Ash-Shu'araa 26:209

Ash-Shu'araa · from ayah 209

26:209

ذِكْرٰی ۛ۫— وَمَا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ ۟ذِكۡرٰى‌ وَمَا كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ

نصیحت کردیں اور ہم ظالم نہیں ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

As a reminder; and never have We been unjust.

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 11 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:209

نصیحت کردیں اور ہم ظالم نہیں ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

نصیحت کے طور پر اور ہم ﻇلم کرنے والے نہیں ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

تاکہ وہ نصیحت کریں اور ہم ایسے تو نہیں ہیں کہ ظلم کریں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

نصیحت کے لیے، اور ہم ظلم نہیں کرتے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(اور یہ بھی) نصیحت کے لئے اور ہم ظالم نہ تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یاد دہانی کے لیے اور ہم ظالم نہ تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو انھیں نصیحت کرے اور ہم ظالم نہیں ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یا دہانی کے لئے اور ہم ظالم نہیں ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

نصیحت کرنے کے لیے اور ہم ظالم نہیں ہیں

— مولانا اسحاق مدنی

نصیحت کے واسطے۔ اور ہم کچھ ظلم کرنے والے تو تھے نہیں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یاد دہانی کے لیے اور ہم ظالم نہیں ہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تاکہ نصیحت کردیں اور ہم ظالم نہیں ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

to admonish them. We have never been unjust.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

to give advice, and We have never been unjust.

— Muhammad Taqi Usmani

to give advice, and We have never been unjust.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

By way of reminder, and We have never been unjust.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

For reminder, for We never were oppressors.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

As a reminder; and never have We been unjust.

— Saheeh International

We have never been unjust to anyone.

— Muhammad Sarwar

To remind, and We are never unjust.

— Muhammad Habib Shakir

By way of admonition, and We have never been oppressors.

— Abdul Majid Daryabadi

By way of reminder; and We never are unjust.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 26:209

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 200–209

کفر و انکار تکذیب وکفر انکار وعدم تسلیم کو ان مجرموں کے دل میں بٹھا دیا ہے۔ یہ جب تک عذاب اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں ایمان نہیں لائیں گے۔ اس وقت اگر ایمان لائے بھی تو محض بےسود ہوگا ان پر لعنت برس چکی ہوگی۔ برائی مل چکی ہوگی۔ نہ پچھتانا کام آئے نہ معذرت نفع دے۔ عذاب اللہ آئیں گے اور اچانک ان کی بیخبر ی میں ہی آجائیں گے اس وقت ان کی تمنائیں اگر ذرا سی بھی مہلت پائیں تو نیک بن جائیں بےسود ہونگی۔ ایک انہی پر کیا موقوف ہے ہر ظالم، فاجر، فاسق، کافر بدکار عذاب کو دیکھتے ہی سیدھا ہوجاتا ہے، نادم ہوتا ہے توبہ تلافی کرتا ہے مگر سب لاحاصل۔ فرعون ہی کو دیکھئے حضرت موسیٰ نے اس کے لئے بد دعا کی جو قبول…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 208–209

سورة الشُّعَرَآء 129 یعنی جب انہوں نے خبردار کرنے والوں کی تنبیہ اور سمجھانے والوں کی نصیحت قبول نہ کی اور ہم نے انہیں ہلاک کردیا، تو ظاہر ہے کہ یہ ہماری طرف سے ان پر کوئی ظلم نہ تھا۔ ظلم تو اس وقت ہوتا جبکہ ہلاک کرنے سے پہلے انہیں سمجھا کر راہ راست پر لانے کی کوئی کوشش نہ کی گئی ہوتی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 205–213

اَفَرَءَيْتَ اِنْ مَّتَّعْنٰهُمْ سِـنِيْنَ ، اس آیت میں اشارہ ہے کہ دنیا میں کسی کو عمر دراز ملنا بھی اللہ تعالیٰ کی بڑی نعمت ہے لیکن جو لوگ اس نعمت کی ناشکری کریں ایمان نہ لائیں ان کو عمر دراز کی عافیت و مہلت کچھ کام نہ آئے گی۔ امام زہری نے نقل فرمایا ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز روز صبح کو اپنی داڑھی پکڑ کر اپنے نفس کو خطاب کر کے یہ آیت پڑھا کرتے تھے اَفَرَءَيْتَ اِنْ مَّتَّعْنٰهُمْ الآیتہ اس کے بعد ان پر گریہ طاری ہوجاتا اور یہ اشعار پڑھتے تھے، نھارک یا مغرور سھود غفلۃ، ولیلک نوم والروی لک لازم۔ فلا انت فی الایقاظ یقظان حازم، ولا انت فی النوم ناج وسالم۔ وتسعی الی ماسوف تکرہ غبہ، کذلک فی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 208–209

