Ash-Shu'araa 26:211

Ash-Shu'araa · from ayah 211

26:211

وَمَا یَنْۢبَغِیْ لَهُمْ وَمَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ۟ؕوَمَا يَنۡۢبَغِىۡ لَهُمۡ وَمَا يَسۡتَطِيۡعُوۡنَؕ

یہ کام نہ تو ان کو سزاوار ہے اور نہ وہ اس کی طاقت رکھتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

It is not allowable for them, nor would they be able.

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 11 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:211

نہ یہ کام ان کو سجتا ہے، اور نہ وہ ایسا کر ہی سکتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہ کام نہ تو ان کو سزاوار ہے اور نہ وہ اس کی طاقت رکھتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

نہ وه اس کے قابل ہیں، نہ انہیں اس کی طاقت ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

نہ یہ قرآن ان کے مطلب کا ہے اور نہ وہ ایسا کرسکتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور وہ اس قابل نہیں اور نہ وہ ایسا کرسکتے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

نہ (یہ) ان کے لئے سزاوار ہے اور نہ وہ (اس کی) طاقت رکھتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور نہ یہ ان کے لائق ہے اور نہ وہ یہ کرسکتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ بات تو ان کے لائق ہے اور نہ ہی وہ ایسا کرسکتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

نہ یہ ان کے لئے لائق ہے اور نہ یہ ان کے بس کا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

نہ تو وہ اس کام کے لائق ہیں اور نہ ہی وہ ایسا کرسکتے ہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

اور نہ وہ اس قابل اور نہ یہ ان کے بس کی بات۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور نہ تو ایسا کرنا ان کے لائق ہے اور نہ ہی وہ اس کی استطاعت رکھتے ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہ کام نہ ان کو سزا وار ہے اور نہ وہ اس کی طاقت رکھتے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

nor does it behove them, nor does it lie in their power.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

It neither suits them, nor are they able to (do this).

— Muhammad Taqi Usmani

It neither suits them, nor are they able to (do this).

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Neither would it suit them nor are they able.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

It is not meet for them, nor is it in their power,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

It is not allowable for them, nor would they be able.

— Saheeh International

they are not supposed to do so. Nor do have they the ability for such a task.

— Muhammad Sarwar

And it behoves them not, and they have not the power to do (it).

— Muhammad Habib Shakir

It behoveth them not, nor they can.

— Abdul Majid Daryabadi

It would neither suit them nor would they be able (to produce it).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 26:211

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 210–212

یہ کتاب عزیز یہ کتاب عزیز جس کے آس پاس بھی باطل پھٹک نہیں سکتا جو حیکم وحمید اللہ کی طرف سے اتری ہے جس کو روح الامین جو قوت وطاقت والے ہیں لے کر آئیں ہیں اسے شیاطین نہیں لائے پھر ان کے نہ لانے پر تین وجوہات بیان کی گئیں۔ ایک تو یہ کہ وہ اس کے لائق نہیں۔ ان کا کام مخلوق کو بہکانا ہے نہ کہ راہ راست پر لانا۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جو اس کتاب کی شان ہے اس کے سراسر خلاف ہے۔ یہ نور یہ ہدایت ہے یہ برہان ہے اور شیاطین ان تینوں چیزوں سے چڑتے ہیں وہ ظلمت کے دلدادہ اور ضلالت کے ہیرو ہیں۔ وہ جہالت کے شیدا ہیں پس اس کتاب میں اور ان میں تو تباین اور اختلاف ہے۔ کہاں وہ کہاں یہ ؟ دوسری وجہ یہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الشُّعَرَآء 131 یعنی یہ کلام اور یہ مضامین شیاطین کے منہ پر پھبتے بھی تو نہیں ہیں۔ کوئی عقل رکھتا ہو تو خود سمجھ سکتا ہے کہ کہیں یہ باتیں، جو قرآن میں بیان ہو رہی ہیں، شیاطین کی طرف سے بھی ہو سکتی ہیں ؟ کیا تمہاری بستیوں میں کاہن موجود نہیں ہیں اور شیاطین سے ربط ضبط رکھ کر جو باتیں وہ کرتے ہیں وہ تم نے کبھی نہیں سنیں ؟ کیا کبھی تم نے سنا ہے کہ کسی شیطان نے کسی کاہن کے ذریعہ سے لوگوں کو خدا پرستی اور خدا ترسی کی تعلیم دی ہو ؟ شرک و بت پرستی سے روکا ہو ؟ آخرت کی باز پرس کا خوف دلایا ہو ؟ ظلم اور بدکاری اور بد اخلاقیوں سے منع کیا ہو ؟ نیکو کاری اور راستبازی اور خلق خدا کے ساتھ احسان کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 205–213

