Explained with ayahs 213–220
مستحق سزا لوگوں سے الگ ہوجاؤ
خود اپنے نبی ﷺ سے خطاب کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ صرف میری ہی عبادت کر۔ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کر جو بھی ایسا کرے گا وہ ضرور مستحق سزا ہے۔ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ہوشیار کردے کہ بجز ایمان کے کوئی چیز نجات دہندہ نہیں۔ پھر حکم دیتا ہے کہ موحد متبع سنت لوگوں سے فروتنی کے ساتھ ملتا جلتا رہ۔ اور جو بھی میرے حکم نہ مانے خواہ کوئی ہو تو اس سے بےتعلق ہوجا۔ اور اپنی بیزاری کا اظہار کردے۔ یہ خاص طور کی خاص لوگوں کی تنبیہہ عام لوگوں کی تنبیہہ کے منافی نہیں کیونکہ یہ اس کا جز ہے۔ اور جگہ ارشاد ہے تو اس قوم کو ڈرادے جن کے بڑے بھی ڈرائے نہیں گئے اور جو غفلت میں پڑے ہوئے…
Read the full tafseer →سورة الشُّعَرَآء 134
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ معاذ اللہ نبی ﷺ سے شرک کا کوئی خطرہ تھا اور اس بنا پر آپ کو دھمکا کر اس سے روکا گیا۔ دراصل اس سے مقصود کفار و مشرکین کو متنبہ کرنا ہے۔ کلام کا مدعا یہ ہے کہ قرآن مجید میں جو تعلیم پیش کی جا رہی ہے یہ چونکہ خالص حق ہے فرمانروائے کائنات کی طرف سے، اور اس میں شیطانی آلائشوں کا ذرہ برابر بھی دخل نہیں ہے، اس لیے یہاں حق کے معاملے میں کسی کے ساتھ رو رعایت کا کوئی کام نہیں۔ خدا کو سب سے بڑھ کر اپنی مخلوق میں کوئی عزیز و محبوب ہوسکتا ہے تو وہ اس کا رسول پاک ہے۔ لیکن بالفرض اگر وہ بھی بندگی کی راہ سے بال برابر ہٹ جائے اور خدائے واحد کے سوا کسی اور کو معبود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 205–213
اَفَرَءَيْتَ اِنْ مَّتَّعْنٰهُمْ سِـنِيْنَ ، اس آیت میں اشارہ ہے کہ دنیا میں کسی کو عمر دراز ملنا بھی اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے لیکن جو لوگ اس نعمت کی ناشکری کریں ایمان نہ لائیں ان کو عمر دراز کی عافیت و مہلت کچھ کام نہ آئے گی۔ امام زہری نے نقل فرمایا ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز روز صبح کو اپنی داڑھی پکڑ کر اپنے نفس کو خطاب کر کے یہ آیت پڑھا کرتے تھے اَفَرَءَيْتَ اِنْ مَّتَّعْنٰهُمْ الآیتہ اس کے بعد ان پر گریہ طاری ہوجاتا اور یہ اشعار پڑھتے تھے، نھارک یا مغرور سھود غفلۃ، ولیلک نوم والروی لک لازم۔ فلا انت فی الایقاظ یقظان حازم، ولا انت فی النوم ناج وسالم۔ وتسعی الی ماسوف تکرہ غبہ، کذلک فی…
Read the full tafseer →چند آیات التفات
یہ اور آگے کی چند آیات آنحضرت ﷺ کی طرف التفات کی نوعیت کی ہیں۔ خطاب اگرچہ آنحضرت ﷺ کی طرف ہے لیکن اس میں جو عتاب ہے اس کا رخ مکذبین و منکرین کی طرف ہے۔ فرمایا کہ اصل حقیقت یہ ہے جو تم پر ظاہر کردی گئی ہے تو تم بہر حال اللہ واحد کے ساتھ کسی اور معبود کو شریک نہ کرو بلکہ ان لوگوں کی تمام مخالفت کے علی الرغم اپنے موقف حق پر جمے رہو کہ اس عذاب سے محفوظ رہو جو ان مکذبین پر آیا چاہتا ہے۔
قریبی خاندان کو انذار کا حکم
Read the full tafseer →Explained with ayahs 213–214
214-1پیغمبر کی دعوت صرف رشتہ داروں کے لئے نہیں، بلکہ پوری قوم کے لئے ہوتی ہے اور نبی ﷺ تو پوری نسل انسانی کے لئے ہادی اور رہبر بن کر آئے تھے۔ قریبی رشتہ داروں کو دعوت ایمان، دعوت عام کے منافی نہیں، بلکہ اسی کا ایک حصہ یا اس کا ترجیحی پہلو ہے۔ جس طرح حضرت ابراہیم ؑ نے بھی سب سے پہلے اپنے باپ آزر کو توحید کی دعوت دی تھی۔ اس حکم کے بعد نبی ﷺ صفا پہاڑی پر چڑھ گئے اور یَا صَبَاحَا کہہ کر آواز دی۔ یہ کلمہ اس وقت بولا جاتا ہے جب دشمن اچانک حملہ کر دے، اس کے ذریعہ سے قوم کو خبردار کیا جاتا ہے۔ یہ کلمہ سن کر لوگ جمع ہوگئے، آپ نے قریش کے مختلف قبیلوں کے نام لے لے کر فرمایا، بتلاؤ اگر میں تمہیں یہ کہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 210–213