آیت 209-208 قریش کو تنبیہ یہ اس سنت الٰہی کی یاد دہانی ہے جو اللہ تعالیٰ نے قوموں کے معاملے میں اختیار فرمائی ہے کہ وہ عادل اور رحیم ہے اس وجہ سے انذار اور اتمام حجت کے بغیر وہ کسی قوم کو ہلاک نہیں کرتا۔ ذکری یہاں رسولوں کے مقصد بعثت کی واضحت کے لئے ہے اور اسلوب بیا نواضح کر رہا ہے کہ مقصود اس پر خاص طور پر زور دینا ہے کہ بغیر اس یاد دہانی کے اللہ تعالیٰ کسی قوم کو ہلاک نہیں کرتا۔ بغیر یا دہانی کے ہلاک کرنا ظلم ہوتا اور اللہ تعالیٰ ظلم نہیں ہے۔ یہ قریش کو تنبیہ ہے کہ سنت الٰہی کے مطابق تذکیر کے لئے ایک منذر آگیا ہے۔ اگر تم نے اس کی قدر نہ کی تو اس کا جو لازمی نتیجہ ہے وہ تمہارے سامنے آ کر رہے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 208–209

29-1یعنی ارسال رسل اور انزار کے بغیر اگر ہم کسی بستی کو ہلاک کردیتے تو یہ ظلم ہوتا، تاہم ہم نے ایسا ظلم نہیں کیا بلکہ عدل کے تقاضوں کے مطابق ہم نے پہلے ہر بستی میں رسول بھیجے، جنہوں نے اہل بستی کو عذاب الٰہی سے ڈرایا اور اس کے بعد جب انہوں نے پیغمبر کی بات نہیں مانی، تو ہم نے انھیں ہلاک کیا۔ یہی مضمون بنی اسرائیل۔15اور قصص۔59وغیرہ میں بھی بیان کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 207–209

48: عذاب کے جلدی نہ آنے پر کافروں کا ایک استدلال یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے تو ہمیں بڑے عیش دے رکھے ہیں اگر لوگ غلط راستے پر ہوتے تو یہ عیش ہمیں کیوں دیا جاتا ؟ ان آیات میں جواب دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ مہلت سنبھلنے کے لیے دی ہوئی ہے، اگر کچھ لوگ سنبھل گئے تو خیر، ورنہ جب مہلت ختم ہونے پر، مثلا مرنے کے بعد عذاب آئے گا تو یہ عیش و عشرت جس کے مزے تم دنیا میں اڑا رہے ہو، کچھ بھی کام نہیں آئے گا، بلکہ اس وقت معلوم ہوگا کہ آخرت کی زندگی کے مقابلے میں اس کی ذرہ برابر کوئی وقعت نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 208–209

وما اھلکنا من قریۃ الا لھا مذرون ، ذکری وما کنا ظلمین (209) اللہ تعالیٰ نے انسانوں سے یہ فطری عہد لیا ہے کہ وہ صرف اس کی بندگی کریں گے اور اسے وحدہ لاشریک سمجھیں گے۔ انسان کی فطرت از خود ایک خالق کائنات کے وجود کو تسلیم کرتی ہے بشرطیکہ اس کے اندر فساد اور انحراف پیدا نہ ہوجائے۔ (پارہ 9 ، ص ……) اور پھر اللہ نے اس کائنات میں دلائل کو ڈھیر لگا دیا۔ یہ تمام دلائل اس بات کی طرف راہنمائی کرتے ہیں کہ اس کائنات کا ایک خالق موجود ہے۔ اگر لوگ اس فطری عہد کو بھول جائیں اور دلائل ایمان پر غور نہ کریں تو پھر ان کے پاس ایک ڈرانے والا آتا ہے جو ان کو یہ فطری سبق یاد دلاتا ہے اور خواب غفلت سے ان کو جگاتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 208–209

1 یعنی کسی قوم کا تختہ یوں ہی ایک دم نہیں الٹ دیا گیا۔ عذاب بھیجنے سے پہلے کافی مہلت دی گئی اور ہوشیار کرنے والے پیغمبر بھیجے گئے کہ لوگ غفلت میں نہ رہیں، جب کسی طرح نہ مانے آخر غارت کیے گئے العیاذ باللہ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 208–209

آیت 209 ذِکْرٰیقف وَمَا کُنَّا ظٰلِمِیْنَ ” گویا اس سلسلے میں یہ اللہ کا اٹل قانون ہے جس کا ذکر سورة بنی اسرائیل میں اس طرح آیا ہے : وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلاً ”اور ہم عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک کہ رسول علیہ السلام نہ بھیج دیں“۔ یعنی کسی قوم پر اس وقت تک کبھی عذاب استیصال نہیں آیا جب تک انہیں خبردار کرنے کے لیے کوئی رسول علیہ السلام مبعوث نہیں کردیا گیا۔ لیکن رسول علیہ السلام کے اتمام حجت کرنے کے بعد بھی اگر متعلقہ قوم ایمان نہ لائی تو پھر ایسا عذاب آیا کہ صفحہ ہستی سے اس کا نام و نشان مٹا دیا گیا : فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ط الانعام : 45…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 208–209

