Explained with ayahs 213–220
مستحق سزا لوگوں سے الگ ہوجاؤ
خود اپنے نبی ﷺ سے خطاب کر کے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ صرف میری ہی عبادت کر۔ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کر جو بھی ایسا کرے گا وہ ضرور مستحق سزا ہے۔ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ہوشیار کردے کہ بجز ایمان کے کوئی چیز نجات دہندہ نہیں۔ پھر حکم دیتا ہے کہ موحد متبع سنت لوگوں سے فروتنی کے ساتھ ملتا جلتا رہ۔ اور جو بھی میرے حکم نہ مانے خواہ کوئی ہو تو اس سے بےتعلق ہوجا۔ اور اپنی بیزاری کا اظہار کردے۔ یہ خاص طور کی خاص لوگوں کی تنبیہہ عام لوگوں کی تنبیہہ کے منافی نہیں کیونکہ یہ اس کا جز ہے۔ اور جگہ ارشاد ہے تو اس قوم کو ڈرادے جن کے بڑے بھی ڈرائے نہیں گئے اور جو غفلت میں پڑے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 215–216
سورة الشُّعَرَآء 136
اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ تمہارے رشتہ داروں میں سے جو لوگ ایمان لا کر تمہاری پیروی اختیار کریں ان کے ساتھ نرمی اور ملاطفت اور تواضع کا رویہ اختیار کرو، اور جو تمہاری بات نہ مانیں ان سے اعلان برأت کردو۔ دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ ارشاد صرف ان رشتہ داروں سے متعلق نہ ہو جنہیں متنبہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا، بلکہ سب کے لیے عام ہو۔ یعنی جو بھی ایمان لا کر تمہارا اتباع کرے اس کے ساتھ تواضع برتو اور جو بھی تمہاری نافرمانی کرے اس کو خبردار کردو کہ تیرے اعمال سے میں بری الذمّہ ہوں۔
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت قریش اور آس پاس کے اہل عرب میں کچھ لوگ ایسے بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 214–223
وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ ، عشیرہ کے معنے کنبہ اور خاندان اقربی کی قید سے ان میں سے بھی قریبی رشتہ دار مراد ہیں۔ یہاں یہ بات غور طلب ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر تبلیغ رسالت اور انذار پوری امت کے لئے فرض ہے اس جگہ خاندان کے لوگوں کی تخصیص میں کیا حکمت ہے ؟ غور کیا جائے تو اس میں تبلیغ و دعوت کے آسان اور موثر بنانے کا ایک خاص طریقہ بتلایا گیا ہے جس کے آثار دور رس ہیں۔ وہ یہ کہ اپنے کنبہ اور خاندان کے لوگ اپنے سے قریب ہونے کی بناء پر اس کے حقدار بھی ہیں کہ ہر خیر اور اچھے کام میں ان کو دو رسوں سے مقدم کیا جائے اور باہمی تعلقات اور ذاتی واقفیت کی بناء پر ان میں کوئی جھوٹا دعویدار نہیں کھپ…
Read the full tafseer →واخفص جناحک لمن اتبعک من المومنین جو لوگ ایمان لا چکے تھے ان کے معاملے میں آپ کو یہ ہدایت ہوئی کہ جس طرح کسی خطرے کو محسوس کر کے مرغی اپنے بچوں کو اپنے پروں کے نیچے چھپائے رکھتی ہے اسی طرح تم ان لوگوں کو اپنی شفقت کے بازوئوں کے نیچے چھپائے رکھو کہ ان میں سے کوئی غفلت کے سبب سے اس عذاب کی زد میں نہ آجائے جس کی خبر دی جا رہی ہے یہ امر یہاں محلوظ رہے کہ آپ ﷺ پر ایمان لانے والوں میں اس عشیرہ قربین کے بہت کم افراد شاملت ہے جن کے اوپر انذار کی ہدایت ہوئی ہے بلکہ یہ زیادہ تر عوام کے طبقہ کے غریب و نادار لوگ تھے جن کو قریش کے اکابر نہایت حقیر سمجھتے تھے لیکن ان کے لئے اس شفقت و رحمت کی ہدایت ہوئی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 215–219
219-1یعنی جب تو تنہا ہوتا ہے، تب بھی اللہ دیکھتا ہے اور جب لوگوں میں ہوتا ہے تب بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 214–222
50: یہ وہ آیت ہے جس کے ذریعے آنحضرت ﷺ کو سب سے پہلی بار تبلیغ کا حکم ہوا اور یہ ہدایت دی گئی کہ تبلیغ کا آغاز اپنے قریبی خاندان کے لوگوں سے فرمائیں، چنانچہ اسی آیت کے نازل ہونے کے بعد آپ نے اپنے خاندان کے قریبی لوگوں کو جمع کرکے ان کو دین حق کی دعوت دی، اس میں یہ سبق بھی دیا گیا ہے کہ اصلاح کرنے والے کو سب سے پہلے اپنے گھر اور اپنے خاندان سے شروع کرنا چاہیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 214–215
