Ash-Shu'araa 26:15

Ash-Shu'araa · from ayah 15

26:15

قَالَ كَلَّا ۚ— فَاذْهَبَا بِاٰیٰتِنَاۤ اِنَّا مَعَكُمْ مُّسْتَمِعُوْنَ ۟قَالَ كَلَّا‌ ۚ فَاذۡهَبَا بِاٰيٰتِنَآ‌ اِنَّا مَعَكُمۡ مُّسۡتَمِعُوۡنَ

فرمایا ہرگز نہیں۔ تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ ہم تمہارے ساتھ سننے والے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Allah] said, "No. Go both of you with Our signs; indeed, We are with you, listening.

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 2 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:15

فرمایا "ہرگز نہیں، تم دونوں جاؤ ہماری نشانیاں لے کر، ہم تمہارے ساتھ سب کچھ سنتے رہیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

فرمایا ہرگز نہیں۔ تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ ہم تمہارے ساتھ سننے والے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

جناب باری نے فرمایا! ہرگز ایسا نہ ہوگا، تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ ہم خود سننے والے تمہارے ساتھ ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اللہ نے فرمایا کہ : ہرگز نہیں۔ تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ۔ یقین رکھو کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں، ساری باتیں سنتے رہیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

فرما یا یوں نہیں تم دو نوں میری آئتیں لے کر جا ؤ ہم تمھا رے ساتھ سنتے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ارشاد ہوا: ہرگز نہیں، پس تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ بیشک ہم تمہارے ساتھ (ہر بات) سننے والے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

فرمایا ہرگز ایسے نہ ہوگا، سو تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ، بیشک ہم تمہارے ساتھ خوب سننے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ایسا ہرگز نہیں ہوگا تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ، ہم بھی تمہارے ساتھ ہیں، سب کچھ سن رہے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

فرمایا، ہرگز نہیں ! پس تم دونوں ہماری نشانیوں کے ساتھ جائو، ہم تمہارے ساتھ سننے والے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

فرمایا ہرگز نہیں پس جاؤ تم دونوں میری آیتوں کے ساتھ بیشک ہم خود تمہارے ساتھ سب ماجرا دیکھتے سنتے رہیں گے ب

— مولانا اسحاق مدنی

ارشاد ہوا کہ ہرگز نہیں۔ تم دونوں جاؤ ہمارے احکام کے ساتھ ہم خود تمہارے ساتھ سنتے رہیں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اللہ نے فرمایا : ہرگز نہیں ! تو تم دونوں جاؤ ہماری نشانیوں کے ساتھ ہم یقیناً تمہارے ساتھ ہیں سب سننے والے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

فرمایا ہرگز نہیں تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ ہم تمہارے ساتھ سننے والے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

He said: "Certainly not! So go both of you with Our Signs. We shall be with you listening to everything.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He (Allah) said, :Never! (They will not be able to kill you.) So go, both of you, with Our signs. We are with you, listening (to the conversation you will have with him.)

— Muhammad Taqi Usmani

He (Allah) said, :Never! (They will not be able to kill you.) So go, both of you, with Our signs. We are with you, listening (to the conversation you will have with him.)

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

(Allah) said: "Nay! Go you both with Our signs. Verily, We shall be with you, listening."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

He said: Nay, verily. So go ye twain with Our tokens. Lo! We shall be with you, Hearing.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[Allah] said, "No. Go both of you with Our signs; indeed, We are with you, listening.

— Saheeh International

The Lord said, "Have no fear, both of you go with Our miracles. We shall closely listen to you."

— Muhammad Sarwar

He said: By no means, so go you both with Our signs; surely We are with you, hearing;

— Muhammad Habib Shakir

He said: by no means. so go ye twain with Our signs; verily We shall be with you listening.

— Abdul Majid Daryabadi

Allah said: "By no means! proceed then, both of you, with Our Signs; We are with you, and will listen (to your call).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 26:15

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 10–22

موسیٰ ؑ اور اللہ جل شانہ کے مکالمات اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور اپنے رسول اور اپنے کلیم حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کو جو حکم دیا تھا اسے بیان فرما رہے ہیں کہ طور کے دائیں طرف سے آپ کو آواز دی آپ سے سرگوشیاں کیں آپ کو اپنا رسول ﷺ اور برگزیدہ بنایا اور آپ کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا جو ظلم پر کمر بستہ تھے۔ اور اللہ کا ڈر اور پرہیزگاری نام کو بھی ان میں نہیں رہی تھی۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی چند کمزوریاں جناب باری تعالیٰ کے سامنے بیان کی جو عنایت الٰہی سے دور کردی گئیں جیسے سورة طہ میں آپ کے سوالات پور کردئیے گئے۔ یہاں آپ کے عذر یہ بیان ہوئے کہ مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلادیں گے۔ میرا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الشُّعَرَآء 12 نشانیوں سے مراد عصا اور ید بیضاء کے معجزے ہیں جن کے عطا کیے جانے کی تفصیل سورة الاعراف رکوع 13۔ 14، طٰہٰ رکوع 1، سورة نمل رکوع 1، اور سورة قصص رکوع 4 میں بیان ہوئی ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 12–16

