Ash-Shu'araa 26:198

Ash-Shu'araa · from ayah 198

26:198

وَلَوْ نَزَّلْنٰهُ عَلٰی بَعْضِ الْاَعْجَمِیْنَ ۟ۙوَلَوۡ نَزَّلۡنٰهُ عَلٰى بَعۡضِ الۡاَعۡجَمِيۡنَۙ‏

اور اگر ہم اس کو کسی غیر اہل زبان پر اُتارتے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And even if We had revealed it to one among the foreigners

— Saheeh International

Juz 19 · Ruku 11 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shu'araa

All translations of 26:198

(لیکن اِن کی ہٹ دھرمی کا حال یہ ہے کہ) اگر ہم اسے کسی عجمی پر بھی نازل کر دیتے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اگر ہم اس کو کسی غیر اہل زبان پر اُتارتے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اگر ہم اسے کسی عجمی شخص پر نازل فرماتے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اگر ہم یہ کتاب عجمی لوگوں میں سے کسی پر نازل کردیتے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اگر ہم اسے کسی غیر عربی شخص پر اتارتے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اگر ہم اسے غیر عربی لوگوں (یعنی عجمیوں) میں سے کسی پر نازل کرتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اگر ہم اسے غیر عرب لوگوں میں سے کسی پر نازل کرتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اگر ہم اس قرآن کو کسی عجمی پر اتارتے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اگر ہم اس کو کسی عجمی پر اتارتے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ان لوگوں کی ہٹ دھرمی کا یہ عالم ہے کہ اگر ہم اتار دیتے اس قرآن کو کسی عجمی پر

— مولانا اسحاق مدنی

اور اگر ہم اس کو کسی عجمی پر نازل کرتے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اگر ہم نے اس (قرآن) کو نازل کردیا ہوتا کسی عجمی پر

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اگر ہم اس کو کسی غیر اہل زبان پر اتارتے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

(But such is their adamance) that had We revealed it to one of the non-Arabs and even if he had recited (this clear Arabic discourse) to them

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Even if We had revealed it to a Non-Arab,

— Muhammad Taqi Usmani

Even if We had revealed it to a Non-Arab,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And if We had revealed it unto any of the non-Arabs,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And if We had revealed it unto one of any other nation than the Arabs,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And even if We had revealed it to one among the foreigners

— Saheeh International

Had We revealed it to a non-Arab

— Muhammad Sarwar

And if we had revealed it to any of the foreigners

— Muhammad Habib Shakir

And had We revealed it unto any of the ncn-Arabs,

— Abdul Majid Daryabadi

Had We revealed it to any of the non-Arabs,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 26:198

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 196–199

بشارت و تصدیق یافتہ کتاب فرماتا ہے کہ اللہ کی اگلی کتابوں میں بھی اس پاک اور اللہ کی آخری کلام کی پیشن گوئی اور اسکی تصدیق وصفت موجود ہے۔ اگلے نبیوں نے بھی اسکی بشارت دی یہاں تک کہ ان تمام نبیوں کے آخری نبی جن کے بعدحضور ﷺ تک اور کوئی نبی نہ تھا۔ یعنی حضرت عیسیٰ ؑ بنی اسرائیل کو جمع کر کے جو خطبہ دیتے ہیں اس میں فرماتے ہیں کہ اے بنی اسرائیل ! میں تمہاری جانب اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں جو اگلی کتابوں کو سچانے کے ساتھ ہی آنے والے حضرت محمد ﷺ کی بشارت تمہیں سناتا ہوں۔ زبور حضرت داؤد ؑ کی کتاب کا نام ہے یہاں زبر کا لفظ کتابوں کے معنی میں ہے جیسے فرمان ہے۔ آیت (وَكُلُّ شَيْءٍ فَعَلُوْهُ فِي…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 198–199

سورة الشُّعَرَآء 124 یعنی اب ان ہی کی قوم کا ایک آدمی انہیں عربی مبین میں یہ کلام پڑھ کر سنا رہا ہے تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس شخص نے اسے خود تصنیف کرلیا ہے، عرب کی زبان سے عربی تقریر ادا ہونے میں آخر معجزے کی کیا بات ہے کہ ہم اسے خدا کا کلام مان لیں۔ لیکن اگر یہی فصیح عربی کلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی غیر عرب پر بطور معجزہ نازل کردیا جاتا اور وہ ان کے سامنے آ کر نہایت صحیح عربی لہجہ میں اسے پڑھتا تو یہ ایمان نہ لانے کے لیے دوسرا بہانہ تراشتے، اس وقت یہ کہتے کہ اس پر کوئی جن آ گیا ہے جو عجمی کی زبان سے عربی بولتا ہے۔ (تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، حٰم السجدہ، حواشی 54 تا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 193–204