اَفَرَءَيْتَ اِنْ مَّتَّعْنٰهُمْ سِـنِيْنَ ، اس آیت میں اشارہ ہے کہ دنیا میں کسی کو عمر دراز ملنا بھی اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے لیکن جو لوگ اس نعمت کی ناشکری کریں ایمان نہ لائیں ان کو عمر دراز کی عافیت و مہلت کچھ کام نہ آئے گی۔ امام زہری نے نقل فرمایا ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز روز صبح کو اپنی داڑھی پکڑ کر اپنے نفس کو خطاب کر کے یہ آیت پڑھا کرتے تھے اَفَرَءَيْتَ اِنْ مَّتَّعْنٰهُمْ الآیتہ اس کے بعد ان پر گریہ طاری ہوجاتا اور یہ اشعار پڑھتے تھے، نھارک یا مغرور سھود غفلۃ، ولیلک نوم والروی لک لازم۔ فلا انت فی الایقاظ یقظان حازم، ولا انت فی النوم ناج وسالم۔ وتسعی الی ماسوف تکرہ غبہ، کذلک فی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 211–212

یہ دلیل ارشاد ہوئی ہے اس بات کی کہ کیوں یہ شیطانی کلام نہیں ہو سکتا۔ پہلی دلیل اس کی یہ ہے کہ وما ینبغی لھم، یعنی اس طرح کا کلام اتنارنا شیاطین کے لائق کام نہیں ہیں اور اس لئے کہ یہ شیاطین کے مقدار اور ان کے مشن کے بالکل خلاف ہے۔ یہ کلام اتار کر آخر اپنے ہی ہاتھوں وہ اپنی سلطن بربادکیوں کریں گے۔ ابعینیہ یہی بات سیدنا مسحا ؑ نے اپنی وقت کے فقیہوں اور فریسیوں کے جواب میں فرمائی تھی جب انہوں نے آپ کے معجزات کے اثر کو مٹانے کے لئے عوام میں پھیلانا شروع کیا ہے کہ یہ بد رحوں کو لوگوں کے اندر سے نکالنے کا جو کرشمہ دکھاتے ہیں یہ بھوتوں کے سردار بعلز بول کی دد سے دکھات ہیں ان کے جواب میں سیدنا مسخ نے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 210–212

212-1ان آیات میں قرآن کی، شیطانی دخل اندازیوں سے، محفوظیت کا بیان ہے۔ ایک تو اس لئے کہ شیا طین کا قرآن لے کر نازل ہونا، ان کے لائق نہیں ہے۔ کیونکہ ان کا مقصد شر و فساد اور منکرات کی اشاعت ہے، جب کہ قرآن کا مقصد نیکی کا حکم اور فروغ اور منکرات کا سد باب ہے گویا دونوں ایک دوسرے کی ضد اور باہم منافی ہیں۔ دوسرے یہ کہ شیاطین اس کی طاقت بھی نہیں رکھتے، تیسرے، نزول قرآن کے وقت شیاطین اس کے سننے سے دور اور محروم رکھے گئے، آسمانوں پر ستاروں کو چوکیدار بنادیا گیا تھا اور جو بھی شیطان اوپر جاتا یہ ستارے اس پر بجلی بن کر گرتے اور بھسم کردیتے، اس طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن کو شیاطین سے بچانے کا خصوصی اہتمام…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 210–213

49: یہاں سے چند ان باتوں کی تردید کی جا رہی ہے جو کفار مکہ قرآن کریم کے بارے میں کہا کرتے تھے۔ بنیادی طور پر ان کے دو دعوے تھے، بعض لوگوں کا کہنا تھا کہ معاذ اللہ آنحضرت ﷺ کاہن ہیں اور بعض لوگ آپ کو شاعر کہہ کر قرآن کریم کو شاعری کی کتاب قرار دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آیات میں ان دونوں باتوں کی تردید فرمائی ہے۔ ”کاہن“ ان لوگوں کو کہا جاتا تھا جن کا دعویٰ یہ تھا کہ جنات ان کے قبضے میں ہیں جو انہیں غیب کی خبریں لا کردیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں کاہنوں کی ٰیہ حقیقت بیان فرمائی ہے کہ جو جنات ان کے پاس آتے ہیں، وہ در اصل شیاطین ہیں۔ اور قرآن کریم کے مضامین ایسے ہیں کہ شیاطین کو کبھی پسند…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 210–213

وما تنزلت ……لمعزولون (204) اس سے قبل قرآن کریم کے بارے میں کہا گیا تھا کہ یہ رب العالمین کی طرف سے ہے اور اسے روح الامین لے کر آتے ہیں اور اس کے بعد بات آگے نکل گئی کہ یہ لوگ تکذیب پر تل گئے ہیں اور اپنی نادانی سے عذاب کے آنے میں شتابی کر رہے ہیں۔ لیکن قرآن کے بارے میں وہ یہ الزام بھی لگاتے تھے کہ یہ شیاطین کی طرف سیالقائہوتا ہے۔ جس طرح کاہنوں پر شیاطین کچھ کلمات القا کرتے ہیں جن میں بعض خبریں غیب کی ہوتی ہیں اور جن کی وجہ سے وہ کہانت کی دکان چمکاتے ہیں۔ لیکن یہاں اس کی تردید کی جاتی ہے کہ ہر مذہب و ملت جانتی ہے کہ شیطان کا کیا کام ہوتا ہے جبکہ قرآن تو اصلاح اور ہدایت کا کام کرتا ہے اور شیطان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 210–211

