Ash-Shu'araa 26:18

Ash-Shu'araa · from ayah 18

26:18

قَالَ اَلَمْ نُرَبِّكَ فِیْنَا وَلِیْدًا وَّلَبِثْتَ فِیْنَا مِنْ عُمُرِكَ سِنِیْنَ ۟ۙقَالَ اَلَمۡ نُرَبِّكَ فِيۡنَا وَلِيۡدًا وَّلَبِثۡتَ فِيۡنَا مِنۡ عُمُرِكَ سِنِيۡنَۙ‏

(فرعون نے موسیٰ سے کہا) کیا ہم نے تم کو کہ ابھی بچّے تھے پرورش نہیں کیا اور تم نے برسوں ہمارے ہاں عمر بسر (نہیں) کی

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Pharaoh] said, "Did we not raise you among us as a child, and you remained among us for years of your life?

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 2 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:18

فرعون نے کہا "کیا ہم نے تجھ کو اپنے ہاں بچہ سا نہیں پالا تھا؟ تو نے اپنی عمر کے کئی سال ہمارے ہاں گزارے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(فرعون نے موسیٰ سے کہا) کیا ہم نے تم کو کہ ابھی بچّے تھے پرورش نہیں کیا اور تم نے برسوں ہمارے ہاں عمر بسر (نہیں) کی

— مولانا فتح محمد جالندہری

فرعون نے کہا کہ کیا ہم نے تجھے تیرے بچپن کے زمانہ میں اپنے ہاں نہیں پاﻻ تھا؟ اور تو نے اپنی عمر کے بہت سے سال ہم میں نہیں گزارے؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

فرعون نے (جواب میں موسیٰ ؑ سے) کہا : کیا ہم نے تمہیں اس وقت اپنے پاس رکھ کر نہیں پالا تھا جب تم بالکل بچے تھے ؟ اور تم نے اپنی عمر کے بہت سے سال ہمارے یہاں رہ کر گزارے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بو لا کیا ہم نے تمھیں اپنے یہاں بچپن میں نہ پالا اور تم نے ہما رے یہا ں اپنی عمر کے کئی برس گزارے، ف۲۰)

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(فرعون نے) کہا: کیا ہم نے تمہیں اپنے یہاں بچپن کی حالت میں پالا نہیں تھا اور تم نے اپنی عمر کے کتنے ہی سال ہمارے اندر بسر کئے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اس نے کہا کیا ہم نے تجھے اپنے اندر اس حال میں نہیں پالا کہ تو بچہ تھا اور تو ہم میں اپنی عمر کے کئی سال رہا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

فرعون کہنے لگا : کیا ہم نے تمہیں اپنے ہاں بچپن میں پالا نہ تھا ؟ اور تو نے اپنی عمر کے کئی سال ہمارے ہاں نہیں گزارے ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اس نے کہا، کیا ہم نے تم کو بچپن میں اپنے اندر پالا نہیں ؟ اور تم نے اپنی عمر کے کئی سال ہمارے اندر بسر کئے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہ سنتے ہی فرعون بولا کیا ہم نے تمہیں بچپن میں اپنے یہاں پالا پوسا نہیں اور تم نے اپنی عمر کے کئی برس ہمارے درمیان نہیں گزارے ؟

— مولانا اسحاق مدنی

(فرعون) بولا کیا ہم نے تمہیں بچپن میں پرورش نہیں کیا تھا اور تم ہم لوگوں میں اپنی اس عمر میں برسوں رہا کئے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

فرعون نے کہا کہ کیا ہم نے تمہیں چھوٹے ہوتے اپنے ہاں پالا نہیں تھا ؟ اور تم نے اپنی زندگی کے کئی سال ہمارے ہاں گزارے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

فرعون نے موسیٰ سے کہا کیا ہم نے تم کو کہ جب بچے تھے پرورش نہیں کیا اور تم نے برسوں ہمارے پاس زندگی نہیں گزاری ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

Pharaoh said: "Did we not bring you up among us when you were a child?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He (Pharaoh) said, :Did we not nourish you among us as a child? And you remained amidst us for years,

— Muhammad Taqi Usmani

He (Pharaoh) said, :Did we not nourish you among us as a child? And you remained amidst us for years,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

(Fir`awn) said (to Musa): "Did we not bring you up among us as a child And you did dwell many years of your life with us."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

(Pharaoh) said (unto Moses): Did we not rear thee among us as a child? And thou didst dwell many years of thy life among us,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[Pharaoh] said, "Did we not raise you among us as a child, and you remained among us for years of your life?

— Saheeh International

The Pharaoh said, "Did we not bring you up in our home as an infant and did you not live with us for many years

— Muhammad Sarwar

(Firon) said: Did we not bring you up as a child among us, and you tarried among us for (many) years of your life?

— Muhammad Habib Shakir

Fir'awn said: brought we not thee up amongst us as a child? And thou tarriedst amongst us for many years of thy life?

