Explained with ayahs 10–22
موسیٰ ؑ اور اللہ جل شانہ کے مکالمات
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے اور اپنے رسول اور اپنے کلیم حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کو جو حکم دیا تھا اسے بیان فرما رہے ہیں کہ طور کے دائیں طرف سے آپ کو آواز دی آپ سے سرگوشیاں کیں آپ کو اپنا رسول ﷺ اور برگزیدہ بنایا اور آپ کو فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجا جو ظلم پر کمر بستہ تھے۔ اور اللہ کا ڈر اور پرہیزگاری نام کو بھی ان میں نہیں رہی تھی۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی چند کمزوریاں جناب باری تعالیٰ کے سامنے بیان کی جو عنایت الٰہی سے دور کردی گئیں جیسے سورة طہ میں آپ کے سوالات پور کردئیے گئے۔ یہاں آپ کے عذر یہ بیان ہوئے کہ مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے جھٹلادیں گے۔ میرا…
Read the full tafseer →سورة الشُّعَرَآء 11
یہ اشارہ ہے اس واقعہ کی طرف جو سورة قصص رکوع 2 میں بیان ہوا ہے۔ حضرت موسیٰ نے قوم فرعون کے ایک شخص کو ایک اسرائیل سے لڑتے دیکھ کر ایک گھونسا مار دیا تھا جس سے وہ مر گیا۔ پھر جب حضرت موسیٰ کو معلوم ہوا کہ اس واقعہ کی اطلاع قوم فرعون کے لوگوں کو ہوگئی ہے اور وہ بدلہ لینے کی تیاری کر رہے ہیں۔
ملک چھوڑ کر مَدْیَن کی طرف فرار ہوگئے تھے۔ اب جو آٹھ دس سال کی روپوشی کے بعد یکایک انہیں یہ حکم دیا گیا کہ تم پیغام رسالت لے کر اسی فرعون کے دربار میں جا کھڑے ہو جس کے ہاں تمہارے خلاف قتل کا مقدمہ پہلے سے موجود ہے تو حضرت موسیٰ کو بجا طور پر یہ خطرہ ہوا کہ پیغام سنانے کی نوبت آنے سے پہلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
معارف و مسائل
اطاعت کے لئے معاون اسباب کی طلب بہانہ جوئی نہیں
قَالَ رَبِّ اِنِّىْٓ اَخَافُ اَنْ يُّكَذِّبُوْنِ ، وَيَضِيْقُ صَدْرِيْ وَلَا يَنْطَلِقُ لِسَانِيْ فَاَرْسِلْ اِلٰى هٰرُوْنَ ، وَلَهُمْ عَلَيَّ ذَنْۢبٌ فَاَخَافُ اَنْ يَّقْتُلُوْنِ ، ان آیات مبارکہ سے ثابت ہوا کہ کسی حکم کے بجا لانے میں کچھ ایسی چیزوں کی درخواست کرنا جو تعمیل حکم میں مددگار ثابت ہوں کوئی بہانہ جوئی نہیں بلکہ جائز ہے جیسا کہ حضرت موسیٰ ؑ نے حکم خداوندی پاکر اس کی بجا آوری کو سہل اور مفید کرنے کے لئے خدائے ذوالجلال سے درخواست کی۔ لہٰذا اس سے یہ نتیجہ نکالنا غلط ہوگا کہ حضرت موسیٰ ؑ نے حکم خداوندی کو بلا توقف بسر و چشم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
آیت 14-13
نبوت پا کر حضرت موسیٰ کے اندیشے
حضرت موسیٰ اس عظیم ذمہ داری سے بہت ڈرے اور یہ ڈرنا ذمہ داری کے صحح احساس کا ایک لازمی نتیجہ ہے۔ مدین جانے سے پہلے ہی انہیں یہ انذازہ اچھی طرح ہوچکا تھا کہ فرعونیوں کے سامنے کوئی حق بات کہنا کتنا مشکل ہے۔ نیز وہ اپنے اندر قوت بیان کی کمی بھی محسوس فرماتے تھے اور قبطی کی موت کا جو واقعہ ان کے ہاتھوں ہوچکا تھا اس کی بنا پر بھی وہ اندیشہ ناک تھے کہ فرعون اور اس کے اعیان ان کے خلاف غصہ میں بھرے بیٹھے ہوں گے وہ ان کو آسانی سے معاف کرنے والے نہیں ہیں۔ بالخصوص اس صورت میں جب کہ وہ ان کے سامنے رسالت کا دعویٰ لے کر جائیں گے اور ان کے ظلم وتعدی پر ان کو انذار…
Read the full tafseer →14-1یہ اشارہ ہے اس قتل کی طرف، جو حضرت موسیٰ ؑ سے غیر ارادی طور پر ہوگیا تھا اور مقتول قبطی یعنی فرعون کی قوم سے تھا، اس لئیے فرعوں اس کے بدلے میں حضرت موسیٰ ؑ کو قتل کرنا چاہتا تھا، جس کی اطلاع پا کر حضرت موسیٰ ؑ مصر سے مدین چلے گئے تھے۔ اس واقعہ پر اگرچہ کئی سال گزر چکے تھے، مگر فرعون کے پاس جانے میں واقعی یہ امکان موجود تھا کہ فرعون ان کو اس جرم میں پکڑ کر قتل کی سزا دینے کی کوشش کرے۔ اس لئے یہ خوف بھی بلا جواز نہیں تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–16
