Ash-Shu'araa 26:16

Ash-Shu'araa · from ayah 16

26:16

فَاْتِیَا فِرْعَوْنَ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۟ۙفَاۡتِيَا فِرۡعَوۡنَ فَقُوۡلَاۤ اِنَّا رَسُوۡلُ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ

تو دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہان کے مالک کے بھیجے ہوئے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Go to Pharaoh and say, 'We are the messengers of the Lord of the worlds,

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 2 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:16

فرعون کے پاس جاؤ اور اس سے کہو، ہم کو رب العٰلمین نے اس لیے بھیجا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہان کے مالک کے بھیجے ہوئے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

تم دونوں فرعون کے پاس جاکر کہو کہ بلاشبہ ہم رب العالمین کے بھیجے ہوئے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اب تم فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ : ہم دونوں رب العالمین کے پیغمبر ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو فرعون کے پاس جاؤ پھر اس سے کہو ہم دونو ں اسکے رسل ہیں جو رب ہے سارے جہا ں کا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پس تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو: ہم سارے جہانوں کے پروردگار کے (بھیجے ہوئے) رسول ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

تو تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ بلا شبہ ہم رب العالمین کا پیغام پہنچانے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

فرعون کے پاس جاکر اسے کہو کہ : ہم رب العالمین کے رسول ہیں۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو فرعون کے پاس جائو اور کہو کہ ہم خدا ند عالم کے رسول ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پس تم دونوں فرعون کے پاس جا کر اس سے کہو کہ ہم یقینی طور پر فرستادہ ہیں پروردگار عالم کے

— مولانا اسحاق مدنی

سو تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم پروردگار عالم کے رسول ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور اسے کہو کہ ہم رسول ہیں رب العالمین کے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تمام جہانوں کے مالک کی طرف سے بھیجے ہوئے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Go, then, to Pharaoh and say to him: 'The Lord of the Universe has sent us

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So go, both of you, to Pharaoh and say, _We both are messengers of the Lord of all the worlds,

— Muhammad Taqi Usmani

So go, both of you, to Pharaoh and say, _We both are messengers of the Lord of all the worlds,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"And go both of you to Fira`wn, and say: `We are the Messengers of the Lord of Al-`Alamin,'

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And come together unto Pharaoh and say: Lo! we bear a message of the Lord of the Worlds,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Go to Pharaoh and say, 'We are the messengers of the Lord of the worlds,

— Saheeh International

They came to the Pharaoh and said, "We are the Messengerss of the Lord of the Universe.

— Muhammad Sarwar

Then come to Firon and say: Surely we are the apostles of the Lord of the worlds:

— Muhammad Habib Shakir

So go ye twain unto Fir'awn and say: verily we are the apostles of the Lord of the Worlds,

— Abdul Majid Daryabadi

"So go forth, both of you, to Pharaoh, and say: 'We have been sent by the Lord and Cherisher of the worlds;

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 26:16

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 10–22

موسیٰ ؑ اور اللہ جل شانہ کے مکالمات اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور اپنے رسول اور اپنے کلیم حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کو جو حکم دیا تھا اسے بیان فرما رہے ہیں کہ طور کے دائیں طرف سے آپ کو آواز دی آپ سے سرگوشیاں کیں آپ کو اپنا رسول ﷺ اور برگزیدہ بنایا اور آپ کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا جو ظلم پر کمر بستہ تھے۔ اور اللہ کا ڈر اور پرہیزگاری نام کو بھی ان میں نہیں رہی تھی۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی چند کمزوریاں جناب باری تعالیٰ کے سامنے بیان کی جو عنایت الٰہی سے دور کردی گئیں جیسے سورة طہ میں آپ کے سوالات پور کردئیے گئے۔ یہاں آپ کے عذر یہ بیان ہوئے کہ مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلادیں گے۔ میرا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 16–17

سورة الشُّعَرَآء 13 حضرت موسیٰ و ہارون کی دعوت کے دو جز تھے ایک، فرعون کو اللہ کی بندگی کی طرف بلانا، جو تمام انبیاء (علیہم السلام) کی دعوت کا اصل مقصود رہا ہے۔ دوسرے، بنی اسرائیل کو فرعون کے بند غلامی سے نکالنا، جو مخصوص طور پر انہیں دونوں حضرات کا مشن تھا۔ قرآن مجید میں کسی جگہ صرف پہلے جزء کا ذکر کیا گیا ہے۔ (مثلاً سورة نازعات میں) اور کسی جگہ صرف دوسرے جز کا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 12–16

