Explained with ayahs 10–22
موسیٰ ؑ اور اللہ جل شانہ کے مکالمات
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور اپنے رسول اور اپنے کلیم حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کو جو حکم دیا تھا اسے بیان فرما رہے ہیں کہ طور کے دائیں طرف سے آپ کو آواز دی آپ سے سرگوشیاں کیں آپ کو اپنا رسول ﷺ اور برگزیدہ بنایا اور آپ کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا جو ظلم پر کمر بستہ تھے۔ اور اللہ کا ڈر اور پرہیزگاری نام کو بھی ان میں نہیں رہی تھی۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی چند کمزوریاں جناب باری تعالیٰ کے سامنے بیان کی جو عنایت الٰہی سے دور کردی گئیں جیسے سورة طہ میں آپ کے سوالات پور کردئیے گئے۔ یہاں آپ کے عذر یہ بیان ہوئے کہ مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلادیں گے۔ میرا…
Read the full tafseer →سورة الشُّعَرَآء 17
یعنی علم و دانش اور پروانہ نبوت۔ حکم کے معنی حکمت و دانش کے بھی ہیں، اور اس سند اقتدار (Authority) کے بھی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی کو عطا کی جاتی ہے، جس کی بنا پر وہ اختیار کے ساتھ بولتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
حضرت موسیٰ ؑ کے حق میں لفظ ضلال کا مفہوم
قَالَ فَعَلْتُهَآ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّاۗلِّيْنَ فرعون کے اس سوال پر کہ تم نے اے موسیٰ ایک قبطی کو قتل کیا تھا، حضرت موسیٰ ؑ نے جواباً فرمایا کہ ہاں میں نے قتل ضرور کیا تھا لیکن وہ قتل ارادة اور قصد سے نہ تھا بلکہ اس قبطی کو اس کی خطا پر متنبہ کرنے کے لئے گھنسہ مارا جس سے وہ ہلاک ہوگیا۔ خلاصہ یہ کہ نبوت کے منافی قتل عمد ہے اور یہ قتل بلا ارادہ ہوا تھا جو منافی نبوت نہیں۔ حاصل یہ ہوا کہ یہاں " ضلال " کا مطلب " بیخبر ی " ہے اور اس سے مراد قبطی کا بلا ارادہ قتل ہوجانا ہے۔ اس معنی کی تائید حضرت قتادہ اور ابن زید کی روایات سے بھی ہوتی ہے کہ دراصل عربی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
آیت (21-20)
ضآل یہاں اسی مفہم میں استعمال ہوا ہے جس مفہمو میں ووجدک ضآلا فھدی (الضحیٰ :) میں استعمال ہا ہے۔ یعنی سرگشتہ جو یائے راہ، کھویا ہوا۔
مال مفہوم حضرت موسیٰ کا اعتراف حق اور اظہار حق
حضرت موسیٰ نے جہاں تک قبطی کے واقعہ کا تعلق تھا صاف صاف اپنی غلطی کا اعتراف کرلیا اور فرمایا کہ بیشک مجھ سے یہ لعل صادر تو ہوا لیکن اس وقت ہوا جب مجھے میرے رب کی طرف سے علم کی صحیح روشنی حاصل نہیں ہوئی تھی بلکہ میں ابھی جستجوئے علم کی راہ میں سرگشتہ اور کھویا ہوا تھا، چناچہ جب مجھ سے یہ فعل صادر ہوگیا اور مجھے اندیشہ وا کہ اس نادانستہ فعل پر آپ لوک مجھے قتل کردیں گے تو میں یہاں سے نکل گیا۔ اس کے بعد میرے…
Read the full tafseer →21-1یعنی پہلے جو کچھ ہوا، اپنی جگہ، لیکن اب میں اللہ کا رسول ہوں، اگر میری اطاعت کرے گا تو بچ جائے گا، بصورت دیگر ہلاکت تیرا مقدر ہوگی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–26
8: حضرت موسیٰ ؑ مصر سے مدین چلے گئے تھے جہاں سے واپسی میں انہیں نبوت عطا ہوئی۔ تفصیلی واقعہ سورة قصص میں آنے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
قال الم نربک ……بنی اسرآئیل (22)
فرعون کو سخت تعجب ہوتا ہے۔ وہ یقین نہیں کرسکتا کہ موسیٰ اس قدر عظیم دعویٰ بھی کرسکتے ہیں کہ میں (رسول رب العالمین) ہوں اور پھر وہ فرعون سے اس قدر عظیم مطالبہ کرتے ہیں۔
