Explained with ayahs 10–22
موسیٰ ؑ اور اللہ جل شانہ کے مکالمات
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور اپنے رسول اور اپنے کلیم حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کو جو حکم دیا تھا اسے بیان فرما رہے ہیں کہ طور کے دائیں طرف سے آپ کو آواز دی آپ سے سرگوشیاں کیں آپ کو اپنا رسول ﷺ اور برگزیدہ بنایا اور آپ کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا جو ظلم پر کمر بستہ تھے۔ اور اللہ کا ڈر اور پرہیزگاری نام کو بھی ان میں نہیں رہی تھی۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی چند کمزوریاں جناب باری تعالیٰ کے سامنے بیان کی جو عنایت الٰہی سے دور کردی گئیں جیسے سورة طہ میں آپ کے سوالات پور کردئیے گئے۔ یہاں آپ کے عذر یہ بیان ہوئے کہ مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلادیں گے۔ میرا…
Read the full tafseer →سورة الشُّعَرَآء 16
اصل الفاظ ہیں وَاَنَا مِنَ الضَّآلِّیْنَ ، " میں اس وقت ضلالت میں تھا "۔ یا " میں نے اس وقت یہ کام ضلالت کی حالت میں کیا تھا "۔ یہ لفظ ضلالت لازماً " گمراہی " کا ہی ہم معنی نہیں ہے۔ بلکہ عربی زبان میں اسے نا واقفیت، نادانی، خطا، نسیان، نادانستگی وغیرہ معنوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ جو واقعہ سورة قصص میں بیان ہوا ہے اس پر غور کرنے سے یہاں ضلالت بمعنی خطا یا نادانستگی ہی لینا زیادہ صحیح ہے۔ حضرت موسیٰ نے اس قبطی کو ایک اسرائلی پر ظلم کرتے دیکھ کر صرف ایک گھونسا مارا تھا۔ ظاہر ہے کہ گھونسے سے بالعموم آدمی مرتا نہیں ہے، نہ قتل کی نیت سے گھونسا مارا جاتا ہے۔ اتفاق کی بات ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
حضرت موسیٰ ؑ کے حق میں لفظ ضلال کا مفہوم
قَالَ فَعَلْتُهَآ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّاۗلِّيْنَ فرعون کے اس سوال پر کہ تم نے اے موسیٰ ایک قبطی کو قتل کیا تھا، حضرت موسیٰ ؑ نے جواباً فرمایا کہ ہاں میں نے قتل ضرور کیا تھا لیکن وہ قتل ارادة اور قصد سے نہ تھا بلکہ اس قبطی کو اس کی خطا پر متنبہ کرنے کے لئے گھنسہ مارا جس سے وہ ہلاک ہوگیا۔ خلاصہ یہ کہ نبوت کے منافی قتل عمد ہے اور یہ قتل بلا ارادہ ہوا تھا جو منافی نبوت نہیں۔ حاصل یہ ہوا کہ یہاں " ضلال " کا مطلب " بیخبر ی " ہے اور اس سے مراد قبطی کا بلا ارادہ قتل ہوجانا ہے۔ اس معنی کی تائید حضرت قتادہ اور ابن زید کی روایات سے بھی ہوتی ہے کہ دراصل عربی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
آیت (21-20)
ضآل یہاں اسی مفہم میں استعمال ہوا ہے جس مفہمو میں ووجدک ضآلا فھدی (الضحیٰ :) میں استعمال ہا ہے۔ یعنی سرگشتہ جو یائے راہ، کھویا ہوا۔
مال مفہوم حضرت موسیٰ کا اعتراف حق اور اظہار حق
حضرت موسیٰ نے جہاں تک قبطی کے واقعہ کا تعلق تھا صاف صاف اپنی غلطی کا اعتراف کرلیا اور فرمایا کہ بیشک مجھ سے یہ لعل صادر تو ہوا لیکن اس وقت ہوا جب مجھے میرے رب کی طرف سے علم کی صحیح روشنی حاصل نہیں ہوئی تھی بلکہ میں ابھی جستجوئے علم کی راہ میں سرگشتہ اور کھویا ہوا تھا، چناچہ جب مجھ سے یہ فعل صادر ہوگیا اور مجھے اندیشہ وا کہ اس نادانستہ فعل پر آپ لوک مجھے قتل کردیں گے تو میں یہاں سے نکل گیا۔ اس کے بعد میرے…
Read the full tafseer →20-1یعنی یہ قتل ارادتًا نہیں تھا بلکہ ایک گھونسہ ہی تھا جو اسے مارا تھا، اس سے اس کی موت واقع ہوگئی۔ علاوہ ازیں یہ واقعہ بھی نبوت سے قبل کا ہے جب کہ مجھ کو علم کی یہ روشنی نہیں دی گئی تھی۔
Read the full tafseer →7: یعنی یہ پتہ نہیں تھا کہ وہ ایک ہی مکا کھا کر مرجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–22
