Explained with ayahs 196–199
بشارت و تصدیق یافتہ کتاب
فرماتا ہے کہ اللہ کی اگلی کتابوں میں بھی اس پاک اور اللہ کی آخری کلام کی پیشن گوئی اور اسکی تصدیق وصفت موجود ہے۔ اگلے نبیوں نے بھی اسکی بشارت دی یہاں تک کہ ان تمام نبیوں کے آخری نبی جن کے بعدحضور ﷺ تک اور کوئی نبی نہ تھا۔ یعنی حضرت عیسیٰ ؑ بنی اسرائیل کو جمع کر کے جو خطبہ دیتے ہیں اس میں فرماتے ہیں کہ اے بنی اسرائیل ! میں تمہاری جانب اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں جو اگلی کتابوں کو سچانے کے ساتھ ہی آنے والے حضرت محمد ﷺ کی بشارت تمہیں سناتا ہوں۔ زبور حضرت داؤد ؑ کی کتاب کا نام ہے یہاں زبر کا لفظ کتابوں کے معنی میں ہے جیسے فرمان ہے۔ آیت (وَكُلُّ شَيْءٍ فَعَلُوْهُ فِي…
Read the full tafseer →سورة الشُّعَرَآء 123
یعنی علمائے بنی اسرائیل اس بات سے واقف ہیں کہ جو تعلیم قرآن مجید میں دی گئی ہے وہ ٹھیک وہی تعلیم ہے جو سابق کتب آسمانی میں دی گئی تھی۔ اہل مکہ خود علم کتاب سے نا آشنا سہی، بنی اسرائیل کے اہل علم تو گرد و پیش کے علاقوں میں کثرت سے موجود ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ یہ کوئی انوکھا اور نرالا " ذکر " نہیں ہے جو آج پہلی مرتبہ محمد بن عبد اللہ نے لا کر تمہارے سامنے رکھ دیا ہو، بلکہ ہزارہا برس سے خدا کے نبی یہی ذکر پے در پے لاتے رہے ہیں۔ کیا یہ بات اس امر کا اطمینان کرنے کے لیے کافی نہیں ہے کہ یہ تنزیل بھی اسی رب العالمین کی طرف سے ہے جس نے پچھلی کتابیں نازل کی تھیں ؟
سیرت ابن ہشام سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 193–204
معارف و مسائل
نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِيْنُ ، عَلٰي قَلْبِكَ لِتَكُوْنَ مِنَ الْمُنْذِرِيْنَ ، بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيْنٍ ، وَاِنَّهٗ لَفِيْ زُبُرِ الْاَوَّلِيْنَ۔
قرآن اس کے الفاظ و معانی کے مجموعہ کا نام ہے
آیات مذکورہ میں بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِيْنٍ سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن وہی ہے جو عربی زبان میں ہو، کسی مضمون قرآن کا ترجمہ خواہ کسی زبان میں ہو وہ قرآن نہیں کہلائے گا اور وَاِنَّهٗ لَفِيْ زُبُرِ الْاَوَّلِيْنَ کے الفاظ سے بظاہر اس کے خلاف یہ معلوم ہوتا ہے کہ معانی قرآن جو کسی دوسری زبان میں بھی ہوں وہ بھی قرآن ہیں، کیونکہ انہ کی ضمیر ظاہر یہ ہے کہ قرآن کی طرف راجع ہے اور زبر، زبور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 196–197
آیت 197-196
قرآن کے حق میں سابق صحیفوں کی شہادت
یہ قرآن کے حق میں سابق صحیفوں کی شہادت کا حوالہ ہے کہ اس کا ذکر اور اس کی پیشین گوئی انبیائے الیقین کے صحیفیوں میں بھی موجود ہے۔ آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ کی تعلیم و دعوت سے متعلق تورات، زیور اور انجیل میں جو پیشین گوئیاں ہیں ہم ان کا حوالہ ان کے محل میں دے چکے ہیں۔ ان پیشین گوئیوں سے بنی اسرائیل کے علماء اچھی طرح آگاہ تھے۔ اگرچہ ان کی اکثریت نے ان کو چھپایا لیکن ان کے اندر ایسے علمائے حق بھی تھے جنہوں نے ان کا برملا اظہار کیا اور وہ آنحضرت ﷺ پر ایمان بھی لائے۔ قرآن نے ان کی اس حق پرستی کی جگہ جگہ نہایت شاندار الفاظ میں تعریف فرمائی ہے۔
انہی پیشین…
Read the full tafseer →197-1کیونکہ ان کتابوں میں آپ ﷺ کا اور قرآن کا ذکر موجود ہے۔ یہ کفار مکہ، مذہبی معاملات میں یہود کی طرح رجوع کرتے تھے۔ اس اعتبار سے فرمایا کہ کیا ان کا یہ جاننا اور بتلانا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ محمد ﷺ ، اللہ کے سچے رسول اور یہ قرآن اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہے۔ پھر یہود کی اس بات کو مانتے ہوئے پیغمبر پر ایمان کیوں نہیں لاتے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 197–198