— Abdul Majid Daryabadi

(Pharaoh) said: "Did we not cherish thee as a child among us, and didst thou not stay in our midst many years of thy life?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 26:18

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 10–22

موسیٰ ؑ اور اللہ جل شانہ کے مکالمات اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور اپنے رسول اور اپنے کلیم حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کو جو حکم دیا تھا اسے بیان فرما رہے ہیں کہ طور کے دائیں طرف سے آپ کو آواز دی آپ سے سرگوشیاں کیں آپ کو اپنا رسول ﷺ اور برگزیدہ بنایا اور آپ کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا جو ظلم پر کمر بستہ تھے۔ اور اللہ کا ڈر اور پرہیزگاری نام کو بھی ان میں نہیں رہی تھی۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی چند کمزوریاں جناب باری تعالیٰ کے سامنے بیان کی جو عنایت الٰہی سے دور کردی گئیں جیسے سورة طہ میں آپ کے سوالات پور کردئیے گئے۔ یہاں آپ کے عذر یہ بیان ہوئے کہ مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلادیں گے۔ میرا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الشُّعَرَآء 14 اس سے ایک اشارہ اس خیال کی تائید میں نکلتا ہے کہ یہ فرعون وہ فرعون نہ تھا جس کے گھر میں حضرت موسیٰ نے پرورش پائی تھی، بلکہ یہ اس کا بیٹا تھا۔ اگر یہ وہی فرعون ہوتا تو کہتا کہ میں نے تجھے پالا تھا۔ لیکن یہ کہتا ہے کہ ہمارے ہاں تو رہا ہے اور ہم نے تیری پرورش کی ہے۔ (اس مسئلے پر تفصیلی بحث کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم الاعراف، حواشی 85۔ 93)۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 17–19

اَنْ اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ ، بنی اسرائیل ملک شام کے باشندے تھے، وہاں جانا چاہتے تو فرعون ان کو جانے نہ دیتا تھا اس طرح چار سو سال سے وہ اس کی قید میں غلامی کی زندگی بسر کر رہے تھے ان کی تعداد اس وقت چھ لاکھ تیس ہزار تھی۔ حضرت موسیٰ ؑ نے فرعون کو پیغام حق پہنچانے کے ساتھ ہی بنی اسرائیل پر جو ظلم اس نے کر رکھا تھا اس سے باز آنے اور ان کو آزاد چھوڑ دینے کی ہدایت فرمائی۔ (قرطبی) پیغمبرانہ مناظرہ کا ایک نمونہ مناظرے کے موثر آداب دو مختلف الخیال شخصوں اور جماعتوں میں نظریاتی بحث و مباحثہ جس کو اصطلاح میں مناظرہ کہا جاتا ہے، زمانہ قدیم سے رائج ہے مگر عام طور پر مناظرہ ایک ہار جیت…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 18–19

آیت 19-18 فرعن کا حضرت موسیٰ کو حقارت آمیز جواب یہاں اتنی بات بربنائے قرینہ حذف ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کے بموجب حضرت موسیٰ ؑ اپنے بھائی حضرت ہارون کو ساتھ لے کر فرعن اور اس کے درباریوں کے پاس گئے اور انذار کے ساتھ ساتھ اس کے سامنے بنی اسرائیل کو اپنے ساتھ لے جانے کا مطالبہ بھی رکھا۔ بھلا فرعون یہ تصور کہاں کرسکتا تھا کہ کوئی اس کے سامنے اتنا بڑا دعویٰ اور اتنا اہم مطالبہ لے کر آئے گا اور وہ بھی ایک اسرائیلی ! اس نے نہایت حقارت آمیز انذار میں کہا کہ کیا تم وہی نہیں ہو جس کی پرورش بچپن میں ہم نے اپنے گھر میں کی ہے اور کیا تم وہی نہیں ہو جس نے وہ حرکت کی جو تم نے کی ! بیشک تم بڑے ہی ناشکرے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

18-1فرعون نے حضرت موسیٰ ؑ کی دعوت اور مطالبے پر غور کرنے کی بجائے، ان کی جوابدہی کرنی شروع کردی اور کہا کہ کیا تو وہی نہیں ہے جو ہماری گود میں اور ہمارے گھر میں پلا، جب کہ ہم بنی اسرائیل کے بچوں کو قتل کر ڈالتے تھے ؟ 18-2بعض کہتے ہیں کہ18سال فرعون کے محل میں بسر کئے، بعض کے نزدیک30سال اور بعض کے نزدیک چالیس سال یعنی اتنی عمر ہمارے پاس گزرانے کے بعد، چند سال ادھر ادھر رہ کر اب تو نبوت کا دعویٰ کرنے لگا ؟

