Ash-Shu'araa 26:199

Ash-Shu'araa · from ayah 199

26:199

فَقَرَاَهٗ عَلَیْهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ مُؤْمِنِیْنَ ۟ؕفَقَرَاَهٗ عَلَيۡهِمۡ مَّا كَانُوۡا بِهٖ مُؤۡمِنِيۡنَؕ

اور وہ اسے ان (لوگوں کو) پڑھ کر سناتا تو یہ اسے (کبھی) نہ مانتے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And he had recited it to them [perfectly], they would [still] not have been believers in it.

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 11 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:199

اور یہ (فصیح عربی کلام) وہ ان کو پڑھ کر سناتا تب بھی یہ مان کر نہ دیتے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور وہ اسے ان (لوگوں کو) پڑھ کر سناتا تو یہ اسے (کبھی) نہ مانتے

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس وه ان کے سامنے اس کی تلاوت کرتا تو یہ اسے باور کرنے والے نہ ہوتے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور وہ ان کے سامنے پڑھ بھی دیتا تو یہ لوگ تب بھی اس پر ایمان نہ لاتے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

کہ وہ انہیں پڑھ کر سناتا جب بھی اس پر ایمان نہ لاتے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

سو وہ اس کو ان لوگوں پر پڑھتا تو (بھی) یہ لوگ اس پر ایمان لانے والے نہ ہوتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پس وہ اسے ان پر پڑھتا تو بھی وہ اس پر ایمان لانے والے نہ ہوتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو انھیں پڑھ کو سناتا تو بھی یہ اس پر ایمان نہ لاتے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور وہ ان کو یہ سناتا تو وہ اس پر ایمان لانے نہ بنتے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر وہ اسے ان کے سامنے پڑھ کر سنا بھی دیتا تب بھی انہوں نے اس پر ایمان نہیں لانا تھا،

— مولانا اسحاق مدنی

پھر وہ ان کے سامنے اسے پڑھ بھی دیتا جب بھی یہ لوگ اسے نہ مانتے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور وہ اسے ان کو پڑھ کر سناتا تب بھی وہ اس پر ایمان لانے والے نہیں تھے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور وہ اسے ان لوگوں کو پڑھ کر سناتا تو یہ اسے کبھی نہ مانتے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

they would still not have believed in it.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and he had recited it to them, they would not have believed in it.

— Muhammad Taqi Usmani

and he had recited it to them, they would not have believed in it.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And he had recited it unto them, they would not have believed in it.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And he had read it unto them, they would not have believed in it.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And he had recited it to them [perfectly], they would [still] not have been believers in it.

— Saheeh International

who would have read it to them, they (pagans) would not have believed in it.

— Muhammad Sarwar

So that he should have recited it to them, they would not have believed therein.

— Muhammad Habib Shakir

And he had-read it unto them, even then they would not have been believers therein.

— Abdul Majid Daryabadi

And had he recited it to them, they would not have believed in it.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 26:199

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 196–199

بشارت و تصدیق یافتہ کتاب فرماتا ہے کہ اللہ کی اگلی کتابوں میں بھی اس پاک اور اللہ کی آخری کلام کی پیشن گوئی اور اسکی تصدیق وصفت موجود ہے۔ اگلے نبیوں نے بھی اسکی بشارت دی یہاں تک کہ ان تمام نبیوں کے آخری نبی جن کے بعدحضور ﷺ تک اور کوئی نبی نہ تھا۔ یعنی حضرت عیسیٰ ؑ بنی اسرائیل کو جمع کر کے جو خطبہ دیتے ہیں اس میں فرماتے ہیں کہ اے بنی اسرائیل ! میں تمہاری جانب اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں جو اگلی کتابوں کو سچانے کے ساتھ ہی آنے والے حضرت محمد ﷺ کی بشارت تمہیں سناتا ہوں۔ زبور حضرت داؤد ؑ کی کتاب کا نام ہے یہاں زبر کا لفظ کتابوں کے معنی میں ہے جیسے فرمان ہے۔ آیت (وَكُلُّ شَيْءٍ فَعَلُوْهُ فِي…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 198–199

سورة الشُّعَرَآء 124 یعنی اب ان ہی کی قوم کا ایک آدمی انہیں عربی مبین میں یہ کلام پڑھ کر سنا رہا ہے تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس شخص نے اسے خود تصنیف کرلیا ہے، عرب کی زبان سے عربی تقریر ادا ہونے میں آخر معجزے کی کیا بات ہے کہ ہم اسے خدا کا کلام مان لیں۔ لیکن اگر یہی فصیح عربی کلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی غیر عرب پر بطور معجزہ نازل کردیا جاتا اور وہ ان کے سامنے آ کر نہایت صحیح عربی لہجہ میں اسے پڑھتا تو یہ ایمان نہ لانے کے لیے دوسرا بہانہ تراشتے، اس وقت یہ کہتے کہ اس پر کوئی جن آ گیا ہے جو عجمی کی زبان سے عربی بولتا ہے۔ (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، حٰم السجدہ، حواشی 54 تا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 193–204

معارف و مسائل نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِيْنُ ، عَلٰي قَلْبِكَ لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِيْنَ ، بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيْنٍ ، وَاِنَّهٗ لَفِيْ زُبُرِ الْاَوَّلِيْنَ۔ قرآن اس کے الفاظ و معانی کے مجموعہ کا نام ہے آیات مذکورہ میں بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيْنٍ سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن وہی ہے جو عربی زبان میں ہو، کسی مضمون قرآن کا ترجمہ خواہ کسی زبان میں ہو وہ قرآن نہیں کہلائے گا اور وَاِنَّهٗ لَفِيْ زُبُرِ الْاَوَّلِيْنَ کے الفاظ سے بظاہر اس کے خلاف یہ معلوم ہوتا ہے کہ معانی قرآن جو کسی دوسری زبان میں بھی ہوں وہ بھی قرآن ہیں، کیونکہ انہ کی ضمیر ظاہر یہ ہے کہ قرآن کی طرف راجع ہے اور زبر، زبور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 198–199