معارف و مسائل اطاعت کے لئے معاون اسباب کی طلب بہانہ جوئی نہیں قَالَ رَبِّ اِنِّىْٓ اَخَافُ اَنْ يُّكَذِّبُوْنِ ، وَيَضِيْقُ صَدْرِيْ وَلَا يَنْطَلِقُ لِسَانِيْ فَاَرْسِلْ اِلٰى هٰرُوْنَ ، وَلَهُمْ عَلَيَّ ذَنْۢبٌ فَاَخَافُ اَنْ يَّقْتُلُوْنِ ، ان آیات مبارکہ سے ثابت ہوا کہ کسی حکم کے بجا لانے میں کچھ ایسی چیزوں کی درخواست کرنا جو تعمیل حکم میں مددگار ثابت ہوں کوئی بہانہ جوئی نہیں بلکہ جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰ ؑ نے حکم خداوندی پاکر اس کی بجا آوری کو سہل اور مفید کرنے کے لئے خدائے ذوالجلال سے درخواست کی۔ لہٰذا اس سے یہ نتیجہ نکالنا غلط ہوگا کہ حضرت موسیٰ ؑ نے حکم خداوندی کو بلا توقف بسر و چشم…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 15–17

آیت 17-15 اللہ تعالیٰ کی طرف سے اطمینان دہانی اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کے اس اندیشے کی تو پوری شدت کے ساتھ تردید فرما دی کہ قبطی انہیں قتل کردیں گے لیکن حضرت ہارون کے بارے میں ان کی درخواست، جیسا کہ دوسرے مواقع میں تصریح اور یہاں اشارہ ہے، منظور فرما لی اور ان کو حکم دیا کہ تم دونوں فرعون کے پاس جائو اور کوئی اندیشہ نہ رکھو۔ انا معکم مسمعون اطمینان دہانی کا نہایت بلیغ فقرہ ہے۔ دوسرے مقام میں یہی بات یوں ارشاد ہوئی ہے۔ اننی معکما اسمع واری (طہ :46) (میں تم دونوں کے ساتھ سنتا اور دیکھتا ہوں تو مجال ہے کہ کوئی تمہیں گزند پہنچا سکے۔) فرعون کی طرف ایک کے بجائے دو رسول انا رسول رب العلمین سے معلوم…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 16–17

17-1یعنی ایک بات یہ کہو کہ ہم تیرے پاس اپنی مرضی سے نہیں آئے ہیں بلکہ رب العالمین کے نمائندے اور اس کے رسول کی حیثیت سے آئے ہیں اور دوسری بات یہ کہ تو نے (چار سو سال سے) بنی اسرائیل غلام بنا رکھا ہے، ان کو آزاد کر دے تاکہ میں انھیں شام کی سرزمین پر لے جاویں، جس کا اللہ نے وعدہ کیا ہوا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 14–16

3: حضرت موسیٰ ؑ نے ایک مظلوم کو بچاتے ہوئے ظالم کو ایک مکا مارا تھا جس سے وہ مر ہی گیا۔ اس وجہ سے ان پر قتل کا الزام لگ گیا تھا۔ تفصیلی واقعہ سورة قصص میں آنے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 10–17

درس نمبر 162 ایک نظر میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کا یہ حصہ ، اس سورت کے موضوع اور محور کے ساتھ بہت ہی ہم آہنگ ہے۔ اس سورت میں مدار کلام زیادہ تر اس پر ہے کہ مکذبین کا انجام کیسا ہوا کرتا ہے۔ پھر اس سورت میں بھی حضور اکرم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے اور مشرکین کی جانب سے روگردانی اور تکذیب کے نتیجے میں آپ کو جو مشکلات درپیش تھیں۔ ان پر آپ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار بھی اس سورت کا موضوع سخن ہے۔ پھر اس سورت میں اس بات کی یقین دہانی بھی ہے کہ اس دعوت اور اس کی حامل تحریک کا حامی و مددگار اور محافظ اللہ ہے۔ اگرچہ یہ لوگ کمزور ہیں اور ان کے مخالفین زاد و عتاد یعنی ساز و سامان سے لیس ہیں۔ اہل قوت اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 16–17

5 " بنی اسرائیل " کا وطن حضرت ابراہیم کے زمانہ سے ملک شام تھا۔ حضرت یوسف کے سبب سے مصر میں آرہے، وہاں ایک مدت گزری۔ اب ان کو حق تعالیٰ نے ملک شام دینا چاہا۔ فرعون ان کو نہ چھوڑتا تھا کیونکہ ان سے غلاموں کی طرح بیگار میں کام لیتا تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کی آزادی کا مطالبہ فرمایا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 15–17

