Explained with ayahs 210–212
یہ کتاب عزیز
یہ کتاب عزیز جس کے آس پاس بھی باطل پھٹک نہیں سکتا جو حیکم وحمید اللہ کی طرف سے اتری ہے جس کو روح الامین جو قوت وطاقت والے ہیں لے کر آئیں ہیں اسے شیاطین نہیں لائے پھر ان کے نہ لانے پر تین وجوہات بیان کی گئیں۔ ایک تو یہ کہ وہ اس کے لائق نہیں۔ ان کا کام مخلوق کو بہکانا ہے نہ کہ راہ راست پر لانا۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جو اس کتاب کی شان ہے اس کے سراسر خلاف ہے۔ یہ نور یہ ہدایت ہے یہ برہان ہے اور شیاطین ان تینوں چیزوں سے چڑتے ہیں وہ ظلمت کے دلدادہ اور ضلالت کے ہیرو ہیں۔ وہ جہالت کے شیدا ہیں پس اس کتاب میں اور ان میں تو تباین اور اختلاف ہے۔ کہاں وہ کہاں یہ ؟ دوسری وجہ یہ ہے کہ…
Read the full tafseer →سورة الشُّعَرَآء 130
پہلے اس معاملے کا مثبت پہلو ارشاد ہوا تھا کہ یہ رب العالمین کی نازل کردہ ہے اور اسے روح الامین لے کر اترا ہے۔ اب اس کا منفی پہلو بیان کیا جا رہا ہے کہ اسے شیاطین لے کر نہیں اترے ہیں جیسا کہ حق کے دشمنوں کا الزام ہے۔ کفار قریش نے نبی ﷺ کی دعوت کو نیچا دکھانے کے لیے جھوٹ کی جو مہم چلا رکھی تھی اس میں سب سے بڑی مشکل انہیں یہ پیش آ رہی تھی کہ اس حیرت انگیز کلام کی کیا توجیہ کی جائے جو قرآن کی شکل میں لوگوں کے سامنے آ رہا تھا اور دلوں میں اترتا چلا جا رہا تھا۔ یہ بات تو ان کے بس میں نہ تھی کہ لوگوں تک اس کے پہنچنے کو روک سکیں۔ اب پریشان کن مسئلہ ان کے لیے یہ تھا کہ لوگوں کو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 205–213
اَفَرَءَيْتَ اِنْ مَّتَّعْنٰهُمْ سِـنِيْنَ ، اس آیت میں اشارہ ہے کہ دنیا میں کسی کو عمر دراز ملنا بھی اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے لیکن جو لوگ اس نعمت کی ناشکری کریں ایمان نہ لائیں ان کو عمر دراز کی عافیت و مہلت کچھ کام نہ آئے گی۔ امام زہری نے نقل فرمایا ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز روز صبح کو اپنی داڑھی پکڑ کر اپنے نفس کو خطاب کر کے یہ آیت پڑھا کرتے تھے اَفَرَءَيْتَ اِنْ مَّتَّعْنٰهُمْ الآیتہ اس کے بعد ان پر گریہ طاری ہوجاتا اور یہ اشعار پڑھتے تھے، نھارک یا مغرور سھود غفلۃ، ولیلک نوم والروی لک لازم۔ فلا انت فی الایقاظ یقظان حازم، ولا انت فی النوم ناج وسالم۔ وتسعی الی ماسوف تکرہ غبہ، کذلک فی…
Read the full tafseer →وما تنزلت بہ الشیطن
اوپر آیت 192 میں جو بات مثبت پہلو سے فرمائی ہے وہی بات یہاں منفی پہلو سے ارشاد ہوئی ہے۔ ان مثت و منفی دونوں پہلوئوں کو سامنے رکھ کر آیت کا مطلب یہ ہوا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا اتارا ہوا کلام ہے۔ شیطین کا اتارا ہوا نہیں ہے جیسا کہ تم (یعنی قریش) سمجھتے یا کہتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 210–212
212-1ان آیات میں قرآن کی، شیطانی دخل اندازیوں سے، محفوظیت کا بیان ہے۔ ایک تو اس لئے کہ شیا طین کا قرآن لے کر نازل ہونا، ان کے لائق نہیں ہے۔ کیونکہ ان کا مقصد شر و فساد اور منکرات کی اشاعت ہے، جب کہ قرآن کا مقصد نیکی کا حکم اور فروغ اور منکرات کا سد باب ہے گویا دونوں ایک دوسرے کی ضد اور باہم منافی ہیں۔ دوسرے یہ کہ شیاطین اس کی طاقت بھی نہیں رکھتے، تیسرے، نزول قرآن کے وقت شیاطین اس کے سننے سے دور اور محروم رکھے گئے، آسمانوں پر ستاروں کو چوکیدار بنادیا گیا تھا اور جو بھی شیطان اوپر جاتا یہ ستارے اس پر بجلی بن کر گرتے اور بھسم کردیتے، اس طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن کو شیاطین سے بچانے کا خصوصی اہتمام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 210–213