ان ارسل معنا بنی اسرآئیل (26 : 18) ” کہ ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دو ۔ “ کیونکہ انہوں نے جب موسیٰ کو آخری بار دیکھا تھا تو وہ ان کے گھر میں ان کا پروردہ تھا ، جس کے صندوق کو انہوں نے دریا سے اٹھا لیا تھا اور پھر ایک قبطی کے قتل کے بعد بھاگ گیا تھا۔ وہ قطبی جو ایک اسرائیل کے ساتھ ناحق الجھ رہا تھا۔ روایات میں آتا ہے کہ یہ قبطی فرعون کے حاشیہ نشینوں میں سے تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) دس سال تک…
Read the full tafseer →11 یعنی بیشک میں خوف کھا کر یہاں سے بھاگا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا کہ مجھے نبوت و حکمت عطا فرمائے۔ اس نے اپنے فضل سے مجھے سرفراز کیا اور رسول بنا کر تمہاری طرف بھیجا۔ یہ بجائے خود میری صداقت کی دلیل ہے کہ جو شخص تم سے خوف کھا کر بھاگا ہو، پھر اس طرح بےخوف و خطر تنہا تمہارے سامنے آکر ڈٹ جائے۔
Read the full tafseer →آیت 21 فَفَرَرْتُ مِنْکُمْ لَمَّا خِفْتُکُمْ ”
اس واقعہ کے بعد میں تم لوگوں سے ڈر کر تمہارا یہ علاقہ چھوڑ کر چلا گیا۔
فَوَہَبَ لِیْ رَبِّیْ حُکْمًا وَّجَعَلَنِیْ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ ”
اب اللہ تعالیٰ نے مجھے نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا ہے اور حکمت اور قوت فیصلہ کی دولت بھی عطا کی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
14 موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کی دونوں باتوں میں سے دوسری کو زیادہ ہم سمجھ کر اس کا جواب دیا اور کہا کہ میں قبطی کے قتل کا مجرم ضرور ہوں۔ لیکن میں نے یہ قتل عمداً نہیں کیا تھا۔ بلکہ نادانستہ طور پر قتل خطا واقعہ ہوگیا تھا۔ میرا قتل کا ارادہ ہرگز نہ تھا۔ نہ میں نے کوئی ایسا آلہ استعمال کیا تھا۔ جو قتل کے لئے استعمال ہوسکتا ہے میری خطا صرف اتنی ہے۔ کہ میری قوم سبطی کے ایک آدمی پر تیری قبطی قوم کا ایک آدمی زیادتی کر رہا تھا اس نے میرے سامنے فریاد کی میں نے جب دیکھا کہ زیادتی قبطی کی ہے اور سبطی مظلوم ہے تو میں نے اس مظلوم کی حمایت کرتے ہوئے قبطی کو مکہ مارا۔ اب یہ اتفاق کی بات ہے کہ وہ مرگیا…
Read the full tafseer →20۔ (چنانچہ اب میں خدا ہی کے حکم سے اس کے پیغمبر کی حیثیت سے آیا ہوں) پیغمبری کی استعدادخطاء عمد کے منافی ہے، نہ کہ اتفاقی غلطی، بھول چوک کے، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی یہ گفتگو فرعون کے سامنے بہت ہی سبق آموز ہے قتل، ظاہر میں ایک کھلا ہوا دینی جرم ہے اور فرار ایک اخلاقی جرم، آپ ان دونوں ظاہری جرموں کا اقرار کھلے لفظوں میں اپنے کھلے ہوئے دشمن سے کررہے ہیں۔ حالانکہ دنیا اس قسم کی کمزوریوں کو شدت سے چھپاتی ہے۔ مخلصین صادقین کے اخلاق ایسے ہی ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–33
آیت نمبر 10 تا 33
ترجمہ : اور اے محمد ﷺ اپنی قوم کو اس وقت کا واقعہ یاد دلائیے کہ جب تیرے رب نے موسیٰ کو حکم دیا اس رات میں جبکہ موسیٰ نے آگ اور درخت کو دیکھا کہ تو ظالم قوم کے پاس رسول بن کر جا قوم فرعون کے پاس مع فرعون کے انہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کرکے اور بنی اسرائیل کو غلام بنا کر اپنے اوپر ظلم کیا ہے اَلاَ یتقون میں ہمزہ استفہام انکاری کے لئے ہے کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو کہ اس کی طاعت اختیار کرکے اس کی توحید کے قائل ہوجاؤ تو موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے پروردگار مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے اور ان کے میری تکذیب کی وجہ سے میرا دل تنگ ہوجائے، اور اداء رسالت کے…
