Explained with ayahs 10–22
موسیٰ ؑ اور اللہ جل شانہ کے مکالمات
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور اپنے رسول اور اپنے کلیم حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کو جو حکم دیا تھا اسے بیان فرما رہے ہیں کہ طور کے دائیں طرف سے آپ کو آواز دی آپ سے سرگوشیاں کیں آپ کو اپنا رسول ﷺ اور برگزیدہ بنایا اور آپ کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا جو ظلم پر کمر بستہ تھے۔ اور اللہ کا ڈر اور پرہیزگاری نام کو بھی ان میں نہیں رہی تھی۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی چند کمزوریاں جناب باری تعالیٰ کے سامنے بیان کی جو عنایت الٰہی سے دور کردی گئیں جیسے سورة طہ میں آپ کے سوالات پور کردئیے گئے۔ یہاں آپ کے عذر یہ بیان ہوئے کہ مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلادیں گے۔ میرا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
سورة الشُّعَرَآء 13
حضرت موسیٰ و ہارون کی دعوت کے دو جز تھے ایک، فرعون کو اللہ کی بندگی کی طرف بلانا، جو تمام انبیاء (علیہم السلام) کی دعوت کا اصل مقصود رہا ہے۔ دوسرے، بنی اسرائیل کو فرعون کے بند غلامی سے نکالنا، جو مخصوص طور پر انہیں دونوں حضرات کا مشن تھا۔ قرآن مجید میں کسی جگہ صرف پہلے جزء کا ذکر کیا گیا ہے۔ (مثلاً سورة نازعات میں) اور کسی جگہ صرف دوسرے جز کا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
اَنْ اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ ، بنی اسرائیل ملک شام کے باشندے تھے، وہاں جانا چاہتے تو فرعون ان کو جانے نہ دیتا تھا اس طرح چار سو سال سے وہ اس کی قید میں غلامی کی زندگی بسر کر رہے تھے ان کی تعداد اس وقت چھ لاکھ تیس ہزار تھی۔ حضرت موسیٰ ؑ نے فرعون کو پیغام حق پہنچانے کے ساتھ ہی بنی اسرائیل پر جو ظلم اس نے کر رکھا تھا اس سے باز آنے اور ان کو آزاد چھوڑ دینے کی ہدایت فرمائی۔ (قرطبی)
پیغمبرانہ مناظرہ کا ایک نمونہ مناظرے کے موثر آداب
دو مختلف الخیال شخصوں اور جماعتوں میں نظریاتی بحث و مباحثہ جس کو اصطلاح میں مناظرہ کہا جاتا ہے، زمانہ قدیم سے رائج ہے مگر عام طور پر مناظرہ ایک ہار جیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
آیت 17-15
اللہ تعالیٰ کی طرف سے اطمینان دہانی
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کے اس اندیشے کی تو پوری شدت کے ساتھ تردید فرما دی کہ قبطی انہیں قتل کردیں گے لیکن حضرت ہارون کے بارے میں ان کی درخواست، جیسا کہ دوسرے مواقع میں تصریح اور یہاں اشارہ ہے، منظور فرما لی اور ان کو حکم دیا کہ تم دونوں فرعون کے پاس جائو اور کوئی اندیشہ نہ رکھو۔ انا معکم مسمعون اطمینان دہانی کا نہایت بلیغ فقرہ ہے۔ دوسرے مقام میں یہی بات یوں ارشاد ہوئی ہے۔ اننی معکما اسمع واری (طہ :46) (میں تم دونوں کے ساتھ سنتا اور دیکھتا ہوں تو مجال ہے کہ کوئی تمہیں گزند پہنچا سکے۔)
فرعون کی طرف ایک کے بجائے دو رسول
انا رسول رب العلمین سے معلوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
17-1یعنی ایک بات یہ کہو کہ ہم تیرے پاس اپنی مرضی سے نہیں آئے ہیں بلکہ رب العالمین کے نمائندے اور اس کے رسول کی حیثیت سے آئے ہیں اور دوسری بات یہ کہ تو نے (چار سو سال سے) بنی اسرائیل غلام بنا رکھا ہے، ان کو آزاد کر دے تاکہ میں انھیں شام کی سرزمین پر لے جاویں، جس کا اللہ نے وعدہ کیا ہوا ہے۔
