Ash-Shu'araa 26:19

Ash-Shu'araa · from ayah 19

26:19

وَفَعَلْتَ فَعْلَتَكَ الَّتِیْ فَعَلْتَ وَاَنْتَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ ۟وَفَعَلۡتَ فَعۡلَتَكَ الَّتِىۡ فَعَلۡتَ وَاَنۡتَ مِنَ الۡكٰفِرِيۡنَ

اور تم نے وہ کام کیا تھا جو کیا اور تم ناشکرے معلوم ہوتے ہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

And [then] you did your deed which you did, and you were of the ungrateful."

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 2 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:19

اور اس کے بعد کر گیا جو کچھ کہ کر گیا، تو بڑا احسان فراموش آدمی ہے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور تم نے وہ کام کیا تھا جو کیا اور تم ناشکرے معلوم ہوتے ہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر تو اپنا وه کام کر گیا جو کر گیا اور تو ناشکروں میں ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جو حرکت تم نے کی تھی وہ بھی کر گزرے اور تم بڑے ناشکرے آدمی ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور تم نے کیا اپنا وہ کام جو تم نے کیا اور تم نا شکر تھے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (پھر) تم نے اپنا وہ کام کر ڈالا جو تم نے کیا تھا (یعنی ایک قبطی کو قتل کر دیا) اور تم ناشکر گزاروں میں سے ہو (ہماری پرورش اور احسانات کو بھول گئے ہو)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور تو نے اپنا وہ کام کیا، جو تو نے کیا اور تو ناشکروں میں سے ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

نیز تو نے وہ کام کیا جو کرکے چلا گیا اور تو تو ہے ہی ناشکرا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور تم نے اپنی وہ حرکت کی جو کی اور تم ناشکروں میں سے ہو !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور تم نے اپان وہ کرتوت بھی کیا جو کہ تم نے کیا اور تم بڑے ناشکرے ہو

— مولانا اسحاق مدنی

اور تم نے وہ حرکت بھی تو کی جو کی تھی اور تم بڑے ناشکرے ہو۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور تم نے جو اپنا وہ کام کیا جو کیا اور تم ناشکروں میں سے ہو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور تم نے ایک اور کام کیا تھا جس کا تو نے ارتکاب کیا تم ناشکرے معلوم ہوتے ہو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

You spent many years of your life among us and then you committed that deed of yours. You are very ungrateful indeed."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and you did the blunder you did; still you are ungrateful.

— Muhammad Taqi Usmani

and you did the blunder you did; still you are ungrateful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"And you did your deed, which you did. While you were one of the ingrates."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And thou didst that thy deed which thou didst, and thou wast one of the ingrates.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And [then] you did your deed which you did, and you were of the ungrateful."

— Saheeh International

and you did the deed which you did. You are certainly ungrateful."

— Muhammad Sarwar

And you did (that) deed of yours which you did, and you are one of the ungrateful.

— Muhammad Habib Shakir

And thou didst that thy deed which thou didst; and thou art of the ingrates.

— Abdul Majid Daryabadi

"And thou didst a deed of thine which (thou knowest) thou didst, and thou art an ungrateful (wretch)!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 26:19

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 10–22

موسیٰ ؑ اور اللہ جل شانہ کے مکالمات اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور اپنے رسول اور اپنے کلیم حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کو جو حکم دیا تھا اسے بیان فرما رہے ہیں کہ طور کے دائیں طرف سے آپ کو آواز دی آپ سے سرگوشیاں کیں آپ کو اپنا رسول ﷺ اور برگزیدہ بنایا اور آپ کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا جو ظلم پر کمر بستہ تھے۔ اور اللہ کا ڈر اور پرہیزگاری نام کو بھی ان میں نہیں رہی تھی۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی چند کمزوریاں جناب باری تعالیٰ کے سامنے بیان کی جو عنایت الٰہی سے دور کردی گئیں جیسے سورة طہ میں آپ کے سوالات پور کردئیے گئے۔ یہاں آپ کے عذر یہ بیان ہوئے کہ مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلادیں گے۔ میرا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الشُّعَرَآء 15 اشارہ ہے اسی واقعہ قتل کی طرف جو حضرت موسیٰ سے سرزد ہوگیا تھا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 17–19