44: بنو اسرائیل میں سے جو لوگ آنحضرت ﷺ پر ایمان لے آئے تھے، وہ تو کھلم کھلا یہ بتاتے تھے کہ یہود و نصاریٰ کی کتابوں میں آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری کی بشارت اور آپ کی علامتیں درج ہیں، لیکن بنی اسرائیل کے جو علماء ایمان نہیں لائے تھے، وہ بھی تنہائی میں کبھی کبھی اس حقیقت کا اعتراف کرلیتے تھے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 196–197
وانہ لفی ……اسرآئیل (197)
رسول اللہ ﷺ کی تعریف اور ذکر اور جو عقیدہ توحید اور نظریہ حیات آپ پیش فرماتے تھے۔ یہ دونوں امور کتاب سابقہ میں موجود تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس آخری رسالت کا انتظار علمائے بنی اسرائیل بڑی بےصبری سے کرتے تھے اور وہ ” اس رسول “ کا انتظار کرتے تھے۔ پھر ان میں سے اکثر یہ کہا کرتے تھے کہ ” اس رسول “ کا زمانہ آگیا ہے اور وہ ایک دوسرے کے ساتھ اس کے بارے میں بات کرتے تھے۔ جیسا کہ حضرت سلمان فارسی ، عبداللہ ابن سلام اور دوسرے علماء بنی اسرائیل کی زبانی یہ باتیں معلوم ہوگئی ہیں۔
یہ مشرکین مکہ تو محض ہٹ دھرمی اور عناد کی وجہ سے نہیں مانتے۔ یہ بات نہیں ہے کہ ان کے سامنے دلائل پیش کرنے…
Read the full tafseer →5 یعنی علمائے بنی اسرائیل خوب جانتے ہیں کہ یہ وہ ہی کتاب اور پیغمبر ہے جس کی خبر پہلے سے آسمانی صحیفوں میں دی گئی تھی۔ چناچہ ان میں سے بعض نے اعلانیہ اور بعض نے اپنی خصوصی مجلسوں میں امر حق کا اقرار کیا ہے اور بعض انصاف پسند اسی علم کی بناء پر مسلمان ہوگئے۔ مثلاً حضرت عبد اللہ بن سلام وغیرہ، غرض ایک منصف فہیم کے لیے جس کا دل حق کی طلب رکھتا اور خدا سے ڈرتا ہو، اس چیز میں بڑی نشانی ہے کہ دوسرے مذاہب کے علماء بھی اپنے دلوں میں قرآن کی حقانیت کو سمجھتے ہیں، گو کسی وجہ سے بعض اوقات اعلان و اقرار کی جرأت نہ کرسکیں۔
Read the full tafseer →آیت 197 اَوَلَمْ یَکُنْ لَّہُمْ اٰیَۃً اَنْ یَّعْلَمَہٗ عُلَمٰٓؤُا بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ ”
علمائے بنی اسرائیل بخوبی جانتے تھے کہ قرآن اور محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت اللہ کی طرف سے ہے۔
Read the full tafseer →116 یعنی آپ کی رسالت کی صداقت کے لئے یہ ثبوت بھی کافی ہے کہ بنی اسرائیل کے علماء یہ بات خوب جانتے ہیں کہ آپ وہی رسول ہیں اور یہ کتاب قرآن وہی آسمانی کتاب ہے جس کی سابقہ آسمانی کتابوں میں خبر دی گئی ہے۔ پھر ان میں سے بعض منصف مزاج عالموں نے اسی خبر کی بنا پر اسلام قبول کرلیا جیسے عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھیوں نے کہا تھا اور بعض اپنی خصوصی مجلسوں میں اس بات کا اعتراف تو کرتے ہیں لیکن بعض مصلحتوں کی بنا پر اس کا اعلان و اقرار کرنے کی جرات نہیں رکھتے۔
Read the full tafseer →103۔ (اور کبھی اس کا اعتراف بھی کرلیتے ہیں) (آیت) ” یعلمہ “ میں ضمیر قرآن مجید کی جانب ہے۔ (آیت) ” لھم “۔ ضمیر قریش کی جانب ہے، علماء بنی اسرائیل کے علم وفضل کے خود بھی قائل ومعتقد تھے، مطلب یہ ہوا کہ یہ امر تو ان کے نزدیک خود ایک دلیل معتبر ہونا چاہیے، کہ علماء بنی اسرائیل اپنے مقدس صحیفوں میں قرآن مجید کا ذکر اور اخبار پاتے ہیں۔ اے اولیس یکفیھم من الشاھد الصادق علی ذلک ان العلماء من بنی اسرائیل یجدون ذکر ھذا القران فی کتبھم التی یدرسونھا (ابن کثیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–227
آیت نمبر 192 تا 227
ترجمہ : بلاشبہ یہ یعنی قرآن رب العالمین کا نازل فرمودہ ہے اس کو روح الامین یعنی جبرائیل آپ کے قلب پر لیکر اترے ہیں صاف عربی زبان میں تاکہ آپ ڈرانے والوں میں ہوجائیں اور ایک قرأۃ میں نَزَّلَ تشدید اور روح کے نصب کے ساتھ ہے اور فاعل اللہ ہے اور بلاشبہ محمد ﷺ پر نازل شدہ قرآن کی خبر پہلے لوگوں کی کتابوں مثلاً تورات و انجیل میں ہے کیا ان کے لئے قرآن کی صداقت کی یہ نشانی کافی نہیں کہ اس کو بنی اسرائیل کے علماء بھی جانتے ہیں ؟ جیسا کہ عبد اللہ بن سلام اور ان کے وہ ساتھی جو ایمان لائے، وہ اس کی حقانیت کی خبر دیتے ہیں اور یَکُنْ یا کے ساتھ اور آیۃً کے نصب کے ساتھ اور تا کے ساتھ…