Read the full tafseer →ففرت منکم لما خفتکم تو جب مجھے تم سے ڈر لگا تو میں تم سے بھاگ گیا یعنی مدین کو بھاگ گیا۔
فوہب لی ربی حکما وجعلنی من المرسلین۔ پھر میرے رب نے مجھے حکم (یعنی حکمت وعلم) عطا فرمایا اور مجھے پیغمبروں میں سے بنا دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
(20۔ 21) حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا میں نے واقعتا وہ حرکت کرلی تھی اور اس وقت تمہارے احسان کا خیال نہ تھا، سو جب مجھے اپنی جان کا خطرہ ہوا تو میں یہاں سے مفرور ہوگیا تو میرے پروردگار نے مجھے دانش مندی علم اور نبوت عطا فرمائی اور مجھے رسولوں میں شامل کر کے تیرے اور تیری قوم کی طرف بھیج دیا۔
Read the full tafseer →فَفَرَرْتُ مِنْكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ۔۔ : یعنی اس وقت کی بات چھوڑو جب میں خطا کاروں سے تھا، حاضر وقت کی بات کرو، جو یہ ہے کہ جب میں تمہارے خوف سے تمہارے ہاں سے بھاگ گیا تو میرے رب نے مجھے حکم عطا کیا، یعنی نبوت و علم بخشا اور مجھے رسولوں میں شامل فرما لیا۔ اب میں وہ موسیٰ نہیں جو خطا کاروں سے تھا، اب میں اللہ تعالیٰ کا انتخاب ہوں اور تمہارے پاس اس کا پیغام لانے والا ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–22
(فاتیا فرعون فقولا۔۔۔۔۔ )
فاتیا فرعون فقولا انا رسول رب العلمین ابو عبیدہ نے کہا : رسول رسالت کے معنی میں ہے اس تعبیر کی بناء پر تقدیر کلام یہ ہوگا ان ذو ورسالۃ رب العالمین۔ بذلی نے کہا :
الکنی الیھا و خیر الرسول اعلمھم بنواحی الخبر
مجھے اس کی طرف بھیجو بہترین رسول وہ ہوتا ہے جو خبر کی اطراف کو ان سے سب سے زیادہ جاننے والا ہو۔ ایک اور شاعر نے کہا :
لقد کذب الواشوی ما بحت عندھم بسر ولا ارسلتھم برسول
چغل خوروں نے جھوٹ بولا میں نے ان کے ہاں بھید کو ظاہر نہیں کیا اور نہ ہی کوئی قاصد بھیجا۔
ایک شاعر نے کہا :
الا ابدغ بنی عمرو رسولا بانی عن فتاحتکم غنی
خبردار بنی عمرو کو پیغام پہنچا دو کہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–51
1۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” یعنی طور کے داہنی جانب سے ان کو آواز دی گئی۔
2۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جرری وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ ایک جان کے قتل کرنے کا الزام جو ان کے درمیان قتل ہوا آیت ” وفعلت فعلتک التی فعلت “ سے مراد بھی انسان کا قتل ہے۔ آیت ” فعلتہا اذا وانا من الضالین “ یعنی جب میں چوک جانے والوں میں سے تھا۔
3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ یعنی ایک جان کا قتل کرنا آیت ” الم لربک فینا ولیدا “ یعنی ان کو فرعون والوں سے اٹھا لیا سو اس بچے کو…
Read the full tafseer →فَفَرَرْتُ [ پھر میں فرار ہوا ] مِنْكُمْ [ تم لوگوں سے ] لَمَّا [ جب ] خِفْتُكُمْ [ میں ڈرا تم لوگوں سے ] فَوَهَبَ [ تو عطا کیا ] لِيْ [ مجھے ] رَبِّيْ [ میرے رب نے ] حُكْمًا [ ایک حکم ] وَّجَعَلَنِيْ [ اور اس نے بنایا مجھ کو ] مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ [ بھیجے ہوؤں (یعنی رسولوں) میں سے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–34