آیت 199-198 یہ اسی امتنان و احسان کے مضمون کی جو آیت 196 میں گزرا، مزید وضاحت فرمائی کہ اگر یہ قرآن کسی عجمی پر عجمی زبان میں اترا ہوتا اور وہ ان کو سنا تا تب تو وہ یہ عذر کرتے کہ عربی کے لئے عجمی قرآن کے کیا معنی ! لیکن اب وہ کیا عذر پیش کریں گے جب کہ اللہ نیانہی کی بہترین زبان میں اور انہی کے بہترین شخص پر اس کلام کو نازل فرمایا ! سورة حم السجدہ میں یہ مضمون یوں بیان ہوا ہے۔ (آیت 44) (اور اگر ہم اس کو عجمی قرآن بناتے تو یہ کہتے کہ اس کی آیات کھولی کیوں نہ گئیں ! کلامی عجمی اور مخاطب عربی) سورة نحل کی آیت 103 میں بھی اس مضمون کے ایک پہلو کی وضاحت ہوئی ہے۔ تفصیل مطلوب ہو تو ایک نظر اس پر بھی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 198–199

199-1یعنی کسی عجمی زبان میں نازل کرتے تو یہ کہتے کہ یہ ہماری سمجھ میں ہی نہیں آتا۔ جیسے (وَلَوْ جَعَلْنٰهُ قُرْاٰنًا اَعْجَمِيًّا لَّـقَالُوْا لَوْلَا فُصِّلَتْ اٰيٰتُهٗ ڼءَاَعْجَمِيٌّ وَّعَرَبِيٌّ ۭ قُلْ هُوَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّشِفَاۗءٌ ۭ وَالَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ فِيْٓ اٰذَانِهِمْ وَقْرٌ وَّهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى ۭ اُولٰۗىِٕكَ يُنَادَوْنَ مِنْ مَّكَانٍۢ بَعِيْدٍ) 41۔ فصلت :44) میں ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

45: یعنی اگر ہم قرآن کریم کے معجزہ ہونے کی اور زیادہ وضاحت اس طرح کردیتے کہ یہ عربی زبان کی کتاب کسی غیر عرب پر نازل ہوتی جو عربی سے ناواقف ہوتا، اور وہ عربی نہ جاننے کے باوجود اس عربی قرآن کو پڑھ کر سناتا تب بھی یہ لوگ ایمان نہ لاتے، کیونکہ ایمان نہ لانے کی وجہ یہ نہیں ہے کہ قرآن کریم کی حقانیت کے دلائل معاذ اللہ کمزور ہیں، بلکہ انہوں نے ضد کی بناء پر طے کر رکھا ہے کہ کیسے ہی دلائل سامنے آجائیں، یہ ایمان نہیں لائیں گے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 198–199

ولو نزلنہ علی ……مومنین (199) ان الفاظ میں اللہ ﷺ کے لئے ایک گونہ تسلی ہی کہ آپ کے کام میں اور ہمارے کلام میں کوئی کوتاہی نہیں ہے۔ درحقیقت یہ لوگ سخت عناد اور ہٹ دھرمی میں مبتلا ہیں۔ اس لئے یہ فیصلہ کرچکے ہیں کہ نہیں مانیں گے اور یہ فیصلہ ان کے مقدر میں لکھا جا چکا ہے کہ یہ اپنے عناد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے نہ مانیں گے۔ یہ قضا و قدر کا فصلہ بن چکا ہے۔ یہ اس روش سے پھر نہیں سکتے۔ بس اب عذاب کا انتظار کریں کہ یہ غفلت میں ہوں اور مارے جائیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 198–199

6 یعنی آپ تو فصحائے عرب میں سے ہیں۔ ممکن ہے مشرکین مکہ یوں کہہ دیں کہ قرآن آپ ﷺ نے خود تصنیف کرلیا ہوگا (حالانکہ قرآن اس حد اعجاز کو پہنچا ہوا ہے جس کا مثل تمام جن و انس بھی بنا کر نہیں لاسکتے) تاہم کہنے کو یہ احتمال پیدا کرسکتے ہیں۔ لیکن ان کی ہٹ دھرمی، شقاوت اور بدبختی کا حال تو یہ ہے کہ اگر یہ قرآن فرض کرو ہم کسی غیر فصیح عرب یا عجمی انسان پر اتارتے تو جو ایک حرف عربی کا بولنے پر قادر نہ ہوتا، بلکہ بفرض محال کسی حیوان لا یعقل پر اتارا جاتا، تب بھی یہ لوگ اس کے ماننے والے نہ تھے۔ اس وقت کچھ اور احتمالات پیدا کرتے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " کافر کہتے تھے کہ قرآن آیا ہے عربی زبان میں، اس نبی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 198–199

آیت 199 فَقَرَاَہٗ عَلَیْہِمْ مَّا کَانُوْا بِہٖ مُؤْمِنِیْنَ ” ہم یہ بھی کرسکتے تھے کہ قرآن کسی ایسے شخص پر نازل کردیتے جس کی مادری زبان عربی نہ ہوتی ‘ پھر اگر ایسا شخص انہیں عربی قرآن پڑھ کر سناتا تو یہ گویا ایک کھلا معجزہ ہوتا ‘ لیکن یہ لوگ پھر بھی اسے ماننے والے نہیں تھے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 198–199