اَنْ اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ ، بنی اسرائیل ملک شام کے باشندے تھے، وہاں جانا چاہتے تو فرعون ان کو جانے نہ دیتا تھا اس طرح چار سو سال سے وہ اس کی قید میں غلامی کی زندگی بسر کر رہے تھے ان کی تعداد اس وقت چھ لاکھ تیس ہزار تھی۔ حضرت موسیٰ ؑ نے فرعون کو پیغام حق پہنچانے کے ساتھ ہی بنی اسرائیل پر جو ظلم اس نے کر رکھا تھا اس سے باز آنے اور ان کو آزاد چھوڑ دینے کی ہدایت فرمائی۔ (قرطبی) پیغمبرانہ مناظرہ کا ایک نمونہ مناظرے کے موثر آداب دو مختلف الخیال شخصوں اور جماعتوں میں نظریاتی بحث و مباحثہ جس کو اصطلاح میں مناظرہ کہا جاتا ہے، زمانہ قدیم سے رائج ہے مگر عام طور پر مناظرہ ایک ہار جیت…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 18–19

آیت 19-18 فرعن کا حضرت موسیٰ کو حقارت آمیز جواب یہاں اتنی بات بربنائے قرینہ حذف ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے بموجب حضرت موسیٰ ؑ اپنے بھائی حضرت ہارون کو ساتھ لے کر فرعن اور اس کے درباریوں کے پاس گئے اور انذار کے ساتھ ساتھ اس کے سامنے بنی اسرائیل کو اپنے ساتھ لے جانے کا مطالبہ بھی رکھا۔ بھلا فرعون یہ تصور کہاں کرسکتا تھا کہ کوئی اس کے سامنے اتنا بڑا دعویٰ اور اتنا اہم مطالبہ لے کر آئے گا اور وہ بھی ایک اسرائیلی ! اس نے نہایت حقارت آمیز انذار میں کہا کہ کیا تم وہی نہیں ہو جس کی پرورش بچپن میں ہم نے اپنے گھر میں کی ہے اور کیا تم وہی نہیں ہو جس نے وہ حرکت کی جو تم نے کی ! بیشک تم بڑے ہی ناشکرے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

19-1پھر ہمارا ہی کھا کر ہماری ہی قوم کے ایک آدمی کو قتل کر کے ہماری ناشکری بھی کی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

6: یہ اسی قتل کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر اوپر حاشیہ نمبر 3 میں کیا گیا ہے

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 18–22

قال الم نربک ……بنی اسرآئیل (22) فرعون کو سخت تعجب ہوتا ہے۔ وہ یقین نہیں کرسکتا کہ موسیٰ اس قدر عظیم دعویٰ بھی کرسکتے ہیں کہ میں (رسول رب العالمین) ہوں اور پھر وہ فرعون سے اس قدر عظیم مطالبہ کرتے ہیں۔ ان ارسل معنا بنی اسرآئیل (26 : 18) ” کہ ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دو ۔ “ کیونکہ انہوں نے جب موسیٰ کو آخری بار دیکھا تھا تو وہ ان کے گھر میں ان کا پروردہ تھا ، جس کے صندوق کو انہوں نے دریا سے اٹھا لیا تھا اور پھر ایک قبطی کے قتل کے بعد بھاگ گیا تھا۔ وہ قطبی جو ایک اسرائیل کے ساتھ ناحق الجھ رہا تھا۔ روایات میں آتا ہے کہ یہ قبطی فرعون کے حاشیہ نشینوں میں سے تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) دس سال تک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی جو کرتوت کر کے بھاگا تھا (قبطی کا خون) اسے ہم بھولے نہیں۔ 9 یعنی ہمارے سب احسانات بھلا کر لگا پیغمبری کے دعوے کرنے اس وقت تو بھی (العیاذ باللہ) ان ہی میں کا ایک تھا جن کو آج کافر بتلاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 19 وَفَعَلْتَ فَعْلَتَکَ الَّتِیْ فَعَلْتَ وَاَنْتَ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ ” فرعون نے اپنے مزعومہ احسانات جتلانے کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یہ بھی یادد لا دیا کہ تم نے ہمارے ایک آدمی کو بھی قتل کیا ہوا ہے۔ اور آخر میں بڑی رعونت سے کہا کہ تم کتنے ناشکر گزار اور احسان فراموش ہو !