فلا تدع ……العزیز الرحیم (219)
ان کے ساتھ تواضح سے پیش آئو لیکن اگر وہ تمہاری نافرمانی کریں تو ان سے کہہ دو کہ جو کچھ تم کرتے ہو ، اس سے میں بری الذمہ ہوں اور اس زبردست اور رحیم پر توکل کرو جو تمہیں اس وقت دیکھ رہا ہوں۔ جب تم اٹھتے ہو اور سجدہ گزار لوگوں میں تمہاری نقل و حرکت پر نگاہ رکھتا ہے۔ وہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔ “
اگر نبی کریم ﷺ بھی اللہ کے سوا کسی اور کو پکاریں تو وہ بھی معذبین میں سے ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ یہ محال ہے اور اللہ نے سجھانے کے لئے فرض کیا ہے تو پھر اور لوگکس باغ کی مولی ہیں۔ جو لوگ رات اور دن اللہ کے سوا اور دل کو پکارتے ہیں وہ کس طرح عذاب الٰہی سے بچ سکتے ہیں۔ لہٰذا…
Read the full tafseer →6 یعنی شفقت میں رکھ ایمان والوں کو، اپنے ہوں یا پرائے۔
Read the full tafseer →آیت 215 وَاخْفِضْ جَنَاحَکَ لِمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ”
حضور ﷺ سے فرمایا جا ریا ہے کہ آپ ﷺ مؤمنین کے ساتھ تواضع سے پیش آئیں اور ہمیشہ ان کی دلجوئی فرمائیں۔ جیسا کہ قبل ازیں بھی ذکر ہوچکا ہے ‘ سورة الشعراء اور سورة الحجر کا زمانۂ نزول ایک ہی ہے اور اسی لحاظ سے ان دونوں سورتوں میں گہری مشابہت بھی پائی جاتی ہے۔ چناچہ اس آیت سے ملتے جلتے الفاظ سورة الحجر کے آخر میں بھی آئے ہیں : وَاخْفِضْ جَنَاحَکَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ ”اور اہل ایمان کے لیے اپنے بازو جھکا کر رکھیں۔“
Read the full tafseer →Explained with ayahs 215–216
128 ربط مضمون کے لحاظ سے تو اس کا یہی مطلب ہے کہ ان قریبی رشتہ داروں سے جو آپ پر ایمان لے آئیں اور آپ کی دعوت کو تسلیم کرلیں آپ ان سے تواضع سے پیش آئیے۔ اور جو نہ مانیں انھیں صاف سنا دیجئے کہ قیامت کے دن میں تمہارے کسی کام نہ آسکوں گا۔ تمہیں اپنے ان شرکیہ اعمال و افعال کا نتیجہ خود ہی بھگتنا پڑے گا۔ تاہم یہ حکم عام ہے۔ جس میں آپ کے رشتہ دار اور غیر رشتہ دار سب قسم کے لوگ شامل ہیں۔
Read the full tafseer →114۔ کہاں پیغمبر اور کہاں امتی، شرف ومنزلت کے اعتبار سے دونوں کا مقابلہ ہی کیا، لیکن یہاں صراحت کے ساتھ حکم مخدوم وآقا کو مل رہا ہے کہ وہ اپنے متبعین کے ساتھ فروتنی سے پیش آئیں۔ یہ تعلیم اسلام کے سوا کہاں ملے گی ؟ محققین نے کہا ہے کہ فروتنی کا حکم جب سردار ومخدوم کو اپنے خادموں کے مقابلہ میں مل رہا ہے تو خادموں، مریدوں، شاگروں کو تو اپنے بزرگوں، مرشدوں، استادوں کے حضور میں کہیں زیادہ فروتنی کے ساتھ رہنا چاہیے ! (آیت) ” واخفض جناحک “۔ مفسر تھانوی (رح) نے کہا ہے کہ خفض جناح کی صورتیں دو ہیں۔ ایک تو وہ جو اطاعت سے پیدا ہوتی ہے جیسے اولاد کی فروتنی والدین کے مقابلہ میں، دوسری وہ جو شفقت سے پیدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–227
آیت نمبر 192 تا 227
ترجمہ : بلاشبہ یہ یعنی قرآن رب العالمین کا نازل فرمودہ ہے اس کو روح الامین یعنی جبرائیل آپ کے قلب پر لیکر اترے ہیں صاف عربی زبان میں تاکہ آپ ڈرانے والوں میں ہوجائیں اور ایک قرأۃ میں نَزَّلَ تشدید اور روح کے نصب کے ساتھ ہے اور فاعل اللہ ہے اور بلاشبہ محمد ﷺ پر نازل شدہ قرآن کی خبر پہلے لوگوں کی کتابوں مثلاً تورات و انجیل میں ہے کیا ان کے لئے قرآن کی صداقت کی یہ نشانی کافی نہیں کہ اس کو بنی اسرائیل کے علماء بھی جانتے ہیں ؟ جیسا کہ عبد اللہ بن سلام اور ان کے وہ ساتھی جو ایمان لائے، وہ اس کی حقانیت کی خبر دیتے ہیں اور یَکُنْ یا کے ساتھ اور آیۃً کے نصب کے ساتھ اور تا کے ساتھ…
