Ash-Shu'araa 26:214

Ash-Shu'araa · from ayah 214

26:214

وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَكَ الْاَقْرَبِیْنَ ۟ۙوَاَنۡذِرۡ عَشِيۡرَتَكَ الۡاَقۡرَبِيۡنَۙ‏

اور اپنے قریب کے رشتہ داروں کو ڈر سنا دو

— Fateh Muhammad Jalandhari

And warn, [O Muhammad], your closest kindred.

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 11 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:214

اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو ڈراؤ

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اپنے قریب کے رشتہ داروں کو ڈر سنا دو

— مولانا فتح محمد جالندہری

اپنے قریبی رشتہ والوں کو ڈرا دے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور (اے پیغمبر) تم اپنے قریب ترین خاندان کو خبردار کرو

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اے محبوب! اپنے قریب تر رشتہ داروں کو ڈراؤ

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (اے حبیبِ مکرّم!) آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو (ہمارے عذاب سے) ڈرائیے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اپنے سب سے قریب رشتہ داروں کو ڈرا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اپنے کنبہ کے قریبی رشتہ داروں کو (برے انجام سے) ڈرائیے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اپنے قریبی خاندان والوں کو ڈرائو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور خبردار کرو سب سے پہلے اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو اے پیغمبر

— مولانا اسحاق مدنی

آپ اپنے کنبہ کے عزیزوں کو ڈراتے رہئے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور خبردار کیجیے اپنے قریبی رشتہ داروں کو

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اپنے قریب کے رشتہ داروں کو ڈر سنا دو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and warn your nearest kinsmen;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And warn the nearest people of your clan,

— Muhammad Taqi Usmani

And warn the nearest people of your clan,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And warn your tribe of near kindred.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And warn, [O Muhammad], your closest kindred.

— Saheeh International

Warn your close relatives

— Muhammad Sarwar

And warn your nearest relations,

— Muhammad Habib Shakir

And warn thou thy clan, the nearest ones.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 26:214

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 213–220

مستحق سزا لوگوں سے الگ ہوجاؤ خود اپنے نبی ﷺ سے خطاب کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ صرف میری ہی عبادت کر۔ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کر جو بھی ایسا کرے گا وہ ضرور مستحق سزا ہے۔ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ہوشیار کردے کہ بجز ایمان کے کوئی چیز نجات دہندہ نہیں۔ پھر حکم دیتا ہے کہ موحد متبع سنت لوگوں سے فروتنی کے ساتھ ملتا جلتا رہ۔ اور جو بھی میرے حکم نہ مانے خواہ کوئی ہو تو اس سے بےتعلق ہوجا۔ اور اپنی بیزاری کا اظہار کردے۔ یہ خاص طور کی خاص لوگوں کی تنبیہہ عام لوگوں کی تنبیہہ کے منافی نہیں کیونکہ یہ اس کا جز ہے۔ اور جگہ ارشاد ہے تو اس قوم کو ڈرادے جن کے بڑے بھی ڈرائے نہیں گئے اور جو غفلت میں پڑے ہوئے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الشُّعَرَآء 135 یعنی خدا کے اس بےلاگ دین میں جس طرح نبی کی ذات کے لیے کوئی رعایت نہیں اسی طرح نبی کے خاندان اور اس کے قریب ترین عزیزوں کے لیے بھی کسی رعایت کی گنجائش نہیں ہے۔ یہاں جس کے ساتھ بھی کوئی معاملہ ہے اس کے اوصاف (Merits) کے لحاظ سے ہے۔ کسی کا نسب اور کسی کے ساتھ آدمی کا تعلق کوئی نفع نہیں پہنچا سکتا۔ گمراہی و بد عملی پر خدا کے عذاب کا خوف سب کے لیے یکساں ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اور سب تو ان چیزوں پر پکڑے جائیں، مگر نبی کے رشتہ دار بچے رہ جائیں۔ اس لیے حکم ہوا کہ اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو بھی صاف صاف متنبہ کردو۔ اگر وہ اپنا عقیدہ اور عمل درست نہ رکھیں گے تو یہ بات ان کے کسی کام…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 214–223

وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ ، عشیرہ کے معنے کنبہ اور خاندان اقربی کی قید سے ان میں سے بھی قریبی رشتہ دار مراد ہیں۔ یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر تبلیغ رسالت اور انذار پوری امت کے لئے فرض ہے اس جگہ خاندان کے لوگوں کی تخصیص میں کیا حکمت ہے ؟ غور کیا جائے تو اس میں تبلیغ و دعوت کے آسان اور موثر بنانے کا ایک خاص طریقہ بتلایا گیا ہے جس کے آثار دور رس ہیں۔ وہ یہ کہ اپنے کنبہ اور خاندان کے لوگ اپنے سے قریب ہونے کی بناء پر اس کے حقدار بھی ہیں کہ ہر خیر اور اچھے کام میں ان کو دو رسوں سے مقدم کیا جائے اور باہمی تعلقات اور ذاتی واقفیت کی بناء پر ان میں کوئی جھوٹا دعویدار نہیں کھپ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یعنی اس عذاب سے جس کی خبر دی جا رہی ہے، اپنے اہل خاندان کو ہوشیار کردو۔ یہ تمہارے عزیز و اقارب ہیں اس وجہ سے تمہاری خیر خواہی کے سب سے زیادہ حقدار ہیں۔ یہ امر یہاں محلوظ رہے کہ آنحضرت ﷺ کا قریبی خاندان ہی تھا جس کو بیت اللہ کی تولیت اور اہل عرب کی دینی و سیاسی پیشوائی کا منصب حاصل تھا اس وج ہ سے قرابت اور سیاست دونوں کا تقاضا یہ تھا کہ آپ ان کو آنے والے خطرے سے آگاہ کردیں۔ اگر وہ اصلاح قبول کرلیتے تو دوسروں کی اصلاح کا معاملہ بہت آسان ہوجاتا اسی وجہ سے حضرات انبیاء (علیہم السلام) کی ہمیشہ یہ سنت رہی ہے کہ انہوں نے اپنے زمانہ کے قائدین کو انذار کیا ہے۔ عوام کی طرف اس وقت توجہ فرمائی ہے جب…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 213–214