معارف و مسائل نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِيْنُ ، عَلٰي قَلْبِكَ لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِيْنَ ، بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيْنٍ ، وَاِنَّهٗ لَفِيْ زُبُرِ الْاَوَّلِيْنَ۔ قرآن اس کے الفاظ و معانی کے مجموعہ کا نام ہے آیات مذکورہ میں بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيْنٍ سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن وہی ہے جو عربی زبان میں ہو، کسی مضمون قرآن کا ترجمہ خواہ کسی زبان میں ہو وہ قرآن نہیں کہلائے گا اور وَاِنَّهٗ لَفِيْ زُبُرِ الْاَوَّلِيْنَ کے الفاظ سے بظاہر اس کے خلاف یہ معلوم ہوتا ہے کہ معانی قرآن جو کسی دوسری زبان میں بھی ہوں وہ بھی قرآن ہیں، کیونکہ انہ کی ضمیر ظاہر یہ ہے کہ قرآن کی طرف راجع ہے اور زبر، زبور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 198–199

آیت 199-198 یہ اسی امتنان و احسان کے مضمون کی جو آیت 196 میں گزرا، مزید وضاحت فرمائی کہ اگر یہ قرآن کسی عجمی پر عجمی زبان میں اترا ہوتا اور وہ ان کو سنا تا تب تو وہ یہ عذر کرتے کہ عربی کے لئے عجمی قرآن کے کیا معنی ! لیکن اب وہ کیا عذر پیش کریں گے جب کہ اللہ نیانہی کی بہترین زبان میں اور انہی کے بہترین شخص پر اس کلام کو نازل فرمایا ! سورة حم السجدہ میں یہ مضمون یوں بیان ہوا ہے۔ (آیت 44) (اور اگر ہم اس کو عجمی قرآن بناتے تو یہ کہتے کہ اس کی آیات کھولی کیوں نہ گئیں ! کلامی عجمی اور مخاطب عربی) سورة نحل کی آیت 103 میں بھی اس مضمون کے ایک پہلو کی وضاحت ہوئی ہے۔ تفصیل مطلوب ہو تو ایک نظر اس پر بھی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 198–199

199-1یعنی کسی عجمی زبان میں نازل کرتے تو یہ کہتے کہ یہ ہماری سمجھ میں ہی نہیں آتا۔ جیسے (وَلَوْ جَعَلْنٰهُ قُرْاٰنًا اَعْجَمِيًّا لَّـقَالُوْا لَوْلَا فُصِّلَتْ اٰيٰتُهٗ ڼءَاَعْجَمِيٌّ وَّعَرَبِيٌّ ۭ قُلْ هُوَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا هُدًى وَّشِفَاۗءٌ ۭ وَالَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ فِيْٓ اٰذَانِهِمْ وَقْرٌ وَّهُوَ عَلَيْهِمْ عَمًى ۭ اُولٰۗىِٕكَ يُنَادَوْنَ مِنْ مَّكَانٍۢ بَعِيْدٍ) 41۔ فصلت :44) میں ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 197–198

44: بنو اسرائیل میں سے جو لوگ آنحضرت ﷺ پر ایمان لے آئے تھے، وہ تو کھلم کھلا یہ بتاتے تھے کہ یہود و نصاریٰ کی کتابوں میں آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری کی بشارت اور آپ کی علامتیں درج ہیں، لیکن بنی اسرائیل کے جو علماء ایمان نہیں لائے تھے، وہ بھی تنہائی میں کبھی کبھی اس حقیقت کا اعتراف کرلیتے تھے

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 198–199

ولو نزلنہ علی ……مومنین (199) ان الفاظ میں اللہ ﷺ کے لئے ایک گونہ تسلی ہی کہ آپ کے کام میں اور ہمارے کلام میں کوئی کوتاہی نہیں ہے۔ درحقیقت یہ لوگ سخت عناد اور ہٹ دھرمی میں مبتلا ہیں۔ اس لئے یہ فیصلہ کرچکے ہیں کہ نہیں مانیں گے اور یہ فیصلہ ان کے مقدر میں لکھا جا چکا ہے کہ یہ اپنے عناد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے نہ مانیں گے۔ یہ قضا و قدر کا فصلہ بن چکا ہے۔ یہ اس روش سے پھر نہیں سکتے۔ بس اب عذاب کا انتظار کریں کہ یہ غفلت میں ہوں اور مارے جائیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 198–199

6 یعنی آپ تو فصحائے عرب میں سے ہیں۔ ممکن ہے مشرکین مکہ یوں کہہ دیں کہ قرآن آپ ﷺ نے خود تصنیف کرلیا ہوگا (حالانکہ قرآن اس حد اعجاز کو پہنچا ہوا ہے جس کا مثل تمام جن و انس بھی بنا کر نہیں لاسکتے) تاہم کہنے کو یہ احتمال پیدا کرسکتے ہیں۔ لیکن ان کی ہٹ دھرمی، شقاوت اور بدبختی کا حال تو یہ ہے کہ اگر یہ قرآن فرض کرو ہم کسی غیر فصیح عرب یا عجمی انسان پر اتارتے تو جو ایک حرف عربی کا بولنے پر قادر نہ ہوتا، بلکہ بفرض محال کسی حیوان لا یعقل پر اتارا جاتا، تب بھی یہ لوگ اس کے ماننے والے نہ تھے۔ اس وقت کچھ اور احتمالات پیدا کرتے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں " کافر کہتے تھے کہ قرآن آیا ہے عربی زبان میں، اس نبی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 198–199