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 18–22

قال الم نربک ……بنی اسرآئیل (22) فرعون کو سخت تعجب ہوتا ہے۔ وہ یقین نہیں کرسکتا کہ موسیٰ اس قدر عظیم دعویٰ بھی کرسکتے ہیں کہ میں (رسول رب العالمین) ہوں اور پھر وہ فرعون سے اس قدر عظیم مطالبہ کرتے ہیں۔ ان ارسل معنا بنی اسرآئیل (26 : 18) ” کہ ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دو ۔ “ کیونکہ انہوں نے جب موسیٰ کو آخری بار دیکھا تھا تو وہ ان کے گھر میں ان کا پروردہ تھا ، جس کے صندوق کو انہوں نے دریا سے اٹھا لیا تھا اور پھر ایک قبطی کے قتل کے بعد بھاگ گیا تھا۔ وہ قطبی جو ایک اسرائیل کے ساتھ ناحق الجھ رہا تھا۔ روایات میں آتا ہے کہ یہ قبطی فرعون کے حاشیہ نشینوں میں سے تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) دس سال تک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی تو وہی نہیں جس کو ہم نے اپنے گھر میں بڑے نازو نعم سے پالا پوسا اور پرورش کر کے اتنا بڑا کیا۔ اب تیرا یہ دماغ ہوگیا کہ ہم ہی سے مطالبات کرتا اور اپنی بزرگی منواتا۔ 7 اتنے برسوں تک کبھی یہ دعوے نہ کئے، اب یہاں سے نکلتے ہی رسول بن گئے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 18 قَالَ اَلَمْ نُرَبِّکَ فِیْنَا وَلِیْدًا وَّلَبِثْتَ فِیْنَا مِنْ عُمُرِکَ سِنِیْنَ ” یہ قرآن کا خاص اسلوب ہے کہ کوئی واقعہ بیان کرتے ہوئے اس کی غیر ضروری تفاصیل چھوڑ دی جاتی ہیں۔ چناچہ یہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مصر پہنچنے اور اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کے ساتھ فرعون کے دربار میں جا کر اسے دعوت دینے سے متعلق تمام تفصیلات کو چھوڑ کر فرعون کے جواب کو نقل کیا گیا ہے کہ کیا تم وہی نہیں ہو جس کو ہم نے دریائے نیل میں بہتے ہوئے صندوق سے نکالا تھا اور پھر پال پوس کر بڑا کیا تھا ؟ آیت زیر مطالعہ میں قرآن کے الفاظ کا امکانی حد تک مناسب انداز میں ترجمہ تو وہی ہے جو اوپر کیا گیا ہے ‘ لیکن…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 18–19

13 فرعون نے اللہ کا پیغام سننے کے بعد اس پیغام کا کچھ جواب دینے کے بجائے وہی کچھ کہنا شروع کردیا۔ جس کا موسیٰ (علیہ السلام) کو پہلے سے خطرہ تھا۔ اس نے کہا کہ بچپن میں تمہاری پرورش ہم نے ہی کی تھی۔ تمہاری جوانی ہمارے درمیان گزری ہے۔ ہم تو تمہاری رگ رگ سے واقف ہیں۔ پھر تم ہمارے مجرم بھی ہو۔ اب تم نے یہ پیغمبری کا ڈھونگ رچا ڈالا ہے اور ہم پر دباؤ ڈالنے آگئے ہو۔ تمہیں تو ہمارا ممنون احسان ہونا چاہئے تھا تم اٹھ کر رسالت کا دعویٰ کرکے اب ہماری آنکھیں دکھانے لگے ہو تم جیسا بھی کوئی احسان فراموش شخص ہوسکتا ہے ؟ اور انت من الکافرین کا ترجمہ بعضوں نے یوں کیا ہے کہ آج جن لوگوں کو تم کافر کہہ رہے ہو۔ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

17۔ (اے موسیٰ علیہ السلام) موسیٰ (علیہ السلام) کی تعلیم وتربیت سب شاہی ظل عاطفت میں ہوئی تھی، اور آپ قصر فرعونی میں سالہا سال تک رہے، قیام کی مدت روایات یہود میں مختلف آئی ہے۔ کوئی کہتا ہے 18 سال کی عمر تک اور کوئی کہتا ہے۔ 20 سال کی عمر تک اور کسی کسی کی روایات ہے کہ چالیس برس کی عمر تک، (آیت) ” ولیدا “۔ ولید وہ لڑکا ہے جس کی پیدائش کا ابھی تھوڑا ہی زمانہ گزرا ہے۔ الولید یقال لمن قرب عہدہ بالولادۃ (راغب)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 10–33