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 18–19

13 فرعون نے اللہ کا پیغام سننے کے بعد اس پیغام کا کچھ جواب دینے کے بجائے وہی کچھ کہنا شروع کردیا۔ جس کا موسیٰ (علیہ السلام) کو پہلے سے خطرہ تھا۔ اس نے کہا کہ بچپن میں تمہاری پرورش ہم نے ہی کی تھی۔ تمہاری جوانی ہمارے درمیان گزری ہے۔ ہم تو تمہاری رگ رگ سے واقف ہیں۔ پھر تم ہمارے مجرم بھی ہو۔ اب تم نے یہ پیغمبری کا ڈھونگ رچا ڈالا ہے اور ہم پر دباؤ ڈالنے آگئے ہو۔ تمہیں تو ہمارا ممنون احسان ہونا چاہئے تھا تم اٹھ کر رسالت کا دعویٰ کرکے اب ہماری آنکھیں دکھانے لگے ہو تم جیسا بھی کوئی احسان فراموش شخص ہوسکتا ہے ؟ اور انت من الکافرین کا ترجمہ بعضوں نے یوں کیا ہے کہ آج جن لوگوں کو تم کافر کہہ رہے ہو۔ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

18۔ اشارہ ہے اس نادانستہ قتل کی جانب۔ مفصل ذکر سورة قصص میں آئے گا۔ معناہ وانت ممن عادۃ کفران النعم (کبیر) فرعون غصہ اور طنز کے ساتھ کہہ رہا ہے کہ تم جو یہ سرکاری دھرم (StAte Religion) قومی دین (NAtionAl, Religion) کے مقابلہ میں نیادین گڑھ کر لائے ہو، تو اس میں نئی بات کون سی ہے تم تو شروع ہی سے اپنے محسنوں سے غداری کرتے آئے ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 10–33

آیت نمبر 10 تا 33 ترجمہ : اور اے محمد ﷺ اپنی قوم کو اس وقت کا واقعہ یاد دلائیے کہ جب تیرے رب نے موسیٰ کو حکم دیا اس رات میں جبکہ موسیٰ نے آگ اور درخت کو دیکھا کہ تو ظالم قوم کے پاس رسول بن کر جا قوم فرعون کے پاس مع فرعون کے انہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کرکے اور بنی اسرائیل کو غلام بنا کر اپنے اوپر ظلم کیا ہے اَلاَ یتقون میں ہمزہ استفہام انکاری کے لئے ہے کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو کہ اس کی طاعت اختیار کرکے اس کی توحید کے قائل ہوجاؤ تو موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے پروردگار مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے اور ان کے میری تکذیب کی وجہ سے میرا دل تنگ ہوجائے، اور اداء رسالت کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وفعلت فعلتک التی فعلت وانت من الکفرین۔ اور تو نے اپنی وہ حرکت بھی کی تھی جو کی تھی اور تو بڑا ناشکرا ہے۔ یعنی تو نے قبطی کو قتل کردیا اور میرے احسان کی ایسی ناشکری کی کہ میرے خاص لوگوں کو قتل کرنے لگا۔ کذا روی العوفی عن ابن عباس وہو قول اکثر المفسرین۔ (یعنی کفر سے مراد ہے کفران نعمت اور احسان فراموشی) کیونکہ فرعون کفر باللہ سے تو واقف ہی نہ تھا۔ حسن اور سدی نے کہا اَنْتَ کُنْتَ مِنَ الْکَافِرِیْنَیعنی اپنے جس معبود کی طرف تو ہم کو بلا رہا ہے اس کا منکر تو پہلے تو خود تھا ہمارے ساتھ ہمارے مذہب پر رہتا تھا۔ یا یہ مراد ہے کہ تو میرا منکر یا احسان فراموش ہے کہ لوٹ کر آیا تو میری مخالفت کرتا آیا۔…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 18–19

قَالَ اَلَمْ نُرَبِّكَ فِيْنَا وَلِيْدًا۔۔ : یہاں لمبی بات سننے والے کی سمجھ پر چھوڑ کر حذف کردی گئی کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ایسی ہیبت عطا فرمائی کہ وہ دونوں کسی فوج یا اسلحے کے بغیر فرعون کے دربار میں پہنچے، اس کی فوج اور پہرے داروں میں سے کسی کو انھیں روکنے کی جرأت نہ ہوسکی اور دربار میں پہنچ کر انھوں نے اس کے تمام سرداروں کی موجودگی میں اسے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچایا۔ فرعون نے موسیٰ ؑ کی گفتگو سے اندازہ لگا لیا کہ اصل رسول وہی ہیں، ہارون صرف معاون ہیں، اس لیے اس نے موسیٰ ؑ ہی کو مخاطب کیا، ہارون ؑ سے بات نہیں کی۔ موسیٰ ؑ سے بات کرتے ہوئے اس نے ان کی دعوت پر بات کرنے سے گریز کرتے ہوئے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 16–22