49: یہاں سے چند ان باتوں کی تردید کی جا رہی ہے جو کفار مکہ قرآن کریم کے بارے میں کہا کرتے تھے۔ بنیادی طور پر ان کے دو دعوے تھے، بعض لوگوں کا کہنا تھا کہ معاذ اللہ آنحضرت ﷺ کاہن ہیں اور بعض لوگ آپ کو شاعر کہہ کر قرآن کریم کو شاعری کی کتاب قرار دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آیات میں ان دونوں باتوں کی تردید فرمائی ہے۔ ”کاہن“ ان لوگوں کو کہا جاتا تھا جن کا دعویٰ یہ تھا کہ جنات ان کے قبضے میں ہیں جو انہیں غیب کی خبریں لا کردیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں کاہنوں کی ٰیہ حقیقت بیان فرمائی ہے کہ جو جنات ان کے پاس آتے ہیں، وہ در اصل شیاطین ہیں۔ اور قرآن کریم کے مضامین ایسے ہیں کہ شیاطین کو کبھی پسند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 210–213
وما تنزلت ……لمعزولون (204)
اس سے قبل قرآن کریم کے بارے میں کہا گیا تھا کہ یہ رب العالمین کی طرف سے ہے اور اسے روح الامین لے کر آتے ہیں اور اس کے بعد بات آگے نکل گئی کہ یہ لوگ تکذیب پر تل گئے ہیں اور اپنی نادانی سے عذاب کے آنے میں شتابی کر رہے ہیں۔ لیکن قرآن کے بارے میں وہ یہ الزام بھی لگاتے تھے کہ یہ شیاطین کی طرف سیالقائہوتا ہے۔ جس طرح کاہنوں پر شیاطین کچھ کلمات القا کرتے ہیں جن میں بعض خبریں غیب کی ہوتی ہیں اور جن کی وجہ سے وہ کہانت کی دکان چمکاتے ہیں۔
لیکن یہاں اس کی تردید کی جاتی ہے کہ ہر مذہب و ملت جانتی ہے کہ شیطان کا کیا کام ہوتا ہے جبکہ قرآن تو اصلاح اور ہدایت کا کام کرتا ہے اور شیطان…
Read the full tafseer →4 یہ فرمایا رسول کو اور سنایا اوروں کو یعنی جب یہ کتاب بلاشک وشبہ خدا کی اتاری ہوئی ہے، شیطان کا اس میں ذرہ بھر دخل نہیں تو چاہیے کہ اس کی تعلیم پر چلو جس میں اصل اصول توحید ہے۔ شرک و کفر اور تکذیب کی شیطانی راہ اختیار مت کرو۔ ورنہ عذاب الٰہی سے رستگاری کی کوئی سبیل نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 213–214
آیت 214 وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ ”
اس آیت کے بارے میں تاریخ سے ثابت ہے کہ یہ تقریباً 3 نبوی ﷺ میں نازل ہوئی تھی۔ چناچہ اس تاریخی ثبوت سے اس دعوے کی تصدیق ہوتی ہے کہ سورة الشعراء بالکل ابتدائی زمانے کی سورت ہے۔ یہ سورت اپنی چھوٹی چھوٹی آیات اور تیز آہنگ کے ساتھ شروع سے آخرتک ایک مربوط اور مسلسل خطبے کی صورت میں ہے اور یہ آیت بھی اپنے انداز کے اعتبار سے ما قبل اور مابعد کی آیات سے مختلف نہیں۔ یعنی ایسا کوئی امکان نظر نہیں آتا کہ یہ آیت تو پہلے نازل ہوئی ہو مگر بعد میں نازل ہونے والی سورت میں شامل کردی گئی ہو۔ بہر حال سورة الشعراء نازل تو ابتدائی دور میں ہوئی تھی مگر حکمت خداوندی…
Read the full tafseer →126 اس میں مخاطب رسول اللہ ﷺ ہیں۔ جو توحید کی طرف دعوت دینے والے اور شرک کے دشمن ہیں۔ اور آپ سے شرک کا صدور ناممکن ہے۔ اور انداز خطاب دراصل اس حکم میں تاکید مزید کے لئے اختیار کیا گیا ہے۔ یعنی آپ ~ جو سب سے افضل و اشرف ہیں اگر آپ بھی شرک کریں تو اللہ کے عذاب سے بچ نہیں سکتے تو دوسروں کا کیا حال ہوگا۔ دراصل مشرکین مکہ پر شرک کی شدید قباحت کی وضاحت کے لئے یہ انداز اختیار کیا گیا ہے فی الحقیقت اس آیت کے مخاطب وہی لوگ ہیں جو اپنی حاجت براری اور مشکل کشائی کے لئے دوسروں کو پکارتے ہیں۔
Read the full tafseer →112۔ یہ صیغہ حاضر کمال تخویف اور انتہائی اہمیت کے اظہار کے لیے ہے، ورنہ ظاہر ہے کہ پیغمبر کو شرک سے مناسبت ہی کیا ہوسکتی ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس آیت سے ظاہر ہے کہ ولی سے کسی حال میں بھی تکلیف شرعی ساقط نہیں ہوسکتی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–227
آیت نمبر 192 تا 227