122 اور ہمارا ظلم یا زیادتی تو صرف اس صورت میں شمار ہوسکتا ہے جب ہم کسی قوم پر بغیر خبردار کئے یکدم عذاب نازل کردیتے جبکہ اصلی صورت حال یہ ہے کہ ہم نے ہر ہر بستی میں انبیاء بھیجے جو لوگوں کو ان کے برے انجام سے خبردار کرتے تھے اور لوگ انھیں جھٹلاتے رہے۔ اور نبیوں کو یہ کہہ کہہ کر پریشان کرتے رہے کہ جس عذاب سے تم ہمیں ڈراتے ہو وہ جلد از جلد لے کیوں نہیں آتے۔ جس سے ان کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ یہ عذاب کا وعدہ بھی سراسر جھوٹ اور فریب ہے ان باتوں کے باوجود ہم انھیں سنبھلنے کا موقع دیتے رہے۔ اور ہر ممکن طریقے سے حجت پوری کرنے کے بعد اور انھیں نصیحت کرنے کے بعد ان پر عذاب بھیجا اور اس لئے بھیجا کہ وہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 208–209

109۔ اور جب ان لوگوں نے پیغمبر کی کچھ نہ سنی بلکہ الٹے اسی کے رد ومضح کہ میں لگ گئے، جب کہیں جا کر عذاب نازل ہوا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 192–227

آیت نمبر 192 تا 227 ترجمہ : بلاشبہ یہ یعنی قرآن رب العالمین کا نازل فرمودہ ہے اس کو روح الامین یعنی جبرائیل آپ کے قلب پر لیکر اترے ہیں صاف عربی زبان میں تاکہ آپ ڈرانے والوں میں ہوجائیں اور ایک قرأۃ میں نَزَّلَ تشدید اور روح کے نصب کے ساتھ ہے اور فاعل اللہ ہے اور بلاشبہ محمد ﷺ پر نازل شدہ قرآن کی خبر پہلے لوگوں کی کتابوں مثلاً تورات و انجیل میں ہے کیا ان کے لئے قرآن کی صداقت کی یہ نشانی کافی نہیں کہ اس کو بنی اسرائیل کے علماء بھی جانتے ہیں ؟ جیسا کہ عبد اللہ بن سلام اور ان کے وہ ساتھی جو ایمان لائے، وہ اس کی حقانیت کی خبر دیتے ہیں اور یَکُنْ یا کے ساتھ اور آیۃً کے نصب کے ساتھ اور تا کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ذکری وما کنا ظلمین۔ نصیحت کے لئے اور ہم ظالم نہیں ہیں۔ ذِکْرٰییادداشت یہ منذرون کی علت (مفعول لہ) ہے کیونکہ ذکری بمعنی انذار ہے یا ذکری کا تعلق پہلے کلام سے نہیں ہے بلکہ یہ مطلب ہے کہ ہم ان پیغمبروں کو مجسم نصیحت بنا دیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 208–209

وَمَآ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْيَةٍ اِلَّا لَهَا مُنْذِرُوْنَ۔۔ : یعنی ہم نے جو بستی بھی ہلاک کی اس کی طرف خبردار کرنے اور ڈرانے والے بھیجے، تاکہ وہ انھیں نصیحت کریں اور یاد دہانی کروائیں، پھر جب انھوں نے ان کی نصیحت قبول نہیں کی، نہ یاد دہانی کی پروا کی تو ہم نے انھیں ہلاک کردیا۔ ظاہر ہے کہ یہ ہماری طرف سے ان پر کوئی ظلم نہ تھا، ظلم اس وقت ہوتا جب ہم پہلے نصیحت نہ کرتے اور خبردار نہ کرتے۔ پہلی آیت کے مضمون کے لیے دیکھیے سورة بنی اسرائیل (15) اور قصص (59) اور دوسری آیت کے مضمون کے لیے دیکھیے سورة یونس (44) اور نساء (40)۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 204–209

(افبعذابنا یستعجلون۔۔۔۔۔ ) افبعذابنا یستعجلون مقاتل نے کہا : مشرکین نے نبی کریم ﷺ سے کہا : اے محمد ! کب تک آپ ہمیں عذاب کی دعوت دیتے رہیں گے اور اس کو لائیں گے نہیں ؟ تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی : افبعذابنا یستعجلون۔ افریت ان متعنھم سنین یعنی دنیا میں ہم لطف اندوزہوتے رہیں۔ ضحاک اور دوسرے علماء کے نزدیک مراد اہل مکہ ہیں۔ ثم جاء ھم ما کانو یوعدون عذاب اور ہلاکت جس کی انہیں دھمکی دی جاتی تھی۔ ما اغنی عنھم ماکانوا یمثعون پہلا ما استفہامیہ ہے اس کا معنی تقریر ہے اغنی کی وجہ سے یہ محل نصب میں ہے۔ دوسرا ما محل رفع میں ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ دوسرا ما نافیہ ہو اس کا کوئی محل اعراب نہ ہو۔ ایک قول یہ کیا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 192–213

1۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وانہ لتنزیل رب العالمین “ سے مراد ہے یہ قرآن ” نزل بہ الروح الامین “ سے مراد ہے جبرئیل علیہ السلام۔ 2۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” نزل بہ الروح الامین “ میں الروح الامین سے مراد ہے جبرئیل (علیہ السلام) میں نے دیکھا کہ اس کے چھو پر ہیں موتیوں سے انہوں نے پھیلادیا تو وہ مور کے پروں کی طرح تھے۔ 3۔ ابن مردویہ نے سعد ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا اس وقت روح امین یعنی جبرئیل (علیہ السلام) نے میرے دل میں یہ بات پھونک دی کہ ہرگز کوئی نفس نہیں مرے گا یہاں تک کہ اپنے رزق کو پورا نہ کرے اگرچہ وہ اس…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

ۇ ذِكْرٰي [ نصیحت کیلئے ] ڕ وَمَا كُنَّا [ اور ہم نہیں ہیں ] ظٰلِمِيْنَ [ ظلم کرنے والے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 209–210

اس کے بعد پھر قرآن مجید کی حفاظت کا تذکرہ فرمایا (وَمَا تَنَزَّلَتْ بِہِ الشَّیَاطِیْنُ ) (کہ اس قرآن کو شیاطین لے کر نازل نہیں ہوئے) (وَمَا یَنْبَغِیْ لَہُمْ ) (اور یہ ان کے لیے درست بھی نہیں ہے) (وَمَا یَسْتَطِیْعُوْنَ ) (اور وہ اس پر قدرت بھی نہیں رکھتے) (اِِنَّہُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُوْلُوْنَ ) (بلاشبہ وہ اس کے سننے سے روک دیئے گئے ہیں) یعنی یہ لوگ وحی آسمانی کو سن بھی نہیں سکتے اس پر انہیں بالکل ہی قدرت نہیں ہے، صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ اس میں مشرکین قریش کی اس بات کی تردید ہے جو انہوں نے کہا تھا کہ ایک جن محمد ﷺ کے تابع ہے وہ آپ کو قرآن سنا دیتا ہے اور آپ اسی کو نقل فرما دیتے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 192–209

خاتمہ سورت مضمون حقانیت قرآن برائے اثبات رسالت نبی آخر الزمان ﷺ قال اللہ تعالیٰ وانہ لتنزیل رب العالمین الی وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب یتقلبون۔ (ربط) ابتداء سورت میں حقانیت قرآن کا مضمون تھا جس سے آنحضرت ﷺ کی رسالت کا ثابت کرنا مقصود تھا۔ اس وجہ سے منکرین نبوت اور مکذبین رسالت کا واقعات ذکر کیے۔ اب اخیر میں پھر اسی مضمون سابق کی طرف عود کر آتے ہیں کہ یہ قرآن اللہ کی نازل کردہ کتاب ہے اور آپکی نبوت و رسالت کی روشن دلیل ہے۔ لہذا آپ اس کی تبلیغ اور دعوت میں لگے ہوئے ہیں اور اللہ پر بھروسہ رکھیئے اور ان مشرکین کی پرواہ نہ کیجئے عنقریب ان ظالموں کو اپنے ظلم و ستم کا انجام معلوم ہوجائے گا۔ چناچہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 209–210

73:۔ یہ ” وانہ لتنزیل رب العلمین “ سے متعلق ہے۔ اس کے بارے میں مشرکین نے دو شب ہے ظاہر کیے تھے اول یہ کہ محمد ﷺ کے تابع جن ہیں جو اس کے پاس خبریں لاتے ہیں۔ دوم یہ کہ وہ شاعر ہے اور اس کا کلام شاعرانہ ہوتا ہے جو سننے والوں کو فوراً متاثر کردیتا ہے۔ یہ مشرکین کے پہلے شبہہ کا جواب ہے۔ وھو رد لقول مشرکی قریش ان لمحمد ﷺ تابعا من الجن یخبرہ کما تخبر الکھنۃ وان القران مما القاہ الیہ (علیہ الصلوۃ والسلام) (روح ج 19 ص 132) ۔ یعنی اس قرآن کو جو دعوی ” تبارک “ پر مشتمل ہے شیاطین لے کر نہیں آئے۔ کیونکہ شیاطین جو سراسر ناپاک اور خبیث ہیں اس لائق ہی نہیں اور نہ ان میں اس کی طاقت ہی ہے اس لیے کہ ملا اعلی کی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 192–209