214-1پیغمبر کی دعوت صرف رشتہ داروں کے لئے نہیں، بلکہ پوری قوم کے لئے ہوتی ہے اور نبی ﷺ تو پوری نسل انسانی کے لئے ہادی اور رہبر بن کر آئے تھے۔ قریبی رشتہ داروں کو دعوت ایمان، دعوت عام کے منافی نہیں، بلکہ اسی کا ایک حصہ یا اس کا ترجیحی پہلو ہے۔ جس طرح حضرت ابراہیم ؑ نے بھی سب سے پہلے اپنے باپ آزر کو توحید کی دعوت دی تھی۔ اس حکم کے بعد نبی ﷺ صفا پہاڑی پر چڑھ گئے اور یَا صَبَاحَا کہہ کر آواز دی۔ یہ کلمہ اس وقت بولا جاتا ہے جب دشمن اچانک حملہ کر دے، اس کے ذریعہ سے قوم کو خبردار کیا جاتا ہے۔ یہ کلمہ سن کر لوگ جمع ہوگئے، آپ نے قریش کے مختلف قبیلوں کے نام لے لے کر فرمایا، بتلاؤ اگر میں تمہیں یہ کہوں…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 214–222

50: یہ وہ آیت ہے جس کے ذریعے آنحضرت ﷺ کو سب سے پہلی بار تبلیغ کا حکم ہوا اور یہ ہدایت دی گئی کہ تبلیغ کا آغاز اپنے قریبی خاندان کے لوگوں سے فرمائیں، چنانچہ اسی آیت کے نازل ہونے کے بعد آپ نے اپنے خاندان کے قریبی لوگوں کو جمع کرکے ان کو دین حق کی دعوت دی، اس میں یہ سبق بھی دیا گیا ہے کہ اصلاح کرنے والے کو سب سے پہلے اپنے گھر اور اپنے خاندان سے شروع کرنا چاہیے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 214–215

فلا تدع ……العزیز الرحیم (219) ان کے ساتھ تواضح سے پیش آئو لیکن اگر وہ تمہاری نافرمانی کریں تو ان سے کہہ دو کہ جو کچھ تم کرتے ہو ، اس سے میں بری الذمہ ہوں اور اس زبردست اور رحیم پر توکل کرو جو تمہیں اس وقت دیکھ رہا ہوں۔ جب تم اٹھتے ہو اور سجدہ گزار لوگوں میں تمہاری نقل و حرکت پر نگاہ رکھتا ہے۔ وہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔ “ اگر نبی کریم ﷺ بھی اللہ کے سوا کسی اور کو پکاریں تو وہ بھی معذبین میں سے ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ محال ہے اور اللہ نے سجھانے کے لئے فرض کیا ہے تو پھر اور لوگکس باغ کی مولی ہیں۔ جو لوگ رات اور دن اللہ کے سوا اور دل کو پکارتے ہیں وہ کس طرح عذاب الٰہی سے بچ سکتے ہیں۔ لہٰذا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی اوروں سے پہلے اپنے اقارب کو تنبیہ کیجئے کہ خیر خواہی میں ان کا حق مقدم ہے اور ویسے بھی آدمی کی صداقت و حقانیت اقارب کے معاملہ سے پرکھی جاتی ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں کہ " جب یہ آیت اتری۔ حضرت ﷺ نے سارے قریش کو پکار کر سنا دیا اور اپنی پھوپھی تک اور اپنی بیٹی تک اور چچا تک کہہ سنایا کہ اللہ کے ہاں اپنی فکر کرو۔ خدا کے ہاں میں تمہارا کچھ نہیں کرسکتا۔ "

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 213–214

آیت 214 وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ ” اس آیت کے بارے میں تاریخ سے ثابت ہے کہ یہ تقریباً 3 نبوی ﷺ میں نازل ہوئی تھی۔ چناچہ اس تاریخی ثبوت سے اس دعوے کی تصدیق ہوتی ہے کہ سورة الشعراء بالکل ابتدائی زمانے کی سورت ہے۔ یہ سورت اپنی چھوٹی چھوٹی آیات اور تیز آہنگ کے ساتھ شروع سے آخرتک ایک مربوط اور مسلسل خطبے کی صورت میں ہے اور یہ آیت بھی اپنے انداز کے اعتبار سے ما قبل اور مابعد کی آیات سے مختلف نہیں۔ یعنی ایسا کوئی امکان نظر نہیں آتا کہ یہ آیت تو پہلے نازل ہوئی ہو مگر بعد میں نازل ہونے والی سورت میں شامل کردی گئی ہو۔ بہر حال سورة الشعراء نازل تو ابتدائی دور میں ہوئی تھی مگر حکمت خداوندی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