معارف و مسائل اطاعت کے لئے معاون اسباب کی طلب بہانہ جوئی نہیں قَالَ رَبِّ اِنِّىْٓ اَخَافُ اَنْ يُّكَذِّبُوْنِ ، وَيَضِيْقُ صَدْرِيْ وَلَا يَنْطَلِقُ لِسَانِيْ فَاَرْسِلْ اِلٰى هٰرُوْنَ ، وَلَهُمْ عَلَيَّ ذَنْۢبٌ فَاَخَافُ اَنْ يَّقْتُلُوْنِ ، ان آیات مبارکہ سے ثابت ہوا کہ کسی حکم کے بجا لانے میں کچھ ایسی چیزوں کی درخواست کرنا جو تعمیل حکم میں مددگار ثابت ہوں کوئی بہانہ جوئی نہیں بلکہ جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰ ؑ نے حکم خداوندی پاکر اس کی بجا آوری کو سہل اور مفید کرنے کے لئے خدائے ذوالجلال سے درخواست کی۔ لہٰذا اس سے یہ نتیجہ نکالنا غلط ہوگا کہ حضرت موسیٰ ؑ نے حکم خداوندی کو بلا توقف بسر و چشم…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 15–17

آیت 17-15 اللہ تعالیٰ کی طرف سے اطمینان دہانی اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کے اس اندیشے کی تو پوری شدت کے ساتھ تردید فرما دی کہ قبطی انہیں قتل کردیں گے لیکن حضرت ہارون کے بارے میں ان کی درخواست، جیسا کہ دوسرے مواقع میں تصریح اور یہاں اشارہ ہے، منظور فرما لی اور ان کو حکم دیا کہ تم دونوں فرعون کے پاس جائو اور کوئی اندیشہ نہ رکھو۔ انا معکم مسمعون اطمینان دہانی کا نہایت بلیغ فقرہ ہے۔ دوسرے مقام میں یہی بات یوں ارشاد ہوئی ہے۔ اننی معکما اسمع واری (طہ :46) (میں تم دونوں کے ساتھ سنتا اور دیکھتا ہوں تو مجال ہے کہ کوئی تمہیں گزند پہنچا سکے۔) فرعون کی طرف ایک کے بجائے دو رسول انا رسول رب العلمین سے معلوم…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

15-1اللہ تعالیٰ نے تسلی دی کہ تم دونوں جاؤ، میرا پیغام ان کو پہنچاؤ، تمہیں جو اندیشے لاحق ہیں ان سے ہم تمہاری حفاظت کریں گے۔ آیات سے مراد وہ دلائل ہیں جن سے ہر پیغمبر کو آگاہ کیا جاتا ہے یا وہ معجزات ہیں جو حضرت موسیٰ ؑ کو دیئے گئے تھے، جیسے ید بیضا اور عصا۔ 15-2یعنی تم جو کچھ کہو گے اور اس کے جواب میں وہ جو کچھ کہے گا، ہم سن رہے ہونگے اس لئے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم تمہیں فریضہ رسالت سونپ کر تمہاری حفاظت سے بےپرواہ نہیں ہوجائیں گے بلکہ نصرت ومعاونت ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 14–16

3: حضرت موسیٰ ؑ نے ایک مظلوم کو بچاتے ہوئے ظالم کو ایک مکا مارا تھا جس سے وہ مر ہی گیا۔ اس وجہ سے ان پر قتل کا الزام لگ گیا تھا۔ تفصیلی واقعہ سورة قصص میں آنے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 10–17

درس نمبر 162 ایک نظر میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کا یہ حصہ ، اس سورت کے موضوع اور محور کے ساتھ بہت ہی ہم آہنگ ہے۔ اس سورت میں مدار کلام زیادہ تر اس پر ہے کہ مکذبین کا انجام کیسا ہوا کرتا ہے۔ پھر اس سورت میں بھی حضور اکرم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے اور مشرکین کی جانب سے روگردانی اور تکذیب کے نتیجے میں آپ کو جو مشکلات درپیش تھیں۔ ان پر آپ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار بھی اس سورت کا موضوع سخن ہے۔ پھر اس سورت میں اس بات کی یقین دہانی بھی ہے کہ اس دعوت اور اس کی حامل تحریک کا حامی و مددگار اور محافظ اللہ ہے۔ اگرچہ یہ لوگ کمزور ہیں اور ان کے مخالفین زاد و عتاد یعنی ساز و سامان سے لیس ہیں۔ اہل قوت اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی کیا مجال ہے کہ ہاتھ لگا سکیں۔ جاؤ اپنی استدعا کے موافق ہارون کو بھی ساتھ لو اور ہمارے دیے ہوئے معجزات و نشانات لے کر وہاں پہنچو۔ ان نشانات کے ساتھ ہوتے ہوئے تم کو کیا ڈر، اور نشان کیا ہم خود ہر موقع پر تمہارے ساتھ ہیں اور فریقین کی گفتگو سن رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 15–17