Read the full tafseer →اولم یکن لہم ایۃ ان یعلمہ علموا بنی اسرائیل ط (کیا یہ لوگ بنی اسرائیل کو نہیں پہچانے) اور
کیا ان کے لئے (رسول اللہ کی رسالت کی یہ) دلیل کافی نہیں ہے کہ علماء بنی اسرائیل رسول اللہ ﷺ : کو (ان کی صفات و احوال خصوصی کو توریت سے پڑھ کر) جانتے ہیں۔
یَعْلَمَہٗکی ضمیر مفعول رسول اللہ کی طرف راجع ہے اور قرآن کی طرف بھی راجع ہوسکتی ہے یعنی قرآن کا اللہ کی طرف سے نازل ہونا علماء بنی اسرائیل کے علم میں ہے وہ اس سے واقف ہیں۔
علماء بنی اسرائیل سے مراد برقول عطیہ پانچ علماء تھے۔ عبداللہ بن سلام ‘ ابن یامیہ ‘ ثعلبہ ‘ اسد ‘ اسید حضرت ابن عباس نے فرمایا اہل مکہ نے مدینہ میں یہودیوں سے رسول اللہ ﷺ کے متعلق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 195–197
(195 تا 197) اور اس قرآن کریم کا اور آپ کا ذکر پہلے انبیاء کرام ؑ کی کتابوں میں بھی ہے۔
کیا ان کفار مکہ کے لیے رسول اکرم ﷺ کی رسالت پر یہ بات دلیل نہیں ہے کہ علماء بنی اسرائیل اس پیشین گوئی کو جانتے ہیں کہ جس وقت ان کفار نے علماء بنی اسرائیل سے آپ کے اور قرآن کریم کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے لوگوں کے بارے میں بتادیا۔
Read the full tafseer →اَوَلَمْ يَكُنْ لَّهُمْ اٰيَةً۔۔ : یعنی کیا مشرکین مکہ کے یہ جاننے کے لیے کہ قرآن واقعی اللہ کی طرف سے نازل شدہ اور پہلی کتابوں میں مذکور ہے اور یہ کہ محمد ﷺ نبی آخر الزماں ہیں، یہ بات کافی نہیں کہ بنی اسرائیل کے علماء اس سے واقف ہیں، جیسا کہ ان حضرات کی شہادت سے معلوم ہوا جو ان میں سے ایمان لائے، مثلاً عبداللہ بن سلام اور سلمان فارسی ؓ اور جیسا کہ ان میں سے بعض علانیہ اور بعض اپنی خصوصی مجلسوں میں اس کا ذکر کرتے ہیں، گو اپنی بعض مصلحتوں کی وجہ سے ایمان نہیں لائے۔ اہل کتاب کی شہادت مشرکین مکہ کے ہاں اس لیے حجت قرار پاتی ہے کہ وہ پچھلی کتابوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے انھی کی طرف…
Read the full tafseer →(اولم یکن لھم۔۔۔۔۔ )
اولم یکن لھم ایۃ ان یعلمہ عملوا بنی اسرائیل مجاہد نے کہا : مراد عبد اللہ بن سلام، سلمان اور ان دونوں کے علاوہ جو مسلمان ہوئے (1) حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اہل مکہ نے یہودیوں کی طرف پیغام بھیجا جو مدینہ طیبہ میں تھے وہ حضرت محمد ﷺ کے بارے میں ان سے سوال کرتے تھے۔ انہوں نے کہا : یہ اس نبی کا زمانہ ہے ہم تورات میں اس کی نعت اور صفت پاتے ہیں (2) لفظ علماء ان سب کی طرف راجع ہے جو ان کی کتابوں کا علم رکھتے وہ یہی گفتگو کرتے جو وہ اسلام لایا نہ لایا اہل کی کتاب کی گواہی مشرکوں کے خلاف دلیل بن گئی کیونکہ وہ دینی امور میں اہل کتاب کی طرف رجوع کرتے کیونکہ ان کا گمان تھا کہ وہ اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–213
1۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وانہ لتنزیل رب العالمین “ سے مراد ہے یہ قرآن ” نزل بہ الروح الامین “ سے مراد ہے جبرئیل علیہ السلام۔
2۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ” نزل بہ الروح الامین “ میں الروح الامین سے مراد ہے جبرئیل (علیہ السلام) میں نے دیکھا کہ اس کے چھو پر ہیں موتیوں سے انہوں نے پھیلادیا تو وہ مور کے پروں کی طرح تھے۔
3۔ ابن مردویہ نے سعد ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا اس وقت روح امین یعنی جبرئیل (علیہ السلام) نے میرے دل میں یہ بات پھونک دی کہ ہرگز کوئی نفس نہیں مرے گا یہاں تک کہ اپنے رزق کو پورا نہ کرے اگرچہ وہ اس…
Read the full tafseer →اَوَ [ اور کیا ] لَمْ يَكُنْ [ ہوئی ہی نہیں ] لَّهُمْ [ ان کے لئے ] اٰيَةً [ کوئی نشانی ] اَنْ [ (اس میں ) کہ ] يَّعْلَمَهٗ [ علم رکھتے ہیں اس کا ] عُلَمٰۗؤُا بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ [ بنی اسرائیل کے عالم لوگ ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 194–204