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ کے لیے فرعون کا جادو گروں کو بلانا، مقابلہ ہونا اور جادو گروں کا شکست کھا کر ایمان قبول کرنا
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے جواب وسوال سے عاجز ہو کر اور دو بڑے معجزے دیکھ کر فرعون کی شکست تو اسی وقت ہوگئی لیکن اس نے اپنی خفت مٹانے اور درباریوں کو مطمئن رکھنے اور ان کے ذریعہ ساری قوم کو اپنی فرمانبرداری پر جمائے رکھنے کے لیے سرداروں سے کہا جو اس وقت وہاں موجود تھے کہ سمجھ میں آگیا یہ تو ایک بڑا ماہر جادوگر ہے یہ چاہتا ہے کہ تمہیں مصر کی سر زمین سے نکال دے اور اپنی قوم کا بڑا بن کر ان کو ساتھ لے کر حکومت کرنے لگے۔ تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو ؟ سورة اعراف میں ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–22
قصہ اول حضرت موسیٰ (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ واذ نادی ربک موسیٰ ان ائت القوم الظلمین .... الیٰ .... ان عبدت بنی اسرائیل۔
یہاں سے حضرات انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کے قصے ذکر کرتے ہیں سب سے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور قوم فرعون موسوی اور پھر اہل ایمان کی عجیب طریقے سے نجات اور کفار کی عبرتناک ہلاکت کے بیان پر مشتمل ہے۔
ذکر عطائے منصب نبوت و رسالت و حکم تبلیغ و دعوت
یہ قصہ اگرچہ سورة اعراف اور سورة طہ میں بالتفصیل گزرچکا ہے لیکن یہاں پر ایک نئی شان سے اس قصہ کو ذکر فرماتے۔ چناچہ فرامتے ہیں اور اے نبی ان مستہزئین کی تہدید اور عبرت کے لیے اس وقت کا قصہ ذکر کیجئے جبکہ تیرے پروردگار نے…
Read the full tafseer →13:۔ اس غیر ارادی قتل کی وجہ سے مجھے تم سے خطرہ لاحق ہوا تو میں یہاں سے بھاگ نکلا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مجھے نبوت عطا فرمائی اور مجھے زمرہ مرسلین میں داخل فرما دیا۔ اس لیے نبوت سے پہلے اگر غیر ارادی طور پر مجھ سے قتل سرزد ہوگیا تو اس کی وجہ سے اب میری نبوت پر اعتراض نہیں ہوسکتا۔ ” حکما “ سے نبوت یا عقل و حکمت مراد ہے۔ حکما ای حکمۃ او نبوۃ (ابو السعود ج 6 ص 520) ۔ اور یہ دلائل عقلیہ کی طرف اشارہ ہے اور ” وجعلنی من المرسلین “ یہ دلائل نقلیہ اور دلائل وحی کی طرف اشارہ ہے یعنی میں اللہ کی طرف سے جو پیغام اور دعوی لے کر آیا ہوں اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے مجھے تینوں قسم کے دلائل بھی عطا فرمائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–22
فرعون کو دعوت توحید
سورۃ کی ابتدائی آیات میں قرآن کریم کی حقانیت اور تسلی کے مضمون کو اجمالی طور پر بیان کیا گیا تھا۔ اب یہاں سے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کیا ہے جس سے اصل مقصود اصول دین توحید اور ایمان کی دعوت دنیا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے ابتدائی واقعات تو سورة قصص اور بعض دیگر سورتوں میں بھی بیان ہوئے ہیں تا ہم یہاں پر مضمون کی ابتداء وتبلیغ حق سے ہو رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا اور پھر ان کو تبلیغ کے لیے فرعون اور اس کی ظالم قوم کے پاس بھیجا ۔ ارشاد ہوتا ہے ، وہ بات قابل ذکر ہے واذ نادی ربک موسیٰ جب کہ…