آیت نمبر 10 تا 33 ترجمہ : اور اے محمد ﷺ اپنی قوم کو اس وقت کا واقعہ یاد دلائیے کہ جب تیرے رب نے موسیٰ کو حکم دیا اس رات میں جبکہ موسیٰ نے آگ اور درخت کو دیکھا کہ تو ظالم قوم کے پاس رسول بن کر جا قوم فرعون کے پاس مع فرعون کے انہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کرکے اور بنی اسرائیل کو غلام بنا کر اپنے اوپر ظلم کیا ہے اَلاَ یتقون میں ہمزہ استفہام انکاری کے لئے ہے کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو کہ اس کی طاعت اختیار کرکے اس کی توحید کے قائل ہوجاؤ تو موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے پروردگار مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے اور ان کے میری تکذیب کی وجہ سے میرا دل تنگ ہوجائے، اور اداء رسالت کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال الم نربک فینا ولیدا۔ کہنے لگا کیا ہم نے اس وقت اپنے گھروں میں نہیں پالا تھا ؟ جبکہ تو (نوزائیدہ) بچہ تھا۔ ولید سے مراد ہے بچہ ‘ قرب ولادت کی وجہ سے ولید کہا (ورنہ حضرت موسیٰ فرعون کے گھر کے اندر پیدا نہیں ہوئے تھے) ۔ ولبثت فینا من عمرک سنین۔ اور تو ہمارے اندر برسوں رہا۔ روایت میں آیا ہے کہ حضرت موسیٰ فرعون کے پاس تیس سال کی عمر تک رہے پھر مدین کو چلے گئے وہاں دس سال رہے پھر مصر کو لوٹے اور فرعونیوں کو تیس سال تک اللہ کی طرف بلاتے رہے پھر فرعون کے ڈوبنے کے بعد پچاس برس زندہ رہے۔ (آپ کی کل عمر 120 برس ہوئی) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(18) یہ پیغام سن کر فرعون نے حضرت موسیٰ ؑ کو نظر اٹھا کر دیکھا اور کہنے لگا اے موسیٰ ؑ کیا ہم نے تمہیں بچپن میں پرورش نہیں کیا اور تیس سال تک تم ہم میں رہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 18–19

قَالَ اَلَمْ نُرَبِّكَ فِيْنَا وَلِيْدًا۔۔ : یہاں لمبی بات سننے والے کی سمجھ پر چھوڑ کر حذف کردی گئی کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں ایسی ہیبت عطا فرمائی کہ وہ دونوں کسی فوج یا اسلحے کے بغیر فرعون کے دربار میں پہنچے، اس کی فوج اور پہرے داروں میں سے کسی کو انھیں روکنے کی جرأت نہ ہوسکی اور دربار میں پہنچ کر انھوں نے اس کے تمام سرداروں کی موجودگی میں اسے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچایا۔ فرعون نے موسیٰ ؑ کی گفتگو سے اندازہ لگا لیا کہ اصل رسول وہی ہیں، ہارون صرف معاون ہیں، اس لیے اس نے موسیٰ ؑ ہی کو مخاطب کیا، ہارون ؑ سے بات نہیں کی۔ موسیٰ ؑ سے بات کرتے ہوئے اس نے ان کی دعوت پر بات کرنے سے گریز کرتے ہوئے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 16–22

(فاتیا فرعون فقولا۔۔۔۔۔ ) فاتیا فرعون فقولا انا رسول رب العلمین ابو عبیدہ نے کہا : رسول رسالت کے معنی میں ہے اس تعبیر کی بناء پر تقدیر کلام یہ ہوگا ان ذو ورسالۃ رب العالمین۔ بذلی نے کہا : الکنی الیھا و خیر الرسول اعلمھم بنواحی الخبر مجھے اس کی طرف بھیجو بہترین رسول وہ ہوتا ہے جو خبر کی اطراف کو ان سے سب سے زیادہ جاننے والا ہو۔ ایک اور شاعر نے کہا : لقد کذب الواشوی ما بحت عندھم بسر ولا ارسلتھم برسول چغل خوروں نے جھوٹ بولا میں نے ان کے ہاں بھید کو ظاہر نہیں کیا اور نہ ہی کوئی قاصد بھیجا۔ ایک شاعر نے کہا : الا ابدغ بنی عمرو رسولا بانی عن فتاحتکم غنی خبردار بنی عمرو کو پیغام پہنچا دو کہ میں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 10–51

1۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” یعنی طور کے داہنی جانب سے ان کو آواز دی گئی۔ 2۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جرری وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ ایک جان کے قتل کرنے کا الزام جو ان کے درمیان قتل ہوا آیت ” وفعلت فعلتک التی فعلت “ سے مراد بھی انسان کا قتل ہے۔ آیت ” فعلتہا اذا وانا من الضالین “ یعنی جب میں چوک جانے والوں میں سے تھا۔ 3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ یعنی ایک جان کا قتل کرنا آیت ” الم لربک فینا ولیدا “ یعنی ان کو فرعون والوں سے اٹھا لیا سو اس بچے کو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قَالَ [ (فرعون نے) کہا ] اَلَمْ نُرَبِّكَ [ کیا ہم نے تربیت نہیں کی تیری ] فِيْنَا [ اپنے (گھر) میں ] وَلِيْدًا [ بچہ ہوتے ہوئے ] وَّلَبِثْتَ [ اور تو رہا ] فِيْنَا [ ہم میں ] مِنْ عُمُرِكَ [ اپنی عمر سے ] سِـنِيْنَ [ کچھ سال ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 11–34