پھر فرمایا (اَفَبِعَذَابِنَا یَسْتَعْجِلُوْنَ ) (کیا وہ ہمارے عذاب کے آنے کے لیے جلدی مچا رہے ہیں) چونکہ انہیں عذاب آجانے کا یقین نہیں ہے اس لیے ایسی باتیں کرتے ہیں اور ان کا یہ سمجھنا کہ جو ڈھیل دی جا رہی ہے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ عذاب نہ آئے گا ان کی سخت غلطی ہے دنیا کی ذرا سی چہل پہل دیکھ کر جو یوں سمجھ رہے ہیں کہ عذاب آنے والا نہیں اور اسی زندگی کو سب کچھ سمجھ رہے ہیں یہ بہت بڑی ناسمجھی ہے۔ جب عذاب آپہنچے گا جس سے چھٹکارا نہ ہو سکے گا اور سخت بھی ہوگا اس وقت یہ تھوڑی سی زندگی کا کیف اور مال و متاع کچھ بھی کام نہ دے گا۔ یہ انسانوں کی نہایت ہی حماقت کی بات ہے کہ فانی دنیا میں تھوڑے سے دن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–209
خاتمہ سورت مضمون حقانیت قرآن
برائے اثبات رسالت نبی آخر الزمان ﷺ
قال اللہ تعالیٰ وانہ لتنزیل رب العالمین الی وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب یتقلبون۔
(ربط) ابتداء سورت میں حقانیت قرآن کا مضمون تھا جس سے آنحضرت ﷺ کی رسالت کا ثابت کرنا مقصود تھا۔ اس وجہ سے منکرین نبوت اور مکذبین رسالت کا واقعات ذکر کیے۔ اب اخیر میں پھر اسی مضمون سابق کی طرف عود کر آتے ہیں کہ یہ قرآن اللہ کی نازل کردہ کتاب ہے اور آپکی نبوت و رسالت کی روشن دلیل ہے۔ لہذا آپ اس کی تبلیغ اور دعوت میں لگے ہوئے ہیں اور اللہ پر بھروسہ رکھیئے اور ان مشرکین کی پرواہ نہ کیجئے عنقریب ان ظالموں کو اپنے ظلم و ستم کا انجام معلوم ہوجائے گا۔ چناچہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 197–198
69:۔ یہ مشرکین کے فرط عناد کا بیان ہے جو دلائل عقلیہ و نقلیہ کے باوجود نہیں مانتے۔ ان کی ضد وعناد کا یہ عالم ہے کہ اگر ہم یہ فصیح وبلیغ عربی قرآن کسی عجمی پر نازل کردیتے جو عربی زبان سے بالکل نابلد ہوتا اور اس کے باوجود معجزانہ طور پر صحیح صحیح پڑھ کر ان کو سنا دیتا تو وہ پھر بھی نہ مانتے اور نہ ماننے کے لیے کئی بہانے تراش لیتے۔ المراد بیان فرط عنادھم و شندۃ شکیمتھم فی المکابرۃ (روح ج 19 ص 127) ۔ ” ولو نزلنہ علی بعض الاعاجم الذی لا یحسن العربیۃ فضلا ان یقدر علی نظم مثلہ فقراہ علیھم ھکذا معجزا الکفروا بہ کما کفروا و لتمحلوا لجحودھم عذرا و سموہ سحر (مدارک ج 3 ص 150) ۔ یا مطلب یہ ہے کہ اگر ہم یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–209
ربط آیات
گزشتہ پانچ رکوع میں حضر ت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ہود (علیہ السلام) ، حضرت صالح (علیہ السلام) ، حضرت لوط (علیہ السلام) اور حضرت شعیب (علیہ السلام) اور ان کی اقوام کے حالات بیان کیے گئے ہیں ۔ ان واقعات کو بیان کر کے حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ کو تسلی دلانا مقصود تھا سابقہ انبیاء کی اقوام نے بھی ان کو جھٹلایا ، ان کو تکلیفیں پہنچائیں اور بالکل برے انجام سے دو چار ہوئے ، لہٰذا اگر مکہ والے بھی آپ سے بد سلوکی کرتے ہیں ، آپ پر ایمان نہیں لاتے تو ان کا انجام بھی سابقہ اقوام سے مختلف نہیں ہوتا ۔
اب آج کے درس میں قرآن پاک کی حقانیت کا ذکر ہو رہا ہے سورة کی ابتدا بھی اسی مضمون سے ہوئی تھی…
Read the full tafseer →اَوَلَمْ يَكُنْ لَّہُمْ اٰيَۃً اَنْ يَّعْلَمَہٗ عُلَمٰۗؤُا بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ 1 97ۭ
الآية
والآية : هي العلامة الظاهرة، وحقیقته لکل شيء ظاهر، وهو ملازم لشیء لا يظهر ظهوره، فمتی أدرک مدرک الظاهر منهما علم أنه أدرک الآخر الذي لم يدركه بذاته، إذ کان حكمهما سواء، وذلک ظاهر في المحسوسات والمعقولات، فمن علم ملازمة العلم للطریق المنهج ثم وجد العلم علم أنه وجد الطریق، وکذا إذا علم شيئا مصنوعا علم أنّه لا بدّ له من صانع .