آیت 17 اَنْ اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ ” کہ اب تم بنی اسرائیل کو مزید تنگ نہ کرو اور انہیں آزاد کر کے ہمارے ساتھ جانے کی اجازت دے دو۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

11 موسیٰ (علیہ السلام) کی اس التجا اور ان خطرات کے جواب میں فرمایا : کہ (1) تمہاری التجا منظور ہے، میں ہارون کو نبوت عطا کردیتا ہوں اور وہ تمہارے ساتھ رہے گا اور اس کام میں تمہارا مددگار ہوگا، (2) تمہیں جو اس بات کا خطرہ ہے کہ وہ مجھے مار ہی نہ دالیں۔ تو اس بات کو دل سے نکال دو ۔ وہ لوگ تمہارا بال بھی بیکا نہ کرسکیں گے۔ اور اس کی دو وجہ ہیں۔ ایک یہ کہ تمہیں دو ایسے معجزات دے کر بھیجا رہا ہوں جو اس بات کا یقینی ثبوت پیش کرتے ہیں کہ تم فی الواقعہ اللہ کے رسول ہو اور دوسری وجہ یہ ہے کہ تم دونوں کے سات تیسرا میں بھی ہوں۔ میں تمہاری سب باتیں سنتا ہوں اور تمہاری پوری پوری نگہداشت بھی کروں گا۔ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

13۔ یعنی ان کی اتنی مجال نہیں کہ وہ تمہیں قتل کرسکیں۔ معناہ ارتدع یا موسیٰ عما تظن (کبیر) 14۔ تسکین، تشفی، دلدہی کا یہ اعلی مقام ہے۔ بندہ کو خود پروردگار عالم کی معیت کا یقین تازہ ہوجائے تو اس سے بڑھ کر اطمینان اور ہو کیا سکتا ہے۔ ؟ (آیت) ” بایتنا “۔ ایات سے مراد احکام بھی ہوسکتے ہیں اور خوارق بھی۔ (آیت) ” معکم “۔ یہ معیت عامہ نہیں ہے جو حق تعالیٰ کی ہر بندہ کے ساتھ رہتی ہے۔ بلکہ معیت خاصہ مراد ہے جو معیت رافت ونصرت ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 10–33

آیت نمبر 10 تا 33 ترجمہ : اور اے محمد ﷺ اپنی قوم کو اس وقت کا واقعہ یاد دلائیے کہ جب تیرے رب نے موسیٰ کو حکم دیا اس رات میں جبکہ موسیٰ نے آگ اور درخت کو دیکھا کہ تو ظالم قوم کے پاس رسول بن کر جا قوم فرعون کے پاس مع فرعون کے انہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کرکے اور بنی اسرائیل کو غلام بنا کر اپنے اوپر ظلم کیا ہے اَلاَ یتقون میں ہمزہ استفہام انکاری کے لئے ہے کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو کہ اس کی طاعت اختیار کرکے اس کی توحید کے قائل ہوجاؤ تو موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے پروردگار مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے اور ان کے میری تکذیب کی وجہ سے میرا دل تنگ ہوجائے، اور اداء رسالت کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال کلا اللہ نے فرمایا ہرگز نہیں (ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا وہ تم کو قتل نہیں کرسکتے۔ فاذہبا بایتنآ انا محکم مستعمون۔ سو اب تم دونوں ہمارے احکام لے کر جاؤ ہم (اپنی نصرت و امداد کے ساتھ) تمہارے ساتھ ہیں (اور تمہارے کلام کو) سنتے ہیں۔ حضرت ہارون موجود نہ تھے بطور تغلیب حاضر علی الغائب تثنیۂ مخاطب کا صیغہ استعمال کیا گیا اور دونوں کو جانے کا حکم دیا۔ حضرت موسیٰ کی دونوں درخواستیں قبول کرلی گئیں۔ کَلاَّکے لفظ سے تو قتل سے محفوظ رکھنے کا وعدہ کیا گیا اور فاذْہَبَا (بصیغۂ تثنیہ) سے حضرت ہارون کو بطور مددگار شریک بنا دیا گیا۔ گویا یوں فرمایا موسیٰ تم اپنے قتل ہوجانے کا وہم نہ کرو اور جس کو اپنے ساتھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(15) اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا اے موسیٰ ؑ میں ہرگز ان لوگوں کو تم پر تسلط کا موقع نہیں دوں گا، سو تم دونوں ہماری نو نشانیاں یعنی یدبیضاء، عصا، طوفان، قمل، جراد، ضفادع، دم، پھلوں کی کمی، قحط سالی لے کر جاؤ میں تمہارا مددگار ہوں اور جو کچھ وہ تم دونوں کو جواب دے گا میں اس کو سنتا ہوں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالَ كَلَّا۔۔ : فرمایا، ہرگز ایسا نہیں ہوگا، نہ وہ تمہیں قتل کرسکیں گے، نہ کوئی ایذا پہنچا سکیں گے۔ تمہاری ہارون کو معاون نبی بنانے کی درخواست بھی قبول ہے، اس لیے تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ۔ فَاذْهَبَا بِاٰيٰتِنَآ اِنَّا مَعَكُمْ مُّسْتَمِعُوْنَ : ہمت بندھانے کے لیے دو چیزیں عطا فرمائیں، پہلی عصا اور ید بیضا کے معجزے، دوسری اپنی معیت کا وعدہ۔ عام معیت تو کائنات کی ہر چیز کو حاصل ہے، یہاں معیت سے مراد معیت خاصہ ہے، جیسا کہ موسیٰ ؑ نے فرعون اور اس کی فوج کے آ پہنچنے پر فرمایا تھا : (اِنَّ مَعِيَ رَبِّيْ سَيَهْدِيْنِ) [ الشعراء : 62 ] ”ہرگز نہیں ! بیشک میرے ساتھ میرا رب ہے، وہ مجھے ضرور راستہ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 10–15