قال الم نربک ……بنی اسرآئیل (22)
فرعون کو سخت تعجب ہوتا ہے۔ وہ یقین نہیں کرسکتا کہ موسیٰ اس قدر عظیم دعویٰ بھی کرسکتے ہیں کہ میں (رسول رب العالمین) ہوں اور پھر وہ فرعون سے اس قدر عظیم مطالبہ کرتے ہیں۔
ان ارسل معنا بنی اسرآئیل (26 : 18) ” کہ ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دو ۔ “ کیونکہ انہوں نے جب موسیٰ کو آخری بار دیکھا تھا تو وہ ان کے گھر میں ان کا پروردہ تھا ، جس کے صندوق کو انہوں نے دریا سے اٹھا لیا تھا اور پھر ایک قبطی کے قتل کے بعد بھاگ گیا تھا۔ وہ قطبی جو ایک اسرائیل کے ساتھ ناحق الجھ رہا تھا۔ روایات میں آتا ہے کہ یہ قبطی فرعون کے حاشیہ نشینوں میں سے تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) دس سال تک…
Read the full tafseer →10 یعنی قبطی کا خون میں نے دانستہ نہیں کیا تھا، غلطی سے ایسا ہوگیا مجھے کیا خبر تھی کہ ایک مکا مارنے میں جو تادیب کے لیے تھا اس کا دم نکل جائے گا (فَوَكَزَهٗ مُوْسٰى فَقَضٰى عَلَيْهِ ) 28 ۔ القصص :15)
Read the full tafseer →آیت 20 قَالَ فَعَلْتُہَآ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّیْنَ ”
یعنی یہ فعل مجھ سے نادانستگی میں ہوا تھا اور اس وقت میں ابھی حقیقت سے ناآشنا بھی تھا۔ ابھی رسالت اور نبوت مجھے نہیں ملی تھی اور میں خود تلاش حقیقت میں سرگرداں تھا۔ لفظ ”الضّال“ کے دو مفاہیم کے بارے میں سورة الفاتحہ کے مطالعے کے دوران وضاحت کی جا چکی ہے۔ اس لفظ کے ایک معنی تو راستے سے بھٹک جانے والے اور غلط فہمی کی بنا پر کوئی غلط راستہ اختیار کرلینے والے کے ہیں ‘ لیکن اس کے علاوہ جو شخص ابھی درست راستے کی تلاش میں سرگرداں ہو اس پر بھی اس لفظ کا اطلاق ہوتا ہے اور اسی مفہوم میں یہ لفظ سورة الضحیٰ کی اس آیت میں حضور ﷺ کے لیے استعمال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
14 موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کی دونوں باتوں میں سے دوسری کو زیادہ ہم سمجھ کر اس کا جواب دیا اور کہا کہ میں قبطی کے قتل کا مجرم ضرور ہوں۔ لیکن میں نے یہ قتل عمداً نہیں کیا تھا۔ بلکہ نادانستہ طور پر قتل خطا واقعہ ہوگیا تھا۔ میرا قتل کا ارادہ ہرگز نہ تھا۔ نہ میں نے کوئی ایسا آلہ استعمال کیا تھا۔ جو قتل کے لئے استعمال ہوسکتا ہے میری خطا صرف اتنی ہے۔ کہ میری قوم سبطی کے ایک آدمی پر تیری قبطی قوم کا ایک آدمی زیادتی کر رہا تھا اس نے میرے سامنے فریاد کی میں نے جب دیکھا کہ زیادتی قبطی کی ہے اور سبطی مظلوم ہے تو میں نے اس مظلوم کی حمایت کرتے ہوئے قبطی کو مکہ مارا۔ اب یہ اتفاق کی بات ہے کہ وہ مرگیا…
Read the full tafseer →19۔ (سو حققیۃ قصور وار تو میں اس وقت بھی نہ تھا) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے جرم قتل عمد سے تبری ضالین میں آجاتی ہے۔ ضال کے معنی ہی ہیں انجان کوئی حرکت کر بیٹھنے والا، تنبیہ ان ذلک منہ سھو (راغب) المراد بذلک الذاھلین من معرفۃ مایؤول الیہ من القتل (کبیر) المراد انی فعلت ذلک الفعل وانا ذاھل من کونہ مھلکا وکان منی فی حکم السھو (کبیر) عن قتادۃ انہ فعل ذلک جاھلا بہ غیر متعمدایاہ (روح) ضلال کا لفظ ارادی وغیر ارادی، بڑی اور چھوٹی ہر غلطی کے لیے عام ہے۔ یقال الضلال بکل عدول عن المنھج عمدا کان او سھوا یسیرا کان اوکثیر ا (راغب) اور اسی لیے اس کا اطلاق ضلال انبیاء وضلال کفار دونوں پر ہوتا ہے حالانکہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–33
آیت نمبر 10 تا 33