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ کے لیے فرعون کا جادو گروں کو بلانا، مقابلہ ہونا اور جادو گروں کا شکست کھا کر ایمان قبول کرنا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے جواب وسوال سے عاجز ہو کر اور دو بڑے معجزے دیکھ کر فرعون کی شکست تو اسی وقت ہوگئی لیکن اس نے اپنی خفت مٹانے اور درباریوں کو مطمئن رکھنے اور ان کے ذریعہ ساری قوم کو اپنی فرمانبرداری پر جمائے رکھنے کے لیے سرداروں سے کہا جو اس وقت وہاں موجود تھے کہ سمجھ میں آگیا یہ تو ایک بڑا ماہر جادوگر ہے یہ چاہتا ہے کہ تمہیں مصر کی سر زمین سے نکال دے اور اپنی قوم کا بڑا بن کر ان کو ساتھ لے کر حکومت کرنے لگے۔ تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو ؟ سورة اعراف میں ہے کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–22

قصہ اول حضرت موسیٰ (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ واذ نادی ربک موسیٰ ان ائت القوم الظلمین .... الیٰ .... ان عبدت بنی اسرائیل۔ یہاں سے حضرات انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کے قصے ذکر کرتے ہیں سب سے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور قوم فرعون موسوی اور پھر اہل ایمان کی عجیب طریقے سے نجات اور کفار کی عبرتناک ہلاکت کے بیان پر مشتمل ہے۔ ذکر عطائے منصب نبوت و رسالت و حکم تبلیغ و دعوت یہ قصہ اگرچہ سورة اعراف اور سورة طہ میں بالتفصیل گزرچکا ہے لیکن یہاں پر ایک نئی شان سے اس قصہ کو ذکر فرماتے۔ چناچہ فرامتے ہیں اور اے نبی ان مستہزئین کی تہدید اور عبرت کے لیے اس وقت کا قصہ ذکر کیجئے جبکہ تیرے پروردگار نے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 16–18

11:۔ ان کی دعوت کے جواب میں فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر دو اعتراض کیے۔ یہ پہلا اعتراض ہے۔ فرعون نے کہا اے موسیٰ کیا حالت شیر خوارگی میں میں ہی نے تیری پرورش نہیں کی اور بچپن کا زمانہ تو نے میرے گھر ہی میں ناز و نعمت سے نہیں گذارا ؟ تجھے تو میرے احسانات کا شکر ادا کرنا چاہیے تھا لیکن تو بڑا احسان فرا موش ثابت ہوا کہ میرے سوا کسی اور کو اپنا رب اور الہ مانتا ہے۔ ” وفعلت فعلتک الخ “ یہ دوسرا اعتراض ہے اور پھر تو نے میرے احسانات کی نا شکری اور حق تربیت کو فراموش کرتے ہوئے ایک اور سنگین جرم کا ارتکاب کیا اور میری قوم کا ایک آدم بلا وجہ قتل کردیا۔ ” وانت من الکفرین “ یہ کفرانِ نعمت سے ہے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 10–22

فرعون کو دعوت توحید سورۃ کی ابتدائی آیات میں قرآن کریم کی حقانیت اور تسلی کے مضمون کو اجمالی طور پر بیان کیا گیا تھا۔ اب یہاں سے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کیا ہے جس سے اصل مقصود اصول دین توحید اور ایمان کی دعوت دنیا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے ابتدائی واقعات تو سورة قصص اور بعض دیگر سورتوں میں بھی بیان ہوئے ہیں تا ہم یہاں پر مضمون کی ابتداء وتبلیغ حق سے ہو رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا اور پھر ان کو تبلیغ کے لیے فرعون اور اس کی ظالم قوم کے پاس بھیجا ۔ ارشاد ہوتا ہے ، وہ بات قابل ذکر ہے واذ نادی ربک موسیٰ جب کہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ اَلَمْ نُرَبِّكَ فِيْنَا وَلِيْدًا وَّلَبِثْتَ فِيْنَا مِنْ عُمُرِكَ سِـنِيْنَ۝ 18ۙ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 11–34

بدنصیب یہ معجزے دیکھ کر ایمان تو نہ لایا کہہ دیا کہ یہ بڑا جادوگر ہے اس کے زور سے تمہارا ملک لینا چاہتا ہے۔ فرعونیوں کے عہد میں جادو اور طلسم کا بڑا زور تھا چناچہ اس عہد کے یادگار مسلمانوں کے ابتدائِ عہد تک موجود تھے جن کو اہل اسلام کے مؤرخین نے نقل کیا ہے دیکھو تاریخ مصر، درباریوں نے صلاح دی کہ آپ بھی اپنے ملک میں سے نامور جادوگر ایک روز معین میں جمع کر کے اس کو عاجز کر دیجئے اور عید یا کوئی فرعونیوں کا میلہ ہوتا تھا جس میں سب لوگ شریک ہوتے تھے وہ روز قرار پایا تاکہ سب لوگ موسیٰ ( علیہ السلام) کا عجز ملاحظہ کریں۔ چناچہ اس روز وہ سب جادوگر اور طلسم کار آئے اور ایک میدان میں فرعون اور اس کے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 18–19

