Explained with ayahs 10–22
موسیٰ ؑ اور اللہ جل شانہ کے مکالمات
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور اپنے رسول اور اپنے کلیم حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کو جو حکم دیا تھا اسے بیان فرما رہے ہیں کہ طور کے دائیں طرف سے آپ کو آواز دی آپ سے سرگوشیاں کیں آپ کو اپنا رسول ﷺ اور برگزیدہ بنایا اور آپ کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا جو ظلم پر کمر بستہ تھے۔ اور اللہ کا ڈر اور پرہیزگاری نام کو بھی ان میں نہیں رہی تھی۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی چند کمزوریاں جناب باری تعالیٰ کے سامنے بیان کی جو عنایت الٰہی سے دور کردی گئیں جیسے سورة طہ میں آپ کے سوالات پور کردئیے گئے۔ یہاں آپ کے عذر یہ بیان ہوئے کہ مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلادیں گے۔ میرا…
Read the full tafseer →سورة الشُّعَرَآء 18
یعنی تیرے گھر میں پرورش پانے کے لیے میں کیوں آتا اگر تو نے بنی اسرائیل پر ظلم نہ ڈھایا ہوتا۔ تیرے ہی ظلم کی وجہ سے تو میری ماں نے مجھے ٹوکری میں ڈال کر دریا میں بہایا تھا۔ ورنہ کیا میری پرورش کے لیے میرا اپنا گھر موجود نہ تھا ؟ اس لیے اس پرورش کا احسان جتانا تجھے زیب نہیں دیتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
حضرت موسیٰ ؑ کے حق میں لفظ ضلال کا مفہوم
قَالَ فَعَلْتُهَآ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّاۗلِّيْنَ فرعون کے اس سوال پر کہ تم نے اے موسیٰ ایک قبطی کو قتل کیا تھا، حضرت موسیٰ ؑ نے جواباً فرمایا کہ ہاں میں نے قتل ضرور کیا تھا لیکن وہ قتل ارادة اور قصد سے نہ تھا بلکہ اس قبطی کو اس کی خطا پر متنبہ کرنے کے لئے گھنسہ مارا جس سے وہ ہلاک ہوگیا۔ خلاصہ یہ کہ نبوت کے منافی قتل عمد ہے اور یہ قتل بلا ارادہ ہوا تھا جو منافی نبوت نہیں۔ حاصل یہ ہوا کہ یہاں " ضلال " کا مطلب " بیخبر ی " ہے اور اس سے مراد قبطی کا بلا ارادہ قتل ہوجانا ہے۔ اس معنی کی تائید حضرت قتادہ اور ابن زید کی روایات سے بھی ہوتی ہے کہ دراصل عربی…
Read the full tafseer →حضرت موسیٰ کا بلیغ جواب
یہ حضرت موسیٰ نے فرعون کے اس اظہار احسان کا جواب دیا ہے جس کا ذکر آیات 19-18 میں گزرا ہے اور غور کیجیے کہ کس قدر بلیغ جواب دیا ہے۔ فرمایا کہ تم اپنا یہ احسان مجھے اپنے اس ظلم عظیم کو جائز ثابت کرنے کے لئے جتا رہے ہو کہ تم نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے ! مطلب یہ ہے کہ یہ احسان ہے تو سہی، اس کا شکریہ ! لیکن اس احسان کے بدلے میں تمہیں یہ حق تو نہیں حاصل ہوسکتا کہ تم تمام بنی اسرائیل کو غلام بنائے رکھو اور میں اس کے خلاف کوئی آواز نہ اٹھائوں !