آیت 17 اَنْ اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ ” کہ اب تم بنی اسرائیل کو مزید تنگ نہ کرو اور انہیں آزاد کر کے ہمارے ساتھ جانے کی اجازت دے دو۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 16–17

12 اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کا مطالبہ منظور کرلینے کے بعد اور فرعون کی دست درازیوں سے حفاظت کی یقین دہانی کے بعد ان دونوں کو حکمدیا کہ فرعون کے پاس جائیں اور اسے بتلائیں کہ ہم رب العالمین کے رسول یا فرستادہ ہیں اگر وہ جھٹلائے تو پھر دو معجزات نشانی کے طور پر اسے دکھلائیں اور ساتھ ہی اس سے یہ مطالبہ کردیں کہ ہماری قوم بنی اسرائیل کو اپنی غلامی سے آزاد کرکے ہمارے ہمراہ روانہ کردے۔ چناچہ ان دونوں پیغمبروں نے اللہ کے اس حکم کے سامنے سرتسلیم خم کیا۔ فرعون کے دربار تک پہنچے اور اسے جون کا تون اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

15۔ رسول، رب العالمین کے، سارے جہان کے پروردگار کی طرف سے، نہ کہ ” بنی اسرائیل کے خداوند خدا “ یا ” عبرانیوں کے خدا “ یا تمہارے باپ دادوں کے خدا “ کی طرف سے، جس سے توریت بھری پڑی ہے۔ (ملاحظہ ہو کتاب خروج، باب 3) قرآن اور توریت کے بیانات میں یہی تو وہ نازک فرق ہیں جو ایک کا مرتبہ دوسرے سے کہیں ممتاز کررہے ہیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے اس مختصر سے فقرہ میں سب سے پہلے تبلیغ توحید و رسالت دونوں کی آگئی، گویا یہی نقطہ آغاز ہے ان کی تبلیغ کا ! اور یہ خصوصیت ہے ہر پیغمبرانہ دعوت کی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 10–33

آیت نمبر 10 تا 33 ترجمہ : اور اے محمد ﷺ اپنی قوم کو اس وقت کا واقعہ یاد دلائیے کہ جب تیرے رب نے موسیٰ کو حکم دیا اس رات میں جبکہ موسیٰ نے آگ اور درخت کو دیکھا کہ تو ظالم قوم کے پاس رسول بن کر جا قوم فرعون کے پاس مع فرعون کے انہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کرکے اور بنی اسرائیل کو غلام بنا کر اپنے اوپر ظلم کیا ہے اَلاَ یتقون میں ہمزہ استفہام انکاری کے لئے ہے کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو کہ اس کی طاعت اختیار کرکے اس کی توحید کے قائل ہوجاؤ تو موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے پروردگار مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے اور ان کے میری تکذیب کی وجہ سے میرا دل تنگ ہوجائے، اور اداء رسالت کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فاتیا فرعون فقولا انا رسول رب العالمین۔ سو تم دونوں فرعون کے پاس جا کر اس سے کہو کہ ہم رب العالمین کے قاصد ہیں۔ رسول کا لفظ مفرد ہے اس جگہ بمعنئ رسالت ہے۔ لفظ رسول بمعنیٗ مرسل (بھیجا ہوا) بھی ہے اور بمعن ئرسالت (پیامبری) بھی۔ بیضاوی نے لکھا ہے اسی وجہ سے لفظ رسول کو کبھی بصورت تثنیہ استعمال کیا جاتا ہے کبھی بصیغۂ مفرد۔ یعنی اگر رسول بمعنی مرسل ہو تثنیہ لایا جائے گا اور اگر بمعنئ رسالت ہو تو مفرد مستعمل ہوگا۔ اگر بمعنئ رسالت ہو تو یہ مطلب ہوگا کہ ہم رب العالمین کی طرف سے رسالت والے (پیام رساں) ہیں (یعنی رسول سے پہلے لفظ ذو محذوف ہوگا) ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ وزن فعول کا استعمال واحد و جمع…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 16–17