127 آپ کی بعثت کے بعد تین سال تک آپ نے انتہائی خفیہ طریقہ پر دارارقم میں فریضہ تبلیغ سرانجام دیتے رہے۔ بعد میں یہ حکم نازل ہوا کہ آپ اب اپنے قریبی رشتہ داروں کو بھی کھل کر شرک سے بچنے کی دعوت دیجئے اور اس شرک کے انجام سے انھیں ڈرائیے۔ اس آیت پر آپ نے جس طرح عمل فرمایا وہ درج ذیل احادیث سے واضح ہے : حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ ~ باہر نکلے اور صفا پہاڑ پر چڑھ گئے اور آواز دینے لگے : اے فہر کی اولاد، نے عدی کی اولاد، فرض قریش کے سب خاندان کو پکارا۔ وہ جمع ہوگئے جو کوئی خود نہ آسکا اس نے اپنی طرف سے ایک آدمی بھیج دیا تاکہ یہ دیکھے کہ کیا معاملہ ہے۔ ابو لہب خود آیا اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

113۔ چناچہ آپ نے اس کی تعمیل میں اپنے عزیزوں کو بلاکر جمع کیا، اور ان پر تبلیغ کی، صحیح بخاری وغیرہ میں اس کی تفصیل موجود ہے ...... قریبی عزیزوں کے ذکر کی تخصیص اس لیے ہے تاکہ انہیں بھی معلوم ہوجائے کہ نجات بغیر پیغمبر کے اتباع کے نہیں اور آپ سے محض رشتہ داری ہرگز کافی نہیں۔ (آیت) ” خصھم لیعلموا انہ لایغنی عنھم من اللہ شیئا وان النجاۃ فی اتباعہ دون قربہ (مدارک) (آیت) ” عشیرتک الاقربین “۔ فقہاء نے کہا ہے کہ وعظ فرض کفایہ ہے۔ شروع اپنے عزیزوں قریبوں سے کرے، اور پھر جہاں تک ہوسکے پھیلاتا جائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 192–227

آیت نمبر 192 تا 227 ترجمہ : بلاشبہ یہ یعنی قرآن رب العالمین کا نازل فرمودہ ہے اس کو روح الامین یعنی جبرائیل آپ کے قلب پر لیکر اترے ہیں صاف عربی زبان میں تاکہ آپ ڈرانے والوں میں ہوجائیں اور ایک قرأۃ میں نَزَّلَ تشدید اور روح کے نصب کے ساتھ ہے اور فاعل اللہ ہے اور بلاشبہ محمد ﷺ پر نازل شدہ قرآن کی خبر پہلے لوگوں کی کتابوں مثلاً تورات و انجیل میں ہے کیا ان کے لئے قرآن کی صداقت کی یہ نشانی کافی نہیں کہ اس کو بنی اسرائیل کے علماء بھی جانتے ہیں ؟ جیسا کہ عبد اللہ بن سلام اور ان کے وہ ساتھی جو ایمان لائے، وہ اس کی حقانیت کی خبر دیتے ہیں اور یَکُنْ یا کے ساتھ اور آیۃً کے نصب کے ساتھ اور تا کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وانذر عشیرتک الاقربین۔ اور (سب سے پہلے) آپ اپنے قریب ترین کنبہ والوں کو ڈرائیے۔ یعنی سب سے پہلے اس کو جو آپ کا زیادہ قرابتدار ہو پھر اس سے کم قرابت رکھنے والے کو پھر اس سے کم قرابت دارکو کیونکہ جس کی قرابت زیادہ ہے وہ پہلے ہدایت کا مستحق ہے مزید یہ کہ اس طریقۂ ہدایت سے دوسروں کو بدگمانی کا بھی موقع نہیں مل سکتا کیونکہ عام طور پر لوگ اپنے قریب ترین عزیزوں سے چشم پوشی کیا کرتے ہیں (اور جب آپ قریب ترین عزیزوں کو بھی اللہ کے عذاب سے ڈرائیں گے تو کسی کو یہ گمان کرنے کا موقع ہی نہیں ملے گا کہ آپ اپنے عزیزوں کی طرف سے چشم پوشی کر رہے ہیں) یا اس لئے عزیز ترین قرابت داروں کو ڈرانے کا حکم دیا گیا کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 214–220

(214 تا 220) اور آپ اپنے نزدیک کے کنبہ کو ڈرائیے اور مومنین کے ساتھ مشفقانہ پیش آئیے اور اگر یہ قریش آپ کا کہنا نہ مانیں تو آپ صاف فرما دیجیے کہ میں تمہارے افعال واقوال سے بیزار ہوں اور آپ اس اللہ پر جو کہ دشمنوں کو سزا دینے پر قادر اور آپ پر اور تمام مسلمانوں پر مہربان ہے توکل رکھیے، آپ جس وقت کہ نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں اور نماز شروع کرنے کے بعد قیام رکوع و سجود میں نمازیوں کے ساتھ آپ کی نشت وبرخاست کو دیکھتا ہے یا یہ کہ جب کہ آپ اپنے آباء کی اصلاب اطہار میں رہے اس سے واقف ہے۔ وہ ان کی باتوں کو خوب سننے والا اور ان کو اور ان کے اعمال کو خوب دیکھنے والا ہے۔ شان نزول : (آیت) ”۔ واخفض جناحک…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ : اور اپنے سب سے قریب رشتہ داروں کو اللہ کے عذاب سے ڈرا کہ میری قرابت پر بھروسا نہ رکھنا۔ سب سے قریب رشتہ داروں کو ڈرانے کے حکم سے ظاہر ہے کہ جو ان کے علاوہ ہیں انھیں بالاولیٰ ڈرانا ہوگا اور جب قریب ترین رشتہ داروں کو ڈرانے میں ان کی ناپسندیدگی یا ناراضی کی پروا نہیں کی جائے گی تو دوسروں کی ناراضی یا ناپسندیدگی تو اس کے مقابلے میں معمولی بات ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس فریضہ کو اس طرح ادا کیا جیسے اس کا حق تھا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب آیت : (وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ) اتری تو رسول اللہ ﷺ صفا پہاڑ پر چڑھے اور آواز دینے لگے : (یَا بَنِيْ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 214–220