Read the full tafseer →واخفض جناحک لمن اتبعک من المؤمنین۔ اور ان لوگوں کے ساتھ (مشفقانہ) فروتنی سے پیش
آؤ جو مسلمانوں میں داخل ہو کر آپ کی راہ پر چلیں۔
اخْفِضْیعنی نرم رویہ اختیار کرو۔ پرندہ جب نیچے اترنا چاہتا ہے تو اپنے بازوؤں کو نیچے جھکا لیتا ہے یہاں بطور استعارہ سلوک کی نرمی اور خوش اخلاقی مراد ہے۔
مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَمیں من بیانیہ ہے یا تبعیضیہ اگر اتباع سے عام اتباع مراد ہو خواہ اتباع کامل ہو یا ناقص تو من بیانیہ ہوجائے گا اور اگر کامل اتباع مراد ہو تو من تبعیضیہ ہوجائے گا کیونکہ مؤمنین کا لفظ عام ہے کامل اتباع کرنے والے مؤمن ہوں یا ناقص اتباع کرنے والے گناہگار مؤمن۔ موخر الذکر کی تائید آئندہ جملہ سے ہوتی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 214–220
(214 تا 220) اور آپ اپنے نزدیک کے کنبہ کو ڈرائیے اور مومنین کے ساتھ مشفقانہ پیش آئیے اور اگر یہ قریش آپ کا کہنا نہ مانیں تو آپ صاف فرما دیجیے کہ میں تمہارے افعال واقوال سے بیزار ہوں اور آپ اس اللہ پر جو کہ دشمنوں کو سزا دینے پر قادر اور آپ پر اور تمام مسلمانوں پر مہربان ہے توکل رکھیے، آپ جس وقت کہ نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں اور نماز شروع کرنے کے بعد قیام رکوع و سجود میں نمازیوں کے ساتھ آپ کی نشت وبرخاست کو دیکھتا ہے یا یہ کہ جب کہ آپ اپنے آباء کی اصلاب اطہار میں رہے اس سے واقف ہے۔
وہ ان کی باتوں کو خوب سننے والا اور ان کو اور ان کے اعمال کو خوب دیکھنے والا ہے۔
شان نزول : (آیت) ”۔ واخفض جناحک…
Read the full tafseer →وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ۔۔ : ڈرانے کی ضرورت اس کے لیے ہے جو اعراض کرے، جو پیروی اختیار کرے اس کے لیے اس کے برعکس حکم دیا، فرمایا مومنوں میں سے جو آپ کے پیچھے چلیں، اپنے ہوں یا پرائے، ان کے لیے اپنا (شفقت کا) بازو جھکا دیں، جس طرح مرغی کسی خطرے کو محسوس کرکے اپنے بچوں کو اپنے پروں میں لے لیتی ہے اسی طرح آپ بھی اے پیغمبر ! ان کو اپنی رحمت و عنایت کے بازؤوں کے نیچے چھپائے رکھیں۔ نرمی کا یہ حکم ان پیچھے چلنے والوں کے لیے ہے جو مومن ہیں۔ معلوم ہوا جو لوگ قرابت کی وجہ سے آپ کا ساتھ دیتے تھے، جیسے ابوطالب، بنو ہاشم اور بنو مطلب، یا حق کو پہچاننے کی وجہ سے ساتھ دیتے تھے مگر ایمان نہیں لاتے تھے، ان کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 214–220
( وانذر عشیرتک الا قربین۔۔۔۔۔ )
وانذر عشیرتک الا قربین اس میں دو مسئلے ہیں :
مسئلہ نمبر 1 :۔ ڈرانے میں قریبی رشتہ داروں کو خاص کیا ہے تاکہ قبیلہ اور اجنبی لوگوں کی طمع ختم ہوجائے جب ان کے شرک پر رہتے ہوئے آپ انہیں چھوڑ جائیں۔ قربی عشیرہ سے مراد قریش ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ مراد بنو عبد مناف ہیں۔ صحیح مسلم میں حدیث واقع ہے ” اپنے قریبی رشتہ داروں اور مخلص ساتھیوں کو ڈرائیں “ (1) اس کا ظاہر یہ ہے کہ یہ قرآن تھا جو تلاوت کیا جاتا تھا پھر اسے منسوخ کردیا گیا کیونکہ مصحف میں نقل ثابت نہیں اور نہ ہی یہ تواتر سے ثابت ہے اس کے ثبوت پر اشکال لازم آتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ آپ پر لازم آتا ہے کہ آپ کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 215–217
1۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ جب آیت ” وانذر عشیرت الاقربین “ نازل ہوئی تو آپ نے اپنے گھروالوں اور اپنے خاندان والوں سے اسکام کا آغاز فرمایا تو یہ کام مسلمانوں پر بھاری گزرا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائی آیت ” واخفض جناحک لمن اتبعک من المومنین۔
2۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے آیت ” واخفض جناحک لمن اتبعک “ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے مومنین کے لیے فرمایا کہ ان لوگوں کے ساتھ شفقت سے پیش آؤ اور فرمایا آیت ” فان عصوک فقل انی بریء مما تعملون “ (یعنی اگر وہ تیری نافرمانی کریں تو فرمادیجیے کہ میں بری ہوں ان کاموں سے جو تم کرتے ہو ان کو اس کام کا حکم…
Read the full tafseer →وَاخْفِضْ [ اور آپ ﷺ نیچا رکھیں ] جَنَاحَكَ [ اپنے پہلو کو ] لِمَنِ [ اس کے لئے جس نے ] اتَّبَعَكَ [ پیروی کی آپ ﷺ کی ] مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ [ ایمان لانے والوں میں سے ]
نوٹ۔ 2: آیت ۔ 215 ۔ 6ٍ 21 ۔ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت قریش اور آس پاس کے اہل عرب میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو رسول اللہ ﷺ کی صداقت کے قائل ہوگئے تھے مگر انھوں نے عملا آپ ﷺ کی پیروی اختیار نہ کی تھی۔ بلکہ وہ بدستور اپنی گمراہ سوسائٹی میں اسی طرح کی زندگی بسر کر رہے تھے جیسی دوسرے کفار کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے ماننے والوں کو ان سے الگ قرار دیا جنہوں نے ایمان لانے کے بعد آپ ﷺ کا اتباع بھی اختیار کیا۔ تواضع برتنے کا حکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 214–222
شیاطین ہر جھوٹے پر نازل ہوتے ہیں، اور شعراء کے پیچھے گمراہ لوگ چلتے ہیں
مشرکین کہا کرتے ہیں کہ ایک جن محمد ﷺ کو سکھاتا اور بتاتا ہے وہی باتیں آپ ہمیں بتا دیتے ہیں ان کے جواب میں فرمایا کہ (ھَلْ اُنَبِّءُکُمْ عَلٰی مَنْ تَنَزَّلُ الشَّیَاطِیْنُ ) (کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیاطین کس پر اترتے ہیں) (یُلْقُوْنَ السَّمْعَ وَاَکْثَرُھُمْ کَاذِبُوْنَ ) (جو کان لگا کر سنتے ہیں اور اکثر ان میں جھوٹ بولنے والے ہیں) یعنی ان جھوٹے لوگوں کے کانوں میں جو شیاطین باتیں ڈالتے ہیں یہ ان کی طرف خوب کان لگا کر سنتے ہیں اور شیاطین سے سن کر جو باتیں نقل کرتے ہیں ان میں بھی اکثر جھوٹ بولتے ہیں۔ رسول ﷺ کی بعثت سے پہلے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 210–223
ابطال کہانت
وما تنزلت بہ الشیطین وما ینبغی لہم وما یستطیعون انہم عن السمع لمعزولون۔
گزشتہ آیات میں یہ بتلایا کہ یہ قرآن اللہ رب العالمین کا نازل فرمودہ ہے جس کو جبریل امین (علیہ السلام) لے کے آپ ﷺ کے قلب پر اترے ہیں۔ اب آگے ان لوگوں کے قول کا رد کرتے ہیں کہ جو یہ کہتے ہیں کہ یہ قرآن جن اور شیاطین کا القا ہے۔ جیسے شیاطین کاہنوں پر القا کرتے ہیں یہ بھی اسی قسم کا کلام ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں کہ اور اس قرآن کو شیاطین لے کر نہیں اترتے جو کاہنوں کے پاس آیا کرتے تھے۔ جیسا کہ مشرکین کہتے ہیں بلکہ اس قرآن کو تو جبریل امین (علیہ السلام) خدا تعالیٰ کی طرف سے لے کر آئے ہیں اور نہ شیاطین کے لئے یہ سزاوار ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 214–218
75:۔ اللہ تعالیٰ آپ کا حافظ و ناصر ہے جو آپ کی تمام نقل و حرکت کو دیکھات ہے ” حین تقوم “ جب آپ نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔ ” وتقلبک فی السجدین “ اور جب صحابہ کو نماز پڑھاتے ہیں اس وقت ایک حالت نماز سے دوسری حالت میں آپ کے تقلب کو بھی جانتا ہے یعنی قیام، رکوع، سجود اور قعود وغیرہ حالات میں۔ (حین تقوم) ای الی الصلوۃ (و تقلبک) ای ویری سبحانہ تعیرک من حال کالجلوس والسجود والی اخر کالقیام (فی السجدین) ای فیما بین المصلین اذا اممتھم (روح ج 19 ص 137) ۔ یا مطلب یہ ہے کہ جب آپ نماز تہجد کے لیے اٹھتے ہیں اس وقت بھی وہ آپ کو دیکھتا ہے ” وتقلبک فی السجدین “ اور نماز تہجد پڑھنے والوں میں آپ کے چلنے پھرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 210–223