Read the full tafseer →4: بنو اسرائیل اصل میں حضرت یعقوب ؑ کی اولاد کا نام ہے۔ یہ فلسطین کے علاقے کنعان کے باشندے تھے، لیکن حضرت یوسف ؑ جب مصر کے حکمران بنے تو انہوں نے اپنے سارے خاندان کو مصر بلا کر آباد کرلیا تھا، جس کا واقعہ سورة یوسف میں گذر چکا ہے۔ کچھ عرصے یہ لوگ وہاں اطمینان سے رہے، لیکن حضرت یوسف ؑ کے بعد مصر کے بادشاہوں نے جنہیں فرعون کہا جاتا تھا، ان کو غلام بنا کر ان پر طرح طرح کے ظلم ڈھانے شروع کردئیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–17
درس نمبر 162 ایک نظر میں
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کا یہ حصہ ، اس سورت کے موضوع اور محور کے ساتھ بہت ہی ہم آہنگ ہے۔ اس سورت میں مدار کلام زیادہ تر اس پر ہے کہ مکذبین کا انجام کیسا ہوا کرتا ہے۔ پھر اس سورت میں بھی حضور اکرم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے اور مشرکین کی جانب سے روگردانی اور تکذیب کے نتیجے میں آپ کو جو مشکلات درپیش تھیں۔ ان پر آپ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار بھی اس سورت کا موضوع سخن ہے۔ پھر اس سورت میں اس بات کی یقین دہانی بھی ہے کہ اس دعوت اور اس کی حامل تحریک کا حامی و مددگار اور محافظ اللہ ہے۔ اگرچہ یہ لوگ کمزور ہیں اور ان کے مخالفین زاد و عتاد یعنی ساز و سامان سے لیس ہیں۔ اہل قوت اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
5 " بنی اسرائیل " کا وطن حضرت ابراہیم کے زمانہ سے ملک شام تھا۔ حضرت یوسف کے سبب سے مصر میں آرہے، وہاں ایک مدت گزری۔ اب ان کو حق تعالیٰ نے ملک شام دینا چاہا۔ فرعون ان کو نہ چھوڑتا تھا کیونکہ ان سے غلاموں کی طرح بیگار میں کام لیتا تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کی آزادی کا مطالبہ فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
آیت 17 اَنْ اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ ”
کہ اب تم بنی اسرائیل کو مزید تنگ نہ کرو اور انہیں آزاد کر کے ہمارے ساتھ جانے کی اجازت دے دو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
12 اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کا مطالبہ منظور کرلینے کے بعد اور فرعون کی دست درازیوں سے حفاظت کی یقین دہانی کے بعد ان دونوں کو حکمدیا کہ فرعون کے پاس جائیں اور اسے بتلائیں کہ ہم رب العالمین کے رسول یا فرستادہ ہیں اگر وہ جھٹلائے تو پھر دو معجزات نشانی کے طور پر اسے دکھلائیں اور ساتھ ہی اس سے یہ مطالبہ کردیں کہ ہماری قوم بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے آزاد کرکے ہمارے ہمراہ روانہ کردے۔ چناچہ ان دونوں پیغمبروں نے اللہ کے اس حکم کے سامنے سرتسلیم خم کیا۔ فرعون کے دربار تک پہنچے اور اسے جون کا تون اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا۔
Read the full tafseer →16۔ (ان کے وطن ملک شام کو، اور اپنے بیگار اور ظلم سے انہیں رہائی دے) توریت میں ہے :” اب دیکھ بنی اسرائیل کی فریاد مجھ تک آئی، اور میں نے وہ ظلم جو مصری ان پر کرتے ہیں دیکھا ہے، بس اب تو جا، میں تجھے فرعون کے پاس بھیجتا ہوں۔ میرے لوگوں کو جو بنی اسرائیل ہیں مصر سے نکال “۔ (خروج 3: 9، 10) مجموعہ دعوت کا حاصل، دعوت توحید و رسالت اور پھر مخلوق میں ترک تعدی ہے۔ (آیت) ” ان “ یہاں مفسرہ ہے۔ ان مفسرۃ لتضمن الارسال المفھوم من الرسول (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–33
آیت نمبر 10 تا 33