(واذ نادی ربک۔۔۔۔۔۔ ) واذ نادی رب موسیٰ ، اذمحل نصب میں ہے تقدیر کلام یہ ہے : واتل علیھم اذ نادی ربک موسیٰ اس پر یہ کلام واتل علیھم نبا ابراہیم۔ دلالت کرتی ہے جو اس کے بعد ہے۔ نحاس نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہاں اذکر فعل محذوف ہے جس طرح اس ارشاد میں ہی تصریح ہے واذاکر اخادعا ( احقاف : 21) واذکر عبدنا ابراہیم (ص : 45) واذکر فی الکتب مریم (مریم : 19) ایک قول یہ کیا گیا ہے : واذ نادی ربک موسیٰ ، کذا وکذ۔ نداء سے مراد یا فلان کے ساتھ بلانا، یعنی تیرے رب نے فرمایا : یا موسیٰ ان ائت القوم الظلمین پھر خبر دی کہ ظالم کون ہے ؟ فرمایا : قوم فرعون الا یتقون قوم فرعون، یا القوم الظلمین…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 10–51

1۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” یعنی طور کے داہنی جانب سے ان کو آواز دی گئی۔ 2۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جرری وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ ایک جان کے قتل کرنے کا الزام جو ان کے درمیان قتل ہوا آیت ” وفعلت فعلتک التی فعلت “ سے مراد بھی انسان کا قتل ہے۔ آیت ” فعلتہا اذا وانا من الضالین “ یعنی جب میں چوک جانے والوں میں سے تھا۔ 3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ یعنی ایک جان کا قتل کرنا آیت ” الم لربک فینا ولیدا “ یعنی ان کو فرعون والوں سے اٹھا لیا سو اس بچے کو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

قَالَ [ (اللہ نے) کہا ] كَلَّا ۚ [ ہرگز نہیں ] فَاذْهَبَا [ پس تم دونوں جاؤ] بِاٰيٰتِنَآ [ ہماری نشانیوں کے ساتھ ] اِنَّا [ بیشک ہم ] مَعَكُمْ [ تم لوگوں کے ساتھ ] مُّسْتَمِعُوْنَ [ خوب سننے والے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 11–34

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ کے لیے فرعون کا جادو گروں کو بلانا، مقابلہ ہونا اور جادو گروں کا شکست کھا کر ایمان قبول کرنا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے جواب وسوال سے عاجز ہو کر اور دو بڑے معجزے دیکھ کر فرعون کی شکست تو اسی وقت ہوگئی لیکن اس نے اپنی خفت مٹانے اور درباریوں کو مطمئن رکھنے اور ان کے ذریعہ ساری قوم کو اپنی فرمانبرداری پر جمائے رکھنے کے لیے سرداروں سے کہا جو اس وقت وہاں موجود تھے کہ سمجھ میں آگیا یہ تو ایک بڑا ماہر جادوگر ہے یہ چاہتا ہے کہ تمہیں مصر کی سر زمین سے نکال دے اور اپنی قوم کا بڑا بن کر ان کو ساتھ لے کر حکومت کرنے لگے۔ تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو ؟ سورة اعراف میں ہے کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–22