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر کیا تھا اور اس کا اجمالی تعارف کرایا تھا۔ اس عظیم کتاب کو جبرائیل میں نے پروردگار عالم کے حکم سے نازل کیا ۔ یہ کلام الٰہی پیغمبر کے قلب مبارک پر نہایت فصیح وبلیغ عربی زبان میں اتارا گیا ۔ اس کے نزول کا مقصد یہ بیان کیا گیا کہ اللہ کے نبی اس کے ذریعے لوگوں کو ان کے آخرت کے برے انجام سے ڈرا دیں ۔ یہ وہی کتاب ہے جس کے مضامین اور پیشن گوئیاں سابقہ کتب میں بھی موجود تھیں ۔ ان حقائق کے باوجود جو شخص اس قرآن کا انکار کرتا وہ کافر اور گمراہ تصور ہوگا ۔ قرآن کے منکرین میں سے بعض اسے سحرے تعبیر کرتے ہیں ۔ جب کہ بعض دوسرے اسے…
Read the full tafseer →وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ 215ۚ
خفض
الخَفْض : ضدّ الرّفع، والخَفْض الدّعة والسّير اللّيّن وقوله عزّ وجلّ : وَاخْفِضْ لَهُما جَناحَ الذُّلِ
[ الإسراء/ 24] ، فهو حثّ علی تليين الجانب والانقیاد، كأنّه ضدّ قوله : أَلَّا تَعْلُوا عَلَيَّ [ النمل/ 31] ، وفي صفة القیامة : خافِضَةٌ رافِعَةٌ [ الواقعة/ 3] ، أي : تضع قوما وترفع آخرین، فخافضة إشارة إلى قوله : ثُمَّ رَدَدْناهُ أَسْفَلَ سافِلِينَ [ التین/ 5] .
( خض )
الخفض ۔ یہ رفع کی ضد ہے اور خفض کے معنی نرم رفتاری اور سکون و راحت بھی آتے ہیں اور آیت کریمہ : وَاخْفِضْ لَهُما جَناحَ الذُّلِ [ الإسراء/ 24] اور عجز ونیاز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 211–219
تقلب فی الساجدین کے معنی : تقلب اٹھنا بیٹھنا بھی ہے کبھی رکوع کرتے ہو ‘ کبھی قیام ‘ کبھی سجود ‘ سب کو خدا دیکھتا ہے مقاتل ؓ کہتے ہیں کہ حین تقوم سے مراد تنہا نماز کے لیے اٹھنا اور تقلب سے مراد جماعت میں نماز پڑھنا ہے ابن عباس ؓ کہتے ہیں ساجدین سے مراد مصلین ہے، مجاہد کہتے ہیں تقلبک سے مراد آنحضرت ﷺ کا نماز میں پیچھے سے نمازیوں کو دیکھنا ای تقلب بصرک فی المصلین کیونکہ موطا میں امام مالک نے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں پیچھے سے بھی دیکھا کرتا ہوں مجھ پر تمہارا رکوع اور خشوع مخفی نہیں۔ امام رازی تفسیر کبیر میں فرماتے ہیں کہ شیعہ نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے آباء مومنین تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 214–215
وَاَنْذِرْ عَشِیْرَتَـکَ الْاَقْرَبِیْنَ ۔ وَاخْفِضْ جَنَاحَکَ لِمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔
(الشعرآء : 214، 215)
(اور اپنے قریبی خاندان والوں کو ڈرائو۔ اور ایمان لانے والوں میں سے جو لوگ آپ کی پیروی اختیار کریں ان کے لیے اپنی شفقت کے بازو جھکائے رکھیں۔ )
قریبی خاندان کو انذار کا حکم کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں سب برابر ہیں
اللہ تعالیٰ کی الوہیت اور وحدانیت کی عظمت و اہمیت کی وجہ سے اس سے پہلی آیت میں ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا، یہ اللہ تعالیٰ کی الوہیت کیخلاف بغاوت ہے جس کا ارتکاب کوئی بڑی سے بڑی شخصیت بھی کرے تو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 215–216
فہم القرآن
ربط کلام : ا لدّاعی کا کام بار بار دعوت دینا ہے اگر لوگ نہیں مانتے تو اسے اپنے رب کے ساتھ نماز میں رابطہ رکھنا اور اسی پر توکل کرنا چاہیے کیونکہ وہ ہر بات پر غالب اور مہربان ہے۔
نبی اکرم ﷺ رات کی تاریکیوں میں رو، رو کر دعائیں کرتے کہ بار الٰہا ! ان لوگوں کو ہدایت سے سرفراز فرما دے۔ لوگ ہدایت حاصل کرنے کی بجائے گمراہی میں آگے بڑھے جا رہے تھے، جس پر آپ کو انتہائی غم ہوتا، اس صورت حال کے پیش نظر آپ کو دو طرح سے تسلی دی گئی۔ ان لوگوں سے کھلے الفاظ میں کہہ دیں کہ میں تمہارے اعمال کا ذمہ دار نہیں ہوں اور نہ میں تم سے ڈرتا ہوں۔ کیونکہ میرا بھروسہ ” اللہ “ پر ہے وہی مجھے کافی ہے۔ چاہے گا…
Read the full tafseer →تواضع کی مثال :