ترجمہ : اور اے محمد ﷺ اپنی قوم کو اس وقت کا واقعہ یاد دلائیے کہ جب تیرے رب نے موسیٰ کو حکم دیا اس رات میں جبکہ موسیٰ نے آگ اور درخت کو دیکھا کہ تو ظالم قوم کے پاس رسول بن کر جا قوم فرعون کے پاس مع فرعون کے انہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کرکے اور بنی اسرائیل کو غلام بنا کر اپنے اوپر ظلم کیا ہے اَلاَ یتقون میں ہمزہ استفہام انکاری کے لئے ہے کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو کہ اس کی طاعت اختیار کرکے اس کی توحید کے قائل ہوجاؤ تو موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے پروردگار مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے اور ان کے میری تکذیب کی وجہ سے میرا دل تنگ ہوجائے، اور اداء رسالت کے…
Read the full tafseer →ان ارسل معنا بنی اسرآئیل (ہم کو یہ پیام دے کر بھیجا گیا ہے) کہ ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو چھوڑ دو
تاکہ وہ شام کو چلے جائیں تو ان کو غلام بنائے نہ رکھ۔
بغوی نے لکھا ہے فرعون نے بنی اسرائیل کو چار سو برس غلام بنائے رکھا ‘ اس زمانہ میں بنی اسرائیل کی تعداد چھ سو اسّی ہزار تھی (یعنی چھ لاکھ اسّی ہزار) غرض موسیٰ مصر کی طرف چلے ہارون وہاں موجود ہی تھے موسیٰ نے ہارون کو حکم الٰہی سے مطلع کیا۔ قصہ کی تفصیل میں آیا ہے کہ موسیٰ جب مصر کو لوٹ کر آئے تو اس وقت اونی چوغہ پہنے ہاتھ میں لاٹھی لئے لاٹھی کے سریے میں تو بڑا لٹکا ہوا (جس کے اندر کھانے پینے کا سامان تھا) اس ہیئت سے مصر میں داخل ہوئے۔ مصر میں آکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
(16۔ 17) سو تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور اسے کہو کہ ہم تیری طرف قوم کی طرف رب العالمین کی طرف سے بھیجے ہوئے ہیں کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے دے۔
Read the full tafseer →اَنْ اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ : موسیٰ اور ہارون ؑ کو فرعون کی طرف توحید و رسالت کے ساتھ یہ پیغام بھی دے کر بھیجا گیا کہ وہ بنی اسرائیل کو غلامی سے آزاد کر دے اور انھیں ان کے ساتھ ان کے آبا و اجداد کی سرزمین میں جانے دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–22
(فاتیا فرعون فقولا۔۔۔۔۔ )
فاتیا فرعون فقولا انا رسول رب العلمین ابو عبیدہ نے کہا : رسول رسالت کے معنی میں ہے اس تعبیر کی بناء پر تقدیر کلام یہ ہوگا ان ذو ورسالۃ رب العالمین۔ بذلی نے کہا :
الکنی الیھا و خیر الرسول اعلمھم بنواحی الخبر
مجھے اس کی طرف بھیجو بہترین رسول وہ ہوتا ہے جو خبر کی اطراف کو ان سے سب سے زیادہ جاننے والا ہو۔ ایک اور شاعر نے کہا :
لقد کذب الواشوی ما بحت عندھم بسر ولا ارسلتھم برسول
چغل خوروں نے جھوٹ بولا میں نے ان کے ہاں بھید کو ظاہر نہیں کیا اور نہ ہی کوئی قاصد بھیجا۔
ایک شاعر نے کہا :
الا ابدغ بنی عمرو رسولا بانی عن فتاحتکم غنی
خبردار بنی عمرو کو پیغام پہنچا دو کہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–51
1۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” یعنی طور کے داہنی جانب سے ان کو آواز دی گئی۔
2۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جرری وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ ایک جان کے قتل کرنے کا الزام جو ان کے درمیان قتل ہوا آیت ” وفعلت فعلتک التی فعلت “ سے مراد بھی انسان کا قتل ہے۔ آیت ” فعلتہا اذا وانا من الضالین “ یعنی جب میں چوک جانے والوں میں سے تھا۔
3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ یعنی ایک جان کا قتل کرنا آیت ” الم لربک فینا ولیدا “ یعنی ان کو فرعون والوں سے اٹھا لیا سو اس بچے کو…
Read the full tafseer →اَنْ [ (پیغام یہ ہے) کہ ] اَرْسِلْ [ تو بھیج ] مَعَنَا [ ہمارے ساتھ ] بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ [ بنی اسرائیل کو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–34