ربط آیات گزشتہ پانچ رکوع میں حضر ت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ہود (علیہ السلام) ، حضرت صالح (علیہ السلام) ، حضرت لوط (علیہ السلام) اور حضرت شعیب (علیہ السلام) اور ان کی اقوام کے حالات بیان کیے گئے ہیں ۔ ان واقعات کو بیان کر کے حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ کو تسلی دلانا مقصود تھا سابقہ انبیاء کی اقوام نے بھی ان کو جھٹلایا ، ان کو تکلیفیں پہنچائیں اور بالکل برے انجام سے دو چار ہوئے ، لہٰذا اگر مکہ والے بھی آپ سے بد سلوکی کرتے ہیں ، آپ پر ایمان نہیں لاتے تو ان کا انجام بھی سابقہ اقوام سے مختلف نہیں ہوتا ۔ اب آج کے درس میں قرآن پاک کی حقانیت کا ذکر ہو رہا ہے سورة کی ابتدا بھی اسی مضمون سے ہوئی تھی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ذِكْرٰي۝ 0ۣۛ وَمَا كُنَّا ظٰلِمِيْنَ۝ 209 ذكر ( نصیحت) وذَكَّرْتُهُ كذا، قال تعالی: وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ [إبراهيم/ 5] ، وقوله : فَتُذَكِّرَ إِحْداهُمَا الْأُخْرى [ البقرة/ 282] ، قيل : معناه تعید ذكره، وقد قيل : تجعلها ذکرا في الحکم «1» . قال بعض العلماء «2» في الفرق بين قوله : فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ [ البقرة/ 152] ، وبین قوله : اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ [ البقرة/ 40] : إنّ قوله : فَاذْكُرُونِي مخاطبة لأصحاب النبي صلّى اللہ عليه وسلم الذین حصل لهم فضل قوّة بمعرفته تعالی، فأمرهم بأن يذكروه بغیر واسطة، وقوله تعالی: اذْكُرُوا نِعْمَتِيَ مخاطبة لبني إسرائيل الذین لم يعرفوا اللہ إلّا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 199–210

ترکیب : : یہیمون خبران کی اور حال بھی ہوسکتا ہے تب خبر فی کل واد ہوگی۔ منقلب صفت ہے مصدر محذوف کی والعامل ینقلبون ای ینقلبون انقلاب ای منقلب۔ تفسیر : قرآن پر شبہات کا جواب : مگر اس پر بھی وہ یہ شبہ کرتے تھے کہ جبرئیل نہیں بلکہ شیاطین آنحضرت ﷺ پر القاء کرتے ہیں اور ہر مخالف کہہ سکتا ہے کہ یہ کیونکر معلوم ہوا کہ وہ القا کرنے والے جبرئیل امین ہیں کوئی شیطان نہیں۔ اس کا کیا ہی تسلی بخش جواب عطا کرتا وما تنزلت بہ الشیاطین کہ شیاطین نے تو اس کو نازل نہیں کیا ہے کیونکہ وما ینبغی لہم یہ ان کے قبضہ قدرت سے باہر ہے۔ کس لیے کہ شیاطین اور ارواح خبیثہ کو مضامین خبیثہ سے دلی رغبت ہے ناپاک باتیں ان کی خوراک…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 208–209

وَمَآ اَھْلَـکْنَا مِنْ قَرْیَۃٍ اِلاَّ لَھَا مُنْذِرُوْنَ ۔ ذِکْرٰی قف وَمَا کُنَّا ظٰلِمِیْنَ ۔ (الشعرآء : 208، 209) (اور ہم نے کسی بستی کو ہلاک نہیں کیا مگر اس کے لیے پہلے ڈرانے والے بھیجے۔ یاددہانی کے لیے، اور ہم ظالم نہیں ہیں۔ ) قریش کو تنبیہ یہ آیت قریش کے لیے ایک طرح سے تنبیہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے جو اس نے قوموں کے معاملے میں خود اختیار فرمائی ہے کہ وہ ہر قوم کی طرف انذار کرنے والوں کو بھیجتا ہے۔ وہ انھیں خون جگر پی پی کر انتہائی ناموافق حالات میں بھی شب و روز یہ سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ تمہیں اللہ تعالیٰ نے ایک مکلف مخلوق کے طور پر پیدا فرمایا ہے۔ تمہیں قسم قسم کی نعمتوں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 203–210

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید کے بارے میں کفار کی ہرزہ سرائی اور اس کا جواب۔ کفار ہرزہ سرائی کرتے ہوئے رسول محترم ﷺ پر یہ الزام بھی لگاتے کہ اس پر فرشتہ نازل ہونے کی بجائے کوئی شیطان مسلط ہوچکا ہے۔ جو اس کے دل میں مختلف قسم کے خیالات ڈالتا ہے۔ جسے یہ خاص انداز میں ہمارے سامنے بیان کرتا ہے۔ اس الزام کی تردید کرتے ہوئے یہ دلیل دی گئی ہے کہ نہ آپ پر شیاطین کوئی بات نازل کرتے ہیں اور نہ ہی شیطان ایسا کرسکتے ہیں اور نہ ان میں ایسا کرنے کی طاقت اور صلاحیت ہے۔ وحی کا سلسلہ اس قدر مضبوط اور محفوظ ہے کہ شیطان اس سے کوسوں میل دور رکھے جاتے ہیں۔ شیطان کا پہلا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں سے اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