(فاتیا فرعون فقولا۔۔۔۔۔ ) فاتیا فرعون فقولا انا رسول رب العلمین ابو عبیدہ نے کہا : رسول رسالت کے معنی میں ہے اس تعبیر کی بناء پر تقدیر کلام یہ ہوگا ان ذو ورسالۃ رب العالمین۔ بذلی نے کہا : الکنی الیھا و خیر الرسول اعلمھم بنواحی الخبر مجھے اس کی طرف بھیجو بہترین رسول وہ ہوتا ہے جو خبر کی اطراف کو ان سے سب سے زیادہ جاننے والا ہو۔ ایک اور شاعر نے کہا : لقد کذب الواشوی ما بحت عندھم بسر ولا ارسلتھم برسول چغل خوروں نے جھوٹ بولا میں نے ان کے ہاں بھید کو ظاہر نہیں کیا اور نہ ہی کوئی قاصد بھیجا۔ ایک شاعر نے کہا : الا ابدغ بنی عمرو رسولا بانی عن فتاحتکم غنی خبردار بنی عمرو کو پیغام پہنچا دو کہ میں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 10–51

1۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” یعنی طور کے داہنی جانب سے ان کو آواز دی گئی۔ 2۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جرری وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ ایک جان کے قتل کرنے کا الزام جو ان کے درمیان قتل ہوا آیت ” وفعلت فعلتک التی فعلت “ سے مراد بھی انسان کا قتل ہے۔ آیت ” فعلتہا اذا وانا من الضالین “ یعنی جب میں چوک جانے والوں میں سے تھا۔ 3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ یعنی ایک جان کا قتل کرنا آیت ” الم لربک فینا ولیدا “ یعنی ان کو فرعون والوں سے اٹھا لیا سو اس بچے کو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَفَعَلْتَ [ اور تو نے کیا ] فَعْلَتَكَ الَّتِيْ [ اپنا وہ فعل (کام) جو ] فَعَلْتَ [ تو نے کیا ] وَاَنْتَ [ اور تو ] مِنَ الْكٰفِرِيْنَ [ ناشکر گزاروں میں سے ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 11–34

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ کے لیے فرعون کا جادو گروں کو بلانا، مقابلہ ہونا اور جادو گروں کا شکست کھا کر ایمان قبول کرنا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے جواب وسوال سے عاجز ہو کر اور دو بڑے معجزے دیکھ کر فرعون کی شکست تو اسی وقت ہوگئی لیکن اس نے اپنی خفت مٹانے اور درباریوں کو مطمئن رکھنے اور ان کے ذریعہ ساری قوم کو اپنی فرمانبرداری پر جمائے رکھنے کے لیے سرداروں سے کہا جو اس وقت وہاں موجود تھے کہ سمجھ میں آگیا یہ تو ایک بڑا ماہر جادوگر ہے یہ چاہتا ہے کہ تمہیں مصر کی سر زمین سے نکال دے اور اپنی قوم کا بڑا بن کر ان کو ساتھ لے کر حکومت کرنے لگے۔ تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو ؟ سورة اعراف میں ہے کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–22

قصہ اول حضرت موسیٰ (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ واذ نادی ربک موسیٰ ان ائت القوم الظلمین .... الیٰ .... ان عبدت بنی اسرائیل۔ یہاں سے حضرات انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کے قصے ذکر کرتے ہیں سب سے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور قوم فرعون موسوی اور پھر اہل ایمان کی عجیب طریقے سے نجات اور کفار کی عبرتناک ہلاکت کے بیان پر مشتمل ہے۔ ذکر عطائے منصب نبوت و رسالت و حکم تبلیغ و دعوت یہ قصہ اگرچہ سورة اعراف اور سورة طہ میں بالتفصیل گزرچکا ہے لیکن یہاں پر ایک نئی شان سے اس قصہ کو ذکر فرماتے۔ چناچہ فرامتے ہیں اور اے نبی ان مستہزئین کی تہدید اور عبرت کے لیے اس وقت کا قصہ ذکر کیجئے جبکہ تیرے پروردگار نے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 19–20