(16۔ 17) سو تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور اسے کہو کہ ہم تیری طرف قوم کی طرف رب العالمین کی طرف سے بھیجے ہوئے ہیں کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے دے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فَاْتِيَا فِرْعَوْنَ : موسیٰ ؑ کو دو ہدف دے کر بھیجا گیا تھا، ایک فرعون کے سامنے توحید کی دعوت پیش کرنا (دیکھیے نازعات : 17 تا 19) اور دوسرا بنی اسرائیل کو آزادی دلانا۔ (دیکھیے طٰہٰ : 47)۔ فَقُوْلَآ اِنَّا رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ : اللہ تعالیٰ نے فرعون کے سامنے جا کر گفتگو کی ابتدا اس بات سے کرنے کا حکم دیا کہ ہم ”رب العالمین کے رسول“ (پیغام پہنچانے والے) ہیں، یعنی ہم جو کچھ تمہیں کہہ رہے ہیں وہ ہماری بات نہیں، بلکہ رب العالمین کا پیغام اور اس کا فرمان ہے جو ہم تمہیں پہنچا رہے ہیں۔ ”رب العالمین“ کے لفظ کے ساتھ واشگاف الفاظ میں اسے بتایا کہ وہ (فرعون) رب نہیں ہے۔ رب وہ ہے جو سارے جہانوں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 16–22

(فاتیا فرعون فقولا۔۔۔۔۔ ) فاتیا فرعون فقولا انا رسول رب العلمین ابو عبیدہ نے کہا : رسول رسالت کے معنی میں ہے اس تعبیر کی بناء پر تقدیر کلام یہ ہوگا ان ذو ورسالۃ رب العالمین۔ بذلی نے کہا : الکنی الیھا و خیر الرسول اعلمھم بنواحی الخبر مجھے اس کی طرف بھیجو بہترین رسول وہ ہوتا ہے جو خبر کی اطراف کو ان سے سب سے زیادہ جاننے والا ہو۔ ایک اور شاعر نے کہا : لقد کذب الواشوی ما بحت عندھم بسر ولا ارسلتھم برسول چغل خوروں نے جھوٹ بولا میں نے ان کے ہاں بھید کو ظاہر نہیں کیا اور نہ ہی کوئی قاصد بھیجا۔ ایک شاعر نے کہا : الا ابدغ بنی عمرو رسولا بانی عن فتاحتکم غنی خبردار بنی عمرو کو پیغام پہنچا دو کہ میں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 10–51

1۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” یعنی طور کے داہنی جانب سے ان کو آواز دی گئی۔ 2۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جرری وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ ایک جان کے قتل کرنے کا الزام جو ان کے درمیان قتل ہوا آیت ” وفعلت فعلتک التی فعلت “ سے مراد بھی انسان کا قتل ہے۔ آیت ” فعلتہا اذا وانا من الضالین “ یعنی جب میں چوک جانے والوں میں سے تھا۔ 3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ یعنی ایک جان کا قتل کرنا آیت ” الم لربک فینا ولیدا “ یعنی ان کو فرعون والوں سے اٹھا لیا سو اس بچے کو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَاْتِيَا [ پس تم دونوں پہنچو ] فِرْعَوْنَ [ فرعون کے پاس ] فَقُوْلَآ [ پھر تم دونوں کہو ] اِنَّا [ کہ ہم ] رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ [ تمام جہانوں کے رب کے پیغمبر ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 11–34

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ کے لیے فرعون کا جادو گروں کو بلانا، مقابلہ ہونا اور جادو گروں کا شکست کھا کر ایمان قبول کرنا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے جواب وسوال سے عاجز ہو کر اور دو بڑے معجزے دیکھ کر فرعون کی شکست تو اسی وقت ہوگئی لیکن اس نے اپنی خفت مٹانے اور درباریوں کو مطمئن رکھنے اور ان کے ذریعہ ساری قوم کو اپنی فرمانبرداری پر جمائے رکھنے کے لیے سرداروں سے کہا جو اس وقت وہاں موجود تھے کہ سمجھ میں آگیا یہ تو ایک بڑا ماہر جادوگر ہے یہ چاہتا ہے کہ تمہیں مصر کی سر زمین سے نکال دے اور اپنی قوم کا بڑا بن کر ان کو ساتھ لے کر حکومت کرنے لگے۔ تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو ؟ سورة اعراف میں ہے کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–22

قصہ اول حضرت موسیٰ (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ واذ نادی ربک موسیٰ ان ائت القوم الظلمین .... الیٰ .... ان عبدت بنی اسرائیل۔ یہاں سے حضرات انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کے قصے ذکر کرتے ہیں سب سے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور قوم فرعون موسوی اور پھر اہل ایمان کی عجیب طریقے سے نجات اور کفار کی عبرتناک ہلاکت کے بیان پر مشتمل ہے۔ ذکر عطائے منصب نبوت و رسالت و حکم تبلیغ و دعوت یہ قصہ اگرچہ سورة اعراف اور سورة طہ میں بالتفصیل گزرچکا ہے لیکن یہاں پر ایک نئی شان سے اس قصہ کو ذکر فرماتے۔ چناچہ فرامتے ہیں اور اے نبی ان مستہزئین کی تہدید اور عبرت کے لیے اس وقت کا قصہ ذکر کیجئے جبکہ تیرے پروردگار نے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 16–18