قصہ اول حضرت موسیٰ (علیہ السلام) قال اللہ تعالیٰ واذ نادی ربک موسیٰ ان ائت القوم الظلمین .... الیٰ .... ان عبدت بنی اسرائیل۔ یہاں سے حضرات انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کے قصے ذکر کرتے ہیں سب سے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور قوم فرعون موسوی اور پھر اہل ایمان کی عجیب طریقے سے نجات اور کفار کی عبرتناک ہلاکت کے بیان پر مشتمل ہے۔ ذکر عطائے منصب نبوت و رسالت و حکم تبلیغ و دعوت یہ قصہ اگرچہ سورة اعراف اور سورة طہ میں بالتفصیل گزرچکا ہے لیکن یہاں پر ایک نئی شان سے اس قصہ کو ذکر فرماتے۔ چناچہ فرامتے ہیں اور اے نبی ان مستہزئین کی تہدید اور عبرت کے لیے اس وقت کا قصہ ذکر کیجئے جبکہ تیرے پروردگار نے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

10:۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی دونوں دعائیں قبول فرما لیں ! تائید کے لیے ہارون علیہ السلالم کو بھی ساتھ کردیا اور فرعون کے شر سے بھی محفوظ رکھنے کا وعدہ فرمادیا۔ ” کلا “ یعنی تم بےفکر رہو وہ ہرگز تمہیں قتل نہیں کرسکیں گے۔ ” فاذھبا “ تم اور ہارون دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور اس سے کہہ دو کہ ہم اللہ کے رسول ہیں تم بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دو ۔ ” ان ارسل “ میں ان مفسرہ ہے ماقبل کے لیے۔ ان ارسل بمعنی ای ارسل لتضمن الرسول معنی الارسال وفیہ معنی القول (مدارک ج 3 ص 138) ۔ ” انا رسول رب العلمین “ اس میں رسالت کا دعوی اور دعوت توحید مذکور ہے اور ” ارسل معنا بنی اسرائیل “ میں قوم کی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 10–22

فرعون کو دعوت توحید سورۃ کی ابتدائی آیات میں قرآن کریم کی حقانیت اور تسلی کے مضمون کو اجمالی طور پر بیان کیا گیا تھا۔ اب یہاں سے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کیا ہے جس سے اصل مقصود اصول دین توحید اور ایمان کی دعوت دنیا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے ابتدائی واقعات تو سورة قصص اور بعض دیگر سورتوں میں بھی بیان ہوئے ہیں تا ہم یہاں پر مضمون کی ابتداء وتبلیغ حق سے ہو رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا اور پھر ان کو تبلیغ کے لیے فرعون اور اس کی ظالم قوم کے پاس بھیجا ۔ ارشاد ہوتا ہے ، وہ بات قابل ذکر ہے واذ نادی ربک موسیٰ جب کہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ كَلَّا۝ 0 ۚ فَاذْہَبَا بِاٰيٰتِنَآ اِنَّا مَعَكُمْ مُّسْتَمِعُوْنَ۝ 15 ذهب الذَّهَبُ معروف، وربما قيل ذَهَبَةٌ ، ويستعمل ذلک في الأعيان والمعاني، قال اللہ تعالی: وَقالَ إِنِّي ذاهِبٌ إِلى رَبِّي[ الصافات/ 99] ، ( ذ ھ ب ) الذھب ذھب ( ف) بالشیء واذھبتہ لے جانا ۔ یہ اعیان ومعانی دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : إِنِّي ذاهِبٌ إِلى رَبِّي[ الصافات/ 99] کہ میں اپنے پروردگار کی طرف جانے والا ہوں ۔ الآية والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 11–34

بدنصیب یہ معجزے دیکھ کر ایمان تو نہ لایا کہہ دیا کہ یہ بڑا جادوگر ہے اس کے زور سے تمہارا ملک لینا چاہتا ہے۔ فرعونیوں کے عہد میں جادو اور طلسم کا بڑا زور تھا چناچہ اس عہد کے یادگار مسلمانوں کے ابتدائِ عہد تک موجود تھے جن کو اہل اسلام کے مؤرخین نے نقل کیا ہے دیکھو تاریخ مصر، درباریوں نے صلاح دی کہ آپ بھی اپنے ملک میں سے نامور جادوگر ایک روز معین میں جمع کر کے اس کو عاجز کر دیجئے اور عید یا کوئی فرعونیوں کا میلہ ہوتا تھا جس میں سب لوگ شریک ہوتے تھے وہ روز قرار پایا تاکہ سب لوگ موسیٰ ( علیہ السلام) کا عجز ملاحظہ کریں۔ چناچہ اس روز وہ سب جادوگر اور طلسم کار آئے اور ایک میدان میں فرعون اور اس کے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 15–17

قَالَ کَلاَّ ج فَاذْھَبَا بِاٰیٰـتِنَآ اِنَّا مَعَکُمْ مُّسْتَمِعُوْنَ ۔ فَاْ تِیَا فِرْعَوْنَ فَـقُوْلاَ اِنَّا رَسُوْلُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ اَنْ اَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ ۔ (الشعرآء : 15، 16، 17) (اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہرگز نہیں، تم دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ، ہم تمہارے ساتھ سب کچھ سننے والے ہیں۔ تم دونوں فرعون کے پاس جاؤ اور اسے کہو کہ ہم رب العالمین کے رسول ہیں۔ کہ تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو بھیج دے۔ ) اللہ تعالیٰ کی طرف سے اطمینان دہانی اللہ تعالیٰ نے پوری شدت کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اس اندیشے کو رد کردیا کہ وہ لوگ آپ کو قتل کردیں گے اور اطمینان دلاتے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 11–15