209: ذِکْرٰی (نصیحت کیلئے) ۔ چھ تراکیب : نحو : یہ منصوب ہے اور تذکرہ کے معنی میں ہے کیونکہ انذر اور ذکر قریب قریب ہیں۔ گویا اس طرح فرمایا مذکرون تذکرۃ وہ یاد دلانے والے ہیں یاد دلانا۔ نمبر 2۔ منذرون کی ضمیر سے حال ہے تقدیر عبارت یہ ہے ینذرونھم ذوی تذکرۃ۔ ان کو نصیحت والے ڈراتے رہے۔ نمبر 3۔ اس کا مفعول لہٗ ہے یعنی ینذرون لاجل التَّذکرۃِ والموعظۃ وہ تذکرہ اور موعظہ کیلئے ڈراتے رہے۔ نمبر 4۔ مرفوع ہے مبتدأ محذوف کی خبر ہے ای ھذہ ذکری اور جملہ معترضہ ہے۔ نمبر 5۔ یہ صفت ہے بمعنی منذرون ذو و ذکری۔ ڈرانے والے نصیحت والے۔ نمبر 6۔ ذکریٰ یہ اھلکنا کے متعلق ہے اس کا مفعول لہ ہے مطلب یہ ہے ( وما اھلکنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

209۔ ذکری، محل نصب میں واقع ہے ۔ یعنی انکونصیحت کے ساتھ ڈائیں۔ بعض نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم پیغمبروں کو مجسم نصیحت بنادیتے ہیں۔ وماکناظالمین، ان کو عذاب دینے کی صورت میں چونکہ عذاب سے پہلے ہم نے ان پر حجت تام کردی اور وہ ہماری طرف عذرخواہی نہیں کرسکیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 208–213

(208 تا 213) یہ آیت مثل بنی اسرائیل کی آیت وَمَا کُنَّا مُعَذّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلًا کے ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ بغیر رسول بھیجے اور سمجھائے خدا عذاب نہیں کرتا جیسا کہ سورة القصص میں فرمایا وما کان ربک مھلک القریٰ حتی یبعث فی امھا رسولا یتلو علیھم اثینا وما کنا مھل کی القریٰ الا واھلھا ظلمون جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نہیں کھپاتے بستیوں کو مگر جب رسولوں کے بھیجنے کے بعد بستی والے ظلم کرتے ہیں غرض برے عمل عذاب کا سبب ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ ظالم نہیں ہے پھر فرمایا قرآن شریف میں جو نیک باتیں ہیں وہ کام شیطان کا نہیں ہے اور شیاطین تو قرآن شریف اللہ کے ہاں سے معتبر فرشتہ کی معرفت اس بڑے انتظام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 209–212

آیت 209 سے 212 اللہ تبارک و تعالیٰ ، اہل تکذیب کو ہلاک کرنے کے بارے میں اپنے عدل کامل کے متعلق آگاہ فرماتا ہے کہ وہ کسی بسی پر اس وقت تک عذاب اور ہلاکت نہیں کرتا جب تک ان کا عذر ختم نہ ہوجائے اور ان پر حجت قائم نہ ہوجائے۔ وہ ان کے اندر، ان کو برے انجام سے ڈرانے والے مبعوث کرتا ہے جو انہیں واضح آیات کے ذریعے سے ڈراتے ہیں، انہیں ہدایت کی طرف بلاتے ہیں، انہیں ہلاکت کے گڑھے میں گرنے سے روکتے ہیں، وہ انہیں اللہ تعالیٰ کی آیات کے ذریعے سے نصیحت کرتے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کی ناراضی کے بارے میں اس کی عادت سے متنبہ کرتے ہیں۔ (ذکری) ” نصیحت “ یعنی یہ اتمام حجت ان کے لئے یا ددہانی اور ان…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 192–223

قول باری ہے : (وانہ لتنزیل رب العالمین۔ اور یہ رب العالمین کی نازل کردہ چیز ہے۔ ) تا قول باری (وانہ لفی زبر الاولین۔ اور اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی یہ موجود ہے۔ ) اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے بارے میں بتادیا کہ رب العالمین کی نازل کردہ ہے اور پھر یہ خبر دی کہ یہ اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی موجود ہے۔ اب یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ قرآن اگلے لوگوں کی کتابوں میں عربی زبان کے اندر موجود نہیں تھا۔ اس سے یہ استدلال کیا جاسکتا ہے کہ قرآن کو کسی اور زبان میں منتقل کرنے سے اس کی قرآنیت ختم نہیں ہوتی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے علی الاطلاق یہ فرمادیا کہ قرآن اگلے لوگوں کی کتابوں میں موجود تھا حالانکہ ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 208–210

107 شیاطین کا اس کتاب حکیم سے کچھ تعلق نہیں ہوسکتا : سو ارشاد فرمایا گیا اور اس ۔ کتاب حکیم ۔ کو شیاطین لے کر نہیں اترے "۔ جیسا کہ ان لوگوں کا کہنا تھا۔ چناچہ صحیح بخاری کی روایت کے مطابق ایک مرتبہ جب کچھ عرصہ کے لئے وحی رک گئی تو کفار قریش کی ایک عورت نے آنحضرت ۔ ﷺ ۔ کے لئے کہا ۔ " قَدْ وَدَّعَہٗ شَیْطَانُہٗ " ۔ " اس کو اس کے شیطان نے چھوڑ دیا " کہ اب وحی کا آنا بند ہوگیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو جو بات اوپر مثبت انداز میں ارشاد فرمائی گئی تھی اسی کو اب منفی انداز میں ارشاد فرمایا جارہا ہے تاکہ مضمون مزید موکد اور پختہ ہوجائے۔ یعنی پہلے مثبت انداز میں ارشاد فرمایا گیا تھا کہ یہ کلام رب…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 192–227