11:۔ ان کی دعوت کے جواب میں فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر دو اعتراض کیے۔ یہ پہلا اعتراض ہے۔ فرعون نے کہا اے موسیٰ کیا حالت شیر خوارگی میں میں ہی نے تیری پرورش نہیں کی اور بچپن کا زمانہ تو نے میرے گھر ہی میں ناز و نعمت سے نہیں گذارا ؟ تجھے تو میرے احسانات کا شکر ادا کرنا چاہیے تھا لیکن تو بڑا احسان فرا موش ثابت ہوا کہ میرے سوا کسی اور کو اپنا رب اور الہ مانتا ہے۔ ” وفعلت فعلتک الخ “ یہ دوسرا اعتراض ہے اور پھر تو نے میرے احسانات کی نا شکری اور حق تربیت کو فراموش کرتے ہوئے ایک اور سنگین جرم کا ارتکاب کیا اور میری قوم کا ایک آدم بلا وجہ قتل کردیا۔ ” وانت من الکفرین “ یہ کفرانِ نعمت سے ہے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 10–22

فرعون کو دعوت توحید سورۃ کی ابتدائی آیات میں قرآن کریم کی حقانیت اور تسلی کے مضمون کو اجمالی طور پر بیان کیا گیا تھا۔ اب یہاں سے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کیا ہے جس سے اصل مقصود اصول دین توحید اور ایمان کی دعوت دنیا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے ابتدائی واقعات تو سورة قصص اور بعض دیگر سورتوں میں بھی بیان ہوئے ہیں تا ہم یہاں پر مضمون کی ابتداء وتبلیغ حق سے ہو رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا اور پھر ان کو تبلیغ کے لیے فرعون اور اس کی ظالم قوم کے پاس بھیجا ۔ ارشاد ہوتا ہے ، وہ بات قابل ذکر ہے واذ نادی ربک موسیٰ جب کہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَاْتِيَا فِرْعَوْنَ فَقُوْلَآ اِنَّا رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۝ 1 6ۙ فِرْعَوْنُ : اسم أعجميّ ، وقد اعتبر عرامته، فقیل : تَفَرْعَنَ فلان : إذا تعاطی فعل فرعون، كما يقال : أبلس وتبلّس، ومنه قيل للطّغاة : الفَرَاعِنَةُ والأبالسة . فرعون یہ علم عجمی ہے اور اس سے سرکش کے معنی لے کر کہا جاتا ہے تفرعن فلان کہ فلاں فرعون بنا ہوا ہے جس طرح کہ ابلیس سے ابلس وتبلس وغیرہ مشتقات استعمال ہوتے ہیں اور ایس سے سرکشوں کو فراعنۃ ( جمع فرعون کی اور ابا لسۃ ( جمع ابلیس کی ) کہا جاتا ہے ۔ رسل وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 11–34

بدنصیب یہ معجزے دیکھ کر ایمان تو نہ لایا کہہ دیا کہ یہ بڑا جادوگر ہے اس کے زور سے تمہارا ملک لینا چاہتا ہے۔ فرعونیوں کے عہد میں جادو اور طلسم کا بڑا زور تھا چناچہ اس عہد کے یادگار مسلمانوں کے ابتدائِ عہد تک موجود تھے جن کو اہل اسلام کے مؤرخین نے نقل کیا ہے دیکھو تاریخ مصر، درباریوں نے صلاح دی کہ آپ بھی اپنے ملک میں سے نامور جادوگر ایک روز معین میں جمع کر کے اس کو عاجز کر دیجئے اور عید یا کوئی فرعونیوں کا میلہ ہوتا تھا جس میں سب لوگ شریک ہوتے تھے وہ روز قرار پایا تاکہ سب لوگ موسیٰ ( علیہ السلام) کا عجز ملاحظہ کریں۔ چناچہ اس روز وہ سب جادوگر اور طلسم کار آئے اور ایک میدان میں فرعون اور اس کے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 15–17