قَالَ اَلَمْ نُرَبِّکَ فِیْنَا وَلِیْدًا وَّ لَبِثْتَ فِیْنَا مِنْ عُمُرِکَ سِنِیْنَ ۔ وَفَعَلْتَ فَعْلَتَکَ الَّتِیْ فَعَلْتَ وَاَنْتَ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ ۔ (الشعرآء : 18، 19) (فرعون نے کہا کیا ہم نے تم کو بچپن میں اپنے اندر نہیں پالا اور تو رہا ہمارے اندر اپنی عمر کے کئی سال۔ اور تو نے ارتکاب کیا اس فعل کا جس کا تو نے ارتکاب کیا، اور تو بڑا احسان فراموش ہے۔ ) فرعون کی برہمی فرعون نے جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ دو باتیں سنیں، ایک تو یہ بات کہ ہم رب العالمین کی طرف سے رسول بن کر آئے ہیں اور دوسری یہ بات کہ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دیں، تو اسے تو آگ لگ گئی۔ وہ اس بات کا تصور بھی نہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 16–23

فہم القرآن ربط کلام : فرعون اور موسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان مکالمہ۔ فرعون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر احسان جتلانے اور ان کی قوم کو غلام بنانے کے معاملے میں لاجواب ہوا۔ تو اس نے موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ سوال کیا کہ تم کس رب العالمین کی بات کرتے ہو۔ جس کا معنٰی تھا کہ میرے سوا کون رب ہوسکتا ہے ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا تفصیلی جواب دینے کی بجائے سادہ اور جامع جواب دیا کہ میں اس رب کا رسول ہوں۔ جو آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا رب ہے۔ اگر تم اس پر یقین کرنے کے لیے تیار ہو۔ یاد رہے کہ رب کا معنی خالق، رازق، مالک اور بادشاہ ہے۔ فرعون نے اپنا سکہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تربیت کا احسان : 18۔ قَالَ اَلَمْ نُرَبِّکَ فِیْنَا وَلِیْدًا (کہنے لگا کیا ہم نے اس وقت اپنے گھروں میں تجھے نہیں پالا تھا کہ تو بچہ تھا) بطور اختصار یہاں یہ محذوف ہے فأتیا فرعون فقالا لہ ذلک۔ الولیدؔ بچہ کیونکہ اس کا زمانہ ولادت قریب ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کیا تو چھوٹا نہ تھا پس ہم نے تیری تربیت کی۔ وَّ لَبِثْتَ فِیْنَا مِنْ عُمُرِکَ سِنِیْنَ (اور تو ہم میں اپنی عمر کے کئی سال ٹھہرا رہا) ایک قول یہ ہے تیس سال۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

18۔ قال الم نربک فینا ولدا، ولید سے مراد بچہ ہے قرب ولادت کی وجہ سے اس کو ولید کہا ، ولبثت فینا من عمرک سنین، وہ فرعون کے پاس تیس سال کی عمر تک رہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 6–22

(6 تا 22) یہ مسخراپن کا نتیجہ بدر کی لڑائی میں معلوم ہوا جس کا ذکر انس بن مالک ؓ کی صحیح روایتوں سے ایک جگہ گزر چکا ہے آگے فرمایا کہ کیا نہیں دیکھا انہوں نے غور سے زمین کی طرف کہ کس طرح اگائے ہم نے اس میں طرح طرح کے جوڑے میووں کے اور ہر قسم کی کھیتی یہ منکرین حشر کو قائل کیا ہے مطلب یہ ہے کہ جس طرح سوکھی زمین سوکھا اناج کا دانہ اور سوکھی ہر ایک پھل کی گٹھلی سب مردہ کے مانند ہوتے ہیں خدا کی قدرت سے مینہ برستا ہے جس سے زمین زندہ چیزوں کی طرح تروتازہ ہوجاتی ہے اور ہر اناج کے دانہ اور میوہ کی گٹھلیوں میں وہ جان پڑجاتی ہے کہ ایک دانہ سے ہزاروں دانے اور ایک گٹھلی سے ہزاروں پھل پیدا ہوجاتے ہیں اسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 10–68