Read the full tafseer →22-1یعنی یہ اچھا احسان ہے جو تو مجھے جتلا رہا ہے کہ مجھے تو یقینا تو نے غلام نہیں بنایا اور آزاد چھوڑے رکھا لیکن میری پوری قوم کو غلام بنا رکھا ہے۔ اس ظلم عظیم کے مقابلے میں اس احسان کی آخر حیثیت کیا ہے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
8: حضرت موسیٰ ؑ مصر سے مدین چلے گئے تھے جہاں سے واپسی میں انہیں نبوت عطا ہوئی۔ تفصیلی واقعہ سورة قصص میں آنے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
قال الم نربک ……بنی اسرآئیل (22)
فرعون کو سخت تعجب ہوتا ہے۔ وہ یقین نہیں کرسکتا کہ موسیٰ اس قدر عظیم دعویٰ بھی کرسکتے ہیں کہ میں (رسول رب العالمین) ہوں اور پھر وہ فرعون سے اس قدر عظیم مطالبہ کرتے ہیں۔
ان ارسل معنا بنی اسرآئیل (26 : 18) ” کہ ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دو ۔ “ کیونکہ انہوں نے جب موسیٰ کو آخری بار دیکھا تھا تو وہ ان کے گھر میں ان کا پروردہ تھا ، جس کے صندوق کو انہوں نے دریا سے اٹھا لیا تھا اور پھر ایک قبطی کے قتل کے بعد بھاگ گیا تھا۔ وہ قطبی جو ایک اسرائیل کے ساتھ ناحق الجھ رہا تھا۔ روایات میں آتا ہے کہ یہ قبطی فرعون کے حاشیہ نشینوں میں سے تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) دس سال تک…
Read the full tafseer →12 یعنی بچپن میں میری پرورش کا احسان جتلانا تجھے زیب نہیں دیتا کیا ایک اسرائیلی بچہ کی تربیت سے اس کا جواب ہوسکتا ہے کہ تو نے اس کی ساری قوم کو غلام بنا رکھا ہے۔ بالخصوص جبکہ اس بچہ کی تربیت بھی خود تیرے زہرہ گداز مظالم کے سلسلہ ہی میں وقوع پذیر ہوئی ہو۔ نہ تو " بنی اسرائیل " کے بچوں کو ذبح کرتا، نہ خوف کی وجہ سے میری والدہ تابوت میں رکھ کر مجھے دریا میں چھوڑتی، نہ تیرے محل سرا تک رسائی ہوتی، ان حالات کا تصور کر کے تجھ کو ایسا احسان جتلاتے ہوئے شرمانا چاہیے اور صاف بات یہ ہے کہ جس پروردگار نے تجھ جیسے دشمن کے گھر میں میری پرورش کرائی اسی نے آج تیری خیر خواہی کے لیے مجھے رسول بنا کر بھیجا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 22 وَتِلْکَ نِعْمَۃٌ تَمُنُّہَا عَلَیَّ اَنْ عَبَّدْتَّ بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ ”
ان الفاظ کے تیور بتا رہے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام فرعون کو ترکی بہ ترکی جواب دے رہے تھے کہ اپنے محل میں ایک اسرائیلی بچے کی پرورش کرنے کا تمہارا احسان کیا تمہیں یہ جواز فراہم کرتا ہے کہ تم پوری بنی اسرائیل قوم کو اپنا غلام بنائے رکھو ؟ میری پرورش کرنے کا کارنامہ تو تمہیں بر وقت یاد آگیا لیکن میری قوم کو جو تم نے غلامی کی زنجیروں میں جکڑرکھا ہے ‘ اس کا کوئی تذکرہ تم نے نہیں کیا۔ یہاں عَبَّدْتَّٰکا لفظ لائق توجہ ہے۔ ”تَعْبِید“ کے معنی کسی کو غلام اور فرمانبردار بنا لینے کے ہیں۔ اسی سیاق وسباق میں ایک دوسری…
Read the full tafseer →15 اور تمہاری ہلی بات کا جواب یہ ہے کہ میرے تمہارے ہاں پرورش پانے کا سبب تو یہی چیز بنی تھی کہ تم لوگ بنی اسرائیل کے لڑکوں کو زندہ نہیں رہنے دیتے تھے۔ اور انھیں ذبح کر ڈالے تھے اگر ایسی بات نہ ہوتی تو میری ماں کیوں مجھے تابوت میں بند کرکے سمندر میں ڈال دیتی۔ پھر وہی تابوت اللہ کی قدرت سے تمہارے پاس پہنچ گیا۔ اگر تم نے بنی اسرائیل پر ایسے مظالم نہ ڈھائے ہوتے تو کیا میرے والدین میری پرورش نہ کرسکتے تھے ؟ میری پرورش کے احسان کی آڑ میں اپنے سال ہا سال کے مظالم کو چھپانا چاہتے ہو ؟ بنی اسرائیل کو انھیں مظالم اور تمہاری غلامی سے نجات دلانے کے لئے اللہ رب العالمی نے تو مجھے پیغمبر بنا کر تمہارے ہاں…
Read the full tafseer →21۔ یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے فرعون کے احسان جتلانے کا جواب ہے، آپ فرماتے ہیں کہ مجھے پرورش کا جو احسان تو جتلاتا ہے خود اس کی بھی تو حقیقت یہ ہے کہ تیرے ہی ظلم کے باعث مجھے دریا، میں بہادیا گیا، تیرے گھروالوں نے لاوارث سمجھ کر نکال لیا اور پرورش کی، نہ یہ تیرا شدید ظلم اسرائیل کے بچوں پر ہوتا اور نہ مجھے یوں دریا میں ڈالا جاتا، محققین نے یہاں سے یہ استنباط کیا ہے کہ کافر کا مجرد کفر اس کے احسان کو باطل کرنے کے لیے کافی نہیں، اعلم ان فی الایۃ دلالۃ علی ان کفر الکافر لایبطل نعمتہ علی من یحسن الیہ ولا یبطل منتہ (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–33