ترجمہ : بلاشبہ یہ یعنی قرآن رب العالمین کا نازل فرمودہ ہے اس کو روح الامین یعنی جبرائیل آپ کے قلب پر لیکر اترے ہیں صاف عربی زبان میں تاکہ آپ ڈرانے والوں میں ہوجائیں اور ایک قرأۃ میں نَزَّلَ تشدید اور روح کے نصب کے ساتھ ہے اور فاعل اللہ ہے اور بلاشبہ محمد ﷺ پر نازل شدہ قرآن کی خبر پہلے لوگوں کی کتابوں مثلاً تورات و انجیل میں ہے کیا ان کے لئے قرآن کی صداقت کی یہ نشانی کافی نہیں کہ اس کو بنی اسرائیل کے علماء بھی جانتے ہیں ؟ جیسا کہ عبد اللہ بن سلام اور ان کے وہ ساتھی جو ایمان لائے، وہ اس کی حقانیت کی خبر دیتے ہیں اور یَکُنْ یا کے ساتھ اور آیۃً کے نصب کے ساتھ اور تا کے ساتھ…
Read the full tafseer →فلا تدع مع اللہ الہا اخر فتکون من المعذبین۔ سو اللہ کی موجودگی میں تم کسی اور معبود کو نہ پکارو کہیں تم بھی ان ہی لوگوں میں سے ہوجاؤ جن کو عذاب دیا جائے گا۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا (بظاہر خطاب رسول اللہ ﷺ : کو ہے لیکن حقیقت میں) اس سے دوسروں کو ڈرانا مقصود ہے گویا یوں فرمایا کہ آپ تمام مخلوق میں میرے نزدیک زیادہ معزز ہیں لیکن اگر آپ بھی میرے سوا دوسرے کو معبود بنائیں گے تو آپ کو بھی عذاب دوں گا۔
Read the full tafseer →(213) اور تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان بتوں وغیرہ میں سے کسی اور معبود کی عبادت مت کرنا کہیں تمہیں دوزخ کی سزا ہونے لگے۔
Read the full tafseer →فَلَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰـهًا اٰخَرَ۔۔ : قرآن کے حق اور منزل من اللہ ہونے کے بیان کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو ایک اللہ کو پکارنے اور اس کے سوا کسی کو بھی نہ پکارنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ اگر کسی اور کو پکارو گے تو عذاب دیے جانے والوں میں سے ہوجاؤ گے۔ یہ خطاب اگرچہ رسول اللہ ﷺ کو ہے، مگر اصل مقصود کفار و مشرکین کو متنبہ کرنا ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے تو نہ شرک کیا نہ کرنا تھا، آپ ﷺ کو اس لیے مخاطب کیا کہ سب لوگ آگاہ ہوجائیں کہ شرک اتنا بڑا گناہ ہے کہ بالفرض رسول سے سرزد ہوجائے تو اسے بھی عذاب ہوگا، پھر دوسرے لوگوں کا کیا حال ہوگا ؟ جیسا کہ فرمایا : (وَلَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 210–213
(وما تنزلت بہ الشطین۔۔۔۔۔۔۔۔۔ )
وما تنزلت بہ الشطین ہ ضمیر سے مراد قرآن ہے بلکہ اسے روح الامین نے نازل کیا ہے۔
وما یبغی لھم وما یبطیعون۔ انھم عن السمع المعزولون جس طرح سورة حجر میں بیان کیا گیا ہے انہیں شہابچے مار کر سننے سے روک دیا گیا ہے۔ حضرت حسن بصری اور محمد بن سمیقع اسے وما تنزلت بہ الشیاطون پڑھا کرتے۔ مہدوی نے کہا : یہ لغت عرب میں جائز نہیں اور خط کے مخالف ہے۔ نحاس نے کہا : یہ تمام نحویوں کے نزدیک غلط ہے۔ میں نے علی بن سلیمان کو کہتے ہوئے سنا، وہ کہتے میں نے محمد بن زیاد کو کہتے ہوئے سنا : یہ علماء کے نزدیک غلط ہے یہ شبہ کے داخل ہونے کی وجہ سے ہوا جب حضرت حسن بصری نے اس کے آخری میں یاء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–213
1۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وانہ لتنزیل رب العالمین “ سے مراد ہے یہ قرآن ” نزل بہ الروح الامین “ سے مراد ہے جبرئیل علیہ السلام۔
2۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” نزل بہ الروح الامین “ میں الروح الامین سے مراد ہے جبرئیل (علیہ السلام) میں نے دیکھا کہ اس کے چھو پر ہیں موتیوں سے انہوں نے پھیلادیا تو وہ مور کے پروں کی طرح تھے۔
3۔ ابن مردویہ نے سعد ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا اس وقت روح امین یعنی جبرئیل (علیہ السلام) نے میرے دل میں یہ بات پھونک دی کہ ہرگز کوئی نفس نہیں مرے گا یہاں تک کہ اپنے رزق کو پورا نہ کرے اگرچہ وہ اس…