2 درمیان میں مکذبین کے احوال بیان فرما کر پھر اصل مضمون (وَاِنَّهٗ لَتَنْزِيْلُ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ 192؀ۭ نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِيْنُ 193؀ۙ ) 26 ۔ الشعرآء :192) کی تکمیل و تمیم فرماتے ہیں۔ یعنی یہ کتاب خدا تعالیٰ کے ہاں سے جبرائیل امین لائے ہیں۔ شیاطین کی سکھلائی ہوئی چیز نہیں۔ بھلا شیاطین سے کہاں ممکن ہے کہ ایسی کتاب بن آئے۔ ان کی طبائع کا خاصہ تو گمراہی، فساد، اور ظلمت پھیلانا ہے۔ اور یہ کتاب اول سے آخر تک رشد و صلاح اور نور ہدایت سے بھری ہوئی ہے جس کی تعلیم سے وہ جماعت تیار ہوئی۔ جس سے زیادہ آسمان کے نیچے بجز انبیاء کے کوئی پاک باز، صادق، خدا ترس اور خدا پرست جماعت نہیں تو اس کتاب کے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 211–212

آیت 212 اِنَّہُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُوْلُوْنَ ” یہ بہت اہم مضمون ہے جو یہاں پہلی دفعہ آیا ہے ‘ لیکن آئندہ سورتوں میں متعدد مقامات پر اس کا ذکر آئے گا۔ اس موضوع پر قرآن سے ہمیں جو معلومات ملتی ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ فرشتے نوری مخلوق ہیں اور جن آگ سے بنائے گئے ہیں : وَخَلَقَ الْجَآنَّ مِنْ مَّارِجٍ مِّنْ نَّارٍ الرحمٰن ”اور پیدا کیا اس نے جناتّ کو آگ کی لپٹ سے“۔ چونکہ فرشتوں کی طرح جنات کا مادۂ تخلیق بھی بہت لطیف ہے اس وجہ سے ان کے لیے فرشتوں کا قرب حاصل کرلینا اور ان سے کچھ معلومات حاصل کرلینا ممکن ہے۔ چناچہ عام طور پر شیاطینِ جن کسی نہ کسی حد تک فرشتوں سے عالم بالا کی خبریں معلوم کرنے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

124 ایسا قرآن نازل کرنا شیطانوں کے بس کا روگ نہیں۔ جو سراسر لوگوں کی ہدایت و فلاح کا ضامن ہو۔ جس میں خالصتؤہ توحید باری کی تعلیم دی گئی ہے۔ اور شرک اور بت پرستی سے روکا گیا ہے۔ آخرت کی باز پرس کا خوف دلایا گیا ہے۔ ظالم اور بداخلاقی سے منع کیا گیا ہے۔ نیکوکاری اور راست بازی اور خلق خدا کے ساتھ احسان کی تعلیم دی گئی ہے اور اس پر ایمان لانے والوں کو ایک مکمل ضابطہ حیات عطا کیا گیا ہے کیا کسی شیطان کے کلام میں ایسی باتوں کا پایا جانا ممکن ہے ؟ شیطان تو قرآن کے نام تک سے بدکتے ہیں وہ ایسا کلام لا کیسے سکتے ہیں ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 210–211

110۔ (جو اس کے مضامین میں کسی خلط کا احتمال ہو، یا اسے غیر خدائی وضع وتحریف کا نتیجہ سمجھا جائے)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 192–227

آیت نمبر 192 تا 227 ترجمہ : بلاشبہ یہ یعنی قرآن رب العالمین کا نازل فرمودہ ہے اس کو روح الامین یعنی جبرائیل آپ کے قلب پر لیکر اترے ہیں صاف عربی زبان میں تاکہ آپ ڈرانے والوں میں ہوجائیں اور ایک قرأۃ میں نَزَّلَ تشدید اور روح کے نصب کے ساتھ ہے اور فاعل اللہ ہے اور بلاشبہ محمد ﷺ پر نازل شدہ قرآن کی خبر پہلے لوگوں کی کتابوں مثلاً تورات و انجیل میں ہے کیا ان کے لئے قرآن کی صداقت کی یہ نشانی کافی نہیں کہ اس کو بنی اسرائیل کے علماء بھی جانتے ہیں ؟ جیسا کہ عبد اللہ بن سلام اور ان کے وہ ساتھی جو ایمان لائے، وہ اس کی حقانیت کی خبر دیتے ہیں اور یَکُنْ یا کے ساتھ اور آیۃً کے نصب کے ساتھ اور تا کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وما ینبغی لہم اور شیاطین کے لئے ایسا کرنا جائز بھی نہیں ہے (کیونکہ قرآن ہدایت ہے اور شیاطین گمراہی کی طرف بلانے والے ہیں) ۔ فما یستطیعون۔ اور وہ ایسا کرنے کی طاقت بھی نہیں رکھتے کیونکہ قرآن میں غیب کی خبریں دی گئی ہیں شیطان غیبی خبریں (کیا جانیں اور) کیسے القا کرسکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 210–212