آیت نمبر 10 تا 33
ترجمہ : اور اے محمد ﷺ اپنی قوم کو اس وقت کا واقعہ یاد دلائیے کہ جب تیرے رب نے موسیٰ کو حکم دیا اس رات میں جبکہ موسیٰ نے آگ اور درخت کو دیکھا کہ تو ظالم قوم کے پاس رسول بن کر جا قوم فرعون کے پاس مع فرعون کے انہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کرکے اور بنی اسرائیل کو غلام بنا کر اپنے اوپر ظلم کیا ہے اَلاَ یتقون میں ہمزہ استفہام انکاری کے لئے ہے کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو کہ اس کی طاعت اختیار کرکے اس کی توحید کے قائل ہوجاؤ تو موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے پروردگار مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے اور ان کے میری تکذیب کی وجہ سے میرا دل تنگ ہوجائے، اور اداء رسالت کے…
Read the full tafseer →وتلک نعمۃ تمنہا علی ان عبدت بنی اسرآء یل اور یہ کوئی نعمت ہے جس کا تو مجھ پر احسان
رکھ رہا ہے کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا تھا۔
تلک سے اشارہ تربیت کی طرف ہے یا بری خصلت کی طرف اشارہ ہے۔
عَبَّدْتَّسے تو نے غلام بنا رکھا۔ اَعْبَدْتُ اِسْتَعْبَدْتُاور تعبَّدْتُ (یعنی تفعیل افعال استفعال اور تفعل سب ہم معنی ہیں) مفسرین نے اس آیت کا مطلب مختلف طور پر لکھا ہے۔
(1) حضرت موسیٰ کی طرف سے یہ اقرار احسان ہے کہ تو نے مجھے زندہ چھوڑ دیا اور پالا اور دوسرے اسرائیلی بچوں کی طرح قتل نہیں کرایا۔ گویا حضرت موسیٰ نے فرمایا بیشک یہ تیرا احسان ہے جو تو مجھے جتلا رہا ہے کہ بنی اسرائیل کو تو نے غلام بنائے…
Read the full tafseer →(22) اے فرعون یہ وہ نعمت ہے جس کا تو احسان جتا رہا ہے اور میرے اوپر جو تم نے زیادتی کی ہے اس کو یاد نہیں کرتے کہ تم نے بنی اسرائیل کو سخت ذلت میں ڈال رکھا ہے۔
Read the full tafseer →وَتِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ۔۔ : یہ اس کے پہلے طعن کا جواب ہے، یعنی آج تو مجھ پر یہ احسان کیسے جتلا سکتا ہے کہ تو نے اپنے گھر میں رکھ کر میری پرورش کی، حالانکہ اس کا سبب تیرا ظلم و ستم تھا۔ اگر تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا کر ان کے بیٹوں کو قتل کرنے کا سلسلہ شروع نہ کر رکھا ہوتا تو میں اپنے گھر میں پرورش پاتا، میری والدہ کو کیا ضرورت پڑی تھی کہ مجھے صندوق میں بند کرکے دریا میں بہاتی اور اس طرح میں تیرے گھر پہنچ جاتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–22
(فاتیا فرعون فقولا۔۔۔۔۔ )
فاتیا فرعون فقولا انا رسول رب العلمین ابو عبیدہ نے کہا : رسول رسالت کے معنی میں ہے اس تعبیر کی بناء پر تقدیر کلام یہ ہوگا ان ذو ورسالۃ رب العالمین۔ بذلی نے کہا :
الکنی الیھا و خیر الرسول اعلمھم بنواحی الخبر
مجھے اس کی طرف بھیجو بہترین رسول وہ ہوتا ہے جو خبر کی اطراف کو ان سے سب سے زیادہ جاننے والا ہو۔ ایک اور شاعر نے کہا :
لقد کذب الواشوی ما بحت عندھم بسر ولا ارسلتھم برسول
چغل خوروں نے جھوٹ بولا میں نے ان کے ہاں بھید کو ظاہر نہیں کیا اور نہ ہی کوئی قاصد بھیجا۔
ایک شاعر نے کہا :
الا ابدغ بنی عمرو رسولا بانی عن فتاحتکم غنی
خبردار بنی عمرو کو پیغام پہنچا دو کہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–51
1۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” یعنی طور کے داہنی جانب سے ان کو آواز دی گئی۔
2۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جرری وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ ایک جان کے قتل کرنے کا الزام جو ان کے درمیان قتل ہوا آیت ” وفعلت فعلتک التی فعلت “ سے مراد بھی انسان کا قتل ہے۔ آیت ” فعلتہا اذا وانا من الضالین “ یعنی جب میں چوک جانے والوں میں سے تھا۔