آیت 199 فَقَرَاَہٗ عَلَیْہِمْ مَّا کَانُوْا بِہٖ مُؤْمِنِیْنَ ” ہم یہ بھی کرسکتے تھے کہ قرآن کسی ایسے شخص پر نازل کردیتے جس کی مادری زبان عربی نہ ہوتی ‘ پھر اگر ایسا شخص انہیں عربی قرآن پڑھ کر سناتا تو یہ گویا ایک کھلا معجزہ ہوتا ‘ لیکن یہ لوگ پھر بھی اسے ماننے والے نہیں تھے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 198–199

117 موجودہ صورت حال یہ ہے کہ نبی بھی عربی ہے اور قرآن بھی عربی زبان میں ہے تو ان کافروں کو یہ شبہ پڑگیا ہے کہ کہیں قرآن اس نے خود ہی نہ تصنیف کر ڈالا ہو۔ اب فرض کیجئے کہ ہم یہی فصیح عربی زبان والا قرآن کسی عجمی پر نازل کرتے تو ان پر شک و شبہ کرنے کے لئے دوسرے کئی راہ کھل جاتیں۔ مثلاً یہ کہہ دیتے کہ یہ آیات اللہ نے جبریل کے ذریعہ اس پر نازل نہیں کیں بلک اسے تو کوئی جن یا شیطان پڑھا جاتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ خوے بد را پہالہ بسیار والا معاملہ ہے۔ نیت میں فتور ہو تو شک و شبہ کے بہانے ہزاروں مل سکتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 198–199

104۔ مطلب یہ ہے کہ قرآن اپنی ساری موجودہ شان اعجاز کے ساتھ کسی فصاحت ناآشنا شخص پر نازل کردیا جاتا، تو اس وقت تو وجہ اعجاز اور زیادہ واضح ونمایاں ہوجاتی لیکن ان ظالموں کو اس درجہ عناد اور ضد ہے کہ ایمان یہ اس صورت میں بھی نہ لاتے اور خدائی کلام اسے جب بھی نہ تسلیم کرتے، قال تعالیٰ مخبرا عن شدۃ کفر قریش وعنادھم لھذا القران انہ لونزل علی رجل من الاعاجم ممن لایدری من العربیۃ کلمۃ وانزل علیہ ھذا الکتاب ببیانہ وفصاحتہ لایؤمنون بہ (ابن کثیر) والمراد بیان فرط عنادھم وشدۃ شکیمتھم فی المکابرۃ کانہ قیل ولونزلنا بھذا النظم الرائق المعجز علی من لایقدر علی التکلم بالعربیۃ فقرأہ علیھم قراء ۃ صحیحۃ خارفۃ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 192–227

آیت نمبر 192 تا 227 ترجمہ : بلاشبہ یہ یعنی قرآن رب العالمین کا نازل فرمودہ ہے اس کو روح الامین یعنی جبرائیل آپ کے قلب پر لیکر اترے ہیں صاف عربی زبان میں تاکہ آپ ڈرانے والوں میں ہوجائیں اور ایک قرأۃ میں نَزَّلَ تشدید اور روح کے نصب کے ساتھ ہے اور فاعل اللہ ہے اور بلاشبہ محمد ﷺ پر نازل شدہ قرآن کی خبر پہلے لوگوں کی کتابوں مثلاً تورات و انجیل میں ہے کیا ان کے لئے قرآن کی صداقت کی یہ نشانی کافی نہیں کہ اس کو بنی اسرائیل کے علماء بھی جانتے ہیں ؟ جیسا کہ عبد اللہ بن سلام اور ان کے وہ ساتھی جو ایمان لائے، وہ اس کی حقانیت کی خبر دیتے ہیں اور یَکُنْ یا کے ساتھ اور آیۃً کے نصب کے ساتھ اور تا کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 198–199

(198۔ 199) اور اگر بالفرض ہم اس قرآن کریم کو کسی عجمی پر نازل کردیتے جسے عربی زبان سے واقفیت ہی نہیں اور وہ اس قرآن کریم کو ان کے سامنے پڑھ کر سنا دیتا تب بھی یہ لوگ اس کو نہ مانتے۔ کیونکہ جب ایسے شخص پر ایمان نہیں لائے جو ان کی زبان جانتا ہے تو پھر ایسے آدمی کی بات کیسے مانتے جو ان کی زبان سے واقف نہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 198–199

وَلَوْ نَزَّلْنٰهُ عَلٰي بَعْضِ الْاَعْجَمِيْنَ۔۔ : ”ْاَعْجَمِيْنَ“ ”أَعْجَمُ“ کی جمع ہے، گونگا یا جو سرے سے عربی نہ جانتا ہو، انسان ہو یا جانور۔ ”أَعْجَمِيٌّ“ کا بھی یہی معنی ہے، اس میں یائے نسبت تاکید کے لیے زیادہ کی گئی ہے۔ ان آیات میں رسول اللہ ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ ان لوگوں کے ایمان نہ لانے کی وجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ انھوں نے طے کر رکھا ہے کہ وہ اس پر ایمان لائیں گے ہی نہیں، اس لیے آپ ان کے ایمان نہ لانے پر غم زدہ نہ ہوں۔ اگر اب یہ لوگ ایک عربی رسول پر نازل ہونے کی وجہ سے اس قرآن پر ایمان نہیں لا رہے، حالانکہ یہ عظیم ترین معجزہ ہے، جس کی ایک سورت کی مثال بھی وہ نہیں لاسکے، یہ کہہ کر…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 198–203