آیت نمبر 10 سے 68 اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں موسیٰ (علیہ السلام) کی مدح وثنا اور ان کے واقعات کا بار بار جتنا اعادہ کیا ہے اتنا کسی اور واقعے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ عظیم حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس قصے میں اہل ایمان اور اہل کفر کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے طرز عمل کی تفصیل ہے نیز موسیٰ (علیہ السلام) صاحب شریعت کبری اور صاحب تورات تھے جو قرآن عظیم کے بعد سب سے افضل کتاب ہے۔ فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجئے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندادی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، ان کو رسول بنا کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 18–20

16 حضرت موسیٰ کا فرعون کو جوابِ حق ترجمان : سو آپ نے فرعون سے کہا کہ " میں نے یہ کام اس وقت کیا تھا جبکہ میں بیخبر تھا "۔ یعنی یہ علم و آگہی مجھے اس وقت حاصل نہ تھی جو اب عطا فرمائی گئی ہے۔ نیز مجھے اس کی کیا خبر تھی کہ وہ ایک مکہ سے مرجائے گا۔ میں نے تو وہ مکا اسے قتل کی غرض سے نہیں صرف تادیب کے لئے مارا تھا۔ سو حضرت موسیٰ نے اپنے اس جوابِ حق ترجمان سے قتل قطبی کے قصور کا اقرار و اعتراف کیا اور اس واقعے کا انکار نہیں فرمایا۔ لیکن یہ واضح فرما دیا کہ اس فعل کا صدور مجھ سے اس وقت ہوا جبکہ مجھے اپنے رب کی طرف سے علم و ہدایت کا نور نہیں ملا تھا۔ بلکہ میں ابھی تک نور علم و ہدایت کی طلب و تلاش میں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 10–68

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ تشریح : اس واقعہ میں بیشمار نصیحتیں ‘ اللہ کے کمالات ‘ عجزو انکساری اور سب سے بڑھ کر توکل علی اللہ کا بہت زبردست سبق ملتا ہے۔ ایمان کامل انسان کے اندر اس قدر ہمت ‘ جرأت ‘ بہادری اور معرفت پیدا کردیتا ہے کہ انسان مادی اصولوں سے بےنیاز ہو کر روحانی دنیا میں گم ہوجاتا ہے اور اس کو اللہ ‘ اس کی مدد ‘ اس کا سایہ دنیا کے ہر خطرے سے محفوظ بےنیاز کردیتا ہے۔ جیسا کہ سید حسین نصر صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں : ” سچے مومن کی فراست تکمیل کو پہنچ جاتی ہے جیسا کہ اللہ نے فرمایا ” اللہ کی یاد میں دلوں کا سکون ہے۔ “ ( سورة رعد آیت : 28) ایسا شخص جو اس حالت میں ہو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 10–33

آیات 10 تا 33 اسرار و معارف نبی اکرم ﷺ کی شفقت کس قدر ہے اس کا اندازہ کیجیے کہ کفار کا دکھ بھی کس شدت سے محسوس فرماتے ہیں دوستاں راکجا کنی محروم۔ تو کہ بادشمناں نظر داری یعنی جس کا لطف و کرم دشمن پہ بھی عام ہے بھلا دوستوں کو کب محروم کرسکتا ہے تو آپ ﷺ کی تشفی فرماتے ہوئے اللہ کریم نے انسانوں پہ اپنے کرم کی ایک ادا کا تذکرہ فرمایا کہ فرعون کس قدر ظالم اور گستاخ کافر تھا اور اپنے خدا ہونے کا دعویدار بھی مگر اللہ کریم نے اسے بھی محروم نہ رکھا اور اپنے اولوالعزم رسول کو اس کے پاس بھیجا معجزات اور دلائل دیئے اور ہدایت کی طرف بلایا اگر وہ اپنی پسند سے دوسرے راستے پر ہی جانا چاہتا ہو تو پھر ایسے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

8 ۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو فرعون نے پہچان لیا اور کہا کیا ہم تم سے واقف نہیں ہیں ؟ اس وقت تو تم نے کوئی پیغمبری کا دعویٰ نہیں کیا تھا کیا اب تمہارا دماغ چل گیا ہے جو پیغمبری کا دعویٰ کرنے لگے ہو اور خود ہمیں اپنی پیروی کی دعوت دیتے ہو۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(26:18) الم نربک۔ ہمزہ استفہامیہ ہے لم نرب مضارع مجزوم نفی جحد بلم جمع متکلم۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ کیا ہم نے تجھے پالا نہیں تھا۔ فینا۔ اپنے ہاں۔ ہمارے اپنے پاس ای فی منازلنا ہمارے گھروں میں۔ ولیدا صیغہ صفت ہے ولادۃ سے نوزائیدہ بچہ۔ سنین سنۃ کی جمع ہے سال۔ برس۔ مجازا قحط والے سالوں کو بھی سنین کہتے ہیں۔ جیسے ولقد اخذنا ال فرعون بالسنین (7:130) اور ہم نے پکڑ لیا فرعونیوں کو قحط والے سالوں میں یعنی قحط سالی میں ۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 10–22