ترجمہ : اور اے محمد ﷺ اپنی قوم کو اس وقت کا واقعہ یاد دلائیے کہ جب تیرے رب نے موسیٰ کو حکم دیا اس رات میں جبکہ موسیٰ نے آگ اور درخت کو دیکھا کہ تو ظالم قوم کے پاس رسول بن کر جا قوم فرعون کے پاس مع فرعون کے انہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کرکے اور بنی اسرائیل کو غلام بنا کر اپنے اوپر ظلم کیا ہے اَلاَ یتقون میں ہمزہ استفہام انکاری کے لئے ہے کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو کہ اس کی طاعت اختیار کرکے اس کی توحید کے قائل ہوجاؤ تو موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے پروردگار مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے اور ان کے میری تکذیب کی وجہ سے میرا دل تنگ ہوجائے، اور اداء رسالت کے…
Read the full tafseer →قال فعلتہا اذا وانا من الضآلین۔ حضرت موسیٰ نے کہا میں نے وہ حرکت اس وقت کی تھی جبکہ میں گم کردہ راہ تھا یعنی ناواقفوں میں سے تھا اس وقت اللہ کے پاس سے میرے پاس کوئی ہدایت نہیں آئی تھی۔ یا یہ مطلب ہے کہ میں اس وقت نہیں جانتا تھا کہ میرے اس فعل سے وہ مرجائے گا ‘ مارنے سے میرا مقصد قتل کرنا نہ تھا۔ یا یہ مطلب ہے کہ بغیر قصد و ارادہ کے میں اس وقت صحیح راستہ سے بھٹک گیا تھا یعنی نازیبا حرکت تو مجھ سے ضرور صادر ہوئی لیکن بلا ارادہ۔ یا یہ مطلب ہے کہ میں ان لوگوں میں سے تھا جو جاہلانہ کام کر بیٹھتے ہیں۔
بعض نے کہا ضلالت سے مراد ہے بھول جانا یعنی بھولے سے مجھ سے یہ حرکت ہوگئی۔ اَنْ تَضِلَّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
(20۔ 21) حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا میں نے واقعتا وہ حرکت کرلی تھی اور اس وقت تمہارے احسان کا خیال نہ تھا، سو جب مجھے اپنی جان کا خطرہ ہوا تو میں یہاں سے مفرور ہوگیا تو میرے پروردگار نے مجھے دانش مندی علم اور نبوت عطا فرمائی اور مجھے رسولوں میں شامل کر کے تیرے اور تیری قوم کی طرف بھیج دیا۔
Read the full tafseer →قَالَ فَعَلْتُهَآ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّاۗلِّيْنَ : ”اَنَا مِنَ الضَّاۗلِّيْنَ“ ”میں اس وقت ضلالت والوں سے تھا۔“ لفظ ”ضلالت“ ہر جگہ گمراہی کے معنی میں نہیں ہوتا، بلکہ عربی زبان میں اسے ناواقفیت، نادانی، خطا اور بھول وغیرہ کے معنی میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ قبطی کے قتل کے واقعہ کو دیکھیں تو یہاں اس کا معنی نادانی، خطا یا بھول ہی ہوسکتا ہے، کیونکہ نہ ان کا ارادہ اسے قتل کرنے کا تھا اور نہ ان کے وہم و گمان میں یہ بات تھی کہ ایک گھونسے سے اس کا کام تمام ہوجائے گا۔ موسیٰ ؑ نے پہلے اس کے اس طعن کا جواب دیا جس سے وہ انھیں مجرم ثابت کرنا چاہتا تھا، کیونکہ جرم ثابت ہونے سے وہ قصاص کے مستحق ٹھہرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–22
(فاتیا فرعون فقولا۔۔۔۔۔ )
فاتیا فرعون فقولا انا رسول رب العلمین ابو عبیدہ نے کہا : رسول رسالت کے معنی میں ہے اس تعبیر کی بناء پر تقدیر کلام یہ ہوگا ان ذو ورسالۃ رب العالمین۔ بذلی نے کہا :
الکنی الیھا و خیر الرسول اعلمھم بنواحی الخبر
مجھے اس کی طرف بھیجو بہترین رسول وہ ہوتا ہے جو خبر کی اطراف کو ان سے سب سے زیادہ جاننے والا ہو۔ ایک اور شاعر نے کہا :
لقد کذب الواشوی ما بحت عندھم بسر ولا ارسلتھم برسول
چغل خوروں نے جھوٹ بولا میں نے ان کے ہاں بھید کو ظاہر نہیں کیا اور نہ ہی کوئی قاصد بھیجا۔
ایک شاعر نے کہا :
الا ابدغ بنی عمرو رسولا بانی عن فتاحتکم غنی
خبردار بنی عمرو کو پیغام پہنچا دو کہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–51
1۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” یعنی طور کے داہنی جانب سے ان کو آواز دی گئی۔
2۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جرری وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ ایک جان کے قتل کرنے کا الزام جو ان کے درمیان قتل ہوا آیت ” وفعلت فعلتک التی فعلت “ سے مراد بھی انسان کا قتل ہے۔ آیت ” فعلتہا اذا وانا من الضالین “ یعنی جب میں چوک جانے والوں میں سے تھا۔
3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ یعنی ایک جان کا قتل کرنا آیت ” الم لربک فینا ولیدا “ یعنی ان کو فرعون والوں سے اٹھا لیا سو اس بچے کو…
Read the full tafseer →قَالَ [ (موسیٰ (علیہ السلام) نے) کہا ] فَعَلْتُهَآ [ میں نے کیا اس کو ] اِذًا [ تب ] وَّ [ اس حال میں کہ ] اَنَا [ میں ] مِنَ الضَّاۗلِّيْنَ [ حق تلاش کرنے والوں میں سے تھا ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–34
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ کے لیے فرعون کا جادو گروں کو بلانا، مقابلہ ہونا اور جادو گروں کا شکست کھا کر ایمان قبول کرنا
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے جواب وسوال سے عاجز ہو کر اور دو بڑے معجزے دیکھ کر فرعون کی شکست تو اسی وقت ہوگئی لیکن اس نے اپنی خفت مٹانے اور درباریوں کو مطمئن رکھنے اور ان کے ذریعہ ساری قوم کو اپنی فرمانبرداری پر جمائے رکھنے کے لیے سرداروں سے کہا جو اس وقت وہاں موجود تھے کہ سمجھ میں آگیا یہ تو ایک بڑا ماہر جادوگر ہے یہ چاہتا ہے کہ تمہیں مصر کی سر زمین سے نکال دے اور اپنی قوم کا بڑا بن کر ان کو ساتھ لے کر حکومت کرنے لگے۔ تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو ؟ سورة اعراف میں ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–22
قصہ اول حضرت موسیٰ (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ واذ نادی ربک موسیٰ ان ائت القوم الظلمین .... الیٰ .... ان عبدت بنی اسرائیل۔
یہاں سے حضرات انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کے قصے ذکر کرتے ہیں سب سے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور قوم فرعون موسوی اور پھر اہل ایمان کی عجیب طریقے سے نجات اور کفار کی عبرتناک ہلاکت کے بیان پر مشتمل ہے۔
ذکر عطائے منصب نبوت و رسالت و حکم تبلیغ و دعوت
یہ قصہ اگرچہ سورة اعراف اور سورة طہ میں بالتفصیل گزرچکا ہے لیکن یہاں پر ایک نئی شان سے اس قصہ کو ذکر فرماتے۔ چناچہ فرامتے ہیں اور اے نبی ان مستہزئین کی تہدید اور عبرت کے لیے اس وقت کا قصہ ذکر کیجئے جبکہ تیرے پروردگار نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
12: یہ دوسرے اعتراض کا جواب ہے بطور لف و نشر غیر مرتب۔ دوسرا اعتراض چونکہ عصمت میں قادح تھا اس لیے اس کا جواب مقدم کیا۔ یعنی قتل کا فعل مجھ سے بلا قصد و ارادہ سرزد ہوا تھا۔ کیونکہ میں نے قبطی کو بطور تادیب مارا لیکن وہ ضرب اس کے لیے جان لیوا ثابت ہوئی۔ ” وانا من الضالین ای من الجاھلین۔ واراد (علیہ السلام) بذلک علی ما روی عن قتادہ انہ فعل ذلک جاھلا بہ غیر متعمد ایاہ فانہ (علیہ السلام) انما تعمد الوکز للتادیب فادی الی ما ادی (روح ج 19 ص 69) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–22
فرعون کو دعوت توحید
سورۃ کی ابتدائی آیات میں قرآن کریم کی حقانیت اور تسلی کے مضمون کو اجمالی طور پر بیان کیا گیا تھا۔ اب یہاں سے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کیا ہے جس سے اصل مقصود اصول دین توحید اور ایمان کی دعوت دنیا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے ابتدائی واقعات تو سورة قصص اور بعض دیگر سورتوں میں بھی بیان ہوئے ہیں تا ہم یہاں پر مضمون کی ابتداء وتبلیغ حق سے ہو رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا اور پھر ان کو تبلیغ کے لیے فرعون اور اس کی ظالم قوم کے پاس بھیجا ۔ ارشاد ہوتا ہے ، وہ بات قابل ذکر ہے واذ نادی ربک موسیٰ جب کہ…