(210 تا 212) اور اس قرآن کریم کو شیاطین لے کر نہیں آئے کیونکہ یہ ان کی حالت کے مناسب بھی نہیں اور نہ وہ اس کے اہل ہیں اور وہ اس پر قادر بھی نہیں کیوں کہ وہ شیاطین وحی آسمانی سے روک دیے گئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَمَا يَنْۢبَغِيْ لَهُمْ : پہلی یہ کہ اتنا پاکیزہ کلام لے کر اترنا شیاطین کے لائق ہی نہیں، کیونکہ قرآن سر اسر خیر و برکت اور نور ہے، جبکہ شیاطین سرا سر شر و فساد اور ظلمت سے بھرے ہوئے ہیں، دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ وَمَا يَسْتَطِيْعُوْنَ : دوسری یہ کہ اگر ان کے لائق ہو بھی تو وہ اس جیسا کلام لانے کی طاقت ہی نہیں رکھتے، خواہ کتنی کوشش کرلیں، فرمایا : (قُلْ لَّىِٕنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلٰٓي اَنْ يَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا يَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيْرًا) [ بني إسرائیل : 88 ] ”کہہ دے اگر سب انسان اور جن جمع ہوجائیں کہ اس قرآن جیسا…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 210–213

(وما تنزلت بہ الشطین۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ) وما تنزلت بہ الشطین ہ ضمیر سے مراد قرآن ہے بلکہ اسے روح الامین نے نازل کیا ہے۔ وما یبغی لھم وما یبطیعون۔ انھم عن السمع المعزولون جس طرح سورة حجر میں بیان کیا گیا ہے انہیں شہابچے مار کر سننے سے روک دیا گیا ہے۔ حضرت حسن بصری اور محمد بن سمیقع اسے وما تنزلت بہ الشیاطون پڑھا کرتے۔ مہدوی نے کہا : یہ لغت عرب میں جائز نہیں اور خط کے مخالف ہے۔ نحاس نے کہا : یہ تمام نحویوں کے نزدیک غلط ہے۔ میں نے علی بن سلیمان کو کہتے ہوئے سنا، وہ کہتے میں نے محمد بن زیاد کو کہتے ہوئے سنا : یہ علماء کے نزدیک غلط ہے یہ شبہ کے داخل ہونے کی وجہ سے ہوا جب حضرت حسن بصری نے اس کے آخری میں یاء…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 192–213

1۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وانہ لتنزیل رب العالمین “ سے مراد ہے یہ قرآن ” نزل بہ الروح الامین “ سے مراد ہے جبرئیل علیہ السلام۔ 2۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” نزل بہ الروح الامین “ میں الروح الامین سے مراد ہے جبرئیل (علیہ السلام) میں نے دیکھا کہ اس کے چھو پر ہیں موتیوں سے انہوں نے پھیلادیا تو وہ مور کے پروں کی طرح تھے۔ 3۔ ابن مردویہ نے سعد ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا اس وقت روح امین یعنی جبرئیل (علیہ السلام) نے میرے دل میں یہ بات پھونک دی کہ ہرگز کوئی نفس نہیں مرے گا یہاں تک کہ اپنے رزق کو پورا نہ کرے اگرچہ وہ اس…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَمَا يَنْۢبَغِيْ [ اور یہ لائق نہیں ہوتا ہے ] لَهُمْ [ ان کے لئے ] وَمَا يَسْتَطِيْعُوْنَ [ اور نہ وہ استطاعت رکھتے ہیں (اس کی)]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 211–213

رسول اللہ ﷺ کو مومنین کے ساتھ تواضع سے پیش آنے اور عزیز و رحیم پر تو کل کرنے کا حکم ان آیات میں اولاً یہ فرمایا کہ اللہ کے علاوہ کسی کو معبود نہ بنائیں ایسا کریں گے تو عذاب میں مبتلا ہوں گے بظاہر یہ خطاب رسول اللہ ﷺ کو ہے اور حقیقت میں پوری امت کو خطاب ہے کیونکہ آپ سے شرک اور کفر صادر ہونے کا احتمال ہی نہیں، لیکن آپ کو خطاب کرکے یہ بتادیا کہ جب غیر اللہ کی عبادت کرنے سے آپ کے لیے یہ حکم ہے تو دوسرے لوگ شرک کرنے سے کیونکر معذب نہ ہوں گے۔ ثانیاً آنحضرت ﷺ کو حکم دیا کہ آپ اپنے قریب ترین خاندان کے لوگوں کو ڈرائیے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب آیت کریمہ (وَاَنذِرْ عَشِیرَتَکَ الْاَقْرَبِیْنَ )…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 210–223

ابطال کہانت وما تنزلت بہ الشیطین وما ینبغی لہم وما یستطیعون انہم عن السمع لمعزولون۔ گزشتہ آیات میں یہ بتلایا کہ یہ قرآن اللہ رب العالمین کا نازل فرمودہ ہے جس کو جبریل امین (علیہ السلام) لے کے آپ ﷺ کے قلب پر اترے ہیں۔ اب آگے ان لوگوں کے قول کا رد کرتے ہیں کہ جو یہ کہتے ہیں کہ یہ قرآن جن اور شیاطین کا القا ہے۔ جیسے شیاطین کاہنوں پر القا کرتے ہیں یہ بھی اسی قسم کا کلام ہے۔ چناچہ فرماتے ہیں کہ اور اس قرآن کو شیاطین لے کر نہیں اترتے جو کاہنوں کے پاس آیا کرتے تھے۔ جیسا کہ مشرکین کہتے ہیں بلکہ اس قرآن کو تو جبریل امین (علیہ السلام) خدا تعالیٰ کی طرف سے لے کر آئے ہیں اور نہ شیاطین کے لئے یہ سزاوار ہے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 211–213