فہم القرآن ربط کلام : موسیٰ (علیہ السلام) کو ہر قسم کی تسلّی دینے کے بعد فرعون کی طرف جانے کا حکم ہوا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) فرعون کے پاس پہنچے اور اسے یہ کہہ کر اپنی رسالت اور اللہ تعالیٰ کی توحید کی دعوت دی کہ ہم رب العالمین کے بھیجے ہوئے رسول ہیں۔ فرعون اپنے آپ کو ” رَبُّکُمُ الْأَعْلٰی “ کہتا تھا۔ اس لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے توحید کا یہ پہلو پیش فرمایا کہ رب العالمین ایک ہے اس کے سوا کوئی اور رب نہیں۔ اس کے ساتھ ہی اپنی قوم کی آزادی کا مطالبہ کیا۔ کیونکہ آزاد قوم ہی اپنے نفع و نقصان کا ٹھیک طور پر فیصلہ کرسکتی ہے۔ فرعون نے موسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تسلی باری تعالیٰ : 15: قَالَ کَلَّا فَاذْھَبَا (فرمایا ہرگز نہیں تم دونوں جائو) کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کی طرف سے پہنچنے والی مصیبت کا دفاع طلب کیا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب اس طرح دیا کہ خوف کو ان سے ہٹا دیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے اپنے بھائی کیلئے رسالت طلب کی تو جواب ملا اذھبا یعنی میں نے اس کو تیرے ساتھ ہی رسول بنادیا پس تم دونوں ادائیگی فریضہ کیلئے جائو۔ فاذھباؔ کا عطف اس فعل پر ہے جس پر کلاؔ دلالت کرتا ہے گویا اس طرح فرمایا اے موسیٰ تو اس قسم کے گمان سے باز رہو اور تم اور ہارون مل کر جائو۔ بِاٰیٰتِنَآ (ہماری آیات کے ساتھ) اور وہ ید بیضاء اور عصا وغیرہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

15۔ قال، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا، کلا، وہ ہرگز اپ کو نہیں مارسکتے، فاذھبا، بایاتنا، انامعکم مستمعون، ہم تم سب کی گفتگو کو سننے والے ہیں۔ معکم یہ جمع کا صیغہ ذکر کیا ہے۔ حالانکہ موسیٰ و ہارون تودو تھے۔ یہاں دو کو جماعت کے قائم مقام کردیا گیا، بعض نے کہا کہ معکم سے مراد آپ کے ساتھ جو بنی اسرائیل تھے ہم ان کی بات کو سنتے اور دیکھ رہے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 6–22

(6 تا 22) یہ مسخراپن کا نتیجہ بدر کی لڑائی میں معلوم ہوا جس کا ذکر انس بن مالک ؓ کی صحیح روایتوں سے ایک جگہ گزر چکا ہے آگے فرمایا کہ کیا نہیں دیکھا انہوں نے غور سے زمین کی طرف کہ کس طرح اگائے ہم نے اس میں طرح طرح کے جوڑے میووں کے اور ہر قسم کی کھیتی یہ منکرین حشر کو قائل کیا ہے مطلب یہ ہے کہ جس طرح سوکھی زمین سوکھا اناج کا دانہ اور سوکھی ہر ایک پھل کی گٹھلی سب مردہ کے مانند ہوتے ہیں خدا کی قدرت سے مینہ برستا ہے جس سے زمین زندہ چیزوں کی طرح تروتازہ ہوجاتی ہے اور ہر اناج کے دانہ اور میوہ کی گٹھلیوں میں وہ جان پڑجاتی ہے کہ ایک دانہ سے ہزاروں دانے اور ایک گٹھلی سے ہزاروں پھل پیدا ہوجاتے ہیں اسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 10–68

آیت نمبر 10 سے 68 اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں موسیٰ (علیہ السلام) کی مدح وثنا اور ان کے واقعات کا بار بار جتنا اعادہ کیا ہے اتنا کسی اور واقعے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ عظیم حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس قصے میں اہل ایمان اور اہل کفر کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے طرز عمل کی تفصیل ہے نیز موسیٰ (علیہ السلام) صاحب شریعت کبری اور صاحب تورات تھے جو قرآن عظیم کے بعد سب سے افضل کتاب ہے۔ فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجئے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندادی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، ان کو رسول بنا کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