117 موجودہ صورت حال یہ ہے کہ نبی بھی عربی ہے اور قرآن بھی عربی زبان میں ہے تو ان کافروں کو یہ شبہ پڑگیا ہے کہ کہیں قرآن اس نے خود ہی نہ تصنیف کر ڈالا ہو۔ اب فرض کیجئے کہ ہم یہی فصیح عربی زبان والا قرآن کسی عجمی پر نازل کرتے تو ان پر شک و شبہ کرنے کے لئے دوسرے کئی راہ کھل جاتیں۔ مثلاً یہ کہہ دیتے کہ یہ آیات اللہ نے جبریل کے ذریعہ اس پر نازل نہیں کیں بلک اسے تو کوئی جن یا شیطان پڑھا جاتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ خوے بد را پہالہ بسیار والا معاملہ ہے۔ نیت میں فتور ہو تو شک و شبہ کے بہانے ہزاروں مل سکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 198–199

104۔ مطلب یہ ہے کہ قرآن اپنی ساری موجودہ شان اعجاز کے ساتھ کسی فصاحت ناآشنا شخص پر نازل کردیا جاتا، تو اس وقت تو وجہ اعجاز اور زیادہ واضح ونمایاں ہوجاتی لیکن ان ظالموں کو اس درجہ عناد اور ضد ہے کہ ایمان یہ اس صورت میں بھی نہ لاتے اور خدائی کلام اسے جب بھی نہ تسلیم کرتے، قال تعالیٰ مخبرا عن شدۃ کفر قریش وعنادھم لھذا القران انہ لونزل علی رجل من الاعاجم ممن لایدری من العربیۃ کلمۃ وانزل علیہ ھذا الکتاب ببیانہ وفصاحتہ لایؤمنون بہ (ابن کثیر) والمراد بیان فرط عنادھم وشدۃ شکیمتھم فی المکابرۃ کانہ قیل ولونزلنا بھذا النظم الرائق المعجز علی من لایقدر علی التکلم بالعربیۃ فقرأہ علیھم قراء ۃ صحیحۃ خارفۃ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 192–227

آیت نمبر 192 تا 227 ترجمہ : بلاشبہ یہ یعنی قرآن رب العالمین کا نازل فرمودہ ہے اس کو روح الامین یعنی جبرائیل آپ کے قلب پر لیکر اترے ہیں صاف عربی زبان میں تاکہ آپ ڈرانے والوں میں ہوجائیں اور ایک قرأۃ میں نَزَّلَ تشدید اور روح کے نصب کے ساتھ ہے اور فاعل اللہ ہے اور بلاشبہ محمد ﷺ پر نازل شدہ قرآن کی خبر پہلے لوگوں کی کتابوں مثلاً تورات و انجیل میں ہے کیا ان کے لئے قرآن کی صداقت کی یہ نشانی کافی نہیں کہ اس کو بنی اسرائیل کے علماء بھی جانتے ہیں ؟ جیسا کہ عبد اللہ بن سلام اور ان کے وہ ساتھی جو ایمان لائے، وہ اس کی حقانیت کی خبر دیتے ہیں اور یَکُنْ یا کے ساتھ اور آیۃً کے نصب کے ساتھ اور تا کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فقراہ علیہم ما کانوا بہ مؤمنین۔ اور وہ ان کو پڑھ کر سناتا تو یہ اس پر ایمان لانے والے نہ ہوتے اعجمین اعجم کی جمع ہے اعجم اس شخص کو کہتے ہیں جو فصیح عربی اچھی طرح نہ بول سکے خواہ نسباً عربی ہی ہو اور عجمی کی نسبت عجم کی طرف ہے عجمی اس شخص کو کہتے ہیں جو نسباً غیر عربی خواہ عربی فصیح بولتا ہو۔ اس تشریح لغوی کی بنا پر آیت کا یہ معنی ہوگا کہ اگر ہم یہ قرآن کسی ایسے شخص پر نازل کرتے جس کی عربی زبان فصیح نہ ہوتی۔ بیضاوی نے لکھا ہے اعجمین اعجمی کی جمع ہے اسی لئے اس کو بصیغۂ جمع سالم ذکر کیا ہے یعنی اگر اعجم کی جمع ہوتی تو پھر اس کی جمع سالم نہ آتی کیونکہ اس کا مؤنث عجماء آتا ہے اور جس وزن افعل کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 198–199

(198۔ 199) اور اگر بالفرض ہم اس قرآن کریم کو کسی عجمی پر نازل کردیتے جسے عربی زبان سے واقفیت ہی نہیں اور وہ اس قرآن کریم کو ان کے سامنے پڑھ کر سنا دیتا تب بھی یہ لوگ اس کو نہ مانتے۔ کیونکہ جب ایسے شخص پر ایمان نہیں لائے جو ان کی زبان جانتا ہے تو پھر ایسے آدمی کی بات کیسے مانتے جو ان کی زبان سے واقف نہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 198–199