74:۔ فاء فصیحہ ہے اور یہ ماقبل کا ثمرہ اور نتیجہ ہے جو پانچ امور پر مشتمل ہے یہ امر اول ہے۔ یعنی جب ثابت ہوگیا کہ برکات دہندہ اللہ تعالیٰ ہی ہے اور کوئی نہیں اور یہ دعوی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے تو اب اللہ کے سوا حاجات میں کسی کو مت پکارو ورنہ سخت عذاب ہوگا۔ ” وانذر عشیرتک الاقربین “ یہ دوسرا امر ہے اپنے قریبی رشتہ داروں کو بھی ڈراؤ کہ وہ اللہ کے سوا کسی اور کو برکات دہندہ نہ سمجھیں۔ ” واخفض جناحک الخ “ یہ تیسرا امر ہے جو ایمان لا چکے ہیں ان سے نرمی کا برتاؤ کریں۔ ” فان عصوک الخ “ یہ چوتھا امر ہے مشرکین جو آپ کی بات نہیں مانتے ان سے آپ صاف کہہ دیں کہ میں تمہارے مشرکانہ اعمال سے بیزار ہوں۔ ” و…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 210–223

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر کیا تھا اور اس کا اجمالی تعارف کرایا تھا۔ اس عظیم کتاب کو جبرائیل میں نے پروردگار عالم کے حکم سے نازل کیا ۔ یہ کلام الٰہی پیغمبر کے قلب مبارک پر نہایت فصیح وبلیغ عربی زبان میں اتارا گیا ۔ اس کے نزول کا مقصد یہ بیان کیا گیا کہ اللہ کے نبی اس کے ذریعے لوگوں کو ان کے آخرت کے برے انجام سے ڈرا دیں ۔ یہ وہی کتاب ہے جس کے مضامین اور پیشن گوئیاں سابقہ کتب میں بھی موجود تھیں ۔ ان حقائق کے باوجود جو شخص اس قرآن کا انکار کرتا وہ کافر اور گمراہ تصور ہوگا ۔ قرآن کے منکرین میں سے بعض اسے سحرے تعبیر کرتے ہیں ۔ جب کہ بعض دوسرے اسے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَا يَنْۢبَغِيْ لَہُمْ وَمَا يَسْتَطِيْعُوْنَ۝ 211ۭ ابتغاء (ينبغي) البَغْي : طلب تجاوز الاقتصاد فيما يتحرّى، تجاوزه أم لم يتجاوزه، فتارة يعتبر في القدر الذي هو الكمية، وتارة يعتبر في الوصف الذي هو الكيفية، يقال : بَغَيْتُ الشیء : إذا طلبت أكثر ما يجب، وابْتَغَيْتُ كذلك، قال اللہ عزّ وجل : لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ [ التوبة/ 48] ، وأمّا الابتغاء فقد خصّ بالاجتهاد في الطلب، فمتی کان الطلب لشیء محمود فالابتغاء فيه محمود نحو : ابْتِغاءَ رَحْمَةٍ مِنْ رَبِّكَ [ الإسراء/ 28] ، وابْتِغاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلى [ اللیل/ 20] ، الابتغاء فقد خصّ بالاجتهاد في الطلب، فمتی کان الطلب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 211–219

تقلب فی الساجدین کے معنی : تقلب اٹھنا بیٹھنا بھی ہے کبھی رکوع کرتے ہو ‘ کبھی قیام ‘ کبھی سجود ‘ سب کو خدا دیکھتا ہے مقاتل ؓ کہتے ہیں کہ حین تقوم سے مراد تنہا نماز کے لیے اٹھنا اور تقلب سے مراد جماعت میں نماز پڑھنا ہے ابن عباس ؓ کہتے ہیں ساجدین سے مراد مصلین ہے، مجاہد کہتے ہیں تقلبک سے مراد آنحضرت ﷺ کا نماز میں پیچھے سے نمازیوں کو دیکھنا ای تقلب بصرک فی المصلین کیونکہ موطا میں امام مالک نے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں پیچھے سے بھی دیکھا کرتا ہوں مجھ پر تمہارا رکوع اور خشوع مخفی نہیں۔ امام رازی تفسیر کبیر میں فرماتے ہیں کہ شیعہ نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے آباء مومنین تھے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 211–212

وَمَا یَنْبَغِیْ لَھُمْ وَمَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ۔ اِنَّھُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُوْلُوْنَ ۔ (الشعرآء : 211، 212) (نہ ان کے لیے لائق ہے اور نہ وہ اس کی طاقت رکھتے ہیں۔ وہ تو اس کی سماعت سے بھی معزول کیے جا چکے ہیں ) تردید پر پہلی دلیل یہ دلیل بیان ہوئی ہے اس بات کی کہ کیوں یہ شیطانی کلام نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ قرآن کریم میں جو باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں وہ شیطانوں کے لیے کسی طرح مناسب نہیں ہیں۔ عرب کی اکثر بستیوں میں کاہن موجود تھے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ وہ شیاطین سے ربط و ضبط رکھتے ہیں اور شیاطین انھیں بہت ساری باتیں القاء کرتے ہیں۔ اس لیے اگر یہ دیکھنا ہو کہ شیاطین کس طرح کی باتیں پسند کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 211–214