215: وَاخْفِضْ جَنَاحَکَ (اور تو جھکا اپنے بازو کو) تواضع اختیار کرو اور نرم گوشہ اختیار کرو۔ اس کی اصل یہ ہے کہ پرندہ اترنا چاہتا ہے تو بازو کو بند کر کے جھکا لیتا ہے اور جب اڑنے کا ارادہ کرتا ہے تو اپنے پروں کو بلند کرتا ہے تو خفض جناح کو اترنے کے وقت تواضع کی مثال کے طور پر پیش کیا گیا اور نرم پہلو کیلئے لِمَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ (ان کے لئے جو تیرے پیروکار مومن ہیں) تمہارے خاندان میں سے ہوں یا غیر۔
Read the full tafseer →تفسیر۔
215۔ واخفص جناحک ، اپنے پہلو کو نرم رکھو۔ لمن التبعک من المومنین۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 215–224
(215 تا 224) اوپر رشتہ داروں کو ڈرسنانے کا حکم تھا اب فرمایا بازو جھکادے ان کے لیے جو تیرے ساتھ ہوں ایماندار مطلب یہ ہے کہ ایمان والے خواہ اپنے رشتہ دار ہوں یا نہ ہوں ان کے ساتھ تو شفقت سے رہ اور جو تیری نافرمانی کرے وہ کوئی کیوں نہ ہو اس سے جدارہ اور کہہ کہ میں بیزار ہوں تمہاری حرکتوں سے اور بھروسہ کر اس زبر دست رحم والے پر جو تجھ کو دیکھتا ہے جب تو تہجد کو اٹھتا ہے اور پھرتا ہے سجدہ کرنے والوں میں ان کی خبر کو کہ غافل ہیں یا یاد الٰہی میں مشغول ہیں بیشک وہ پروردگار ہر ایک بات کو سنتا جانتا ہے مطلب یہ ہے کہ اے رسول اللہ کے جب تم صحابہ ؓ کے ساتھ فرض نماز پڑھتے ہو تو اس نماز کا رکوع سجود اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 213–216
آیت 213 سے 216
اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو اصلا اور آپ کی امت کو تبعاً غیر اللہ یعنی تمام مخلوق کو پکارنے سے روکتا ہے۔ اس لئے کہ غیر اللہ کو پکار نا عذاب دائمی اور عقوبت سرمدی کا موجب ہے کیونکہ یہ شرک ہے جیسا کہ فرمایا : (من یشرک باللہ فقد حرم اللہ علیہ الجنۃ وماوءۃ النار) (المائدۃ : 5/72) “ جو کوئی اللہ کے ساتھ شرک کرے گا اللہ اس پر جنت کو حرام کردے گا اور اس کا ٹھکانا جہنم ہوگا۔ “ کسی کام سے روکنا دراصل اس کے مخالف کام کے کرے کا حکم ہوتا ہے۔ اس لئے شرک سے روکنا درحقیقت عبادت میں اللہ تعالیٰ کے لئے اخلاص، اسی کے لئے محبت، اسی سے خوف، اسی سے امید، صرف اسی کے سامنے اظہار تذلل اور ہر وقت صرف اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–223
قول باری ہے : (وانہ لتنزیل رب العالمین۔ اور یہ رب العالمین کی نازل کردہ چیز ہے۔ ) تا قول باری (وانہ لفی زبر الاولین۔ اور اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی یہ موجود ہے۔ )
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے بارے میں بتادیا کہ رب العالمین کی نازل کردہ ہے اور پھر یہ خبر دی کہ یہ اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی موجود ہے۔ اب یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ قرآن اگلے لوگوں کی کتابوں میں عربی زبان کے اندر موجود نہیں تھا۔ اس سے یہ استدلال کیا جاسکتا ہے کہ قرآن کو کسی اور زبان میں منتقل کرنے سے اس کی قرآنیت ختم نہیں ہوتی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے علی الاطلاق یہ فرمادیا کہ قرآن اگلے لوگوں کی کتابوں میں موجود تھا حالانکہ ان…
Read the full tafseer →112 ایمان والوں کے لیے خاص شفقت و عنایت کا حکم و ارشاد : سو اس سے ایمان والوں کے لیے بازوئے شفقت جھکائے رکھنے کی ہدایت فرمائی گئی ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اور جھکائے رکھو اپنے بازوؤے شفقت ان ایمانداروں کیلئے جو آپکی پیروی کریں "۔ یعنی اپنے پرائے کا معیار و امتیاز ایمان و اتباع پر ہے اور بس۔ جس نے ایمان لا کر میری اطاعت و اتباع کی وہ اپنا۔ خواہ کوئی بھی ہو اور کہیں کا بھی ہو۔ حبشہ کا بلال ؓ ہو یا روم کا صہیب ؓ ۔ عرب کا خباب ؓ ہو یا فارس کا سلمان ؓ ۔ اور جس نے اس کے خلاف کیا وہ پرایا اور بیگانہ ہے۔ خواہ وہ قریش کا سردار ابوجہل اور خود اپنا چچا ابولہب ہی کیوں نہ ہو۔ مگر افسوس کہ اس کے باوجود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–227