Read the full tafseer →فَفَرَرْتُ مِنْكُمْ لَمَّا خِفْتُكُمْ فَوَہَبَ لِيْ رَبِّيْ حُكْمًا وَّجَعَلَنِيْ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ 21
فر
أصل الفَرِّ : الکشف عن سنّ الدّابّة . يقال : فَرَرْتُ فِرَاراً ، ومنه : فَرَّ الدّهرُ جذعا «1» ، ومنه :
الِافْتِرَارُ ، وهو ظهور السّنّ من الضّحك، وفَرَّ عن الحرب فِرَاراً. قال تعالی: فَفَرَرْتُ مِنْكُمْ [ الشعراء/ 21] ، وقال : فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَةٍ [ المدثر/ 51] ، فَلَمْ يَزِدْهُمْ دُعائِي إِلَّا فِراراً [ نوح/ 6] ، لَنْ يَنْفَعَكُمُ الْفِرارُ إِنْ فَرَرْتُمْ [ الأحزاب/ 16] ، فَفِرُّوا إِلَى اللَّهِ
[ الذاریات/ 50] ، وأَفْرَرْتُهُ : جعلته فَارّاً ، ورجل
(ر ر ) الفروالفرار
۔ اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–34
بدنصیب یہ معجزے دیکھ کر ایمان تو نہ لایا کہہ دیا کہ یہ بڑا جادوگر ہے اس کے زور سے تمہارا ملک لینا چاہتا ہے۔ فرعونیوں کے عہد میں جادو اور طلسم کا بڑا زور تھا چناچہ اس عہد کے یادگار مسلمانوں کے ابتدائِ عہد تک موجود تھے جن کو اہل اسلام کے مؤرخین نے نقل کیا ہے دیکھو تاریخ مصر، درباریوں نے صلاح دی کہ آپ بھی اپنے ملک میں سے نامور جادوگر ایک روز معین میں جمع کر کے اس کو عاجز کر دیجئے اور عید یا کوئی فرعونیوں کا میلہ ہوتا تھا جس میں سب لوگ شریک ہوتے تھے وہ روز قرار پایا تاکہ سب لوگ موسیٰ ( علیہ السلام) کا عجز ملاحظہ کریں۔ چناچہ اس روز وہ سب جادوگر اور طلسم کار آئے اور ایک میدان میں فرعون اور اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
قَالَ فَعَلْـتُھَآ اِذًا وَّ اَنَا مِنَ الضَّآلِّیْنَ ۔ فَفَرَتْ مِنْکُمْ لَمَّا خِفْتُکُمْ فَوَھَبَ لِیْ رَبِّیْ حُکْمًا وَّ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ ۔ وَتِلْکَ نِعْمَۃٌ تَمُنُّھَا عَلَیَّ اَنْ عَبَّدْتَ بَنِیْ اِسْرَآئِ یْلَ ۔ (الشعرآء : 20، 21، 22)
(موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا میں نے اس کا ارتکاب اس وقت کیا تھا جبکہ میں ناواقف تھا۔ تو جب مجھے تم لوگوں سے اندیشہ ہوا تو میں تم سے بھاگ گیا، پھر میرے رب نے مجھے حکم عطا کیا اور مجھے رسولوں میں سے بنادیا۔ اور وہ احسان جو تم مجھ پر جتلا رہے ہو، اس کی حقیقت یہ ہے کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے۔ )
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–23
فہم القرآن
ربط کلام : فرعون اور موسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان مکالمہ۔
فرعون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر احسان جتلانے اور ان کی قوم کو غلام بنانے کے معاملے میں لاجواب ہوا۔ تو اس نے موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ سوال کیا کہ تم کس رب العالمین کی بات کرتے ہو۔ جس کا معنٰی تھا کہ میرے سوا کون رب ہوسکتا ہے ؟
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا تفصیلی جواب دینے کی بجائے سادہ اور جامع جواب دیا کہ میں اس رب کا رسول ہوں۔ جو آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا رب ہے۔ اگر تم اس پر یقین کرنے کے لیے تیار ہو۔ یاد رہے کہ رب کا معنی خالق، رازق، مالک اور بادشاہ ہے۔ فرعون نے اپنا سکہ…
Read the full tafseer →تمام وزرائے فرعون مشورئہ قتل میں شریک تھے :