فہم القرآن ربط کلام : نبی اکرم ﷺ کو حکم ہوا کہ وہ اپنے عزیز و اقرباء کو توحید کی دعوت دیں، اور شرک سے ڈرائیں۔ نبوت کا پہلا کام اور پیغام لوگوں کو اللہ کی خالص عبادت کرنے کی دعوت دینا ہے۔ دعوت کا فطری اور صحیح طریقہ ہے کہ داعی عقیدہ توحید پر ایمان رکھتے ہوئے سب سے پہلے اپنے عزیز و اقرباء کو عقیدہ توحید کی دعوت دے اور جو اس دعوت کو قبول کرے ان کے ساتھ شفقت اور محبت کے ساتھ پیش آئے۔ اس حکم کی اتباع میں آپ ﷺ نے اپنے عزیز و اقرباء کو بار بار اس بات کی دعوت دی اور جو لوگ آپ پر ایمان لائے ان سے آپ خصوصی طور پر شفقت و مہربانی فرمایا کرتے تھے۔ آپ کی شفقت و مہربانی کی قرآن مجید نے اس طرح ترجمانی فرمائی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

211: وَمَا یَنْچبَغِیْ لَھُمْ وَمَا یَسْتَطِیْعُوْنَ (اور شیاطین کو ایسا کرنا جائز بھی نہیں اور وہ اس کی طاقت بھی نہیں رکھتے) اور ان کو یہ میسر بھی نہیں اور نہ وہ اس کی قدرت رکھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر۔ 211۔ وماینبغی لھم، کہ وہ قران کو نازل کریں۔ ومایستطیعون، اور نہ وہ اس کی طاقت رکھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 208–213

(208 تا 213) یہ آیت مثل بنی اسرائیل کی آیت وَمَا کُنَّا مُعَذّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلًا کے ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ بغیر رسول بھیجے اور سمجھائے خدا عذاب نہیں کرتا جیسا کہ سورة القصص میں فرمایا وما کان ربک مھلک القریٰ حتی یبعث فی امھا رسولا یتلو علیھم اثینا وما کنا مھل کی القریٰ الا واھلھا ظلمون جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نہیں کھپاتے بستیوں کو مگر جب رسولوں کے بھیجنے کے بعد بستی والے ظلم کرتے ہیں غرض برے عمل عذاب کا سبب ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ ظالم نہیں ہے پھر فرمایا قرآن شریف میں جو نیک باتیں ہیں وہ کام شیطان کا نہیں ہے اور شیاطین تو قرآن شریف اللہ کے ہاں سے معتبر فرشتہ کی معرفت اس بڑے انتظام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 209–212

آیت 209 سے 212 اللہ تبارک و تعالیٰ ، اہل تکذیب کو ہلاک کرنے کے بارے میں اپنے عدل کامل کے متعلق آگاہ فرماتا ہے کہ وہ کسی بسی پر اس وقت تک عذاب اور ہلاکت نہیں کرتا جب تک ان کا عذر ختم نہ ہوجائے اور ان پر حجت قائم نہ ہوجائے۔ وہ ان کے اندر، ان کو برے انجام سے ڈرانے والے مبعوث کرتا ہے جو انہیں واضح آیات کے ذریعے سے ڈراتے ہیں، انہیں ہدایت کی طرف بلاتے ہیں، انہیں ہلاکت کے گڑھے میں گرنے سے روکتے ہیں، وہ انہیں اللہ تعالیٰ کی آیات کے ذریعے سے نصیحت کرتے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کی ناراضی کے بارے میں اس کی عادت سے متنبہ کرتے ہیں۔ (ذکری) ” نصیحت “ یعنی یہ اتمام حجت ان کے لئے یا ددہانی اور ان…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 192–223

قول باری ہے : (وانہ لتنزیل رب العالمین۔ اور یہ رب العالمین کی نازل کردہ چیز ہے۔ ) تا قول باری (وانہ لفی زبر الاولین۔ اور اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی یہ موجود ہے۔ ) اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے بارے میں بتادیا کہ رب العالمین کی نازل کردہ ہے اور پھر یہ خبر دی کہ یہ اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی موجود ہے۔ اب یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ قرآن اگلے لوگوں کی کتابوں میں عربی زبان کے اندر موجود نہیں تھا۔ اس سے یہ استدلال کیا جاسکتا ہے کہ قرآن کو کسی اور زبان میں منتقل کرنے سے اس کی قرآنیت ختم نہیں ہوتی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے علی الاطلاق یہ فرمادیا کہ قرآن اگلے لوگوں کی کتابوں میں موجود تھا حالانکہ ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