3: حضرت موسیٰ ؑ نے ایک مظلوم کو بچاتے ہوئے ظالم کو ایک مکا مارا تھا جس سے وہ مر ہی گیا۔ اس وجہ سے ان پر قتل کا الزام لگ گیا تھا۔ تفصیلی واقعہ سورة قصص میں آنے والا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–17
درس نمبر 162 ایک نظر میں
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کا یہ حصہ ، اس سورت کے موضوع اور محور کے ساتھ بہت ہی ہم آہنگ ہے۔ اس سورت میں مدار کلام زیادہ تر اس پر ہے کہ مکذبین کا انجام کیسا ہوا کرتا ہے۔ پھر اس سورت میں بھی حضور اکرم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے اور مشرکین کی جانب سے روگردانی اور تکذیب کے نتیجے میں آپ کو جو مشکلات درپیش تھیں۔ ان پر آپ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار بھی اس سورت کا موضوع سخن ہے۔ پھر اس سورت میں اس بات کی یقین دہانی بھی ہے کہ اس دعوت اور اس کی حامل تحریک کا حامی و مددگار اور محافظ اللہ ہے۔ اگرچہ یہ لوگ کمزور ہیں اور ان کے مخالفین زاد و عتاد یعنی ساز و سامان سے لیس ہیں۔ اہل قوت اور…
Read the full tafseer →2 یعنی ایک قبطی کے خون کا دعویٰ جس کی تفصیل سورة قصص میں آئے گی۔
3 یعنی دعوت و تبلیغ سے پہلے ہی میرا کام تمام نہ کردیں کہ یہ وہ ہی شخص ہے جو ہمارے آدمی کا خون کر کے بھاگا تھا۔ ایسی صورت میں فرض تبلیغ کس طرح ادا ہوگا۔
Read the full tafseer →آیت 14 وَلَہُمْ عَلَیَّ ذَنْبٌ فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِ ”
مصر میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں ایک قبطی قتل ہوگیا تھا۔ اس واقعہ کی تفصیل سورة القصص میں آئے گی۔ اگرچہ یہ قتل عمد نہیں بلکہ قتل خطا تھا ‘ لیکن تھا تو بہر حال قتل۔ اس لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا اندیشہ درست تھا کہ وہ انہیں دیکھتے ہی گرفتار کرلیں گے اور مقدمہ چلا کر سزائے موت کا مستحق ٹھہرا دیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
10 اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو مدین سے واپسی پر نبوت عطا فرمائی تو ساتھ ہی حکم دیا کہ تمہیں فرعون اور قوم فرعون کے پاس جو اپنے ظلم کی وجہ سے مشہور ہوچکی ہے۔ جاکر دعوت کا فریضہ سرانجام دینا ہے۔ تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی سابقہ زندگی کے کئی واقعات آپ کی آنکھوں کے سامنے پھرگئے۔ اور کئی قسم کے خطرات سامنے آنے لگے۔ جن میں سرفہرست یہ تھا کہ وہ میری دعوت الی الحق کو کیا اہمیت دے گا۔ جبکہ میں اس قوم کا ایک فرد ہوں۔ جسے اس نے اپنا غلام بنا رکھا ہے۔ اور خوب دبا کر رکھتا ہے۔ پھر میں اس کا پروردہ بھی ہوں۔ علاوہ ازیں میں ان کا مجرم بھی ہوں۔ ان سب باتوں کو ذہن میں رکھ کر جب اسے اللہ کا پیغام…
Read the full tafseer →12۔ (قبل اس کے کہ میں فرائض تبلیغ ادا کرسکوں) جرم سے مراد ایک قبطی کا قتل ہے، جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ سے قبل نبوت اتفاقی طور پر ہوگیا تھا۔ (آیت) ” ولھم علی ذنب “۔ سے یہ مراد نہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کا جرم ہونا تسلیم بھی کرلیا تھا۔ آپ (علیہ السلام) کا مقصود صرف یہ تھا کہ ” ان کے خیال میں میں ان کا مجرم بھی ہوں “۔ المراد لھم علی ذنب فی زعمھم (کبیر) وتسمیتہ ذنبا بحسب زعمھم بما ینبی عنہ قولہ تعالیٰ لھم (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–33