لغات القرآن : آیت نمبر 10 تا 22 : نادی (آوازدی) ٍیضیق (تنگ ہوتا ہے۔ گھٹتا ہے) صدری (میرا سینہ) ‘ لسانی (میری زبان) کلا (ہرگز نہیں) مستمعون (سننے والے) نربک ( ہم نے تجھے پالا۔ پرورش کیا) ولید (بچپن) ‘ لبثت (تورہا) ‘ سنین (سن) (سال) ‘ فعلت (تونے کیا) ‘ الضآ لین ( بھٹکنے والے) فررت (میں بھاگ گیا) ‘ وھب (دیا۔ عطا کیا) ‘ تمن (تو احسان جتاتا ہے) ‘ عبدت (تونے غلام بنایا۔ ذلیل کیا) ‘۔ تشریح آیت نمبر 10 تا 22 : اللہ تعالیٰ نے گذشتہ آیات میں ارشاد فرمایا ہے کہ جو لوگ نبی اور سو ل کی بات مکمل یقین رکھنے والے ہیں ان کو ایمان لانے کے لئے کسی نشانی اور بہانے کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن جن کو عمل اور ایمان سے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 10–30

فرعون کا قصہ۔ (ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ فرعون کی قوم کے پاس جاؤ جنہوں نے اپنی جانوں پر کفر کرکے اور بنی اسرائیل کو غلام بنا کر ظلم کررکھا ہے وہ اللہ سے نہیں ڈرتے کہ اس کی اطاعت کریں اور اکیلا جانیں کسی کو اس کا شریک نہ بنائیں تو حضرت موسیٰ نے کہا، اے میرے پروردگار میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ وہ مجھ کو جھٹلادیں اور ان کے جھٹلانے سے میرا دل تنگ ہوجائے اور میں طاقت لسانی بھی نہیں رکھتا، کیونکہ بوجہ لکنت کے صاف بول نہیں سکتا۔ اس لیے میرے بھائی ہارون کو بھی میرے ساتھ پیغمبر کر، اس کے علاوہ فرعون والوں کا مجھ پر الزام ہے میں نے ایک آدمی کو مارڈالا ہے اس واسطے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(18) چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہا السلام) فرعون کے پاس پہونچے فرعون کے سامنے وہ پیام بیان کیا اس پر فرعون نے اپنے احسانات بیان کرتے ہوئے کہا کیا ہم نے تجھ کو بچپنے میں اپنے یہاں رکھ کر تیری پرورش نہیں کی اور کیا تو نے اپنی عمر کے کئی سال ہمارے ہاں نہی گزارے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 18–21

ف 2۔ خلاصہ جواب یہ کہ میں پیغمبر ہی کی حیثیت سے آیا ہوں جس میں دبنے کی کوئی وجہ نہیں، اور پیغمبری اس واقعہ قتل خطا کے منافی نہیں، کیونکہ وہ خطا تو تھا، جو قادح استعداد کے بعد فعلیت مستبعد نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے موسیٰ ! کیا ہم نے بچپنے میں تیری پرورش نہیں کی اور تو ایک مدت ہم میں نہیں رہا : 18۔ غور کیجئے کہ یہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کے پیغام کا جواب ہے ؟ کیا یہ وہی بات نہیں کہ سوال گندم جواب چنے ؟ جیسا کہ آپ نے پیچھے پڑھا موسیٰ (علیہ السلام) نے اطلاعا اس سے کہا تھا کہ ہم دونوں رب العالمین کے بھیجے ہوئے آئے ہیں اور آنے کا مقصد یہ بتایا تھا کہ قوم بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کی اجازت دے دے چونکہ دونوں ہی باتیں اس کے لئے ناقابل برداشت تھیں پہلی بات سے براہ راست اس کی اپنی ربوبیت پر زد پڑتی تھی کیونکہ اس کا دعوی تو رب اعلی ہونے کا تھا اس لئے دوسری جگہ اس نے کہا بھی کہ ” میں تو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 17–42

أَنْ أَرْ‌سِلْ مَعَنَا بَنِي إِسْرَ‌ائِيلَ That you must send the children of Isra'i1 with us". (26:17) Bani Isra'il were the residents of Syria. They wanted to go back to their land but the Pharaoh would not let them. This way four hundred years had passed and they were living in his bondage like slaves. At that time they were six hundred and thirty thousand in number. Sayyidna Musa (علیہ السلام) when presented the message of Truth to the Pharaoh, he also asked him to stop all the cruelties he had perpetrated over Bani Isra'il and to let them go to their homeland. (Qurtubi) An example of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

14 This remark of Pharaoh shows that he was not the same Pharaoh who had brought up Moses in his house, but his son. Had he been the same Pharaoh, he would have said, "I brought you up." But, on the contrary. he says, "You were brought up among ourselves." For a detailed discussion, see E.N.'s 85-93 of AlA'raf.

Read the full tafseer →