3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ یعنی ایک جان کا قتل کرنا آیت ” الم لربک فینا ولیدا “ یعنی ان کو فرعون والوں سے اٹھا لیا سو اس بچے کو…
Read the full tafseer →وَتِلْكَ [ اور یہ ہے ] نِعْمَةٌ [ وہ نعمت ] تَمُنُّهَا [ تو احسان رکھتا ہے جس کا ] عَلَيَّ [ مجھ پر ] اَنْ [ کہ ] عَبَّدْتَّ [ تو نے غلام بنایا ] بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ [ بنی اسرائیل کو ]
نوٹ۔ 1: سورة کی مختصر تمہید کے بعد اب تاریخی بیان کا آغاز ہو رہا ہے جس میں سات قوموں کے حالات پیش کیے گئے ہیں جنہوں نے نشانیاں اور معجزے دیکھنے کے بعد بھی انکار کیا تو ان کا کیا انجام ہوا۔ اس کی ابتدا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے قصے سے کی گئی ہے کیونکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جن حالات سے سابقہ پیش آیا تھا وہ ان حالات کی کہیں زیادہ سخت تھے جن سے نبی ﷺ کو سابقہ درپیش تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–34
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ کے لیے فرعون کا جادو گروں کو بلانا، مقابلہ ہونا اور جادو گروں کا شکست کھا کر ایمان قبول کرنا
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے جواب وسوال سے عاجز ہو کر اور دو بڑے معجزے دیکھ کر فرعون کی شکست تو اسی وقت ہوگئی لیکن اس نے اپنی خفت مٹانے اور درباریوں کو مطمئن رکھنے اور ان کے ذریعہ ساری قوم کو اپنی فرمانبرداری پر جمائے رکھنے کے لیے سرداروں سے کہا جو اس وقت وہاں موجود تھے کہ سمجھ میں آگیا یہ تو ایک بڑا ماہر جادوگر ہے یہ چاہتا ہے کہ تمہیں مصر کی سر زمین سے نکال دے اور اپنی قوم کا بڑا بن کر ان کو ساتھ لے کر حکومت کرنے لگے۔ تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو ؟ سورة اعراف میں ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–22
قصہ اول حضرت موسیٰ (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ واذ نادی ربک موسیٰ ان ائت القوم الظلمین .... الیٰ .... ان عبدت بنی اسرائیل۔
یہاں سے حضرات انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کے قصے ذکر کرتے ہیں سب سے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور قوم فرعون موسوی اور پھر اہل ایمان کی عجیب طریقے سے نجات اور کفار کی عبرتناک ہلاکت کے بیان پر مشتمل ہے۔
ذکر عطائے منصب نبوت و رسالت و حکم تبلیغ و دعوت
یہ قصہ اگرچہ سورة اعراف اور سورة طہ میں بالتفصیل گزرچکا ہے لیکن یہاں پر ایک نئی شان سے اس قصہ کو ذکر فرماتے۔ چناچہ فرامتے ہیں اور اے نبی ان مستہزئین کی تہدید اور عبرت کے لیے اس وقت کا قصہ ذکر کیجئے جبکہ تیرے پروردگار نے…
Read the full tafseer →14:۔ یہ پہلے اعتراض کا جواب ہے . ای عبدت ای بان عبدت یہ ماقبل کا سبب ہے یعنی یہ تیرا کوئی احسان نہیں، اس لیے کہ تو نے میری قوم کو ذلیل و رسواکر رکھا تھا، تو ان پر ظلم وستم کرتا تھا۔ تو میری قوم کے نوزائیدہ بچوں کو قتل کردیتا تھا اس لیے تو نے ظلم وعدوان سے ایسے حالات پیدا کردئیے کہ میرے والدین میری تربیت نہ کرسکے اگر تیرا یہ ظلم وجور نہ ہوتا تو میری پرورش میرے ماں باپ ہی کرتے۔ بین ان حقیقۃ انعامہ علیہ تعبید بنی اسرائیل لان تعبیدھم وقصدھم بذبح ابناءھم ھو السبب فی حصولہ عندہ و تربیتہ ولو ترکھم لرباہ ابواہ (مدارک ج 3 ص 138) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–22
فرعون کو دعوت توحید
سورۃ کی ابتدائی آیات میں قرآن کریم کی حقانیت اور تسلی کے مضمون کو اجمالی طور پر بیان کیا گیا تھا۔ اب یہاں سے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کیا ہے جس سے اصل مقصود اصول دین توحید اور ایمان کی دعوت دنیا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے ابتدائی واقعات تو سورة قصص اور بعض دیگر سورتوں میں بھی بیان ہوئے ہیں تا ہم یہاں پر مضمون کی ابتداء وتبلیغ حق سے ہو رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا اور پھر ان کو تبلیغ کے لیے فرعون اور اس کی ظالم قوم کے پاس بھیجا ۔ ارشاد ہوتا ہے ، وہ بات قابل ذکر ہے واذ نادی ربک موسیٰ جب کہ…