آیت نمبر 10 تا 33
ترجمہ : اور اے محمد ﷺ اپنی قوم کو اس وقت کا واقعہ یاد دلائیے کہ جب تیرے رب نے موسیٰ کو حکم دیا اس رات میں جبکہ موسیٰ نے آگ اور درخت کو دیکھا کہ تو ظالم قوم کے پاس رسول بن کر جا قوم فرعون کے پاس مع فرعون کے انہوں نے اللہ کے ساتھ کفر کرکے اور بنی اسرائیل کو غلام بنا کر اپنے اوپر ظلم کیا ہے اَلاَ یتقون میں ہمزہ استفہام انکاری کے لئے ہے کیا تم اللہ سے ڈرتے نہیں ہو کہ اس کی طاعت اختیار کرکے اس کی توحید کے قائل ہوجاؤ تو موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے پروردگار مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ میری تکذیب کریں گے اور ان کے میری تکذیب کی وجہ سے میرا دل تنگ ہوجائے، اور اداء رسالت کے…
Read the full tafseer →ولہم علی ذنب فاخاف ان یقتلون۔ اور ان کا مجھ پر ایک جرم بھی عائد ہوتا ہے اس لئے مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے قتل کردیں گے۔
عَلَیٌّ ذَنْبٌاس جگہ مضاف محذوف ہے یعنی ان کی طرف سے مجھ پر ارتکاب جرم کا دعویٰ بھی ہے ایک قبطی میرے ہاتھ سے مارا گیا تھا۔ حضرت موسیٰ نے قبطی کے قتل کو فرعونیوں کے خیال کے بموجب جرم قرار دیا ورنہ واقع میں قبطی کو قتل کرنا جائز تھا ‘ وہ کافر تھا معصوم الدم نہ تھا۔ یہ ایک طویل قصہ کا مختصر حصہ ہے دوسری جگہ اس کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔
فَاَخَافَ اَنْ یَّقْتُلُوْنِ یعنی اداء رسالت سے وہ مجھے قتل کردیں گے اس کا مجھے اندیشہ ہے ‘ حضرت موسیٰ کا اظہار خوف قتل بھی عدم تعمیل حکم کا بہانہ…
Read the full tafseer →(14) اور میں نے قبطی کو قتل کردیا تھا اس کا بدلہ بھی میرے ذمہ ہے مجھے ڈر ہے کہ کہیں وہ لوگ مجھے قتل نہ کر ڈالیں۔
Read the full tafseer →وَلَهُمْ عَلَيَّ ذَنْۢبٌ۔۔ : یعنی مجھ سے ان کا ایک آدمی قتل ہوگیا ہے، جو ان کے کہنے کے مطابق میرا جرم ہے، اس لیے میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کردیں گے۔ اس واقعہ کی تفصیل سورة قصص (15) میں آرہی ہے، مختصر یہ کہ موسیٰ ؑ نے ایک قبطی کو ایک اسرائیلی سے لڑتے دیکھ کر گھونسا مار دیا، جس سے اس قبطی کی موت واقع ہوگئی، پھر جب موسیٰ ؑ کو معلوم ہوا کہ اس واقعہ کی اطلاع فرعون اور اس کے لوگوں کو ہوگئی ہے اور وہ بدلا لینے کے لیے مشورے کر رہے ہیں تو وہ مصر سے مدین چلے گئے۔ معلوم ہوا کہ خوف طبعی طور پر انبیاء ؑ کو بھی لاحق ہوجاتا ہے۔ (قرطبی)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–15
(واذ نادی ربک۔۔۔۔۔۔ )
واذ نادی رب موسیٰ ، اذمحل نصب میں ہے تقدیر کلام یہ ہے : واتل علیھم اذ نادی ربک موسیٰ اس پر یہ کلام واتل علیھم نبا ابراہیم۔ دلالت کرتی ہے جو اس کے بعد ہے۔ نحاس نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہاں اذکر فعل محذوف ہے جس طرح اس ارشاد میں ہی تصریح ہے واذاکر اخادعا ( احقاف : 21) واذکر عبدنا ابراہیم (ص : 45) واذکر فی الکتب مریم (مریم : 19) ایک قول یہ کیا گیا ہے : واذ نادی ربک موسیٰ ، کذا وکذ۔ نداء سے مراد یا فلان کے ساتھ بلانا، یعنی تیرے رب نے فرمایا : یا موسیٰ ان ائت القوم الظلمین پھر خبر دی کہ ظالم کون ہے ؟ فرمایا : قوم فرعون الا یتقون قوم فرعون، یا القوم الظلمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–51
1۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” یعنی طور کے داہنی جانب سے ان کو آواز دی گئی۔
2۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وابن جرری وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ ایک جان کے قتل کرنے کا الزام جو ان کے درمیان قتل ہوا آیت ” وفعلت فعلتک التی فعلت “ سے مراد بھی انسان کا قتل ہے۔ آیت ” فعلتہا اذا وانا من الضالین “ یعنی جب میں چوک جانے والوں میں سے تھا۔
3۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” ولہم علی ذنب “ یعنی ایک جان کا قتل کرنا آیت ” الم لربک فینا ولیدا “ یعنی ان کو فرعون والوں سے اٹھا لیا سو اس بچے کو…
Read the full tafseer →وَلَهُمْ [ اور ان کا ] عَلَيَّ [ مجھ پر ] ذَنْۢبٌ [ ایک گناہ ہے ] فَاَخَافُ [ تو میں ڈرتا ہوں ] اَنْ [ کہ ] يَّقْتُلُوْنِ [ وہ قتل کریں گے مجھ کو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–34
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلہ کے لیے فرعون کا جادو گروں کو بلانا، مقابلہ ہونا اور جادو گروں کا شکست کھا کر ایمان قبول کرنا
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے جواب وسوال سے عاجز ہو کر اور دو بڑے معجزے دیکھ کر فرعون کی شکست تو اسی وقت ہوگئی لیکن اس نے اپنی خفت مٹانے اور درباریوں کو مطمئن رکھنے اور ان کے ذریعہ ساری قوم کو اپنی فرمانبرداری پر جمائے رکھنے کے لیے سرداروں سے کہا جو اس وقت وہاں موجود تھے کہ سمجھ میں آگیا یہ تو ایک بڑا ماہر جادوگر ہے یہ چاہتا ہے کہ تمہیں مصر کی سر زمین سے نکال دے اور اپنی قوم کا بڑا بن کر ان کو ساتھ لے کر حکومت کرنے لگے۔ تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو ؟ سورة اعراف میں ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–22
قصہ اول حضرت موسیٰ (علیہ السلام)
قال اللہ تعالیٰ واذ نادی ربک موسیٰ ان ائت القوم الظلمین .... الیٰ .... ان عبدت بنی اسرائیل۔
یہاں سے حضرات انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام کے قصے ذکر کرتے ہیں سب سے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور قوم فرعون موسوی اور پھر اہل ایمان کی عجیب طریقے سے نجات اور کفار کی عبرتناک ہلاکت کے بیان پر مشتمل ہے۔
ذکر عطائے منصب نبوت و رسالت و حکم تبلیغ و دعوت
یہ قصہ اگرچہ سورة اعراف اور سورة طہ میں بالتفصیل گزرچکا ہے لیکن یہاں پر ایک نئی شان سے اس قصہ کو ذکر فرماتے۔ چناچہ فرامتے ہیں اور اے نبی ان مستہزئین کی تہدید اور عبرت کے لیے اس وقت کا قصہ ذکر کیجئے جبکہ تیرے پروردگار نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
9:۔ اور ان کو مجھ پر ایک قبطی کے خون کا دعوی بھی ہے اس لیے مجھے اندیشہ ہے کہ فریضہ تبلیغ ادا کرنے سے پہلے ہی مجھے قتل کر ڈالیں کہ یہ وہی شخص ہے جو ہمارا ایک آدمی قتل کر کے کہیں بھاگ گیا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ ظاہری اسباب کے تحت اللہ کے سوا کسی سے ڈرنا شرک نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–22
فرعون کو دعوت توحید
سورۃ کی ابتدائی آیات میں قرآن کریم کی حقانیت اور تسلی کے مضمون کو اجمالی طور پر بیان کیا گیا تھا۔ اب یہاں سے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کیا ہے جس سے اصل مقصود اصول دین توحید اور ایمان کی دعوت دنیا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے ابتدائی واقعات تو سورة قصص اور بعض دیگر سورتوں میں بھی بیان ہوئے ہیں تا ہم یہاں پر مضمون کی ابتداء وتبلیغ حق سے ہو رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا اور پھر ان کو تبلیغ کے لیے فرعون اور اس کی ظالم قوم کے پاس بھیجا ۔ ارشاد ہوتا ہے ، وہ بات قابل ذکر ہے واذ نادی ربک موسیٰ جب کہ…