12: یہ دوسرے اعتراض کا جواب ہے بطور لف و نشر غیر مرتب۔ دوسرا اعتراض چونکہ عصمت میں قادح تھا اس لیے اس کا جواب مقدم کیا۔ یعنی قتل کا فعل مجھ سے بلا قصد و ارادہ سرزد ہوا تھا۔ کیونکہ میں نے قبطی کو بطور تادیب مارا لیکن وہ ضرب اس کے لیے جان لیوا ثابت ہوئی۔ ” وانا من الضالین ای من الجاھلین۔ واراد (علیہ السلام) بذلک علی ما روی عن قتادہ انہ فعل ذلک جاھلا بہ غیر متعمد ایاہ فانہ (علیہ السلام) انما تعمد الوکز للتادیب فادی الی ما ادی (روح ج 19 ص 69) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 10–22

فرعون کو دعوت توحید سورۃ کی ابتدائی آیات میں قرآن کریم کی حقانیت اور تسلی کے مضمون کو اجمالی طور پر بیان کیا گیا تھا۔ اب یہاں سے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کیا ہے جس سے اصل مقصود اصول دین توحید اور ایمان کی دعوت دنیا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے ابتدائی واقعات تو سورة قصص اور بعض دیگر سورتوں میں بھی بیان ہوئے ہیں تا ہم یہاں پر مضمون کی ابتداء وتبلیغ حق سے ہو رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا اور پھر ان کو تبلیغ کے لیے فرعون اور اس کی ظالم قوم کے پاس بھیجا ۔ ارشاد ہوتا ہے ، وہ بات قابل ذکر ہے واذ نادی ربک موسیٰ جب کہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَفَعَلْتَ فَعْلَتَكَ الَّتِيْ فَعَلْتَ وَاَنْتَ مِنَ الْكٰفِرِيْنَ۝ 19 فعل الفِعْلُ : التأثير من جهة مؤثّر، وهو عامّ لما کان بإجادة أو غير إجادة، ولما کان بعلم أو غير علم، وقصد أو غير قصد، ولما کان من الإنسان والحیوان والجمادات، والعمل مثله، (ع ل ) الفعل کے معنی کسی اثر انداز کی طرف سے اثر اندازی کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ تاثیر عمدگی کے ساتھ ہو یا بغیر عمدگی کے ہو اور علم سے ہو یا بغیر علم کے قصدا کی جائے یا بغیر قصد کے پھر وہ تاثیر انسان کی طرف سے ہو یا دو سے حیوانات اور جمادات کی طرف سے ہو یہی معنی لفظ عمل کے ہیں ۔ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 11–34

بدنصیب یہ معجزے دیکھ کر ایمان تو نہ لایا کہہ دیا کہ یہ بڑا جادوگر ہے اس کے زور سے تمہارا ملک لینا چاہتا ہے۔ فرعونیوں کے عہد میں جادو اور طلسم کا بڑا زور تھا چناچہ اس عہد کے یادگار مسلمانوں کے ابتدائِ عہد تک موجود تھے جن کو اہل اسلام کے مؤرخین نے نقل کیا ہے دیکھو تاریخ مصر، درباریوں نے صلاح دی کہ آپ بھی اپنے ملک میں سے نامور جادوگر ایک روز معین میں جمع کر کے اس کو عاجز کر دیجئے اور عید یا کوئی فرعونیوں کا میلہ ہوتا تھا جس میں سب لوگ شریک ہوتے تھے وہ روز قرار پایا تاکہ سب لوگ موسیٰ ( علیہ السلام) کا عجز ملاحظہ کریں۔ چناچہ اس روز وہ سب جادوگر اور طلسم کار آئے اور ایک میدان میں فرعون اور اس کے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 18–19

قَالَ اَلَمْ نُرَبِّکَ فِیْنَا وَلِیْدًا وَّ لَبِثْتَ فِیْنَا مِنْ عُمُرِکَ سِنِیْنَ ۔ وَفَعَلْتَ فَعْلَتَکَ الَّتِیْ فَعَلْتَ وَاَنْتَ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ ۔ (الشعرآء : 18، 19) (فرعون نے کہا کیا ہم نے تم کو بچپن میں اپنے اندر نہیں پالا اور تو رہا ہمارے اندر اپنی عمر کے کئی سال۔ اور تو نے ارتکاب کیا اس فعل کا جس کا تو نے ارتکاب کیا، اور تو بڑا احسان فراموش ہے۔ ) فرعون کی برہمی فرعون نے جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ دو باتیں سنیں، ایک تو یہ بات کہ ہم رب العالمین کی طرف سے رسول بن کر آئے ہیں اور دوسری یہ بات کہ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دیں، تو اسے تو آگ لگ گئی۔ وہ اس بات کا تصور بھی نہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 16–23