Read the full tafseer →فَلَا تَدْعُ [ پس آپ ﷺ مت پکاریں ] مَعَ اللّٰهِ [ اللہ کے ساتھ ] اِلٰـهًا اٰخَرَ [ کسی دوسرے الہ کو ] فَتَكُوْنَ [ ورنہ آپ ﷺ ہوجائیں گے ] مِنَ الْمُعَذَّبِيْنَ [ عذاب دئیے ہوئوں میں سے ]
نوٹ۔ 1: آیت۔ 213 ۔ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ معاذ اللہ نبی ﷺ سے شرک کا کوئی خطرہ تھا اور اس بنا پر آپ ﷺ کو اس سے روکا گیا۔ دراصل اس سے مقصود کفار و مشرکین کو وارننگ دینا ہے۔ کلام کا مدعا یہ ہے کہ حق کے معاملہ میں کسی کے ساتھ رو رعایت کا کوئی کام نہیں۔ خدا کو سب سے بڑھ کر اپنی مخلوق میں کوئی عزیز و محبوب ہوسکتا ہے تو وہ اس کا رسول پاک ہے۔ لیکن بالفرض وہ بھی بندگی کی راہ سے ہٹ جائے اور خدائے واحد کے سوا کسی اور کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 211–213
رسول اللہ ﷺ کو مومنین کے ساتھ تواضع سے پیش آنے اور عزیز و رحیم پر تو کل کرنے کا حکم
ان آیات میں اولاً یہ فرمایا کہ اللہ کے علاوہ کسی کو معبود نہ بنائیں ایسا کریں گے تو عذاب میں مبتلا ہوں گے بظاہر یہ خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے اور حقیقت میں پوری امت کو خطاب ہے کیونکہ آپ سے شرک اور کفر صادر ہونے کا احتمال ہی نہیں، لیکن آپ کو خطاب کرکے یہ بتادیا کہ جب غیر اللہ کی عبادت کرنے سے آپ کے لیے یہ حکم ہے تو دوسرے لوگ شرک کرنے سے کیونکر معذب نہ ہوں گے۔
ثانیاً آنحضرت ﷺ کو حکم دیا کہ آپ اپنے قریب ترین خاندان کے لوگوں کو ڈرائیے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب آیت کریمہ (وَاَنذِرْ عَشِیرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ )…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 210–223
ابطال کہانت
وما تنزلت بہ الشیطین وما ینبغی لہم وما یستطیعون انہم عن السمع لمعزولون۔
گزشتہ آیات میں یہ بتلایا کہ یہ قرآن اللہ رب العالمین کا نازل فرمودہ ہے جس کو جبریل امین (علیہ السلام) لے کے آپ ﷺ کے قلب پر اترے ہیں۔ اب آگے ان لوگوں کے قول کا رد کرتے ہیں کہ جو یہ کہتے ہیں کہ یہ قرآن جن اور شیاطین کا القا ہے۔ جیسے شیاطین کاہنوں پر القا کرتے ہیں یہ بھی اسی قسم کا کلام ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں کہ اور اس قرآن کو شیاطین لے کر نہیں اترتے جو کاہنوں کے پاس آیا کرتے تھے۔ جیسا کہ مشرکین کہتے ہیں بلکہ اس قرآن کو تو جبریل امین (علیہ السلام) خدا تعالیٰ کی طرف سے لے کر آئے ہیں اور نہ شیاطین کے لئے یہ سزاوار ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 211–213
74:۔ فاء فصیحہ ہے اور یہ ماقبل کا ثمرہ اور نتیجہ ہے جو پانچ امور پر مشتمل ہے یہ امر اول ہے۔ یعنی جب ثابت ہوگیا کہ برکات دہندہ اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں اور یہ دعوی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے تو اب اللہ کے سوا حاجات میں کسی کو مت پکارو ورنہ سخت عذاب ہوگا۔ ” وانذر عشیرتک الاقربین “ یہ دوسرا امر ہے اپنے قریبی رشتہ داروں کو بھی ڈراؤ کہ وہ اللہ کے سوا کسی اور کو برکات دہندہ نہ سمجھیں۔ ” واخفض جناحک الخ “ یہ تیسرا امر ہے جو ایمان لا چکے ہیں ان سے نرمی کا برتاؤ کریں۔ ” فان عصوک الخ “ یہ چوتھا امر ہے مشرکین جو آپ کی بات نہیں مانتے ان سے آپ صاف کہہ دیں کہ میں تمہارے مشرکانہ اعمال سے بیزار ہوں۔ ” و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 210–223