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ کے لیے فرعون کا جادو گروں کو بلانا، مقابلہ ہونا اور جادو گروں کا شکست کھا کر ایمان قبول کرنا
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے جواب وسوال سے عاجز ہو کر اور دو بڑے معجزے دیکھ کر فرعون کی شکست تو اسی وقت ہوگئی لیکن اس نے اپنی خفت مٹانے اور درباریوں کو مطمئن رکھنے اور ان کے ذریعہ ساری قوم کو اپنی فرمانبرداری پر جمائے رکھنے کے لیے سرداروں سے کہا جو اس وقت وہاں موجود تھے کہ سمجھ میں آگیا یہ تو ایک بڑا ماہر جادوگر ہے یہ چاہتا ہے کہ تمہیں مصر کی سر زمین سے نکال دے اور اپنی قوم کا بڑا بن کر ان کو ساتھ لے کر حکومت کرنے لگے۔ تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو ؟ سورة اعراف میں ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–22
قصہ اول حضرت موسیٰ (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ واذ نادی ربک موسیٰ ان ائت القوم الظلمین .... الیٰ .... ان عبدت بنی اسرائیل۔
یہاں سے حضرات انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کے قصے ذکر کرتے ہیں سب سے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور قوم فرعون موسوی اور پھر اہل ایمان کی عجیب طریقے سے نجات اور کفار کی عبرتناک ہلاکت کے بیان پر مشتمل ہے۔
ذکر عطائے منصب نبوت و رسالت و حکم تبلیغ و دعوت
یہ قصہ اگرچہ سورة اعراف اور سورة طہ میں بالتفصیل گزرچکا ہے لیکن یہاں پر ایک نئی شان سے اس قصہ کو ذکر فرماتے۔ چناچہ فرامتے ہیں اور اے نبی ان مستہزئین کی تہدید اور عبرت کے لیے اس وقت کا قصہ ذکر کیجئے جبکہ تیرے پروردگار نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–18
11:۔ ان کی دعوت کے جواب میں فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر دو اعتراض کیے۔ یہ پہلا اعتراض ہے۔ فرعون نے کہا اے موسیٰ کیا حالت شیر خوارگی میں میں ہی نے تیری پرورش نہیں کی اور بچپن کا زمانہ تو نے میرے گھر ہی میں ناز و نعمت سے نہیں گذارا ؟ تجھے تو میرے احسانات کا شکر ادا کرنا چاہیے تھا لیکن تو بڑا احسان فرا موش ثابت ہوا کہ میرے سوا کسی اور کو اپنا رب اور الہ مانتا ہے۔ ” وفعلت فعلتک الخ “ یہ دوسرا اعتراض ہے اور پھر تو نے میرے احسانات کی نا شکری اور حق تربیت کو فراموش کرتے ہوئے ایک اور سنگین جرم کا ارتکاب کیا اور میری قوم کا ایک آدم بلا وجہ قتل کردیا۔ ” وانت من الکفرین “ یہ کفرانِ نعمت سے ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–22
فرعون کو دعوت توحید
سورۃ کی ابتدائی آیات میں قرآن کریم کی حقانیت اور تسلی کے مضمون کو اجمالی طور پر بیان کیا گیا تھا۔ اب یہاں سے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کیا ہے جس سے اصل مقصود اصول دین توحید اور ایمان کی دعوت دنیا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے ابتدائی واقعات تو سورة قصص اور بعض دیگر سورتوں میں بھی بیان ہوئے ہیں تا ہم یہاں پر مضمون کی ابتداء وتبلیغ حق سے ہو رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا اور پھر ان کو تبلیغ کے لیے فرعون اور اس کی ظالم قوم کے پاس بھیجا ۔ ارشاد ہوتا ہے ، وہ بات قابل ذکر ہے واذ نادی ربک موسیٰ جب کہ…
Read the full tafseer →اَنْ اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ 17ۭ
رسل ( ارسال)