قرآن کا عربی میں نزول اور عربی زبان کے گمراہ شعراء کا رد تشریح : قرآن کی حقانیت ‘ افادیت اور حفاظت کا ذکر ہوچکا اور یہ بھی کہ یہ عربی زبان میں ہی کیوں اترا ؟ اس کے بارے میں مزید یہ کہ جہاں عربوں میں بہت سی برائیاں تھیں کچھ اچھائیاں بھی تھیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اپنی زبان ” عربی “ کی بےحد حفاظت کرتے تھے۔ اسی لیے عربی زبان بےحد وسیع ‘ جامع اور غیر متبدل (تبدیل نہ ہونے والی) زبان ہے۔ جبکہ باقی تمام زبانیں اپنی اصل سے بہت زیادہ ہٹ چکی ہیں۔ نبی اکرم ﷺ کو صاف طور پر احکامات سنائے گئے ہیں اور ان کو اللہ کی ذات جو کہ بےحد مہربان ہے پر پورا بھروسہ رکھنے اور نیکی پر ڈٹے رہنے کی ترغیب دی گئی ہے۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 192–227

آیات نمبر 192 تا 227: اسرار و معارف اسی طرح انسانیت کی ہدایت کے لیے پروردگار عالمین نے یہ قرآن اتارا ہے جسے نہایت ایماندار فرشتہ لے کر نازل ہوا ایسا کوئی احتمال نہیں کہ دورانِ نزول کوئی کمی بیشی ہوئی ہو پھر اس کا نزول آپ ﷺ قلب اطہر پہ ہوا کہ مضامین عقل محض تعمیر و اصلاح بدن کے لیے ہوتے ہیں جو کفار اور بدکاروں کی عقول میں بھی آتے ہیں اور انہیں کے بل پر وہ مادی مشینیں ایجاد کرتے ہیں تجارت کاروبار اور عالمی سیاست چلاتے ہیں مگر اس کتاب کے مضامین تو قلب میں وارد ہوئے جو کافر یا بدکار کو نصیب نہیں کہ اس کا قلب تو مردہ ہوتا ہے نیز اس میں صرف دنیا کے کمالات نہیں بلکہ امور دنیا میں اللہ کی معرفت و…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 208–209

2 ۔ کہ بستی کو اس پر حجت تمام کئے بغیر تباہ کر ڈالیں بلکہ ہم اسے تباہ اس وقت کرتے ہیں جب اس پر حجت تمام ہوچکی ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(26:209) ذکری : ذکر یذکر کا مصدر ہے نصیحت کرنا۔ ذکر کرنا۔ یاد دلانا۔ پندو عظمت۔ ذکر سے زیادہ بلیغ ہے۔ یہ یا تو ضمیر منذرون (آیۃ 208) کا حال ہے کہ وہ پندو نصائح کرتے ہوئے انہیں (مشرکین) کو ڈراتے تھے۔ یا یہ خبر ہے جس کا مبتداء محذوف ہے ای ھذہ ذکری یہ پندو موعظت ہے بار بار ذکر کرکے متنبہ کرنا ہلاکت سے۔ اس صورت میں یہ جملہ معترضہ ہے یا منذرین کی صفت بمعنی ذو ذکری اصحاب تذکرہ و موعظت۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 192–213

لغات القرآن : آیت نمبر 192 تا 213 : روح الامین (حضرت جبرئیل امین (علیہ السلام) ) ‘ لسان (زبان) ‘ زبر (صحیفے۔ کتابیں) ‘ اعجمین (عجمی لوگ۔ گونگے) ‘ سلکنا (ہم نے چلایا (داخل کیا) ‘۔ حتی یروا (جب تک وہ دیکھ نہ لیں) ‘ بغتۃ (اچانک) ‘ منظرون (مہلت دیئے گئے) یستعجلون (وہ جلدی کرتے ہیں) ‘ متعنا ( ہم نے فائدہ پہنچایا) ‘ ما اغنی (کام نہ آیا) یمتعون ( وہ فائدہ اٹھاتے ہیں) ‘ منذرون (ڈرانے والے) ‘ ذکری (نصیحت۔ یاددھانی) ‘ ماینبغی (مناسب نہیں ہے۔ شان نہیں ہے) ‘ یستطیعون (وہ طاقت رکھتے ہیں) ‘ معزولون (دور کردیئے گئے) ‘ لاتدع (نہ پکار) ‘ المعذبین (عذاب میں مبتلا کئے گئے) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 192 تا 213 : اللہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 208–213