فہم القرآن ربط کلام : فرعون اور موسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان مکالمہ۔ فرعون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر احسان جتلانے اور ان کی قوم کو غلام بنانے کے معاملے میں لاجواب ہوا۔ تو اس نے موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ سوال کیا کہ تم کس رب العالمین کی بات کرتے ہو۔ جس کا معنٰی تھا کہ میرے سوا کون رب ہوسکتا ہے ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا تفصیلی جواب دینے کی بجائے سادہ اور جامع جواب دیا کہ میں اس رب کا رسول ہوں۔ جو آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا رب ہے۔ اگر تم اس پر یقین کرنے کے لیے تیار ہو۔ یاد رہے کہ رب کا معنی خالق، رازق، مالک اور بادشاہ ہے۔ فرعون نے اپنا سکہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

19: وَفَعَلْتَ فَعْلَتَکَ الَّتِیْ فَعَلْتَ (اور تو نے اپنا وہ کام دکھا یا جو تو نے دکھایا) یعنی قبطی کو قتل کردیا اس نے تعریض کے طور پر بات اس لئے کی کہ وہ بادشاہ تھا۔ وَ اَنْتَ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ (اور تو کافروں میں سے ہے) یعنی میری نعمتوں کا منکر ہے کہ تو نے میرے ہی نان بائی کو قتل کردیا۔ نمبر 2۔ تو ہمارے اس دین پر تھا جس کو تو اب کفر کا نام دے رہا ہے اور یہ بہتان ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) پر اس نے باندھا۔ کیونکہ وہ معصوم پیغمبر ہیں آپ ان میں نبوت سے قبل خاموشی سے بچ بچا کر زندگی گزارتے رہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

19۔ وفعلت فعلتک التی فعلت۔ اس حرکت سے مراد قبطی کا قتل کرنا ہے۔ وانت من الکافرین، حسن اور سدی کا قول ہ ے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنے جس معبود کی طرف توہم کو بلارہا ہے اس کامنکر تو پہلے خود تھا ہمارے ساتھ ہمارے مذہب پر رہتا تھا، یا اس سے مراد یہ ہے کہ تو میرا منکر یا احسان فراموش ہے کہ لوٹ کر آیا ہے تو میری مخالفت کرتاآیا۔ اکثر مفسرین کا قول ہے کہ ، انت من الکافرین، کا معنی یہ ہے کہ میری نعمت کی ناشکری کرنے والا اور میری تربیت کا حق دا کرنے والاجی سے کوئی کہے کہ ، وبیناک فینا کہ اس نے میری احسان کی ایسی ناشکری کی کہ میرے خاص لوگوں کو قتل کرنے لگا، یہ عوفی کی روایت جو ابن عباس سے منقول ہے کہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 6–22

(6 تا 22) یہ مسخراپن کا نتیجہ بدر کی لڑائی میں معلوم ہوا جس کا ذکر انس بن مالک ؓ کی صحیح روایتوں سے ایک جگہ گزر چکا ہے آگے فرمایا کہ کیا نہیں دیکھا انہوں نے غور سے زمین کی طرف کہ کس طرح اگائے ہم نے اس میں طرح طرح کے جوڑے میووں کے اور ہر قسم کی کھیتی یہ منکرین حشر کو قائل کیا ہے مطلب یہ ہے کہ جس طرح سوکھی زمین سوکھا اناج کا دانہ اور سوکھی ہر ایک پھل کی گٹھلی سب مردہ کے مانند ہوتے ہیں خدا کی قدرت سے مینہ برستا ہے جس سے زمین زندہ چیزوں کی طرح تروتازہ ہوجاتی ہے اور ہر اناج کے دانہ اور میوہ کی گٹھلیوں میں وہ جان پڑجاتی ہے کہ ایک دانہ سے ہزاروں دانے اور ایک گٹھلی سے ہزاروں پھل پیدا ہوجاتے ہیں اسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 10–68

آیت نمبر 10 سے 68 اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں موسیٰ (علیہ السلام) کی مدح وثنا اور ان کے واقعات کا بار بار جتنا اعادہ کیا ہے اتنا کسی اور واقعے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ عظیم حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس قصے میں اہل ایمان اور اہل کفر کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے طرز عمل کی تفصیل ہے نیز موسیٰ (علیہ السلام) صاحب شریعت کبری اور صاحب تورات تھے جو قرآن عظیم کے بعد سب سے افضل کتاب ہے۔ فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجئے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندادی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، ان کو رسول بنا کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 18–20

