) سے صیغہ واحد مذکر حاضر ہے علی کے صلہ کے ساتھ اس کے معنی ہیں کسی کو کوئی احسان جتلانا ھا ضمیر واحد مؤنث غائب نعمۃ کی طرف راجع ہے۔
ان بمعنی لان ہے ۔ ای انما صارت نعمۃ علی لان عبدت بنی اسرائیل لولم تفعل ذلک لکفلنی اہلی ولم یلقونی فی الیم یہ جو احسان تم مجھے جتلاتے ہو یہ سبب اس امر کے ہیں کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اگر تو ایسا نہ کرتا تو میرے اہل خانہ میری کفالت خود کرتے اور مجھے دریا میں نہ ڈالتے۔
مطلب یہ ہے کہ یہ جو تو مجھ پر احسان جتلا رہا ہے یہ سب بوجہ تمہارے بنی اسرائیل کو غلامی کی سخت بندھنوں میں جکڑنے اور ان پر مظالم ڈھانے کے ہے اگر تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–33
لغات القرآن : آیت نمبر 23 تا 33 :
موقنین (یقین کرنے والے) ‘ حولہ (اس کا اردگرد۔ آس پاس) ‘ الا تستمعون (کیا تم سنتے ہو ؟ ) ‘ اتخذت (تونے بنایا) ‘ المسجونین (قیدکئے گئے) ‘ عصا (لاٹھی) ‘ ثعبان (اژدھا۔ بڑا سانپ) ‘ نزع (اس نے نکالا۔ اس نے کھینچا) ‘ بیضاء سفید۔ روشن ‘ نظرین (دیکھنے والے) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 23 تا 33 :
جیسا کہ گذشتہ آیات میں آپ نے پڑھا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) اللہ کا پیغام لے کر فرعون کے بھرے دربار میں پہنچے تو فرعون بوکھلا گیا پہلے تو اس نے اپنی کمینگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان احسانات کو یاد دلایا کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–30
فرعون کا قصہ۔
(ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ فرعون کی قوم کے پاس جاؤ جنہوں نے اپنی جانوں پر کفر کرکے اور بنی اسرائیل کو غلام بنا کر ظلم کررکھا ہے وہ اللہ سے نہیں ڈرتے کہ اس کی اطاعت کریں اور اکیلا جانیں کسی کو اس کا شریک نہ بنائیں تو حضرت موسیٰ نے کہا، اے میرے پروردگار میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ وہ مجھ کو جھٹلادیں اور ان کے جھٹلانے سے میرا دل تنگ ہوجائے اور میں طاقت لسانی بھی نہیں رکھتا، کیونکہ بوجہ لکنت کے صاف بول نہیں سکتا۔ اس لیے میرے بھائی ہارون کو بھی میرے ساتھ پیغمبر کر، اس کے علاوہ فرعون والوں کا مجھ پر الزام ہے میں نے ایک آدمی کو مارڈالا ہے اس واسطے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–35
[9] رب ہونے کا دعویٰ کرنے والا اتنی جلدی حواس باختہ ہوگیا کہ اپنے ماتحتوں کے احکام پر چلنے کے لئے آمادہ ہوگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–28
مارب العلمین ۔ ما یہاں منطقی تعریف کے لئے نہیں بلکہ اس کا مقصود یہ تھا کہ موسیٰ خدا کا صحیح صحیح تخیل پیش کریں ۔
Read the full tafseer →(23) فرعون نے کہا یہ رب العلمین کیا ہے یعنی اس کی حقیقت کیا ہے سورة طہ میں تھا فمن ربکما یا موسیٰ یہاں سوال بالکنہ کیا جو حضرت حق تعالیٰ کے لائق نہ تھا اس بنا پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے پھر صفات سے جواب دیا کیونکہ حقیقت متعذر تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
ف 4۔ مطلب یہ کہ ماہیت سے اس کی معرفت نہیں ہوسکتی، جب سوال ہوگا صفات ہی سے جواب ملے گا۔
Read the full tafseer →موسیٰ (علیہ السلام) کے دعوی رسالت کا فرعون نے مذاق اڑا دیا :
23۔ پیچھے ذکر تھا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ تم فرعون کے پاس جاؤ لیکن موسیٰ (علیہ السلام) کے آنے اور دعوت پیش کرنے کی حکایت کو محض اس لئے چھوڑ دیا گیا کہ یہ بات خود بخود ظاہر ہوگئی کہ جس مقصد کے لئے موسیٰ (علیہ السلام) کو بھیجا گیا تھا وہ پورا ہوگیا یعنی حضرت سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو وہ پیغام پہنچا دیا اور اب فرعون کی طرف سے سوال کیا جا رہا ہے کہ وہ پروردگار عالم کیا چیز ہے ؟ یہ سوال اس لئے پیدا ہوا کہ اس وقت مصری عقیدہ میں سورج دیوتا ہی سب سے بڑا دیوتا سمجھا جاتا تھا اور فرعون وقت ہی اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–42
أَنْ أَرْسِلْ مَعَنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ
That you must send the children of Isra'i1 with us". (26:17)
Bani Isra'il were the residents of Syria. They wanted to go back to their land but the Pharaoh would not let them. This way four hundred years had passed and they were living in his bondage like slaves. At that time they were six hundred and thirty thousand in number. Sayyidna Musa (علیہ السلام) when presented the message of Truth to the Pharaoh, he also asked him to stop all the cruelties he had perpetrated over Bani Isra'il and to let them go to their homeland. (Qurtubi)
An example of…
Read the full tafseer →19 Here the details that Prophet Moses went before Pharaoh as the Messenger of the Lord of the universe and conveyed to him His message, have been omitted, and only the conversation that took place between them has. been related.
20 This question of Pharaoh concerned the assertion of Moses that he had been sent by the Lord, Master and Ruler of all Creation with the message that he should let the Israelites go with him. This was a political message. It implied that the One, Whom Moses claimed to represent, possessed authority and sovereign rights over all the people of the world including…
Read the full tafseer →