108 قرآن حکیم کی عظمت شان اور علو مرتبہ و مقام کا تقاضا : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ قرآن حکیم ایک ایسی عظیم الشان اور عالی مرتبت کتاب ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ ہی کا کلام ہوسکتا ہے۔ شیاطین نہ تو اس کام کے لائق ہیں اور نہ ہی وہ ایسا کرسکتے ہیں۔ بھلا شیطان جن کے کام کا طرہ امتیاز ہی اغواء واضلال ہے ان کو ایسا کلام ہدایت نظام لانے اور پیش کرنے سے مناسبت ہی کیا ہوسکتی ہے ؟ اور وہ اس قابل ہی کہاں کہ ایسا کرسکیں ؟ کہ شیاطین تو منبع شر و فساد ہے۔ اور یہ کلام حکیم مصدر خیر و برکت اور نور و ہدایت۔ اور یہ آیا دنیا میں خیر پھیلانے اور شر مٹانے کیلئے۔ تو پھر اس کو شیاطین سے نسبت ہی کیا ہوسکتی ہے ؟ اور جب…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 192–227

قرآن کا عربی میں نزول اور عربی زبان کے گمراہ شعراء کا رد تشریح : قرآن کی حقانیت ‘ افادیت اور حفاظت کا ذکر ہوچکا اور یہ بھی کہ یہ عربی زبان میں ہی کیوں اترا ؟ اس کے بارے میں مزید یہ کہ جہاں عربوں میں بہت سی برائیاں تھیں کچھ اچھائیاں بھی تھیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اپنی زبان ” عربی “ کی بےحد حفاظت کرتے تھے۔ اسی لیے عربی زبان بےحد وسیع ‘ جامع اور غیر متبدل (تبدیل نہ ہونے والی) زبان ہے۔ جبکہ باقی تمام زبانیں اپنی اصل سے بہت زیادہ ہٹ چکی ہیں۔ نبی اکرم ﷺ کو صاف طور پر احکامات سنائے گئے ہیں اور ان کو اللہ کی ذات جو کہ بےحد مہربان ہے پر پورا بھروسہ رکھنے اور نیکی پر ڈٹے رہنے کی ترغیب دی گئی ہے۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 192–227

آیات نمبر 192 تا 227: اسرار و معارف اسی طرح انسانیت کی ہدایت کے لیے پروردگار عالمین نے یہ قرآن اتارا ہے جسے نہایت ایماندار فرشتہ لے کر نازل ہوا ایسا کوئی احتمال نہیں کہ دورانِ نزول کوئی کمی بیشی ہوئی ہو پھر اس کا نزول آپ ﷺ قلب اطہر پہ ہوا کہ مضامین عقل محض تعمیر و اصلاح بدن کے لیے ہوتے ہیں جو کفار اور بدکاروں کی عقول میں بھی آتے ہیں اور انہیں کے بل پر وہ مادی مشینیں ایجاد کرتے ہیں تجارت کاروبار اور عالمی سیاست چلاتے ہیں مگر اس کتاب کے مضامین تو قلب میں وارد ہوئے جو کافر یا بدکار کو نصیب نہیں کہ اس کا قلب تو مردہ ہوتا ہے نیز اس میں صرف دنیا کے کمالات نہیں بلکہ امور دنیا میں اللہ کی معرفت و…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

4 ۔ یعنی ایک طرف قرآن کو دیکھو جو سراسر رشد و ہدایت سے لبریز ہے اور دوسری طرف شیطانوں کو جن کی فطرت ہی لوگوں کو گمراہی اور فساد پر ابھارنا ہے۔ بایں بعد و تفاوت کیا کوئی عقلمند یہ باور کرسکتا ہے کہ اس قسم کا پاکیزہ کلام شیاطین لے کر نازل ہوتے ہیں ؟ مولانا لکھتے ہیں :” شیطان تو قرآن کے نام سے بھاگتا ہے بھلا وہ قرآن کیونکر لائے گا۔ “ (وحیدی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(26:211) ما ینبغی : ما نافیہ ہے ینبغی مضارع واحد مذکر غائب۔ انبغاء (انفعال) سے سزا وار نہیں، لائق نہیں۔ ینبغی لہ اسے چاہیے اس کے لئے مناسب ہے۔ اسے سزاوار ہے۔ فعل ماضی مستعمل نہیں۔ ما ینبغی لہم ان کو زیب نہیں۔ ان کو مناسب نہیں۔ ان کو لائق نہیں ہے۔ ما یستطیعون : ما نفی کے لئے ہے یستطیعون مضارع جمع مذکر غائب ۔ استطاعۃ (استفعال) مصدر۔ وہ قدرت نہیں رکھتے۔ وہ طاقت نہیں رکھتے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 192–213

لغات القرآن : آیت نمبر 192 تا 213 : روح الامین (حضرت جبرئیل امین (علیہ السلام) ) ‘ لسان (زبان) ‘ زبر (صحیفے۔ کتابیں) ‘ اعجمین (عجمی لوگ۔ گونگے) ‘ سلکنا (ہم نے چلایا (داخل کیا) ‘۔ حتی یروا (جب تک وہ دیکھ نہ لیں) ‘ بغتۃ (اچانک) ‘ منظرون (مہلت دیئے گئے) یستعجلون (وہ جلدی کرتے ہیں) ‘ متعنا ( ہم نے فائدہ پہنچایا) ‘ ما اغنی (کام نہ آیا) یمتعون ( وہ فائدہ اٹھاتے ہیں) ‘ منذرون (ڈرانے والے) ‘ ذکری (نصیحت۔ یاددھانی) ‘ ماینبغی (مناسب نہیں ہے۔ شان نہیں ہے) ‘ یستطیعون (وہ طاقت رکھتے ہیں) ‘ معزولون (دور کردیئے گئے) ‘ لاتدع (نہ پکار) ‘ المعذبین (عذاب میں مبتلا کئے گئے) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 192 تا 213 : اللہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 208–213