قَالَ کَلاَّ ج فَاذْھَبَا بِاٰیٰـتِنَآ اِنَّا مَعَکُمْ مُّسْتَمِعُوْنَ ۔ فَاْ تِیَا فِرْعَوْنَ فَـقُوْلاَ اِنَّا رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ اَنْ اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ ۔ (الشعرآء : 15، 16، 17) (اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہرگز نہیں، تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ، ہم تمہارے ساتھ سب کچھ سننے والے ہیں۔ تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور اسے کہو کہ ہم رب العالمین کے رسول ہیں۔ کہ تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دے۔ ) اللہ تعالیٰ کی طرف سے اطمینان دہانی اللہ تعالیٰ نے پوری شدت کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اس اندیشے کو رد کردیا کہ وہ لوگ آپ کو قتل کردیں گے اور اطمینان دلاتے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 16–23

فہم القرآن ربط کلام : فرعون اور موسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان مکالمہ۔ فرعون حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر احسان جتلانے اور ان کی قوم کو غلام بنانے کے معاملے میں لاجواب ہوا۔ تو اس نے موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ سوال کیا کہ تم کس رب العالمین کی بات کرتے ہو۔ جس کا معنٰی تھا کہ میرے سوا کون رب ہوسکتا ہے ؟ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا تفصیلی جواب دینے کی بجائے سادہ اور جامع جواب دیا کہ میں اس رب کا رسول ہوں۔ جو آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا رب ہے۔ اگر تم اس پر یقین کرنے کے لیے تیار ہو۔ یاد رہے کہ رب کا معنی خالق، رازق، مالک اور بادشاہ ہے۔ فرعون نے اپنا سکہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

گویا دونوں ایک رسول تھے : 16: فَاْتِیَا فِرْعَوْنَ فَقُوْلَآ اِنَّا رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ (پس تم دونوں فرعون کے پاس جا کر کہو ہم رب العالمین کے قاصد ہیں) نکتہ : اس مقام پر رسولؔ کا لفظ تثنیہ نہیں لائے جیسا کہ دوسرے مقام پر انا رسولا ربک ہے۔ کیونکہ الرسول بمعنی المرسل ہوتا ہے اور الرسالۃ کے معنی میں بھی آتا ہے۔ اس آیت میں تثنیہ لانے کے بغیرچارہ کار نہ تھا کیونکہ الرسول بمعنی المرسل تھا۔ اور موجودہ آیت میں بمعنی الرسالۃ ہے پس اس کی صفت واحد، تثنیہ ‘ جمع تینوں طرح درست ہے۔ نمبر 2۔ کیونکہ یہ دونوں ایک شرعیت پر متحد و متفق تھے گویا دونوں ایک رسول تھے۔ نمبر 3۔ مراد یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

16۔ فاتیافرعون، فقولاانارسول رب العالمین، یہاں پر رسولا ذکر نہیں فرمایا، یہاں مراد صرف رسالت کا پیغام پہنچانا تھا، ابوعبیدہ کا قول ہے کہ رسول کا اطلاق دوپر بھی ہوتا ہے اور زیادہ پر بھی۔ عرب کا قول ہے ، ھذارسولی ووکیلی، ھذان۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، وھم لکم عدو، بعض نے کہا کہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون اخوت بھائی ہونے میں متحد تھے اس لیے لفظ رسول بصیغہ مفرد استعمال کیا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 6–22

(6 تا 22) یہ مسخراپن کا نتیجہ بدر کی لڑائی میں معلوم ہوا جس کا ذکر انس بن مالک ؓ کی صحیح روایتوں سے ایک جگہ گزر چکا ہے آگے فرمایا کہ کیا نہیں دیکھا انہوں نے غور سے زمین کی طرف کہ کس طرح اگائے ہم نے اس میں طرح طرح کے جوڑے میووں کے اور ہر قسم کی کھیتی یہ منکرین حشر کو قائل کیا ہے مطلب یہ ہے کہ جس طرح سوکھی زمین سوکھا اناج کا دانہ اور سوکھی ہر ایک پھل کی گٹھلی سب مردہ کے مانند ہوتے ہیں خدا کی قدرت سے مینہ برستا ہے جس سے زمین زندہ چیزوں کی طرح تروتازہ ہوجاتی ہے اور ہر اناج کے دانہ اور میوہ کی گٹھلیوں میں وہ جان پڑجاتی ہے کہ ایک دانہ سے ہزاروں دانے اور ایک گٹھلی سے ہزاروں پھل پیدا ہوجاتے ہیں اسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 10–68

آیت نمبر 10 سے 68 اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں موسیٰ (علیہ السلام) کی مدح وثنا اور ان کے واقعات کا بار بار جتنا اعادہ کیا ہے اتنا کسی اور واقعے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ عظیم حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس قصے میں اہل ایمان اور اہل کفر کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے طرز عمل کی تفصیل ہے نیز موسیٰ (علیہ السلام) صاحب شریعت کبری اور صاحب تورات تھے جو قرآن عظیم کے بعد سب سے افضل کتاب ہے۔ فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجئے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندادی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، ان کو رسول بنا کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 16–17