والْإِرْسَالُ يقال في الإنسان، وفي الأشياء المحبوبة، والمکروهة، وقد يكون ذلک بالتّسخیر، كإرسال الریح، والمطر، نحو : وَأَرْسَلْنَا السَّماءَ عَلَيْهِمْ مِدْراراً [ الأنعام/ 6] ، وقد يكون ببعث من له اختیار، نحو إِرْسَالِ الرّسل، قال تعالی: وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً [ الأنعام/ 61] ، فَأَرْسَلَ فِرْعَوْنُ فِي الْمَدائِنِ حاشِرِينَ [ الشعراء/ 53] ، وقد يكون ذلک بالتّخلية، وترک المنع، نحو قوله : أَلَمْ تَرَ أَنَّا أَرْسَلْنَا الشَّياطِينَ عَلَى الْكافِرِينَ تَؤُزُّهُمْ أَزًّا [ مریم/ 83] ، والْإِرْسَالُ يقابل الإمساک . قال تعالی:…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–34
بدنصیب یہ معجزے دیکھ کر ایمان تو نہ لایا کہہ دیا کہ یہ بڑا جادوگر ہے اس کے زور سے تمہارا ملک لینا چاہتا ہے۔ فرعونیوں کے عہد میں جادو اور طلسم کا بڑا زور تھا چناچہ اس عہد کے یادگار مسلمانوں کے ابتدائِ عہد تک موجود تھے جن کو اہل اسلام کے مؤرخین نے نقل کیا ہے دیکھو تاریخ مصر، درباریوں نے صلاح دی کہ آپ بھی اپنے ملک میں سے نامور جادوگر ایک روز معین میں جمع کر کے اس کو عاجز کر دیجئے اور عید یا کوئی فرعونیوں کا میلہ ہوتا تھا جس میں سب لوگ شریک ہوتے تھے وہ روز قرار پایا تاکہ سب لوگ موسیٰ ( علیہ السلام) کا عجز ملاحظہ کریں۔ چناچہ اس روز وہ سب جادوگر اور طلسم کار آئے اور ایک میدان میں فرعون اور اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
قَالَ کَلاَّ ج فَاذْھَبَا بِاٰیٰـتِنَآ اِنَّا مَعَکُمْ مُّسْتَمِعُوْنَ ۔ فَاْ تِیَا فِرْعَوْنَ فَـقُوْلاَ اِنَّا رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ اَنْ اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ ۔ (الشعرآء : 15، 16، 17)
(اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہرگز نہیں، تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ، ہم تمہارے ساتھ سب کچھ سننے والے ہیں۔ تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور اسے کہو کہ ہم رب العالمین کے رسول ہیں۔ کہ تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دے۔ )
اللہ تعالیٰ کی طرف سے اطمینان دہانی
اللہ تعالیٰ نے پوری شدت کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اس اندیشے کو رد کردیا کہ وہ لوگ آپ کو قتل کردیں گے اور اطمینان دلاتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–23
فہم القرآن
ربط کلام : فرعون اور موسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان مکالمہ۔
فرعون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر احسان جتلانے اور ان کی قوم کو غلام بنانے کے معاملے میں لاجواب ہوا۔ تو اس نے موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ سوال کیا کہ تم کس رب العالمین کی بات کرتے ہو۔ جس کا معنٰی تھا کہ میرے سوا کون رب ہوسکتا ہے ؟
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا تفصیلی جواب دینے کی بجائے سادہ اور جامع جواب دیا کہ میں اس رب کا رسول ہوں۔ جو آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا رب ہے۔ اگر تم اس پر یقین کرنے کے لیے تیار ہو۔ یاد رہے کہ رب کا معنی خالق، رازق، مالک اور بادشاہ ہے۔ فرعون نے اپنا سکہ…
Read the full tafseer →17: اَنْ اَرْسِلْ (کہ بھیج دو ) یہ معنی ارسل ہے۔ کیونکہ رسول کے لفظ میں ارسال کا معنی پہلے پایا جاتا ہے اور اس میں قول کا معنی ہے۔ مَعَنَا بَنِیْ اِسْرَآئِ یْلَ (ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو) مراد یہ ہے کہ ان کو فلسطین جانے کیلئے آزاد چھوڑ دو ۔ اور یہ فلسطین ان کا مسکن تھا۔ پس دونوں اس کے دروازہ پر گئے مگر ایک سال تک ان کو اندر آنے کی اجازت نہ ملی یہاں تک کہ ایک دربان نے کہا یہاں ایک انسان ایسا ہے کہ جو یہ خیال کرتا ہے کہ وہ رب العالمین کا رسول ہے اس پر فرعون نے اندر آنے کی اجازت دی اور کہنے لگا اس کو اندر آنے دو ۔ شاید اس سے ہنسی مذاق کرلیں۔ دونوں نے داخل ہو کر پیغام رسالت پہنچایا۔ اس وقت فرعون…