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر کیا تھا اور اس کا اجمالی تعارف کرایا تھا۔ اس عظیم کتاب کو جبرائیل میں نے پروردگار عالم کے حکم سے نازل کیا ۔ یہ کلام الٰہی پیغمبر کے قلب مبارک پر نہایت فصیح وبلیغ عربی زبان میں اتارا گیا ۔ اس کے نزول کا مقصد یہ بیان کیا گیا کہ اللہ کے نبی اس کے ذریعے لوگوں کو ان کے آخرت کے برے انجام سے ڈرا دیں ۔ یہ وہی کتاب ہے جس کے مضامین اور پیشن گوئیاں سابقہ کتب میں بھی موجود تھیں ۔ ان حقائق کے باوجود جو شخص اس قرآن کا انکار کرتا وہ کافر اور گمراہ تصور ہوگا ۔ قرآن کے منکرین میں سے بعض اسے سحرے تعبیر کرتے ہیں ۔ جب کہ بعض دوسرے اسے…
Read the full tafseer →فَلَا تَدْعُ مَعَ اللہِ اِلٰـہًا اٰخَرَ فَتَكُوْنَ مِنَ الْمُعَذَّبِيْنَ 213ۚ
دعا
الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ،
( د ع و ) الدعاء ( ن )
کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔ اگرچہ ان کے بعد منادٰی مذکور نہ ہو لیکن دعاء کا لفظ صرف اس وقت بولا جاتا ہے جب حرف ندا کے ساتھ اسم ( منادی ) بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 211–219
تقلب فی الساجدین کے معنی : تقلب اٹھنا بیٹھنا بھی ہے کبھی رکوع کرتے ہو ‘ کبھی قیام ‘ کبھی سجود ‘ سب کو خدا دیکھتا ہے مقاتل ؓ کہتے ہیں کہ حین تقوم سے مراد تنہا نماز کے لیے اٹھنا اور تقلب سے مراد جماعت میں نماز پڑھنا ہے ابن عباس ؓ کہتے ہیں ساجدین سے مراد مصلین ہے، مجاہد کہتے ہیں تقلبک سے مراد آنحضرت ﷺ کا نماز میں پیچھے سے نمازیوں کو دیکھنا ای تقلب بصرک فی المصلین کیونکہ موطا میں امام مالک نے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں پیچھے سے بھی دیکھا کرتا ہوں مجھ پر تمہارا رکوع اور خشوع مخفی نہیں۔ امام رازی تفسیر کبیر میں فرماتے ہیں کہ شیعہ نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے آباء مومنین تھے…
Read the full tafseer →فَلاَ تَدْعُ مَعَ اللّٰہِ اِلٰـھًا اٰخَرَفَتَـکُوْنَ مِنَ الْمُعَذَّبِیْنَ ۔ (الشعرآء : 213)
(پس اے پیغمبر ! اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو مت پکارو ورنہ آپ بھی سزا پانے والوں میں شامل ہوجاؤ گے۔ )
خطاب آنحضرت ﷺ سے، عتاب مخالفین پر
یہ اور آگے کی چند آیات آنحضرت ﷺ کی طرف التفات کی نوعیت کی ہیں۔ قرآن کریم کا اسلوب یہ ہے کہ وہ بعض دفعہ کسی برائی کی شناعت کو نمایاں کرنے کے لیے اپنے پیغمبر کو اس برائی سے روکتا ہے اور ارتکاب کی صورت میں عذاب الیم کی دھمکی دیتا ہے۔ لیکن اس کا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ معاذاللہ آنحضرت ﷺ سے اس برائی کے ارتکاب کا اندیشہ ہوگیا تھا اور آپ ﷺ کو دھمکا کر اسے روکا گیا۔ بلکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 211–214
فہم القرآن
ربط کلام : نبی اکرم ﷺ کو حکم ہوا کہ وہ اپنے عزیز و اقرباء کو توحید کی دعوت دیں، اور شرک سے ڈرائیں۔
نبوت کا پہلا کام اور پیغام لوگوں کو اللہ کی خالص عبادت کرنے کی دعوت دینا ہے۔ دعوت کا فطری اور صحیح طریقہ ہے کہ داعی عقیدہ توحید پر ایمان رکھتے ہوئے سب سے پہلے اپنے عزیز و اقرباء کو عقیدہ توحید کی دعوت دے اور جو اس دعوت کو قبول کرے ان کے ساتھ شفقت اور محبت کے ساتھ پیش آئے۔ اس حکم کی اتباع میں آپ ﷺ نے اپنے عزیز و اقرباء کو بار بار اس بات کی دعوت دی اور جو لوگ آپ پر ایمان لائے ان سے آپ خصوصی طور پر شفقت و مہربانی فرمایا کرتے تھے۔ آپ کی شفقت و مہربانی کی قرآن مجید نے اس طرح ترجمانی فرمائی…
Read the full tafseer →213: فَلاَ تَدْعُ مَعَ اللّٰہِ اِلٰھًا اٰخَرَ فَتَکُوْنَ مِنَ الْمُعَذَّبِیْنَ (پس تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور معبود کو مت پکارو۔ کہیں تم بھی ان لوگوں میں ہوجائو جن کو عذاب دیا جائے گا۔ ) بطریق تعریض دوسروں کو تہدید کی گئی اور آپ ﷺ کو اور زیادہ اخلاص کی تحریک کی گئی ہے۔