49: یہاں سے چند ان باتوں کی تردید کی جا رہی ہے جو کفار مکہ قرآن کریم کے بارے میں کہا کرتے تھے۔ بنیادی طور پر ان کے دو دعوے تھے، بعض لوگوں کا کہنا تھا کہ معاذ اللہ آنحضرت ﷺ کاہن ہیں اور بعض لوگ آپ کو شاعر کہہ کر قرآن کریم کو شاعری کی کتاب قرار دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آیات میں ان دونوں باتوں کی تردید فرمائی ہے۔ ”کاہن“ ان لوگوں کو کہا جاتا تھا جن کا دعویٰ یہ تھا کہ جنات ان کے قبضے میں ہیں جو انہیں غیب کی خبریں لا کردیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں کاہنوں کی ٰیہ حقیقت بیان فرمائی ہے کہ جو جنات ان کے پاس آتے ہیں، وہ در اصل شیاطین ہیں۔ اور قرآن کریم کے مضامین ایسے ہیں کہ شیاطین کو کبھی پسند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 210–213
وما تنزلت ……لمعزولون (204)
اس سے قبل قرآن کریم کے بارے میں کہا گیا تھا کہ یہ رب العالمین کی طرف سے ہے اور اسے روح الامین لے کر آتے ہیں اور اس کے بعد بات آگے نکل گئی کہ یہ لوگ تکذیب پر تل گئے ہیں اور اپنی نادانی سے عذاب کے آنے میں شتابی کر رہے ہیں۔ لیکن قرآن کے بارے میں وہ یہ الزام بھی لگاتے تھے کہ یہ شیاطین کی طرف سیالقائہوتا ہے۔ جس طرح کاہنوں پر شیاطین کچھ کلمات القا کرتے ہیں جن میں بعض خبریں غیب کی ہوتی ہیں اور جن کی وجہ سے وہ کہانت کی دکان چمکاتے ہیں۔
لیکن یہاں اس کی تردید کی جاتی ہے کہ ہر مذہب و ملت جانتی ہے کہ شیطان کا کیا کام ہوتا ہے جبکہ قرآن تو اصلاح اور ہدایت کا کام کرتا ہے اور شیطان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 210–211
2 درمیان میں مکذبین کے احوال بیان فرما کر پھر اصل مضمون (وَاِنَّهٗ لَتَنْزِيْلُ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ 192ۭ نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِيْنُ 193ۙ ) 26 ۔ الشعرآء :192) کی تکمیل و تمیم فرماتے ہیں۔ یعنی یہ کتاب خدا تعالیٰ کے ہاں سے جبرائیل امین لائے ہیں۔ شیاطین کی سکھلائی ہوئی چیز نہیں۔ بھلا شیاطین سے کہاں ممکن ہے کہ ایسی کتاب بن آئے۔ ان کی طبائع کا خاصہ تو گمراہی، فساد، اور ظلمت پھیلانا ہے۔ اور یہ کتاب اول سے آخر تک رشد و صلاح اور نور ہدایت سے بھری ہوئی ہے جس کی تعلیم سے وہ جماعت تیار ہوئی۔ جس سے زیادہ آسمان کے نیچے بجز انبیاء کے کوئی پاک باز، صادق، خدا ترس اور خدا پرست جماعت نہیں تو اس کتاب کے…
Read the full tafseer →آیت 210 وَمَا تَنَزَّلَتْ بِہِ الشَّیٰطِیْنُ ”
عربوں کے ہاں عام لوگ شاعروں کے بارے میں یہ خیال رکھتے تھے کہ ان کے قابو میں جن ہوتے ہیں جو ان کو نئی نئی اور اچھی اچھی باتیں اشعار کی شکل میں جوڑ جوڑ کردیتے رہتے ہیں۔ چناچہ جب قرآن نازل ہونا شروع ہوا تو بعض مشرکین نے اس کے بارے میں بھی کہنا شروع کردیا کہ اسے شیاطینِ جن نازل کر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →123 اس آیت کا تعلق سابقہ آیت وانہ لتنزیل رب العالمین سے ہے درمیان میں قرآن کو جھٹلانے والوں کے کچھ احوال بیان کرنے کے بعد اصل مضمون کی طرف رجوع کیا گیا ہے کفار مکہ کے الزامات میں سے ایک الزام بھی تھا کہ وہ آپ کو کاہن کہتے بھی تھے اور سمجھتے بھی تھے۔ چناچہ جندب بن سفیان فرماتے ہیں۔ کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ کا مزاج ناساز ہوا اور آپ دو تین رات نماز تہجد کے لئے اٹھ نہ سکے۔ ایک عورت) عوراء بنت حرب، ابو سفیان کی بہن، ابو لہب کی بیوی پاس کے پاس آئے اور کہنے لگی محمد) ! ﷺ ( میں سمجھتی ہوں۔ تیرے شیطان نے تجھ کو چھوڑ دیا۔ دو تین راتوں سے تیرے پاس نہیں آیا اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ ~) (…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 210–211