ولو نزلنہ علی بعض الا عجین ایسے آدمی پر جو عربی زبان والا نہیں۔ فقراہ علیھم، لغت عرب کے بغیر ان پر پڑھتا تو وہ ایمان نہ لاتے اور کہتے ہم اسے سمجھے ہی نہیں۔ اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :” وَلَوْ جَعَلْنٰـہُ قُرْاٰنًا اَعْجَمِیًّا “ (فصلت : 44) ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی ہے اگر ہم اسے غیر عربی آدمی پر بھیجتے تو تکبر کی وجہ سے وہ ایمان نہ لاتا۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے۔ رجل اعجمی واعجم۔ جب وہ فصیح نہ ہو اگرچہ وہ عربی ہو۔ رجل عجمی اگرچہ فصیح ہو اسے اپنے اصل کی طرف منسوب کیا جاتا ہے مگر فراء نے اجازت دی ہے کہ یہ کہا جائے : رجل عجمی یہ اعجمی کے معنی میں ہے۔ حضرت حسن بصری نے علی بعض…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 192–213

1۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وانہ لتنزیل رب العالمین “ سے مراد ہے یہ قرآن ” نزل بہ الروح الامین “ سے مراد ہے جبرئیل علیہ السلام۔ 2۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” نزل بہ الروح الامین “ میں الروح الامین سے مراد ہے جبرئیل (علیہ السلام) میں نے دیکھا کہ اس کے چھو پر ہیں موتیوں سے انہوں نے پھیلادیا تو وہ مور کے پروں کی طرح تھے۔ 3۔ ابن مردویہ نے سعد ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا اس وقت روح امین یعنی جبرئیل (علیہ السلام) نے میرے دل میں یہ بات پھونک دی کہ ہرگز کوئی نفس نہیں مرے گا یہاں تک کہ اپنے رزق کو پورا نہ کرے اگرچہ وہ اس…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

وَلَوْ [ اور اگر ] نَزَّلْنٰهُ [ ہم اتارتے اس کو ] عَلٰي بَعْضِ الْاَعْجَمِيْنَ [ غیر عربی لوگوں کے کسی پر ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 194–204

پھر فرمایا (اَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ ) (کیا وہ ہمارے عذاب کے آنے کے لیے جلدی مچا رہے ہیں) چونکہ انہیں عذاب آجانے کا یقین نہیں ہے اس لیے ایسی باتیں کرتے ہیں اور ان کا یہ سمجھنا کہ جو ڈھیل دی جا رہی ہے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ عذاب نہ آئے گا ان کی سخت غلطی ہے دنیا کی ذرا سی چہل پہل دیکھ کر جو یوں سمجھ رہے ہیں کہ عذاب آنے والا نہیں اور اسی زندگی کو سب کچھ سمجھ رہے ہیں یہ بہت بڑی ناسمجھی ہے۔ جب عذاب آپہنچے گا جس سے چھٹکارا نہ ہو سکے گا اور سخت بھی ہوگا اس وقت یہ تھوڑی سی زندگی کا کیف اور مال و متاع کچھ بھی کام نہ دے گا۔ یہ انسانوں کی نہایت ہی حماقت کی بات ہے کہ فانی دنیا میں تھوڑے سے دن…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 192–209

خاتمہ سورت مضمون حقانیت قرآن برائے اثبات رسالت نبی آخر الزمان ﷺ قال اللہ تعالیٰ وانہ لتنزیل رب العالمین الی وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب یتقلبون۔ (ربط) ابتداء سورت میں حقانیت قرآن کا مضمون تھا جس سے آنحضرت ﷺ کی رسالت کا ثابت کرنا مقصود تھا۔ اس وجہ سے منکرین نبوت اور مکذبین رسالت کا واقعات ذکر کیے۔ اب اخیر میں پھر اسی مضمون سابق کی طرف عود کر آتے ہیں کہ یہ قرآن اللہ کی نازل کردہ کتاب ہے اور آپکی نبوت و رسالت کی روشن دلیل ہے۔ لہذا آپ اس کی تبلیغ اور دعوت میں لگے ہوئے ہیں اور اللہ پر بھروسہ رکھیئے اور ان مشرکین کی پرواہ نہ کیجئے عنقریب ان ظالموں کو اپنے ظلم و ستم کا انجام معلوم ہوجائے گا۔ چناچہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 197–198