وَلَوْ نَزَّلْنٰهُ عَلٰي بَعْضِ الْاَعْجَمِيْنَ۔۔ : ”ْاَعْجَمِيْنَ“ ”أَعْجَمُ“ کی جمع ہے، گونگا یا جو سرے سے عربی نہ جانتا ہو، انسان ہو یا جانور۔ ”أَعْجَمِيٌّ“ کا بھی یہی معنی ہے، اس میں یائے نسبت تاکید کے لیے زیادہ کی گئی ہے۔ ان آیات میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ ان لوگوں کے ایمان نہ لانے کی وجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ انھوں نے طے کر رکھا ہے کہ وہ اس پر ایمان لائیں گے ہی نہیں، اس لیے آپ ان کے ایمان نہ لانے پر غم زدہ نہ ہوں۔ اگر اب یہ لوگ ایک عربی رسول پر نازل ہونے کی وجہ سے اس قرآن پر ایمان نہیں لا رہے، حالانکہ یہ عظیم ترین معجزہ ہے، جس کی ایک سورت کی مثال بھی وہ نہیں لاسکے، یہ کہہ کر…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 198–203

ولو نزلنہ علی بعض الا عجین ایسے آدمی پر جو عربی زبان والا نہیں۔ فقراہ علیھم، لغت عرب کے بغیر ان پر پڑھتا تو وہ ایمان نہ لاتے اور کہتے ہم اسے سمجھے ہی نہیں۔ اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” وَلَوْ جَعَلْنٰـہُ قُرْاٰنًا اَعْجَمِیًّا “ (فصلت : 44) ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی ہے اگر ہم اسے غیر عربی آدمی پر بھیجتے تو تکبر کی وجہ سے وہ ایمان نہ لاتا۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے۔ رجل اعجمی واعجم۔ جب وہ فصیح نہ ہو اگرچہ وہ عربی ہو۔ رجل عجمی اگرچہ فصیح ہو اسے اپنے اصل کی طرف منسوب کیا جاتا ہے مگر فراء نے اجازت دی ہے کہ یہ کہا جائے : رجل عجمی یہ اعجمی کے معنی میں ہے۔ حضرت حسن بصری نے علی بعض…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 192–213

1۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وانہ لتنزیل رب العالمین “ سے مراد ہے یہ قرآن ” نزل بہ الروح الامین “ سے مراد ہے جبرئیل علیہ السلام۔ 2۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” نزل بہ الروح الامین “ میں الروح الامین سے مراد ہے جبرئیل (علیہ السلام) میں نے دیکھا کہ اس کے چھو پر ہیں موتیوں سے انہوں نے پھیلادیا تو وہ مور کے پروں کی طرح تھے۔ 3۔ ابن مردویہ نے سعد ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا اس وقت روح امین یعنی جبرئیل (علیہ السلام) نے میرے دل میں یہ بات پھونک دی کہ ہرگز کوئی نفس نہیں مرے گا یہاں تک کہ اپنے رزق کو پورا نہ کرے اگرچہ وہ اس…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

فَقَرَاَهٗ عَلَيْهِمْ [ پھر وہ اسے پڑھ کر سناتا ان لوگوں کو ] مَّا كَانُوْا [ تو وہ نہ ہوتے ] بہ [ اس پر ] بِهٖ مُؤْمِنِيْنَ [ ایمان لانے والے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 194–204

پھر فرمایا (اَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ ) (کیا وہ ہمارے عذاب کے آنے کے لیے جلدی مچا رہے ہیں) چونکہ انہیں عذاب آجانے کا یقین نہیں ہے اس لیے ایسی باتیں کرتے ہیں اور ان کا یہ سمجھنا کہ جو ڈھیل دی جا رہی ہے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ عذاب نہ آئے گا ان کی سخت غلطی ہے دنیا کی ذرا سی چہل پہل دیکھ کر جو یوں سمجھ رہے ہیں کہ عذاب آنے والا نہیں اور اسی زندگی کو سب کچھ سمجھ رہے ہیں یہ بہت بڑی ناسمجھی ہے۔ جب عذاب آپہنچے گا جس سے چھٹکارا نہ ہو سکے گا اور سخت بھی ہوگا اس وقت یہ تھوڑی سی زندگی کا کیف اور مال و متاع کچھ بھی کام نہ دے گا۔ یہ انسانوں کی نہایت ہی حماقت کی بات ہے کہ فانی دنیا میں تھوڑے سے دن…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 192–209

خاتمہ سورت مضمون حقانیت قرآن برائے اثبات رسالت نبی آخر الزمان ﷺ قال اللہ تعالیٰ وانہ لتنزیل رب العالمین الی وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب یتقلبون۔ (ربط) ابتداء سورت میں حقانیت قرآن کا مضمون تھا جس سے آنحضرت ﷺ کی رسالت کا ثابت کرنا مقصود تھا۔ اس وجہ سے منکرین نبوت اور مکذبین رسالت کا واقعات ذکر کیے۔ اب اخیر میں پھر اسی مضمون سابق کی طرف عود کر آتے ہیں کہ یہ قرآن اللہ کی نازل کردہ کتاب ہے اور آپکی نبوت و رسالت کی روشن دلیل ہے۔ لہذا آپ اس کی تبلیغ اور دعوت میں لگے ہوئے ہیں اور اللہ پر بھروسہ رکھیئے اور ان مشرکین کی پرواہ نہ کیجئے عنقریب ان ظالموں کو اپنے ظلم و ستم کا انجام معلوم ہوجائے گا۔ چناچہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 199–200

70:۔ یہ تخویف دنیوی ہے۔ ” سلکنہ “ میں ضمیر مفعول شرک و تکذیب یا استہزاء سے کنایہ ہے۔ قال ابن عباس والحسن و مجاھد ادخلنا الشرک والتکذیب (معالم و خازن ج 5 ص 105) ، مشرکین کے دلوں میں شرک کی بیماری اور پھر توحید کی تکذیب اور اس سے استہزاء کا روگ سرایت کرچکا ہے اور وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ المناک عذاب کو نہ دیکھ لیں۔ ” فیاتیہم بغتۃ الخ “ لیکن عذاب اچانک انہیں آ لے گا اور اس سے پہلے انہیں اس کا علم نہ ہوگا تاکہ اس کی آمد سے پہلے وہ ایمان لے آئیں۔ ” فیقولوا الخ “ جب عذاب آپہنچے گا تو اب حسرت و افسوس کے ساتھ تمنا کریں گے کہ انہیں مہلت مل جائے تاکہ وہ اپنی گذشتہ بد اعمالیوں کی تلافی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 192–209