16 حضرت موسیٰ کا فرعون کو جوابِ حق ترجمان : سو آپ نے فرعون سے کہا کہ " میں نے یہ کام اس وقت کیا تھا جبکہ میں بیخبر تھا "۔ یعنی یہ علم و آگہی مجھے اس وقت حاصل نہ تھی جو اب عطا فرمائی گئی ہے۔ نیز مجھے اس کی کیا خبر تھی کہ وہ ایک مکہ سے مرجائے گا۔ میں نے تو وہ مکا اسے قتل کی غرض سے نہیں صرف تادیب کے لئے مارا تھا۔ سو حضرت موسیٰ نے اپنے اس جوابِ حق ترجمان سے قتل قطبی کے قصور کا اقرار و اعتراف کیا اور اس واقعے کا انکار نہیں فرمایا۔ لیکن یہ واضح فرما دیا کہ اس فعل کا صدور مجھ سے اس وقت ہوا جبکہ مجھے اپنے رب کی طرف سے علم و ہدایت کا نور نہیں ملا تھا۔ بلکہ میں ابھی تک نور علم و ہدایت کی طلب و تلاش میں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 10–68

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ تشریح : اس واقعہ میں بیشمار نصیحتیں ‘ اللہ کے کمالات ‘ عجزو انکساری اور سب سے بڑھ کر توکل علی اللہ کا بہت زبردست سبق ملتا ہے۔ ایمان کامل انسان کے اندر اس قدر ہمت ‘ جرأت ‘ بہادری اور معرفت پیدا کردیتا ہے کہ انسان مادی اصولوں سے بےنیاز ہو کر روحانی دنیا میں گم ہوجاتا ہے اور اس کو اللہ ‘ اس کی مدد ‘ اس کا سایہ دنیا کے ہر خطرے سے محفوظ بےنیاز کردیتا ہے۔ جیسا کہ سید حسین نصر صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں : ” سچے مومن کی فراست تکمیل کو پہنچ جاتی ہے جیسا کہ اللہ نے فرمایا ” اللہ کی یاد میں دلوں کا سکون ہے۔ “ ( سورة رعد آیت : 28) ایسا شخص جو اس حالت میں ہو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 10–33

آیات 10 تا 33 اسرار و معارف نبی اکرم ﷺ کی شفقت کس قدر ہے اس کا اندازہ کیجیے کہ کفار کا دکھ بھی کس شدت سے محسوس فرماتے ہیں دوستاں راکجا کنی محروم۔ تو کہ بادشمناں نظر داری یعنی جس کا لطف و کرم دشمن پہ بھی عام ہے بھلا دوستوں کو کب محروم کرسکتا ہے تو آپ ﷺ کی تشفی فرماتے ہوئے اللہ کریم نے انسانوں پہ اپنے کرم کی ایک ادا کا تذکرہ فرمایا کہ فرعون کس قدر ظالم اور گستاخ کافر تھا اور اپنے خدا ہونے کا دعویدار بھی مگر اللہ کریم نے اسے بھی محروم نہ رکھا اور اپنے اولوالعزم رسول کو اس کے پاس بھیجا معجزات اور دلائل دیئے اور ہدایت کی طرف بلایا اگر وہ اپنی پسند سے دوسرے راستے پر ہی جانا چاہتا ہو تو پھر ایسے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

9 ۔ یعنی ہمارے اتنے احسانات کے باوجود تم نے ہمارے ایک آدمی کو قتل کردیا جو یقینا تمہاری احسان فراموشی تھی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(26:19) فعلتک : فعلۃ بمعنی فعل فعل سے مصدر ہے۔ فعل و فعلۃ ایک کام ۔ مرۃ۔ مضاف ہے ک ضمیر واحد مذکر حاضر مضاف الیہ۔ تیرا ایک کام ، تیرا ایک فعل ۔ فعلت فعلتک التی فعلت یعنی تیرا ایک فعل بھی ہے جو تو نے کیا تھا ۔ تو نے اپنی ایک اور حرکت بھی کی تھی۔ (اشارہ ہے قبطی کے قتل کی طرف) ۔ کفرین۔ ناشکر گزار۔ احسان فراموش۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے لیبلونی اشکر ام اکفر (27:40) تاکہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 10–22