( وانذر عشیرتک الا قربین۔۔۔۔۔ ) وانذر عشیرتک الا قربین اس میں دو مسئلے ہیں : مسئلہ نمبر 1 :۔ ڈرانے میں قریبی رشتہ داروں کو خاص کیا ہے تاکہ قبیلہ اور اجنبی لوگوں کی طمع ختم ہوجائے جب ان کے شرک پر رہتے ہوئے آپ انہیں چھوڑ جائیں۔ قربی عشیرہ سے مراد قریش ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ مراد بنو عبد مناف ہیں۔ صحیح مسلم میں حدیث واقع ہے ” اپنے قریبی رشتہ داروں اور مخلص ساتھیوں کو ڈرائیں “ (1) اس کا ظاہر یہ ہے کہ یہ قرآن تھا جو تلاوت کیا جاتا تھا پھر اسے منسوخ کردیا گیا کیونکہ مصحف میں نقل ثابت نہیں اور نہ ہی یہ تواتر سے ثابت ہے اس کے ثبوت پر اشکال لازم آتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ آپ پر لازم آتا ہے کہ آپ کسی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ احمد وعبد بن حمید والبخاری ومسلم والترمذی وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی فی شعب الایمان وفی الدلائل ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت ” وانذر عشیرتک الاقربین “ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے قریش کے عام وخاص کو بلایا اور فرمایا اے قریش کی جماعت اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ میں تمہارے لیے نفع اور نقصان کا مالک نہیں ہوں اے ابن کعب بن لؤی کی جماعت اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ میں تماہرے لیے نفع اور نقصان کا مالک نہیں ہوں اے بنو قصی کی جماعت اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ میں تمہارے لیے نفع اور نقصان کا مالک نہیں ہوں۔ اے بنو عبدالمطلب اپنے آپ کو آگ سے بچاؤ میں تمہارے لیے نفع اور نقصان کو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَاَنْذِرْ [ اور آپ ﷺ خبردار کریں ] عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ [ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 214–222

شیاطین ہر جھوٹے پر نازل ہوتے ہیں، اور شعراء کے پیچھے گمراہ لوگ چلتے ہیں مشرکین کہا کرتے ہیں کہ ایک جن محمد ﷺ کو سکھاتا اور بتاتا ہے وہی باتیں آپ ہمیں بتا دیتے ہیں ان کے جواب میں فرمایا کہ (ھَلْ اُنَبِّءُکُمْ عَلٰی مَنْ تَنَزَّلُ الشَّیَاطِیْنُ ) (کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیاطین کس پر اترتے ہیں) (یُلْقُوْنَ السَّمْعَ وَاَکْثَرُھُمْ کَاذِبُوْنَ ) (جو کان لگا کر سنتے ہیں اور اکثر ان میں جھوٹ بولنے والے ہیں) یعنی ان جھوٹے لوگوں کے کانوں میں جو شیاطین باتیں ڈالتے ہیں یہ ان کی طرف خوب کان لگا کر سنتے ہیں اور شیاطین سے سن کر جو باتیں نقل کرتے ہیں ان میں بھی اکثر جھوٹ بولتے ہیں۔ رسول ﷺ کی بعثت سے پہلے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 210–223

ابطال کہانت وما تنزلت بہ الشیطین وما ینبغی لہم وما یستطیعون انہم عن السمع لمعزولون۔ گزشتہ آیات میں یہ بتلایا کہ یہ قرآن اللہ رب العالمین کا نازل فرمودہ ہے جس کو جبریل امین (علیہ السلام) لے کے آپ ﷺ کے قلب پر اترے ہیں۔ اب آگے ان لوگوں کے قول کا رد کرتے ہیں کہ جو یہ کہتے ہیں کہ یہ قرآن جن اور شیاطین کا القا ہے۔ جیسے شیاطین کاہنوں پر القا کرتے ہیں یہ بھی اسی قسم کا کلام ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں کہ اور اس قرآن کو شیاطین لے کر نہیں اترتے جو کاہنوں کے پاس آیا کرتے تھے۔ جیسا کہ مشرکین کہتے ہیں بلکہ اس قرآن کو تو جبریل امین (علیہ السلام) خدا تعالیٰ کی طرف سے لے کر آئے ہیں اور نہ شیاطین کے لئے یہ سزاوار ہے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 214–218