ربط آیات گزشتہ پانچ رکوع میں حضر ت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ہود (علیہ السلام) ، حضرت صالح (علیہ السلام) ، حضرت لوط (علیہ السلام) اور حضرت شعیب (علیہ السلام) اور ان کی اقوام کے حالات بیان کیے گئے ہیں ۔ ان واقعات کو بیان کر کے حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ کو تسلی دلانا مقصود تھا سابقہ انبیاء کی اقوام نے بھی ان کو جھٹلایا ، ان کو تکلیفیں پہنچائیں اور بالکل برے انجام سے دو چار ہوئے ، لہٰذا اگر مکہ والے بھی آپ سے بد سلوکی کرتے ہیں ، آپ پر ایمان نہیں لاتے تو ان کا انجام بھی سابقہ اقوام سے مختلف نہیں ہوتا ۔ اب آج کے درس میں قرآن پاک کی حقانیت کا ذکر ہو رہا ہے سورة کی ابتدا بھی اسی مضمون سے ہوئی تھی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَقَرَاَہٗ عَلَيْہِمْ مَّا كَانُوْا بِہٖ مُؤْمِنِيْنَ۝ 199ۭ قرأ والْقُرْآنُ في الأصل مصدر، نحو : کفران ورجحان . قال تعالی:إِنَّ عَلَيْنا جَمْعَهُ وَقُرْآنَهُ فَإِذا قَرَأْناهُ فَاتَّبِعْ قُرْآنَهُ [ القیامة/ 17- 18] قال ابن عباس : إذا جمعناه وأثبتناه في صدرک فاعمل به، وقد خصّ بالکتاب المنزّل علی محمد صلّى اللہ عليه وسلم، فصار له کالعلم کما أنّ التّوراة لما أنزل علی موسی، والإنجیل علی عيسى صلّى اللہ عليهما وسلم . قال بعض العلماء : ( تسمية هذا الکتاب قُرْآناً من بين كتب اللہ لکونه جامعا لثمرة كتبه) بل لجمعه ثمرة جمیع العلوم، كما أشار تعالیٰ إليه بقوله : وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ [يوسف/ 111] ،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 199–210

ترکیب : : یہیمون خبران کی اور حال بھی ہوسکتا ہے تب خبر فی کل واد ہوگی۔ منقلب صفت ہے مصدر محذوف کی والعامل ینقلبون ای ینقلبون انقلاب ای منقلب۔ تفسیر : قرآن پر شبہات کا جواب : مگر اس پر بھی وہ یہ شبہ کرتے تھے کہ جبرئیل نہیں بلکہ شیاطین آنحضرت ﷺ پر القاء کرتے ہیں اور ہر مخالف کہہ سکتا ہے کہ یہ کیونکر معلوم ہوا کہ وہ القا کرنے والے جبرئیل امین ہیں کوئی شیطان نہیں۔ اس کا کیا ہی تسلی بخش جواب عطا کرتا وما تنزلت بہ الشیاطین کہ شیاطین نے تو اس کو نازل نہیں کیا ہے کیونکہ وما ینبغی لہم یہ ان کے قبضہ قدرت سے باہر ہے۔ کس لیے کہ شیاطین اور ارواح خبیثہ کو مضامین خبیثہ سے دلی رغبت ہے ناپاک باتیں ان کی خوراک…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 198–199

وَلَوْ نَزَّلْنٰـہُ عَلٰی بَعْضِ الْاَعْجَمِیْنَ ۔ فَـقَرَاَہٗ عَلَیْھِمْ مَّا کَانُوْا بِہٖ مُؤْمِنِیْنَ ۔ (الشعرآء : 198، 199) (اگر ہم اسے کسی عجمی پر اتارتے۔ اور وہ ان کو پڑھ کر سناتا تو وہ اس پر ایمان لانے والے نہ بنتے۔ ) قریش کے مطالبے کا جواب قومیں جب بگڑتی ہیں تو فکر و عمل کی سلامتی سے بھی محروم ہوجاتی ہیں۔ کوئی صحیح سے صحیح تر بات اور واضح سے واضح تر بات بھی جو ان کے مفادات اور مزعومات سے متصادم ہو، ان کے لیے اپیل نہیں رکھتی۔ قرآن کریم کا عربی مبین میں نازل کیا جانا اہل عرب کے لیے اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان تھا۔ وہ بجائے اس کے کہ اس احسان کی قدر کرتے اور آگے بڑھ کر قرآن کریم کو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 199–202

فہم القرآن ربط کلام : منکرین قرآن جس عذاب کا انتظار یا مطالبہ کرتے ہیں وہ عنقریب ان پر نازل ہوگا۔ منکرین قرآن ایمان لانے کی بجائے نبی کریم ﷺ سے یہ مطالبہ کرتے کہ جس عذاب سے ہمیں ڈراتے رہتے ہو وہ اب تک ہم پر کیوں نازل نہیں ہوا ؟ اس کے انھیں کئی جواب دیئے گئے ہیں جن میں سے ایک جواب یہ بھی ہے کہ جس عذاب کا تم مطالبہ کرتے ہو وہ اچانک اور ایسے وقت تم پر نازل ہوگا جس کا تم تصور بھی نہیں کرسکتے۔ اس وقت تمہاری کیفیت یہ ہوگی کہ تم پکار پکار کر کہہ رہے ہو گے کہ کاش ہمیں مہلت دی گئی ہوتی۔ کیا اس عذاب کے بارے میں تم جلدی کا مظاہرہ کرتے ہو ؟ اے نبی ! غور فرمائیں کہ اگر ہم انھیں مدت مدید مہلت دیئے جائیں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