(ف 1) آگے فرمایا کہ جتنی بستیاں منکریں کی ہم نے غارت کی ہیں سب میں نصیحت کے واسطے ڈرانے والے پیغمبر بھیجے۔ اور جب نبی کا کہنا نہ ماناتو عذاب نازل کردیا، اور ہم ظالم نہیں ہیں جو کسی کو بدوں ڈرانے اور بدوں کسی نافرمانی کیے ہوئے پر عذاب بھیج دیں۔ مشرک کہتے تھے کہ یہ شخص کاہن ہے اور کوئی جن اس کے اوپر قرآن لاتا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قرآن کو دیو اور شیطاطین لے کر نہیں آتے جیسا کہ تم گمان کرتے ہو، شیاطین میں قرآن لانے کی قابلیت کب ہے اور ان کو کیا قدرت ہے ، کہ آسمان سے قرآن کو سن کر رسول کو پہنچادیں رسول اللہ کے بھیجنے کے بعد شیاطین آسمان کی بات سننے سے موقوف کردیے گئے اب وہاں سے سن کر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 201–213

[35] یہ فرمایا رسول کو مگر دراصل اس سے مقصود کفار و مشرکین کو متنبہ کرنا ہے ورنہ پیغمبر کو شرک سے مناسبت ہی کیا ہوسکتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب یہ کتاب بلاشک و شبہ اللہ کی اتاری ہوئی ہے، شیطان کا اس میں ذرہ بھر دخل نہیں تو چاہئے کہ اس کی تعلیم پر چلو۔ جس میں اصل اصول توحید ہے اور شرک وکفر کی شیطانی راہ مت اختیار کرو۔ ورنہ عذاب الٰہی میں مبتلا ہوجاؤ گے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 200–213

سلکنہ مستعدی بیک مفعول بھی ہے ۔ اور بدومفعول بھی یعنی سل کہ کے معنی یہ بھی ہیں ۔ کہ وہ داخل ہوا ۔ اور یہ بھی کہ اس نے اس کو داخل کیا ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(209) اور ہمارا شیو ظلم کرنا نہیں ہے یعنی جس بستی پر عذاب الٰہی آیا اس سے پہلے پیغمبر آئے اور ان کو ڈرایا نصیحت کی لیکن جب نہیں مانے تو آخر کار ہلاک کردئیے گئے یعنی سمجھایا بھی گیا۔ ڈرایا بھی گیا اور سوچنے سمجھنے کا موقع بھی دیا گیا مہلت بھی ملی آخر کار عذاب بھیجا گیا کیونکہ مہلت اور عذاب میں منافات نہیں ہے جیسا کہ اوپر گذرچکا ہے اب پھر قرآن کریم کی حقانیت پر بحث ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 208–213

ف 7۔ حالانکہ آپ میں نعوذ باللہ نہ احتمال شرک کا نہ تعزیب کا، پس جب آپ کے اعتبار سے بھی ان دونوں میں تلازم کا حکم کیا جاتا ہے تو اور بےچارے تو کس شمار ہیں، شرک سے ان کو کیسے منع نہ کیا جاوے گا، اور شرک کر کے عذاب سے کیونکر بچیں گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

نصیحت کرنے کے لئے ہم کچھ ظلم کرنے والے نہیں ہیں : 209۔ ڈرانے والے کو ہم نے کیوں بھیجا ؟ اس لئے کی شاید وہ اپنی اصلاح کرلیں اگر چاہیں اور یہ کہ اگر وہ اصلاح نہیں بھی کریں گے تو کم از کم ان کو اعتراض تو نہیں رہے گا کہ ہم کو تو کسی نے آگاہ ہی نہیں کیا ورنہ ہم اپنی ضرور اصلاح کرلیتے اس طرح ان کو اطلاع کرنا تو ہماری رحمت کا تقاضا تھا اور ہم نے ان کو آگاہ کیا ‘ ہم نے ان کو نصیحت اس لئے تو نہیں کی تھی کہ ہم ان پر ظلم کرنا چاہتے تھے بلکہ ہم نے تو ڈرانے والے اس لئے بھیجے تھے کہ کل وہ یہ نہ کہہ سکیں کہ ہمارے ساتھ کوئی زیادتی ہوئی ہے جب کہ ہم کسی پر بھی زیادتی کرنے والے نہیں ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 205–213

أَفَرَ‌أَيْتَ إِن مَّتَّعْنَاهُمْ سِنِينَ ﴿205﴾ So tell me, If We give them enjoyment for years, - 26:205. There is a hint in this verse that those who are bestowed with long life in this world by Allah Ta’ ala, it is His grace on them. But those who show ingratitude for this grace and do not submit to Islam, to them this respite and grace will not be of any avail. Imam Zuhri (رح) has related that Sayyidna ` Umar ibn ` Abdul Aziz (رح) used to recite this verse every morning by holding his beard and addressing his Self: نھارک یا مغرور سھو و غفلۃ ولیلک نوم والرّدیٰ لک لازم فلا انت فی الایقاظ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 208–209

129 That is, "We could not be blamed for any injustice when they did not heed the warning and admonition of the warners and were destroyed. It would have been injustice if no effort had been made to admonish them and guide them aright prior to their destruction."

Read the full tafseer →