110۔ (جو اس کے مضامین میں کسی خلط کا احتمال ہو، یا اسے غیر خدائی وضع وتحریف کا نتیجہ سمجھا جائے)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–227
آیت نمبر 192 تا 227
ترجمہ : بلاشبہ یہ یعنی قرآن رب العالمین کا نازل فرمودہ ہے اس کو روح الامین یعنی جبرائیل آپ کے قلب پر لیکر اترے ہیں صاف عربی زبان میں تاکہ آپ ڈرانے والوں میں ہوجائیں اور ایک قرأۃ میں نَزَّلَ تشدید اور روح کے نصب کے ساتھ ہے اور فاعل اللہ ہے اور بلاشبہ محمد ﷺ پر نازل شدہ قرآن کی خبر پہلے لوگوں کی کتابوں مثلاً تورات و انجیل میں ہے کیا ان کے لئے قرآن کی صداقت کی یہ نشانی کافی نہیں کہ اس کو بنی اسرائیل کے علماء بھی جانتے ہیں ؟ جیسا کہ عبد اللہ بن سلام اور ان کے وہ ساتھی جو ایمان لائے، وہ اس کی حقانیت کی خبر دیتے ہیں اور یَکُنْ یا کے ساتھ اور آیۃً کے نصب کے ساتھ اور تا کے ساتھ…
Read the full tafseer →وما تنزلت بہ الشیطین۔ اور قرآن کو شیاطین لے کر نہیں اترے یعنی مشرکوں کا یہ قول غلط ہے کہ شیاطین محمد پر قرآن کا القاء کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 210–212
(210 تا 212) اور اس قرآن کریم کو شیاطین لے کر نہیں آئے کیونکہ یہ ان کی حالت کے مناسب بھی نہیں اور نہ وہ اس کے اہل ہیں اور وہ اس پر قادر بھی نہیں کیوں کہ وہ شیاطین وحی آسمانی سے روک دیے گئے ہیں۔
Read the full tafseer →وَمَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّيٰطِيْنُ : یہ ذکر کرنے کے بعد کہ یہ قرآن رب العالمین کا نازل کردہ ہے، جسے جبریل امین لے کر آپ کے دل پر اترا ہے، اب ان لوگوں کی تردید فرمائی جو کہتے تھے کہ محمد ﷺ کے پاس یہ وحی شیطان لاتے ہیں، جیسا کہ جندب بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ جبریل ؑ کی آمد رک گئی تو قریش کی ایک عورت کہنے لگی : ”أَبْطَأَ عَلَیْہِ شَیْطَانُہُ“ ”اس کے شیطان نے اس کے پاس آنے میں دیر کردی ہے۔“ تو اس پر یہ آیات اتریں : (وَالضُّحٰى وَالَّيْلِ اِذَا سَـجٰى مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلٰى) [ الضحٰی : 1 تا 3 ] ”قسم ہے دھوپ چڑھنے کے وقت کی ! اور رات کی جب وہ چھا جائے ! نہ تیرے رب نے تجھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 210–213
(وما تنزلت بہ الشطین۔۔۔۔۔۔۔۔۔ )
وما تنزلت بہ الشطین ہ ضمیر سے مراد قرآن ہے بلکہ اسے روح الامین نے نازل کیا ہے۔
وما یبغی لھم وما یبطیعون۔ انھم عن السمع المعزولون جس طرح سورة حجر میں بیان کیا گیا ہے انہیں شہابچے مار کر سننے سے روک دیا گیا ہے۔ حضرت حسن بصری اور محمد بن سمیقع اسے وما تنزلت بہ الشیاطون پڑھا کرتے۔ مہدوی نے کہا : یہ لغت عرب میں جائز نہیں اور خط کے مخالف ہے۔ نحاس نے کہا : یہ تمام نحویوں کے نزدیک غلط ہے۔ میں نے علی بن سلیمان کو کہتے ہوئے سنا، وہ کہتے میں نے محمد بن زیاد کو کہتے ہوئے سنا : یہ علماء کے نزدیک غلط ہے یہ شبہ کے داخل ہونے کی وجہ سے ہوا جب حضرت حسن بصری نے اس کے آخری میں یاء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–213
1۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وانہ لتنزیل رب العالمین “ سے مراد ہے یہ قرآن ” نزل بہ الروح الامین “ سے مراد ہے جبرئیل علیہ السلام۔
2۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” نزل بہ الروح الامین “ میں الروح الامین سے مراد ہے جبرئیل (علیہ السلام) میں نے دیکھا کہ اس کے چھو پر ہیں موتیوں سے انہوں نے پھیلادیا تو وہ مور کے پروں کی طرح تھے۔
3۔ ابن مردویہ نے سعد ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا اس وقت روح امین یعنی جبرئیل (علیہ السلام) نے میرے دل میں یہ بات پھونک دی کہ ہرگز کوئی نفس نہیں مرے گا یہاں تک کہ اپنے رزق کو پورا نہ کرے اگرچہ وہ اس…