Read the full tafseer →قَالَ فَعَلْتُہَآ اِذًا وَّاَنَا مِنَ الضَّاۗلِّيْنَ 20ۭ
ضل
الضَّلَالُ : العدولُ عن الطّريق المستقیم، ويضادّه الهداية، قال تعالی: فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15]
( ض ل ل ) الضلال
۔ کے معنی سیدھی راہ سے ہٹ جانا کے ہیں ۔ اور یہ ہدایۃ کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو اپنے سے اختیار کرتا ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو گمراہی کا ضرر بھی اسی کو ہوگا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–34
بدنصیب یہ معجزے دیکھ کر ایمان تو نہ لایا کہہ دیا کہ یہ بڑا جادوگر ہے اس کے زور سے تمہارا ملک لینا چاہتا ہے۔ فرعونیوں کے عہد میں جادو اور طلسم کا بڑا زور تھا چناچہ اس عہد کے یادگار مسلمانوں کے ابتدائِ عہد تک موجود تھے جن کو اہل اسلام کے مؤرخین نے نقل کیا ہے دیکھو تاریخ مصر، درباریوں نے صلاح دی کہ آپ بھی اپنے ملک میں سے نامور جادوگر ایک روز معین میں جمع کر کے اس کو عاجز کر دیجئے اور عید یا کوئی فرعونیوں کا میلہ ہوتا تھا جس میں سب لوگ شریک ہوتے تھے وہ روز قرار پایا تاکہ سب لوگ موسیٰ ( علیہ السلام) کا عجز ملاحظہ کریں۔ چناچہ اس روز وہ سب جادوگر اور طلسم کار آئے اور ایک میدان میں فرعون اور اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–22
قَالَ فَعَلْـتُھَآ اِذًا وَّ اَنَا مِنَ الضَّآلِّیْنَ ۔ فَفَرَتْ مِنْکُمْ لَمَّا خِفْتُکُمْ فَوَھَبَ لِیْ رَبِّیْ حُکْمًا وَّ جَعَلَنِیْ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ ۔ وَتِلْکَ نِعْمَۃٌ تَمُنُّھَا عَلَیَّ اَنْ عَبَّدْتَ بَنِیْ اِسْرَآئِ یْلَ ۔ (الشعرآء : 20، 21، 22)
(موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا میں نے اس کا ارتکاب اس وقت کیا تھا جبکہ میں ناواقف تھا۔ تو جب مجھے تم لوگوں سے اندیشہ ہوا تو میں تم سے بھاگ گیا، پھر میرے رب نے مجھے حکم عطا کیا اور مجھے رسولوں میں سے بنادیا۔ اور وہ احسان جو تم مجھ پر جتلا رہے ہو، اس کی حقیقت یہ ہے کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے۔ )
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–23
فہم القرآن
ربط کلام : فرعون اور موسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان مکالمہ۔
فرعون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر احسان جتلانے اور ان کی قوم کو غلام بنانے کے معاملے میں لاجواب ہوا۔ تو اس نے موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ سوال کیا کہ تم کس رب العالمین کی بات کرتے ہو۔ جس کا معنٰی تھا کہ میرے سوا کون رب ہوسکتا ہے ؟
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا تفصیلی جواب دینے کی بجائے سادہ اور جامع جواب دیا کہ میں اس رب کا رسول ہوں۔ جو آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا رب ہے۔ اگر تم اس پر یقین کرنے کے لیے تیار ہو۔ یاد رہے کہ رب کا معنی خالق، رازق، مالک اور بادشاہ ہے۔ فرعون نے اپنا سکہ…
Read the full tafseer →جواب موسیٰ d:
20: قَالَ فَعَلْتُھَآ اِذًا (حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا میں نے وہ کام اس وقت کیا) ای اذ ذاک۔ وَّاَنَا مِنَ الضَّآلِّیْنَ (جبکہ میں ناواقفوں میں سے تھا) ۔ الضالین یعنی الجاہلین بانھا تبلغ القتل اس کے قتل تک پہنچنے سے بیخبر تھا۔ الضال عن الشئی۔ پہچان کا ختم ہونا نمبر 2۔ بھولنے والے۔ اس صورت میں اس آیت کے معنی میں ہوگا۔ ان تضل احداھما فتذکر احدٰھما الاخری ] البقرہ : 282[ آپ نے اپنی ذات سے انت من الکافرین کے فرعونی الزام کو دفع کیا اور الکفرین کی جگہ الضالین کا لفظ لائے۔ اور اذا جواب بھی ہے اور جزاء بھی اور یہ کلام فرعون کا جواب اور اس کی جزاء بھی ہے کیونکہ فرعون کا قول وفعلت…