Read the full tafseer →213۔ فلاتدع مع اللہ الھا اخر فتکون من المعذبین۔ حضرت ابن عباس ؓ عنہماکاقول ہ کہ اس سے دوسروں کو ڈرانا مقصود ہے۔ گویا یوں فرمایا کہ آپ تمام مخلوق میں میرے نزدیک زیادہ معزز ہیں لیکن اگر آپ بھی میرے سوا دوسرے کو معبود بنائیں گے تو آپ کو بھی عذاب دوں گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 208–213
(208 تا 213) یہ آیت مثل بنی اسرائیل کی آیت وَمَا کُنَّا مُعَذّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلًا کے ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ بغیر رسول بھیجے اور سمجھائے خدا عذاب نہیں کرتا جیسا کہ سورة القصص میں فرمایا وما کان ربک مھلک القریٰ حتی یبعث فی امھا رسولا یتلو علیھم اثینا وما کنا مھل کی القریٰ الا واھلھا ظلمون جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نہیں کھپاتے بستیوں کو مگر جب رسولوں کے بھیجنے کے بعد بستی والے ظلم کرتے ہیں غرض برے عمل عذاب کا سبب ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ ظالم نہیں ہے پھر فرمایا قرآن شریف میں جو نیک باتیں ہیں وہ کام شیطان کا نہیں ہے اور شیاطین تو قرآن شریف اللہ کے ہاں سے معتبر فرشتہ کی معرفت اس بڑے انتظام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 213–216
آیت 213 سے 216
اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو اصلا اور آپ کی امت کو تبعاً غیر اللہ یعنی تمام مخلوق کو پکارنے سے روکتا ہے۔ اس لئے کہ غیر اللہ کو پکار نا عذاب دائمی اور عقوبت سرمدی کا موجب ہے کیونکہ یہ شرک ہے جیسا کہ فرمایا : (من یشرک باللہ فقد حرم اللہ علیہ الجنۃ وماوءۃ النار) (المائدۃ : 5/72) “ جو کوئی اللہ کے ساتھ شرک کرے گا اللہ اس پر جنت کو حرام کردے گا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہوگا۔ “ کسی کام سے روکنا دراصل اس کے مخالف کام کے کرے کا حکم ہوتا ہے۔ اس لئے شرک سے روکنا درحقیقت عبادت میں اللہ تعالیٰ کے لئے اخلاص، اسی کے لئے محبت، اسی سے خوف، اسی سے امید، صرف اسی کے سامنے اظہار تذلل اور ہر وقت صرف اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–223
قول باری ہے : (وانہ لتنزیل رب العالمین۔ اور یہ رب العالمین کی نازل کردہ چیز ہے۔ ) تا قول باری (وانہ لفی زبر الاولین۔ اور اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی یہ موجود ہے۔ )
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے بارے میں بتادیا کہ رب العالمین کی نازل کردہ ہے اور پھر یہ خبر دی کہ یہ اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی موجود ہے۔ اب یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ قرآن اگلے لوگوں کی کتابوں میں عربی زبان کے اندر موجود نہیں تھا۔ اس سے یہ استدلال کیا جاسکتا ہے کہ قرآن کو کسی اور زبان میں منتقل کرنے سے اس کی قرآنیت ختم نہیں ہوتی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے علی الاطلاق یہ فرمادیا کہ قرآن اگلے لوگوں کی کتابوں میں موجود تھا حالانکہ ان…
Read the full tafseer →110 اللہ کے سوا کسی اور معبود کو پکارنے کی ممانعت : سو ارشاد فرمایا گیا پس اللہ کے ساتھ کسی بھی اور معبود کو نہیں پکارنا "۔ یعنی جب یہ اتنی عظیم الشان کتاب آپ ﷺ کو خداوند قدوس کی طرف سے بذریعہ وحی عطا فرمائی گئی ہے تو اس کے شکرانے میں اس کو دل و جان سے اپناؤ۔ ایمان کے اعتبار سے بھی کہ اس پر سچے دل سے ایمان لاؤ اور علم و عمل کے لحاظ سے بھی کہ تمہارا ہر عمل اس کی تعلیمات مقدسہ کے مطابق ہو۔ اور اللہ ۔ جل جلالہ ۔ کے سوا کسی بھی اور معبود کو کسی بھی قیمت پر کبھی پکارنا پوچنا نہیں کہ یہ اس کتاب عظیم کی سب سے بڑی سب سے اہم اور سب سے بنیادی تعلیم ہے۔ ورنہ تم عذاب پانے والوں میں سے ہوجاؤ گے۔ یہاں پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–227
قرآن کا عربی میں نزول اور عربی زبان کے گمراہ شعراء کا رد