21: فَفَرَرْتُ مِنْکُمْ (پس میں تم سے بھاگ گیا) مدین کی طرف لَمَّا خِفْتُکُمْ (جب مجھے تمہارے طرف سے ڈر لگا) کہ تم مجھے قتل کر دوگے اور یہ اس وقت کی بات ہے جب ان کو آل فرعون کے مومن نے کہا ان الملأ یأتمرون بک لیقتلوک فاخرج۔ ] القصص : 20[ فَوَھَبَ لِیْ رَبِّیْ حُکْمًا (میرے رب نے مجھے حکم عطاء فرمایا) حکم سے نبوت اور علوم نبوت مراد ہے اور مجھ سے بھول اور ناواقفیت کو دور فرمایا۔ وَّ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ (اور اس نے مجھے پیغمبروں سے بنایا) منجملہ رسولوں میں سے۔
Read the full tafseer →21۔ ففررت منکم لماخفتکم۔ تو پھر میں مدین کی طرف بھاگ گیا۔ فوھب لی ربی حکما، اس سے مراد نبوت ہے۔ مقاتل کا قول ہے کہ اس سے مراد علم فہم ہے۔ وجعلنی من المرسلین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–22
(6 تا 22) یہ مسخراپن کا نتیجہ بدر کی لڑائی میں معلوم ہوا جس کا ذکر انس بن مالک ؓ کی صحیح روایتوں سے ایک جگہ گزر چکا ہے آگے فرمایا کہ کیا نہیں دیکھا انہوں نے غور سے زمین کی طرف کہ کس طرح اگائے ہم نے اس میں طرح طرح کے جوڑے میووں کے اور ہر قسم کی کھیتی یہ منکرین حشر کو قائل کیا ہے مطلب یہ ہے کہ جس طرح سوکھی زمین سوکھا اناج کا دانہ اور سوکھی ہر ایک پھل کی گٹھلی سب مردہ کے مانند ہوتے ہیں خدا کی قدرت سے مینہ برستا ہے جس سے زمین زندہ چیزوں کی طرح تروتازہ ہوجاتی ہے اور ہر اناج کے دانہ اور میوہ کی گٹھلیوں میں وہ جان پڑجاتی ہے کہ ایک دانہ سے ہزاروں دانے اور ایک گٹھلی سے ہزاروں پھل پیدا ہوجاتے ہیں اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–68
آیت نمبر 10 سے 68
اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں موسیٰ (علیہ السلام) کی مدح وثنا اور ان کے واقعات کا بار بار جتنا اعادہ کیا ہے اتنا کسی اور واقعے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ عظیم حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس قصے میں اہل ایمان اور اہل کفر کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے طرز عمل کی تفصیل ہے نیز موسیٰ (علیہ السلام) صاحب شریعت کبری اور صاحب تورات تھے جو قرآن عظیم کے بعد سب سے افضل کتاب ہے۔
فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجئے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندادی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، ان کو رسول بنا کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
17 فرعون کے اظہار احسان پر حضرت موسیٰ کا بلیغ جواب : سو حضرت موسیٰ نے فرعون کی اس بات کے جواب میں فرمایا کہ یہ اسی بنا پر تو ہوا کہ تو نے بنی اسرائیل کو اپنی غلامی میں جکڑ رکھا تھا۔ یعنی یہ احسان جتلانے کا مقام ہے ؟ یا تیرے لئے شرم کے مارے ڈوب مرنے کا ؟ کیونکہ اس کی نوبت تو تیرے ان لرزہ خیز مظالم کی وجہ سے ہی آئی تھی جو تو بنی اسرائیل پر توڑ رہا تھا۔ اگر معصوم بچوں کے خون ناحق سے تیرے ہاتھ رنگین نہ ہوتے تو میری والدہ مجھے دریا کی موجوں کے حوالے کیوں کرتیں اور میں تیرے محل میں پہنچتا ہی کیوں۔ اور یہ نوبت آتی ہی کیوں ؟ سو اس میں اس کے اس احسان کا انکار ہے۔ (المعارف، المحاسن اور المراغی وغیرہ) ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–68
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ
تشریح : اس واقعہ میں بیشمار نصیحتیں ‘ اللہ کے کمالات ‘ عجزو انکساری اور سب سے بڑھ کر توکل علی اللہ کا بہت زبردست سبق ملتا ہے۔ ایمان کامل انسان کے اندر اس قدر ہمت ‘ جرأت ‘ بہادری اور معرفت پیدا کردیتا ہے کہ انسان مادی اصولوں سے بےنیاز ہو کر روحانی دنیا میں گم ہوجاتا ہے اور اس کو اللہ ‘ اس کی مدد ‘ اس کا سایہ دنیا کے ہر خطرے سے محفوظ بےنیاز کردیتا ہے۔ جیسا کہ سید حسین نصر صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں : ” سچے مومن کی فراست تکمیل کو پہنچ جاتی ہے جیسا کہ اللہ نے فرمایا ” اللہ کی یاد میں دلوں کا سکون ہے۔ “ ( سورة رعد آیت : 28)
ایسا شخص جو اس حالت میں ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–33
آیات 10 تا 33
اسرار و معارف
نبی اکرم ﷺ کی شفقت کس قدر ہے اس کا اندازہ کیجیے کہ کفار کا دکھ بھی کس شدت سے محسوس فرماتے ہیں دوستاں راکجا کنی محروم۔ تو کہ بادشمناں نظر داری یعنی جس کا لطف و کرم دشمن پہ بھی عام ہے بھلا دوستوں کو کب محروم کرسکتا ہے تو آپ ﷺ کی تشفی فرماتے ہوئے اللہ کریم نے انسانوں پہ اپنے کرم کی ایک ادا کا تذکرہ فرمایا کہ فرعون کس قدر ظالم اور گستاخ کافر تھا اور اپنے خدا ہونے کا دعویدار بھی مگر اللہ کریم نے اسے بھی محروم نہ رکھا اور اپنے اولوالعزم رسول کو اس کے پاس بھیجا معجزات اور دلائل دیئے اور ہدایت کی طرف بلایا اگر وہ اپنی پسند سے دوسرے راستے پر ہی جانا چاہتا ہو تو پھر ایسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
11 ۔ یعنی آج تو مجھ پر یہ احسان کیسے جتلا سکتا ہے کہ تو نے اپنے گھر میں رکھ کر میری پرورش کی حالانکہ اس کا سبب خود تیرا ظلم و ستم تھا۔ اگر تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا کر ان کے بیٹوں کو قتل کرنے کا سلسلہ شروع نہ کر رکھا ہوتا تو میں اپنے گھر میں پرورش پاتا۔ میری والدہ کو کیا ضرورت پڑی تھی کہ مجھے صندوق میں بند کر کے دریا میں بہاتی اور اس طرح میں تیرے گھر پہنچ جاتا۔ علمائے تفسیر (رح) نے اس آیت کی اور بھی بہت سی تشریحات بیان کی ہیں۔ (قرطبی۔ شوکانی)
Read the full tafseer →(26:21) ففررت منکم۔ ماضی واحد متکلم فر یفر فرارا ۔تعقیب کا ہے پس میں بھاگ نکلا تم سے۔
لما۔ جب، جس وقت۔ یہاں حرف شرط بھی ہوسکتا ہے اور اسم ظرف بھی۔
وھب لی۔ ماضی واحد مذکر غائب وھب یھب (فتح) وھب وھبۃ مصدر اس نے بخشش کی۔ اس نے بخشا۔
حکما۔ علم و حکمت۔ نبوت۔ بوجہ مفعول منصوب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–22
لغات القرآن : آیت نمبر 10 تا 22 :
نادی (آوازدی) ٍیضیق (تنگ ہوتا ہے۔ گھٹتا ہے) صدری (میرا سینہ) ‘ لسانی (میری زبان) کلا (ہرگز نہیں) مستمعون (سننے والے) نربک ( ہم نے تجھے پالا۔ پرورش کیا) ولید (بچپن) ‘ لبثت (تورہا) ‘ سنین (سن) (سال) ‘ فعلت (تونے کیا) ‘ الضآ لین ( بھٹکنے والے) فررت (میں بھاگ گیا) ‘ وھب (دیا۔ عطا کیا) ‘ تمن (تو احسان جتاتا ہے) ‘ عبدت (تونے غلام بنایا۔ ذلیل کیا) ‘۔
تشریح آیت نمبر 10 تا 22 :
اللہ تعالیٰ نے گذشتہ آیات میں ارشاد فرمایا ہے کہ جو لوگ نبی اور سو ل کی بات مکمل یقین رکھنے والے ہیں ان کو ایمان لانے کے لئے کسی نشانی اور بہانے کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن جن کو عمل اور ایمان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–30
فرعون کا قصہ۔
(ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ فرعون کی قوم کے پاس جاؤ جنہوں نے اپنی جانوں پر کفر کرکے اور بنی اسرائیل کو غلام بنا کر ظلم کررکھا ہے وہ اللہ سے نہیں ڈرتے کہ اس کی اطاعت کریں اور اکیلا جانیں کسی کو اس کا شریک نہ بنائیں تو حضرت موسیٰ نے کہا، اے میرے پروردگار میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ وہ مجھ کو جھٹلادیں اور ان کے جھٹلانے سے میرا دل تنگ ہوجائے اور میں طاقت لسانی بھی نہیں رکھتا، کیونکہ بوجہ لکنت کے صاف بول نہیں سکتا۔ اس لیے میرے بھائی ہارون کو بھی میرے ساتھ پیغمبر کر، اس کے علاوہ فرعون والوں کا مجھ پر الزام ہے میں نے ایک آدمی کو مارڈالا ہے اس واسطے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
[7] یعنی حکمت و دانش سے نوازا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
حل لغات :۔ من الضالین ۔ ضال کی جمع ہے ۔ ضلالت کا لفظ لغزش اور غلطی پر بولا جاتا ہے ۔ اور گمراہی پر بھی یہاں مقصود الغزش ہے ۔ کیونکہ حضرت موسیٰ نے قبطی کو عمدا قتل کیا تھا ۔ بلکہ پیٹا تھا ۔ وہ کمزور ہونے کی وجہ سے جانبرنہ ہوسکا ۔
Read the full tafseer →(21) سو جب مجھ کو تم سے خوف وہ خطرہ محسوس ہوا تو میں تمہارے ہاں سے فرار ہوگیا پھر میرے پروردگار نے مجھ کو حکمت اور دانش مندی عطا فرمائی اور مجھ کو پیغام بروں میں سے کردیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
ف 2۔ خلاصہ جواب یہ کہ میں پیغمبر ہی کی حیثیت سے آیا ہوں جس میں دبنے کی کوئی وجہ نہیں، اور پیغمبری اس واقعہ قتل خطا کے منافی نہیں، کیونکہ وہ خطا تو تھا، جو قادح استعداد کے بعد فعلیت مستبعد نہیں۔
Read the full tafseer →اسی ڈر کی وجہ سے تو میں بھاگ گیا تھا اور اب اللہ نے مجھے رسول بنا کر بھیج دیا :
21۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ بات تو مجھے اس وقت بھی معلوم تھی کہ یہ اتفاقیہ بات بھی میرے لئے انتقام کا ایک بہت بڑا بہانہ بن جائے گی اور حکومت مجھ پر غداری کا الزام لگائے گی اندریں وجہ ہی تو مصر سے بھاگ گیا تھا اور ایک مدت تک واپس نہیں آیا اور جب کہ میرے خاندان خصوصا میرے بھائی نے اس قضیہ کا حل کرلیا ہے تب ہی میں نے مصر کا ارادہ کیا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے مجھے قوت فیصلہ عطا کی ہے اور پنے رسولوں میں سے ایک رسول بنایا ہے اور اس نے مجھے یہ پیغام دے کر تمہاری طرف بھیجا ہے اور میں اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–42
أَنْ أَرْسِلْ مَعَنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ
That you must send the children of Isra'i1 with us". (26:17)
Bani Isra'il were the residents of Syria. They wanted to go back to their land but the Pharaoh would not let them. This way four hundred years had passed and they were living in his bondage like slaves. At that time they were six hundred and thirty thousand in number. Sayyidna Musa (علیہ السلام) when presented the message of Truth to the Pharaoh, he also asked him to stop all the cruelties he had perpetrated over Bani Isra'il and to let them go to their homeland. (Qurtubi)
An example of…
Read the full tafseer →17 The word. hukm means wisdom, knowledge or authority, which is granted by Allah to a Prophet so that he may speak with confidence and power.
Read the full tafseer →