Read the full tafseer →وَتِلْكَ نِعْمَۃٌ تَمُنُّہَا عَلَيَّ اَنْ عَبَّدْتَّ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ 22 ۭ
نعم
النِّعْمَةُ : الحالةُ الحسنةُ ، وبِنَاء النِّعْمَة بِناء الحالةِ التي يكون عليها الإنسان کالجِلْسَة والرِّكْبَة، والنَّعْمَةُ : التَّنَعُّمُ ، وبِنَاؤُها بِنَاءُ المَرَّة من الفِعْلِ کا لضَّرْبَة والشَّتْمَة، والنِّعْمَةُ للجِنْسِ تقال للقلیلِ والکثيرِ. قال تعالی: وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لا تُحْصُوها[ النحل/ 18]
( ن ع م ) النعمۃ
اچھی حالت کو کہتے ہیں ۔ اور یہ فعلۃ کے وزن پر ہے جو کسی حالت کے معنی کو ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے جیسے : ۔ جلسۃ ورکبۃ وغیرہ ذالک ۔ اور نعمۃ کے معنی تنعم یعنی آرام و آسائش کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–34
بدنصیب یہ معجزے دیکھ کر ایمان تو نہ لایا کہہ دیا کہ یہ بڑا جادوگر ہے اس کے زور سے تمہارا ملک لینا چاہتا ہے۔ فرعونیوں کے عہد میں جادو اور طلسم کا بڑا زور تھا چناچہ اس عہد کے یادگار مسلمانوں کے ابتدائِ عہد تک موجود تھے جن کو اہل اسلام کے مؤرخین نے نقل کیا ہے دیکھو تاریخ مصر، درباریوں نے صلاح دی کہ آپ بھی اپنے ملک میں سے نامور جادوگر ایک روز معین میں جمع کر کے اس کو عاجز کر دیجئے اور عید یا کوئی فرعونیوں کا میلہ ہوتا تھا جس میں سب لوگ شریک ہوتے تھے وہ روز قرار پایا تاکہ سب لوگ موسیٰ ( علیہ السلام) کا عجز ملاحظہ کریں۔ چناچہ اس روز وہ سب جادوگر اور طلسم کار آئے اور ایک میدان میں فرعون اور اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
قَالَ فَعَلْـتُھَآ اِذًا وَّ اَنَا مِنَ الضَّآلِّیْنَ ۔ فَفَرَتْ مِنْکُمْ لَمَّا خِفْتُکُمْ فَوَھَبَ لِیْ رَبِّیْ حُکْمًا وَّ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ ۔ وَتِلْکَ نِعْمَۃٌ تَمُنُّھَا عَلَیَّ اَنْ عَبَّدْتَ بَنِیْ اِسْرَآئِ یْلَ ۔ (الشعرآء : 20، 21، 22)
(موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا میں نے اس کا ارتکاب اس وقت کیا تھا جبکہ میں ناواقف تھا۔ تو جب مجھے تم لوگوں سے اندیشہ ہوا تو میں تم سے بھاگ گیا، پھر میرے رب نے مجھے حکم عطا کیا اور مجھے رسولوں میں سے بنادیا۔ اور وہ احسان جو تم مجھ پر جتلا رہے ہو، اس کی حقیقت یہ ہے کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے۔ )
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–23
فہم القرآن
ربط کلام : فرعون اور موسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان مکالمہ۔
فرعون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر احسان جتلانے اور ان کی قوم کو غلام بنانے کے معاملے میں لاجواب ہوا۔ تو اس نے موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ سوال کیا کہ تم کس رب العالمین کی بات کرتے ہو۔ جس کا معنٰی تھا کہ میرے سوا کون رب ہوسکتا ہے ؟
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا تفصیلی جواب دینے کی بجائے سادہ اور جامع جواب دیا کہ میں اس رب کا رسول ہوں۔ جو آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا رب ہے۔ اگر تم اس پر یقین کرنے کے لیے تیار ہو۔ یاد رہے کہ رب کا معنی خالق، رازق، مالک اور بادشاہ ہے۔ فرعون نے اپنا سکہ…
Read the full tafseer →22: وَتِلْکَ نِعْمَۃٌ تَمُنُّھَا عَلَیَّ اَنْ عَبَّدْتَّ بَنِیْ اِسْرَآ ئِ یْلَ (یہ کوئی نعمت ہے جس کا تو مجھ پر احسان رکھ رہا ہے کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے) تربیت کا احسان جتلانے کی خبر کو دوبارہ اور اس کو جڑ سے کاٹ دیا اور اس کا نام نعمت ماننے سے انکار کردیا۔ پھر اس کا نعمت ہونا ظاہر کیا کہ تیرے انعام کی حقیقت بنی اسرائیل کی غلامی ہے کیونکہ اس کی غلامی اور ان کے بیٹوں کا ذبح کرنا ہی وہ سبب تھا جس سے موسیٰ (علیہ السلام) اس کے ہاں پہنچے اور ان کی پرورش کی اگر وہ ایسی حرکت نہ کرتا تو موسیٰ (علیہ السلام) کے والدین ان کی تربیت کرتے گویا فرعون نے موسیٰ پر احسان ان کی قوم کو غلام…