Read the full tafseer →وَلَہُمْ عَلَيَّ ذَنْۢبٌ فَاَخَافُ اَنْ يَّقْتُلُوْنِ 14ۚ
ذنب
والذَّنْبُ في الأصل : الأخذ بذنب الشیء، يقال : ذَنَبْتُهُ : أصبت ذنبه، ويستعمل في كلّ فعل يستوخم عقباه اعتبارا بذنب الشیء، ولهذا يسمّى الذَّنْبُ تبعة، اعتبارا لما يحصل من عاقبته، وجمع الذّنب ذُنُوب، قال تعالی: فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ [ آل عمران/ 11] ،
الذنب ( ض )
کے اصل معنی کسی چیز کی دم پکڑنا کے ہیں کہا جاتا ہے ذنبتہ میں نے اس کی دم پر مارا دم کے اعتبار ست ہر اس فعل کو جس کا انجام برا ہوا سے ذنب کہہ دیتے ہیں اسی بناء پر انجام کے اعتباڑ سے گناہ کو تبعتہ بھی کہا جاتا ہے ۔ ذنب کی جمع ذنوب ہے ۔ قرآن میں ہے ۔ فَأَخَذَهُمُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–34
بدنصیب یہ معجزے دیکھ کر ایمان تو نہ لایا کہہ دیا کہ یہ بڑا جادوگر ہے اس کے زور سے تمہارا ملک لینا چاہتا ہے۔ فرعونیوں کے عہد میں جادو اور طلسم کا بڑا زور تھا چناچہ اس عہد کے یادگار مسلمانوں کے ابتدائِ عہد تک موجود تھے جن کو اہل اسلام کے مؤرخین نے نقل کیا ہے دیکھو تاریخ مصر، درباریوں نے صلاح دی کہ آپ بھی اپنے ملک میں سے نامور جادوگر ایک روز معین میں جمع کر کے اس کو عاجز کر دیجئے اور عید یا کوئی فرعونیوں کا میلہ ہوتا تھا جس میں سب لوگ شریک ہوتے تھے وہ روز قرار پایا تاکہ سب لوگ موسیٰ ( علیہ السلام) کا عجز ملاحظہ کریں۔ چناچہ اس روز وہ سب جادوگر اور طلسم کار آئے اور ایک میدان میں فرعون اور اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
قَالَ رَبِّ اِنِّیْٓ اَخَافُ اَنْ یُّکَذِّبُوْنِ ۔ وَیَضِیْقُ صَدْرِیْ وَلاَ یَنْطَلِقُ لِسَانِیْ فَاَرْسِلْ اِلٰی ھٰـرُوْنَ ۔ وَلَھُمْ عَلَیَّ ذَنْبٌ فَاَخَافُ اَنْ یَّـقْـتُـلُوْنَ ۔ (الشعرآء : 12، 13، 14)
(حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا، اے رب ! مجھے اندیشہ ہے کہ وہ مجھ کو جھٹلا دیں گے۔ اور میرا سینہ گھٹتا ہے اور روانی سے میری زبان نہیں چلتی، آپ ہارون کی طرف وحی بھیجیں۔ اور ان کا میرے ذمے ایک جرم بھی ہے، اس لیے میں ڈرتا ہوں وہ مجھے قتل کردیں گے۔ )
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے چند اندیشے
نبوت اور رسالت ایک بہت نازک اور کٹھن ذمہ داری ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اس کا شدید احساس تھا۔ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
فہم القرآن
ربط کلام : موسیٰ (علیہ السلام) کو ہر قسم کی تسلّی دینے کے بعد فرعون کی طرف جانے کا حکم ہوا۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) فرعون کے پاس پہنچے اور اسے یہ کہہ کر اپنی رسالت اور اللہ تعالیٰ کی توحید کی دعوت دی کہ ہم رب العالمین کے بھیجے ہوئے رسول ہیں۔ فرعون اپنے آپ کو ” رَبُّکُمُ الْأَعْلٰی “ کہتا تھا۔ اس لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے توحید کا یہ پہلو پیش فرمایا کہ رب العالمین ایک ہے اس کے سوا کوئی اور رب نہیں۔ اس کے ساتھ ہی اپنی قوم کی آزادی کا مطالبہ کیا۔ کیونکہ آزاد قوم ہی اپنے نفع و نقصان کا ٹھیک طور پر فیصلہ کرسکتی ہے۔ فرعون نے موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →دعویٰ گناہ کو گناہ کہا :