الایۃ ۔
اسی کے معنی علامت ظاہر ہ یعنی واضح علامت کے ہیں دراصل آیۃ ، ، ہر اس ظاہر شے کو کہتے ہیں جو دوسری ایسی شے کو لازم ہو جو اس کی طرح ظاہر نہ ہو مگر جب کوئی شخص اس ظاہر شے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 194–198
1 ؎ العجم یا بالضم و التحرک خلاف العرب 12۔ قاموس بہ اعجمی جمع اعج میں علی التخفیف ولذلک جمع جمع السلام ۃ 12 بیضاوی ای لیس جمع اعجم لانہ علیٰ وزن افعل و افعل اذاکان اتناہ نعلاء کعجماء یکون من الصفات لایحمع جمع السلام ۃ۔ 12 ابو محمد عبدالحق
Read the full tafseer →Explained with ayahs 196–197
وَاِنَّـہٗ لَفِیْ زُبُرِالْاَوَّلِیْن۔ اَوَلَمْ یَکُنْ لَّـھُمْ اٰیَـۃً اَنْ یَّعْلَمَہٗ عُلَمٰٓـؤُا بَنِیْٓ اِسْرَآئِ ْیَل۔
(الشعرآء : 196، 197)
(اور اس کا ذکر اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی ہے۔ کیا ان لوگوں کے لیے یہ کوئی نشانی نہیں ہے کہ اس کو علماء بنی اسرائیل جانتے ہیں۔ )
قرآن کریم کے حق میں سابق صحیفوں کی شہادت
یہ قرآن کریم کے حق میں سابقہ آسمانی کتابوں کی شہادت کا حوالہ ہے۔ کہ قرآن کریم کی تعلیمات کا ذکر اور اس کی پیشین گوئی پہلی آسمانی کتابوں میں بھی موجود ہے۔ اور نبی کریم ﷺ اور آپ ﷺ کی تعلیم و دعوت سے متعلق تورات، زبور اور انجیل میں پیشین گوئیاں موجود ہیں۔ قرآن کریم جن بنیادی باتوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 193–198
فہم القرآن
ربط کلام : قرآن مجید من جانب اللہ ہونے کے مزید دلائل۔
اہل مکہ ذہنی بوکھلاہٹ کا شکار ہونے کی وجہ سے قرآن مجید کے بارے میں ایک سے ایک بڑھ کر بہکی ہوئی بات کرتے تھے۔ ایک موقعہ پر اعتراض کرتے محمد ﷺ کسی عربی سے سیکھ کر پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں پڑھ کر ہمیں سنائے دیتا ہے۔ (النحل : 103) دوسرے موقع پر خود مطالبہ کرتے یہ قرآن کسی عجمی پر نازل ہونا چاہیے تھا۔
یہ مطالبہ بذات خود ان کی حماقت کی دلیل تھا کیونکہ قرآن مجید عجمی زبان میں ہوتا تو اس کے سمجھنے میں انھیں کس قدر دشواری کا سامنا کرنا پڑتا بالخصوص نزول قرآن کے وقت چند لوگوں کو چھوڑ کر باقی عرب اَن پڑھ تھے۔ یہاں ان کی بات کا یہ جواب دیا…
Read the full tafseer →197: اَوَلَمْ یَکُنْ لَّھُمْ ٰایَۃً (کیا ان کے لئے دلیل کافی نہیں)
نحو وقراءت :
شامی نے تکن پڑھا ہے۔ آیت کان کا اسم اور ان یعلمہ کان کی خبر ہے۔ ای القرآن موجود ذکرہ فی التوراۃ اس قرآن کو وہ جانتے ہیں کیونکہ اس کا تذکرہ تورات میں موجود ہے۔ نمبر 2۔ ایک قول تکن میں ضمیر قصہ ہے اور آیۃ خبر مقدم ان یعلمہ مبتدأ اور یہ جملہ کان کی خبر ہے۔
نمبر 3۔ قول آخر کان تامہ ہے اور ایۃؔ فاعل ہے اور ان یعلمہٗ ایۃً سے بدل ہے یا مبتدأ محذوف ہے یعنی : اَوَ لم تحصل لھم آیۃ کیا تم کو ان کی کوئی نشانی نہیں ملی اور دیگر قراء کے نزدیک یکنؔ مذکر ہے اور ایۃً منصوب ہے اس طرح کہ یہ اس کی خبر ہے اور اَنْ یَّعْلَمَہٗ اس کا…
Read the full tafseer →197۔ الم یکن لھم ایۃ۔ ابن عامر نے تکن پڑھا ہے تاء کے ساتھ اور رفع کے ساتھ۔ ان یعلمہ، دوسرے قراء نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔ آیہ، منصوب ہوگا، اس صورت میں، ایہ، خبر ہے قرآن کا اللہ کی طرف سے نازل ہونا علماء بنی اسرائیل کے علم میں ہے۔ وہ اس سے واقف ہیں۔ بنی اسرائیل کے علماء کو اس بات کا علم تھا کہ آخرزمانہ میں ایک نبی نازل ہوں گے اور ان پر کتاب نازل ہوگی دوسرا یہ کہ ان کی کتابوں میں نبی آخرالزمان اور قرآن کے متعلق ذکر تھا۔
بنی اسرائیل کے علماء میں سے یہ بھی تھے۔ عبداللہ بن سلام جو یہودیوں کے بڑے تھے۔ ابن عباس نے فرمایا اہل مکہ کے یہودیوں نے مدینہ کی طرف کچھ لوگوں کو بھیجا تاکہ وہ معلوم کریں محمد ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–203