لغات القرآن : آیت نمبر 10 تا 22 : نادی (آوازدی) ٍیضیق (تنگ ہوتا ہے۔ گھٹتا ہے) صدری (میرا سینہ) ‘ لسانی (میری زبان) کلا (ہرگز نہیں) مستمعون (سننے والے) نربک ( ہم نے تجھے پالا۔ پرورش کیا) ولید (بچپن) ‘ لبثت (تورہا) ‘ سنین (سن) (سال) ‘ فعلت (تونے کیا) ‘ الضآ لین ( بھٹکنے والے) فررت (میں بھاگ گیا) ‘ وھب (دیا۔ عطا کیا) ‘ تمن (تو احسان جتاتا ہے) ‘ عبدت (تونے غلام بنایا۔ ذلیل کیا) ‘۔ تشریح آیت نمبر 10 تا 22 : اللہ تعالیٰ نے گذشتہ آیات میں ارشاد فرمایا ہے کہ جو لوگ نبی اور سو ل کی بات مکمل یقین رکھنے والے ہیں ان کو ایمان لانے کے لئے کسی نشانی اور بہانے کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن جن کو عمل اور ایمان سے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 10–30

فرعون کا قصہ۔ (ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ فرعون کی قوم کے پاس جاؤ جنہوں نے اپنی جانوں پر کفر کرکے اور بنی اسرائیل کو غلام بنا کر ظلم کررکھا ہے وہ اللہ سے نہیں ڈرتے کہ اس کی اطاعت کریں اور اکیلا جانیں کسی کو اس کا شریک نہ بنائیں تو حضرت موسیٰ نے کہا، اے میرے پروردگار میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ وہ مجھ کو جھٹلادیں اور ان کے جھٹلانے سے میرا دل تنگ ہوجائے اور میں طاقت لسانی بھی نہیں رکھتا، کیونکہ بوجہ لکنت کے صاف بول نہیں سکتا۔ اس لیے میرے بھائی ہارون کو بھی میرے ساتھ پیغمبر کر، اس کے علاوہ فرعون والوں کا مجھ پر الزام ہے میں نے ایک آدمی کو مارڈالا ہے اس واسطے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(19) اور تو نے اپنا ایک اور کام بھی کیا تھا جو کیا تھا اور تو تو بڑا ہی ناسپاس ہے یعنی موسیٰ (علیہ السلام) تو تو وہی ہے جو بچپنے میں ہمارے ہاں رہا بڑھا پلا اور پھر ایک ناشائستہ حرکت بھی تو نے کی ایک قبطی کو بھی قتل کیا تو تو بڑا ناشکر اور ناسپاس ہے کہ جس رکابی میں کھائے اسی میں سوراخ کرے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ایک قبطی کا خون ہوا تھا ان سے سورة قصص میں آوے گا 12

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 18–21

ف 2۔ خلاصہ جواب یہ کہ میں پیغمبر ہی کی حیثیت سے آیا ہوں جس میں دبنے کی کوئی وجہ نہیں، اور پیغمبری اس واقعہ قتل خطا کے منافی نہیں، کیونکہ وہ خطا تو تھا، جو قادح استعداد کے بعد فعلیت مستبعد نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

تجھے معلوم ہے کہ تو نے کیا کیا اور جو تو نے کیا وہ تو ہی کرسکتا تھا کیونکہ تو احسان فراموش ہے : 19۔ اے موسیٰ تو جانتا ہے کہ پھر تو نے کیا کیا ہاں ! تو جو نے کیا وہ تو ہی تھا جو ایسا کر گیا اس لئے کہ تو احسان فراموشوں میں سے تھا “ یہ فرعون وہی تھا یا اس کا کوئی جانشین بہرحال اس نے موسیٰ (علیہ السلام) سے جو خطاء قتل ہوگیا تھا کی طرف اشارہ کیا جو نبوت سے پہلے آپ سے ہوا تھا جس کی تفصیل پیچھے موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ میں گزر چکی اور آئندہ سورة القصص میں مزید آئے گی ۔ یہ بات اس نے غصہ اور طنز کے ساتھ کہی جیسا کہ اس کے بات کرنے کے انداز سے ظاہر ہے ، دراصل اس کا یہ بات کہنے سے مقصد یہ ہے کہ تم تو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 17–42

أَنْ أَرْ‌سِلْ مَعَنَا بَنِي إِسْرَ‌ائِيلَ That you must send the children of Isra'i1 with us". (26:17) Bani Isra'il were the residents of Syria. They wanted to go back to their land but the Pharaoh would not let them. This way four hundred years had passed and they were living in his bondage like slaves. At that time they were six hundred and thirty thousand in number. Sayyidna Musa (علیہ السلام) when presented the message of Truth to the Pharaoh, he also asked him to stop all the cruelties he had perpetrated over Bani Isra'il and to let them go to their homeland. (Qurtubi) An example of…

Read the full tafseer →