69:۔ یہ مشرکین کے فرط عناد کا بیان ہے جو دلائل عقلیہ و نقلیہ کے باوجود نہیں مانتے۔ ان کی ضد وعناد کا یہ عالم ہے کہ اگر ہم یہ فصیح وبلیغ عربی قرآن کسی عجمی پر نازل کردیتے جو عربی زبان سے بالکل نابلد ہوتا اور اس کے باوجود معجزانہ طور پر صحیح صحیح پڑھ کر ان کو سنا دیتا تو وہ پھر بھی نہ مانتے اور نہ ماننے کے لیے کئی بہانے تراش لیتے۔ المراد بیان فرط عنادھم و شندۃ شکیمتھم فی المکابرۃ (روح ج 19 ص 127) ۔ ” ولو نزلنہ علی بعض الاعاجم الذی لا یحسن العربیۃ فضلا ان یقدر علی نظم مثلہ فقراہ علیھم ھکذا معجزا الکفروا بہ کما کفروا و لتمحلوا لجحودھم عذرا و سموہ سحر (مدارک ج 3 ص 150) ۔ یا مطلب یہ ہے کہ اگر ہم یہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 192–209

ربط آیات گزشتہ پانچ رکوع میں حضر ت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ہود (علیہ السلام) ، حضرت صالح (علیہ السلام) ، حضرت لوط (علیہ السلام) اور حضرت شعیب (علیہ السلام) اور ان کی اقوام کے حالات بیان کیے گئے ہیں ۔ ان واقعات کو بیان کر کے حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ کو تسلی دلانا مقصود تھا سابقہ انبیاء کی اقوام نے بھی ان کو جھٹلایا ، ان کو تکلیفیں پہنچائیں اور بالکل برے انجام سے دو چار ہوئے ، لہٰذا اگر مکہ والے بھی آپ سے بد سلوکی کرتے ہیں ، آپ پر ایمان نہیں لاتے تو ان کا انجام بھی سابقہ اقوام سے مختلف نہیں ہوتا ۔ اب آج کے درس میں قرآن پاک کی حقانیت کا ذکر ہو رہا ہے سورة کی ابتدا بھی اسی مضمون سے ہوئی تھی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَوْ نَزَّلْنٰہُ عَلٰي بَعْضِ الْاَعْجَمِيْنَ۝ 198ۙ نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن دابۃ وہ سواری سے اتر پڑا ۔ نزل فی مکان کذا کسی جگہ پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 194–198

1 ؎ العجم یا بالضم و التحرک خلاف العرب 12۔ قاموس بہ اعجمی جمع اعج میں علی التخفیف ولذلک جمع جمع السلام ۃ 12 بیضاوی ای لیس جمع اعجم لانہ علیٰ وزن افعل و افعل اذاکان اتناہ نعلاء کعجماء یکون من الصفات لایحمع جمع السلام ۃ۔ 12 ابو محمد عبدالحق

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 198–199

وَلَوْ نَزَّلْنٰـہُ عَلٰی بَعْضِ الْاَعْجَمِیْنَ ۔ فَـقَرَاَہٗ عَلَیْھِمْ مَّا کَانُوْا بِہٖ مُؤْمِنِیْنَ ۔ (الشعرآء : 198، 199) (اگر ہم اسے کسی عجمی پر اتارتے۔ اور وہ ان کو پڑھ کر سناتا تو وہ اس پر ایمان لانے والے نہ بنتے۔ ) قریش کے مطالبے کا جواب قومیں جب بگڑتی ہیں تو فکر و عمل کی سلامتی سے بھی محروم ہوجاتی ہیں۔ کوئی صحیح سے صحیح تر بات اور واضح سے واضح تر بات بھی جو ان کے مفادات اور مزعومات سے متصادم ہو، ان کے لیے اپیل نہیں رکھتی۔ قرآن کریم کا عربی مبین میں نازل کیا جانا اہل عرب کے لیے اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان تھا۔ وہ بجائے اس کے کہ اس احسان کی قدر کرتے اور آگے بڑھ کر قرآن کریم کو…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 193–198

فہم القرآن ربط کلام : قرآن مجید من جانب اللہ ہونے کے مزید دلائل۔ اہل مکہ ذہنی بوکھلاہٹ کا شکار ہونے کی وجہ سے قرآن مجید کے بارے میں ایک سے ایک بڑھ کر بہکی ہوئی بات کرتے تھے۔ ایک موقعہ پر اعتراض کرتے محمد ﷺ کسی عربی سے سیکھ کر پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں پڑھ کر ہمیں سنائے دیتا ہے۔ (النحل : 103) دوسرے موقع پر خود مطالبہ کرتے یہ قرآن کسی عجمی پر نازل ہونا چاہیے تھا۔ یہ مطالبہ بذات خود ان کی حماقت کی دلیل تھا کیونکہ قرآن مجید عجمی زبان میں ہوتا تو اس کے سمجھنے میں انھیں کس قدر دشواری کا سامنا کرنا پڑتا بالخصوص نزول قرآن کے وقت چند لوگوں کو چھوڑ کر باقی عرب اَن پڑھ تھے۔ یہاں ان کی بات کا یہ جواب دیا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