75:۔ اللہ تعالیٰ آپ کا حافظ و ناصر ہے جو آپ کی تمام نقل و حرکت کو دیکھات ہے ” حین تقوم “ جب آپ نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔ ” وتقلبک فی السجدین “ اور جب صحابہ کو نماز پڑھاتے ہیں اس وقت ایک حالت نماز سے دوسری حالت میں آپ کے تقلب کو بھی جانتا ہے یعنی قیام، رکوع، سجود اور قعود وغیرہ حالات میں۔ (حین تقوم) ای الی الصلوۃ (و تقلبک) ای ویری سبحانہ تعیرک من حال کالجلوس والسجود والی اخر کالقیام (فی السجدین) ای فیما بین المصلین اذا اممتھم (روح ج 19 ص 137) ۔ یا مطلب یہ ہے کہ جب آپ نماز تہجد کے لیے اٹھتے ہیں اس وقت بھی وہ آپ کو دیکھتا ہے ” وتقلبک فی السجدین “ اور نماز تہجد پڑھنے والوں میں آپ کے چلنے پھرنے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 210–223

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر کیا تھا اور اس کا اجمالی تعارف کرایا تھا۔ اس عظیم کتاب کو جبرائیل میں نے پروردگار عالم کے حکم سے نازل کیا ۔ یہ کلام الٰہی پیغمبر کے قلب مبارک پر نہایت فصیح وبلیغ عربی زبان میں اتارا گیا ۔ اس کے نزول کا مقصد یہ بیان کیا گیا کہ اللہ کے نبی اس کے ذریعے لوگوں کو ان کے آخرت کے برے انجام سے ڈرا دیں ۔ یہ وہی کتاب ہے جس کے مضامین اور پیشن گوئیاں سابقہ کتب میں بھی موجود تھیں ۔ ان حقائق کے باوجود جو شخص اس قرآن کا انکار کرتا وہ کافر اور گمراہ تصور ہوگا ۔ قرآن کے منکرین میں سے بعض اسے سحرے تعبیر کرتے ہیں ۔ جب کہ بعض دوسرے اسے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ۝ 214ۙ عَشِيرَةُ : أهل الرجل الذین يتكثّر بهم . أي : يصيرون له بمنزلة العدد الکامل، وذلک أنّ العَشَرَةَ هو العدد الکامل . قال تعالی: وَأَزْواجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ [ التوبة/ 24] ، فصار العَشِيرَةُ اسما لكلّ جماعة من أقارب الرجل الذین يتكثّر بهم . وَعاشَرْتُهُ : صرت له كَعَشَرَةٍ في المصاهرة، وَعاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ [ النساء/ 19] . والعَشِيرُ : المُعَاشِرُ قریبا کان أو معارف . العشیرۃ انسان کے باپ کی طرف سی قریبی رشتہ دار پر مشتمل جماعت کیونکہ ان سے انسان کژرت عدد حاصل کرتا ہے گویا وہ اس کے لئے بمنزلہ عدد کامل کے ہیں کیونکہ عشرۃ کا عدد ہی کامل ہوتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 211–219

تقلب فی الساجدین کے معنی : تقلب اٹھنا بیٹھنا بھی ہے کبھی رکوع کرتے ہو ‘ کبھی قیام ‘ کبھی سجود ‘ سب کو خدا دیکھتا ہے مقاتل ؓ کہتے ہیں کہ حین تقوم سے مراد تنہا نماز کے لیے اٹھنا اور تقلب سے مراد جماعت میں نماز پڑھنا ہے ابن عباس ؓ کہتے ہیں ساجدین سے مراد مصلین ہے، مجاہد کہتے ہیں تقلبک سے مراد آنحضرت ﷺ کا نماز میں پیچھے سے نمازیوں کو دیکھنا ای تقلب بصرک فی المصلین کیونکہ موطا میں امام مالک نے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں پیچھے سے بھی دیکھا کرتا ہوں مجھ پر تمہارا رکوع اور خشوع مخفی نہیں۔ امام رازی تفسیر کبیر میں فرماتے ہیں کہ شیعہ نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے آباء مومنین تھے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 214–215

وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَـکَ الْاَقْرَبِیْنَ ۔ وَاخْفِضْ جَنَاحَکَ لِمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (الشعرآء : 214، 215) (اور اپنے قریبی خاندان والوں کو ڈرائو۔ اور ایمان لانے والوں میں سے جو لوگ آپ کی پیروی اختیار کریں ان کے لیے اپنی شفقت کے بازو جھکائے رکھیں۔ ) قریبی خاندان کو انذار کا حکم کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں سب برابر ہیں اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور وحدانیت کی عظمت و اہمیت کی وجہ سے اس سے پہلی آیت میں ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا، یہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت کیخلاف بغاوت ہے جس کا ارتکاب کوئی بڑی سے بڑی شخصیت بھی کرے تو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ نہیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 211–214

فہم القرآن ربط کلام : نبی اکرم ﷺ کو حکم ہوا کہ وہ اپنے عزیز و اقرباء کو توحید کی دعوت دیں، اور شرک سے ڈرائیں۔ نبوت کا پہلا کام اور پیغام لوگوں کو اللہ کی خالص عبادت کرنے کی دعوت دینا ہے۔ دعوت کا فطری اور صحیح طریقہ ہے کہ داعی عقیدہ توحید پر ایمان رکھتے ہوئے سب سے پہلے اپنے عزیز و اقرباء کو عقیدہ توحید کی دعوت دے اور جو اس دعوت کو قبول کرے ان کے ساتھ شفقت اور محبت کے ساتھ پیش آئے۔ اس حکم کی اتباع میں آپ ﷺ نے اپنے عزیز و اقرباء کو بار بار اس بات کی دعوت دی اور جو لوگ آپ پر ایمان لائے ان سے آپ خصوصی طور پر شفقت و مہربانی فرمایا کرتے تھے۔ آپ کی شفقت و مہربانی کی قرآن مجید نے اس طرح ترجمانی فرمائی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