(192 تا 203) حکم الٰہی کی مخالفت کے سبب سے پچھلے چند قومیں جو ہلاک ہوئیں ان کے ذکر کے بعد قریش کو قرآن کی مخالفت سے ڈرانے کے لیے ان آیتوں میں فرمایا اے رسول اللہ کے یہ قرآن اللہ رب العالمین نے تم پر اتارا ہے اور جبرئیل (علیہ السلام) اس کو لے کر اترے ہیں جو بڑے معتبر فرشتے ہیں عبداللہ بن عباس ؓ اور قتادہ وسدی کا یہ قول ہے کہ روح الامین سے یہاں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) مراد ہیں مطلب یہ ہے کہ عزت والے فرشتے نے قرآن کو اتارا ہے جو خدا کے نزدیک معتبر ہے اس نے قرآن میں کچھ بڑھایا گھٹایا نہیں ہے جوں کا توں ہے اور یہ قرآن اس واسطے اتارا ہے کہ ڈرا اسے تو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے اس کو کہ جس نے حکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–203
آیت 192 سے 203
جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیاء کرام کا ان کی قوموں کے ساتھ قصہ بیان فرمایا اور انبیاء کرام نے کیسے ان کو توحید کی دعوت دی اور کیسے انہوں نے ان کی دعوت کو ٹھکرایا اور پھر کیسے اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو ہلاک کیا اور ان کا انجام برا ہوا۔۔۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس رسول کریم، عظمت شان کے حامل نبی مصطفیٰ ﷺ اور اس کتاب کا ذکر فرمایا جس کے ساتھ آپ مبعوث ہوئے جس میں عقل مندوں کے لئے ہدایت ہے، چناچہ فرمایا : (وانہ لتنزلیل رب العلمین) ” اور یہ (قرآن) رب العالمین کا اتارا ہوا ہے۔ “ پس وہ ہستی جس نے اس عظی کتاب کو نازل فرمایا، زمین و آسمان کو پیدا کرنے والی اور تمام عالم علوی اور سفلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–223
قول باری ہے : (وانہ لتنزیل رب العالمین۔ اور یہ رب العالمین کی نازل کردہ چیز ہے۔ ) تا قول باری (وانہ لفی زبر الاولین۔ اور اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی یہ موجود ہے۔ )
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے بارے میں بتادیا کہ رب العالمین کی نازل کردہ ہے اور پھر یہ خبر دی کہ یہ اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی موجود ہے۔ اب یہ بات تو سب کو معلوم ہے کہ قرآن اگلے لوگوں کی کتابوں میں عربی زبان کے اندر موجود نہیں تھا۔ اس سے یہ استدلال کیا جاسکتا ہے کہ قرآن کو کسی اور زبان میں منتقل کرنے سے اس کی قرآنیت ختم نہیں ہوتی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے علی الاطلاق یہ فرمادیا کہ قرآن اگلے لوگوں کی کتابوں میں موجود تھا حالانکہ ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 197–199
102 ہٹ دھرمی کا کوئی علاج نہیں : سو اس ارشاد سے اس مضمون کو واضح فرمایا گیا کہ اب تو ان لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ قرآن بھی عربی اور قرآن کو پیش کرنے والا بھی عربی۔ ہمیں کیا پتہ یہ خود بنا کر لاتا ہو لیکن اگر ہم اس قرآن کو کسی عجمی شخص پر بھی اتار دیتے تو انہوں نے پھر بھی نہیں ماننا تھا۔ یعنی اب تو یہ منکر لوگ یوں کہتے ہیں کہ نبی بھی عربی اور قرآن بھی عربی۔ کیا پتہ یہ خود ہی لکھ کر لا رہا ہو لیکن اگر ہم اسے کسی غیر عربی پر نازل کردیتے اور وہ ان کو پڑھ کر سنا بھی دیتا تو انہوں نے پھر بھی نہیں ماننا تھا۔ اس صورت میں یہ لوگ ماننے کی بجائے دوسرے شکوک و شبہات پیش کردیتے۔ کیونکہ ان کا انکار کسی دلیل کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–227
قرآن کا عربی میں نزول اور عربی زبان کے گمراہ شعراء کا رد