Read the full tafseer →وَمَا تَنَزَّلَتْ [ اور نہیں اترتے ] بِهِ [ اس (قرآن) کے ساتھ ] الشَّيٰطِيْنُ [ شیاطین ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 209–210
اس کے بعد پھر قرآن مجید کی حفاظت کا تذکرہ فرمایا (وَمَا تَنَزَّلَتْ بِہِ الشَّیَاطِیْنُ ) (کہ اس قرآن کو شیاطین لے کر نازل نہیں ہوئے) (وَمَا یَنْبَغِیْ لَہُمْ ) (اور یہ ان کے لیے درست بھی نہیں ہے) (وَمَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ) (اور وہ اس پر قدرت بھی نہیں رکھتے) (اِِنَّہُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُوْلُوْنَ ) (بلاشبہ وہ اس کے سننے سے روک دیئے گئے ہیں) یعنی یہ لوگ وحی آسمانی کو سن بھی نہیں سکتے اس پر انہیں بالکل ہی قدرت نہیں ہے، صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ اس میں مشرکین قریش کی اس بات کی تردید ہے جو انہوں نے کہا تھا کہ ایک جن محمد ﷺ کے تابع ہے وہ آپ کو قرآن سنا دیتا ہے اور آپ اسی کو نقل فرما دیتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 210–223
ابطال کہانت
وما تنزلت بہ الشیطین وما ینبغی لہم وما یستطیعون انہم عن السمع لمعزولون۔
گزشتہ آیات میں یہ بتلایا کہ یہ قرآن اللہ رب العالمین کا نازل فرمودہ ہے جس کو جبریل امین (علیہ السلام) لے کے آپ ﷺ کے قلب پر اترے ہیں۔ اب آگے ان لوگوں کے قول کا رد کرتے ہیں کہ جو یہ کہتے ہیں کہ یہ قرآن جن اور شیاطین کا القا ہے۔ جیسے شیاطین کاہنوں پر القا کرتے ہیں یہ بھی اسی قسم کا کلام ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں کہ اور اس قرآن کو شیاطین لے کر نہیں اترتے جو کاہنوں کے پاس آیا کرتے تھے۔ جیسا کہ مشرکین کہتے ہیں بلکہ اس قرآن کو تو جبریل امین (علیہ السلام) خدا تعالیٰ کی طرف سے لے کر آئے ہیں اور نہ شیاطین کے لئے یہ سزاوار ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 209–210
73:۔ یہ ” وانہ لتنزیل رب العلمین “ سے متعلق ہے۔ اس کے بارے میں مشرکین نے دو شب ہے ظاہر کیے تھے اول یہ کہ محمد ﷺ کے تابع جن ہیں جو اس کے پاس خبریں لاتے ہیں۔ دوم یہ کہ وہ شاعر ہے اور اس کا کلام شاعرانہ ہوتا ہے جو سننے والوں کو فوراً متاثر کردیتا ہے۔ یہ مشرکین کے پہلے شبہہ کا جواب ہے۔ وھو رد لقول مشرکی قریش ان لمحمد ﷺ تابعا من الجن یخبرہ کما تخبر الکھنۃ وان القران مما القاہ الیہ (علیہ الصلوۃ والسلام) (روح ج 19 ص 132) ۔ یعنی اس قرآن کو جو دعوی ” تبارک “ پر مشتمل ہے شیاطین لے کر نہیں آئے۔ کیونکہ شیاطین جو سراسر ناپاک اور خبیث ہیں اس لائق ہی نہیں اور نہ ان میں اس کی طاقت ہی ہے اس لیے کہ ملا اعلی کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 210–223
ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر کیا تھا اور اس کا اجمالی تعارف کرایا تھا۔ اس عظیم کتاب کو جبرائیل میں نے پروردگار عالم کے حکم سے نازل کیا ۔ یہ کلام الٰہی پیغمبر کے قلب مبارک پر نہایت فصیح وبلیغ عربی زبان میں اتارا گیا ۔ اس کے نزول کا مقصد یہ بیان کیا گیا کہ اللہ کے نبی اس کے ذریعے لوگوں کو ان کے آخرت کے برے انجام سے ڈرا دیں ۔ یہ وہی کتاب ہے جس کے مضامین اور پیشن گوئیاں سابقہ کتب میں بھی موجود تھیں ۔ ان حقائق کے باوجود جو شخص اس قرآن کا انکار کرتا وہ کافر اور گمراہ تصور ہوگا ۔ قرآن کے منکرین میں سے بعض اسے سحرے تعبیر کرتے ہیں ۔ جب کہ بعض دوسرے اسے…
Read the full tafseer →وَمَا تَنَزَّلَتْ بِہِ الشَّيٰطِيْنُ 210
نزل
النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ.
يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106]
( ن ز ل ) النزول ( ض )
اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن دابۃ وہ سواری سے اتر پڑا ۔ نزل فی مکان کذا کسی جگہ پر ٹھہر نا انزل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 199–210
ترکیب : : یہیمون خبران کی اور حال بھی ہوسکتا ہے تب خبر فی کل واد ہوگی۔ منقلب صفت ہے مصدر محذوف کی والعامل ینقلبون ای ینقلبون انقلاب ای منقلب۔
تفسیر : قرآن پر شبہات کا جواب : مگر اس پر بھی وہ یہ شبہ کرتے تھے کہ جبرئیل نہیں بلکہ شیاطین آنحضرت ﷺ پر القاء کرتے ہیں اور ہر مخالف کہہ سکتا ہے کہ یہ کیونکر معلوم ہوا کہ وہ القا کرنے والے جبرئیل امین ہیں کوئی شیطان نہیں۔ اس کا کیا ہی تسلی بخش جواب عطا کرتا وما تنزلت بہ الشیاطین کہ شیاطین نے تو اس کو نازل نہیں کیا ہے کیونکہ وما ینبغی لہم یہ ان کے قبضہ قدرت سے باہر ہے۔ کس لیے کہ شیاطین اور ارواح خبیثہ کو مضامین خبیثہ سے دلی رغبت ہے ناپاک باتیں ان کی خوراک…
Read the full tafseer →وَمَا تَنَزَّلَتْ بِہِ الشَّیٰـطِیْنُ ۔ (الشعرآء : 210)
(اس کو شیاطین لے کر نہیں اترے ہیں۔ )
مخالفین کے الزام کی تردید
اس سے پہلے آیت 92 میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ یہ قرآن کریم رب العالمین کا نازل کردہ ہے اور اسے لے کر روح الامین آنحضرت ﷺ کے قلب اطہر پر اترے ہیں۔ اب اسی بات کا منفی پہلو بیان کیا جارہا ہے اور اس کی ضرورت اس لیے پیش آئی ہے کہ قریش نبی کریم ﷺ کی دعوت کو ناکام کرنے کے لیے جو الزامات لگاتے تھے ان میں سے ایک یہ تھا کہ محمد ﷺ جو حیرت انگیز کلام پیش کررہے ہیں اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ہے بلکہ اس کی تأثیر اور اعجاز کی وجہ یہ ہے کہ اس کلام کے نزول میں شیاطین شامل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 203–210
فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید کے بارے میں کفار کی ہرزہ سرائی اور اس کا جواب۔
کفار ہرزہ سرائی کرتے ہوئے رسول محترم ﷺ پر یہ الزام بھی لگاتے کہ اس پر فرشتہ نازل ہونے کی بجائے کوئی شیطان مسلط ہوچکا ہے۔ جو اس کے دل میں مختلف قسم کے خیالات ڈالتا ہے۔ جسے یہ خاص انداز میں ہمارے سامنے بیان کرتا ہے۔ اس الزام کی تردید کرتے ہوئے یہ دلیل دی گئی ہے کہ نہ آپ پر شیاطین کوئی بات نازل کرتے ہیں اور نہ ہی شیطان ایسا کرسکتے ہیں اور نہ ان میں ایسا کرنے کی طاقت اور صلاحیت ہے۔ وحی کا سلسلہ اس قدر مضبوط اور محفوظ ہے کہ شیطان اس سے کوسوں میل دور رکھے جاتے ہیں۔
شیطان کا پہلا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں سے اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →210: جب مشرکین نے یہ پروپیگنڈہ کیا کہ شیاطین محمد (ﷺ) پر قرآن لاتے ہیں تو یہ آیت اتری۔ وَمَا تَنَزَّلَتْ بِہِ الشَّیٰطِیْنُ
(اور اس قرآن کو شیاطین لے کر نہیں اترتے) ۔
Read the full tafseer →210۔ وماتنزلت بہ الشیاطین۔ مشرکین یہ کہتے تھے کہ شیطان آپ پر قرآن القاء کرتا تھا، اس کی تردید میں اللہ نے فرمایا، وماتنزلت ، ہم نے قران کو شیطان کے ذریعے نازل نہیں کیا، اور نہ ہی اس کا القاء کردہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 208–213