14 حضرت موسیٰ کا فرعون سے ایک اہم مطالبہ : یعنی اس سے بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ۔ بنی اسرائیل کا اصلی وطن ملک شام تھا۔ واضح رہے کہ اس وقت کا شام موجودہ سوریا، اردن اور فلسطین سب ہی کو شامل تھا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے دور میں یہ لوگ جا کر مصر میں آباد ہوگئے تھے۔ بعد میں فرعون نے ان کو اپنا غلام بنا لیا تھا اور وہ ان کو اپنے وطن جانے کے لئے نہیں چھوڑتا تھا۔ اور ظاہر ہے کہ لاکھوں کی تعداد میں ملے ہوئے ان مفت کے غلاموں کو وہ اس طرح آسانی سے چھوڑتا بھی کیونکر ؟ قرآن پاک میں پیغام موسیٰ (علیہ السلام) کے ضمن میں زیادہ تر اسی کا ذکر آتا ہے۔ اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہیئے کہ حضرت موسیٰ کا پیغام…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 10–68

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ تشریح : اس واقعہ میں بیشمار نصیحتیں ‘ اللہ کے کمالات ‘ عجزو انکساری اور سب سے بڑھ کر توکل علی اللہ کا بہت زبردست سبق ملتا ہے۔ ایمان کامل انسان کے اندر اس قدر ہمت ‘ جرأت ‘ بہادری اور معرفت پیدا کردیتا ہے کہ انسان مادی اصولوں سے بےنیاز ہو کر روحانی دنیا میں گم ہوجاتا ہے اور اس کو اللہ ‘ اس کی مدد ‘ اس کا سایہ دنیا کے ہر خطرے سے محفوظ بےنیاز کردیتا ہے۔ جیسا کہ سید حسین نصر صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں : ” سچے مومن کی فراست تکمیل کو پہنچ جاتی ہے جیسا کہ اللہ نے فرمایا ” اللہ کی یاد میں دلوں کا سکون ہے۔ “ ( سورة رعد آیت : 28) ایسا شخص جو اس حالت میں ہو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 10–33

آیات 10 تا 33 اسرار و معارف نبی اکرم ﷺ کی شفقت کس قدر ہے اس کا اندازہ کیجیے کہ کفار کا دکھ بھی کس شدت سے محسوس فرماتے ہیں دوستاں راکجا کنی محروم۔ تو کہ بادشمناں نظر داری یعنی جس کا لطف و کرم دشمن پہ بھی عام ہے بھلا دوستوں کو کب محروم کرسکتا ہے تو آپ ﷺ کی تشفی فرماتے ہوئے اللہ کریم نے انسانوں پہ اپنے کرم کی ایک ادا کا تذکرہ فرمایا کہ فرعون کس قدر ظالم اور گستاخ کافر تھا اور اپنے خدا ہونے کا دعویدار بھی مگر اللہ کریم نے اسے بھی محروم نہ رکھا اور اپنے اولوالعزم رسول کو اس کے پاس بھیجا معجزات اور دلائل دیئے اور ہدایت کی طرف بلایا اگر وہ اپنی پسند سے دوسرے راستے پر ہی جانا چاہتا ہو تو پھر ایسے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 16–17

7 ۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) و ہارون ( علیہ السلام) کو فرعون کی طرف دو مشن دے کر بھیجا گیا تھا، ایک بنی اسرائیل کو اس کی غلامی سے نجات دلانا اور دوسرا اس کے سامنے دعوت توحید رکھنا۔ (دیکھئے ……)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(26:16) فاتنا فرعون۔ تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ ائتیا تم دونوں جاؤ۔ تم دونوں پہنچو امر کا صیغہ تثنیہ مذکر حاضر۔ (ملاحظہ ہو 26:10) اتیان مصدر۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 10–22