Read the full tafseer →17۔ ان ارسل، ہم کو یہ پیغام دے کربھیجا، معنابنی سرائیل، اس سے مراد فلسطین ہیں اور وہ بنی اسرائیل ان کی عبادت نہیں کرتے، فرعون نے بنی اسرائیل کو چار سوبرس غلام بنائے رکھا اس زمانے میں بنی اسرایئل کی تعداد چھوسو اسی ہزار تھی۔ غرض موسیٰ مصر کی طرف چلے۔ ہارون (علیہ السلام) وہاں موجود تھے موسیٰ نے ہارون (علیہ السلام) کو حکم الٰہی سے مطلع کیا۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کو دعوت دینے اس کے گھر پہنچ گئے۔
اس قصہ میں آیا ہے کہ موسیٰ جب مصر کو لوٹ کر آئے تو اس وقت اونی چوغہ پہنے ہوئے ہاتھ میں لاٹھی لیے لاٹھی کے سرے میں بڑا مٹکا تھا جس میں کھانے پینے کی اشیاء موجود تھیں۔ اس ہییت سے مصر میں داخل ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–22
(6 تا 22) یہ مسخراپن کا نتیجہ بدر کی لڑائی میں معلوم ہوا جس کا ذکر انس بن مالک ؓ کی صحیح روایتوں سے ایک جگہ گزر چکا ہے آگے فرمایا کہ کیا نہیں دیکھا انہوں نے غور سے زمین کی طرف کہ کس طرح اگائے ہم نے اس میں طرح طرح کے جوڑے میووں کے اور ہر قسم کی کھیتی یہ منکرین حشر کو قائل کیا ہے مطلب یہ ہے کہ جس طرح سوکھی زمین سوکھا اناج کا دانہ اور سوکھی ہر ایک پھل کی گٹھلی سب مردہ کے مانند ہوتے ہیں خدا کی قدرت سے مینہ برستا ہے جس سے زمین زندہ چیزوں کی طرح تروتازہ ہوجاتی ہے اور ہر اناج کے دانہ اور میوہ کی گٹھلیوں میں وہ جان پڑجاتی ہے کہ ایک دانہ سے ہزاروں دانے اور ایک گٹھلی سے ہزاروں پھل پیدا ہوجاتے ہیں اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–68
آیت نمبر 10 سے 68
اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں موسیٰ (علیہ السلام) کی مدح وثنا اور ان کے واقعات کا بار بار جتنا اعادہ کیا ہے اتنا کسی اور واقعے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ عظیم حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس قصے میں اہل ایمان اور اہل کفر کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے طرز عمل کی تفصیل ہے نیز موسیٰ (علیہ السلام) صاحب شریعت کبری اور صاحب تورات تھے جو قرآن عظیم کے بعد سب سے افضل کتاب ہے۔
فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجئے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندادی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، ان کو رسول بنا کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
14 حضرت موسیٰ کا فرعون سے ایک اہم مطالبہ : یعنی اس سے بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ۔ بنی اسرائیل کا اصلی وطن ملک شام تھا۔ واضح رہے کہ اس وقت کا شام موجودہ سوریا، اردن اور فلسطین سب ہی کو شامل تھا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے دور میں یہ لوگ جا کر مصر میں آباد ہوگئے تھے۔ بعد میں فرعون نے ان کو اپنا غلام بنا لیا تھا اور وہ ان کو اپنے وطن جانے کے لئے نہیں چھوڑتا تھا۔ اور ظاہر ہے کہ لاکھوں کی تعداد میں ملے ہوئے ان مفت کے غلاموں کو وہ اس طرح آسانی سے چھوڑتا بھی کیونکر ؟ قرآن پاک میں پیغام موسیٰ (علیہ السلام) کے ضمن میں زیادہ تر اسی کا ذکر آتا ہے۔ اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہیئے کہ حضرت موسیٰ کا پیغام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–68
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ
تشریح : اس واقعہ میں بیشمار نصیحتیں ‘ اللہ کے کمالات ‘ عجزو انکساری اور سب سے بڑھ کر توکل علی اللہ کا بہت زبردست سبق ملتا ہے۔ ایمان کامل انسان کے اندر اس قدر ہمت ‘ جرأت ‘ بہادری اور معرفت پیدا کردیتا ہے کہ انسان مادی اصولوں سے بےنیاز ہو کر روحانی دنیا میں گم ہوجاتا ہے اور اس کو اللہ ‘ اس کی مدد ‘ اس کا سایہ دنیا کے ہر خطرے سے محفوظ بےنیاز کردیتا ہے۔ جیسا کہ سید حسین نصر صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں : ” سچے مومن کی فراست تکمیل کو پہنچ جاتی ہے جیسا کہ اللہ نے فرمایا ” اللہ کی یاد میں دلوں کا سکون ہے۔ “ ( سورة رعد آیت : 28)
ایسا شخص جو اس حالت میں ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–33
آیات 10 تا 33
اسرار و معارف
نبی اکرم ﷺ کی شفقت کس قدر ہے اس کا اندازہ کیجیے کہ کفار کا دکھ بھی کس شدت سے محسوس فرماتے ہیں دوستاں راکجا کنی محروم۔ تو کہ بادشمناں نظر داری یعنی جس کا لطف و کرم دشمن پہ بھی عام ہے بھلا دوستوں کو کب محروم کرسکتا ہے تو آپ ﷺ کی تشفی فرماتے ہوئے اللہ کریم نے انسانوں پہ اپنے کرم کی ایک ادا کا تذکرہ فرمایا کہ فرعون کس قدر ظالم اور گستاخ کافر تھا اور اپنے خدا ہونے کا دعویدار بھی مگر اللہ کریم نے اسے بھی محروم نہ رکھا اور اپنے اولوالعزم رسول کو اس کے پاس بھیجا معجزات اور دلائل دیئے اور ہدایت کی طرف بلایا اگر وہ اپنی پسند سے دوسرے راستے پر ہی جانا چاہتا ہو تو پھر ایسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
7 ۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) و ہارون ( علیہ السلام) کو فرعون کی طرف دو مشن دے کر بھیجا گیا تھا، ایک بنی اسرائیل کو اس کی غلامی سے نجات دلانا اور دوسرا اس کے سامنے دعوت توحید رکھنا۔ (دیکھئے ……)
Read the full tafseer →(26:17) ان مفرہ ہے کہ ارسال میں قول کا مفہوم پایا جاتا ہے یا ان مصدریہ بھی ہوسکتا ہے یعنی ہم اللہ کی طرف سے بنی اسرائیل کو لے جانے کے لئے بھیجے گئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–22
لغات القرآن : آیت نمبر 10 تا 22 :
نادی (آوازدی) ٍیضیق (تنگ ہوتا ہے۔ گھٹتا ہے) صدری (میرا سینہ) ‘ لسانی (میری زبان) کلا (ہرگز نہیں) مستمعون (سننے والے) نربک ( ہم نے تجھے پالا۔ پرورش کیا) ولید (بچپن) ‘ لبثت (تورہا) ‘ سنین (سن) (سال) ‘ فعلت (تونے کیا) ‘ الضآ لین ( بھٹکنے والے) فررت (میں بھاگ گیا) ‘ وھب (دیا۔ عطا کیا) ‘ تمن (تو احسان جتاتا ہے) ‘ عبدت (تونے غلام بنایا۔ ذلیل کیا) ‘۔
تشریح آیت نمبر 10 تا 22 :
اللہ تعالیٰ نے گذشتہ آیات میں ارشاد فرمایا ہے کہ جو لوگ نبی اور سو ل کی بات مکمل یقین رکھنے والے ہیں ان کو ایمان لانے کے لئے کسی نشانی اور بہانے کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن جن کو عمل اور ایمان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–30
فرعون کا قصہ۔
(ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ فرعون کی قوم کے پاس جاؤ جنہوں نے اپنی جانوں پر کفر کرکے اور بنی اسرائیل کو غلام بنا کر ظلم کررکھا ہے وہ اللہ سے نہیں ڈرتے کہ اس کی اطاعت کریں اور اکیلا جانیں کسی کو اس کا شریک نہ بنائیں تو حضرت موسیٰ نے کہا، اے میرے پروردگار میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ وہ مجھ کو جھٹلادیں اور ان کے جھٹلانے سے میرا دل تنگ ہوجائے اور میں طاقت لسانی بھی نہیں رکھتا، کیونکہ بوجہ لکنت کے صاف بول نہیں سکتا۔ اس لیے میرے بھائی ہارون کو بھی میرے ساتھ پیغمبر کر، اس کے علاوہ فرعون والوں کا مجھ پر الزام ہے میں نے ایک آدمی کو مارڈالا ہے اس واسطے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