Read the full tafseer →ان عبدت بنی اسرائیل، کی تفسیری اقوال۔
22۔ وتلک نعمۃ تمنھاعلی، ،، ، اس کی تاویل میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں۔ بعضنے اس کو اقرار پر محمول کیا ہے اور بعض نے انکار پر محمول کیا ہے۔ جو حضرات اس کو اقرار پر محمول کرتے ہیں انہوں نے حضرت موسیٰ کے اقرار کو ایک نعمت شمار کیا ہے۔ تونے مجھے زندہ چھوڑ کر اور پالا اور دسرے اسرائیلی بچوں کی طرح قتل نہیں کرایا، گویا حضرت موسیٰ نے فرمایا بیشک یہ تیرا احسان ہے جو تو مجھے جتلارہا ہے کہ بنی اسرائیل تونے غلام بنائے رکھے اور مجھے چھوڑ دیا یعنی غلام نہیں بنایا، اور جو اس کو انکار پر محمول کرتے ہیں تو وہ اس نعمت کو بطور استفہام کے نقل کرتے ہیں اور حرف استفہام کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–22
(6 تا 22) یہ مسخراپن کا نتیجہ بدر کی لڑائی میں معلوم ہوا جس کا ذکر انس بن مالک ؓ کی صحیح روایتوں سے ایک جگہ گزر چکا ہے آگے فرمایا کہ کیا نہیں دیکھا انہوں نے غور سے زمین کی طرف کہ کس طرح اگائے ہم نے اس میں طرح طرح کے جوڑے میووں کے اور ہر قسم کی کھیتی یہ منکرین حشر کو قائل کیا ہے مطلب یہ ہے کہ جس طرح سوکھی زمین سوکھا اناج کا دانہ اور سوکھی ہر ایک پھل کی گٹھلی سب مردہ کے مانند ہوتے ہیں خدا کی قدرت سے مینہ برستا ہے جس سے زمین زندہ چیزوں کی طرح تروتازہ ہوجاتی ہے اور ہر اناج کے دانہ اور میوہ کی گٹھلیوں میں وہ جان پڑجاتی ہے کہ ایک دانہ سے ہزاروں دانے اور ایک گٹھلی سے ہزاروں پھل پیدا ہوجاتے ہیں اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–68
آیت نمبر 10 سے 68
اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں موسیٰ (علیہ السلام) کی مدح وثنا اور ان کے واقعات کا بار بار جتنا اعادہ کیا ہے اتنا کسی اور واقعے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ عظیم حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس قصے میں اہل ایمان اور اہل کفر کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے طرز عمل کی تفصیل ہے نیز موسیٰ (علیہ السلام) صاحب شریعت کبری اور صاحب تورات تھے جو قرآن عظیم کے بعد سب سے افضل کتاب ہے۔
فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجئے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندادی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، ان کو رسول بنا کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
17 فرعون کے اظہار احسان پر حضرت موسیٰ کا بلیغ جواب : سو حضرت موسیٰ نے فرعون کی اس بات کے جواب میں فرمایا کہ یہ اسی بنا پر تو ہوا کہ تو نے بنی اسرائیل کو اپنی غلامی میں جکڑ رکھا تھا۔ یعنی یہ احسان جتلانے کا مقام ہے ؟ یا تیرے لئے شرم کے مارے ڈوب مرنے کا ؟ کیونکہ اس کی نوبت تو تیرے ان لرزہ خیز مظالم کی وجہ سے ہی آئی تھی جو تو بنی اسرائیل پر توڑ رہا تھا۔ اگر معصوم بچوں کے خون ناحق سے تیرے ہاتھ رنگین نہ ہوتے تو میری والدہ مجھے دریا کی موجوں کے حوالے کیوں کرتیں اور میں تیرے محل میں پہنچتا ہی کیوں۔ اور یہ نوبت آتی ہی کیوں ؟ سو اس میں اس کے اس احسان کا انکار ہے۔ (المعارف، المحاسن اور المراغی وغیرہ) ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–68
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ
تشریح : اس واقعہ میں بیشمار نصیحتیں ‘ اللہ کے کمالات ‘ عجزو انکساری اور سب سے بڑھ کر توکل علی اللہ کا بہت زبردست سبق ملتا ہے۔ ایمان کامل انسان کے اندر اس قدر ہمت ‘ جرأت ‘ بہادری اور معرفت پیدا کردیتا ہے کہ انسان مادی اصولوں سے بےنیاز ہو کر روحانی دنیا میں گم ہوجاتا ہے اور اس کو اللہ ‘ اس کی مدد ‘ اس کا سایہ دنیا کے ہر خطرے سے محفوظ بےنیاز کردیتا ہے۔ جیسا کہ سید حسین نصر صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں : ” سچے مومن کی فراست تکمیل کو پہنچ جاتی ہے جیسا کہ اللہ نے فرمایا ” اللہ کی یاد میں دلوں کا سکون ہے۔ “ ( سورة رعد آیت : 28)