تشریح : قرآن کی حقانیت ‘ افادیت اور حفاظت کا ذکر ہوچکا اور یہ بھی کہ یہ عربی زبان میں ہی کیوں اترا ؟ اس کے بارے میں مزید یہ کہ جہاں عربوں میں بہت سی برائیاں تھیں کچھ اچھائیاں بھی تھیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اپنی زبان ” عربی “ کی بےحد حفاظت کرتے تھے۔ اسی لیے عربی زبان بےحد وسیع ‘ جامع اور غیر متبدل (تبدیل نہ ہونے والی) زبان ہے۔ جبکہ باقی تمام زبانیں اپنی اصل سے بہت زیادہ ہٹ چکی ہیں۔ نبی اکرم ﷺ کو صاف طور پر احکامات سنائے گئے ہیں اور ان کو اللہ کی ذات جو کہ بےحد مہربان ہے پر پورا بھروسہ رکھنے اور نیکی پر ڈٹے رہنے کی ترغیب دی گئی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–227
آیات نمبر 192 تا 227:
اسرار و معارف
اسی طرح انسانیت کی ہدایت کے لیے پروردگار عالمین نے یہ قرآن اتارا ہے جسے نہایت ایماندار فرشتہ لے کر نازل ہوا ایسا کوئی احتمال نہیں کہ دورانِ نزول کوئی کمی بیشی ہوئی ہو پھر اس کا نزول آپ ﷺ قلب اطہر پہ ہوا کہ مضامین عقل محض تعمیر و اصلاح بدن کے لیے ہوتے ہیں جو کفار اور بدکاروں کی عقول میں بھی آتے ہیں اور انہیں کے بل پر وہ مادی مشینیں ایجاد کرتے ہیں تجارت کاروبار اور عالمی سیاست چلاتے ہیں مگر اس کتاب کے مضامین تو قلب میں وارد ہوئے جو کافر یا بدکار کو نصیب نہیں کہ اس کا قلب تو مردہ ہوتا ہے نیز اس میں صرف دنیا کے کمالات نہیں بلکہ امور دنیا میں اللہ کی معرفت و…
Read the full tafseer →6 ۔ یعنی کیا مشرکین مکہ کے یہ جاننے کے لئے کہ قرآن واقعی برحق اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ اور پہلی کتابوں میں مذکور ہے اور یہ کہ محمد (ﷺ) نبی آخر الزمان ہیں، یہ بات کافی نہیں ہے کہ بنی اسرائیل کے علما اس سے واقف ہیں۔ جیسا کہ ان حضرات کی شہادت سے معلوم ہوا جو ان میں سے ایمان لائے۔ مثلاً عبد اللہ بن سلام اور حضرت سلمان ؓ فارسی وغیرھما۔ اہل کتاب کی یہ شہادت مشرکین مکہ کے حق میں اس لئے حجت قرار پاتی ہے کہ وہ پچھلی کتابوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے انہی کی طرف رجوع کرتے تھے اور جو بات وہ کہتے تھے اسے صحیح تسلیم کرتے تھے۔ آیت میں آیۃ خبر مقدم ہے اور ” ان یعلمہ الخ “ بتاویل مصررلم یکن…
Read the full tafseer →(26:197) اولم یکن لہ ایۃ ان یعلمہ علمؤا بنی اسرائیل الف استفہامیہ انکاری کے لئے ہے واؤ کلام مقدرہ پر عطف کے لئے ہے جیسا کہ کہا ہو اغفلوا عن ذلک ولم یکن لہم ۔۔ الاٰیۃ لم یکن فعل ناقص لہم متعلق بالکون۔ ان یعلمہ علموا بنی اسرائیل (ای معرفۃ علماء بنی اسرائیل القرآن۔ علمائے بنی اسرائیل کا قرآن کے متعلق علم) اس کا اسم اور ایۃ اس کی خبر۔ سو مطلب یہ ہوا کہ :۔ کیا علماء بنی اسرائیل کا قرآن مجید کے متعلق علم جس کا ذکر ان کی کتابوں میں مذکور ہے ان کے لئے کافی دلیل نہیں۔
یعلمہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب القرآن کے لئے بھی ہوسکتی ہے اور نبی کریم ﷺ کے لئے بھی کہ آپ کی نعمت وصفات بھی تورات وغیرہ میں موجود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–213
لغات القرآن : آیت نمبر 192 تا 213 :
روح الامین (حضرت جبرئیل امین (علیہ السلام) ) ‘ لسان (زبان) ‘ زبر (صحیفے۔ کتابیں) ‘ اعجمین (عجمی لوگ۔ گونگے) ‘ سلکنا (ہم نے چلایا (داخل کیا) ‘۔ حتی یروا (جب تک وہ دیکھ نہ لیں) ‘ بغتۃ (اچانک) ‘ منظرون (مہلت دیئے گئے) یستعجلون (وہ جلدی کرتے ہیں) ‘ متعنا ( ہم نے فائدہ پہنچایا) ‘ ما اغنی (کام نہ آیا) یمتعون ( وہ فائدہ اٹھاتے ہیں) ‘ منذرون (ڈرانے والے) ‘ ذکری (نصیحت۔ یاددھانی) ‘ ماینبغی (مناسب نہیں ہے۔ شان نہیں ہے) ‘ یستطیعون (وہ طاقت رکھتے ہیں) ‘ معزولون (دور کردیئے گئے) ‘ لاتدع (نہ پکار) ‘ المعذبین (عذاب میں مبتلا کئے گئے) ‘۔
تشریح : آیت نمبر 192 تا 213 :
اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 192–199
کفار مکہ کو قرآن کی مخالفت سے ڈرانا۔