Read the full tafseer →20۔ قال، ، موسیٰ نے فرمایا، فعلتھا اذا، ، یعنی تونے ایسی حرکت کی جو اس وقت نہیں کرنی چاہیے تھی، وانا من الضالین، میں ناواقفوں میں سے تھا اس وقت اللہ نے میری طرف کوئی ہدایت نہیں بھیجی نہیں تھی بعض نے کہا کہ اس کا معنی ہے میں اس وقت نہیں جانتا تھا کہ وہ میرے اس فعل سے مرجائے گا، میرامقصد اس کو قتل کرنا نہیں تھا، بعض نے اس کا یہ مطلب بیان کیا کہ بغیر قصد اور ارادہ کے میں اس وقت صحیح راستہ سے بھٹک گیا تھا یعنی ایسی نازیبا حرکت تو مجھ سے ضرور صادر ہوئی لیکن بلا ارادہ۔ بعض نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ مجھ سے خطا ہوگئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–22
(6 تا 22) یہ مسخراپن کا نتیجہ بدر کی لڑائی میں معلوم ہوا جس کا ذکر انس بن مالک ؓ کی صحیح روایتوں سے ایک جگہ گزر چکا ہے آگے فرمایا کہ کیا نہیں دیکھا انہوں نے غور سے زمین کی طرف کہ کس طرح اگائے ہم نے اس میں طرح طرح کے جوڑے میووں کے اور ہر قسم کی کھیتی یہ منکرین حشر کو قائل کیا ہے مطلب یہ ہے کہ جس طرح سوکھی زمین سوکھا اناج کا دانہ اور سوکھی ہر ایک پھل کی گٹھلی سب مردہ کے مانند ہوتے ہیں خدا کی قدرت سے مینہ برستا ہے جس سے زمین زندہ چیزوں کی طرح تروتازہ ہوجاتی ہے اور ہر اناج کے دانہ اور میوہ کی گٹھلیوں میں وہ جان پڑجاتی ہے کہ ایک دانہ سے ہزاروں دانے اور ایک گٹھلی سے ہزاروں پھل پیدا ہوجاتے ہیں اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–68
آیت نمبر 10 سے 68
اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں موسیٰ (علیہ السلام) کی مدح وثنا اور ان کے واقعات کا بار بار جتنا اعادہ کیا ہے اتنا کسی اور واقعے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ عظیم حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس قصے میں اہل ایمان اور اہل کفر کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے طرز عمل کی تفصیل ہے نیز موسیٰ (علیہ السلام) صاحب شریعت کبری اور صاحب تورات تھے جو قرآن عظیم کے بعد سب سے افضل کتاب ہے۔
فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجئے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندادی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، ان کو رسول بنا کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
16 حضرت موسیٰ کا فرعون کو جوابِ حق ترجمان : سو آپ نے فرعون سے کہا کہ " میں نے یہ کام اس وقت کیا تھا جبکہ میں بیخبر تھا "۔ یعنی یہ علم و آگہی مجھے اس وقت حاصل نہ تھی جو اب عطا فرمائی گئی ہے۔ نیز مجھے اس کی کیا خبر تھی کہ وہ ایک مکہ سے مرجائے گا۔ میں نے تو وہ مکا اسے قتل کی غرض سے نہیں صرف تادیب کے لئے مارا تھا۔ سو حضرت موسیٰ نے اپنے اس جوابِ حق ترجمان سے قتل قطبی کے قصور کا اقرار و اعتراف کیا اور اس واقعے کا انکار نہیں فرمایا۔ لیکن یہ واضح فرما دیا کہ اس فعل کا صدور مجھ سے اس وقت ہوا جبکہ مجھے اپنے رب کی طرف سے علم و ہدایت کا نور نہیں ملا تھا۔ بلکہ میں ابھی تک نور علم و ہدایت کی طلب و تلاش میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–68
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ
تشریح : اس واقعہ میں بیشمار نصیحتیں ‘ اللہ کے کمالات ‘ عجزو انکساری اور سب سے بڑھ کر توکل علی اللہ کا بہت زبردست سبق ملتا ہے۔ ایمان کامل انسان کے اندر اس قدر ہمت ‘ جرأت ‘ بہادری اور معرفت پیدا کردیتا ہے کہ انسان مادی اصولوں سے بےنیاز ہو کر روحانی دنیا میں گم ہوجاتا ہے اور اس کو اللہ ‘ اس کی مدد ‘ اس کا سایہ دنیا کے ہر خطرے سے محفوظ بےنیاز کردیتا ہے۔ جیسا کہ سید حسین نصر صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں : ” سچے مومن کی فراست تکمیل کو پہنچ جاتی ہے جیسا کہ اللہ نے فرمایا ” اللہ کی یاد میں دلوں کا سکون ہے۔ “ ( سورة رعد آیت : 28)
ایسا شخص جو اس حالت میں ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–33
آیات 10 تا 33
اسرار و معارف
نبی اکرم ﷺ کی شفقت کس قدر ہے اس کا اندازہ کیجیے کہ کفار کا دکھ بھی کس شدت سے محسوس فرماتے ہیں دوستاں راکجا کنی محروم۔ تو کہ بادشمناں نظر داری یعنی جس کا لطف و کرم دشمن پہ بھی عام ہے بھلا دوستوں کو کب محروم کرسکتا ہے تو آپ ﷺ کی تشفی فرماتے ہوئے اللہ کریم نے انسانوں پہ اپنے کرم کی ایک ادا کا تذکرہ فرمایا کہ فرعون کس قدر ظالم اور گستاخ کافر تھا اور اپنے خدا ہونے کا دعویدار بھی مگر اللہ کریم نے اسے بھی محروم نہ رکھا اور اپنے اولوالعزم رسول کو اس کے پاس بھیجا معجزات اور دلائل دیئے اور ہدایت کی طرف بلایا اگر وہ اپنی پسند سے دوسرے راستے پر ہی جانا چاہتا ہو تو پھر ایسے…
Read the full tafseer →10 ۔ یعنی قبل اس کے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رسالت و نبوت سے نوازتا یا مجھے کیا خبر تھی کہ ایک گھونسے میں اس کا دم نکل جائے گا لہٰذا تمہارا یہ طعن بےجا ہے۔ (کذا فی القرطبی)
Read the full tafseer →(26:20) فعلتھا۔ میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب اس فعل (فعلۃ کی طرف ہے جو آیت ماقبل میں مذکور ہے۔
اذا۔ تب۔ اس وقت۔
الضالین۔ لفظ الضلال کا اطلاق مندرجہ ذیل معانی پر ہوتا ہے :۔
(1) حقیقت الامر سے ناواقفی ۔ جب کوئی شخص کسی شے کی حقیقت سے ناواقف ہو تو عرب کہتے ہیں ضل عنہ اسی معنی میں ہے :۔ قال علمھا عند ربی فیکتاب لایضل ربی ولا ینسی (20:52) فرمایا اس کا علم میرے رب کے پاس ہے جو کتاب میں (ہرقوم) ہے میرا رب نہ کسی چیز سے لا علم ہے اور نہ بھولتا ہے۔
(2) طریق حق سے بھٹک کر باطل کی طرف جانا جیسے غیر المغضوب علیہم ولا الضالین ۔ (سورۃ فاتحہ) نہ (راستہ) ان لوگوں کا جن پر غضب آیا ہو اور نہ ان کا جو راہ حق سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–22
لغات القرآن : آیت نمبر 10 تا 22 :
نادی (آوازدی) ٍیضیق (تنگ ہوتا ہے۔ گھٹتا ہے) صدری (میرا سینہ) ‘ لسانی (میری زبان) کلا (ہرگز نہیں) مستمعون (سننے والے) نربک ( ہم نے تجھے پالا۔ پرورش کیا) ولید (بچپن) ‘ لبثت (تورہا) ‘ سنین (سن) (سال) ‘ فعلت (تونے کیا) ‘ الضآ لین ( بھٹکنے والے) فررت (میں بھاگ گیا) ‘ وھب (دیا۔ عطا کیا) ‘ تمن (تو احسان جتاتا ہے) ‘ عبدت (تونے غلام بنایا۔ ذلیل کیا) ‘۔
تشریح آیت نمبر 10 تا 22 :
اللہ تعالیٰ نے گذشتہ آیات میں ارشاد فرمایا ہے کہ جو لوگ نبی اور سو ل کی بات مکمل یقین رکھنے والے ہیں ان کو ایمان لانے کے لئے کسی نشانی اور بہانے کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن جن کو عمل اور ایمان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–30
فرعون کا قصہ۔
(ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ فرعون کی قوم کے پاس جاؤ جنہوں نے اپنی جانوں پر کفر کرکے اور بنی اسرائیل کو غلام بنا کر ظلم کررکھا ہے وہ اللہ سے نہیں ڈرتے کہ اس کی اطاعت کریں اور اکیلا جانیں کسی کو اس کا شریک نہ بنائیں تو حضرت موسیٰ نے کہا، اے میرے پروردگار میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ وہ مجھ کو جھٹلادیں اور ان کے جھٹلانے سے میرا دل تنگ ہوجائے اور میں طاقت لسانی بھی نہیں رکھتا، کیونکہ بوجہ لکنت کے صاف بول نہیں سکتا۔ اس لیے میرے بھائی ہارون کو بھی میرے ساتھ پیغمبر کر، اس کے علاوہ فرعون والوں کا مجھ پر الزام ہے میں نے ایک آدمی کو مارڈالا ہے اس واسطے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