ایسا شخص جو اس حالت میں ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–33
آیات 10 تا 33
اسرار و معارف
نبی اکرم ﷺ کی شفقت کس قدر ہے اس کا اندازہ کیجیے کہ کفار کا دکھ بھی کس شدت سے محسوس فرماتے ہیں دوستاں راکجا کنی محروم۔ تو کہ بادشمناں نظر داری یعنی جس کا لطف و کرم دشمن پہ بھی عام ہے بھلا دوستوں کو کب محروم کرسکتا ہے تو آپ ﷺ کی تشفی فرماتے ہوئے اللہ کریم نے انسانوں پہ اپنے کرم کی ایک ادا کا تذکرہ فرمایا کہ فرعون کس قدر ظالم اور گستاخ کافر تھا اور اپنے خدا ہونے کا دعویدار بھی مگر اللہ کریم نے اسے بھی محروم نہ رکھا اور اپنے اولوالعزم رسول کو اس کے پاس بھیجا معجزات اور دلائل دیئے اور ہدایت کی طرف بلایا اگر وہ اپنی پسند سے دوسرے راستے پر ہی جانا چاہتا ہو تو پھر ایسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
11 ۔ یعنی آج تو مجھ پر یہ احسان کیسے جتلا سکتا ہے کہ تو نے اپنے گھر میں رکھ کر میری پرورش کی حالانکہ اس کا سبب خود تیرا ظلم و ستم تھا۔ اگر تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا کر ان کے بیٹوں کو قتل کرنے کا سلسلہ شروع نہ کر رکھا ہوتا تو میں اپنے گھر میں پرورش پاتا۔ میری والدہ کو کیا ضرورت پڑی تھی کہ مجھے صندوق میں بند کر کے دریا میں بہاتی اور اس طرح میں تیرے گھر پہنچ جاتا۔ علمائے تفسیر (رح) نے اس آیت کی اور بھی بہت سی تشریحات بیان کی ہیں۔ (قرطبی۔ شوکانی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
ّ (26:22) تمنھا : من یمن منا (نصر) سے صیغہ واحد مذکر حاضر ہے علی کے صلہ کے ساتھ اس کے معنی ہیں کسی کو کوئی احسان جتلانا ھا ضمیر واحد مؤنث غائب نعمۃ کی طرف راجع ہے۔
ان بمعنی لان ہے ۔ ای انما صارت نعمۃ علی لان عبدت بنی اسرائیل لولم تفعل ذلک لکفلنی اہلی ولم یلقونی فی الیم یہ جو احسان تم مجھے جتلاتے ہو یہ سبب اس امر کے ہیں کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے اگر تو ایسا نہ کرتا تو میرے اہل خانہ میری کفالت خود کرتے اور مجھے دریا میں نہ ڈالتے۔
مطلب یہ ہے کہ یہ جو تو مجھ پر احسان جتلا رہا ہے یہ سب بوجہ تمہارے بنی اسرائیل کو غلامی کی سخت بندھنوں میں جکڑنے اور ان پر مظالم ڈھانے کے ہے اگر تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–22
لغات القرآن : آیت نمبر 10 تا 22 :
نادی (آوازدی) ٍیضیق (تنگ ہوتا ہے۔ گھٹتا ہے) صدری (میرا سینہ) ‘ لسانی (میری زبان) کلا (ہرگز نہیں) مستمعون (سننے والے) نربک ( ہم نے تجھے پالا۔ پرورش کیا) ولید (بچپن) ‘ لبثت (تورہا) ‘ سنین (سن) (سال) ‘ فعلت (تونے کیا) ‘ الضآ لین ( بھٹکنے والے) فررت (میں بھاگ گیا) ‘ وھب (دیا۔ عطا کیا) ‘ تمن (تو احسان جتاتا ہے) ‘ عبدت (تونے غلام بنایا۔ ذلیل کیا) ‘۔
تشریح آیت نمبر 10 تا 22 :
اللہ تعالیٰ نے گذشتہ آیات میں ارشاد فرمایا ہے کہ جو لوگ نبی اور سو ل کی بات مکمل یقین رکھنے والے ہیں ان کو ایمان لانے کے لئے کسی نشانی اور بہانے کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن جن کو عمل اور ایمان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–30
فرعون کا قصہ۔
(ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ فرعون کی قوم کے پاس جاؤ جنہوں نے اپنی جانوں پر کفر کرکے اور بنی اسرائیل کو غلام بنا کر ظلم کررکھا ہے وہ اللہ سے نہیں ڈرتے کہ اس کی اطاعت کریں اور اکیلا جانیں کسی کو اس کا شریک نہ بنائیں تو حضرت موسیٰ نے کہا، اے میرے پروردگار میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ وہ مجھ کو جھٹلادیں اور ان کے جھٹلانے سے میرا دل تنگ ہوجائے اور میں طاقت لسانی بھی نہیں رکھتا، کیونکہ بوجہ لکنت کے صاف بول نہیں سکتا۔ اس لیے میرے بھائی ہارون کو بھی میرے ساتھ پیغمبر کر، اس کے علاوہ فرعون والوں کا مجھ پر الزام ہے میں نے ایک آدمی کو مارڈالا ہے اس واسطے…