اقرب کو خاص کرنے کی وجہ : 214: وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ (اور آپ اپنے قریب ترین کنبہ والوں کو ڈرائیں۔ ) قریبی خاندان کو خاص کیا تاکہ آپ سے اس تہمت کی نفی کردی جائے عموماً انسان اپنے قرابت والوں کے متعلق چشم پوشی سے کام لیتا ہے۔ نمبر 2۔ تاکہ رشتہ داروں کو معلوم ہو کہ نجات آپ کی اتباع و پیروی میں ہے قرابت میں نہیں۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ نے صفا پر چڑھ کر اپنے اقرباء کو آواز دی ! یا بنی عبد المطلب یا بنی ہاشم یا بنی عبد مناف۔ اے پیغمبر کے چچا عباس، اے رسول اللہ کی پھوپھی صفیہ میں تمہارے لئے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے چھڑانے کے کچھ کام نہ آئونگا۔ ( احمد، مسلم، ترمذی، نسانی)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

214۔ وانذر عشیرتک الاقربین۔ اور (سب سے پہلے) آپ اپنے قریب ترین کنبہ والوں کو ڈرائیے۔ وانذر عشیرتک الاقربین کی تفسیر۔ یعنی سب سے پہلے اس کو جو آپ کا زیادہ قرابت دار ہو۔ پھر اس سے کم قرابت رکھنے والے کو پھر اس سے کم قرابت دار کو کیونکہ جس کی قرابت زیاد ہ ہے وہ پہلے ہدایت کا مستحق ہے مزید یہ کہ اس طریقہ ہدایت سے دوسروں کو بدگمانی کا بھی موقع نہیں مل سکتا کیونکہ عام طور پر لوگ اپنے قریب ترین عزیزوں سے چشم پوشی کیا کرتے تھے۔ (اور جب آپ قریب ترین عزیزوں کو بھی اللہ کے عذاب سے ڈائیں گے تو کسی کو یہ گمان کرنے کا موقع ہی نہیں ملے گا، کہ آپ اپنے عزیزوں کی طرف چشم پوشی کررہے ہیں) یا اس لیے عزیز ترین…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

(214) موضح القرآن میں جو ذکر ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو آنحضرت ﷺ نے اپنے کنبے والوں کو نام لے لے کر خاص طور سے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا اور قریش کو ایک قبیلہ کا نام لے کر ڈرایا یہ روایت صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے آئی ہے 1 ؎ اور بعضے مفسروں نے اس روایت پر یہ اعتراض کیا ہے کہ صفا پہاڑ پر چڑھ کر آنحضرت ﷺ کے عذاب الٰہی سے ڈرانے کا قصہ ہجرت سے پہلے مکہ کا ایک قصہ ہے اور حضرت ابوہریرہ ؓ ہجرت کے بعد مدینہ میں اسلام لائے ہیں اسی طرح عبد اللہ بن عباس ؓ کو ہجرت کے بعد روایت کرنے کے قابل ہوش آیا ہے ہجرت سے پہلے وہ بالکل بچے تھے پھر یہ مکہ کے قصہ کی روایت حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 213–216

آیت 213 سے 216 اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو اصلا اور آپ کی امت کو تبعاً غیر اللہ یعنی تمام مخلوق کو پکارنے سے روکتا ہے۔ اس لئے کہ غیر اللہ کو پکار نا عذاب دائمی اور عقوبت سرمدی کا موجب ہے کیونکہ یہ شرک ہے جیسا کہ فرمایا : (من یشرک باللہ فقد حرم اللہ علیہ الجنۃ وماوءۃ النار) (المائدۃ : 5/72) “ جو کوئی اللہ کے ساتھ شرک کرے گا اللہ اس پر جنت کو حرام کردے گا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہوگا۔ “ کسی کام سے روکنا دراصل اس کے مخالف کام کے کرے کا حکم ہوتا ہے۔ اس لئے شرک سے روکنا درحقیقت عبادت میں اللہ تعالیٰ کے لئے اخلاص، اسی کے لئے محبت، اسی سے خوف، اسی سے امید، صرف اسی کے سامنے اظہار تذلل اور ہر وقت صرف اسی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 192–223

قول باری ہے : (وانہ لتنزیل رب العالمین۔ اور یہ رب العالمین کی نازل کردہ چیز ہے۔ ) تا قول باری (وانہ لفی زبر الاولین۔ اور اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی یہ موجود ہے۔ ) اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے بارے میں بتادیا کہ رب العالمین کی نازل کردہ ہے اور پھر یہ خبر دی کہ یہ اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی موجود ہے۔ اب یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ قرآن اگلے لوگوں کی کتابوں میں عربی زبان کے اندر موجود نہیں تھا۔ اس سے یہ استدلال کیا جاسکتا ہے کہ قرآن کو کسی اور زبان میں منتقل کرنے سے اس کی قرآنیت ختم نہیں ہوتی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے علی الاطلاق یہ فرمادیا کہ قرآن اگلے لوگوں کی کتابوں میں موجود تھا حالانکہ ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