عجمی و اعجمی کا فرق : 198: وَلَوْ نَزَّلْنٰہُ عَلٰی بَعْضِ الْاَعْجَمِیْنَ (اور اگر ہم اس کو اتارتے بعض عجمیوں پر) اعجمین یہ اعجم کی جمع ہے اور وہ غیر فصیح کو کہا جاتا ہے اسی طرح عجمی بھی البتہ اضافت یاءؔ کی وجہ سے تاکید زائد ہے۔ جب کوئی اہل عرب سے ان کی زبان کے علاوہ دیگر زبان میں بات کرتا تو وہ اس کی بات نہ سمجھتے اور اس کو کہتے اعجم و اعجمی اس کو ایسے شخص سے تشبیہ دیتے جو نہ فصیح ہو اور نہ کھول کروضاحت کرسکتا ہو۔ والعجمیؔ جو غیر عربی ہو خواہ وہ فصیح ہو یا غیر فصیح۔ قراءت حسن (رح) : الاعجمیین ایک قول یہ بھی ہے الاعجمین تخفیف کے ساتھ الاعجمیین تشدید کے ساتھ اسی طرح ہے جیسا کہ الا شعرون…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

198۔ ولونزلناہ اس سے مراد قران مجید ہے۔ علی بعض الاعجمین، جمع ہے اعجمی کی، وہ شخص مراد ہے جو فصیح نہ ہو اور عربی زبان پر واقفیت نہ ہو۔ اگرچہ وہ نسبی عربی ہو۔ والعجمی، عجم کی طرف منسوب ہے اگرچہ وہ فصیح ہو۔ آیت کا معنی یہ ہوگا کہ اگر ہم ایسے شخص پر اس کو نازل کرتے جو عربی زبان پر عبور نہیں رکھتا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 192–203

(192 تا 203) حکم الٰہی کی مخالفت کے سبب سے پچھلے چند قومیں جو ہلاک ہوئیں ان کے ذکر کے بعد قریش کو قرآن کی مخالفت سے ڈرانے کے لیے ان آیتوں میں فرمایا اے رسول اللہ کے یہ قرآن اللہ رب العالمین نے تم پر اتارا ہے اور جبرئیل (علیہ السلام) اس کو لے کر اترے ہیں جو بڑے معتبر فرشتے ہیں عبداللہ بن عباس ؓ اور قتادہ وسدی کا یہ قول ہے کہ روح الامین سے یہاں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) مراد ہیں مطلب یہ ہے کہ عزت والے فرشتے نے قرآن کو اتارا ہے جو خدا کے نزدیک معتبر ہے اس نے قرآن میں کچھ بڑھایا گھٹایا نہیں ہے جوں کا توں ہے اور یہ قرآن اس واسطے اتارا ہے کہ ڈرا اسے تو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے اس کو کہ جس نے حکم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 192–203

آیت 192 سے 203 جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء کرام کا ان کی قوموں کے ساتھ قصہ بیان فرمایا اور انبیاء کرام نے کیسے ان کو توحید کی دعوت دی اور کیسے انہوں نے ان کی دعوت کو ٹھکرایا اور پھر کیسے اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو ہلاک کیا اور ان کا انجام برا ہوا۔۔۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس رسول کریم، عظمت شان کے حامل نبی مصطفیٰ ﷺ اور اس کتاب کا ذکر فرمایا جس کے ساتھ آپ مبعوث ہوئے جس میں عقل مندوں کے لئے ہدایت ہے، چناچہ فرمایا : (وانہ لتنزلیل رب العلمین) ” اور یہ (قرآن) رب العالمین کا اتارا ہوا ہے۔ “ پس وہ ہستی جس نے اس عظی کتاب کو نازل فرمایا، زمین و آسمان کو پیدا کرنے والی اور تمام عالم علوی اور سفلی…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 192–223

قول باری ہے : (وانہ لتنزیل رب العالمین۔ اور یہ رب العالمین کی نازل کردہ چیز ہے۔ ) تا قول باری (وانہ لفی زبر الاولین۔ اور اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی یہ موجود ہے۔ ) اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے بارے میں بتادیا کہ رب العالمین کی نازل کردہ ہے اور پھر یہ خبر دی کہ یہ اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی موجود ہے۔ اب یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ قرآن اگلے لوگوں کی کتابوں میں عربی زبان کے اندر موجود نہیں تھا۔ اس سے یہ استدلال کیا جاسکتا ہے کہ قرآن کو کسی اور زبان میں منتقل کرنے سے اس کی قرآنیت ختم نہیں ہوتی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے علی الاطلاق یہ فرمادیا کہ قرآن اگلے لوگوں کی کتابوں میں موجود تھا حالانکہ ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 197–199