13 حضرت موسیٰ کے لیے تسکین وتسلیہ : سو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کے اس خدشے کے جواب میں آپ کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ " ہرگز نہیں کہ بیشک ہم تمہارے ساتھ ہیں "۔ اور جب اس قادر مطلق حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی معیت اور نصرت شامل حال ہو تو پھر خوف کا ہے کا ؟ اور کیونکر ؟ یہی وجہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تن تنہا اتنے بڑے جابر اور ظالم بادشاہ کو ڈنکے کی چوٹ حق کا پیغام سناتے ہیں۔ ساتھ میں صرف حضرت ہارون ہیں اور بس۔ سو یہ امر بذات خود ایک بڑا معجزہ ہے کہ تنہا ایک شخص جسکے ساتھ دنیا کی کوئی مادی قوت اور کوئی ظاہری طاقت نہیں وہ وقت کے سب سے بڑے کافر اور سب سے بڑے ڈکٹیٹر اور مطلق العنان حکمراں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 10–68

سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ تشریح : اس واقعہ میں بیشمار نصیحتیں ‘ اللہ کے کمالات ‘ عجزو انکساری اور سب سے بڑھ کر توکل علی اللہ کا بہت زبردست سبق ملتا ہے۔ ایمان کامل انسان کے اندر اس قدر ہمت ‘ جرأت ‘ بہادری اور معرفت پیدا کردیتا ہے کہ انسان مادی اصولوں سے بےنیاز ہو کر روحانی دنیا میں گم ہوجاتا ہے اور اس کو اللہ ‘ اس کی مدد ‘ اس کا سایہ دنیا کے ہر خطرے سے محفوظ بےنیاز کردیتا ہے۔ جیسا کہ سید حسین نصر صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں : ” سچے مومن کی فراست تکمیل کو پہنچ جاتی ہے جیسا کہ اللہ نے فرمایا ” اللہ کی یاد میں دلوں کا سکون ہے۔ “ ( سورة رعد آیت : 28) ایسا شخص جو اس حالت میں ہو…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 10–33

آیات 10 تا 33 اسرار و معارف نبی اکرم ﷺ کی شفقت کس قدر ہے اس کا اندازہ کیجیے کہ کفار کا دکھ بھی کس شدت سے محسوس فرماتے ہیں دوستاں راکجا کنی محروم۔ تو کہ بادشمناں نظر داری یعنی جس کا لطف و کرم دشمن پہ بھی عام ہے بھلا دوستوں کو کب محروم کرسکتا ہے تو آپ ﷺ کی تشفی فرماتے ہوئے اللہ کریم نے انسانوں پہ اپنے کرم کی ایک ادا کا تذکرہ فرمایا کہ فرعون کس قدر ظالم اور گستاخ کافر تھا اور اپنے خدا ہونے کا دعویدار بھی مگر اللہ کریم نے اسے بھی محروم نہ رکھا اور اپنے اولوالعزم رسول کو اس کے پاس بھیجا معجزات اور دلائل دیئے اور ہدایت کی طرف بلایا اگر وہ اپنی پسند سے دوسرے راستے پر ہی جانا چاہتا ہو تو پھر ایسے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

4 ۔ یعنی یہ خیال کہ وہ آپ کو قتل کردیں گے اپنے دل سے نکال دیجئے۔ (دیکھئے قصص :35) 5 ۔ یعنی عصاویدبیضا کے معجزے جیسا کہ سورة طٰہٰ رکوع 4 اور قصص رکوع 4 میں بیان ہوا ہے کہ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو ہارون ( علیہ السلام) کو یہ دو معجزے دے کر فرعون کی طرف بھیجا۔ 6 ۔ لہٰذا تمہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں ہم ہرحال میں تمہارے نگہبان و محافظ رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(26:15) قال کلا کہا (اللہ تعالیٰ نے ایسا) ہرگز نہیں (ہوگا) ۔ مستمعون۔ اسم فاعل۔ جمع مذکر مستمع واحد استماع (افتعال) مصدر سننے والے۔ اسی مضمون میں دوسری جگہ فرمایا لا تخافا اننی معکما اسمع واری (20:46) ڈرو نہیں میں۔ یقینا تمہارے ساتھ ہوں (ہر بات) سن رہا ہوں اور ہر چیز) دیکھ رہا ہوں، استمع باب افتعال خوب دھیان سے سننا۔ کان لگا کر سننا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 10–22

لغات القرآن : آیت نمبر 10 تا 22 : نادی (آوازدی) ٍیضیق (تنگ ہوتا ہے۔ گھٹتا ہے) صدری (میرا سینہ) ‘ لسانی (میری زبان) کلا (ہرگز نہیں) مستمعون (سننے والے) نربک ( ہم نے تجھے پالا۔ پرورش کیا) ولید (بچپن) ‘ لبثت (تورہا) ‘ سنین (سن) (سال) ‘ فعلت (تونے کیا) ‘ الضآ لین ( بھٹکنے والے) فررت (میں بھاگ گیا) ‘ وھب (دیا۔ عطا کیا) ‘ تمن (تو احسان جتاتا ہے) ‘ عبدت (تونے غلام بنایا۔ ذلیل کیا) ‘۔ تشریح آیت نمبر 10 تا 22 : اللہ تعالیٰ نے گذشتہ آیات میں ارشاد فرمایا ہے کہ جو لوگ نبی اور سو ل کی بات مکمل یقین رکھنے والے ہیں ان کو ایمان لانے کے لئے کسی نشانی اور بہانے کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن جن کو عمل اور ایمان سے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 10–30