111 اپنے قریبی رشتہ داروں کے انذار کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا " اور خبردار کرو اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو "۔ یعنی اس دعوت حق کا آغاز سب سے پہلے اپنے گھرانے سے کرو تاکہ یہ امر دوسروں کے لئے نمونہ اور درس ہو۔ چناچہ صحیح حدیث کے مطابق اس حکم کے بعد آنحضرت ﷺ نے سب کو ایک ایک کر کے پکارا اور خبردار فرمایا۔ چناچہ آپ ﷺ نے فرمایا " اے قریش والو، بچاؤ اپنے آپ کو اللہ پاک کے عذاب سے۔ میں تمہارے کچھ کام نہیں آسکوں گا۔ اے عبد مناف کی اولاد، اے عباس بن عبد المطلب، اے اللہ کے رسول کی پھوپھی صفیہ، اپنے آپ کو اللہ کے عذاب سے بچانے کی فکر کرو، میں تمہارے کچھ بھی کام نہیں آسکوں گا "۔ یہاں تک کہ اپنی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 192–227

قرآن کا عربی میں نزول اور عربی زبان کے گمراہ شعراء کا رد تشریح : قرآن کی حقانیت ‘ افادیت اور حفاظت کا ذکر ہوچکا اور یہ بھی کہ یہ عربی زبان میں ہی کیوں اترا ؟ اس کے بارے میں مزید یہ کہ جہاں عربوں میں بہت سی برائیاں تھیں کچھ اچھائیاں بھی تھیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اپنی زبان ” عربی “ کی بےحد حفاظت کرتے تھے۔ اسی لیے عربی زبان بےحد وسیع ‘ جامع اور غیر متبدل (تبدیل نہ ہونے والی) زبان ہے۔ جبکہ باقی تمام زبانیں اپنی اصل سے بہت زیادہ ہٹ چکی ہیں۔ نبی اکرم ﷺ کو صاف طور پر احکامات سنائے گئے ہیں اور ان کو اللہ کی ذات جو کہ بےحد مہربان ہے پر پورا بھروسہ رکھنے اور نیکی پر ڈٹے رہنے کی ترغیب دی گئی ہے۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 192–227

آیات نمبر 192 تا 227: اسرار و معارف اسی طرح انسانیت کی ہدایت کے لیے پروردگار عالمین نے یہ قرآن اتارا ہے جسے نہایت ایماندار فرشتہ لے کر نازل ہوا ایسا کوئی احتمال نہیں کہ دورانِ نزول کوئی کمی بیشی ہوئی ہو پھر اس کا نزول آپ ﷺ قلب اطہر پہ ہوا کہ مضامین عقل محض تعمیر و اصلاح بدن کے لیے ہوتے ہیں جو کفار اور بدکاروں کی عقول میں بھی آتے ہیں اور انہیں کے بل پر وہ مادی مشینیں ایجاد کرتے ہیں تجارت کاروبار اور عالمی سیاست چلاتے ہیں مگر اس کتاب کے مضامین تو قلب میں وارد ہوئے جو کافر یا بدکار کو نصیب نہیں کہ اس کا قلب تو مردہ ہوتا ہے نیز اس میں صرف دنیا کے کمالات نہیں بلکہ امور دنیا میں اللہ کی معرفت و…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

7 ۔ تاکہ یہ لوگ اپنے نسب و قرابت کی وجہ سے کسی قسم کی غلط فہمی میں مبتلا نہ رہیں۔ چناچہ جب یہ آیت اتری تو آپ ﷺ نے قریش کو بلایا اور ان کے ایک ایک قبیلہ کا نام لے کر ڈرایا۔ (بخاری، روایت ابوہریرہ ؓ ، ابن عباس ؓ اور آخر میں فرمایا : الا ان لکم رحما و سابلحا سلالھا ہاں تمہارا مجھ سے قریبی رشتہ ہے جس کا میں دنیا میں خیال رکھوں گا مگر یہ نہیں ہوسکتا کہ تم دنیا میں شرک کرتے رہو اور میں آخرت کی آگ سے بچا لوں۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(26:214) انذر فعل امر۔ واحد مذکر حاضر۔ انذر افعال سے۔ تو ڈرا تو ڈر سنا۔ عشیرتک۔ مضاف مضاف الیہ تیری برادری۔ تیرا قبیلہ۔ تیرا کنبہ ۔ تیرے رشتہ دار۔ اس لفظ کے ماخذ میں اختلاف ہے۔ بعض اس کا ماخذ عشرۃ بناتے ہیں جس کے معنی معاشرت باہمی میل جول کے ہیں۔ یہی ان لوگوں کا نمایاں وصف ہے (بہادری، قبیلہ، کینہ وغیرہ) ۔ یا یہ عشرۃ سے ماخوذ ہے کیونکہ یہی عدد ہی کامل ہوتا ہے گویا وہ انسان کے لئے بمنزلہ عدد کامل کے ہیں بعنی مکمل ہونے میں عدد کامل کی مانند ہیں۔ الا قربین۔ قریبی۔ قرابت والے۔ قریب کے رشتہ دار۔ یہ عشیرتک کی صفت ہے۔ اپنی برادری کے قریبی رشتہ دار۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 214–227