102 ہٹ دھرمی کا کوئی علاج نہیں : سو اس ارشاد سے اس مضمون کو واضح فرمایا گیا کہ اب تو ان لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ قرآن بھی عربی اور قرآن کو پیش کرنے والا بھی عربی۔ ہمیں کیا پتہ یہ خود بنا کر لاتا ہو لیکن اگر ہم اس قرآن کو کسی عجمی شخص پر بھی اتار دیتے تو انہوں نے پھر بھی نہیں ماننا تھا۔ یعنی اب تو یہ منکر لوگ یوں کہتے ہیں کہ نبی بھی عربی اور قرآن بھی عربی۔ کیا پتہ یہ خود ہی لکھ کر لا رہا ہو لیکن اگر ہم اسے کسی غیر عربی پر نازل کردیتے اور وہ ان کو پڑھ کر سنا بھی دیتا تو انہوں نے پھر بھی نہیں ماننا تھا۔ اس صورت میں یہ لوگ ماننے کی بجائے دوسرے شکوک و شبہات پیش کردیتے۔ کیونکہ ان کا انکار کسی دلیل کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 192–227

قرآن کا عربی میں نزول اور عربی زبان کے گمراہ شعراء کا رد تشریح : قرآن کی حقانیت ‘ افادیت اور حفاظت کا ذکر ہوچکا اور یہ بھی کہ یہ عربی زبان میں ہی کیوں اترا ؟ اس کے بارے میں مزید یہ کہ جہاں عربوں میں بہت سی برائیاں تھیں کچھ اچھائیاں بھی تھیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اپنی زبان ” عربی “ کی بےحد حفاظت کرتے تھے۔ اسی لیے عربی زبان بےحد وسیع ‘ جامع اور غیر متبدل (تبدیل نہ ہونے والی) زبان ہے۔ جبکہ باقی تمام زبانیں اپنی اصل سے بہت زیادہ ہٹ چکی ہیں۔ نبی اکرم ﷺ کو صاف طور پر احکامات سنائے گئے ہیں اور ان کو اللہ کی ذات جو کہ بےحد مہربان ہے پر پورا بھروسہ رکھنے اور نیکی پر ڈٹے رہنے کی ترغیب دی گئی ہے۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 192–227

آیات نمبر 192 تا 227: اسرار و معارف اسی طرح انسانیت کی ہدایت کے لیے پروردگار عالمین نے یہ قرآن اتارا ہے جسے نہایت ایماندار فرشتہ لے کر نازل ہوا ایسا کوئی احتمال نہیں کہ دورانِ نزول کوئی کمی بیشی ہوئی ہو پھر اس کا نزول آپ ﷺ قلب اطہر پہ ہوا کہ مضامین عقل محض تعمیر و اصلاح بدن کے لیے ہوتے ہیں جو کفار اور بدکاروں کی عقول میں بھی آتے ہیں اور انہیں کے بل پر وہ مادی مشینیں ایجاد کرتے ہیں تجارت کاروبار اور عالمی سیاست چلاتے ہیں مگر اس کتاب کے مضامین تو قلب میں وارد ہوئے جو کافر یا بدکار کو نصیب نہیں کہ اس کا قلب تو مردہ ہوتا ہے نیز اس میں صرف دنیا کے کمالات نہیں بلکہ امور دنیا میں اللہ کی معرفت و…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 198–199

7 ۔ کیونکہ اس وقت وہ یہ کہتے کہ یہ قرآن ہماری سمجھ میں نہیں آتا اس لئے کہ یہ غیر زبان میں ہے اگر یہ عربی میں ہوتا تو ہم اسے سمجھتے اور اس پر ایمان لے آتے۔ (دیکھئے سورة نصلت :44) یا مطلب یہ ہے کہ اب تو قرآن ایک ایسا شخص سنا رہا ہے جس کی زبان عربی ہے۔ اس لئے یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اس نے اپنے آپ تصنیف کرلیا ہے لیکن اگر ہم یہی فصیح عربی کلام کسی غیر عرب شخص پر بطور معجزہ اتارتے اور وہ انہیں خالص عربی زبان میں اس کی تلاوت کر کے سناتا تو بھی یہ اس پر ایمان نہ لاتے بلکہ اسے رد کرنے کے لئے اور قسم کے بہانے تراش لیتے۔ (شوکانی) شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں : ” دھوکے والے کا جی کبھی نہیں ٹھہرتا تب اور شبہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 198–199

(26:198) الفائدہ : آیۃ 198-199 کو سمجھنے کے لئے یہ امر زیر نظر رہے کہ کفار کا القرآن کو منزل من اللہ تسلیم نہ کرنے ہر ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ حضور خود عربی ہیں اور فصیح و بلیغ بھی ہیں اس لئے ان کے لئے ایسا کلام خود بنا لینا کوئی مشکل نہیں یہ ہر دو آیات اس کا رد ہیں۔ علی بعض الاعجمین۔ کسی عجمی (غیر عربی) پر۔ بعض نے عجمی اور اعجمی میں بہ فرق کیا ہے کہ عجمی غیر عربی کو کہتے ہیں اور عجمی غیر فصیح کو خواہ وہ عربی ہی ہو۔ یعنی اگر ہم یہ قرآن پر اتارتے اور وہ ان کو پڑھ کر سناتا تو بھی یہ ایمان نہ لاتے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 192–213