عجمی پر اتارنے میں نہ مانتے : 199: فَقَرَاَہٗ عَلَیْھِمْ مَّاکَانُوْا بِہٖ مُؤْمِنِیْنَ (پس وہ ان پر پڑھتا تو وہ اس پر ایمان لانے والے نہ تھے) مطلب یہ ہے ہم نے قرآن مجید ایک فصیح عربی زبان والے پر فصیح زبان میں اتارا انہوں نے اس کو سمجھ تو لیا اور اس کی فصاحت کو بھی پہچان لیا اور اس کا معجز ہونا بھی ظاہر کیا گیا اور اس کے ساتھ علمائے اہل کتاب کا متفقہ بیان کہ اس کے اتارے جانے کی بشارت تو رات میں موجود ہے بھی ملا دیا۔ اور قرآن ان کے مقاصد اور قصص کو شامل ہے۔ اس سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ گئی کہ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہے قریش کے خیالات کے مطابق اسیاطیر الاولین نہیں۔ مگر قریش ایمان نہ لائے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

199۔ فقراء ہ ، علیھم، بغیرعربی لغت کے، ماکانوا بہ مومنین، اور وہ یہ کہتے ہیں کہ ہم اس کا کلام نہیں سمجھتے۔ اس کی نظیر اللہ کے اس فرمان سے ہے۔ ولوجعلناہ قرآن عجمیا لقالوا لولافصلت ، بعض نے اس کا یہ معنی بیان کیا کہ اگر ہم اس کو ای سے شخص پر نازل کرتے جو عرب میں سے نہ ہوتوہرگز اس پر ایمان نہ لاتے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 192–203

(192 تا 203) حکم الٰہی کی مخالفت کے سبب سے پچھلے چند قومیں جو ہلاک ہوئیں ان کے ذکر کے بعد قریش کو قرآن کی مخالفت سے ڈرانے کے لیے ان آیتوں میں فرمایا اے رسول اللہ کے یہ قرآن اللہ رب العالمین نے تم پر اتارا ہے اور جبرئیل (علیہ السلام) اس کو لے کر اترے ہیں جو بڑے معتبر فرشتے ہیں عبداللہ بن عباس ؓ اور قتادہ وسدی کا یہ قول ہے کہ روح الامین سے یہاں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) مراد ہیں مطلب یہ ہے کہ عزت والے فرشتے نے قرآن کو اتارا ہے جو خدا کے نزدیک معتبر ہے اس نے قرآن میں کچھ بڑھایا گھٹایا نہیں ہے جوں کا توں ہے اور یہ قرآن اس واسطے اتارا ہے کہ ڈرا اسے تو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے اس کو کہ جس نے حکم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 192–203

آیت 192 سے 203 جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء کرام کا ان کی قوموں کے ساتھ قصہ بیان فرمایا اور انبیاء کرام نے کیسے ان کو توحید کی دعوت دی اور کیسے انہوں نے ان کی دعوت کو ٹھکرایا اور پھر کیسے اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو ہلاک کیا اور ان کا انجام برا ہوا۔۔۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس رسول کریم، عظمت شان کے حامل نبی مصطفیٰ ﷺ اور اس کتاب کا ذکر فرمایا جس کے ساتھ آپ مبعوث ہوئے جس میں عقل مندوں کے لئے ہدایت ہے، چناچہ فرمایا : (وانہ لتنزلیل رب العلمین) ” اور یہ (قرآن) رب العالمین کا اتارا ہوا ہے۔ “ پس وہ ہستی جس نے اس عظی کتاب کو نازل فرمایا، زمین و آسمان کو پیدا کرنے والی اور تمام عالم علوی اور سفلی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 192–223

قول باری ہے : (وانہ لتنزیل رب العالمین۔ اور یہ رب العالمین کی نازل کردہ چیز ہے۔ ) تا قول باری (وانہ لفی زبر الاولین۔ اور اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی یہ موجود ہے۔ ) اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے بارے میں بتادیا کہ رب العالمین کی نازل کردہ ہے اور پھر یہ خبر دی کہ یہ اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی موجود ہے۔ اب یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ قرآن اگلے لوگوں کی کتابوں میں عربی زبان کے اندر موجود نہیں تھا۔ اس سے یہ استدلال کیا جاسکتا ہے کہ قرآن کو کسی اور زبان میں منتقل کرنے سے اس کی قرآنیت ختم نہیں ہوتی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے علی الاطلاق یہ فرمادیا کہ قرآن اگلے لوگوں کی کتابوں میں موجود تھا حالانکہ ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 197–199