لغات القرآن : آیت نمبر 214 تا 227 : عشیرۃ (قبیلہ۔ خاندان۔ رشتہ دار) اخفض (جھکا دے۔ عاجزی اور تواضع کر) جناح (بازو۔ پر) ‘ بری ئ (بیزار ۔ نفرت) ‘ توکل (بھروسہ کر) تقلب (الٹنا پلٹنا۔ اٹھنا بیٹھنا) ‘ افاک (بہتان و الزام لگانے والا) ‘ اثیم (گناہ کرنے والا۔ گناہ گار) ‘ الغاون (گمراہ لوگ) ‘ یھیمون (وہ گھومتے ہیں) ‘ انتصروا (انہوں نے بدلہ لیا) ‘ ای (کونسا) ‘ منقلب (لوٹنے والا) ‘ ینقلبون (وہ لوٹ کرجاتے ہیں) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 214 تا 227 : نبی کریم خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ کے محبوب پیغمبر اور معصوم ہیں جن کی طرف کسی گناہ ‘ خطا یا شرک کا تصور کرنا بھی گناہ ہے۔ آپ کی سیرت و کردار اور قول و…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 214–223

(ف 2) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے محبوب ﷺ اپنے نزدیکی قرابت داروں کو بھی ڈراؤ چناچہ نبی ﷺ نے قریب کے رشتہ دار بنی ہاشم اور بنی مطلب کو علی الاعلان ڈرایاجیسا کہ بخاری ومسلم میں وارد ہے آگے فرمایا کہ اے محبوب جو ایمان والے تمہارے تابع ہیں ان کے لیے اپنی رحمت کا بازو بچھائے رکھو، یعنی شفقت سے پیش آیا کرو اور جو تمہاری نافرمانی کریں تو فرمادو کہ میں تمہارے افعال سے بری الذمہ ہون اور خدائے زبردست مہربان پر بھروسہ رکھو جو تم کو دیکھتا ہے نماز تہجد میں تم جس وقت اٹھتے ہو اور جب تم صحابہ کے ساتھ فرض نماز پڑھتے ہو تو اس نماز کا رکوع و سجود دیکھتا ہے بیشک آپ کا رب خوب سننے والا اور جاننے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 214–218

[36] اٹھنے سے مراد نماز کے لئے بھی اٹھنا ہوسکتا ہے اور تبلیغ رسالت کے لئے اٹھنا بھی۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(214) اور آپ پہلے اپنے رشتہ داروں کو ڈرائیے یعنی تبلیغ و رسالت اور ڈرانے کا کام رشتہ داروں اور قرابت داروں سے شروع کیجئے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جب یہ آیت اتری تو حضرت نے سارے قریش کو سنادیا اور اپنی پھوھی اور اپنی بیٹی اور چچا تک کو سنادیا کہ اللہ کے ہاں اپنا فکر کرو خدا کے ہاں میں تمہارا کچھ نہیں کرسکتا 12

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 8۔ چناچہ آپ نے سب کو پکار کر جمع کیا اور شرک پر عذاب الہی سے ڈرایا، جیسا حدیثوں میں ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے پیغمبر اسلام ! ﷺ اپنے قریبی رشتہ داروں کو بھی ڈرائیں کہ وہ شرک سے باز آئیں : 214۔ نبی اعظم وآخر ﷺ کو حکم دیا جا رہا ہے کہ اپنے اہل خاندان کو بھی ہوشیار کردیں کیونکہ وہ آپ ﷺ کے عزیز و اقارب ہیں اس لئے وہ آپ ﷺ کی خیر خواہی کے زیادہ مستحق ہیں ، یہ حکم ملا تو نبی اعظم وآخر ﷺ نے کوہ صفا پر چڑھ کر پکارا یا معشر القریش اور پھر قریش کے سارے قبائل کے الگ الگ نام بھی آپ ﷺ نے لئے کہ یا بنی فہر ‘ یا بنی عدی ‘ یا بنی ہاشم وغیرہ گویا جتنے قریش کے قبائل تھے ان سب کا نام آپ ﷺ نے لیا یہاں تک کہ سب کے سب جمع ہوگئے تو آپ ﷺ نے ان کو مخاطب کرکے ایک سوال کیا کہ اگر میں تم سے یہ کہوں کہ پہاڑ کے عقب سے ایک لشکر آ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 214–223

وَأَنذِرْ‌ عَشِيرَ‌تَكَ الْأَقْرَ‌بِينَ ﴿214﴾ And warn the nearest people of your clan, -26:214. ` Ashirah'o, عَشِيرَ‌ۃ means clan and by limiting it with 'aqrabin (the nearest people) it is used for close relatives. It is worth noting here that the mission of the Holy Prophet ﷺ as a messenger is universal to the whole Ummah, then what is the wisdom in making it special for the members of the clan? But if we look at it rather closely, we will notice in it an easy and effective way for preaching, which would have far-reaching effect. One's own family members having the privilege of closeness…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

135 Just as there could be no concession or favour for the person of the Prophet in a matter concerning Allah's religion, so there could be no question of a favour being shown to the Prophet's family or his nearest kinsfolk. Here the case of everybody will be judged on merit, and nobody will be shown any favour on account of his ancestry or relation with somebody else. The accountability of the Hereafter and punishment for deviation and misdeeds are the same for everybody and even the Prophet's nearest kinsfolk are no exception. Therefore, the Holy Prophet was commanded to warn his relatives…

Read the full tafseer →