لغات القرآن : آیت نمبر 192 تا 213 : روح الامین (حضرت جبرئیل امین (علیہ السلام) ) ‘ لسان (زبان) ‘ زبر (صحیفے۔ کتابیں) ‘ اعجمین (عجمی لوگ۔ گونگے) ‘ سلکنا (ہم نے چلایا (داخل کیا) ‘۔ حتی یروا (جب تک وہ دیکھ نہ لیں) ‘ بغتۃ (اچانک) ‘ منظرون (مہلت دیئے گئے) یستعجلون (وہ جلدی کرتے ہیں) ‘ متعنا ( ہم نے فائدہ پہنچایا) ‘ ما اغنی (کام نہ آیا) یمتعون ( وہ فائدہ اٹھاتے ہیں) ‘ منذرون (ڈرانے والے) ‘ ذکری (نصیحت۔ یاددھانی) ‘ ماینبغی (مناسب نہیں ہے۔ شان نہیں ہے) ‘ یستطیعون (وہ طاقت رکھتے ہیں) ‘ معزولون (دور کردیئے گئے) ‘ لاتدع (نہ پکار) ‘ المعذبین (عذاب میں مبتلا کئے گئے) ‘۔ تشریح : آیت نمبر 192 تا 213 : اللہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 192–199

کفار مکہ کو قرآن کی مخالفت سے ڈرانا۔ (ف 1) حکم الٰہی کے سبب سے پچھلی چند قومیں جو ہلاک ہوئیں ان کے ذکر کے بعد کفار مکہ کو قرآن کی مخالفت سے ڈرانے کے لیے ان آیتوں میں فرمایا یہ قرآن رب العالمین کی طرف سے اتارا ہوا ہے جو غیب کی باتیں ظاہر کرتا ہے اور پہلے لوگوں کے سچے حال بیان کرتا ہے جس کو اے محبوب ﷺ تمہارے اوپر ہم نے قرآن کو اس لیے اتارا ہے تاکہ تم لوگوں کو ڈر سناؤ، صاف صاف عربی زبان میں ، اور اس قرآن کا ذکر اور تمہاری نبوت اور رسالت کا ذکر پہلی امتوں کی آسمانی کتابوں میں موجود ہے پھر فرمایا کہ مکہ کے کفار کیا یہ گواہی کافی نہیں کہ بنی اسرائیل کے عالم اس قران کو اپنی کتابوں میں لکھا ہوا پاتے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 198–199

الا عجمین ۔ مفرداعجم یعنی عرب لوگ ۔ اعجم اس شخص کو کہتے ہیں جو فصاحت کے ساتھ بات نہ کرسکے ۔ اور پورے طور پر بات کرنے پر قادر نہ ہو ۔ خواہ اہل عرب ہو ۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اگر ہم اس کو سکی عجمی پر اتارتے تو کیا یہ لوگ ایمان لے آتے ؟ : 198۔ دلیل کیوں دی جاتی ہے ؟ اس لئے کہ اگر کوئی ماننا چاہتا ہے تو مان لے یا اس دلیل کو غلط ثابت کردے لیکن جو نہ تو دلیل کو غلط ثابت کرے اور نہ ہی ماننے اور تسلیم کرنے کے لئے تیار ہو تو اس کا کوئی علاج ؟ دلیل بلاشبہ دلیل ہوتی ہے لیکن ان کے لئے جو ماننا چاہتے ہوں تو نہ ماننا چاہیں ان کے کوئی دلیل بھی دلیل نہیں ہوتی ۔ ان کے سامنے انکی اپنی قوم کا ایک جانا پہچانا شخص جو انہی کی زبان بولتا ہے اور انہیں میں رہ کر اس نے پرورش پائی ہوتی ہے جب وہ کلام پیش کرتا ہیں جس کے برابر کا کلام وہ خوب بھی صاحب زبان ہونے باوجود نہیں بول سکتا اور قریش…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 193–204

Commentary Qur’ an is the name of the collection of its words and meanings نَزَلَ بِهِ الرُّ‌وحُ الْأَمِينُ ﴿193﴾ عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِ‌ينَ ﴿194﴾ بِلِسَانٍ عَرَ‌بِيٍّ مُّبِينٍ ﴿195﴾ وَإِنَّهُ لَفِي زُبُرِ‌ الْأَوَّلِينَ ﴿196﴾ It is brought by the Trusted Spirit down [ 193] to your heart, so that you become one of the warners [ 194] in plain Arabic language. [ 195] And of course, it is (mentioned) in the scriptures of the former people. [ 196] The words بِلِسَانٍ عَرَ‌بِيٍّ مُّبِينٍ (in plain Arabic language - 195) in these verses makes it clear that Qur'an is only that…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 198–199

124 That is, "Now when a man from among themselves is reciting to them this Divine Revelation in lucid Arabic, they say that he himself has composed it, and therefore it cannot be from Allah. But if the same Revelation in eloquent Arabic had been sent down by Allah to a non-Arab as a miracle, and he had recited it before them in perfect Arabic accent, they would have invented some other excuse for not believing in him. They would have said that he is under the power and influence of a jinn, who speaks Arabic through a non-Arab." As a matter of fact, a lover of the truth considers the thing…

Read the full tafseer →