102 ہٹ دھرمی کا کوئی علاج نہیں : سو اس ارشاد سے اس مضمون کو واضح فرمایا گیا کہ اب تو ان لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ قرآن بھی عربی اور قرآن کو پیش کرنے والا بھی عربی۔ ہمیں کیا پتہ یہ خود بنا کر لاتا ہو لیکن اگر ہم اس قرآن کو کسی عجمی شخص پر بھی اتار دیتے تو انہوں نے پھر بھی نہیں ماننا تھا۔ یعنی اب تو یہ منکر لوگ یوں کہتے ہیں کہ نبی بھی عربی اور قرآن بھی عربی۔ کیا پتہ یہ خود ہی لکھ کر لا رہا ہو لیکن اگر ہم اسے کسی غیر عربی پر نازل کردیتے اور وہ ان کو پڑھ کر سنا بھی دیتا تو انہوں نے پھر بھی نہیں ماننا تھا۔ اس صورت میں یہ لوگ ماننے کی بجائے دوسرے شکوک و شبہات پیش کردیتے۔ کیونکہ ان کا انکار کسی دلیل کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 192–227

قرآن کا عربی میں نزول اور عربی زبان کے گمراہ شعراء کا رد تشریح : قرآن کی حقانیت ‘ افادیت اور حفاظت کا ذکر ہوچکا اور یہ بھی کہ یہ عربی زبان میں ہی کیوں اترا ؟ اس کے بارے میں مزید یہ کہ جہاں عربوں میں بہت سی برائیاں تھیں کچھ اچھائیاں بھی تھیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اپنی زبان ” عربی “ کی بےحد حفاظت کرتے تھے۔ اسی لیے عربی زبان بےحد وسیع ‘ جامع اور غیر متبدل (تبدیل نہ ہونے والی) زبان ہے۔ جبکہ باقی تمام زبانیں اپنی اصل سے بہت زیادہ ہٹ چکی ہیں۔ نبی اکرم ﷺ کو صاف طور پر احکامات سنائے گئے ہیں اور ان کو اللہ کی ذات جو کہ بےحد مہربان ہے پر پورا بھروسہ رکھنے اور نیکی پر ڈٹے رہنے کی ترغیب دی گئی ہے۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 192–227

آیات نمبر 192 تا 227: اسرار و معارف اسی طرح انسانیت کی ہدایت کے لیے پروردگار عالمین نے یہ قرآن اتارا ہے جسے نہایت ایماندار فرشتہ لے کر نازل ہوا ایسا کوئی احتمال نہیں کہ دورانِ نزول کوئی کمی بیشی ہوئی ہو پھر اس کا نزول آپ ﷺ قلب اطہر پہ ہوا کہ مضامین عقل محض تعمیر و اصلاح بدن کے لیے ہوتے ہیں جو کفار اور بدکاروں کی عقول میں بھی آتے ہیں اور انہیں کے بل پر وہ مادی مشینیں ایجاد کرتے ہیں تجارت کاروبار اور عالمی سیاست چلاتے ہیں مگر اس کتاب کے مضامین تو قلب میں وارد ہوئے جو کافر یا بدکار کو نصیب نہیں کہ اس کا قلب تو مردہ ہوتا ہے نیز اس میں صرف دنیا کے کمالات نہیں بلکہ امور دنیا میں اللہ کی معرفت و…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 198–199

7 ۔ کیونکہ اس وقت وہ یہ کہتے کہ یہ قرآن ہماری سمجھ میں نہیں آتا اس لئے کہ یہ غیر زبان میں ہے اگر یہ عربی میں ہوتا تو ہم اسے سمجھتے اور اس پر ایمان لے آتے۔ (دیکھئے سورة نصلت :44) یا مطلب یہ ہے کہ اب تو قرآن ایک ایسا شخص سنا رہا ہے جس کی زبان عربی ہے۔ اس لئے یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اس نے اپنے آپ تصنیف کرلیا ہے لیکن اگر ہم یہی فصیح عربی کلام کسی غیر عرب شخص پر بطور معجزہ اتارتے اور وہ انہیں خالص عربی زبان میں اس کی تلاوت کر کے سناتا تو بھی یہ اس پر ایمان نہ لاتے بلکہ اسے رد کرنے کے لئے اور قسم کے بہانے تراش لیتے۔ (شوکانی) شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں : ” دھوکے والے کا جی کبھی نہیں ٹھہرتا تب اور شبہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 198–199

(26:198) الفائدہ : آیۃ 198-199 کو سمجھنے کے لئے یہ امر زیر نظر رہے کہ کفار کا القرآن کو منزل من اللہ تسلیم نہ کرنے ہر ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ حضور خود عربی ہیں اور فصیح و بلیغ بھی ہیں اس لئے ان کے لئے ایسا کلام خود بنا لینا کوئی مشکل نہیں یہ ہر دو آیات اس کا رد ہیں۔ علی بعض الاعجمین۔ کسی عجمی (غیر عربی) پر۔ بعض نے عجمی اور اعجمی میں بہ فرق کیا ہے کہ عجمی غیر عربی کو کہتے ہیں اور عجمی غیر فصیح کو خواہ وہ عربی ہی ہو۔ یعنی اگر ہم یہ قرآن پر اتارتے اور وہ ان کو پڑھ کر سناتا تو بھی یہ ایمان نہ لاتے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 192–213

لغات القرآن : آیت نمبر 192 تا 213 : روح الامین (حضرت جبرئیل امین (علیہ السلام) ) ‘ لسان (زبان) ‘ زبر (صحیفے۔ کتابیں) ‘ اعجمین (عجمی لوگ۔ گونگے) ‘ سلکنا (ہم نے چلایا (داخل کیا) ‘۔ حتی یروا (جب تک وہ دیکھ نہ لیں) ‘ بغتۃ (اچانک) ‘ منظرون (مہلت دیئے گئے) یستعجلون (وہ جلدی کرتے ہیں) ‘ متعنا ( ہم نے فائدہ پہنچایا) ‘ ما اغنی (کام نہ آیا) یمتعون ( وہ فائدہ اٹھاتے ہیں) ‘ منذرون (ڈرانے والے) ‘ ذکری (نصیحت۔ یاددھانی) ‘ ماینبغی (مناسب نہیں ہے۔ شان نہیں ہے) ‘ یستطیعون (وہ طاقت رکھتے ہیں) ‘ معزولون (دور کردیئے گئے) ‘ لاتدع (نہ پکار) ‘ المعذبین (عذاب میں مبتلا کئے گئے) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 192 تا 213 : اللہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 192–199