لغات القرآن : آیت نمبر 10 تا 22 : نادی (آوازدی) ٍیضیق (تنگ ہوتا ہے۔ گھٹتا ہے) صدری (میرا سینہ) ‘ لسانی (میری زبان) کلا (ہرگز نہیں) مستمعون (سننے والے) نربک ( ہم نے تجھے پالا۔ پرورش کیا) ولید (بچپن) ‘ لبثت (تورہا) ‘ سنین (سن) (سال) ‘ فعلت (تونے کیا) ‘ الضآ لین ( بھٹکنے والے) فررت (میں بھاگ گیا) ‘ وھب (دیا۔ عطا کیا) ‘ تمن (تو احسان جتاتا ہے) ‘ عبدت (تونے غلام بنایا۔ ذلیل کیا) ‘۔ تشریح آیت نمبر 10 تا 22 : اللہ تعالیٰ نے گذشتہ آیات میں ارشاد فرمایا ہے کہ جو لوگ نبی اور سو ل کی بات مکمل یقین رکھنے والے ہیں ان کو ایمان لانے کے لئے کسی نشانی اور بہانے کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن جن کو عمل اور ایمان سے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 10–30

فرعون کا قصہ۔ (ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ فرعون کی قوم کے پاس جاؤ جنہوں نے اپنی جانوں پر کفر کرکے اور بنی اسرائیل کو غلام بنا کر ظلم کررکھا ہے وہ اللہ سے نہیں ڈرتے کہ اس کی اطاعت کریں اور اکیلا جانیں کسی کو اس کا شریک نہ بنائیں تو حضرت موسیٰ نے کہا، اے میرے پروردگار میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ وہ مجھ کو جھٹلادیں اور ان کے جھٹلانے سے میرا دل تنگ ہوجائے اور میں طاقت لسانی بھی نہیں رکھتا، کیونکہ بوجہ لکنت کے صاف بول نہیں سکتا۔ اس لیے میرے بھائی ہارون کو بھی میرے ساتھ پیغمبر کر، اس کے علاوہ فرعون والوں کا مجھ پر الزام ہے میں نے ایک آدمی کو مارڈالا ہے اس واسطے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 15–17

[5] موسیٰ (علیہ السلام) و ہارون (علیہ السلام) کے مشن کے دو جز تھے، ایک دعوت توحید اور دوسرے بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی سے چھڑانا۔ قرآن میں کسی جگہ پہلے جز کا ذکر کیا گیا ہے اور کسی جگہ دوسرے جز کا۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(16) سو تم دونوں بھائی فرعون کے پاس جائو اور اس سے کہو کہ ہم رب العالمین کے فرستادے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 15–17

ف 1۔ مجموعہ دعوت کا حاصل حقوق اللہ و حقوق العباد میں تعدی کا ترک کرنا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور اس کو کہو کہ ہم رب العلمین کے بھیجے ہوئے ہیں : 16۔ اے موسیٰ اور ہارون تم دونوں بھائی فرعون کے پاس جاؤ اور بلاتردد اس سے کہہ دو کہ اے فرعون ! رب کائنات نے ہمیں تمہاری طرف اپنا نمائندہ بنا کر بھیجا ہے ۔ اندازہ کیجئے الہی پروگراموں کا کہ ایک پروگرام تشکیل دیا جاتا ہے اور وہ کہاں سے کہاں ہوتا ہوا کہاں جا پہنچتا ہے وہیں جہاں سے اس کو شروع کیا گیا تھا ۔ آپ سورة قصص میں پڑھیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے اس قوم بنی اسرائیل کو جو ایک مدت سے فرعون کے ظلم وستم کا شکار چلی آرہی تھی گویا کہ وہ مر چکی تھی جب اس کو زندہ کرنے کا ارادہ کیا تو موسیٰ (علیہ السلام) کو پیدا کیا اور فرعون کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 12–16

Commentary Request for favourable conditions for obedience is not tantamount to making excuses قَالَ رَ‌بِّ إِنِّي أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونِ ﴿12﴾ وَيَضِيقُ صَدْرِ‌ي وَلَا يَنطَلِقُ لِسَانِي فَأَرْ‌سِلْ إِلَىٰ هَارُ‌ونَ ﴿13﴾ وَلَهُمْ عَلَيَّ ذَنبٌ فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ ﴿14﴾ He (Musa) said, "My Lord, I fear they will belie me. [ 12] And my heart gets straitened and my tongue is not fluent; so send for Harun. [ 13] And they have a charge of offence against me and I fear they will kill me;" [ 14] This verse indicates that Sayyidna Musa (علیہ السلام) requested Allah to provide him with some…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 16–17

13 The Mission of the Prophets Moses and Aaron was twofold: First, to invite Pharaoh to the worship and obedience of Allah which has been the foremost aim of the Mission of every Prophet, and secondly, to liberate the Israelites from the bondage of Pharaoh, which was specifically assigned to them. The Qur`an has mentioned sometimes only the first part of their Mission (as in Surah An-Nazi`at) and sometimes only the second.

Read the full tafseer →