(208 تا 213) یہ آیت مثل بنی اسرائیل کی آیت وَمَا کُنَّا مُعَذّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلًا کے ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ بغیر رسول بھیجے اور سمجھائے خدا عذاب نہیں کرتا جیسا کہ سورة القصص میں فرمایا وما کان ربک مھلک القریٰ حتی یبعث فی امھا رسولا یتلو علیھم اثینا وما کنا مھل کی القریٰ الا واھلھا ظلمون جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نہیں کھپاتے بستیوں کو مگر جب رسولوں کے بھیجنے کے بعد بستی والے ظلم کرتے ہیں غرض برے عمل عذاب کا سبب ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ ظالم نہیں ہے پھر فرمایا قرآن شریف میں جو نیک باتیں ہیں وہ کام شیطان کا نہیں ہے اور شیاطین تو قرآن شریف اللہ کے ہاں سے معتبر فرشتہ کی معرفت اس بڑے انتظام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 209–212
آیت 209 سے 212
اللہ تبارک و تعالیٰ ، اہل تکذیب کو ہلاک کرنے کے بارے میں اپنے عدل کامل کے متعلق آگاہ فرماتا ہے کہ وہ کسی بسی پر اس وقت تک عذاب اور ہلاکت نہیں کرتا جب تک ان کا عذر ختم نہ ہوجائے اور ان پر حجت قائم نہ ہوجائے۔ وہ ان کے اندر، ان کو برے انجام سے ڈرانے والے مبعوث کرتا ہے جو انہیں واضح آیات کے ذریعے سے ڈراتے ہیں، انہیں ہدایت کی طرف بلاتے ہیں، انہیں ہلاکت کے گڑھے میں گرنے سے روکتے ہیں، وہ انہیں اللہ تعالیٰ کی آیات کے ذریعے سے نصیحت کرتے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کی ناراضی کے بارے میں اس کی عادت سے متنبہ کرتے ہیں۔ (ذکری) ” نصیحت “ یعنی یہ اتمام حجت ان کے لئے یا ددہانی اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–223
قول باری ہے : (وانہ لتنزیل رب العالمین۔ اور یہ رب العالمین کی نازل کردہ چیز ہے۔ ) تا قول باری (وانہ لفی زبر الاولین۔ اور اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی یہ موجود ہے۔ )
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے بارے میں بتادیا کہ رب العالمین کی نازل کردہ ہے اور پھر یہ خبر دی کہ یہ اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی موجود ہے۔ اب یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ قرآن اگلے لوگوں کی کتابوں میں عربی زبان کے اندر موجود نہیں تھا۔ اس سے یہ استدلال کیا جاسکتا ہے کہ قرآن کو کسی اور زبان میں منتقل کرنے سے اس کی قرآنیت ختم نہیں ہوتی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے علی الاطلاق یہ فرمادیا کہ قرآن اگلے لوگوں کی کتابوں میں موجود تھا حالانکہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 208–210
107 شیاطین کا اس کتاب حکیم سے کچھ تعلق نہیں ہوسکتا : سو ارشاد فرمایا گیا اور اس ۔ کتاب حکیم ۔ کو شیاطین لے کر نہیں اترے "۔ جیسا کہ ان لوگوں کا کہنا تھا۔ چناچہ صحیح بخاری کی روایت کے مطابق ایک مرتبہ جب کچھ عرصہ کے لئے وحی رک گئی تو کفار قریش کی ایک عورت نے آنحضرت ۔ ﷺ ۔ کے لئے کہا ۔ " قَدْ وَدَّعَہٗ شَیْطَانُہٗ " ۔ " اس کو اس کے شیطان نے چھوڑ دیا " کہ اب وحی کا آنا بند ہوگیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو جو بات اوپر مثبت انداز میں ارشاد فرمائی گئی تھی اسی کو اب منفی انداز میں ارشاد فرمایا جارہا ہے تاکہ مضمون مزید موکد اور پختہ ہوجائے۔ یعنی پہلے مثبت انداز میں ارشاد فرمایا گیا تھا کہ یہ کلام رب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–227
قرآن کا عربی میں نزول اور عربی زبان کے گمراہ شعراء کا رد