تشریح : قرآن کی حقانیت ‘ افادیت اور حفاظت کا ذکر ہوچکا اور یہ بھی کہ یہ عربی زبان میں ہی کیوں اترا ؟ اس کے بارے میں مزید یہ کہ جہاں عربوں میں بہت سی برائیاں تھیں کچھ اچھائیاں بھی تھیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اپنی زبان ” عربی “ کی بےحد حفاظت کرتے تھے۔ اسی لیے عربی زبان بےحد وسیع ‘ جامع اور غیر متبدل (تبدیل نہ ہونے والی) زبان ہے۔ جبکہ باقی تمام زبانیں اپنی اصل سے بہت زیادہ ہٹ چکی ہیں۔ نبی اکرم ﷺ کو صاف طور پر احکامات سنائے گئے ہیں اور ان کو اللہ کی ذات جو کہ بےحد مہربان ہے پر پورا بھروسہ رکھنے اور نیکی پر ڈٹے رہنے کی ترغیب دی گئی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–227
آیات نمبر 192 تا 227:
اسرار و معارف
اسی طرح انسانیت کی ہدایت کے لیے پروردگار عالمین نے یہ قرآن اتارا ہے جسے نہایت ایماندار فرشتہ لے کر نازل ہوا ایسا کوئی احتمال نہیں کہ دورانِ نزول کوئی کمی بیشی ہوئی ہو پھر اس کا نزول آپ ﷺ قلب اطہر پہ ہوا کہ مضامین عقل محض تعمیر و اصلاح بدن کے لیے ہوتے ہیں جو کفار اور بدکاروں کی عقول میں بھی آتے ہیں اور انہیں کے بل پر وہ مادی مشینیں ایجاد کرتے ہیں تجارت کاروبار اور عالمی سیاست چلاتے ہیں مگر اس کتاب کے مضامین تو قلب میں وارد ہوئے جو کافر یا بدکار کو نصیب نہیں کہ اس کا قلب تو مردہ ہوتا ہے نیز اس میں صرف دنیا کے کمالات نہیں بلکہ امور دنیا میں اللہ کی معرفت و…
Read the full tafseer →6 ۔ بظاہر مخاطب تو آنحضرت ﷺ ہیں مگر دراصل امت کو ڈرانا مقصود ہے جیسا کہ بعد کی آیت ” وانذر “ الخ سے معلوم ہوتا ہے۔ (قرطبی)
Read the full tafseer →(26:213) لا تدع فعل نہی واحد مذکر حاضر۔ دعاء دعوۃ سے دعا یدعوا سے۔ لاتدع میں آخر سے واؤ حرف علت محذوف ہے یہ صیغہ حاضر کمال تخویف اور انتہائی اہمیت کے اظہار کے لئے ہے۔
المعذبین ۔ اسم مفعول جمع مذکر عذاب سے۔ عذاب دئیے گئے۔ عذاب یافتہ۔ جن کو عذاب دیا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–213
لغات القرآن : آیت نمبر 192 تا 213 :
روح الامین (حضرت جبرئیل امین (علیہ السلام) ) ‘ لسان (زبان) ‘ زبر (صحیفے۔ کتابیں) ‘ اعجمین (عجمی لوگ۔ گونگے) ‘ سلکنا (ہم نے چلایا (داخل کیا) ‘۔ حتی یروا (جب تک وہ دیکھ نہ لیں) ‘ بغتۃ (اچانک) ‘ منظرون (مہلت دیئے گئے) یستعجلون (وہ جلدی کرتے ہیں) ‘ متعنا ( ہم نے فائدہ پہنچایا) ‘ ما اغنی (کام نہ آیا) یمتعون ( وہ فائدہ اٹھاتے ہیں) ‘ منذرون (ڈرانے والے) ‘ ذکری (نصیحت۔ یاددھانی) ‘ ماینبغی (مناسب نہیں ہے۔ شان نہیں ہے) ‘ یستطیعون (وہ طاقت رکھتے ہیں) ‘ معزولون (دور کردیئے گئے) ‘ لاتدع (نہ پکار) ‘ المعذبین (عذاب میں مبتلا کئے گئے) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 192 تا 213 :
اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 208–213
(ف 1) آگے فرمایا کہ جتنی بستیاں منکریں کی ہم نے غارت کی ہیں سب میں نصیحت کے واسطے ڈرانے والے پیغمبر بھیجے۔ اور جب نبی کا کہنا نہ ماناتو عذاب نازل کردیا، اور ہم ظالم نہیں ہیں جو کسی کو بدوں ڈرانے اور بدوں کسی نافرمانی کیے ہوئے پر عذاب بھیج دیں۔ مشرک کہتے تھے کہ یہ شخص کاہن ہے اور کوئی جن اس کے اوپر قرآن لاتا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قرآن کو دیو اور شیطاطین لے کر نہیں آتے جیسا کہ تم گمان کرتے ہو، شیاطین میں قرآن لانے کی قابلیت کب ہے اور ان کو کیا قدرت ہے ، کہ آسمان سے قرآن کو سن کر رسول کو پہنچادیں رسول اللہ کے بھیجنے کے بعد شیاطین آسمان کی بات سننے سے موقوف کردیے گئے اب وہاں سے سن کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 201–213