Read the full tafseer →[8] یعنی مجھ پر پرورش کا جو احسان تو جتاتا ہے خود اس کی حقیقت تو یہ ہے کہ تیرے ظلم کے باعث مجھے دریا میں بہا دیا گیا تھا۔ تیرے گھروالوں نے لاوارث سمجھ کر نکال لیا اور پرورش کی۔ نہ تیرا شدید ظلم بنی اسرائیل کے بچوں پر ہوتا اور نہ مجھے یوں دریا میں ڈالا جاتا۔
Read the full tafseer →موسیٰ اور فرعون کی بحث
1: حضرت موسیٰ نے جب بنی اسرائیل کی بندگی اور غلامی کے خلاف احتجاج کیا ۔ اور فرعون سے کہا ۔ کہ میں اللہ کا رسول ہوں ۔ اور بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ کرتا ہوں ۔ تو فرعون نے کہا ۔ یکایک تجھے نبوت کیونکر مل گئی ؟ کیا ہم نے تیری تربیت نہیں کی ۔ اور تمہیں پال پوس کر بڑا نہیں کیا ۔ اور کیا تو ایک مدت تک ہمارے پاس نہیں رہا ۔ اور کیا تونے اس قبطی کو بلاوجہ نہیں مار ڈالا تھا ؟ حضرت موسیٰ نے جواباً کہا ۔ کہ قبطی کے معاملہ میں مجھ سے واقعی لغزش ہوگئی تھی ۔ اور ڈر کر میں بھاگ گیا تھا ۔ اب اللہ نے مجھے سمجھ بوجھ عنایت فرمائی ہے ۔ اور مجھے نبوت کا عہدہ عطا کیا ہے ۔
اس لئے تیری…
Read the full tafseer →(22) اور وہ احسان جو تو مجھ پر رکھ رہا ہے اور مجھ کو جتا رہا ہے وہ یہی ہے کہ تو نے تمام بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے یعنی بظاہر احسان بتارہا ہے حالانکہ تو نے تمام بنی اسرائیل کو اتنہائی ذلت اور مظالم میں گرفتار کر رکھا ہے۔
Read the full tafseer →ف 3۔ کہ ان کے لڑکوں کو قتل کرتا تھا جس کے خوف سے میں صندوق میں رکھ کردیا میں ڈالا گیا اور تیرے ہاتھ لگ گیا، اور تیری پرورش میں رہا، تو اس پرورش کی اصلی وجہ تو تیرا ظلم ہی ہے، تو ایسی پرورش کا کیا احسان جتلایا اجتا ہے بلکہ اس سے تو اپنی ناشائستہ حرکات کو یاد کر کے شرمانا چاہئے۔
Read the full tafseer →رہا تیرا پہلا احسان جتانا تو اس کے عوض بنی اسرائیل کو غلام بنائے رکھنا کہاں کا انصاف ہے ؟ :
22۔ گزشتہ سے پہلی آیت میں فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو دو احسان جتلائے تھے ان میں پہلا احسان یہ تھا کہ ” ہم نے تیری بچپنے میں پر وش کی “ اب موسیٰ (علیہ السلام) اس کا جواب دے رہے ہیں کہ حکومت نے مجھے پالا ہے یعنی پرورش کیا ہے تو یہ میرے حقیقی پروردگار کی کرشمہ سازی ہے کہ تو نے میری قوم کو غلامی کی بیڑیاں پہنا رکھی تھیں ‘ تیری قوم ان سے جسمانی مشقت لیتی تھی اور وہ مشقت اتنی سخت تھی کہ اس کا نام سن کر بھی انسان کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں پھر تم لوگوں نے میری قوم کے بچوں کو قتل کرانا شروع کردیا اور اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–42
أَنْ أَرْسِلْ مَعَنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ
That you must send the children of Isra'i1 with us". (26:17)
Bani Isra'il were the residents of Syria. They wanted to go back to their land but the Pharaoh would not let them. This way four hundred years had passed and they were living in his bondage like slaves. At that time they were six hundred and thirty thousand in number. Sayyidna Musa (علیہ السلام) when presented the message of Truth to the Pharaoh, he also asked him to stop all the cruelties he had perpetrated over Bani Isra'il and to let them go to their homeland. (Qurtubi)
An example of…
Read the full tafseer →18 That is, "If you had not been unjust and cruel to the Israelites. I should not have been brought to your house for upbringing. It was only on account of your barbarism that my mother put me in a basket and cast it into the river. Had it not been so, I should have been happily brought up in my own house. Therefore, it dces not behove you to remind me of your favour of bri nging me up in your house."
Read the full tafseer →