تشریح : قرآن کی حقانیت ‘ افادیت اور حفاظت کا ذکر ہوچکا اور یہ بھی کہ یہ عربی زبان میں ہی کیوں اترا ؟ اس کے بارے میں مزید یہ کہ جہاں عربوں میں بہت سی برائیاں تھیں کچھ اچھائیاں بھی تھیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اپنی زبان ” عربی “ کی بےحد حفاظت کرتے تھے۔ اسی لیے عربی زبان بےحد وسیع ‘ جامع اور غیر متبدل (تبدیل نہ ہونے والی) زبان ہے۔ جبکہ باقی تمام زبانیں اپنی اصل سے بہت زیادہ ہٹ چکی ہیں۔ نبی اکرم ﷺ کو صاف طور پر احکامات سنائے گئے ہیں اور ان کو اللہ کی ذات جو کہ بےحد مہربان ہے پر پورا بھروسہ رکھنے اور نیکی پر ڈٹے رہنے کی ترغیب دی گئی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–227
آیات نمبر 192 تا 227:
اسرار و معارف
اسی طرح انسانیت کی ہدایت کے لیے پروردگار عالمین نے یہ قرآن اتارا ہے جسے نہایت ایماندار فرشتہ لے کر نازل ہوا ایسا کوئی احتمال نہیں کہ دورانِ نزول کوئی کمی بیشی ہوئی ہو پھر اس کا نزول آپ ﷺ قلب اطہر پہ ہوا کہ مضامین عقل محض تعمیر و اصلاح بدن کے لیے ہوتے ہیں جو کفار اور بدکاروں کی عقول میں بھی آتے ہیں اور انہیں کے بل پر وہ مادی مشینیں ایجاد کرتے ہیں تجارت کاروبار اور عالمی سیاست چلاتے ہیں مگر اس کتاب کے مضامین تو قلب میں وارد ہوئے جو کافر یا بدکار کو نصیب نہیں کہ اس کا قلب تو مردہ ہوتا ہے نیز اس میں صرف دنیا کے کمالات نہیں بلکہ امور دنیا میں اللہ کی معرفت و…
Read the full tafseer →3 ۔ کہ جس طرح کاہنوں پر شیاطین اپنا کلام لے کر نازل ہوتے ہیں، اس طرح محمد (ﷺ) پر بھی یہ کلام شیطانوں ہی کا نازل کردہ ہے۔
Read the full tafseer →(26:210) ما تنزلت بہ : ما نافیہ ہے۔ تنزلت ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب قرآن کے لئے ہے۔ اس قرآن کو (جماعت) شیاطین لے کر نہیں اتری ۔ تنزل (تفعل) مصدر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–213
لغات القرآن : آیت نمبر 192 تا 213 :
روح الامین (حضرت جبرئیل امین (علیہ السلام) ) ‘ لسان (زبان) ‘ زبر (صحیفے۔ کتابیں) ‘ اعجمین (عجمی لوگ۔ گونگے) ‘ سلکنا (ہم نے چلایا (داخل کیا) ‘۔ حتی یروا (جب تک وہ دیکھ نہ لیں) ‘ بغتۃ (اچانک) ‘ منظرون (مہلت دیئے گئے) یستعجلون (وہ جلدی کرتے ہیں) ‘ متعنا ( ہم نے فائدہ پہنچایا) ‘ ما اغنی (کام نہ آیا) یمتعون ( وہ فائدہ اٹھاتے ہیں) ‘ منذرون (ڈرانے والے) ‘ ذکری (نصیحت۔ یاددھانی) ‘ ماینبغی (مناسب نہیں ہے۔ شان نہیں ہے) ‘ یستطیعون (وہ طاقت رکھتے ہیں) ‘ معزولون (دور کردیئے گئے) ‘ لاتدع (نہ پکار) ‘ المعذبین (عذاب میں مبتلا کئے گئے) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 192 تا 213 :
اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 208–213
(ف 1) آگے فرمایا کہ جتنی بستیاں منکریں کی ہم نے غارت کی ہیں سب میں نصیحت کے واسطے ڈرانے والے پیغمبر بھیجے۔ اور جب نبی کا کہنا نہ ماناتو عذاب نازل کردیا، اور ہم ظالم نہیں ہیں جو کسی کو بدوں ڈرانے اور بدوں کسی نافرمانی کیے ہوئے پر عذاب بھیج دیں۔ مشرک کہتے تھے کہ یہ شخص کاہن ہے اور کوئی جن اس کے اوپر قرآن لاتا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قرآن کو دیو اور شیطاطین لے کر نہیں آتے جیسا کہ تم گمان کرتے ہو، شیاطین میں قرآن لانے کی قابلیت کب ہے اور ان کو کیا قدرت ہے ، کہ آسمان سے قرآن کو سن کر رسول کو پہنچادیں رسول اللہ کے بھیجنے کے بعد شیاطین آسمان کی بات سننے سے موقوف کردیے گئے اب وہاں سے سن کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 201–213