14: وَلَھُمْ عَلَیَّ ذَنْچبٌ (اور ان کا میرے اوپرارتکابِ گناہ کا دعویٰ ہے) قبطی کے مکہ سے قتل ہوجانے کا۔ یہاں مضاف حذف کردیا گیا۔ ای تبعۃ ذنبٍ ۔ نمبر 2۔ دعوی گناہ کو ذنب کہا جیسا کہ جزاء سیئہ کو سیئہ کہتے ہیں۔ فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِ (پس مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھے قتل کردیں) کہ وہ مجھے قصاصاً قتل کردیں۔ یہ بھی بہانہ بازی نہیں بلکہ ایک متوقع مصیبت کو دفع کا مطالبہ ہے جس میں ابتلاء کا قوی اندیشہ ہے اور تبلیغ رسالت کے فریضہ کی ادائیگی سے قبل ہی قتل کردیں یہ اس اندیشے کا اظہار ہے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے حفاظت کا وعدہ فرمایا اور موسیٰ (علیہ السلام) کو کلاؔ جو کلمہ ردع ہے اس…
Read the full tafseer →14۔ ولھم علی ذنب، دعوی ذنب سے مراد قبطی کا قتل ہے۔ فاخاف ان یقتلون، مجھے اداء رسالت میں وہ قتل کردیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–22
(6 تا 22) یہ مسخراپن کا نتیجہ بدر کی لڑائی میں معلوم ہوا جس کا ذکر انس بن مالک ؓ کی صحیح روایتوں سے ایک جگہ گزر چکا ہے آگے فرمایا کہ کیا نہیں دیکھا انہوں نے غور سے زمین کی طرف کہ کس طرح اگائے ہم نے اس میں طرح طرح کے جوڑے میووں کے اور ہر قسم کی کھیتی یہ منکرین حشر کو قائل کیا ہے مطلب یہ ہے کہ جس طرح سوکھی زمین سوکھا اناج کا دانہ اور سوکھی ہر ایک پھل کی گٹھلی سب مردہ کے مانند ہوتے ہیں خدا کی قدرت سے مینہ برستا ہے جس سے زمین زندہ چیزوں کی طرح تروتازہ ہوجاتی ہے اور ہر اناج کے دانہ اور میوہ کی گٹھلیوں میں وہ جان پڑجاتی ہے کہ ایک دانہ سے ہزاروں دانے اور ایک گٹھلی سے ہزاروں پھل پیدا ہوجاتے ہیں اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–68
آیت نمبر 10 سے 68
اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں موسیٰ (علیہ السلام) کی مدح وثنا اور ان کے واقعات کا بار بار جتنا اعادہ کیا ہے اتنا کسی اور واقعے کو بیان نہیں فرمایا کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ عظیم حکمتوں اور عبرتوں پر مشتمل ہے اور اس قصے میں اہل ایمان اور اہل کفر کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے طرز عمل کی تفصیل ہے نیز موسیٰ (علیہ السلام) صاحب شریعت کبری اور صاحب تورات تھے جو قرآن عظیم کے بعد سب سے افضل کتاب ہے۔
فرمایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے فضیلت والے احوال کو یاد کیجئے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ندادی، ان سے کلام فرمایا، ان کو نبوت سے سرفراز کیا، ان کو رسول بنا کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–14
11 حضرت موسیٰ کی حضرت ہارون کے لیے ایک خاص دعا اور اہل بدعت کے ایک مغالطے کا جواب : کہ میرے بھائی ہارون کو بھی کار رسالت کی ادائیگی کے لیے میرے ساتھ شریک کیا جائے۔ سو یہ حضرت موسیٰ کی طرف سے حضرت ہارون کو بھی پیغمبر بنائے جانے کی درخواست ہے۔ حضرت موسیٰ ۔ علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام ۔ نے اپنے اعذار پیش کرنے کے بعد اپنے بھائی حضرت ہارون کی رسالت کے لئے بھی بارگاہ خداوندی میں درخواست پیش کی تاکہ وہ ان کے معاون اور مددگار ہو سکیں۔ اور آپ کی اس دعا کو قبول بھی فرما لیا گیا۔ اہل بدعت کے بعض بڑوں نے اس سے غیر اللہ کی امداد کے ثبوت و جواز کی دلیل کشید کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔ چناچہ موصوف اس سلسلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–68
سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ
تشریح : اس واقعہ میں بیشمار نصیحتیں ‘ اللہ کے کمالات ‘ عجزو انکساری اور سب سے بڑھ کر توکل علی اللہ کا بہت زبردست سبق ملتا ہے۔ ایمان کامل انسان کے اندر اس قدر ہمت ‘ جرأت ‘ بہادری اور معرفت پیدا کردیتا ہے کہ انسان مادی اصولوں سے بےنیاز ہو کر روحانی دنیا میں گم ہوجاتا ہے اور اس کو اللہ ‘ اس کی مدد ‘ اس کا سایہ دنیا کے ہر خطرے سے محفوظ بےنیاز کردیتا ہے۔ جیسا کہ سید حسین نصر صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں : ” سچے مومن کی فراست تکمیل کو پہنچ جاتی ہے جیسا کہ اللہ نے فرمایا ” اللہ کی یاد میں دلوں کا سکون ہے۔ “ ( سورة رعد آیت : 28)
ایسا شخص جو اس حالت میں ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–33
آیات 10 تا 33
اسرار و معارف
نبی اکرم ﷺ کی شفقت کس قدر ہے اس کا اندازہ کیجیے کہ کفار کا دکھ بھی کس شدت سے محسوس فرماتے ہیں دوستاں راکجا کنی محروم۔ تو کہ بادشمناں نظر داری یعنی جس کا لطف و کرم دشمن پہ بھی عام ہے بھلا دوستوں کو کب محروم کرسکتا ہے تو آپ ﷺ کی تشفی فرماتے ہوئے اللہ کریم نے انسانوں پہ اپنے کرم کی ایک ادا کا تذکرہ فرمایا کہ فرعون کس قدر ظالم اور گستاخ کافر تھا اور اپنے خدا ہونے کا دعویدار بھی مگر اللہ کریم نے اسے بھی محروم نہ رکھا اور اپنے اولوالعزم رسول کو اس کے پاس بھیجا معجزات اور دلائل دیئے اور ہدایت کی طرف بلایا اگر وہ اپنی پسند سے دوسرے راستے پر ہی جانا چاہتا ہو تو پھر ایسے…
Read the full tafseer →3 ۔ یعنی مجھ سے ان کا آدمی قتل ہوگیا ہے۔ اس واقعہ کی تفصیل سرہ قصص رکوع 2 میں بیان ہوئی ہے اور وہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے ایک قبطی کو ایک اسرائیلی سے لڑتے دیکھ کر ایک گھونسا مار دیا تھا جس سے اس قبطی کی موت واقع ہوگئی۔ پھر جب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو معلوم ہوا کہ اس واقعہ کی اطلاع فرعون اور اس کے لوگوں کو ہوگئی ہے اور وہ بدلہ لینے کے لئے مشورے کر رہے ہیں تو وہ مصر سے مدین بھاگ گئے۔ معلوم ہوا کہ خوف طبعی طور پر کبھی انبیا کو بھی لاحق ہوجاتا ہے۔ (قرطبی)
Read the full tafseer →(26:14) ولہم علی ذنب۔ اور ان کا میرے ذمہ ایک جرم (بھی) ہے یہاں اشارہ ہے ایک قبطی کے قتل کا جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مکہ سے جاں بحق ہوگیا تھا۔ (ملاحظہ ہو 28:15)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–22
لغات القرآن : آیت نمبر 10 تا 22 :
نادی (آوازدی) ٍیضیق (تنگ ہوتا ہے۔ گھٹتا ہے) صدری (میرا سینہ) ‘ لسانی (میری زبان) کلا (ہرگز نہیں) مستمعون (سننے والے) نربک ( ہم نے تجھے پالا۔ پرورش کیا) ولید (بچپن) ‘ لبثت (تورہا) ‘ سنین (سن) (سال) ‘ فعلت (تونے کیا) ‘ الضآ لین ( بھٹکنے والے) فررت (میں بھاگ گیا) ‘ وھب (دیا۔ عطا کیا) ‘ تمن (تو احسان جتاتا ہے) ‘ عبدت (تونے غلام بنایا۔ ذلیل کیا) ‘۔
تشریح آیت نمبر 10 تا 22 :
اللہ تعالیٰ نے گذشتہ آیات میں ارشاد فرمایا ہے کہ جو لوگ نبی اور سو ل کی بات مکمل یقین رکھنے والے ہیں ان کو ایمان لانے کے لئے کسی نشانی اور بہانے کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن جن کو عمل اور ایمان سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–30
فرعون کا قصہ۔
(ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ فرعون کی قوم کے پاس جاؤ جنہوں نے اپنی جانوں پر کفر کرکے اور بنی اسرائیل کو غلام بنا کر ظلم کررکھا ہے وہ اللہ سے نہیں ڈرتے کہ اس کی اطاعت کریں اور اکیلا جانیں کسی کو اس کا شریک نہ بنائیں تو حضرت موسیٰ نے کہا، اے میرے پروردگار میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ وہ مجھ کو جھٹلادیں اور ان کے جھٹلانے سے میرا دل تنگ ہوجائے اور میں طاقت لسانی بھی نہیں رکھتا، کیونکہ بوجہ لکنت کے صاف بول نہیں سکتا۔ اس لیے میرے بھائی ہارون کو بھی میرے ساتھ پیغمبر کر، اس کے علاوہ فرعون والوں کا مجھ پر الزام ہے میں نے ایک آدمی کو مارڈالا ہے اس واسطے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
[4] یعنی ایک قبطی کے قتل کا جرم جس کی تفصیل سورة قصص میں آئے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 14–17
ذنب ۔ الزام ۔ گناہ
Read the full tafseer →(14) اور میرے ذمے ان لوگوں کا ایک جرم بھی ہے تو مجھ کو یہ اندیشہ ہے اور میں ڈرتا ہوں کہ وہ کہیں مجھ کو قتل کر ڈالیں یعنی مصر سے ایک قبطی کو قتل کرکے بھاگا تھا جب سے اب تک گرفتار نہیں ہوا اس لئے بھی مجھ کو خوف ہے کہ وہ مجھ کو دیکھتے ہی قتل کر ڈالیں اور تبلیغ رسالت کی نوبت ہی نہ آئے اور تبلیغ رسالت سے پہلے ہی قتل کردیاجائوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–14
ف 5۔ جرم ایک قبطی کے قتل کا جس کا قصہ سورة قصص میں آوے گا۔
Read the full tafseer →ان کا ایک گناہ میرے ذمہ ہے جس کے بدلہ میں وہ مجھے قتل کردیں گے اسکا مجھے اندیشہ ہے :
14۔ ” ان کا مجھ پر ایک الزام قتل بھی ہے اس لئے مجھے اندیشہ ہے کہ وہ مجھے اس کے عوض مار ہی ڈالیں “۔ یہ ایک وہ قبطی کا اتفاقی قتل تھا جو نبوت سے پیشتر اتفاقا معرض وجود میں آیا تھا جو زیادہ سے زیادہ قتل خطا کے ضمن میں آتا تھا اور پھر یقینا اس قتل خطا کا عوض بھی ہارون (علیہ السلام) نے چکایا ہوگا جو ایک فطری اور قانونی بات ہے ، قتل خطا کی سزا کسی قانون میں بھی قتل کے بدلہ قتل نہیں ہے تاہم مخالفت میں اس طرح کے احتمالات ہوتے رہتے ہیں اور موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی یہ بات اسی ضمن میں ارشاد فرمائی ہے تاکہ علم الہی کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
Commentary
Request for favourable conditions for obedience is not tantamount to making excuses
قَالَ رَبِّ إِنِّي أَخَافُ أَن يُكَذِّبُونِ ﴿12﴾ وَيَضِيقُ صَدْرِي وَلَا يَنطَلِقُ لِسَانِي فَأَرْسِلْ إِلَىٰ هَارُونَ ﴿13﴾ وَلَهُمْ عَلَيَّ ذَنبٌ فَأَخَافُ أَن يَقْتُلُونِ ﴿14﴾
He (Musa) said, "My Lord, I fear they will belie me. [ 12] And my heart gets straitened and my tongue is not fluent; so send for Harun. [ 13] And they have a charge of offence against me and I fear they will kill me;" [ 14]
This verse indicates that Sayyidna Musa (علیہ السلام) requested Allah to provide him with some…
Read the full tafseer →11 The allusion is to the incident of Prophet Moses' giving a blow to an Egyptian, who was fighting with an Israelite, and thus causing his death. Then as soon as Moses came to know that the report had reached Pharaoh and his people and they were planning to take revenge, he fled the country and took refuge in Midian. (See Al-Qasas: 15-21) Now when after a period of almost ten years of hiding he was suddenly called upon and commanded to go before Pharaoh, who had already a charge of murder against him, with the message, Prophet Moses rightly felt apprehensive that he would immediately be…
Read the full tafseer →