[7] یعنی حکمت و دانش سے نوازا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
حل لغات :۔ من الضالین ۔ ضال کی جمع ہے ۔ ضلالت کا لفظ لغزش اور غلطی پر بولا جاتا ہے ۔ اور گمراہی پر بھی یہاں مقصود الغزش ہے ۔ کیونکہ حضرت موسیٰ نے قبطی کو عمدا قتل کیا تھا ۔ بلکہ پیٹا تھا ۔ وہ کمزور ہونے کی وجہ سے جانبرنہ ہوسکا ۔
Read the full tafseer →(20) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا وہ حرکت مجھ سے اس وقت سرزد ہوگئی تھی اور میں چوکنے اور غلطی کرنے والوں میں سے تھا یعنی میں نے عمداً قتل نہیں کیا بلکہ مجھ سے چوک ہوگئی تھی میں صرف تنبیہ کرنا چاہتا تھا لیکن وہ مرگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–21
ف 2۔ خلاصہ جواب یہ کہ میں پیغمبر ہی کی حیثیت سے آیا ہوں جس میں دبنے کی کوئی وجہ نہیں، اور پیغمبری اس واقعہ قتل خطا کے منافی نہیں، کیونکہ وہ خطا تو تھا، جو قادح استعداد کے بعد فعلیت مستبعد نہیں۔
Read the full tafseer →موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کو جواب دیا کہ ہاں جو کچھ مجھ سے بیخبر ی میں ہوگیا :
20۔ (ضال) ناواقف ‘ حیران ‘ بیخبر (ضلال) سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر اس کی (ضالون) ہے گمراہ ‘ بھولے ہوئے ‘ بہکے ہوئے ، (ضال) کے معنی جو گمراہی کے کئے جاتے ہیں وہ بھی اسی نسبت سے کئے جاتے ہیں اصل معنی اس کے بیخبر ی اور بھول کے ہیں اور ظاہر ہے کہ جو شخص کسی چیز کو گم کرتا ہے وہی تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے اسی لئے (ضال) کے معنی ” متلاشی “ کے بھی ہیں اور (ووجدک ضالا) میں یہی معنی مراد ہیں مطلب ہے کہ آپ گم گشتہ راہ تھے اور یہی وجہ ہے کہ ہم نے آپ کو ” متلاشی “ پایا اور تم کو سیدھا راستہ بتا دیا موسیٰ (علیہ السلام) نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–42
أَنْ أَرْسِلْ مَعَنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ
That you must send the children of Isra'i1 with us". (26:17)
Bani Isra'il were the residents of Syria. They wanted to go back to their land but the Pharaoh would not let them. This way four hundred years had passed and they were living in his bondage like slaves. At that time they were six hundred and thirty thousand in number. Sayyidna Musa (علیہ السلام) when presented the message of Truth to the Pharaoh, he also asked him to stop all the cruelties he had perpetrated over Bani Isra'il and to let them go to their homeland. (Qurtubi)
An example of…
Read the full tafseer →16 The word dalalat dces not always mean "straying away", but it is also used in the sense of ignorance, folly, error, forgetfulness, inadvertence, etc. As mentioned in Surah Al-Qasas, Prophet Moses had only given a blow to the Egyptian (Copt) when he saw him treating an Israelite cruelly. A blow dces not cause death, nor is it given with the intention of causing death. It was only an accident that the Egyptian died. As such, it was not a case of deliberate murder but of accidental murder. A murder was committed but not intentionally, nor was any weapon used, which is usually employed for…
Read the full tafseer →