[5] موسیٰ (علیہ السلام) و ہارون (علیہ السلام) کے مشن کے دو جز تھے، ایک دعوت توحید اور دوسرے بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی سے چھڑانا۔ قرآن میں کسی جگہ پہلے جز کا ذکر کیا گیا ہے اور کسی جگہ دوسرے جز کا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
ذنب ۔ الزام ۔ گناہ
Read the full tafseer →(17) اور یہ پیغام لائے ہیں کہ اے فرعون تو بنی اسرائیل کو ہمارے ہمراہ بھیج دے ۔ یعنی جو تمام عالموں کا پروردگار ہے اور پالن ہار ہے اس کی طرف سے ہم رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں اور چونکہ بنی اسرائیل پر بڑی تعدی ہورہی ہے اس لئے بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے دے اور ان کے جانے میں کوئی رکاوٹ نہ پیدا کرے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں بنی اسرائیل کا وطن تھا ملک شام حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے قوت سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے سبب مصر میں آرہے تھے بہت مدت گزری اب حق تعالیٰ نے ان کو ملک شام دینا چاہا فرعون ان کو نہ چھوڑتا تھا کہ ان سے کام لیتا تھا بےگار میں 12
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
ف 1۔ مجموعہ دعوت کا حاصل حقوق اللہ و حقوق العباد میں تعدی کا ترک کرنا ہے۔
Read the full tafseer →ہمارے آنے کا مقصد یہ ہے کہ قوم بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کی اجازت دے دے :
17۔ فرعون کو مخاطب کرکے جب دونوں بھائیوں نے (آیت) ” انا رسول رب العلمین “ کے الفاظ کہے اس وقت جو فرعون پر گزری ہوگی وہ آپ اور میں نہیں سمجھ سکتے کیونکہ (انا ربکم الاعلی) کی صدا اس نے بلند کی تھی اور اس بات کو موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) بھی اچھی طرح جانتے تھے جب فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) سے اس جملہ کو سنا تو اس کے یقینا طوطے اڑ گئے کیونکہ وہ جانتا تھا کہ یہ دونوں بھائی قوم بنی اسرائیل کے ہونے والے لیڈر ہیں آج انہوں نے رب العلمین کا نام لے کر دراصل میری ربوبیت سے نکل جانے کا اعلان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–42
أَنْ أَرْسِلْ مَعَنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ
That you must send the children of Isra'i1 with us". (26:17)
Bani Isra'il were the residents of Syria. They wanted to go back to their land but the Pharaoh would not let them. This way four hundred years had passed and they were living in his bondage like slaves. At that time they were six hundred and thirty thousand in number. Sayyidna Musa (علیہ السلام) when presented the message of Truth to the Pharaoh, he also asked him to stop all the cruelties he had perpetrated over Bani Isra'il and to let them go to their homeland. (Qurtubi)
An example of…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
13 The Mission of the Prophets Moses and Aaron was twofold: First, to invite Pharaoh to the worship and obedience of Allah which has been the foremost aim of the Mission of every Prophet, and secondly, to liberate the Israelites from the bondage of Pharaoh, which was specifically assigned to them. The Qur`an has mentioned sometimes only the first part of their Mission (as in Surah An-Nazi`at) and sometimes only the second.
Read the full tafseer →