(ف 1) حکم الٰہی کے سبب سے پچھلی چند قومیں جو ہلاک ہوئیں ان کے ذکر کے بعد کفار مکہ کو قرآن کی مخالفت سے ڈرانے کے لیے ان آیتوں میں فرمایا یہ قرآن رب العالمین کی طرف سے اتارا ہوا ہے جو غیب کی باتیں ظاہر کرتا ہے اور پہلے لوگوں کے سچے حال بیان کرتا ہے جس کو اے محبوب ﷺ تمہارے اوپر ہم نے قرآن کو اس لیے اتارا ہے تاکہ تم لوگوں کو ڈر سناؤ، صاف صاف عربی زبان میں ، اور اس قرآن کا ذکر اور تمہاری نبوت اور رسالت کا ذکر پہلی امتوں کی آسمانی کتابوں میں موجود ہے پھر فرمایا کہ مکہ کے کفار کیا یہ گواہی کافی نہیں کہ بنی اسرائیل کے عالم اس قران کو اپنی کتابوں میں لکھا ہوا پاتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 194–197
[31] یعنی بنی اسرائیل کے علماء خوب جانتے ہیں کہ یہ وہی کتاب اور پیغمبر ہے جس کی خبر پہلے سے آسمانی صحیفوں میں دی گئی تھی۔ چناچہ ان میں سے بعض نے علانیہ اور بعض نے اپنی خصوصی مجلسوں میں امر حق کا اقرار کیا اور بعض انصاف پسند اس علم کی بناء پر مسلمان ہوگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 196–197
حل لغات :۔ زبو ۔ زبور کی جمع ہے بمعنے کتاب یا نوشت ۔
Read the full tafseer →(197) کیا ان کفار مکہ کے لئے یہ بات کافی دلیل نہیں ہے کہ اس کی خبر اور پیشن گوئی کو بنی اسرائیل کے علماء اور اہل علم جانتے ہیں یعنی اہل کتاب یہودو نصاری کے علماء اس بات سے واقف ہیں کہ توریت و انجیل میں نبی آخر الزماں حضرت محمد ﷺ اور اس قرآن شریف کے نزول کا ذکر موجود ہے اب آگے کافروں کے ایک شبہ کا جواب ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 190–200
ف 3۔ یعنی کفر میں شدید اور اس پر مصر ہیں۔
Read the full tafseer →علمائے بنی اسرائیل کو بھی یہ حقیقت معلوم ہے کیا یہ سند آپ کو کفایت کرتی ہے ؟ :
197۔ قریش مکہ نے نبی اعظم وآخر ﷺ کے دعوی نبوت کے بعد علماء بنی اسرائیل سے رابتہ قائم کیا اور آپ ﷺ کے بارے میں ان سے پوچھا کیونکہ وہ آپ ﷺ کی بعثت سے پہلے ایک خاتم النبیین رسول کے آنے کے منتظر تھے ظاہر ہے کہ وہ اب انکار تو نہیں کرسکتے تھے اور آپ ﷺ کے اوصاف بھی اس بات کی واضح دلیل تھے کہ آپ ﷺ ہی وہ موعود نبی ورسول ہیں اس لئے ان کو مخاطب کرکے یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ امر تو ان کے نزدیک خود ایک دلیل معتبر ہونا چاہئے کہ علماء بنی اسرائیل اپنے مقدس صحیفوں میں قرآن کریم کا ذکر اور اختیار پاتے ہیں اور اس طرح نبی اعظم وآخر ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 193–204
Commentary
Qur’ an is the name of the collection of its words and meanings
نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ ﴿193﴾ عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِينَ ﴿194﴾ بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِينٍ ﴿195﴾ وَإِنَّهُ لَفِي زُبُرِ الْأَوَّلِينَ ﴿196﴾
It is brought by the Trusted Spirit down [ 193] to your heart, so that you become one of the warners [ 194] in plain Arabic language. [ 195] And of course, it is (mentioned) in the scriptures of the former people. [ 196]
The words بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِينٍ (in plain Arabic language - 195) in these verses makes it clear that Qur'an is only that…
Read the full tafseer →123 That is, "The learned men of the Israelites know that the teachings of the Qur'an are the same as of the former Scriptures. Though the people of Makkah themselves are un-initiated in the knowledge of the Book, there are many scholars among the Israelites living in the surrounding areas, who fully understand that the Qur'an did not bring a novel "message", which was being presented by Muhammad bin `Abdullah for the first time, but it was the same message which had been brought and preached by Prophets of Allah one after the other since thousands of years. Is it not then a convincing proof…
Read the full tafseer →