[35] یہ فرمایا رسول کو مگر دراصل اس سے مقصود کفار و مشرکین کو متنبہ کرنا ہے ورنہ پیغمبر کو شرک سے مناسبت ہی کیا ہوسکتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب یہ کتاب بلاشک و شبہ اللہ کی اتاری ہوئی ہے، شیطان کا اس میں ذرہ بھر دخل نہیں تو چاہئے کہ اس کی تعلیم پر چلو۔ جس میں اصل اصول توحید ہے اور شرک وکفر کی شیطانی راہ مت اختیار کرو۔ ورنہ عذاب الٰہی میں مبتلا ہوجاؤ گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 200–213
سلکنہ مستعدی بیک مفعول بھی ہے ۔ اور بدومفعول بھی یعنی سل کہ کے معنی یہ بھی ہیں ۔ کہ وہ داخل ہوا ۔ اور یہ بھی کہ اس نے اس کو داخل کیا ۔
Read the full tafseer →(213) سو اے پیغمبر ! آپ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور معبود کی عبادت نہ کریں اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکاریں ورنہ آپ بھی ان لوگوں میں سے ہوجائیں گے جن کو سزا دی جائے گی۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یہ فرمایا رسول ﷺ کو اور سنایا اوروں کو 12 یعنی دوسرے لوگوں کو شرک سے بچانا مقصود ہے کہ جب ہم اس شخص سے جو ہمارا پیغمبر ہے جس سے شرک کا تصور بھی نہیں یوں فرماتے ہیں تو اوروں کو جو شرک میں مبتلا ہیں سمجھ لیناچاہئے کہ وہ کس قدر سزا اور عذاب کے مستحق ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 208–213
ف 7۔ حالانکہ آپ میں نعوذ باللہ نہ احتمال شرک کا نہ تعزیب کا، پس جب آپ کے اعتبار سے بھی ان دونوں میں تلازم کا حکم کیا جاتا ہے تو اور بےچارے تو کس شمار ہیں، شرک سے ان کو کیسے منع نہ کیا جاوے گا، اور شرک کر کے عذاب سے کیونکر بچیں گے۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو معبود نہ بناؤ ورنہ عذاب دیئے جانے والوں میں ہوجاؤ گے :
213۔ اللہ تعالیٰ کی ذات بابرکات کی صفات بھی لامحدود ہیں اور بلاشبہ جس وہ ذات وحدہ لاشریک لہ ہے اسی طرح اپنی صفات میں بھی واحد ویکتا ہے اور اس کی ذات وصفات میں اس کا کوئی شریک نہیں کیونکہ وہ سمیع ہے تو ایسا کہ کوئی آلہ سماعت نہیں رکھتا اور اگر بصیر ہے تو ایسا کہ دیکھنے کے آلہ آنکھ کا وہ محتاج نہیں ہے گویا وہ آنکھ نہیں رکھتا ، اس لئے اس کی ذات وصفات میں کسی دوسرے کو اس کا شریک مت ٹھہراؤ اگر تم نے ایسا کیا تو یہ ایسا جرم ہوگا جو کبھی بھی قابل معافی نہیں ہو سکتا اور ظاہر ہے کہ جب قابل معانی نہیں تو اس کے لئے عذاب کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 205–213
أَفَرَأَيْتَ إِن مَّتَّعْنَاهُمْ سِنِينَ ﴿205﴾
So tell me, If We give them enjoyment for years, - 26:205.
There is a hint in this verse that those who are bestowed with long life in this world by Allah Ta’ ala, it is His grace on them. But those who show ingratitude for this grace and do not submit to Islam, to them this respite and grace will not be of any avail. Imam Zuhri (رح) has related that Sayyidna ` Umar ibn ` Abdul Aziz (رح) used to recite this verse every morning by holding his beard and addressing his Self:
نھارک یا مغرور سھو و غفلۃ ولیلک نوم والرّدیٰ لک لازم
فلا انت فی الایقاظ…
Read the full tafseer →134 This dces not mean that the Holy Prophet was going to be involved in shirk from which he was to be admonished to desist. The object was to warn the disbelievers and polytheists to the effect: "As the message of the Qur'an is based on pure Truth revealed by the Almighty Ruler of the universe, and there is no tinge of any satanic impurity in it, there could be no question of showing a favour to somebody in regard to the Truth. Even if the Holy Messenger himself, who is nearest to Allah and His most beloved servant, deviated a little from the path of His obedience and invoked any other deity…
Read the full tafseer →