کفار مکہ کو قرآن کی مخالفت سے ڈرانا۔ (ف 1) حکم الٰہی کے سبب سے پچھلی چند قومیں جو ہلاک ہوئیں ان کے ذکر کے بعد کفار مکہ کو قرآن کی مخالفت سے ڈرانے کے لیے ان آیتوں میں فرمایا یہ قرآن رب العالمین کی طرف سے اتارا ہوا ہے جو غیب کی باتیں ظاہر کرتا ہے اور پہلے لوگوں کے سچے حال بیان کرتا ہے جس کو اے محبوب ﷺ تمہارے اوپر ہم نے قرآن کو اس لیے اتارا ہے تاکہ تم لوگوں کو ڈر سناؤ، صاف صاف عربی زبان میں ، اور اس قرآن کا ذکر اور تمہاری نبوت اور رسالت کا ذکر پہلی امتوں کی آسمانی کتابوں میں موجود ہے پھر فرمایا کہ مکہ کے کفار کیا یہ گواہی کافی نہیں کہ بنی اسرائیل کے عالم اس قران کو اپنی کتابوں میں لکھا ہوا پاتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[33] کفار کہتے تھے کہ قرآن عربی زبان میں ہے اور اس نبی کی زبان بھی عربی ہے اس لئے قرآن اس نے خود تصنیف کرلیا ہے اگر غیرزبان والے پر عربی قرآن اترتا تو ہم یقین کرتے۔ اس پر ارشاد فرمایا کہ تب بھی یہ لوگ ماننے والے نہ تھے اس وقت کچھ اور احتمالات پیدا کرتے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 198–199

الا عجمین ۔ مفرداعجم یعنی عرب لوگ ۔ اعجم اس شخص کو کہتے ہیں جو فصاحت کے ساتھ بات نہ کرسکے ۔ اور پورے طور پر بات کرنے پر قادر نہ ہو ۔ خواہ اہل عرب ہو ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(199) اور وہ عجمی شخص ان کے روبرو اس قرآن کریم کو پڑھتا تب بھی یہ لوگ اس کو نہ مانتے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کافر کہتے تھے کہ قرآن کریم آتا ہے عربی زبان میں اس نبی کی زبان بھی عربی ہے شاید آپ ہی کہتا ہو اگر غیر عربی والے پر آتا تو یقین کرتے فرمایا وھوکے والے کاجی کبھی نہیں ٹھہرتا تب اور شبہ نکالتے کہ کوئی سکھا جاتا ہے 12 مطلب یہ ہے کہ ان کے عناد اور سرکشی کا یہ حال ہے کہ جب کوئی اور بات کہہ دیتے آگے نبی کریم ﷺ کو تسلی دی جاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ ان کے سامنے قرآن کریم کو پڑھتا تو بھی یہ لوگ ایمان نہیں لاسکتے تھے : 199۔ قرآن کریم کے الفاظ ومضامین اور اس کی روحانی کشش بلاشبہ ایک بہت بڑا معجزہ ہے یا یوں کہو کہ معجزانہ کلام ہے لیکن اگر اس کو کسی عجمی پر اتار دیا جاتا تو کا معجزہ ہونے کی مزید وضاحت ہوجاتی کہ اس کو ایک ایسا شخص بول اور پڑھ رہا ہے جس کی اپنی زبان بھی عربی نہیں لیکن کیا نہ ماننے والے اس وقت مان لیتے ؟ فرمایا ان ظالموں کو اس درجہ عناد اور ضد ہے کہ یہ اس صورت میں بھی ایمان لانے کے لئے تیار نہ ہوتے بلاشبہ نہ ماننے اور نہ تسلیم کرنے والوں کے لئے کوئی دلیل بھی دلیل نہیں ہوتی کیونکہ ضد وعناد کا علاج کبھی دلیل نہیں ہو سکتا اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 193–204

Commentary Qur’ an is the name of the collection of its words and meanings نَزَلَ بِهِ الرُّ‌وحُ الْأَمِينُ ﴿193﴾ عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِ‌ينَ ﴿194﴾ بِلِسَانٍ عَرَ‌بِيٍّ مُّبِينٍ ﴿195﴾ وَإِنَّهُ لَفِي زُبُرِ‌ الْأَوَّلِينَ ﴿196﴾ It is brought by the Trusted Spirit down [ 193] to your heart, so that you become one of the warners [ 194] in plain Arabic language. [ 195] And of course, it is (mentioned) in the scriptures of the former people. [ 196] The words بِلِسَانٍ عَرَ‌بِيٍّ مُّبِينٍ (in plain Arabic language - 195) in these verses makes it clear that Qur'an is only that…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 198–199

124 That is, "Now when a man from among themselves is reciting to them this Divine Revelation in lucid Arabic, they say that he himself has composed it, and therefore it cannot be from Allah. But if the same Revelation in eloquent Arabic had been sent down by Allah to a non-Arab as a miracle, and he had recited it before them in perfect Arabic accent, they would have invented some other excuse for not believing in him. They would have said that he is under the power and influence of a jinn, who speaks Arabic through a non-Arab." As a matter of fact, a lover of the truth considers the thing…

Read the full tafseer →