فرعون کا قصہ۔ (ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ فرعون کی قوم کے پاس جاؤ جنہوں نے اپنی جانوں پر کفر کرکے اور بنی اسرائیل کو غلام بنا کر ظلم کررکھا ہے وہ اللہ سے نہیں ڈرتے کہ اس کی اطاعت کریں اور اکیلا جانیں کسی کو اس کا شریک نہ بنائیں تو حضرت موسیٰ نے کہا، اے میرے پروردگار میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ وہ مجھ کو جھٹلادیں اور ان کے جھٹلانے سے میرا دل تنگ ہوجائے اور میں طاقت لسانی بھی نہیں رکھتا، کیونکہ بوجہ لکنت کے صاف بول نہیں سکتا۔ اس لیے میرے بھائی ہارون کو بھی میرے ساتھ پیغمبر کر، اس کے علاوہ فرعون والوں کا مجھ پر الزام ہے میں نے ایک آدمی کو مارڈالا ہے اس واسطے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 15–17

[5] موسیٰ (علیہ السلام) و ہارون (علیہ السلام) کے مشن کے دو جز تھے، ایک دعوت توحید اور دوسرے بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی سے چھڑانا۔ قرآن میں کسی جگہ پہلے جز کا ذکر کیا گیا ہے اور کسی جگہ دوسرے جز کا۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(15) اللہ تعالیٰ نے ا رشاد فرمایا ایسا ہرگز نہیں ہوگا پس تم دونوں ہماری نشانیاں لیکر جائو کہ ہم تمہارے ساتھ سننے والے موجود ہیں یعنی تمہاری درخواست کے موافق ہارون (علیہ السلام) کو نبی بنادیا گیا ہے لہٰذا تم ہر قسم کے اندیشوں سے بالاتر ہوکر دونوں بھائی اس کے پاس ہماری نشانیاں اور دلائل لیکر جائو ہم ہر قسم کی نصرت ومدد کے لئے تمہارے ساتھ ہیں اور جو باتیں وہ تم سے کرے گا ان کو سننے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 15–17

ف 1۔ مجموعہ دعوت کا حاصل حقوق اللہ و حقوق العباد میں تعدی کا ترک کرنا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ہرگز ایسا نہیں ہوگا تم دونوں جاؤ اور پیغام پہنچاؤ میں بھی سنتا اور دیکھتا ہوں : 15۔ فرمایا اے موسیٰ تیری بات ہم نے سن لی جاؤ ہارون کو ہم نے تیرا شریک کار بنا دیا اور بےفکر ہوجاؤ فرعون ایسی کوئی حرکت نہیں کرے گا اور نہ ہی وہ کرسکتا ہے کیونکہ اس کا فیصلہ تمہاری عدم موجودگی میں ہوچکا ہے اب فرعون کے لئے ایسی سزا کے اٹھانے کا کوئی اندیشہ باقی نہیں تم پیغام پہنچاؤ جو کچھ تم اس کو کہو گے اور جو کچھ وہ تم دونوں کو جواب دے گا ہم بھی اس کو سنیں گے اور اس کا نتیجہ بھی ہم سے پوشیدہ نہیں۔ قرآن کریم کا نزول چونکہ انسانوں ہی کی زبان میں ہے اس لئے وہ سارے خدشات جو انسان کو پیش آتے رہتے ہیں وہ ان کا ذکر کرتا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 12–16

Commentary Request for favourable conditions for obedience is not tantamount to making excuses قَالَ رَ‌بِّ إِنِّي أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونِ ﴿12﴾ وَيَضِيقُ صَدْرِ‌ي وَلَا يَنطَلِقُ لِسَانِي فَأَرْ‌سِلْ إِلَىٰ هَارُ‌ونَ ﴿13﴾ وَلَهُمْ عَلَيَّ ذَنبٌ فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ ﴿14﴾ He (Musa) said, "My Lord, I fear they will belie me. [ 12] And my heart gets straitened and my tongue is not fluent; so send for Harun. [ 13] And they have a charge of offence against me and I fear they will kill me;" [ 14] This verse indicates that Sayyidna Musa (علیہ السلام) requested Allah to provide him with some…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

12 . Here by "Signs" are meant the miracles of the staff and the shining hand, which were liven to Moses. For details see Al-A`raf: 106-117, Ta Ha: .1723, An-Naml: 7-14, and Al-Qasas: 31-32).

Read the full tafseer →