قرآن کا عربی میں نزول اور عربی زبان کے گمراہ شعراء کا رد
تشریح : قرآن کی حقانیت ‘ افادیت اور حفاظت کا ذکر ہوچکا اور یہ بھی کہ یہ عربی زبان میں ہی کیوں اترا ؟ اس کے بارے میں مزید یہ کہ جہاں عربوں میں بہت سی برائیاں تھیں کچھ اچھائیاں بھی تھیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اپنی زبان ” عربی “ کی بےحد حفاظت کرتے تھے۔ اسی لیے عربی زبان بےحد وسیع ‘ جامع اور غیر متبدل (تبدیل نہ ہونے والی) زبان ہے۔ جبکہ باقی تمام زبانیں اپنی اصل سے بہت زیادہ ہٹ چکی ہیں۔ نبی اکرم ﷺ کو صاف طور پر احکامات سنائے گئے ہیں اور ان کو اللہ کی ذات جو کہ بےحد مہربان ہے پر پورا بھروسہ رکھنے اور نیکی پر ڈٹے رہنے کی ترغیب دی گئی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–227
آیات نمبر 192 تا 227:
اسرار و معارف
اسی طرح انسانیت کی ہدایت کے لیے پروردگار عالمین نے یہ قرآن اتارا ہے جسے نہایت ایماندار فرشتہ لے کر نازل ہوا ایسا کوئی احتمال نہیں کہ دورانِ نزول کوئی کمی بیشی ہوئی ہو پھر اس کا نزول آپ ﷺ قلب اطہر پہ ہوا کہ مضامین عقل محض تعمیر و اصلاح بدن کے لیے ہوتے ہیں جو کفار اور بدکاروں کی عقول میں بھی آتے ہیں اور انہیں کے بل پر وہ مادی مشینیں ایجاد کرتے ہیں تجارت کاروبار اور عالمی سیاست چلاتے ہیں مگر اس کتاب کے مضامین تو قلب میں وارد ہوئے جو کافر یا بدکار کو نصیب نہیں کہ اس کا قلب تو مردہ ہوتا ہے نیز اس میں صرف دنیا کے کمالات نہیں بلکہ امور دنیا میں اللہ کی معرفت و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 215–216
8 ۔ یعنی تمہارے برے کاموں کا مواخذہ تمہی سے ہوگا۔ میں اس سے بری الذمہ ہوں۔
Read the full tafseer →(26:215) اخفض۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر خفض مصدر باب ضرب ہے جس کے معنی پست ہونے نرم روی اختیار کرنے اور جھکنے کے ہیں۔ یہ رفع کی ضد ہے ۔ دوسری جگہ قرآن مجید میں ہے واخفض لہما جناح الذل (17:24) اور عجزو نیاز سے ان کے آگے (ماں باپ کے آگے) جھکے رہو۔
واخفض جناحک۔ اور اپنے پروں کو نیچے کیا کیجئے۔ یعنی مشفقانہ اور فروتنی سے پیش آئیے۔
من المؤمنین میں من تبعیضیہ ہے۔ یہاں دو مطلب ہوسکتے ہیں ایک یہ کہ انذر عشیرتک الاقربین کے نیچے میں تمہارے رشتہ داروں میں سے جو لوگ ایمان لاکر تمہاری پیروی اختیار کریں ان کے ساتھ نرمی اور ملاطفت کا رویہ اختیار کریں اور جو تمہاری بات نہ مانیں (آیت 216) ان سے اعلان برأت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 214–227
لغات القرآن : آیت نمبر 214 تا 227 :
عشیرۃ (قبیلہ۔ خاندان۔ رشتہ دار) اخفض (جھکا دے۔ عاجزی اور تواضع کر) جناح (بازو۔ پر) ‘ بری ئ (بیزار ۔ نفرت) ‘ توکل (بھروسہ کر) تقلب (الٹنا پلٹنا۔ اٹھنا بیٹھنا) ‘ افاک (بہتان و الزام لگانے والا) ‘ اثیم (گناہ کرنے والا۔ گناہ گار) ‘ الغاون (گمراہ لوگ) ‘ یھیمون (وہ گھومتے ہیں) ‘ انتصروا (انہوں نے بدلہ لیا) ‘ ای (کونسا) ‘ منقلب (لوٹنے والا) ‘ ینقلبون (وہ لوٹ کرجاتے ہیں) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 214 تا 227 :
نبی کریم خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ کے محبوب پیغمبر اور معصوم ہیں جن کی طرف کسی گناہ ‘ خطا یا شرک کا تصور کرنا بھی گناہ ہے۔ آپ کی سیرت و کردار اور قول و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 214–223