(ف 1) آگے فرمایا کہ جتنی بستیاں منکریں کی ہم نے غارت کی ہیں سب میں نصیحت کے واسطے ڈرانے والے پیغمبر بھیجے۔ اور جب نبی کا کہنا نہ ماناتو عذاب نازل کردیا، اور ہم ظالم نہیں ہیں جو کسی کو بدوں ڈرانے اور بدوں کسی نافرمانی کیے ہوئے پر عذاب بھیج دیں۔ مشرک کہتے تھے کہ یہ شخص کاہن ہے اور کوئی جن اس کے اوپر قرآن لاتا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قرآن کو دیو اور شیطاطین لے کر نہیں آتے جیسا کہ تم گمان کرتے ہو، شیاطین میں قرآن لانے کی قابلیت کب ہے اور ان کو کیا قدرت ہے ، کہ آسمان سے قرآن کو سن کر رسول کو پہنچادیں رسول اللہ کے بھیجنے کے بعد شیاطین آسمان کی بات سننے سے موقوف کردیے گئے اب وہاں سے سن کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 201–213

[35] یہ فرمایا رسول کو مگر دراصل اس سے مقصود کفار و مشرکین کو متنبہ کرنا ہے ورنہ پیغمبر کو شرک سے مناسبت ہی کیا ہوسکتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب یہ کتاب بلاشک و شبہ اللہ کی اتاری ہوئی ہے، شیطان کا اس میں ذرہ بھر دخل نہیں تو چاہئے کہ اس کی تعلیم پر چلو۔ جس میں اصل اصول توحید ہے اور شرک وکفر کی شیطانی راہ مت اختیار کرو۔ ورنہ عذاب الٰہی میں مبتلا ہوجاؤ گے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 200–213

سلکنہ مستعدی بیک مفعول بھی ہے ۔ اور بدومفعول بھی یعنی سل کہ کے معنی یہ بھی ہیں ۔ کہ وہ داخل ہوا ۔ اور یہ بھی کہ اس نے اس کو داخل کیا ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(211) اور یہ کام نہ تو ان کے لئے سزا وار اور مناسب ہے اور نہ وہ اس پر قدرت ہی رکھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 208–213

ف 7۔ حالانکہ آپ میں نعوذ باللہ نہ احتمال شرک کا نہ تعزیب کا، پس جب آپ کے اعتبار سے بھی ان دونوں میں تلازم کا حکم کیا جاتا ہے تو اور بےچارے تو کس شمار ہیں، شرک سے ان کو کیسے منع نہ کیا جاوے گا، اور شرک کر کے عذاب سے کیونکر بچیں گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اس پاکیزہ چیز کا نزول ان کے لائق کب ہے اور وہ کیونکر کرسکتے ہیں ؟ 211۔ اصول یہ ہے کہ پاکیزہ لوگ پاکیزہ باتیں کرتے ہیں اور ناپاک لوگ ناپاک باتیں کرتے ہیں تم نے ایک پاکیزہ چیز کی نسبت ناپاک لوگوں کی طرف کیسے کردی کیا روشنی کو کوئی اندھیرا کہہ دے تو وہ اندھیرا ہوجائے گا کیا اندھیرے اور روشنی کا انحصار کسی کے کچھ کہہ دینے پر ہے ؟ کیا وہ خود اپنی پہچان نہیں رکھتے ‘ شیطان کا کام گمراہ کرنا ہے اور کفر وشرک کی ترغیب دینا ہے اور قرآن کریم صراط مستقیم پر چلنے کی دعوت دیتا ہے ‘ اخلاق فاضلہ کو اپنانے کی تلقین کرتا ہے ۔ اس کی ہر آیت کفر وشرک کے عقیدہ کو جڑوں سے اکھیڑ کر پھینک رہی ہے اس کا مقصد ہی یہ ہے کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 205–213

أَفَرَ‌أَيْتَ إِن مَّتَّعْنَاهُمْ سِنِينَ ﴿205﴾ So tell me, If We give them enjoyment for years, - 26:205. There is a hint in this verse that those who are bestowed with long life in this world by Allah Ta’ ala, it is His grace on them. But those who show ingratitude for this grace and do not submit to Islam, to them this respite and grace will not be of any avail. Imam Zuhri (رح) has related that Sayyidna ` Umar ibn ` Abdul Aziz (رح) used to recite this verse every morning by holding his beard and addressing his Self: نھارک یا مغرور سھو و غفلۃ ولیلک نوم والرّدیٰ لک لازم فلا انت فی الایقاظ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

131 That is, these revelations and themes do not at all suit the satans. Any person who has a little common sense can well understand that the sublime discourses being presented in the Qur'an cannot be inspired by the satans. Never has it happened that the satans might have taught the people through the sorcerers to worship God and fear Him, or forbidden them from shirk and idol-worship, or warned them of the accountability of the Hereafter, or prohibited them from tyranny and sexual and moral evils, and exhorted them instead to act righteously and do good to others. Such works cannot behove…

Read the full tafseer →