[35] یہ فرمایا رسول کو مگر دراصل اس سے مقصود کفار و مشرکین کو متنبہ کرنا ہے ورنہ پیغمبر کو شرک سے مناسبت ہی کیا ہوسکتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب یہ کتاب بلاشک و شبہ اللہ کی اتاری ہوئی ہے، شیطان کا اس میں ذرہ بھر دخل نہیں تو چاہئے کہ اس کی تعلیم پر چلو۔ جس میں اصل اصول توحید ہے اور شرک وکفر کی شیطانی راہ مت اختیار کرو۔ ورنہ عذاب الٰہی میں مبتلا ہوجاؤ گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 200–213
سلکنہ مستعدی بیک مفعول بھی ہے ۔ اور بدومفعول بھی یعنی سل کہ کے معنی یہ بھی ہیں ۔ کہ وہ داخل ہوا ۔ اور یہ بھی کہ اس نے اس کو داخل کیا ۔
Read the full tafseer →(210) اور اس قرآن کریم کو شیاطین لے کر نہیں اترے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 208–213
ف 7۔ حالانکہ آپ میں نعوذ باللہ نہ احتمال شرک کا نہ تعزیب کا، پس جب آپ کے اعتبار سے بھی ان دونوں میں تلازم کا حکم کیا جاتا ہے تو اور بےچارے تو کس شمار ہیں، شرک سے ان کو کیسے منع نہ کیا جاوے گا، اور شرک کر کے عذاب سے کیونکر بچیں گے۔
Read the full tafseer →اس قرآن کریم کو شیطان تولے کر نہیں اترے تھے :
210۔ مخالفین قرآن کے ادہام کی تردید کی جارہی ہے کہ تم مخالفت کے باعث یہ کہتے ہو کہ اس کلام کو اس شخص پر کسی جن یا شیطان کی طرف سے القا کیا جاتا ہے حالانکہ ایسے کلام کی شیطان یا جن کی طرف نسبت کرنا خود اپنی عقل کا جنازہ نکالنے کے مرادف ہے کیونکہ شیطان جو مجسمہ برائی ہے اس سے سراسر خیر ہی خیر کا صدور کیوں اور کیسے ؟ اچھا اگر تم نے اس کی نسبت شیطان یا جن کی طرف کی ہے تو اس کا ثبوت پیش کرنا بھی تو تمہارے ہی ذمہ کی بات ہے ، صرف ایک بات کہہ دینا جس کا کوئی سرپیر نہ ہو بذاتہ جنون کی نشانی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان ہی نے تم کو متاثر کیا ہے جس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 205–213
أَفَرَأَيْتَ إِن مَّتَّعْنَاهُمْ سِنِينَ ﴿205﴾
So tell me, If We give them enjoyment for years, - 26:205.
There is a hint in this verse that those who are bestowed with long life in this world by Allah Ta’ ala, it is His grace on them. But those who show ingratitude for this grace and do not submit to Islam, to them this respite and grace will not be of any avail. Imam Zuhri (رح) has related that Sayyidna ` Umar ibn ` Abdul Aziz (رح) used to recite this verse every morning by holding his beard and addressing his Self:
نھارک یا مغرور سھو و غفلۃ ولیلک نوم والرّدیٰ لک لازم
فلا انت فی الایقاظ…
Read the full tafseer →130 After the positive aspect as stated in vv. 192-193, the negative aspect is being stated that the Qur'an has not been brought down by satans as the enemies of the Truth allege. The unbelieving Quraish in their campaign to spread lies and slander against the Holy Prophet were facing a real difficulty. They did not know how to account for the wonderful discourses which were being presented before the people in the form of the Qur'an and which were moving their hearts deeply. They could not stop the Qur'an from reaching the people. The only thing they could do to counteract its effect and…
Read the full tafseer →