(ف 2) ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے محبوب ﷺ اپنے نزدیکی قرابت داروں کو بھی ڈراؤ چناچہ نبی ﷺ نے قریب کے رشتہ دار بنی ہاشم اور بنی مطلب کو علی الاعلان ڈرایاجیسا کہ بخاری ومسلم میں وارد ہے آگے فرمایا کہ اے محبوب جو ایمان والے تمہارے تابع ہیں ان کے لیے اپنی رحمت کا بازو بچھائے رکھو، یعنی شفقت سے پیش آیا کرو اور جو تمہاری نافرمانی کریں تو فرمادو کہ میں تمہارے افعال سے بری الذمہ ہون اور خدائے زبردست مہربان پر بھروسہ رکھو جو تم کو دیکھتا ہے نماز تہجد میں تم جس وقت اٹھتے ہو اور جب تم صحابہ کے ساتھ فرض نماز پڑھتے ہو تو اس نماز کا رکوع و سجود دیکھتا ہے بیشک آپ کا رب خوب سننے والا اور جاننے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 214–218
[36] اٹھنے سے مراد نماز کے لئے بھی اٹھنا ہوسکتا ہے اور تبلیغ رسالت کے لئے اٹھنا بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 214–218
حل لغات :۔ عشیرتک ۔ عشیرۃ کے معنی کنبے اور قبیلے کے ہیں ۔
Read the full tafseer →(215) اور مسلمانوں میں جو لوگ آپ کے پیرو ہیں اور آپ کی راہ پر چلتے ہیں ان کے سامنے اپنے بازو پست رکھیے یعنی فروتنی اور تواضع کے ساتھ پیش آئیے۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی شفقت میں رکھ ایمان والوں کو اپنے ہوں یا پرائے 12 غرض ! عام مسلمانوں کے ساتھ مشفقانہ برتائو کا حکم ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 215–220
ف 1۔ پس جب اس کو علم بھی کامل ہے اور آپ پر مہربان بھی ہے اور اس کو سب کچھ قدرت ہے تو ضرور وہ لائق توکل ہے، وہ آپ کو ضرر حقیقی سے بچاوے گا۔ (فائدہ) جو ضرر متوکل کو پہنچتا ہے وہ صوری ہوتا ہے جس کے تحت میں ہزاروں منافع ہوتے ہیں، جن کا کبھی دنیا میں کبھی آخرت میں ظہور ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →ایمان لانے والوں کے لئے اپنے دونوں بازو جھکا دیجئے :
215۔ نبی اعظم وآخر ﷺ کو اپنی رسالت ونبوت پر ایمان لانے والوں کے ساتھ نہایت ہی نرمی سے پیش آنے کی ہدایت دی جا رہی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ آپ ﷺ سے اس سلسلہ میں کوئی کوتاہی ہو رہی تھی جس کے باعث آپ ﷺ کو ہدایت دی گئی ہے ‘ ہرگز ایسا نہیں بلکہ اس کو ایسا سمجھیں جیسے کسی کام کرنے والے کی ہمت کو بندھانے کے لئے اس کو شاباش دی جاتی ہے اور ساتھ ہی یہ تلقین بھی کی جاتی ہے کہ جو کام جس خوبی سے آپ کر رہے ہیں اس کو مزید خوب سے خوب تر کرنے کی کوشش کرو تاکہ تم اس انعام کے مستحق ٹھہرو جو اس کو بحسن و خوبی نبھانے والوں کے لئے مقرر کیا گیا ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 214–223
وَأَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ ﴿214﴾
And warn the nearest people of your clan, -26:214.
` Ashirah'o, عَشِيرَۃ means clan and by limiting it with 'aqrabin (the nearest people) it is used for close relatives. It is worth noting here that the mission of the Holy Prophet ﷺ as a messenger is universal to the whole Ummah, then what is the wisdom in making it special for the members of the clan? But if we look at it rather closely, we will notice in it an easy and effective way for preaching, which would have far-reaching effect. One's own family members having the privilege of closeness…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 215–216
136 This can have two meanings: (1) "Treat those of your relatives with kindness, who have believed in you and followed your teachings practically; as for those who have not accepted your message, you may declare that you are not responsible for what they do." (2) "You should treat with kindness every such person, who believes in and obeys you, and you should warn every unbeliever that you take no responsibility for his actions." This verse shows that at that tune there were some people among the Quraish and the neighbouring Arabs, who had believed in the truth of the Holy Prophet's message;…
Read the full tafseer →